پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ
انس بن مالک نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے ابوطیبہ کے ہاتھ سے پھر آپ ﷺ نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کردیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی تو وہ پچھنے ہوتے
Malik related to me from Humayd at-Tawil that Anas ibn Malik said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was cupped. Abu Tayba cupped him, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered him to be given a sa of dates and ordered his family to lessen what he paid them for his kitaba or kharaj."
پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّی قَالَ اعْلِفْهُ نُضَّاحَکَ يَعْنِي رَقِيقَکَ
ابن محیصہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابوطبیہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں) آپ ﷺ نے منع کیا مگر یہ ممانعت تنزیہا ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ ہمیشہ پوچھا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ibn Muhayyisa al-Ansari, one of the Banu Haritha, that he asked permission from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to give payment for cupping, and he forbade him to do it. He continued to ask and seek his permission until he said, "Feed the ones who drive your water-carrying camels," meaning "your slaves."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَی الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَی الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ کَعْبُ الْأَحْبَارِ لَا تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّائُ الْعُضَالُ
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اشارہ کرتے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جانا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, "I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, pointing at the east and saying, The cause of dissension is here. The cause of dissension is here, from where the helpers of shaytan arise. "
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ
ابو لبابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہیں
Malik related to me from Nafi from Abu Lubaba that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade killing snakes which were in the houses.
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ
سائبہ مولا سائبہ جو مولا تھے حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کردیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔
Malik related to me from Nafi from Saiba, the female mawla of Aisha, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade killing the snakes which were in the houses except those with two white stripes on their back and the short ones. They made one go blind and caused miscarriages in women.
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَی هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيکًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنْ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَی بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَی هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّهُ قَدْ کَانَ فِيهِ فَتًی حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْخَنْدَقِ فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَی يَسْتَأْذِنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خُذْ عَلَيْکَ سِلَاحَکَ فَإِنِّي أَخْشَی عَلَيْکَ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الْفَتَی إِلَی أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَأَهْوَی إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَکَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّی تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِکَ فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَی فِرَاشِهِ فَرَکَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَی مَيِّتًا فَمَا يُدْرَی أَيُّهُمَا کَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَی أَمْ الْحَيَّةُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
ابو سائب سے مولیٰ ہشام بن زہرہ کے روایت ہے (کہتے ہیں) کہ میں ابوسعید خدری ؓ کے پاس گیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا اتنے میں، میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے میں اس کے مارنے کو اٹھا ابوسعید نے اشارہ کیا بیٹھ جا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں ابوسعید خدری ؓ نے کہا اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ خندق میں گیا پھر وہ یکایک آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجیے میں نے شادی کی ہے آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور فرمایا ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریضہ کا خوف ہے وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا وہ بولی جلدی مت کر اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے وہ گھر میں گیا دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھونے پر بیٹھا ہوا ہے وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کردیا وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مرگیا معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے جب رسول اللہ ﷺ سے قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا مدینہ میں جن مسلمان ہوگئے ہیں۔ تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اسے آگاہ کیا کرو اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Malik related to me from Safiyy, the mawla of Ibn Aflah that Abus-Saib, the mawla of Hisham ibn Zuhra said, "I went to Abu Said al-Khudri and found him praying. I sat to wait for him until he finished the prayer. I heard a movement under a bed in his room, and it was a snake. I stood up to kill it, and Abu Said gestured to me to sit. When he was finished he pointed to a room in the house and said, Do you see this room? I said, Yes. He said, There was a young boy in it who had just got married. He went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to al-Khandaq, (the ditch which the muslims dug in the 5th year of the Hijra to defend Madina against the Quraysh and their allies). When he was there, the youth came and asked his permission, saying, "Messenger of Allah. Give me permission to return to my family." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave him permission and said, "Take your weapons with you, for I fear the Banu Quraydha tribe. They may harm you." The youth went to his family and found his wife standing between the two doors. He lifted his spear to stab her as jealousy had been aroused in him. She said, "Dont be hasty until you go in and see what is in your house." He entered and found a snake coiled up on his bed. He transfixed it with his spear and then went out with it and pitched it into the house. The snake stirred on the end of the spear and the youth fell dead. No one knew which of them died first, the snake or the youth. That was mentioned to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "There are jinn in Madina who have become muslim. When you see one of them, call out to it for three days. If it appears after that, then kill it, for it is a shaytan." "
بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْكَلَامِ فِي السَّفَرِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ يَقُولُ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَمِنْ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے سفر کے قصہ سے تو فرماتے کہ اللہ کے نام سے سفر کرتا ہوں اے پروردگار تو رفیق ہے سفر میں اور خلیفہ ہے میرے اہل و عیال میں اے پروردگار نزدیک کر دے ہم کو زمین جہاں ہم جاتے ہیں اور آسان کر ہم پر سفر اے پروردگار پناہ مانگتا ہوں میں تجھ سے سفر کی تکلیف سے اور برے لو ٹنے اور برے حال اور مال کے خولہ بنت حکیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی منزل میں اترے اور کہے کہ پناہ مانگتے ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ہر مخلوق کے شر سے تو اس کو کسی چیز سے نقصان نہ ہوگا کوچ کے وقت تک
Malik related to me that he heard that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, set foot in the stirrup intending to travel, he would say, "In the name of Allah. O Allah! You are my companion in the journey and the Khalifa of my family. O Allah! Spread out the earth for us and make the journey easy for us. O Allah! I seek refuge with You from the hardship of the journey and from returning to sorrow and a distressing sight regarding property and family."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاکِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَکْبٌ
عبداللہ بن عمر بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اکیلا سفر کرنے والا شیطان ہے اور دو مل کر سفر کرنے والے دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہے۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Harmala from Amr ibn Shuayb from his father from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "One rider is a shaytan. Two riders are two shaytans, and three are a riding-party."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالْاثْنَيْنِ فَإِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان قصد کرتا ہے ایک دو پر جب آدمی ہوں تو ان پر قصد نہیں کرتا
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Harmala that Said ibn al-Musayyab heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Shaytan concerns himself with one and two. When there are three, he does not concern himself with them."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس کو درست نہیں سفر کرنا ایک دن رات کا مگر اپنے محرم کے ساتھ
Malik related to me from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is not halal for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel the distance of a day and night without a man who is her mahram."
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ يَرْفَعُهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَی بِهِ وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَی الْعُنْفِ فَإِذَا رَکِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا فَإِنْ کَانَتْ الْأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا وَعَلَيْکُمْ بِسَيْرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَی بِالنَّهَارِ وَإِيَّاکُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَی الطَّرِيقِ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الْحَيَّاتِ
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نرمی کرتا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے نرمی کرنے پر اور مدد کرتا ہے نرمی پر وہ جو نہیں کرتا سختی پر جب تم چڑھو ان بےزبان جانوروں پر تو اتارو ان کو ان کی منزلوں پر اگر زمین صاف ہو جہاں گھاس نہ ہو تو جلدی سے نکال لے جاؤ تاکہ اس میں گودار ہے اور لازم کرلو رات کا چلنا کیونکہ رات کے چلنے میں جیسے راہ کٹتی ہے ویسی دن کو نہیں کٹتی تو رات کو جب اترو تو راستے میں نہ اترو کیونکہ وہاں جانور آتے جاتے ہیں اور سانپ بھی رہا کرتے ہیں۔
Malik related to me from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abdul Malik from Khalid ibn Madan who attributed it to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "Allah, the Blessed and Exalted is kind and loves kindness. He is pleased with it and helps you with it as long as it is not misplaced. When you ride dumb beasts, stop them in their stopping places, and quicken their pace when the land is barren. Travel by night, because the land is travelled faster at night than it is during the day. Beware of pitching tents on the road, for it is the path of animals and the abode of snakes."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر بھی ایک قسم کا عذاب ہے۔ روک دیتا ہے آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے تو جب تم میں سے کوئی اپنے کام کیلئے سفر کرے اور وہ کام پورا ہوجائے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
Malik related to me from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from Abu Salih from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Travelling is a portion of the torment. It denies you your sleep, food, and drink. When you have accomplished your purpose, you should hurry back to your family."
غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا
بَاب الْأَمْرِ بِالرِّفْقِ بِالْمَمْلُوكِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يُكَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ فَإِذَا وَجَدَ عَبْدًا فِي عَمَلٍ لَا يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مملوک ( غلام لونڈی) کو کپڑا اور کھانا ملے گا موافق دستور کے اور کام اس سے نہ لیا جائے طاقت سے زیادہ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن الخطاب ہر ہفتے کے روز مدینے کے آس پاس گاؤں میں جایا کرتے تھے جب کسی غلام کو ایسے کام میں مشغول پاتے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتا تو کم کردیتے تھے۔
Malik related to me that he heard that Abu Hurayra said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A slave has his food and clothing in the normal manner, and he is only obliged to do such work as he is capable of doing."
غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا
عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ لَا تُکَلِّفُوا الْأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوهَا ذَلِکَ کَسَبَتْ بِفَرْجِهَا وَلَا تُکَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْکَسْبَ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمْ اللَّهُ وَعَلَيْکُمْ مِنْ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا
مالک بن ابی عامر اصبحی نے حضرت عثمان بن عفان سے سنا وہ خطبے میں فرماتے تھے کہ جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس کو مجبور مت کرو کمائی پر کیونکہ جب تم اس کو مجبور کرو گے کمائی پر تو وہ غلط کام (حرام کاری) سے کمائی گی اور نابالغ غلام کو کمائی پر مجبور مت کرو کیونکہ وہ جب مجبور ہوگا تو چوری کرے گا اور جب اللہ تمہیں اچھی طرح روزی دیتا ہے تو تم بھی ان کو محنت معاف کردو جیسے اللہ نے تمہیں معاف کیا ہے اور لازم کرو وہ کمائی جو حلال ہے
Malik related to me from his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik, that his father heard Uthman ibn Affan say in a khutba, "Do not oblige the slave-girl to earn money unless she has a skill. When you oblige her to do that, she will earn money by prostitution. Do not oblige the child to earn money. If he does not find it, he will steal. Have integrity since Allah has integrity with you, and you must feed them good food."
غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غلام جب اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت بھی کرے تو اس کو دوہرا ثواب ہوگا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a slave gives good counsel to his master and worships Allah correctly, he has his reward twice over. "
غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَمَةً کَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ فَدَخَلَ عَلَی ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ جَارِيَةَ أَخِيکِ تَجُوسُ النَّاسَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ وَأَنْکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ
امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کی ایک لونڈی تھی اس نے آزاد عورتوں کی وضع بنائی تھی حضرت عمر نے اس کو دیکھا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام المومنین حفصہ کے پاس گئے اور کہا میں نے تیرے بھائی کی لونڈی کو دیکھا جو آزاد عورتوں کی وضع بنا کو لوگوں میں پھرتی ہے اور حضرت عمر نے اس کو برا جانا
Malik related to me that he heard that Umar ibn al-Khattab saw a female slave belonging to Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab. She was dressed up in silks. He went to his daughter Hafsa and said, "Didnt I see your brothers slave-girl dressed up in silks walking among the people and causing trouble?" Umar disapproved of that.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے ماننے اور طاعت کرنے پر تو شفقت اور رحمت سے آپ ﷺ فرماتے کہ جہاں تک تم کو طاقت ہو۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, "When we took an oath of allegiance with him to hear and obey, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to us, In what you are able. "
عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ بَايَعْنَهُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُکَ عَلَی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيَکَ فِي مَعْرُوفٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قَالَتْ فَقُلْنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ کَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ
امیمہ بنت رقیقہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ کے پاس آئی بہت سی عورتوں میں جو بیعت کرنے کو آئی تھیں دین اسلام پر ان عورتوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ ﷺ سے بیعت کرتی ہیں اس بات پر کہ شریک نہ کریں گی ساتھ اللہ کے کسی چیز کو اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو ماریں گی اور نہ بہتان باندھیں گی اپنی اپنی طرف سے اسی پر اور نہ آپ ﷺ کی نافرمانی کریں گی شروع کے کام میں رسول اللہ ﷺ نے کمال شفقت اور محبت سے فرمایا جہاں تک تمہاری طاقت یا قدرت ہے
Malik related to me from Muhammad ibn al-Munkadir that Umayma bint Ruqayqa said, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with the women who took an oath of allegiance with him in Islam. They said, Messenger of Allah! We take a pledge with you not to associate anything with Allah, not to steal, not to commit adultery, not to kill our children, nor to produce any lie that we have devised between our hands and feet, and not to disobey you in what is known. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, In what you can do and are able. " Umayma continued, "They said, Allah and His Messenger are more merciful to us than ourselves. Come, let us give our hands to you, Messenger of Allah! ﷺ The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, I do not shake hands with women. My word to a hundred women is like my word to one woman. "
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ فَکَتَبَ إِلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَمَّا بَعْدُ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ سَلَامٌ عَلَيْکَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأُقِرُّ لَکَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کو لکھا بیعت نامہ اس مضمون سے بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جل جلالہ کے بندے سلام ہو تجھ پر میں تعریف کرتا ہو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور اقرار کرتا ہوں تیری بات سننے اور اطاعت کرنے کا اللہ جل جلالہ کے حکم کے موافق اور اس کے رسول کی سنت کے موافق جہاں تک کہ مجھے قدرت ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar wrote to Abdul Malik ibn Marwan, making an oath of allegiance. He wrote, "In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate. To the slave of Allah, Abdul Malik, the amir al-muminin, Peace be upon you. I praise Allah to you. There is no god but Him. I acknowledge your right to my hearing and my obedience according to the sunna of Allah and the sunna of His Prophet, in what I am able."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ کَافِرٌ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a man says to his muslim brother, O kafir! it is true about one of them."