Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 102 of 317

2021Mishkaat-al-Masabih

روزہ میں پچھنے لگوانے کا مسئلہ

وعن شداد بن أوس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى رجلا بالبقيع وهو يحتجم وهو آخذ بيدي لثماني عشرة خلت من رمضان فقال : أفطر الحاجم والمحجوم . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي . قال الشيخ الإمام محيي السنة رحمة الله عليه : وتأوله بعض من رخص في الحجامة : أي تعرضا للإفطار : المحجوم للضعف والحاجم لأنه لا يأمن من أن يصل شيء إلى جوفه بمص الملازم

حضرت شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قبرستان جنت البقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو بھری ہوئی سینگی کھنچوا رہا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ سینگی کھیچنے اور کھنچوانے والے نے اپنا روزہ توڑ ڈالا (ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی) امام محی السنہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو علماء روزہ کی حالت میں سینگی کھینچنے اور کھنچوانے کی اجازت دیتے ہیں انہوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے یعنی یہ کہ ارشاد گرامی میں آپ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ سینگی کھنچوانے والا تو ضعف کی وجہ سے روزہ توڑنے کے قریب ہوجاتا ہے اور سینگی کھینچنے والا اس سبب سے افطار کے قریب ہوجاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ سینگی کھینچنے کے عمل سے خون کا کوئی حصہ اس کے پیٹ میں پہنچ گیا ہو۔ تشریح بعض من رخص میں بعض سے مراد جمہور یعنی اکثر علماء ہیں۔ چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کی صحیح روایت منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے احرام اور روزہ کی حالت میں بھری ہوئی سینگی کھنچوائی، حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ان حضرت کی طرف سے حدیث کی وہی مراد بیان کی جاتی ہے جو امام محی السنہ نے نقل کی ہے کہ روزہ توڑنے کے قریب ہوجاتا ہے یعنی بھری ہوئی سینگی کھنچوانے والے کا خون چونکہ زیادہ نکل جاتا ہے جس کی وجہ سے ضعف و سستی اور نا تو انی اتنی زیادہ لاحق ہوجاتی ہے کہ اس کے بارے میں یہ خوف پیدا ہوجاتا ہے کہ کہیں وہ اپنی جان بچانے کے لئے روزہ نہ توڑ ڈالے اور سینگی کھینچنے والے کے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ سینگی چونکہ منہ سے کھینچنی پڑتی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس عمل کے وقت خون کا کوئی قطرہ اس کے پیٹ میں چلا گیا ہو۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بھری ہوئی سینگی کھنچوانے سے ٹوٹتا تو نہیں البتہ ضعف لاحق ہونے اور جان کی ہلاکت کے خوف سے مکروہ ہوجاتا ہے بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ ارشاد گرامی بطور خاص دو اشخاص کے بارے میں ہے کہ وہ سینگی کھینچتے اور کھنچواتے وقت غیبت میں مشغول تھے لہٰذا ان دونوں کو غیبت میں مشغول دیکھ کر آپ ﷺ نے بطور تنبیہ فرمایا کہ دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔

2022Mishkaat-al-Masabih

بلا عذر روزہ نہ رکھنا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي والبخاري في ترجمة باب وقال الترمذي : سمعت محمدا يعني البخاري يقول . أبو الطوس الراوي لا أعرف له غير هذا الحديث

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص بلا رخصت اور بلا مرض رمضان کا کوئی روزہ قصدا نہ رکھے تو تمام عمر روزہ رکھنا بھی اس کا بدلہ نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ تمام عمر روزہ رکھے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، ) امام بخاری نے اس روایت کو بخاری کے ترجمۃ الباب میں نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام بخاری (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں اس روایت کے ایک راوی ابوالمطوس کو اس حدیث کے علاوہ اور کسی حدیث کا راوی نہیں جانتا۔ تشریح بلا رخصت قصدا روزہ نہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے روزہ نہ رکھنے کے لئے حالت سفر وغیرہ میں جو رخصت یعنی اجازت عطا فرمائی ہے اس کے علاوہ اس حالت جب کہ روزہ رکھنا ضروری ہے قصدا روزہ نہ رکھے چناچہ اس کے بارے میں ابتداء باب میں تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ وان صامہ ما قبل جملہ کی تاکید کے طور پر ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ یہ حدیث رمضان کے روزہ کی اہمیت و عظمت کے اظہار کے لئے بطور مبالغہ ارشاد فرمائی گئی ہے لہٰذا حدیث کی مراد یہ ہے کہ فرض روزہ کا ثواب اس قدر اور اتنا زیادہ ہے کہ وہ نفل روزہ سے میسر نہی آتا چاہے کوئی تمام عمر ہی نفل روزہ کیوں نہ رکھے اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء لکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا اور پھر بعد میں قضا روزہ رکھ لیا تو اس کے ذمہ سے فرض ادا ہوجائے گا اسی طرح اگر کسی شخص نے رمضان کا کوئی روزہ قصدا توڑ ڈالا اور پھر اس کے کفارہ کے طور پر دو مہینے کے روزے رکھ لئے تو وہ بری الذمہ ہوجائے گا۔ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے تمام عمر بھی روزے رکھے تو وہ بری الذمہ نہیں چناچہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود ؓ کا یہی مسلک تھا لیکن اکثر صحابہ اور علماء کا مسلک یہ ہے کہ ایک دن کے روزے کا بدل دوسرے دن کا روزہ ہوجاتا ہے یعنی اگر رمضان میں ایک دن کا روزہ نہ رکھا جائے اور اس کی قضا کے طور پر کسی دوسرے دن روزہ رکھ لیا جائے تو فرض ادا ہوجاتا ہے چاہے یہی صورت کیوں نہ ہو کہ رمضان کا وہ روزہ جو نہیں رکھا گیا گرمی کے کسی سخت اور بڑے دن میں رہا ہو اور اس کی قضا کے طور پر سردی میں اور چھوٹے دن روزہ رکھا جائے۔ اسی طرح صحیح مسئلہ یہ ہے کہ نماز بھی روزے کے حکم میں ہے کہ اگر کسی وقت نماز نہ پڑھے تو دوسرے وقت اس کی قضا پڑھنے سے فرض ادا ہوجاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ تمام علماء کے نزدیک نماز روزہ سے افضل ہے۔

2023Mishkaat-al-Masabih

بلا روح روزہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر . رواه الدارمي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے پیاسا رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور رات میں عبادت میں مشغول رہنے والے بہت سے ایسے ہیں جنہیں ان کی عبادت سے سوائے بےخوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزہ رکھے مگر نہ تو اس کی نیت میں اخلاص وللہیت ہو اور نہ وہ جھوٹ گواہی بہتان تراشی غیبت اور ان کے علاوہ دیگر ممنوعات سے اجتناب و پرہیز کرے تو اس کا روزہ بلا روح ہے کہ وہ بھوکا اور پیاسا تو رہتا ہے مگر اسے روزہ کا کمال اور ثواب حاصل نہیں ہوتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص رات میں عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اسے حضوری قلب اور صدق نیت کی دولت میسر نہیں ہوتی یا اس کی وہ عبادت دنیا کے فائدہ اور ریاء و نمائش کے جذبہ کے تحت ہوتی ہے تو اسے کچھ ثواب نہیں ملتا اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی غصب کردہ مکان میں نماز پڑھے تو اسے ثواب نہیں ملتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے یا جو شخص بغیر عذر جماعت سے محرورم رہتا ہے ایسے ہی دیگر عبادات مثلا حج و زکوٰۃ وغیرہ کا بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر اخلاص نیت حاصل نہ ہو تو تضییع مال اور جسمانی مشقت و محنت کے علاوہ اور کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ حاصل یہ کہ کوئی بھی عبادت ہو جب تک اخلاص نیت، حضور قلب اور محض اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کا جذبہ میسر نہ ہو وہ بلا روح ہوتی ہے کہ جس سے نہ تو قرب الٰہی کی سعادت میسر آتی ہے اور نہ اجر وثواب کی دولت حاصل ہوتی ہے۔ وذکر حدیث لقیط بن صبرۃ فی باب سنن الوضوء اور لقیط بن صبرہ کی روایت جو صاحب مصابیح نے یہاں نقل کی تھی باب سنن الوضو میں ذکر کی جا چکی ہے۔

2024Mishkaat-al-Masabih

سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا

عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا يفطرن الصائم الحجامة والقيء والاحتلام . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غير محفوظ وعبد الرحمن بن زيد الراوي يضعف في الحديث

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزویں روزہ دار کے روزہ کو نہیں توڑتیں سینگی، قے (جو از خود آئے) اور احتلام، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، اس کے ایک راوی عبدالرحمن بن زید روایت حدیث کے سلسلہ میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح اس روایت کو دارقطنی بیہقی اور ابوداؤد نے بھی نقل کیا ہے نیز ابوداؤد کی روایت کے بارے میں محدثین نے لکھا ہے کہ وہ اشبہ بالصواب (یعنی صحت کے زیادہ قریب) ہے۔

2025Mishkaat-al-Masabih

سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا

وعن ثابت البناني قال : سئل أنس بن مالك : كنتم تكرهون الحجامة للصائم على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لا إلا من أجل الضعف . رواه البخاري

حضرت ثابت بنانی (رح) کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں روزہ دار کے سینگی کو مکروہ سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں علاوہ خوف کی صورت کے۔ (بخاری) تشریح یعنی اس اعتبار سے سینگی کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اس سے ضعف و ناتوانی لاحق ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے روزہ پر اثر پڑ سکتا ہے نہ کہ اس اعتبار سے کہ اس کی وجہ سے روزہ جاتا رہتا ہو۔

2026Mishkaat-al-Masabih

سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا

وعن البخاري تعليقا قال : كان ابن عمر يحتجم وهو صائم ثم تركه فكان يحتجم بالليل

حضرت امام بخاری بطریق تعلیق نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ پہلے تو روزہ کی حالت میں سینگی لگوا لیا کرتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اسے ترک کردیا البتہ رات میں سینگی لگوا لیتے تھے۔ تشریح حضرت ابن عمر ؓ نے دن میں بحالت روزہ سینگی لگوانا یا تو احتیاط کے پیش نظر ترک کردیا تھا یا پھر یہ کہ ضعف کے خوف سے اجتناب کرنے لگے تھے۔ امام بخاری نے بعض احادیث کو سند کے بغیر ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ یہ مذکورہ بالا حدیث ہے چناچہ بغیر سند روایت کے نقل کرنے کو بطریق تعلیق نقل کرنا کہا جاتا ہے مذکورہ بالا روایت کے نقل کے سلسلہ میں مناسب یہ تھا کہ مصنف مشکوۃ حسب قاعدہ معمول پہلے تو کہتے عن ابن عمر الخ پھر بعد میں رواہ البخاری تعلیقا کے الفاظ نقل کرتے۔

2027Mishkaat-al-Masabih

کلی کی تری اور تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

وعن عطاء قال : إن مضمض ثم أفرغ ما في فيه من الماء لا يضيره أن يزدرد ريقه وما بقي في فيه ولا يمضغ العلك فإن ازدرد ريق العلك لا أقول : إنه يفطر ولكن ينهى عنه . رواه البخاري في ترجمة باب

حضرت عطاء (تابعی) کہتے ہیں کہ اگر روزہ دار کلی کرے اور پھر پانی کو منہ سے بالکل نکال دے تو اس کے روزہ کو اس بات سے نقصان نہیں پہنچے گا کہ وہ اپنا تھوک اور وہ چیز جو منہ کے اندر باقی ہے نگل جائے اور روزہ دار مصطگی نہ چبائے اور اگر روزہ دار مصطگی کا تھوک نگل جائے تو میں یہ تو نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا لیکن اس سے منع کیا جاتا ہے۔ یہ روایت بخاری کے ترجمۃ الباب میں نقل کی گئی ہے۔ تشریح لفظ ما بقی میں حرف ما موصولہ ہے اور اس کا عطف لفظ ریقہ پر ہے اسی پورے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی روزہ دار کلی کرنے کے بعد اپنا تھوک یا پانی کی وہ تری جو کلی کے بعد منہ میں باقی رہ گئی ہے نگل لے تو اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس سے اجتناب قطعاً ممکن نہیں ہے۔ مصطگی۔ علک کا ترجمہ یہ گوند کی قسم سے ایک دوا ہے جو دانت کے امراض میں اور دانتوں کی تقویت کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے پہلے زمانہ میں بھی لوگ اسے دانت کی تقویت کے لئے منہ میں رکھ لیا کرتے تھے اور چباتے تھے چناچہ روزہ کی حالت میں اسے چبانے سے منع فرمایا گیا ہے البتہ مذکورہ بالا حدیث میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ مصطگی کو چباتے ہوئے جو تھوک منہ میں جمع ہوجائے اس کو نگلنے سے روزہ نہیں جاتا کیونکہ وہ تو منہ میں چپک کر رہ جاتی ہے اس کا کوئی جز علیحدہ نہیں ہوتا کہ وہ حلق میں اتر جائے اور اس سے روزہ ٹوٹ جائے تاہم بطور احتیاط اس کے تھوک کو بھی نگلنے سے منع فرمایا گیا ہے لہٰذا حدیث کے الفاظ ولکن ینہی عنہ میں مذکورہ نہی تنزیہی ہے کیونکہ علماء فرماتے ہے کہ کسی بھی چیز کو چبانا خواہ وہ مصطگی ہو یا کوئی اور چیز مکروہ ہے ہاں ضرورت کے وقت کسی بچہ کے منہ میں دینے کے لئے اس کا کوئی ٹکڑا چبانا جائز ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ مصطگی وغیرہ چبانے کی کراہت اس صورت میں ہے جب کہ یہ یقین ہو کہ اس کا کوئی جز حلق کے نیچے نہیں اترا ہے اور اگر حلق کے نیچے اتر جانے کا یقین ہو تو پھر ورزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر کوئی درزی یا کوئی بھی شخص رنگا ہوا ڈور منہ میں لے اور اس کا تھوک ڈورے کے رنگ جیسا ہوجائے اور پھر وہ اس کی تھوک کو نگل جائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اگر تھوک پر رنگ غالب نہ آئے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

2028Mishkaat-al-Masabih

مسافر کے روزہ کا بیان

اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے مسافر کے روزہ کے بارے میں احکام و مسائل کا استنباط ہوگا کہ آیا سفر کی حالت میں روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ مسافر کے لئے روزہ رکھنا افضل ہے یا روزہ نہ رکھنا افضل ہے؟

2029Mishkaat-al-Masabih

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا اور روزہ نہ رکھنا دونوں جائز ہیں

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن حمزة بن عمرو الأسلمي قال للنبي صلى الله عليه و سلم أصوم في السفر وكان كثير الصيام . فقال : إن شئت فصم وإن شئت فأفطر

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں سفر کی حالت میں روزہ رکھوں؟ (یعنی اگر میں رمضان میں سفر کروں تو روزہ رکھوں یا نہ رکھوں اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) اور حمزہ ؓ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے چاہو رکھو اور چاہے نہ رکھو۔ (بخاری ومسلم) تشریح علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں جائز ہیں خواہ سفر صعوبت و مشقت کے ساتھ ہو یا راحت و آرام کے ساتھ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اگر سفر میں کوئی صعوبت و مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے اور صعوبت و مشقت نہ ہو تو پھر نہ رکھنا بہتر ہوگا، نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے یہاں یہ مسئلہ ہر سفر کے لئے خواہ مباح اور جائز امور کے لئے سفر ہو یا معصیت و برائی کے لئے، جب کہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت کا تعلق صرف مباح اور جائز سفر سے ہے اگر معصیت و برائی کے لئے سفر ہوگا تو اس صورت میں رمضان کا روزہ نہ رکھنا جائز نہیں ہوگا۔

2030Mishkaat-al-Masabih

سفر کی حالت میں روزہ رکھنا اور روزہ نہ رکھنا دونوں جائز ہیں

وعن أبي سعيد الخدري قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لست عشرة مضت من شهر رمضان فمنا من صام ومنا من أفطر فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم . رواه مسلم

حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ جہاد کے لئے روانہ ہوئے تو رمضان کی سولہویں تاریخ تھی ہم میں سے کچھ لوگوں نے (جو قوی تھے) روزہ رکھا اور کچھ لوگوں نے (جو ضعیف تھے یا یہ کہ دوسروں کے خدمت گار تھے) روزہ نہ رکھا چناچہ نہ تو روزہ داروں نے روزہ نہ رکھنے والوں کو معیوب جانا کیونکہ انہوں نے رخصت یعنی اجازت پر عمل کیا تھا اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ داروں کو معیوب سمجھا (کیونکہ انہوں نے عزیمت پر عمل کیا تھا)۔ (مسلم)

2031Mishkaat-al-Masabih

ضعف اور مشقت کی حالت میں روزہ نہ رکھنا ہی مسافر کے لئے بہتر ہے

وعن جابر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه فقال : ما هذا ؟ قالوا : صائم . فقال : ليس من البر الصوم في السفر

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ حالت سفر میں تھے کہ ایک جگہ آپ ﷺ نے مجمع دیکھا اور ایک شخص کو دیکھا جس پر دھوپ سے بچاؤ کے لئے سایہ کیا گیا تھا آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا یہ شخص روزہ دار ہے جو ضعف کی وجہ سے گرپڑا ہے آپ نے فرمایا سفر کی حالت میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر روزہ رکھنے کی صورت میں ضعف و نا تو انی کی وجہ سے روزہ دار کی اتنی خستہ حالت ہوجائے تو اس کے لئے سفر میں روزہ رکھنا کوئی زیادہ بہتر بات نہیں ہے۔ بلکہ افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔

2032Mishkaat-al-Masabih

ضعف اور مشقت کی حالت میں روزہ نہ رکھنا ہی مسافر کے لئے بہتر ہے

وعن أنس قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في السفر فمنا الصائم ومنا المفطر فنزلنا منزلا في وم حار فسقط الصوامون وقام المفطرون فضربوا الأبنية وسقوا الركاب . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذهب المفطرون اليوم بالأجر

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے ہم میں سے کچھ لوگ تو روزہ دار تھے اور کچھ لوگ بغیر روزہ کے تھے، جب ہم ایک منزل پر اترے تو گرمی کا دن تھا جو لوگ روزہ سے تھے وہ تو گرپڑے ( یعنی ضعف و نا تو انی کی وجہ سے کسی کام کے لائق نہیں رہے) اور جو لوگ روزہ سے نہیں تھے وہ مستعد رہے (یعنی اپنے کام کاج میں مشغول ہوگئے) چناچہ انہوں نے خیمے کھڑے کئے اور اونٹوں کو پانی پلایا آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ روزہ نہ رکھنے والوں نے آج ثواب کا میدان جیت لیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح یعنی جن لوگوں نے آج روزہ نہیں رکھا زیادہ کامل ثواب انہیں لوگوں کے حصہ میں آیا کیونکہ ایسے وقت میں ان کے لئے روزہ نہ رکھنا ہی بہتر تھا۔ لفظ الیوم سے اس طرف اشارہ ہے کہ روزہ نہ رکھنے کی یہ فضیلت روزہ داروں کی خدمت گاری کی وجہ سے حاصل ہوئی نہ کہ مطلقاً نیز یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے نیک و صالح بندوں کی خدمت نوافل سے افضل ہے۔

2033Mishkaat-al-Masabih

سفر میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے

وعن ابن عباس قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من المدينة إلى مكة فصام حتى بلغ عسفان ثم دعا بماء فرفعه إلى يده ليراه الناس فأفطر حتى قدم مكة وذلك في رمضان . فكان ابن عباس يقول : قد صام رسول الله صلى الله عليه و سلم وأفطر . فمن شاء صام ومن شاء أفطر

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے چناچہ آپ ﷺ نے اس سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ جب عسفان (جو مکہ سے دو منزل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) پہنچے تو پانی منگوایا پہلے تو آپ ﷺ نے اس پانی کو ہاتھ میں (لے کر بہت اونچا) اٹھایا (تاکہ لوگ دیکھ لیں) اور پھر آپ ﷺ نے روزہ توڑ ڈالا اس طرح آپ ﷺ مکہ تشریف لائے اور یہ سفر رمضان میں ہوا تھا، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے (سفر کی حالت میں) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا لہٰذا جو چاہے (سفر کی حالت میں) روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک اور روایت جو حضرت جابر ؓ سے منقول ہے یہ الفاظ بھی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے عصر کے بعد پانی پیا۔ تشریح آپ ﷺ نے ہاتھ میں لے کر یا اونچا اس لئے اٹھایا تاکہ لوگ جان لیں کہ سفر کی حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے یا پھر یہ مقصد تھا کہ دوسرے لوگ بھی آپ کی متابعت میں اپنا اپنا روزہ افطار کرلیں۔

2034Mishkaat-al-Masabih

حالت سفر میں روزہ کی معافی

عن أنس بن مالك الكعبي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع والحبلى . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت انس بن مالک کعبی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لئے آدھی نماز موقوف کردی ہے اسی طرح مسافر دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کے لئے روزہ معاف کردیا ہے (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح آدھی نماز موقوف کردی ہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسافر کے لئے بھی پہلے چار رکعت نماز فرض تھی پھر بعد میں دو رکعت رہ گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لئے ابتداء ہی سے آدھی نماز فرض فرمائی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز دو رکعت پڑھے اور دو رکعت کی قضا واجب نہیں ہے اسی طرح روزہ کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ حالت سفر میں روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ مگر سفر پورا ہونے کے بعد مسافر جب مقیم ہوجائے گا تو اس روزہ کی قضا اس پر ضروری ہوگی۔ دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ ان کے لئے بھی جائز ہے کہ اگر روزہ کی وجہ سے بچہ یا خود ان کو تکلیف و نقصان پہنچنے کا گمان غالب ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں لیکن عذر ختم ہوجانے کے بعد ان پر بھی قضاء واجب ہوگی فدیہ لازم نہیں ہوگا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے لیکن حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے مسلک کے مطابق ان پر فدیہ بھی واجب ہے۔ اگر سفر میں آسانی اور آرام ہو تو روزہ رکھ لینا مستحب ہے حضرت سلمہ بن محیق ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے منزل تک آسانی اور آرام کے ساتھ پہنچا دے (یعنی اس کا سفر بامشقت نہ ہو بلکہ پر سکون اور پر راحت ہو) تو اسے چاہئے کہ جہاں بھی رمضان آئے روزہ رکھ لے۔ (ابو داؤد) تشریح یہ حکم استحباب اور فضیلت کے طور پر ہے ورنہ تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر مسئلہ یہی ہے کہ حالت سفر میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ سفر کتنا ہی پر سکون اور پر راحت کیوں نہ ہو ویسے بھی یہ حدیث ضعیف ہے۔

2035Mishkaat-al-Masabih

حالت سفر میں روزہ کی معافی

عن جابر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عام الفتح إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ كراع الغميم فصام الناس ثم دعا بقدح من ماء فرفعه حتى نظر الناس إليه ثم شرب فقيل له بعد ذلك إن بعض الناس قد صام . فقال : أولئك العصاة أولئك العصاة . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان کے مہینہ میں مکہ کی طرف چلے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا۔ یہاں تک کہ کراع الغمیم (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان عسفان کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) پہنچے تو دوسرے لوگ بھی روزہ سے تھے چناچہ آپ ﷺ نے پیالہ میں پانی منگوایا اور اسے (ہاتھ میں لے کر اتنا) اونچا اٹھایا کہ لوگوں نے دیکھ لیا پھر آپ ﷺ نے وہ پانی پی لیا، اس کے بعد آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا (یعنی انہوں نے آنحضرت ﷺ کی متابعت میں روزہ توڑا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ پکے گنہگار ہیں۔ وہ لوگ پکے گنہگار ہیں۔ (مسلم) تشریح وہ لوگ پکے گنہگار ہیں، آپ ﷺ نے اپنی انتہائی ناراضگی کے اظہار کے طور پر یہ الفاظ دو مرتبہ ارشاد فرمائے کیونکہ آپ ﷺ نے پانی کو اپنے ہاتھوں میں اونچا اٹھا کر اس لئے پیا تھا تاکہ دوسرے لوگ بھی مطلع ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کی جو اجازت عطا فرمائی ہے اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی و متابعت کریں مگر انہوں نے روزہ رکھ کر گویا آنحضرت ﷺ کے فعل کی مخالفت کی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کی گئی رخصت (اجازت و آسانی) قبول نہ کی اس لئے آپ ﷺ نے ان کے اس طرز عمل پر برہمی کا اظہار فرماتے ہوئے اس طرح فرمایا کہ گویا سفر کی حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے۔

2036Mishkaat-al-Masabih

سفر میں روزہ رکھنا اور حضر میں روزہ نہ رکھنا، دونوں میں مشابہت

وعن عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صائم رمضان في السفر كالمفطر في الحضر . رواه ابن ماجه

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا حضر میں (یعنی اپنے مستقر پر) روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حالت حضر میں روزہ نہ رکھنا بڑے گناہ کی بات ہے اسی طرح سفر کی حالت میں روزہ رکھنا ایک بہت بڑا گناہ ہے لیکن اکثر علماء فرماتے ہیں کہ یا تو یہ حدیث منسوخ ہے یا پھر اس حالت پر محمول ہے جب کہ سفر میں روزہ تکلیف و نقصان کا باعث بنے یا روزہ دار کی ہلاکت کا اندیشہ ہو۔

2037Mishkaat-al-Masabih

سفر میں روزہ نہ رکھنا ہی اولیٰ ہے۔

وعن حمزة بن عمرو السلمي أنه قال : يا رسول الله إني أجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح ؟ قال : هي رخصة من الله عز و جل فمن أخذ بها فحسن ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه . رواه مسلم

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں سفر کی حالت میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہوں کیا (روزہ رکھنے کی صورت میں) مجھ پر گناہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ (یعنی سفر میں روزہ نہ رکھنا) اللہ رب العزت کی طرف سے رخصت ہے لہٰذا جس شخص نے یہ رخصت قبول کی اس نے اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا ہی چاہے تو اس پر کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔ (مسلم) تشریح اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، لیکن بہتر اور اولیٰ یہی ہے کہ روزہ نہ رکھا جائے۔

2038Mishkaat-al-Masabih

قضا روزہ کا مفصل بیان

روزہ نہ رکھنے یا روزہ توڑ ڈالنے کی صورت میں تین حکم ہیں۔ (١) بھول چوک میں روزہ افطار کرلینے کی صورت میں نہ کفارہ واجب ہے اور نہ قضاء۔ (٢) بغیر کسی عذر کے قصدا روزہ افطار کرلینے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (٣) کسی عذر مثلا مرض یا سفر کی بناء پر روزہ نہ رکھنے یا افطار کرلینے کی صورت میں قضا واجب ہوتی ہے چناچہ اس باب کے تحت قضا روزہ کے احکام و آداب بیان کئے جائیں گے اور صحیح یہ ہے کہ یہاں قضا روزہ سے مراد رمضان کے قضا روزے ہیں۔

2039Mishkaat-al-Masabih

حضرت عائشہ (رض) کے قضاء روزے

عن عائشة قالت : كان يكون علي الصوم من رمضان فما أستطيع أن أقضي إلا في شعبان . قال يحيى بن سعيد : تعني الشغل من النبي أو بالنبي صلى الله عليه و سلم

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ رمضان کے جو روزے ہوتے ان کی قضا میں صرف شعبان ہی کے مہینہ میں رکھ سکتی تھی۔ یحییٰ بن سعید ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مشغولیت یا کہا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت کے ساتھ مشغولیت حضرت عائشہ ؓ کو (شعبان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں) رمضان کے قضا روزے سے باز رکھتی تھی۔ (بخاری ومسلم) حضرت عائشہ ؓ رمضان کے اپنے وہ روزے جو حیض کی وجہ سے قضا ہوتے تھے شعبان کے علاوہ اور کسی مہینہ میں رکھنے کی فرصت نہیں پاتی تھیں کیونکہ اور دنوں میں وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رہا کرتی تھیں اور اس طرح مستعد رہا کرتی تھیں کہ آنحضرت ﷺ جس وقت بھی خدمت و صحبت کے لئے بلائیں حاضر ہوجائیں، آنحضرت ﷺ چونکہ شعبان کے مہینے میں اکثر روزے سے رہا کرتے تھے اس لئے اس مہینہ میں حضرت عائشہ ؓ کو مہلت مل جاتی تو ان کے ذمہ رمضان کے جو روزے ہوتے تھے ان کی قضا رکھتیں۔

2040Mishkaat-al-Masabih

عورت اپنے خاوند کی مرضی کے بغیر نفل روزے نہ رکھے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه ولا تأذن في بيته إلا بإذنه . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفل روزے رکھنا درست نہیں ہے۔ نیز کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنے گھر میں گھسنے کی اجازت نہ دے۔ (مسلم) تشریح پہلے حکم کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند اس کے پاس موجود ہو تو اس کی اجازت کے بغیر عورت کے لئے نفل روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اجازت خواہ دلالۃ ہو یا صراحۃ اور اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں مرد صحبت وغیرہ کے سلسلہ میں دقت و پریشانی محسوس کرے گا۔ اس حدیث سے مطلقاً نفل روزے رکھنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے چناچہ یہ حدیث حضرت امام شافعی کے مسلک کی نفی کرتی ہے کیونکہ حضرات شوافع کہتے ہیں کہ عورت، عرفہ اور عاشورہ کے روزے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر بھی رکھ سکتی ہے۔ دوسرے حکم کا مطلب یہ ہے کہ کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کسی بھی شخص کو اپنے گھر میں آنے دے خواہ آنے والا اپنا کوئی عزیز و رشتہ دار ہو یا اجنبی حتی کہ اگر کوئی عورت آئے تو اسے بھی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گھر میں گھسنے نہ دے۔ اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہے کہ خاوند کی رضا کا علم بھی اس کی اجازت ہی کے حکم میں ہے یعنی کسی شخص کے بارے میں اگرچہ مرد نے زبانی طور پر اجازت نہیں دی ہے لیکن عورت اگر یہ جانتی ہے کہ اس شخص کے آنے سے شوہر کو کوئی ناگواری نہیں ہوگی تو اس صورت میں وہ اس شخص کو اپنے گھر میں آنے دے سکتی ہے کیونکہ یہ بھی دلالۃ اجازت ہے۔