Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 82 of 87

1621Mauwatta Imam Malik

بیما کے علاج کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَهُ جُرْحٌ فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي أَنْمَارٍ فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا أَيُّکُمَا أَطَبُّ فَقَالَا أَوَ فِي الطِّبِّ خَيْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْزَلَ الدَّوَائَ الَّذِي أَنْزَلَ الْأَدْوَائَ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زخم لگا اور خون وہاں آکر بھر گیا تو اس شخص نے دو شخصوں کو بلایا بنی انمار میں سے ان دونوں نے آکر دیکھا رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ تم دونوں میں سے کون طب زیادہ جانتا ہے وہ بولے یا رسول اللہ ﷺ طب میں بھی کچھ فائدہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوا بھی اسی نے اتاری ہے جس نے بیماری اتاری ہے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that a man received a wound in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. The blood clotted in the wound and the man called two men from the Banu Ammar tribe. They looked at it and claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to them, "Which of you is the better doctor?" They said, "Is there any good in medicine, Messenger of Allah? ﷺ " Zayd claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The one who sent down the disease sent down the remedy."

1622Mauwatta Imam Malik

بیما کے علاج کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ اکْتَوَی فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الذُّبْحَةِ فَمَاتَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن زرارہ نے داغ لیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خناق کی بیماری میں تو مرگئے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "I heard that Sad ibn Zurara cauterized himself because of a pain in the throat accompanied by blood and he died."

1623Mauwatta Imam Malik

بیما کے علاج کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اکْتَوَی مِنْ اللَّقْوَةِ وَرُقِيَ مِنْ الْعَقْرَبِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے داغ لیا لقوہ میں اور متنر کیا بچھو کا

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar cauterized for the palsy and he had a talisman made for a scorpion sting.

1624Mauwatta Imam Malik

بخار میں پانی سے غسل کرنا۔

عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ کَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ وَقَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا أَخَذَتْ الْمَائَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْرِدَهَا بِالْمَائِ

فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر ؓ کے پاس جب کوئی عورت آتی جو بخار میں مبتلا ہوتی تو پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ حکم دیتے تھے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا پانی سے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from Fatima bint al-Mundhir that whenever a woman who had a fever, was brought to Asma bint Abi Bakr, she made dua for her and took water and poured it inside her collar. She said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered us to cool it with water."

1625Mauwatta Imam Malik

بخار میں پانی سے غسل کرنا۔

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّی مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَائِ

عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بخار جہنم کا جوش ہے اس کو ٹھنڈا کرو پانی سے،۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Fever is from the vehemence of the heat of Jahannam, so cool it with water." Malik related to me from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Fever is from the vehemence of the heat of Jahannam, so put it out with water."

1626Mauwatta Imam Malik

بیمار پرسی اور فال بد کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّی إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ أَوْ نَحْوَ هَذَا عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلْ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَائَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أَذًی

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے۔

Yahya related to me from Malik that he had heard from Jabir ibn Abdullah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a man visits an invalid, he plunges into mercy to the extent that when he sits with him, it settles in him," or the like of that.

1627Mauwatta Imam Malik

بالوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحَی

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے مونڈنے اور داڑھیوں کے چھوڑ دینے ( بڑھانے) کا حکم دیا۔

Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Nafi from his father Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered the moustache to be trimmed and the beard to be left.

1628Mauwatta Imam Malik

بالوں کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ

حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے منع کرتے تھے اس سے اور فرماتے تھے کہ تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Humay ibn Abd ar-Rahman ibn Awf heard Muawiya ibn Abi Sufyan say from the mimbar in the year that he performed the hajj, holding a lock of hair (i.e. a hairpiece) which he took from one of his guards, "People of Madina! Where are your learned men? I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbid the like of this, saying, The Banu Israil were destroyed when their women started to use this. "

1629Mauwatta Imam Malik

بالوں کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِکَ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک بعد اس کے مانگ نکالنے لگے۔

Yahya related to me from Malik that Ziyad ibn Sad heard Ibn Shihab say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, let his hair hang down his forehead as Allah willed, and afterwards he parted it." Malik said, "There is no harm in a mans looking at the hair of his sons wife or the hair of his wifes mother."

1630Mauwatta Imam Malik

بالوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَکْرَهُ الْإِخْصَائَ وَيَقُولُ فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ

عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar disapproved of castration and said, "The completeness of the created form is in the testicles."

1631Mauwatta Imam Malik

بالوں کا بیان

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا وَکَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ کَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَی وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَی وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ

صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں یتیم کا پالنے والا خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیان جبکہ پرہیزگاری کرے اور آپ ﷺ نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف۔

Yahya related to me from Malik that Safwan ibn Sulaym heard that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I and the one who guards the orphan, whether for himself or for someone else, will be like these two in the Garden, when he has taqwa," indicating his middle and index fingers.

1632Mauwatta Imam Malik

بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا فَکَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابوقتادہ ؓ انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میرے بال کندھوں تک ہیں ان میں کنگھی کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر ابوقتادہ کبھی کبھی ایک دن میں دو بار تیل ڈالتے اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abu Qatada al-Ansari said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "I have a lot of hair which comes down to my shoulders, shall I comb it? The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, and honour it." Sometimes Abu Qatada oiled it twice in one day because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him. "Honour it."

1633Mauwatta Imam Malik

بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان

عَنْ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ اخْرُجْ کَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلَاحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُکُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ شَيْطَانٌ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص نجس بال سر اور داڑھی کے پریشان تھے آیا آپ ﷺ نے اس کو اشارہ کیا یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ وہ شخص درست کر کے پھر آیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر جیسے شیطان۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Ata ibn Yasar told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was in the mosque when a man came in with dishevelled hair and beard. The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, motioned with his hand that he should be sent out to groom his hair and beard. The man did so and then returned. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Isnt this better than that one of you should come with his head dishevelled, as if he were a shaytan?"

1634Mauwatta Imam Malik

بالوں کے رنگنے کے بیان میں

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَ وَکَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَکَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ قَالَ فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ يَصْبُغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِکَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِکَ مِنْ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ وَتَرْکُ الصَّبْغِ کُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَی النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَرْسَلَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ

ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ ؓ نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر ؓ بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ ؓ عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Muhammad ibn Ibrahim at-Taymi had informed him that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman said "Abd ar-Rahman ibn al-Aswad ibn Abdal-Yaghuth used to sit with us and he had a white beard and hair. One day he came to us and he had dyed them red, and the people said to him, This is better. He said. Aisha the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, sent her slave girl Nukhayla to me yesterday. She swore that my hair would be dyed and she informed me that Abu Bakr (RA) as-Siddiq used to dye his hair. "

1635Mauwatta Imam Malik

سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان

عَنْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ

خالد بن ولید نے کہا رسول اللہ ﷺ سے کہ میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کر پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے اس کے غصے اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he had heard that Khalid ibn al-Walid said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "I have nightmares." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Say, I seek refuge with the complete words of Allah from His anger and His punishment and the evil of His slaves, and from the evil suggestions of the shayatin and from their being present (at death). " Audhu bi kalimati llahit-tammati min ghadabihi wa iqabihi wa sharri ibadihi wa min hamazati sh-shayatin wa an yahdurun.

1636Mauwatta Imam Malik

سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ کُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَفَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَی فَقَالَ جِبْرِيلُ فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْکَرِيمِ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنْ السَّمَائِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ

یحییٰ بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ ﷺ نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ ﷺ کی طرف چلا آتا تھا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا میں آپ ﷺ کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ ﷺ ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں سکھاؤ جبرائل نے کہا کہو اعوذ بوجہ اللہ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was taken on the Night Journey, he saw an evil jinn seeking him with a torch of fire. Whenever the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned, he saw him. Jibril said to him, Shall I teach you some words to say? When you say them, his torch will be put out and will fall from him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Yes, indeed. Jibril said, Say, I seek refuge with the Noble Face of Allah and with the complete words of Allah which neither the good person nor the corrupt can exceed, from the evil of what descends from the sky and the evil of what ascends in it, and from the evil of what is created in the earth and the evil of what comes out of it, and from the trials of the night and day, and from the visitations of the night and day, except for one that knocks with good, O Merciful!" " Audhu bi wajhillahi l-karim wa bi kalimatillahit-tammati. Allati la yujawazu hunna barra wa la fajir, min sharri ma yanzil min as-sama, wa sharri ma yaruju fiha, wa sham ma dhara fil-ard, wa sharri ma yakhruju minha, wa min fitanil-layli wan-nahar, wa min tawariqil-layli wan-nahar illa tariqan yatruq bikhayr ya Rahman!

1637Mauwatta Imam Malik

سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ فَقَالَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّکَ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا میں رات کو نہیں سویا، آپ ﷺ نے پوچھا کیوں کس وجہ سے؟ وہ بولا مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا اعوذب کلمات اللہ التامات من شرماخلق (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے) تو بچھو تجھے کچھ ضرر نہ دیتا۔

Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that a man of the Aslam tribe said, "I did not sleep last night." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "For what reason?" He said, "A scorpion bit me." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Had you said in the evening, I seek refuge with the complete words of Allah from the evil of what He has created, it would not have happened." Audhu bi kalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq .

1638Mauwatta Imam Malik

سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان

عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ لَوْلَا کَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا هُنَّ فَقَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْئٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِأَسْمَائِ اللَّهِ الْحُسْنَی کُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ

قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے لوگوں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں کعب نے کہا یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ سے جو بڑی عظمت ولا ہے نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنی سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا پیدا کیا اور پھیلایا۔

Yahya related to me from Malik from Summayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from al-Qaqa ibn Hakim that Kab al-Ahbar said, "Had it not been for some words which I said, the jews would have made me into a donkey." Someone asked him what they were. He said, "I seek refuge with the immense Face of Allah - there is nothing greater than it - and with the complete words of Allah which neither the good person nor the corrupt can exceed and with all the most beautiful names of Allah, what I know of them and what I do not know, from the evil of what He has created and originated and multiplied." Audhu bi wajhillahi l-adheem aladhee laysa shayun adham minh, wa bi kalimatillahit-tammati, alatee la yujawizu hunna barra wa la fajir, wa bi asmaillahil-husna kulliha ma alamtu minha wa ma lam alam, min sharri ma khalaqa wa baraa wa dharaa.

1639Mauwatta Imam Malik

خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ ارشاد فرمادے گا دن قیامت کے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو آپس میں دوستی رکھتے تھے میری بزرگی کے واسطے آج کے دن میں ان کو سائے میں رکھوں گا یہ وہ دن ہے جس دن کہیں سایہ نہیں سوائے میرے سائے کے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Mamar from Abul-Hubab Said ibn Yasar that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah, the Blessed, the Exalted, will say on the Day of Rising, "Where are those who loved each other for My majesty? Today I will shade them in My shade on the day when there is no shade except My shade." "

1640Mauwatta Imam Malik

خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّی يَعُودَ إِلَيْهِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَی ذَلِکَ وَتَفَرَّقَا وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بدفعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوئی

Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al-Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade: a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," and a man who gives sadaqa and conceals it so that his left hand does not know what his right hand gives. "