Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 103 of 317

2041Mishkaat-al-Masabih

حائضہ پر روزہ کی قضا واجب ہے نماز کی قضا نہیں

وعن معاذة العدوية أنها قالت لعائشة : ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة ؟ قالت عائشة : كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة . رواه مسلم

حضرت معاذہ عدویہ رحمۃ اللہ علیہا ( جن کی کنیت ام الصہبا ہے اور جلیل القدر تابعیہ ہیں) کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ یہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت پر روزہ کی قضاء واجب مگر نماز کی قضاء واجب نہیں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں جب ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (مسلم) تشریح سائلہ نے حضرت عائشہ ؓ سے حائضہ عورت کے بارے میں نماز اور روزہ کی تفریق کی وجہ دریافت کی مگر حضرت عائشہ ؓ نے اس کی وجہ بیان کرنے کی بجائے مذکورہ بالا جواب دے کر گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ ہر مسئلہ کی وجہ دریافت کرنا یا اس کی علت کی جستجو کرنا کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہے بلکہ شان عبودیت کا تقاضہ صرف یہ ہونا چاہئے کہ شارع نے جو حکم دے دیا ہے اس کی علت پوچھے بغیر اس پر عمل کیا جائے چناچہ یہ ممکن تھا کہ حضرت عائشہ ؓ سوال کے پیش نظر یہ فرماتیں کہ اگر نماز کی قضا کا حکم دیا جاتا تو حائضہ عورت بہت زیادہ دقت و مشقت اور حرج میں مبتلا ہوجاتی کیونکہ ایام کے دنوں میں بہت زیادہ نمازیں ترک ہوتی ہیں ان سب کو ہر مہینہ قضا کرنا عورت پر بہت زیادہ بار ہوجاتا ہے اس لئے اس میں یہ آسانی عطا فرمائی گئی کہ ایام کے دنوں کی نمازیں حائضہ کے حق میں معاف فرما دی گئیں جب کہ روزہ سے واسطہ سال ہی میں صرف ایک مرتبہ پڑتا ہے ان کی قضا میں اتنی زیادہ مشقت اور حرج نہیں ہوتا اس لئے حائضہ پر ان کی قضا واجب قرار پائی لیکن حضرت عائشہ ؓ نے اس جواب سے احتراز فرما کر مذکورہ بالا اسلوب اختیار فرمایا اور بحث و مباحثہ کی راہ بند کردی کیونکہ ممکن تھا کہ سائلہ اس علت کو سن کر کہتی کہ میں تو نماز کی قضا میں حرج و مشقت محسوس نہیں کرتی پھر کیوں نہ نماز کی قضا بھی واجب ہو؟

2042Mishkaat-al-Masabih

میت کے ذمہ روزوں کا فدیہ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات وعليه صوم صام عنه وليه

حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کے ورثاء روزہ رکھیں (یعنی فدیہ دیں) (بخاری ومسلم) تشریح جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی مسلک ہیں چناچہ اکثر علماء کہ جن میں حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہم اللہ بھی شامل ہیں یہ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی طرف سے کوئی دوسرا روزہ نہ رکھے بلکہ اس کے ورثاء اس کے ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو فدیہ دیں چناچہ ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کی یہی تاویل کی جاتی ہے کہ یہاں روزہ رکھنے سے مراد فدیہ دینا ہے کیونکہ فدیہ دینا بھی بمنزلہ روزہ رکھنے کے ہے اور اگلی حدیث اس توجیہ و تایل کی بنیاد ہے۔ میت کی طرف سے روزہ رکھنے سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ ایک حدیث میں جو اس باب کے آخر میں آرہی ہے صراحت کے ساتھ اس کی ممانعت فرمائی گئی حضرت امام احمد حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے۔ مذکورہ بالا مسئلہ کے سلسلہ میں حنفیہ کا یہ مسلک بھی ہے کہ اگر مرنے والے فدیہ کے بارے میں وصیت کر جائے تو وارث پر میت کی طرف سے فدیہ مذکور ادا کرنا واجب ہے۔ جب کہ وہ فدیہ میت کی تہائی مال میں سے نکل سکتا ہو لہٰذا اگر فدیہ مقدار اس کے تہائی مال کے مقدار سے زائد ہوگی تو وارث پر فدیہ کی اس مقدار کی ادائیگی واجب نہیں جو تہائی مال سے زائد ہو۔ ہاں اگر وارث اس زائد مقدار کو بھی ادا کر دے گا تو نہ صرف یہ کہ وارث کا یہ عمل جائز شمار ہوگا بلکہ میت پر اس کا احسان بھی ہوگا، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ پورا مسئلہ اس صورت سے متعلق ہے جب کہ مرنے والے کے ذمہ وہ روزے ہوں جن کی قضا اس کے مرنے سے پہلے ممکن رہی ہو۔ مثلا رمضان کا مہینہ گزر جانے کے بعد کسی ایسے مہینہ میں اس کا انتقال ہو جس میں وہ مرنے سے پہلے رمضان کے وہ روزے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے رکھنے سے رہ گئے تھے ان کی وہ قضا کرسکتا تھا اور اگر رمضان کے کچھ روزے فوت ہوگئے ہوں (مثلا رمضان ہی کے مہینہ میں اس کا انتقال ہوا ہو اور انتقال سے پہلے کچھ روزے رکھنے سے رہ گئے کہ جن کی قضا ممکن نہ ہو تو پھر ان کا تدارک یعنی ان روزوں کے بدلہ فدیہ دینا لازم ہے اور نہ مرنے والے پر فوت شدہ روزوں کا کوئی گناہ ہوگا چناچہ تمام علماء کا یہی مسلک ہے البتہ طاؤس اور قتادہ کہتے ہیں کہ ان روزوں کا تدارک اور فدیہ بھی لازم ہوگا جن کی قضا کے ممکن ہونے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک یہ ہے مرنے والا وصیت کرے یا نہ کرے۔ اس کے فوت شدہ روزوں کے بدلے اس کے کل مال میں سے فدیہ ادا کرنا ضروری ہے مذکورہ بالا مسئلہ میں حضرت امام احمد کا جو مسلک ہے وہ پہلی حدیث کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے۔

2043Mishkaat-al-Masabih

میت کے ذمہ روزوں کا فدیہ

عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات وعليه صيام شهر رمضان فليطعم عنه مكان كل يوم مسكين . رواه الترمذي وقال : والصحيح أنه موقوف على ابن عمر

حضرت نافع (تابعی) حضرت ابن عمر ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا چاہئے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر ؓ پر موقوف ہے یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نہیں ہے بلکہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔ تشریح ہر روزہ کے بدلہ مسکین کو کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر روزہ کے بدلہ میں پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جو۔ یا اتنی ہی مقدار کی قیمت ادا کی جائے اور یہی مقدار نماز کے فدیہ کی بھی ہے کہ ہر نماز کے بدلہ اسی قدر فدیہ ادا کیا جائے۔ یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے جن کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی مرنے والے کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص روزہ نہ رکھے بلکہ ورثاء اس کے بدلہ فدیہ ادا کریں اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے غالب امکان ہے کہ وہ منسوخ ہو اور یہ حدیث ناسخ ہو، لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس حدیث کو منسوخ نہ قرار دے کر اس کی جو تاویل کی جاتی ہے اس کی بنیاد یہی حدیث ہے۔ یہ روایت اگرچہ موقوف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے فرمایا لیکن حکم میں مرفوع (ارشاد رسول) ہی کے ہے کیونکہ اس قسم کے تشریعی امور کوئی بھی صحابی اپنی عقل سے بیان نہیں کرسکتا لہٰذا حضرت ابن عمر ؓ نے یہ مضمون آنحضرت ﷺ سے ضرور سنا ہوگا جب ہی انہوں نے اسے نقل کیا۔

2044Mishkaat-al-Masabih

نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھی جاسکتی ہے نہ روزہ رکھا جاسکتا ہے

عن مالك بلغه أن ابن عمر كان يسأل : هل يصوم أحد عن أحد أو يصلي أحد عن أحد ؟ فيقول : لا يصوم أحد عن أحد . ولا يصلي أحد عن أحد . رواه في الموطأ

حضرت امام مالک (رح) کے بارے میں مروی ہے کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے یا کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے کہ نہ تو کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے نماز پڑھے اور نہ کسی دوسرے کی طرف سے روزے رکھے۔ (موطا) تشریح حضرت امام مالک، ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کا مسلک یہی ہے کہ نماز روزہ کسی کی طرف سے کرنا تاکہ وہ بری الذمہ ہوجائے درست نہیں ہے ہاں حنفیہ کے نزدیک یہ جائز ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھی عمل کا ثواب خواہ وہ نماز ہو یا روزہ وغیرہ کسی دوسرے کو بخش سکتا ہے۔

2045Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ کے بارے میں آپ ﷺ کا معمول

عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم حتى نقول : لا يفطر ويفطر حتى نقول : لا يصوم وما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان وما رأيته في شهر أكثر منه صياما في شعبان وفي رواية قالت : كان يصوم شعبان كله وكن يصوم شعبان إلا قليلا

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نفل روزے رکھنے شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے رکھنا ختم نہیں کریں گے اور جب روزے نہ رکھنے پر آتے تو ہم کہتے کہ اب آپ ﷺ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے میں نے آنحضرت ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورے ماہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے علاوہ اور کسی مہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (یعنی آپ ﷺ شعبان کے مہینے میں جتنے زیادہ روزے رکھتے تھے اتنے اور کسی مہینہ میں علاوہ رمضان کے نہیں رکھتے تھے) ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا آنحضرت ﷺ شعبان کے پورے ماہ روزے رکھا کرتے تھے (یعنی) ماہ شعبان میں چند دن چھوڑ کر بقیہ دنوں میں روزے سے رہا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نفل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ کبھی تو مسلسل کافی عرصہ تک روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے روزوں کی اس کثرت اور تسلسل کو دیکھ کر لوگ گمان کرنے لگتے تھے کہ اب روزہ کا سلسلہ شاید آپ ﷺ کبھی ختم نہ کریں اور کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺ مسلسل کافی عرصہ تک روزہ رکھتے ہی نہیں تھے یہاں تک کہ لوگ سوچتے کہ شاید اب آپ ﷺ نفل روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ کان یصوم الخ میں جملہ آخر یعنی دوسرے لفظ کان سے جملہ اول کی وضاحت مقصود ہے کہ شعبان کے پورے ماہ سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، بعض حضرات کے نزدیک مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک سال تو شعبان کے پورے ماہ اور دوسرے سال شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔

2046Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ کے بارے میں آپ ﷺ کا معمول

وعن عبد الله بن شقيق قال : قلت لعائشة : أكان النبي صلى الله عليه و سلم يصوم شهرا كله ؟ قال : ما علمته صام شهرا كله إلا رمضان ولا أفطره كله حتى يصوم منه حتى مضى لسبيله . رواه مسلم

حضرت عبداللہ بن شقیق (تابعی) کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ پورے مہینہ روزہ رکھا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتی کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی مہینہ میں پورے ماہ روزے رکھے ہوں علاوہ رمضان کے اور میں ایسا کوئی مہینہ بھی نہیں جانتی جس میں آپ ﷺ نے بالکل روزے نہ رکھے ہوں کیونکہ آپ ﷺ ہر مہینہ میں کچھ دن روزے سے رہا کرتے تھے (آپ ﷺ کا یہی معمول رہا) یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ (مسلم)

2047Mishkaat-al-Masabih

شعبان کے آخری دنوں کے روزے

وعن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه سأله أو سأل رجلا وعمران يسمع فقال : يا أبا فلان أما صمت من سرر شعبان ؟ قال : لا قال : فإذا أفطرت فصم يومين

حضرت عمران بن حصین ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے عمران سے پوچھا یا کسی دوسرے شخص سے پوچھا اور عمران سنتے تھے کہ اے فلاں شخص کے باپ! کیا تم نے شعبان کے آخری دنوں کے روزے نہیں رکھے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہوجاؤ تو دو دن روزے رکھ لینا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جن صاحب سے آنحضرت ﷺ نے شعبان کے آخری دنوں کے بارے میں پوچھا تھا خواہ وہ عمران رہے ہوں یا کوئی دوسرے شخص انہوں نے بطریق نذر اپنے اوپر ہر مہینے کے آخری دو دنوں کے روزے واجب قرار دے رکھے تھے چناچہ ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں کے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہوجائے تو شعبان کے آخری دو دنوں کے بدلے دو روزے رکھ لینا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ ہر مہینہ کے آخری دو دن نفل روزے رکھا کرتے تھے ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں میں اتفاق سے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے بطور استحباب فرمایا کہ رمضان کے روزے ختم ہوجانے کے بعد ان دو دنوں کے بدلے دو دنوں کے روزے رکھ لینا۔

2048Mishkaat-al-Masabih

محرم میں نفل روزہ کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا رمضان کے روزے کے بعد بہترین روزے اللہ کے مہینے کے کہ وہ ماہ محرم ہے کہ روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفل روزے رکھنے بڑی فضیلت اور سعادت کی بات ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں ماہ محرم سے مراد یوم عاشورہ ہے جس کے روزے کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے اور اس کی تائید اس کے بعد آنے والی حدیث سے بھی ہوتی ہے بعض حفاظ حدیث فرماتے ہیں کہ رجب کے مہینہ میں روزے کے بارے میں احادیث منقول ہیں ان میں سے اکثر موضوع اور دوسروں کی اختراع ہیں۔ اس حدیث میں ماہ محرم کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کی گئی ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ نسبت تخصیص کی بناء پر نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہو کہ صرف محرم ہی اللہ کا مہینہ ہے بلکہ چونکہ تمام مہینے اللہ ہی کے ہیں اس لئے اس موقع پر بطور خاص اللہ کی طرف محرم کے مہینہ کی نسبت اس ماہ مبارک کے شرف و فضیلت کے اظہار کے طور پر ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رات کی نماز (یعنی نماز تہجد) سنت مؤ کدہ نمازوں سے افضل ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس لئے کہا جائے گا کہ یہاں پوری عبادت اس طرح ہے فرض نماز اور اس کی سنت مؤ کدہ نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے یا پھر اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ اس اعتبار سے تو نماز تہجد، سنت مؤ کدہ نماز سے افضل ہے کہ تہجد کی نماز میں مشقت و محنت زیادہ ہوتی ہے نیز یہ کہ نماز تہجد ریاء و نمائش سے پاک اور محفوظ ہوتی ہے اور سنت مؤ کدہ نمازیں اس اعتبار سے افضل ہیں کہ ان کو پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے نیز یہ کہ وہ فرض نماز کے تابع ہوتی ہیں۔ آخر میں اتنی بات بھی ملحوظ رہے کہ وتر بھی فرض نماز کے حکم میں داخل ہے۔

2049Mishkaat-al-Masabih

یوم عاشوراء کے روزے کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : ما رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يتحرى صيام يوم فضله على غيره إلا هذا اليوم : يوم عاشوراء وهذا الشهر يعني شهر رمضان

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کسی دن روزہ کا ارادہ کرتے ہوں اور اس دن کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں۔ مگر اس دن یعنی یوم عاشورہ کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو دوسرے دن اور دوسرے مہینہ پر فضیلت دیتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی دن روزہ کو دوسرے دنوں کے روزوں سے افضل قرار نہیں دیتے تھے البتہ یوم عاشورہ کے روزے کو دوسرے دنوں کے روزوں پر فضیلت دیتے تھے اسی طرح رمضان کے روزوں کو اور سب روزوں سے افضل قرار دیتے تھے۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا فہم و گمان ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے احوال و اقوال سے ایسا سمجھ لیا ہو ورنہ تو جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے یوم عرفہ اور اس دن کا روزہ یوم عاشورہ اور اس دن کے روزہ سے افضل ہے۔

2050Mishkaat-al-Masabih

یوم عاشوراء کے روزے کا مسئلہ

وعن ابن عباس قال : حين صام رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه قالوا : يا رسول الله إنه يوم يعظمه اليهود والنصارى . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع . رواه مسلم

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول کریم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو وہ دن ہے جو یہود و نصاریٰ کے ہاں بڑا باعظمت ہے اور چونکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہمارا شیوہ ہے لہٰذا ہم روزہ رکھ کر اس دن کی عظمت کرنے میں یہود و نصاریٰ کی موافقت کیسے کریں آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کو ضرور روزہ رکھوں گا۔ (مسلم) تشریح عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟ اس کی وضاحت اسی باب کی تیسری فصل کی پہلی حدیث میں آئے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری بہ نسبت ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ قریب ہیں چناچہ اس کے بعد آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ یہ واقعہ ہجرت کے ابتدائی دنوں کا ہے گویا اس وقت آپ ﷺ نے صحابہ کو عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کو جو حکم دیا وہ بطور وجوب کے تھا۔ یہاں جو صورت ذکر کی گئی ہے وہ آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی کے آخری سال میں پیش آئی ہے اس موقت پر آپ ﷺ نے جو حکم دیا وہ بطور استحباب کے ہے کیونکہ اس بارے میں وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا تھا اور اس کی جگہ استحباب نے لے لی اس موقع پر صحابہ نے مذکورہ بالا عرضداشت پیش کی جس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال اس دنیا میں رہا تو نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ اب اس میں احتمال ہے کہ یا تو آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ محرم کی دسویں تاریخ ( عاشورہء) کی بجائے صرف نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ یا یہ کہ دسویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا اور پہلا احتمال ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس ترمیم سے مقصد یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ ﷺ آئندہ سال تک اس دنیا میں تشریف فرما نہیں رہے بلکہ اسی سال ربیع الاول کے مہینہ میں واصل بحق ہوگئے اس طرح اگر آپ ﷺ نے نویں کا روزہ نہیں رکھا مگر علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس عزم و ارادہ کی بنا پر امت کے لئے محرم کی نویں تاریخ کا روزہ رکھنا سنت قرار پا گیا ہے۔ محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ عاشورے کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے مگر اس کے ساتھ ہی عاشورہ سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھنا مستحب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔

2051Mishkaat-al-Masabih

یوم عرفہ کا روزہ

وعن أم الفضل بنت الحارث : أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صيام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال بعضهم : هو صائم وقال بعضهم : ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف عل بعيره بعرفة فشربه

حضرت ام فضل بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عرفہ کے روز میرے سامنے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے روزہ کے بارے میں بحث کرنے لگے بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ آج روزہ سے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ آپ ﷺ آج روزہ سے نہیں ہیں یہ دیکھ کر میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کے پاس بھیجا آپ اس وقت میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے چناچہ آپ ﷺ نے وہ دودھ لے کر پی لیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ام فضل ؓ حضرت عباس ؓ کی زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی چچی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا حج کرنے والے کے لئے تو مسنون نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے لئے مسنون ہے۔

2052Mishkaat-al-Masabih

ذی الجہ کے عشرہ اول میں روزہ رکھنے کا مسئلہ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صائما في العشر قط . رواه مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو عشرہ میں روزہ رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم) تشریح عشرہ سے مراد ذی الحجہ کا عشرہ اول یعنی یکم تاریخ سے دس تاریخ تک کا عرصہ مراد ہے اس حدیث سے بظاہر تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں کبھی روزہ نہیں رکھا ہے جب کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ اس عشرہ میں ہر دن (علاوہ دسویں تاریخ کے یعنی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزہ کے ثواب کے برابر ہے اور اس عشرہ کی ہر رات میں عبادت الٰہی کے لئے جاگنا شب قدر میں عبادت کے لئے جاگنے کے ثواب کے برابر ہے لہٰذا حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا روایت کی مراد کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہاں حضرت عائشہ ؓ نے اپنے علم کی نفی کی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا نہ دیکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ﷺ نے روزہ نہ رکھا ہو ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں روزہ رکھا ہو اور حضرت عائشہ ؓ کو اس کا علم نہ ہوا ہو، یا پھر آخری درجہ میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ کے روزے کا مذکورہ بالا ثواب تو بیان فرمایا مگر خود آپ ﷺ کو اس عشرہ میں روزہ رکھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو۔

2053Mishkaat-al-Masabih

نفل روزے

وعن أبي قتادة : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال كيف تصوم فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله . فلما رأى عمر رضي الله عنهم غضبه قال رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله فجعل عمر رضي الله عنهم يردد هذا الكلام حتى سكن غضبه فقال عمر يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر كله قال : لا صام ولا أفطر . أو قال : لم يصم ولم يفطر . قال كيف من يصوم يومين ويفطر يوما قال : ويطيق ذلك أحد . قال كيف من يصوم يوما ويفطر يوما قال : ذاك صوم داود عليه السلام قال كيف من يصوم يوما ويفطر يومين قال : وددت أني طوقت ذلك . ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كل شهر ورمضان إلى رمضان فهذا صيام الدهر كله صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله . رواه مسلم

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ آپ ﷺ روزہ کس طرح رکھتے ہیں؟ یہ سن کر رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے، حضرت عمر ؓ نے جو اس وقت مجلس میں حاضر تھے جب آپ ﷺ کے غصہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فورا بول اٹھے کہ ہم راضی ہوئے اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد کے نبی ہونے پر اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ یہ جملے بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوا اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ اس شخص کے بارہ کیا حکم ہے جو ہمیشہ روزہ رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ وہ بغیر روزہ رہا۔ یا فرمایا نہ روزہ رکھا اور نہ بغیر روزہ رہا۔ اس موقع پر راوی کو شک ہے کہ آپ نے لا صام ولا افطر یا لم یصم ولم یفطر فرمایا پھر حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن تو روزہ سے رہے اور ایک دن بغیر روزہ رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے؟ فرمایا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ اچھا اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن تو روزہ رکھے اور دو دن بغیر روزہ کے رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہر مہینہ کے تین روزے ہمیشہ کے روزے کے برابر ہیں (یعنی ان کا ثواب ہمیشہ روزہ رکھنے کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور (غیر حج کی حالت میں) عرفہ کا روزہ تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی وجہ سے اس سے پہلے سال کے گناہ دور کر دے گا اور اس کے بعد والے سال کے گناہ بھی دور کر دے گا یعنی یا تو اللہ تعالیٰ آئندہ سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا یا یہ کہ اگر گناہ سرزد ہوں گے تو معاف کر دئیے جائیں اور یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں بھی مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی بناء پر ایک سال پہلے کے گناہ دور کر دے گا۔ (مسلم) تشریح سائل کو تو چاہئے تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اپنے بارے میں سوال کرتا کہ میں نفل روزہ کیونکر اور کب کب رکھوں؟ تاکہ آپ ﷺ اس کے احول و کوائف کے مطابق اسے کوئی جواب دیتے مگر وہ اپنے بارے میں پوچھنے کی بجائے نبی کریم ﷺ ہی کے بارے میں پوچھ بیٹھا جو ظاہر ہے کہ آداب نبوت کے نہ صرف خلاف ہی تھا بلکہ یہ ایک حد تک گستاخی بھی تھی اس لئے آپ ﷺ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کے احوال و کوائف بالکل دوسری نوعیت کے تھے آپ ﷺ کے افعال اور آپ ﷺ کی عبادت میں کثرت و قلت کے بھی اسرار و مصالح تھے اور ظاہر ہے کہ اسرار و مصالح ہر شخص کے افعال و عبادات میں نہیں ہوسکتے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ بہت زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے کیونکہ آپ ﷺ مسلمانوں کے مسائل و مصالح ازواج مطہرات کے حقوق کی ادائیگی اور باہر سے آنے والے مہمانوں کی خاطر و مدارات اور ان کی دیکھ بھال میں مشغول رہا کرتے تھے ایسی صورت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ ﷺ نفل روزہ کثرت سے رکھتے۔ من یصوم الدہر کلہ (جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) سائل درحقیقت یہی آنحضرت ﷺ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر چونکہ اس نے اسلوب غلط اختیار کیا اس لئے اسی سوال کو حضرت عمر ؓ نے اس انداز سے نہایت ہی ادب و عاجزی کے ساتھ پوچھا کہ جو شخص ہمیشہ نفل روزہ رکھتا ہے اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ آیا وہ شخص اپنے اس عمل کی وجہ سے شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے جو جملہ لا صام ولا افطر ارشاد فرمایا اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ جملہ یا تو ایسے شخص کے لئے بطور تنبیہ و عابد ہے یا پھر یہ کہ اس شخص کے حال کی خبر ہے کہ نہ تو اس شخص نے روزہ رکھا کیونکہ اس طرح روزہ رکھنا شریعت کے حکم کے مطابق نہیں ہے اور نہ ہی وہ بغیر روزہ رہا کیونکہ کھانا پینا اور تمام چیزیں اس نے ترک کئے رکھیں۔ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد اس شخص کے حق میں ہے جو ممنوع روزے بھی رکھے یعنی تمام سال روزے رکھے حتیٰ کی عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزے رکھنا چھوڑے ہاں اگر کوئی شخص ان ممنوع ایام میں روزے نہ رکھے تو یہ ارشاد اس کے حق میں نہیں ہوگا او وہ ان ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ ان ممنوع ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ انہیں منع فرماتے تھے یا پھر یہ کہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس طرح روزے رکھنا، جسم انسانی کو ضعیف و نا تو اں کردیتا ہے جس کی بناء پر ایسا شخص جہاد اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے لہٰذا ہمیشہ روزہ رکھتا اگر کسی شخص کو ضعف و نا تو انی میں مبتلا نہ کرے تو اس کے لئے ہمیشہ روزے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے حنفی محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے ضعف و نا تو انی لاحق ہوجاتی ہے اسی طرح فتاویٰ عالمگیری اور درمختار میں بھی یہی لکھا ہے کہ صوم دہر (ہمیشہ روزہ رکھنا) مکروہ ہے۔ ویطیق ذالک احد (کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دو دن روزہ سے اور ایک دن بغیر روزہ رہنے پر قادر ہو اور اس میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اس طرح روزہ رکھ سکے تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں یا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح روزہ رکھنا افضل ہے۔ ذالک صوم داؤد (یہ حضرت داؤد کا روزہ ہے) کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کا یہ طریقہ نہایت معتدل ہے اور اس میں عبادت و عادت کی رعایت بھی ہے اسلام چونکہ تمام مذاہب آسمانی کا ایک حسین سنگم ہے اس لئے مذہب نے ہر معاملہ میں توازن اور اعتدال کی راہ دکھائی ہے اس کے نظریات و اعمال میں نہ افراط ہے نہ تفریط چناچہ اس لئے بعض مفکرین اسلام نے یہ کلیہ بیان کیا ہے کہ حصول علم میں اس انداز سے سعی و کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی وجہ سے عمل کی راہیں مسدود نہ ہوجائیں اور اعمال میں بھی اس طریقہ سے مشغولیت نہ ہو کہ اس کی وجہ سے علم کی روشنی حاصل نہ ہو سکے حاصل اس کلیہ کا یہ ہے کہ حصول علم کی بہت زیادہ سعی و کوشش عمل سے نہ روک دے اور عمل میں بےمشغولیت علم سے بےبہرہ نہ کر دے بلکہ اعتدال اور توازن کے ساتھ دونوں راہوں کو اپنایا جائے اسی لئے کہا گیا ہے کہ خیر الامور اوسطہا وشرہا تفریطہا وافراطہا یعنی کسی چیز کی بھلائی و بہتری اس کی درمیانی راہ میں پوشیدہ ہے اور اس کی برائی حد سے زیادہ زیادتی اور حد سے زیادہ کمی کو اختیار کرنے میں ہے نیز اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ۔ افضل الصیام صوم داؤد علی نبینا وعلیہ السلام یعنی نفل روزوں میں سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے۔ وددت انی طوقت (میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے) یعنی یہ میری عین پسند ہے کہ حق تعالیٰ مجھے اتنی طاقت اور قوت عطا فرمائے کہ ہر چوتھے دن روزہ رکھوں یعنی ایک دن تو روزہ رکھوں اور دو دن بغیر روزہ رہو اور اس سلسلہ میں دوسرے حقوق اور مسلمانوں کے مصالح میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ گویا اس ارشاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا الاّ یہ کہ حق تعالیٰ کی طرف سے میرے اندر یہ طاقت و قوت و دیعت فرما دی جائے حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ نے نفل روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اس صورت کو بھی پسند فرمایا اگرچہ آپ ﷺ نے بسبب عدم طاقت اس پر عمل نہیں فرمایا۔ ہر مہینہ کے تین روزے سے مراد ایام بیض یعنی ہر مہینہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے ہیں مگر بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہر مہینہ کی کسی بھی تین تاریخوں کے روزے مذکورہ ثواب کے حامل ہیں اور یہی قول صحیح بھی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت نے جو آگے آرہی ہے اس کی وضاحت بھی کی ہے۔

2054Mishkaat-al-Masabih

پیر کے دن کی فضیلت

وعن أبي قتادة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صوم الاثنين فقال : فيه ولدت وفيه أنزل علي . رواه مسلم

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر کتاب کا نزول شروع ہوا۔ (مسلم) تشریح سوال کا مقصد یا تو پیر کے روز آنحضرت ﷺ کے روزہ رکھنے کا سبب معلوم کرنا تھا یا یہ مقصد تھا کہ پیر کے روز روزہ رکھنا مستحب کیوں ہے؟ بہر صورت پیر کے روزہ رکھنے اور اس کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ چونکہ اسی دن رسول کریم ﷺ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن دین فطرت دنیا میں نازل ہونا شروع ہوا اور اس طرح دنیا والوں کو ایک عظیم نعمت حاصل ہوئی اس لئے اس کے شکرانہ کے طور پر پیر کے دن روزہ رکھا جاتا ہے۔

2055Mishkaat-al-Masabih

ہر مہینہ میں تین دن نفل کے روزے

وعن معاذة العدوية أنها سألت عائشة : أكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من كل شهر ثلاثة أيام ؟ قالت : نعم فقلت لها : من أي أيام الشهر كان يصوم ؟ قالت : لم يكن يبالي من أي أيام الشهر يصوم . رواه مسلم

حضرت معاذہ عدویہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول کریم ﷺ ہر مہینہ میں تین دن نفل روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! معاذہ کہتی ہیں کہ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ مہینہ کے کون سے دنوں میں روزہ رکھ لیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ مہینہ کے کسی خاص دن روزہ رکھنے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے (یعنی جس دن چاہتے روزہ رکھ لیتے کوئی خاص دن متعین نہ تھا۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مہینہ میں کسی بھی تین دن روزے رکھ لینے کافی ہیں جس دن چاہے روزہ رکھ لیا جائے تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ کی قید نہیں ہے تاہم اکثر احادیث اور آثار میں چونکہ یہ تین تاریخیں مذکور ہیں اس لئے ان تین تاریخوں میں روزہ رکھنا افضل ہوگا ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی اور بھی کئی صورتیں منقول ہیں جو آگے مذکور ہوں گی۔

2056Mishkaat-al-Masabih

شش عید کے روزے

وعن أبي أيوب الأنصاري أنه حدثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر . رواه مسلم

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے (اپنے راوی سے کہ جن کا نام عمر بن ثابت ہے) یہ حدیث بیان کی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ روزے بھی رکھے تو وہ ہمیشہ روزہ رکھنے والے کی مانند ہوگا۔ (مسلم) تشریح جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا رمضان کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ دن روزے رکھنے کی جنہیں شش عید کے روزے بھی کہا جاتا ہے بڑے ثواب اور فضیلت کی بات ہے ان روزوں کے سلسلہ میں حضرت امام شافعی کے ہاں اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ رمضان کے فورا بعد یعنی دوسری تاریخ سے ساتویں تاریخ تک مسلسل یہ روزے رکھے جائیں جب کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک متفرق طور پر یہ روزے رکھنے افضل ہیں کہ پورے مہینہ میں جب بھی چاہے روزے رکھ لے۔

2057Mishkaat-al-Masabih

ممنوع روزے

وعن أبي سعيد الخدري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صوم يوم الفطر والنحر

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فطر (عید) اور نحر (بقر عید) کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح نحر سے جنس یعنی نحر کے سب دن مراد ہیں یہاں یہ لفظ تغلیبا ذکر کیا گیا کیونکہ ایام تشریق میں بھی روزے رکھنے حرام ہیں اس مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ یوں تو نحر کے تین دن ہیں اور تشریق کے بھی تین دن ہیں مگر سب کا مجموعہ چار دن ہوتا ہے اسی طرح کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ صرف نحر کا دن ہے اور اس کے بعد دو دن یعنی گیارہویں اور بارہویں تاریخ ایام نحر بھی ہیں اور ایام تشریق بھی اور ان دونوں تاریخوں کے بعد ایک دن یعنی تیرہویں تاریخ صرف یوم تشریق ہے حاصل یہ کہ پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزے رکھنے حرام ہیں ایک تو عید کا دن دوسرا بقر عید کا دن اور تین دن بقر عید کے بعد یعنی گیارہویں بارہویں اور تیرہویں تاریخ۔

2058Mishkaat-al-Masabih

ممنوع روزے

وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا صوم في يومين : الفطر والضحى

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو دن (یعنی دو موقعے) ایسے ہیں جن میں روزہ جائز نہیں ہے عید کے دن اور بقر عید کے چار دن) یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے تیرہویں تاریخ تک)۔ (بخاری ومسلم)

2059Mishkaat-al-Masabih

ایام تشریق

وعن نبيشة الهذلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله . رواه مسلم

حضرت نبیشہ ہزلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ (مسلم) تشریح ایام تشریق تین دن ہیں ذی الحجہ کی گیارہویں بارہویں اور تیرہویں تاریخ، یہاں ایام تشریق کا لفظ تغلیباً ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یوم نحر بقر عید کا دن بھی کھانے پینے کا دن ہے بلکہ اصل تو وہی دن ہے اور تین دن اس کے بعد تابع ہیں لہٰذا ان چار دنوں میں روزے رکھنے حرام ہیں۔ حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ نو روز اور مہر جان کو روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ ان دنوں میں روزہ رکھنے سے ان ایام کی تعظیم لازم آئے گی جو شریعت اسلامی میں ممنوع ہے ہاں اگر کوئی شخص اپنے معمول کے مطابق پہلے سے روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو اور اتفاق سے یہ ایام بھی اس کے معمول کے درمیان آجائیں تو پھر ان دنوں کے روزے ممنوع نہیں ہوں گے۔ وذکر اللہ اس جملہ سے یہ انتباہ مقصود ہے کہ یہ ایام اگرچہ خوشی و مسرت اور کھانے پینے کے دن ہیں مگر ان امور میں مشغولیت کے باوجود اللہ کی یاد اور عبادت سے غافل نہ ہونا چاہئے گویا اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ۔ آیت (وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ) 2۔ البقرۃ 203)۔ اور یاد کرو اللہ تعالیٰ کو گنتی کے چند دنوں میں۔ اور ذکر اللہ سے مراد ایام تشریق میں نمازوں کے بعد پڑھی جانے والی تکبیرات، قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت تکبیرات اور حج کرنے والوں کے لئے رمی جمار وغیرہ ہیں۔

2060Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے دن روزہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يصوم أحدكم يوم الجمعة إلا أن بصوم قبله أو بصوم بعده

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے روز روزہ نہ رکھے ہاں اس طرح رکھ سکتا ہے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے بلکہ جمعہ کے روزہ کے ساتھ پنجشنبہ یا ہفتہ کے دن بھی روزہ رکھ لے اور اگر دونوں دنوں یعنی پنجشنبہ و ہفتہ کے دن اور اس کے ساتھ جمعہ کے دن گویا تینوں دن روزہ رکھے تو بہتر ہے حدیث میں صرف جمعہ کے روز روزہ رکھنے کی ممانعت ذکر فرمائی گئی ہے وہ نہی تنزیہی کے طور پر ہے علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک صرف جمعہ کے روزہ رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔