خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ (قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If Allah loves a slave, he says to Jibril, I love so-and-so, so love him, so Jibril loves him and then calls out to the people of heaven, Allah loves so-and-so, so love him, and the people of heaven love him, and then acceptance is placed in the Earth for him." When Allah is angry with a slave, Malik said, "I consider that he says the like of that about His anger."
خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًی شَابٌّ بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْئٍ أَسْنَدُوا إِلَيْهِ وَصَدَرُوا عَنْ قَوْلِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ لِلَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الْقَصْدُ وَالتُّؤَدَةُ وَحُسْنُ السَّمْتِ جُزْئٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں گیا وہاں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سفید دندان تھا اس کے ساتھ والے لوگ جب کسی بات میں اختلاف کرتے ہیں تو جو وہ کہتا ہے اسی کی سند پکڑتے ہیں اور اس کے قول پر تھم جاتے ہیں میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے لوگوں نے کہا معاذ بن جبل ہیں جب دوسرا روز ہوا تو میں بہت سویرے گیا دیکھا تو وہ مجھ سے آگے آئے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں میں ٹھہرا رہا جب نماز پڑھ چکے تو میں ان کے سامنے آیا اور سلام کیا پھر میں نے کہا میں تم کو اللہ جل جلالہ کے واسطے چاہتا ہوں اور محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا اللہ کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں اللہ کے واسطے انہوں نے پھر کہا اللہ کے واسطے؟ میں کہا ہاں اللہ کے واسطے پھر انہوں نے میری چادر کا کونا پکڑ کے مجھے گھسیٹا اور کہا خوش ہوجا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ جل جلالہ فرماتے ہے واجب ہوئی محبت میری ان لوگوں سے جو میرے واسطے دوستی اور محبت رکھتے ہیں اور میرے واسطے مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے واسطے اپنی جان اور مال صرف کرتے ہیں اور میرے واسطے ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں میانہ روی اور نرمی اور اچھی سج دھج ایک جز ہے نبوت کے پچیس جزوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar that Abu Idris al-Khawlani said, "I entered the Damascus mosque and there was a young man with a beautiful mouth and white teeth sitting with some people. When they disagreed about something, they referred it to him and proceeded from his statement. I inquired about him, and it was said, This is Muadh ibn Jabal. The next day I went to the noon-prayer, and I found that he had preceded me to the noon prayer and I found him praying." Abu Idris continued, "I waited for him until he had finished the prayer. Then I came to him from in front of him and greeted him and said, By Allah! I love you for Allah! He said, By Allah? I said, By Allah. He said, By Allah? I said, By Allah. He said, By Allah? I said, By Allah. " He continued, "He took me by the upper part of my cloak and pulled me to him and said, Rejoice! I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Allah, the Blessed and Exalted, said, My love is obliged for those who love each other in Me, and those who sit with each other in Me, and those who visit each other in Me, and those who give to each other generously in Me. " "
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب نیک بخت آدمی کا نبوت کا ایک جز ہے چھیالس جزوں میں سے۔ ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha al-Ansari from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The good dream of a man who is salih is a forty-sixth part of prophecy."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا وَيَقُولُ لَيْسَ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فارغ ہوتے صبح کی نماز سے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے اور فرماتے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا سوائے اچھے خواب کے۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Zufar ibn Sasaca from his father from Abu Hurayra that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, left the morning prayer, he would say, "Has any of you had a dream last night? All that will remain of prophecy after me will be the true dream ."
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَقَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ نہ رہے گا مگر مبشرات، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھے خواب جس کو نیک بخت آدمی دیکھے یا دوسرا اس کے واسطے دیکھے یہ جز ہے نبوت کے چھیالیس جزوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "All that will be left of prophecy after me are the mubashshirat." They said, "What are the mubashshirat, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "The true dream which a man who is salih sees - or which is shown to him - is a forty-sixth part of prophecy."
عَنْ أَبِی قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ الشَّيْئَ يَکْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنْ الْجَبَلِ فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا کُنْتُ أُبَالِيهَا
ابو قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے تو جب کوئی تم میں سے برا خواب دیکھے تو چاہئے کہ بائیں طرف تھتکار دے تین بار اور پناہ مانگے اللہ سے اس کے شر سے پھر وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا اگر اللہ چاہئے ابوسلمہ نے کہا پہلے میں خواب ایسے دیکھتا جن کا بوجھ میرے اوپر پہاڑ سے بھی زیادہ رہتا جب سے میں نے اس حدیث کو سنا ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman said, "I heard Abu Qatada ibn Ribiyy say that he heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, The good dream is from Allah, and the bad dream is from shaytan. When you see what you dislike, spit to your left side three times when you wake up, and seek refuge with Allah from its evil. It will not harm you then, Allah willing. " Abu Salama said, "I would see dreams which weighed on me more heavily than a mountain. When I heard this hadith, I was not concerned about it."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمْ الْبُشْرَی فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ یہ جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا ان کے واسطے خوشخبریاں ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس سے مراد نیک خواب ہیں جس کو آدمی خود دیکھے یا کوئی اس کے واسطے دیکھے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said about this ayat, "You have good news in the life of this world and the next world," (Sura 1O ayat 64), that it was the good dream which the man who was salih saw or which was shown to him.
عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے چوسر کھیلا تو اس نے نافرمانی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی۔
Yahya related to me from Malik from Musa ibn Maysara from Said ibn Abi Hind from Abu Musa al-Ashari (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever plays games of dice has disobeyed Allah and His Messenger. "
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا کَانُوا سُکَّانًا فِيهَا وَعِنْدَهُمْ نَرْدٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ دَارِي وَأَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے آپ ﷺ نے سنا ان کے پاس شطرنج ہے تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کردو میرے گھر سے نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا اور برا جانا اس کو۔
Yahya related to me from Malik from Alqama from his mother that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, heard that the people who lived in a room in her house had some dice. She sent a message to them, "If you do not remove them, I will remove you from my house," and she reproached them for it.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ وَکَسَرَهَا قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ لَا خَيْرَ فِي الشَّطْرَنْجِ وَکَرِهَهَا وَسَمِعْتُهُ يَکْرَهُ اللَّعِبَ بِهَا وَبِغَيْرِهَا مِنْ الْبَاطِلِ وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ
عبداللہ بن عمر ؓ جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے کہا یحییٰ نے سنا میں نے مالک سے شطرنج کھلینا بہتر نہیں ہے نہ اس میں کوئی فائدہ بھلائی ہے اور مکروہ جانتے تھے اس کو اور سنا میں نے مالک سے کہتے تھے شطرنج کھلینا اور لغو بےہودہ کھیل سب مکروہ ہیں اور پڑھتے تھے اس آیت کو پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that when he found one of his family playing dice he beat him and destroyed the dice. Yahya said that he heard Malik say, "There is no good in chess, and he disapproved of it." Yahya said, "I heard him disapprove of playing it and other worthless games. He recited this ayat, What is there after the truth except going the wrong way. " (Sura lO ayat 32).
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي وَإِذَا سَلَّمَ مِنْ الْقَوْمِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلام کرے سوار پیادے کو اور جب ایک آدمی قوم میں سے سلام کرے تو ان سب سے کافی ہوجائے گا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The one riding greets the one walking, and when one of a group of people gives a greeting, it is enough for all of them."
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِکَ أَيْضًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْيَمَانِي الَّذِي يَغْشَاکَ فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَی إِلَی الْبَرَکَةِقَالَ يَحْيَی سُئِلَ مَالِک هَلْ يُسَلَّمُ عَلَی الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلَا أَکْرَهُ ذَلِکَ وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلَا أُحِبُّ ذَلِکَ
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عباس کے پاس اتنے میں ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور بولا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ اور اس پر بھی کچھ زیادہ کیا ابن عباس ؓ کی ان دنوں بینائی جاتی رہی تھی انہوں نے کہا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ وہی یمن کا رہنے والا ہے جو آیا کرتا ہے آپ کے پاس اور پتہ دیا اس کا یہاں تک کہ ابن عباس پہچان گئے اس کو ابن عباس نے کہا سلام ختم ہوگیا وبرکاتہ پر اس سے زیادہ نہ بڑھانا چاہئے کہا یحییٰ نے سوال ہوا مالک سے مرد سلام کرے عورت پر انہوں نے کہا بڑھیا پر تو کچھ قباحت نہیں لیکن جوان پر اچھا نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Wahb ibn Kaysan that Muhammad ibn Amr ibn Ata said, "I was sitting with Abdullah ibn Abbas when a Yemeni man came in. He said, Peace be upon you, and the mercy of Allah and His blessing (as-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu), and then he added something more to that. Ibn Abbas (RA) said (and at that time his eyesight had gone), Who is this? People said, This is a Yemeni who has come to see you, and they introduced him. Ibn Abbas (RA) said, The greeting ends with the word blessing. " Yahya said that Malik was asked, "Does one greet a woman?" He said, "As for an old woman, I do not disapprove of it. As for a young woman, I do not like it."
یہودی اور نصرانی کے سلام کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقُلْ عَلَيْکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم کہتے ہیں تم بھی علیک کہا کرو۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a jew greets you, and says Death to you (as-samu alaykum) say, And to you. " Yahya said, "Malik was asked whether a person who greeted a jew or christian, should apologise for it. He said, No."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَی فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَی إِلَی اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے مسجد میں لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں تین آدمی آئے دو تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور ایک چلا گیا جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو سلام کیا اور ایک شخص ان میں سے حلقے میں جگہ پا کر بیٹھ گیا اور ایک پیچھے بیٹھا رہا اور تیسرا تو پہلے ہی چلا گیا تھا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ان تینوں آدمیوں کا حال نہ بتلاؤں؟ ایک تو ان میں سے اللہ کے پاس آیا اللہ نے بھی اس کو جگہ دی ایک نے ان میں سے شرم کی اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور ایک نے ان میں سے منہ پھیرلیا اللہ نے بھی اس طرف سے منہ پھیرلیا۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib from Abu Waqid al-Laythi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting in the mosque with some people when three people came in. Two came toward the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and one went away. When the two stopped at the assembly of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, they gave the greeting. One of them saw a gap in the circle and sat in it. The other sat down behind the circle. The third turned away and left. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, finished, he said, "Shall I tell you about three people? One of them sought shelter with Allah, so Allah gave him shelter. The other was shy, so Allah was shy to him. The other turned away, so Allah turned away from him."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ کَيْفَ أَنْتَ فَقَالَ أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ فَقَالَ عُمَرُ ذَلِکَ الَّذِي أَرَدْتُ مِنْکَ
انس بن مالک نے سنا حضرت عمر ؓ سے ان کو ایک شخص نے سلام کیا حضرت عمر ؓ نے اس کا جواب دیا پھر اس سے مزاج پوچھا اس نے کہا شکر کرتا ہوں اللہ کا حضرت عمر ؓ نے کہا میرا یہی مطلب تھا۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik heard Umar ibn al-Khattab return the greeting of a man who greeted him. Then Umar asked the man, "How are you?" He said, "I praise Allah to you." (Ahmadu ilayka Allah) Umar said, "That is what I wanted from you."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَی السُّوقِ قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَی السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَی سَقَاطٍ وَلَا صَاحِبِ بِيعَةٍ وَلَا مِسْکِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ الطُّفَيْلُ فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَی السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَی الْبَيِّعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السِّلَعِ وَلَا تَسُومُ بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ قَالَ وَأَقُولُ اجْلِسْ بِنَا هَاهُنَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَا أَبَا بَطْنٍ وَکَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلَی مَنْ لَقِيَنَا
طفیل بن ابی بن کعب عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر ؓ ہر ایک ردی ودی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر نے کہا اے پیٹ والے بازار میں سلام کرنے کو جاتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے اس کو سلام کرتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that at-Tufayl ibn Ubayy ibn Kab told him that he visited Abdullah ibn Umar one morning and went out with him to the market, and when they were out, Abdullah ibn Umar did not pass by anyone selling poor merchandise or selling commodities or a needy person or anyone but that he greeted them. At-Tufayl said, "I came to Abdullah ibn Umar one day and he asked me to follow him to the market. I said to him, What will you do in the market if you will not stop to sell nor seek any goods or barter with them or sit in any of the assemblies or market? Abdullah ibn Umar said that we should sit down and talk, and then he explained, Abu Batni, (lit. father of the belly, at-Tufayl had a prominent stomach), we go out in the morning only for the sake of the greeting. We greet whomever we meet. "
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ وَالْغَادِيَاتُ وَالرَّائِحَاتُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَلَيْکَ أَلْفًا ثُمَّ کَأَنَّهُ کَرِهَ ذَلِکَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ إِذَا دُخِلَ الْبَيْتُ غَيْرُ الْمَسْکُونِ يُقَالُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سلام کیا عبداللہ بن عمر ؓ کو تو کہا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ والغایات الرائحات عبداللہ بن عمر نے کہا وعلیک الفا اور اس طرح کہا جیسے کہ اس کو برا جانا۔ امام مالک کو پہنچا کہ جب کوئی آدمی ایسے گھر میں جائے جو خالی پڑا ہو تو کہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحیں یعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that a man greeted Abdullah ibn Umar. He said, "Peace be upon you and the mercy of Allah and his barakat, on and on." Abdullah ibn Umar said to him, "And on you, a thousand times," as if he disliked that.
گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّي فَقَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي خَادِمُهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً قَالَ لَا قَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ایک شخص نے کیا اجازت مانگوں میں اپنی ماں سے گھر جاتے وقت؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ بولا میں تو اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا وہ بولا میں تو اس کی خدمت کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا کیا تو چاہتا ہے کہ اس کو ننگا دیکھے وہ بولا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا پس اجازت لے کر جا۔ ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ۔
Malik related to me from Safwan ibn Sulaym from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was questioned by a man who said, "Messenger of Allah, shall I ask permission of my mother to enter?" He said, "Yes " The man said, "I live with her in the house". The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Ask her permission." The man said, "I am her servant." The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, said, "Ask her permission. Do you want to see her naked?" He said, "No." He said, "Then ask her permission."
گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ جَائَ يَسْتَأْذِنُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ثُمَّ رَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي أَثَرِهِ فَقَالَ مَا لَکَ لَمْ تَدْخُلْ فَقَالَ أَبُو مُوسَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِکَ لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَخَرَجَ أَبُو مُوسَی حَتَّی جَائَ مَجْلِسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقَالُ لَهُ مَجْلِسُ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي أَخْبَرْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَإِنْ کَانَ سَمِعَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنْکُمْ فَلْيَقُمْ مَعِي فَقَالُوا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُمْ مَعَهُ وَکَانَ أَبُو سَعِيدٍ أَصْغَرَهُمْ فَقَامَ مَعَهُ فَأَخْبَرَ بِذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي مُوسَی أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْکَ وَلَکِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ربیعہ بن سبی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ انہوں نے بہت سے علماء سے سنا کہ ابوموسیٰ اشعری نے اجازت چاہی اندر آنے کی حضرت عمر کے مکان پر تین بار جب تینوں بار جواب نہ ملا تو وہ لوٹ گئے حضرت عمر نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا جب وہ آئے تو ان سے کہا تم اندر کیوں نہ آئے ابوموسیٰ اشعری نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ حضرت عمر نے کہا تمہارے سوا اور کسی نے یہ حدیث سنی ہے اس کو لے کر آؤ اگر نہ لاؤ گے تو میں تم کو سزا دوں گا ابوموسیٰ نکلے اور مسجد میں بہت سے آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ایک مجلس میں جس کو مجلس انصار کہتے تھے اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ میں نے یہ حدیث حضرت عمر سے بیان کی انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور نے یہ حدیث سنی ہو تو ان کو لے کر آؤ نہیں تو میں تم کو سزا دوں گا اگر تم میں سے کسی نے یہ حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ چلے لوگ ابوسعید ابوموسیٰ کے ساتھ آئے اور حدیث حضرت عمر سے بیان کی حضرت عمر نے ابوموسیٰ سے کہا میں نے تم کو جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا ایسا نہ ہو کہ لوگ آنحضرت پر باتیں جوڑ لیا کریں
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from another of the ulama of that time that Abu Musa al-Ashari (RA) came and asked permission from Umar ibn al-Khattab to enter. He asked permission three times, and then went away Umar ibn al-Khattab sent after him and said, "Whats wrong with you? Why didnt you come in?" Abu Musa said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Ask permission to enter three times. If you are given permission, then enter. If not, go away. Umar said, "Who can confirm this? If you do not bring me someone to confirm it, I will do such-and-such to you." Abu Musa went out until he came to an assembly in the mosque which was called the Majlis-al-Ansar. He said, "I told Umar ibn al-Khattab that I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Ask permission three times. If you are given permission, then enter. If not, go away. Umar said, If you do not bring me someone who can confirm it, I will do such-and-such to you. If any of you have heard that, let him come with me. " They said to Abu Said al-Khudri, "Go with him". Abu Said was the youngest of them. He went with him and told Umar ibn al-Khattab about that." Umar ibn al-Khattab said to Abu Musa, "I did not suspect you, but I feared lest people forge sayings of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace."
چھینک کا جواب دینے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَقُلْ إِنَّکَ مَضْنُوکٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ
محمد بن عمر بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص چھینکے تو اس کا جواب دو پھر اگر چھینکے تو جواب دو پھر چھینکے تو جھٹ کہہ دو تجھ زکام ہوگیا؟ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا معلوم نہیں کہ تیسری کے بعد آپ نے یہ کہا یا چوتھی کے بعد۔
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a man sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, say, You have a cold." Abdullah ibn Abi Bakr said, "I dont know whether it was after the third or fourth."