Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 81 of 87

1601Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَی دَوَابٍّ فَنَزَلُوا عِنْدَهُ قَالَ حُمَيْدٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اذْهَبْ إِلَی أُمِّي فَقُلْ إِنَّ ابْنَکِ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا قَالَ فَوَضَعَتْ ثَلَاثَةَ أَقْرَاصٍ فِي صَحْفَةٍ وَشَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَمِلْحٍ ثُمَّ وَضَعَتْهَا عَلَی رَأْسِي وَحَمَلْتُهَا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا وَضَعْتُهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ کَبَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا مِنْ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَکُنْ طَعَامُنَا إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ الْمَائَ وَالتَّمْرَ فَلَمْ يُصِبْ الْقَوْمُ مِنْ الطَّعَامِ شَيْئًا فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْسِنْ إِلَی غَنَمِکَ وَامْسَحْ الرُّعَامَ عَنْهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي نَاحِيَتِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ تَکُونُ الثُّلَّةُ مِنْ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَی صَاحِبِهَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ

حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے حمید نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ حمید نے کہا انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا اور میرے سر پر لادھ دیا، میں ابوہریرہ ؓ کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ابوہریرہ ؓ نے دیکھ کر کہا اللہ اکبر اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا جب وہ چلے گئے تو ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا اے بیٹے میرے بھائی کے اچھی طرح رکھ بکریوں کو اور پونچھتا رہ ناک ان کی اور صاف کر جگہ ان کی اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں قسم اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Amr ibn Halhala that Humayd ibn Malik ibn Khuhaym said, "I was sitting with Abu Hurayra on his land at al-Aqiq. Some people rode out from Madina to call upon Abu Hurayra. He told me to go to his mother, sending his greetings and asking her to prepare some food." Humayd continued, "She set down three loaves on a plate and some oil and salt. Then she put it on my head and I carried it to them. When I set it before them, Abu Hurayra said, Allah is greater and added, Praise be to Allah who has filled us with bread after our food had previously been only water and dates, as the people did not touch any of the food. When they left, he said, O son of my brother, be good to your sheep and wipe the mucus from them and clean their pen. Pray in their quarter for they are among the animals of the Garden. By He in Whose Hand my self is, a time is about to come upon people when a small group of sheep will be more beloved to their owner than the house of Marwan . "

1602Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِّ اللَّهَ وَکُلْ مِمَّا يَلِيکَ

ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا آیا اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر۔

Yahya related to me from Malik from Abu Nuaym that Wahb ibn Kaysan said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought food while his stepson Umar ibn Salama was with him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, Say "Bismillah," and eat what is in front of you. "

1603Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ إِنَّ لِي يَتِيمًا وَلَهُ إِبِلٌ أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا وَتَلُطُّ حَوْضَهَا وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ وَلَا نَاهِکٍ فِي الْحَلْبِ

یحییٰ بن سعید نے کہا میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہا میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے اس کے اونٹ ہیں کیا میں دودھ ان کا پیوں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اس کے گمے ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے تو دودھ ان کا پی مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے اور نسل کو ضرر پہنچے یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he had heard al-Qasim ibn Muhammad say that a man came to Abdullah ibn Abbas and said to him, "I have an orphan and he has camels. Can I drink from the camels milk?" Ibn Abbas (RA) said, "If you search for the lost camels of his and treat the camels mange and fill in the cracks in their water basin and give it water on the day it drinks, then drink it without doing harm to the suckling camels by milking them excessively."

1604Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ لَا يُؤْتَی أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ حَتَّی الدَّوَائُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ إِلَّا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُکَ بِکُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا وَأَمْسَيْنَا بِکُلِّ خَيْرٍ فَنَسْأَلُکَ تَمَامَهَا وَشُکْرَهَا لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا شَائَ اللَّهُ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father never brought food or drink, nor even a remedy which he ate or drank but that he said, "Praise be to Allah who has guided us and fed us and given us to drink and blessed us. Allah is greater. O Allah! We have found Your blessing with every evil, give us every good in the morning and evening. We ask You for its completion and its gratitude. There is no good except Your good. There is no god other than You, the God of the salihun and the Lord of the Worlds. Praise be to Allah. There is no god but Allah. What Allah wills. There is no power except in Allah. O Allah! Bless us in what You have provided us with and protect us from the punishment of the Fire!" Al-hamdu lillahi-lladhi hadana wa at amana wa saqana wa naamana. Allahu akbar. Allahummal fatna nimatik bi-kulli sharr. Fa asbahna minha wa amsayna bi-kulli khayr. Nasaluka tamamaha wa shukraha. La khayr illa khayruk. Wa la ilaha ghayruk. Ilaha-saliheen wa rabbal-alameen. Al-hamdu lillah. Wa la ilaha illallah. Ma shaAllah. Wa la quwwata illa billah. Allahumma barik lana fima razaqtana. Waqina adhaban-nar.

1605Mauwatta Imam Malik

گوشت کھانے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِيَّاکُمْ وَاللَّحْمَ فَإِنَّ لَهُ ضَرَاوَةً کَضَرَاوَةِ الْخَمْرِ

حضرت عمر ؓ نے کہا بچو تم گوشت سے کیونکہ گوشت کی طلب ہوجاتی ہے جیسے شراب پینے سے اس کی طلب ہوجاتی ہے۔

Yahya said that Malik was asked, "Can a woman eat with other than her relative or slave?" Malik said, "There is no harm in that if it is in a manner which is accepted for a woman to eat with men." Malik said, "A woman sometimes eats with her husband and with others he dines with or with her brother in the same way. It is disapproved of for a woman to be alone with a man when there is no relationship between them by blood, marriage or suckling that would prevent him marrying her."

1606Mauwatta Imam Malik

گوشت کھانے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَکَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَرِمْنَا إِلَی اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَقَالَ عُمَرُ أَمَا يُرِيدُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوْ ابْنِ عَمِّهِ أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْکُمْ هَذِهِ الْآيَةُ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِکُمْ فِي حَيَاتِکُمْ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر ؓ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر ؓ نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "Beware of meat. It has addictiveness like the addictiveness of wine." Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab saw Jabir ibn Abdullah carrying some meat. He said, "What is this?" He said, "Amir al-muminin. We desired meat and I bought some meat for a dirham." Umar said, "Does one of you want to fill his belly apart from his neighbour or nephew? How can you overlook this ayat? You squandered your good things in the life of this world and sought comfort in them. " (Sura 46 ayat 20).

1607Mauwatta Imam Malik

انگوٹھی پہننے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبَذَهُ وَقَالَ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا قَالَ فَنَبَذَ النَّاسُ بِخَوَاتِيمِهِمْ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to wear a gold ring. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up and threw it away and said, "I will never wear it." He said, "So the people threw away their rings."

1608Mauwatta Imam Malik

انگوٹھی پہننے کا بیان

عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ لُبْسِ الْخَاتَمِ فَقَالَ الْبَسْهُ وَأَخْبِرْ النَّاسَ أَنِّي أَفْتَيْتُکَ بِذَلِکَ

صدقہ بن یسار نے سعید بن مسیب سے پوچھا انگوٹھی پہننے کی بابت انہوں نے کہا پہن! اور لوگوں سے کہہ دے میں نے تجھے پہننے کو کہا ہے۔

Yahya related to me from Malik that Sadaqa ibn Yasar said, "I asked Said ibn al-Musayyab about wearing a ring. He said, Wear it, and tell people that I gave you that decision. "

1609Mauwatta Imam Malik

جانوروں کے گلے سے پٹے اور گھنٹے نکالنے کا بیان

عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَقِيلِهِمْ لَا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ

عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from Abbad ibn Tamim that Abu Bashir al-Ansari told him that he was with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on one of his journeys. He related, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a messenger." (Abdullah ibn Abi Bakr said, (I think that he said it was while the people were in their resting place.) He said, "Do not let a single-string necklace, or any necklace, remain unbroken on the neck of a camel." Yahya said, "I heard Malik say, I think that was because of the evil eye.

1610Mauwatta Imam Malik

جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً کَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ قَالَ وَکَانَ سَهْلٌ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَائَ قَالَ فَوُعِکَ سَهْلٌ مَکَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْکُهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلًا وُعِکَ وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي کَانَ مِنْ أَمْرِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ ﷺ، تو رسول اللہ ﷺ سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اس کے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔

Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abi Umama ibn Sahl ibn Hunayf heard his father say, "My father, Sahl ibn Hunayf did a ghusl at al-Kharrar. He removed the jubbah he had on while Amir ibn Rabia was watching, and Sahl was a man with beautiful white skin. Amir said to him, I have never seen anything like what I have seen today, not even the skin of a virgin. Sahl fell ill on the spot, and his condition grew worse. Somebody went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him that Sahl was ill, and could not go with him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to him, and Sahl told him what had happened with Amir. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Why does one of you kill his brother? Why did you not say, "May Allah bless you?" (ta baraka-llah) The evil eye is true. Do wudu from it. Amir did wudu from it and Sahl went with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and there was nothing wrong with him."

1611Mauwatta Imam Malik

جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَی عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَکَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَقَالَ هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا قَالُوا نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ اغْتَسِلْ لَهُ فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُکْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گرپڑے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر بیان کیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم اللہ کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہوگئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔

Malik related to me from Ibn Shihab that Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf said, Amir ibn Rabia saw Sahl ibn Hunayf doing a ghusl and said, I have not seen the like of what I see today, not even the skin of a maiden who has never been out of doors. Sahl fell to the ground. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was approached and it was said, Messenger of Allah, can you do anything about Sahl ibn Hunayf? By Allah, he can not raise his head. He said, Do you suspect anyone of it? They said, We suspect Amir ibn Rabia. " He continued, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, summoned Amir and was furious with him and said, Why does one of you kill his brother? Why did you not say, "May Allah bless you?" Do ghusl for it. Amir washed his face, hands, elbows, knees, the end of his feet, and inside his lower garment in a vessel. Then he poured it over him, and Sahl went off with the people, and there was nothing wrong with him."

1612Mauwatta Imam Malik

نظر کے منتر کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَکِّيِّ أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَيْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلَّا أَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُوَافِقُکَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَيْئٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ

حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ ﷺ ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔

Yahya related to me from Malik that Humayd ibn Qays al-Makki said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with the two sons of Jafar ibn Abi Talib. He said to their nursemaid, Why do I see them so thin? Their nursemaid said, Messenger of Allah, the evil eye goes quickly to them. Nothing stops us from asking someone to make incantations (using ayats of Quran) for them, except that we do not know what of that would agree with you. The Messenger of ,Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Make incantations for them. Had anything been able to precede the decree, the evil eye would precede it. "

1613Mauwatta Imam Malik

نظر کے منتر کا بیان

عَنْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْکِي فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ قَالَ عُرْوَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنْ الْعَيْنِ

عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Urwa ibn az-Zubayr told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the house of Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace. There was a child weeping in the house, and they told him that it was from the evil eye. Urwa said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Why do you not find someone to make an incantation to protect it from the evil eye? "

1614Mauwatta Imam Malik

بیمار کے ثواب کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَی إِلَيْهِ مَلَکَيْنِ فَقَالَ انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ فَإِنْ هُوَ إِذَا جَائُوهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ رَفَعَا ذَلِکَ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ فَيَقُولُ لِعَبْدِي عَلَيَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ وَأَنْ أُکَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسے خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے بعد اس کے، فرماتا ہے اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلالوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the slave is ill, Allah taala sends two angels to him." He said, "They look at what he says to his visitors. If he praises Allah and lauds Him, when they come to him, they take that up to Allah, the Mighty, the Majestic, and He knows best, and He says, If I make my slave die, I will make him enter the Garden. If I heal him, I will replace his flesh with better flesh and his blood with better blood and I will efface his evil actions."

1615Mauwatta Imam Malik

بیمار کے ثواب کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةُ إِلَّا قُصَّ بِهَا أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيُّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مومن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یزید نے کہا مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے قص اور کفر میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Khusayfa that Urwa ibn az-Zubayr said that he heard Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, When a mumin is afflicted by something, even a thorn, it removes (or effaces) his wrong actions. " Yazid did not know which of them Urwa said.

1616Mauwatta Imam Malik

بیمار کے ثواب کا بیان

عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصبتیں ڈالتا ہے۔

Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abdullah ibn Abi Sasaca said that he heard Abul-Hubab Said ibn Yasar say that he had heard Abu Hurayra say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah afflicts the one for whom He desires good."

1617Mauwatta Imam Malik

بیمار کے ثواب کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ وَمَا يُدْرِيکَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ يُکَفِّرُ بِهِ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مرگیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص بولا واہ کیا اچھی موت ہوئی نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ آپ ﷺ نے فرمایا بھلا یہ کیا کہتا ہے تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر جل جلالہ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that death came to a man in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. A man said, "He was fortunate," as he had died without being tried by illness. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Alas for you, what will let you know that if Allah had tried him with illness, He would have wiped out his wrong actions."

1618Mauwatta Imam Malik

بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ وَبِي وَجَعٌ قَدْ کَادَ يُهْلِکُنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا کَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهَا أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ

عثمان بن ابی عاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان کے ایسا درد ہوتا تھا جس سے قریب ہلاکت کے تھے آپ ﷺ نے فرمایا داہنا ہاتھ اپنے درد کے مقام پر سات بار پھیر اور کہہ " اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد " عثمان کہتے ہیں میں نے یہی کہا اللہ نے میرا درد دور کردیا پھر میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دیا کرتا۔

Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Khusayfa that Amr ibn Abdullah ibn Kab as-Salami told him that Nafi ibn Jubayr told him that Uthman ibn Abi al-As came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. Uthman said that he had a pain which was enough to kill him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Rub it with your right hand seven times and say, I take refuge with the might of Allah and His power from the evil of what I feel. " Uthman added, "I said that, and Allah removed what I had. I still command my family and others to say it."

1619Mauwatta Imam Malik

بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی يَقْرَأُ عَلَی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفِثُ قَالَتْ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ کُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَمِينِهِ رَجَائَ بَرَکَتِهَا

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو قل ہو اللہ احدا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ جب آپ ﷺ بیمار ہوئے تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی برکت کے واسطے

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when he had a complaint, would recite the last three suras of Quran, over himself and blow. She said, "When his pain was great, I would recite it over him and wipe him with his right hand hoping for its blessing."

1620Mauwatta Imam Malik

بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَکِي وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ارْقِيهَا بِکِتَابِ اللَّهِ

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ابوبکر ؓ حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر پڑھ کر پھونک رہی تھی حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کلام اللہ پڑھ کر پھونک۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Amra bint Abd ar-Rahman that Abu Bakr (RA) as-Siddiq visited Aisha while she had a [health] complaint and a jewish woman was making incantation (ruqya) for her. Abu Bakr (RA) said, "Do it (incantation) with the Book of Allah."