چھینک کا جواب دینے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا عَطَسَ فَقِيلَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ قَالَ يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاکُمْ وَيَغْفِرُ لَنَا وَلَکُمْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کو جب چھینک آتی اور کوئی یرحمک اللہ کہتا تو وہ یرحمنا اللہ وایاکم و یغفرلنا و لکم کہتے یعنی اللہ ہم پر رحم کرے اور تم پر بھی اور ہم کو بخشے اور تم کو بھی۔
Malik related to me from Nafi that when Abdullah ibn Umar sneezed and someone said to him, "May Allah have mercy on you," (Yarhamukallah), he said, "May Allah have mercy on us and you, and forgive us and you." (Yarhamunallah wa yaghfirlana wa lakum).
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ رَافِعَ بْنَ إِسْحَقَ مَوْلَی الشِّفَائِ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ شَکَّ إِسْحَقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ
رافع بن اسحاق سے جو مولیٰ ہیں شفا کے روایت ہے کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ مل کر ابوسعید خدری کے پاس گئے ان کے دیکنے کو وہ بیمار تھے ابوسعید نے کہا مجھ سے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں یا مورتیاں ہوں اسحاق کو شک ہے کہ ابوسعید نے ان دونوں میں سے کیا کہا،۔
Malik related to me from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Rafi ibn Ishaq, the mawla of ash-Shifa informed him that he and Abdullah ibn Abi Talha had gone to visit Abu Said al-Khudri while he was ill. Abu Said said to them, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, informed us, The angels do not enter a house which contains pictures or images. " Ishaq was not sure which of them Abu Said said.
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِهِ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ سَهْلٌ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَی وَلَکِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری کی عیادت کو گئے وہاں سہل بن حنیف کو بھی دیکھا ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا میرے نیچے سے شطرنجی نکال لے سہل نے کہا کیوں ابوطلحہ نے کہا اس میں تصویروں کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ ہے اگر نقشی ہو کپڑے وغیرہ پر تو کچھ قباحت نہیں ابوطلحہ نے کہا ہاں یہ سچ ہے مگر میری خوشی یہی ہے کہ ہر قسم کی تصویر سے پرہیز کرو۔
Malik related to me from Abun-Nasr that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud went to visit Abu Talha al-Ansari when he was ill. He said, "I found Sahl ibn Hunayf with him. Abu Talha summoned a man and removed a rug which was under him. Sahl ibn Hunayf said to him, Why did you remove it? He said, Because there were pictures on it, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said what you know about them. Sahl replied, Didnt the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "except for markings on a garment?" (A rug was considered a garment). He said, Yes, but it is more pleasing to myself. "
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قَالَتْ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ ﷺ نے اس کو دیکھا تو آپ ﷺ حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ ؓ نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ ؓ نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ ﷺ اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے۔
Malik related to me from Nafi from al-Qasim ibn Muhammad from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that she bought a cushion which had pictures on it. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw it, he stopped at the door and did not enter. She recognised disapproval on his face and said, "Messenger of Allah, I turn in repentance to Allah and His Messenger. What have I done wrong?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is the meaning of this cushion?" She said, "I bought it for you to sit and recline on." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Those who make such pictures will be punished on the Day of Rising. It will be said to them, Bring to life what you have created. Then he said, The angels do not enter a house in which there are pictures. "
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَإِذَا ضِبَابٌ فِيهَا بَيْضٌ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ كُلَا فَقَالَا أَوَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي تَحْضُرُنِي مِنْ اللَّهِ حَاضِرَةٌ قَالَتْ مَيْمُونَةُ أَنَسْقِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا فَقَالَ نَعَمْ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتِكِ جَارِيَتَكِ الَّتِي كُنْتِ اسْتَأْمَرْتِينِي فِي عِتْقِهَا أَعْطِيهَا أُخْتَكِ وَصِلِي بِهَا رَحِمَكِ تَرْعَى عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكِ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میمونہ بنت حارث کے مکان میں گئے وہاں گوہ دیکھا سفید اور آپ ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید تھے آپ ﷺ نے پوچھا یہ گوشت کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ بنت حارث نے بھیجا تھا آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ ﷺ نہیں کھاتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی آیا کرتے ہیں میمونہ نے کہا ہم آپ ﷺ کو دودھ پلادیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، جب آپ ﷺ دودھ پی چکے تو پوچھا یہ کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ نے تحفہ بھیجا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنی لونڈی کو جس کے آزاد کرنے کے واسطے تم نے مجھ سے مشورہ کیا تھا اپنی بہن کو دے دو اور قرابت کی رعایت کرو وہ اس کی بکریاں چرایا کرے تو مناسب ہے اور بہتر ہے تیرے واسطے۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Abi Sasaca that Sulayman ibn Yasar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the house of Maimuna bint al-Harith and there was a lizard in which there were eggs to eat. Abdullah ibn Abbas and Khalid ibn al-Walid were with him. He said, From where did you get this? She replied, My sister, Huzayla bint al-Harith, gave it to me. He then told Abdullah ibn Abbas and Khalid to eat. They said, Wont you eat, Messenger of Allah? ﷺ He said, There are those who visit me from Allah. Maimuna said, Messenger of Allah, shall we give you some milk to drink which we have? He said, Yes. When he drank, he said, From where did you get this? She said, My sister, Huzayla gave it to me. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Do you see your slave-girl whom you asked me for permission to free? Give her to your sister and bring her to your maternal relatives to take care of her. That is better for you. "
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَی إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْکُلَ مِنْهُ فَقِيلَ هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَلَکِنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَکَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
خالد بن ولید بن مغیرہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ کے گھر میں گئے وہاں ایک گوہ بھنا ہوا آیا رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا کھانے کو عورتوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کو بتادو جس کا یہ گوشت ہے آپ ﷺ نے ہاتھ کھینچ لیا، میں نے کہا کیا حرام ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس واسطے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے خالد نے کہا میں نے اس کو اپنی طرف کھیینچ کر کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf from Abdullah ibn Abbas that Khalid ibn al-Walid ibn al-Mughira entered the house of Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he was brought a roasted lizard. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stretched his hand toward it. One of the women who was in Maimunas house said, "Tell the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, what he means to eat." Someone said, "It is a lizard, Messenger of Allah." He withdrew his hand. Khalid said, "Is it haram, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "No, but there were none in my peoples land, and I find that I dislike them." Khalid added, "I chewed and ate it while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was looking."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا نَادَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَی فِي الضَّبِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِآکِلِهِ وَلَا بِمُحَرِّمِهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پکار کر کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ گوہ کے گوشت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that a man called the Messenger of Allah ﷺ and said, "Messenger of Allah, what do you think about lizards?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I do not eat them, and I do not forbid them."
عَنْ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
سفیان بن زہیر سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے مسجد نبوی کے دروازے پر انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ فرماتے تھے جو شخص کتا پالے نہ کھیت کی حفاظت کے واسطے نہ بکریوں کی حفاظت کے واسطے تو ہر روز اس کے اعمال میں ایک قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوا کرے گا، سائب نے سفیان سے کہا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی۔
Malik related to me from Yazid ibn Khusayfa that as-Saib ibn Yazid informed him that he heard Sufyan ibn Abi Zuhayr who was from the Azd Shanua tribe and among the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, speaking with some people who were with him at the door of the mosque. He said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, If anyone acquires a dog which he does not use as a sheepdog or for hunting, a qirat will be deducted from the reward of his good deeds each day. " He was asked, "Did you hear this from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace?" He said, "Yes, by the Lord of this mosque."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا إِلَّا کَلْبًا ضَارِيًا أَوْ کَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کتا پالے سوائے شکاری کتے کے یا کھیت کے کتے کے تو ہر روز اس کے عمل میں سے دو قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوگا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever acquires a dog other than a sheepdog or hunting dog, will have two qirats deducted from the reward of his good actions every day."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کتوں کے قتل کا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered dogs to be killed.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأْسُ الْکُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑا کفر مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹ والوں میں ہے جو بلند آواز رکھتے ہیں جنگل میں رہتے ہیں اور عاجزی اور تواضع بکری والوں میں ہے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The head of kufr is towards the east. Boasting and price is among people who have horses and camels. The loud-voiced people are the people of tents (the Bedouins). Tranquillity is with the people who have sheep."
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قریب ہے کہ بہترین مال مسلمان کا چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے گا یا کسی وادی کے اندر بھاگے گا فتنوں سے اپنا دین بچانے کو۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abd ar-Rahman ibn Sasaca from his father that Abu Said al-Khudri said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It will soon happen that the best property of a muslim will be sheep which he takes to the peaks of the mountains and the valleys, fleeing with his deen from trials."
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ وَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَی غَنَمًا قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے بھی؟ فرمایا کہ میں نے بھی۔
Malik related to me from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No one should milk someone elses cow without his permission. Would any of you like someone to come to his apartment, break into his larder, and take his food? The udders of cows guard their food for their owners, so no one should milk someone elses cow without his permission."
چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَرَّبُ إِلَيْهِ عَشَاؤُهُ فَيَسْمَعُ قِرَائَةَ الْإِمَامِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَلَا يَعْجَلُ عَنْ طَعَامِهِ حَتَّی يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قرأت سنا کرتے اپنے گھر میں اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھالیتے۔
Malik related to me from Nafi that one time as Ibn Umar (RA) was served his evening meal, he heard the recitation of the Imam while he was in his house and he did not hurry from his food until he had finished what he needed.
چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ انْزِعُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ
حضرت ام المومنین میمونہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ اگر چوہا گھی میں گرپڑے تو کیا کرنا چاہئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو نکال ڈالو اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دو۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud from Abdullah ibn Abbas from Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about a mouse falling into clarified butter. He said, "Remove it and throw away what is around it "
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ کَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْکَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَو حَدَّثَنِي مَالِک
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
Malik related to me from Malik from Ibn Shihab from Hamza and Salim the sons of Abdullah ibn Umar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Ill luck is in a house, a woman and a horse."
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی ہے
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَکَنَّاهَا وَالْعَدَدُ کَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا ذَمِيمَةً
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مرگئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said, "A woman came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, we moved into a house when our number was great and our wealth was abundant. Now our number has dwindled and the wealth has gone. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Leave it as blameworthy. "
جو نام برے ہیں ان کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مُرَّةُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ حَرْبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ يَعِيشُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلُبْ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس اونٹی کا دودھ کون دوہے گا؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ وہ بولا مرہ آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا آپ نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا حرب۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا یعیش آپ نے فرمایا جا دوھ۔ یعیش نام آپ نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے آپ فال نیک بہت لیا کرتے تھے
Malik related to me from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked about a milk camel about to be milked, "Who milks this camel?" A man stood up. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is your name?" The man said, "Murra (bitterness)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Sit down." Then he said, "Who milks this one?" A man stood up and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is your name?" He said, "Harb (war)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Sit down." Then he said, "Who milks this camel?" A man stood up, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "What is your name?" The man said, Yaish (he lives)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Milk!"
جو نام برے ہیں ان کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ مَا اسْمُکَ فَقَالَ جَمْرَةُ فَقَالَ ابْنُ مَنْ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ مِمَّنْ قَالَ مِنْ الْحُرَقَةِ قَالَ أَيْنَ مَسْکَنُکَ قَالَ بِحَرَّةِ النَّارِ قَالَ بِأَيِّهَا قَالَ بِذَاتِ لَظًی قَالَ عُمَرُ أَدْرِکْ أَهْلَکَ فَقَدْ احْتَرَقُوا قَالَ فَکَانَ کَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا جمرہ (انگارہ) انہوں نے پوچھا باپ کا نام؟ کہا ابن شہاب (شعلہ)، پوچھا کس قبیلے سے؟ کہا حرقہ سے جس کے معنے جنے کے ہیں، پوچھا کہاں رہتا ہے؟ کہا حرۃ النار میں، پوچھا کون سی جگہ میں؟ کہا ذات لظی میں، ان کے معنے بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں، حضرت عمر نے کہا جا اپنے لوگوں کی خبر لے وہ سب جل گئے راوی نے کہا جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو حضرت عمر نے کہا تھا یعنی سب جل گئے تھے۔
Yahya related to me from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab asked a man what his name was. He said, "Jamra (live coal)." "The son of who?" He said, "Ibn Shihab (meteor, flame)." "From whom?" He said, "From al-Huraqa (burning)." "Where do you live?" He said, "At Harrat an-Nar (lava field of the fire). "At which one of them?" He said, "At Dhati Ladha (one with flames)." Umar said, "Go and look at your family - they have been burned." Yahya added, "It was as Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said."