Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 107 of 317

2121Mishkaat-al-Masabih

قرآن پڑھنے کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان . قلنا : نعم . قال : فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ جب گھر میں لوٹ جائے تو وہاں تین حاملہ اور فربہ و بڑی اونٹنیاں پائے؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنی نماز میں قرآن کی تین آیتیں پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے تین حاملہ اور بڑی موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (مسلم)

2122Mishkaat-al-Masabih

ماہر قرآن کی فضیلت

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران

حضرت عائشہ ؓ راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ماہر قرآن ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور بزرگ و نیکوکار ہیں اور وہ شخص کہ جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ثواب ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔

2123Mishkaat-al-Masabih

ماہر قرآن کی فضیلت

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا على اثنين : رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صرف دو اشخاص کے بارے میں حسد جائز ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی اور وہ شخص بعض اوقات کے علاوہ دن رات کے اکثر حصہ میں اس قرآن میں مشغول رہتا ہے دوسرا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو دن و رات کے اکثر حصہ میں خرچ کرتا ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے سے نعمت کے زوال اور اپنے لئے اس نعمت کے حصول کی تمنا کرنا چناچہ حضرت میرک (رح) فرماتے ہیں کہ حسد کی دو قسمیں ہیں (١) حقیق۔ (٢) مجازی۔ حقیقی کا مطلب تو یہی ہے کہ کسی شخص سے نعمت کے زائل ہوجانے کی خواہش و تمنا کرنا حسد کی یہ قسم احکام قرآنی اور تعلیمات حدیث کے پیش نظر تمام علماء امت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے مجازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اپنے لئے اس کے حصول کی خواہش و تمنا کرنا بغیر اس آرزو کے کہ وہ دوسرے شخص سے زائل ہو مجازی حسد کی قسم غبطہ کہلاتی ہے جسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ حسد مجازی یعنی غبطہ (رشک) اگر دنیاوی امور کے سلسلہ میں ہو تو مباح ہے اور اگر دینی امور کے سلسلہ میں ہو تو پھر وہ مستحب ہوگا۔ مثلا کسی شخص کو مسجد بناتا ہوا دیکھ کر یہ آرزوں و خواہش کرے کہ کاش اگر میرے پاس بھی روپیہ ہو تو میں بھی ایسی مسجد بناؤں۔ یہ رشک پسندیدہ ہے اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے۔ بہرکیف یہاں حدیث میں حسد سے مراد غبطہ ہے مگر اس حدیث میں غبطہ کی اجازت صرف انہیں دو چیزوں میں منحصر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی نعمت ان دو نعمتوں سے بڑھ کر نہیں ہے کہ جس کے حاصل ہونے کی خواہش کی جائے چناچہ اسی لئے مظہر فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت حاصل ہوجانے کی آرزو و خواہش کرے۔ ہاں اگر وہ نعمت ایسی ہو کہ قرب الٰہی کا ذریعہ بنتی ہو جیسے تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور ان کے علاوہ دوسری نیکیاں و بھلائیاں تو ایسی نعمت کے حصول کی خواہش و آرزو پسندیدہ ہوگی۔ قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی چناچہ اس کو قرآن اس طرح یاد ہو جیسا کہ ہوناچا ہئے اس طرح قرآن میں مشغول رہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتا ہو، اس کے مفہوم و معنی کو یاد کرتا ہو اس کے علم و احکام میں غور و فکر کرتا ہو، یا پھر یہ کہ اس کے امر و نواہی پر عمل کرتا ہو یا اس کو نماز میں پڑھتا ہو۔

2124Mishkaat-al-Masabih

قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کی مثال

وعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلوومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر . متفق عليه . وفي رواية : المؤمن الذي يقرأ القرآن ويعمل به كالأترجة والمؤمن الذي لا يقرأ القرآن ويعمل به كالتمرة

حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا ہے اس کی مثال سنگترے کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی بہت لطیف اور اس کا مزہ بھی بہت اچھا اور وہ مسلمان جو قرآن کریم نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھول کی سی ہے جس میں نہ خوشبو ہے اور اس کا مزہ نہایت نلخ ہے۔ (بخاری ومسلم) ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا بھی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے تو اس کی مثال سنگترے کی سی ہے اور مسلمان جو قرآن پڑھتا تو نہیں مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے۔ تشریح قرآن کریم پڑھنے والا مسلمان سنگترے کی مانند یوں ہوا کہ وہ خوش مزہ اور لطیف تو اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایمان کی چاشنی جاگزیں ہوتی ہے اور خوشبو صفت اس لئے ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگ اس کی قرأت و تلاوت سن کر ثواب پاتے ہیں بلکہ اس سے قرآن سیکھتے بھی ہیں۔

2125Mishkaat-al-Masabih

قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کے درجہ کی بلندی اور پستی

وعن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين . رواه مسلم

حضرت عمر بن حطاب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعہ کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔

2126Mishkaat-al-Masabih

قرآن سننے کے لئے فرشتوں کا اشتتیاق واژدحام

وعن أبي سعيد الخدري أن أسيد بن حضير قال : بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوطة عنده إذ جالت الفرس فسكت فسكتت فقرأ فجالت الفرس فسكت فسكتت الفرس ثم قرأ فجالت الفرس فانصرف وكان ابنه يحيى قريبا منها فأشفق أن تصيبه فلما آخره رفع رأسه إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فلما أصبح حدث النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اقرأ يا ابن حضير اقرأ يا ابن حضير . قال فأشفقت يا رسول الله أن تطأ يحيى وكان منها قريبا فرفعت رأسي فانصرفت إليه ورفعت رأسي إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فخرجت حتى لا أراها قال : وتدري ما ذاك ؟ قال لا قال : تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لأصبحت ينظر الناس إليها لا تتوارى منهم . متفق عليه . واللفظ للبخاري وفي مسلم : عرجت في الجو بدل : خرجت على صيغة المتكلم

حضرت ابوسعید خدری ؓ حضرت اسید بن حضیر ؓ کے بارے میں روایت کرتے تھے کہ ایک دن جب کہ وہ (یعنی اسید) رات میں سورت بقرہ پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا جو ان کے قریب ہی بندھا تھا اچانک اچھلنے کودنے لگا چناچہ انہوں نے پڑھنا بند کردیا (تاکہ دیکھیں کیوں اچھل کود رہا ہے) گھوڑنے بھی اچھل کود بند کردی۔ (اسید نے یہ سوچ کر کہ یونہی اچھل کود رہا ہوگا) پھر پڑھنا شروع کردیا گھوڑا بھی پھر اچھلنے کودنے لگا وہ پھر رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر جب انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑے نے اچھل کود شروع کی (اب انہیں احساس ہوا کہ گھوڑے کی اچھل کود یوں ہی نہیں ہے بلکہ اس کی خاص وجہ ہے) چناچہ انہوں نے پڑھنا موقوف کردیا (اتفاق سے) ان کا بچہ جس کا نام یحییٰ تھا گھوڑے کے قریب ہی تھا انہیں خوف ہوا کہ کہیں گھوڑا (اس اچھل کود میں) اس بچہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچا دے اس لئے وہ اٹھ کر گھوڑے کے پاس گئے تاکہ بچہ کو وہاں سے ہٹا دیں جب انہوں نے بچہ کو وہاں سے ہٹایا اور ان کی نظر آسمان کی طرف اٹھی تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ بادل کی مانند کوئی چیز ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اسید نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن حضیر تم پڑھتے رہتے۔ اسید نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں گھوڑا یحییٰ کو کچل نہ ڈالے کیونکہ یحییٰ گھوڑے کے قریب ہی تھا چناچہ جب میں یحییٰ کی طرف پھرا اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز بادل کی مانند ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں پھر میں تحقیق حال کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلا مگر وہ چراغاں مجھے پھر نظر نہیں آیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جانتے ہو وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت کی آواز سننے کے لئے قریب آگئے تھے اگر تم اسی طرح پڑھتے رہتے تو اسی طرح صبح ہوجاتی اور لوگ فرشتوں کو دیکھتے اور وہ فرشتے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوتے۔ اس روایت کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے مگر الفاظ بخاری کے ہیں۔ مسلم کی روایت میں فخرجت کے بجائے عرجت فی الجو (یعنی وہ چیز جو زمین و آسمان کے درمیان ہوا میں چڑھ گئی) کے الفاظ ہیں۔ تشریح گھوڑے کی اچھل کود کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت اسید قرآن کریم پڑھ رہے تھے تو قرأت سننے کے لئے فرشتے نیچے آئے تھے اور ان کو دیکھ کر گھوڑا بدکتا اور اچھلتا کودتا تھا اسی وجہ سے جب حضرت اسید تلاوت بند کردیتے تھے اور فرشتے اوپر چلے جاتے تھے تو گھوڑا بھی اچھل کود سے رک جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اقرأ یا ابن حضیر (ابن حضیر تم پڑھتے رہتے) میں لفظ اقرأ کے معنی ابن حجر نے یہ لکھے ہیں کہ اس سورت کو ہمیشہ پڑھتے رہو جو ایسی عجیب و غریب حالت کے پیش آنے کا سبب ہے اگر آئندہ بھی کبھی اس سورت کو پڑھنے کے دوران ایسی صورت پیش آئے تو چھوڑنا مت بلکہ پڑھتے رہنا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس لفط کا مقصد زمانہ ماضی میں طلب زیادتی ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مقصد گویا یہ تھا کہ تم نے اس وقت پڑھنا کیوں چھوڑ دیا بلکہ پڑھنے میں اور زیادتی کیوں نہ کی تمہیں چاہئے تھا کہ تم اس صورت میں زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہتے! آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے جواب میں حضرت اسید ؓ نے جو کچھ کہا (یعنی یا رسول اللہ میں اس بات سے ڈرا الخ) اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے چناچہ یہاں ترجمہ علامہ طیبی کی وضاحت کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ بادل کی مانند کوئی چیز ہے، وجہ تشبیہ ہے کہ ملائکہ قرآن سننے کے لئے اتنا اژدحام کرتے ہیں کہ کوئی اگر انہیں دیکھے تو ایسا محسوس ہو کہ پردہ کی مانند کوئی چیز ہے جو دیکھنے والے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے حضرت اسید ؓ نے اسی چیز کو باد سے تعبیر کیا اور اس میں جو چراغ سے جل رہے تھے وہ دراصل ان فرشتوں کے منہ تھے جو چراغ کی مانند روشن ومنور تھے۔

2127Mishkaat-al-Masabih

تلاوت قران، رحمت کے نزول کا باعث

وعن البراء بن عازب قال : كان رجل يقرأ سورة الكهف وإلى جانبه حصان مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدنو وتدنو وجعل فرسه ينفر فلما أصبح أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : تلك السكينة تنزلت بالقرآن

حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا اس کے قریب ہی اس کا گھوڑا دو رسوں سے بندھا تھا کہ اسے ایک ابر کے ٹکڑے نے ڈھان لیا وہ قریب سے قریب ہونے لگا یہاں تک کہ گھوڑے نے اچھل کود شروع کی جب صبح ہوئی تو وہ شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے پورا ماجرا کہہ سنایا آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ سکینہ تھی جو قرآن پڑھے جانے کی وجہ سے اتری تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح سکینہ کہتے ہیں خاطر جمعی تسکین قلب اور رحمت کو جس کے سبب دل پاکیزہ اور نورانی ہوتا ہے، نفس کی ظلمت ختم ہوجاتی ہے اور حضور ذوق پیدا ہوتا ہے سکینہ اگرچہ غیر مشاہد چیز ہے مگر کبھی کبھی ابر وغیرہ کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

2128Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ کی اہمیت وفضیلت

وعن أبي سعيد بن المعلى قال : كنت أصلي في المسجد فدعاني النبي صلى الله عليه و سلم فلم أجبه حتى صليت ثم أتيته . فقلت يا رسول الله إني كنت أصلي فقال ألم يقل الله ( استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم ) ثم قال لي : ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد . فأخذ بيدي فلما أراد أن يخرج قلت له ألم تقل لأعلمنك سورة هي أعظم سورة من القرآن قال : ( الحمد لله رب العالمين ) هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته . رواه البخاري

حضرت سعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا، اس وقت میں نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر (نماز سے فارغ ہو کر) جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ (اس وقت) میں نماز پڑھ رہا تھا (اس لئے میں نے آپ کا جواب نہیں دیا تھا) آپ نے فرمایا کہ (کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اللہ اور رسول کا جواب دو جب کہ رسول اللہ تمہیں بلائے اور ان کے حکم کی اطاعت کرو؟ پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا قبل اس کے ہم اس مسجد سے نکلیں کیا میں تمہیں قرآن کی ایک بہت بڑی یعنی افضل سورت نہ سکھلاؤں؟ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور جب ہم مسجد سے نکلنے کو ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ کیا میں تمہیں قرآن کی ایک بہت بڑی سورت نہ سکھلاؤں؟ آپ نے فرمایا وہ سورت الحمد للہ رب العالمین ہے وہ سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا ہے۔ تشریح ارشاد گرامی استجیبوا (جواب دو ) سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو نماز کی حالت میں جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی تھی جیسا کہ نماز میں آپ ﷺ کو خطاب کرنے سے نماز فاسد نہ ہوئی۔ سورت فاتحہ کو ایک بہت بڑی سورت اس لئے فرمایا کہ وہ اللہ رب العزت کے نزدیک بڑی قدر رکھتی ہے اور الفاظ کے اختصار کے باوجود اس کے فوائد و معانی بہت زیادہ ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سورت فاتحہ کے صرف ایک جزء کے تحت دین و دنیا کے تمام مقاصد آجاتے ہیں بلکہ بعض عارفین نے تو یہ کہا ہے کہ جو کچھ سابق آسمانی کتابوں میں ہے وہ سب قرآن مجید میں ہے اور جو کچھ قرآن مجید میں ہے وہ سب سورت فاتحہ میں ہے اور جو کچھ سورت فاتحہ میں ہے وہ سب بسم اللہ میں ہے۔ وہ سات آیتیں ہیں۔ جن سے دراصل قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ ) 15۔ الحجر 87) یعنی اے محمد! ہم نے آپ کو وہ سات آیتیں عطا کی ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں یا یہ کہ ان سات آیتوں کی ثنا عطا کی گئی ہے ساتھ فصاحت اور اعجاز کے اور ان سات آیتوں سے مراد سورت فاتحہ ہے) اور دیا ہے ہم نے آپ کو قرآن عظیم۔ یہاں قرآن عظیم سے بھی سورت فاتحہ مراد ہے کیونکہ سورت فاتحہ باعتبار معانی و فوائد کے قرآن کا جزو اعظم ہے اس لئے مبالغۃ فرمایا کہ یہ قرآن عظیم ہے۔

2129Mishkaat-al-Masabih

سورت بقرہ کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجعلوا بيوتكم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ (یاد رکھو) شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ (مسلم) تشریح مقبرے نہ بناؤ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مقبرے ذکر اللہ عبادت اور تلاوت قرآن سے خالی ہوتے ہیں اس طرح اپنے گھروں کو ان چیزوں سے خالی نہ رکھو کہ ان میں مردوں کی مانند پڑے رہو اور ذکر اللہ وغیرہ نہ کرو بلکہ اپنے گھروں میں نماز بھی پڑھو اور ذکر اللہ میں بھی مشغول رہو اور تلاوت قرآن بھی کرتے رہو، چناچہ آپ ﷺ نے اس چیز کی طرف بھی راہنمائی فرمائی جو ذکر و شغل میں افضل اور گھر و گھر والوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ وہ تلاوت قرآن کریم ہے۔ فرمایا شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ تلاوت قرآن کریم خصوصا سورت بقرہ کی تلاوت نہ صرف یہ کہ گھر میں رحمت و برکت کے دروازے کھلنے کا باعث ہے بلکہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایسا گھر شیطان کی نحوست اور اس کے مکر و فریب کے سایہ سے محفوظ رہتا ہے ویسے تو عمومی طور پر تلاوت قرآن کریم باعث رحمت و برکت ہے، مگر اس موقع پر سورت بقرہ کو بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ اس سورت میں اللہ رب العزت کے اسماء اور احکام بہت مذکور ہیں۔

2130Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن قرآن کریم کی سفارش

عن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اقرءوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه اقرءوا الزهراوين البقرة وسورة آل عمران فإنهما تأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو كأنهما غيايتان أو فرقان من طير صواف تحاجان عن أصحابهما اقرءوا سورة البقرة فإن أخذها بركة وتركها حسرة ولا تستطيعها البطلة . رواه مسلم

حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کریم پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا اور (خاص طور پر) جگمگاتی ہوئی دو سورتیں کہ وہ سورت بقرہ اور سورت آل عمران ہیں پڑھو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح ظاہر ہوں گی گویا کہ وہ ابر کی دو ٹکڑیاں ہیں یا دو سایہ کرنے والی چیزیں ہیں یا پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو ٹکڑیاں ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں گے اور سورت بقرہ پڑھو کیونکہ اس کے پڑھنے پر مداومت اس کے مفہوم و معانی میں غور و فکر اور اس کے حکم پر عمل کرنا برکت (نفع عظیم ہے اور اس کو ترک کرنا قیامت کے دن حسرت یعنی ندامت کا باعث ہوگا اور یاد رکھو کہ سورت بقرہ کے طویل ہونے کی وجہ سے اس کے پڑھنے کی طاقت وہی لوگ نہیں رکھتے جو اہل باطل اور کسلمند ہوتے ہیں۔ (مسلم) تشریح قرآن کریم پڑھا کرو، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے مفہوم و معانی میں غور و فکر کرنے کو نعمت اور اپنے حق میں باعث سعادت جانو اور اس کے پڑھنے پر مداومت اختیار کرو۔ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کو جگمگاتی ہوئی سورتیں فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں سورتیں نور و ہدایت اور ثواب کی زیادتی کی وجہ سے روشن ہیں گویا اللہ رب العزت کے نزدیک ان دونوں سورتوں میں اور بقیہ تمام سورتوں میں چاند اور ستاروں کی نسبت ہے کہ یہ سورتیں تو بمنزلہ چاند کے ہیں بنسبت تمام سورتوں کے وہ بمنزلہ تمام ستاروں کے ہیں۔ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں ان سورتوں کی برکات کو متشکل طور پر ظاہر ہونے کو تین صورتوں میں بیان کیا گیا ہے پہلی صورت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سورتیں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے گویا ابر کی دو ٹکڑیاں ہوں گی۔ جو میدان حشر میں کھڑے ہوئے ان پر آفتاب کی تمازت اور گرمی سے بچاؤ کے سایہ کریں گی، دوسری صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ یا وہ سایہ کرنے والی دو چیزیں ہوں گی یعنی خواہ وہ ابر کی صورت میں ہوں یا کسی اور شکل میں مفہوم اس کا بھی یہی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں پر سایہ فگن ہوں گے فرق صرف اتنا ہے کہ اس صورت میں ان سایہ دار چیزوں کا دل پہلی صورت کی بہ نسبت کم ہوگا اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے سر سے بالکل قریب ہوں گی جیسا کہ امراء و سلاطین کے سروں پر چھتری وغیر کا سایہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح اس صورت میں ان کے سروں پر سایہ بھی ہوگا اور روشنی بھی ہوگی۔ تیسری صورت یہ بتائی گئی ہے کہ یا وہ پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو ٹکڑیاں ہوگی جن کا سایہ بھی ہوگا اور جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے اس بات کی وکالت و سفارش کریں گی کہ انہیں آخرت کی تمام ابدی سعادتوں سے نوازا جائے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ کان ہما غمامتان او غیایتان او فرقان من مطیر صواف میں حرف او تنویع (اظہار اقسام) کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تین صورتیں بیک وقت ہوں گی جن کا تعلق اپنے پڑھنے والوں کے حال کی مناسبت سے ہوگا لہٰذا اول یعنی ابر کی صورت کا تعلق اس شخص سے ہوگا جس نے یہ سورتیں پڑھیں مگر ان کے مفہوم و معانی کو نہ سمجھا دوم یعنی سایہ کی چیز کا تعلق اس شخص سے ہوگا جس نے ان سورتوں کو پڑھا بھی اور ان کے معنی بھی سمجھے اور دوسروں کو ان سورتوں کی تعلیم بھی دی۔

2131Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن قرآن کریم کی سفارش

وعن النواس بن سمعان قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : يؤتى بالقرآن يوم القيامة وأهله الذين كانوا يعملون به تقدمه سورة البقرة وآل عمران كأنهما غمامتان أو ظلتان سوداوان بينهما شرق أو كأنهما فرقان من طير صواف تحاجان عن صاحبهما . رواه مسلم

حضرت نو اس بن سمعان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لایا جائے گا قرآن کو اور ان لوگوں کو جو قرآن پڑھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے سارے قرآن کے آگے دو سورتیں سورت بقرہ اور سوہ آل عمران ہوں گی، اس طرح گویا کہ وہ ابر کے دو ٹکڑے ہیں یا ابر کے دو سیاہ ٹکڑے ہیں اور ان میں ایک چمک ہے یا گویا دو ٹکڑیاں صف بستہ پرندوں کی ہیں جو پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں گی (یعنی اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی) (مسلم) تشریح یوتی بالقرآن (لایا جائے گا قرآن کو) کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن یا تو قرآن ہی کو صورت و شکل دے کر میدان حشر میں لایا جائے گا یا اس کا ثواب لایا جائے گا۔ کانوا یعملون بہ (اور اس پر عمل کرتے تھے) سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو شخص قرآن تو پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ اہل قرآن میں سے نہیں ہے اور نہ ہی قرآن کریم ایسے شخص کی شفاعت و سفارش کرے گا بلکہ ایسے شخص کے حق میں قرآن خسران کا باعث ہوگا۔ تقدمہ الخ، کا مطلب یہ ہے کہ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کا ثواب سارے قرآن کے ثواب کے آگے ہوگا بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میدان حشر میں سارے قرآن کو ظاہر صورت شکل دی جائے گی جسے تمام لوگ دیکھیں گے جیسا کہ میدان میں تولنے کے لئے اور تمام اعمال کو صورت دی جائے گی۔ ظلتان سوداوان (ابر کے دو سیاہ ٹکڑے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ دل دار اور تہ بتہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹکڑے سیاہ ہوں گے ایسے ابر کا سایہ بہت فرحت بخش اور باعث سکون ہوتا ہے۔ بینہما شرق (اور ان میں ایک چمک ہے) سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگرچہ ابر کے وہ ٹکڑے بہت زیادہ دلدار ہوں گے مگر اس کے باوجود وہ روشنی سے مانع نہیں ہوں گے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں شرق کے معنی ہیں درز (یعنی دراڑ) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کے درمیان جو ابر کی دو ٹکڑیوں کی صورت میں ہوں گی بسملہ کے ذریعہ فرقہ ہوگا تاکہ دونوں سورتوں میں امتیاز رہے۔

2132Mishkaat-al-Masabih

آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے

وعن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت الله ورسوله أعلم قال : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) قال فضرب في صدري وقال : والله ليهنك العلم أبا المنذر . رواه مسلم

حضرت ابی ابن کعب ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے) کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی سب سے زیادہ جاننے والے ہیں (کہ وہ کون سی آیت ہے) آنحضرت ﷺ نے پھر پوچھا کہ ابوالمنذر تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2۔ البقرۃ 255) (یعنی پوری آیت الکرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا کہ ابوالمنذر اللہ کرے تمہارا علم خوشگوار ہو۔ (مسلم) تشریح جب پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب ؓ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کردیا پھر جب دوسری مرتبہ آپ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے پہلی مرتبہ تو از راہ ادب جواب نہیں دیا دوسری مرتبہ جب آپ نے پھر پوچھا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سوال کے پیش نظر جواب دیا گویا اس طرح انہوں نے بڑے لطیف انداز میں ادب اور فرمانبرداری دونوں کو جمع کردیا۔ جیسا کہ اہل کمال کا طریقہ ہے مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب ؓ کو جواب کا علم نہیں تھا مگر دوسری مرتبہ جب آپ ﷺ نے پھر سوال کا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا اس کے سوال کی مدد سے تفویض کی برکت اور حسن ادب کے سبب سوال کا جواب ان پر منکشف کردیا گیا چناچہ انہوں نے جواب دیا۔ ا یت الکرسی کو سب سے عظیم اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تو حید، تعظیم الہیٰ، اسماء حسنٰی اور صفات باری تعالیٰ جیسے عظیم و عالی مضامین کا بیان ہے۔

2133Mishkaat-al-Masabih

آیۃ الکرسی کو سب سے عظی اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تو حید، تعظیم الٰہی، اسماء حسنی اور صفات باری تعالیٰ جیسے عظیم وعالی شان مضامین کا بیان ہے۔

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : وكلني رسول الله صلى الله عليه و سلم بحفظ زكاة رمضان فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام فأخذته وقلت والله لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إني محتاج وعلي عيال ولي حاجة شديدة قال فخليت عنه فأصبحت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أبا هريرة ما فعل أسيرك البارحة . قال قلت يا رسول الله شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته فخليت سبيله قال : أما إنه قد كذبك وسيعود . فعرفت أنه سيعود لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه سيعود . فرصدته فجاء يحثو من الطعام فأخذته فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال دعني فإني محتاج وعلي عيال لا أعود فرحمته فخليت سبيله فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا هريرة ما فعل أسيرك ؟ قلت يا رسول الله شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته فخليت سبيله قال : أما إنه قد كذبك وسيعود . فرصدته الثالثة فجاء يحثو من الطعام فأخذته فقلت لأرفعنك إلى رسول الله وهذا آخر ثلاث مرات أنك تزعم لا تعود ثم تعود قال دعني أعلمك كلمات ينفعك الله بها قلت ما هو قال إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) حتى تختم الآية فإنك لن يزال عليك من الله حافظ ولا يقربنك شيطان حتى تصبح فخليت سبيله فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما فعل أسيرك ؟ قلت : زعم أنه يعلمني كلمات ينفعني الله بها فخليت سبيلهقال النبي صلى الله عليه و سلم : أما إنه قد صدقك وهو كذوب تعلم من تخاطب منذ ثلاث ليال . يا أبا هريرة قال لا قال : ذاك شيطان . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے رمضان کی زکوٰۃ (یعنی صدقہ عید الفطر) کی نگہبانی اور جمع کرنے پر مجھے مامور فرمایا تاکہ جمع ہونے کے بعد آپ اسے فقراء میں تقسیم فرما دیں چناچہ اس دوران میں ایک شخص میرے پاس آیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے دامن اور اپنے برتن میں غلہ بھرنا شروع کردیا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول کریم ﷺ کے پاس لے چلوں گا اور تجھے اس غلط حرکت کی سزا دلواؤں گا اس نے کہا کہ میں ایک محتاج ہوں میرے اوپر میرے اہل و عیال کا نفقہ ہے اور میں سخت حاجتمند ہوں یعنی میرے ذمہ قرض وغیرہ بھی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کی یہ خستہ حالت سن کر اسے چھوڑ دیا، جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے کہ ابوہریرہ ؓ تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا ہوا؟ (اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس واقعہ کی خبر دے دی تھی) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ مجھ سے اپنی سخت حاجت اور عیال داری کا رونا رونے لگا اس لئے مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خبردار رہنا! اس نے اپنے حالات کے اظہار میں تم سے جھوٹ بولا ہے وہ پھر آئے گا اس لئے آئندہ احتیاط رکھنا میں سمجھ گیا کہ ضرور آئے گا چناچہ میں اس کا منتظر رہا وہ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ بھرنا شروع کردیا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب تو میں تجھے رسول کریم ﷺ کے پاس لے جاؤں گا اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دیجئے میں ضرورت مند ہوں میرے اوپر کنبہ کا نفقہ ہے اب آئندہ میں نہیں آؤں گا مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور اس مرتبہ میں نے یہ سلوک اس لئے کیا کہ اس نے آئندہ نہ آنے کا وعدہ کیا تھا ورنہ تو اپنی حاجت و ضرورت کے بارے میں اس کا جھوٹ مخبر صادق یعنی آنحضرت ﷺ کی زبانی معلوم ہو ہی چکا تھا۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ نے مجھ سے پھر فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ میرے سامنے اپنی شدید ضرورت و حاجت اور عیالداری کا دکھڑا رونے لگا، اس لئے مجھے اس پر رحم آگیا اور میں نے اس کے اس وعدہ پر کہ آئندہ پھر کبھی نہیں آؤں گا اس کو چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہوشیار رہنا! اس نے اس مرتبہ بھی جھوٹ بولا ہے کہ میں آئندہ نہیں آؤں گا وہ پھر آئے گا چناچہ میں اس کا منتظر رہا اور وہ پھر آیا جب اس نے غلہ بھرنا شروع کیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں آج تو تجھے ضرور ہی رسول کریم ﷺ کے پاس لے جاؤں گا یہ آخری تیسرا موقع ہے تو نے تو کہا تھا آئندہ نہیں آؤں گا اسی لئے میں نے تجھے اس مرتبہ چھوڑ دیا تھا مگر تو پھر آگیا۔ اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے نفع پہنچائے گا (اور وہ یہ کہ) جب تم (سونے کے لئے) اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی کی آخری آیت (یعنی وہوم العلی العظیم) 2۔ البقرۃ 255) پڑھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے ساتھ ہمیشہ ایک نگہبان فرشتہ رہا کرے گا اور صبح تک تمہارے پاس کوئی شیطان خواہ وہ انسان میں سے ہو یا جنات میں سے دنیوی تکلیف و اذیت پہنچانے کے لئے نہیں آئے گا، میں نے یہ سن کر اسے اس مرتبہ بھی چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے مجھ سے پھر فرمایا کہ تمہارے قیدی کا کیا ہوا، میں نے عرض کیا کہ قیدی نے (جب) مجھ سے یہ کہا کہ وہ مجھے کچھ کلمات سکھائے گا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے گا (تو میں نے اس مرتبہ بھی اس کو چھوڑ دیا) آپ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو (اگرچہ) اس نے تم سے (ان کلمان کے بارہ میں) سچ کہا ہے (مگر) وہ (دوسری باتوں میں) جھوٹا ہے اور تم جانتے ہو کہ تم ان تین راتوں میں کس سے مخاطب تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا وہ شیطان تھا (جو اس طرح مکر و فریب سے صدقات کے مال میں کمی کرنے آیا تھا)۔ (بخاری)

2134Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : بينما جبريل قاعد عند النبي صلى الله عليه و سلم سمع نقيضا من فوقه فرفع رأسه فقال : هذا باب من السماء فتح اليوم لم يفتح قط إلا اليوم فنزل منه ملك فقال هذا ملك نزل إلى الأرض لم ينزل قط إلا اليوم فسلم وقال أبشر بنورين أوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة لن تقرأ بحرف منهما إلا أعطيته . رواه مسلم

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے (یعنی جبرائیل نے) اوپر کی طرف دروازہ کھلنے کی سی آواز سنی چناچہ انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھا لیا اور کہا کہ یہ اسمان کا درواز کھولا گیا آج کے علاوہ اور کبھی یہ نہیں کھولا گیا۔ جب ہی اس دروازے سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ہے۔ پھر اس فرشتے نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا اور کہا کہ خوشخبری ہو کہ آپ کو وہ دو نور عطا فرمائے گئے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے اور کسی نبی کو نہیں دئیے گئے اور وہ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کا آخری حصہ ہیں ان میں سے آپ کی طرف پڑھے گئے ایک ایک حرف کے عوض آپ کو ثواب ملے گا یا آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔ (مسلم) تشریح فنزل منہ اس دروازہ سے ایک فرشہ اترا۔ یہ راوی کے الفاظ ہیں نہ کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے اس طرح سنا۔ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کے آخری حصہ کو دو نور سے تعبیر کیا گیا ہے اور ان کو نور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورت اور آیتیں قیامت کے دن روشنی کی شکل میں ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کے آگے چلیں گی۔ سورت بقرہ کا آخری حصہ سے کہاں سے کہاں تک کی آیتیں مراد ہیں تو اس سلسلہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آیت (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2۔ البقرۃ 284) سے آخر سورت تک۔ سورت بقرہ کا آخری حصہ مراد ہے چناچہ حضرت کعب ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ ایک ایک حرف میں حرف سے مراد کلمہ (آیت یا آیت کا ٹکڑا) ہے۔ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں میں دو قسم کے کلمات ہیں ایک قسم تو وہ جو دعا پر مشتمل ہیں جیسے آیت (اہدنا الصراط المستقیم) یا غفرانک ربنا اور دوسری قسم وہ ہے جو فقط حمد ثناء پر مشتمل ہے لہٰذا جب وہ کلمہ یعنی آیت یا آیت کا ٹکڑا پڑھا جائے گا جو دعائیہ ہے تو پڑھنے والے کو وہ چیز ضرور عطا کی جائے گی جو اس کلمہ میں مذکور ہے اسی طرح جب وہ کلمہ پڑھا جائے گا جو حمد وثناء پر مشتم ہے تو اس کو وہی ثواب دیا جائے گا جو قرآن کے حرفوں پر ملتا ہے۔

2135Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت

وعن أبي مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأ بهما في ليلة كفتاه

حضرت ابومسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں یعنی (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّه وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰ ى ِكَتِه وَكُتُبِه وَرُسُلِه لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِه وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَه عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْ صُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ٢٨٦) 2۔ البقرۃ 285۔ 286) سے آخر تک پڑھتا ہے تو اس کے لئے وہ کافی ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح کافی ہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات میں ان آیتوں کے پڑھنے کی وجہ سے انسان و جنات کے شرارت و ایذاء سے محفوظ رہتا ہے گویا یہ آیتیں اس کے لئے دافع شر و بلا ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ یہ دو آیتیں اس کے حق میں قیام لیل و عبادت و ذکر کے لئے شب بیدار کا قائم مقام بن جاتی ہیں۔

2136Mishkaat-al-Masabih

سورت کہف کی پہلی دس آیتوں کو یاد کرلینے کا اثر

وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال . رواه مسلم

حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی پہلی دو آیتیں یاد کرے تو وہ دجال کے شر سے بچایا جائے گا۔ (مسلم) تشریح دجال سے مراد یا تو وہ دجال ہے جو آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیدا ہوگا اور لوگوں کو اپنے مکر و فریب میں پھانسے گا یا پھر ہر وہ جھوٹا اور فریبی مراد ہے جو اپنے جھوٹ و فریب سے لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ ترمذی کی روایت میں جو آگے دوسری فصل میں آئے گی یہ منقول ہے کہ جس شخص نے سورت کہف کی اول تین آیتیں پڑھیں تو وہ فتنہ دجال سے بچایا جائے گا اگر وہ اس سے ملے گا اور جو شخص تین آیتیں پڑھے گا تو وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا اگر وہ اس سے نہیں ملے گا۔ حاصل یہ کہ دجال کا فتنہ اس کی ملاقات کی صورت میں زیادہ سخت ہوگا بہ نسبت اس فتنہ کے جو عدم ملاقات کی صورت میں ہوگا لہٰذا جو شخص دس آیتیں یاد کرے گا تو وہ فنتہ ملاقات سے محفوظ ہوگا جو شخص تین آیتیں پڑھے گا تو وہ اس فتنہ سے محفوظ رہے گا جس میں لوگ دجال سے ملے بغیر گرفتار ہوں گے۔

2137Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجز أحدكم أن يقرأ في ليلة ثلث القرآن ؟ قالوا : وكيف يقرأ ثلث القرآن ؟ قال : قل هو الله أحد يعدل ثلث القرآن . رواه مسلم

حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ تہائی قرآن کیسے پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا آیت (قل ھو اللہ احد) تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (جس شخص نے رات میں یہ سورت پڑھ لی گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا) (مسلم) امام بخاری نے اس روایت کو ابوسعید ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح قرآن کریم میں بنیادی طور پر تین قسم کے مضمون مذکور ہیں (١) قصص۔ (٢) احکام (٣) تو حید، چونکہ سورت آیت (قل ھو اللہ احد) میں باری تعالیٰ کی توحید نہایت اونچے اور بلیغ انداز میں بیان ہے یا یوں کہئے کہ پورے قرآن مجید میں توحید کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سورت آیت (قل ھو اللہ احد) اس کا خلاصہ اور حاصل ہے اس لئے سورت قل ہو اللہ پڑھنا تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ آیت (قل ہو اللہ احد) کا ثواب تہائی قرآن کے اصل ثواب کے بقدر مضاعف کیا جاتا ہے (یعنی بڑھایا جاتا ہے) اس طرح ان دونوں اقوال میں ایک لطیف فرق پیدا ہوگیا ہے پہلے قول اور پہلی وضاحت کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص سورت قل ھو اللہ تین مرتبہ پڑھے تو یہ لازم نہیں آتا کہ اسے پورے قرآن کا ثواب ملے جب کہ دوسرے قول کے مطابق قل ہو اللہ تین مرتبہ پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا اصل ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔

2138Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث رجلا على سرية وكان يقرأ لأصحابه في صلاتهم فيختم ب ( قل هو الله أحد ) فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : سلوه لأي شيء يصنع ذلك فسألوه فقال لأنها صفة الرحمن وأنا أحب أن أقرأ بها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أخبروه أن الله يحبه

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو امیر بنا کر ایک لشکر کے ساتھ بھیجا وہ شخص نماز میں اپنے رفقاء کی امامت کرتا تھا اور (اس کا معمول تھا کہ اپنی قرأت) قل ہو اللہ پر ختم کرتا تھا جب وہ لشکر کے لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس کا تذکرہ آنحضرت ﷺ سے کیا آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس شخص سے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ اس لئے کرتا ہوں کہ اس سورت میں رحمن اللہ تعالیٰ کی صفت (وحدانیت) بیان کی گئی ہے اور میں اسے پسند کرتا ہوں کہ (اللہ کی صفت وحدانیت کے اظہار کے پیش نظر) اس سورت کو ہمیشہ پڑھتا رہوں، نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس شخص کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے (کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو دوست رکھتا ہے) (بخاری ومسلم) تشریح قل ہو اللہ پر ختم کرتا تھا، کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر نماز کی آخری رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ قل ہو اللہ پڑھا کرتا تھا لیکن علامہ ابن حجر نے اس کی وضاحت یہ کی ہے کہ وہ شخص ہر رکعت میں سورت فاتحہ یا سورت فاتحہ اور دوسری سورت کے بعد قل ہو اللہ پڑھتا تھا، اس سلسلہ میں پہلی وضاحت ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں تمام علماء کے نزدیک نماز بلا کراہت ادا ہوجاتی ہے۔

2139Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن أنس قال : إن رجلا قال : يا رسول الله إني أحب هذه السورة : ( قل هو الله أحد ) قال : إن حبك إياها أدخلك الجنة . رواه الترمذي وروى البخاري معناه

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ہے کہ یا رسول اللہ! میں اس سورت یعنی قل ہو اللہ کو دوست رکھتا ہوں (یعنی اسے اکثر پڑھتا رہتا ہوں) آپ ﷺ فرمایا کہ اس سورت سے تمہاری دوستی تمہیں جنت میں داخل کرے گی۔ (ترمذی) امام بخاری نے اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے۔

2140Mishkaat-al-Masabih

معوذتین کی فضیلت

وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط ( قل أعوذ برب الفلق ) و ( قل أعوذ برب الناس ) رواه مسلم

حضرت عقبہ بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج کی رات ایسی عجیب آیتیں اتاری گئی ہیں کہ (پناہ طلب کرنے کے سلسلہ میں) ان کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہیں۔ (مسلم)