عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَکَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَکُهُمْ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو سنے کسی کو یہ کہتے ہوئے کہ لوگ تباہ ہوگئے تو وہ سب سے زیادہ تباہ ہے
Malik related to me from Suhayl ibn Abu Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you hear a man say, The people are ruined, he himself is the most ruined of them all."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے زمانے کو برا نہ کہے کیونکہ اللہ خود زمانہ ہے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Let none of you complain about time, for Allah is time.
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَهُ انْفُذْ بِسَلَامٍ فَقِيلَ لَهُ تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ فَقَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي الْمَنْطِقَ بِالسُّوئِ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سامنے ایک سور آیا راہ میں، آپ نے فرمایا چلا جا سلامتی سے، لوگوں نے کہا آپ سور سے اس طرح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بری بات چیت کی عادت نہ ہوجائے۔
Malik related to me from Yahya ibn Said that Isa ibn Maryam encountered a pig on the road. He said to it, "Go in peace." Somebody asked, "Do you say this to a pig?" Isa said, "I fear lest I accustom my tongue to evil speech."
عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ
بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی ایک بات کہہ دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے اللہ اپنی رضا مندی قیامت تک اس بندے سے لکھ دیتا ہے اور ایک ایسی بات کہتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے قیامت تک اللہ اپنی نارا ضگی اس بندے کیلئے لکھ دیتا ہے۔
Malik related to me from Muhammad ibn Amr ibn Alqama from his father from Bilal (RA) ibn al-Harith al-Muzani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man speaks what is pleasing to Allah and he does not suspect that it will have the result that it does, and Allah will write for him His good pleasure for it until the day when he meets Him. And a man speaks what excites the wrath of Allah and he does not suspect that it will have the result that it does, and Allah will write His wrath for him for it until the day when he meets Him."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا فِي الْجَنَّةِ
ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abu Salih as-Samman informed him that Abu Hurayra said, "Truly a man utters words to which he attaches no importance, and by them he falls into the fire of Jahannam, and truly a man utters words to which he attaches no importance, and by them Allah raises him into the Garden."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ قَالَ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ کَانَ يَقُولُ لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَيْرِ ذِکْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنْ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِيدٌ فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًی وَمُعَافًی فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَائِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَی الْعَافِيَةِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلَا تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ
ز ید بن اسلم سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے انہوں نے خطبہ پڑھا لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے آپ نے فرمایا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مت باتیں کرو بےکار سوائے یاد الٰہی کے کہ کہیں سخت ہوجائیں دل تمہارے اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم رب ہو۔ اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عائشہ ؓ بعد نماز عشاء کے اپنے لوگوں سے کہلا بھیجتیں کیا اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam that Abdullah ibn Umar said, "Two men from the east stood up and spoke, and people were amazed at their eloquence. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Some eloquence is sorcery, or he said, Part of eloquence is sorcery. "
عَنْ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْغِيبَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْکُرَ مِنْ الْمَرْئِ مَا يَکْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ کَانَ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِکَ الْبُهْتَانُ
مطلب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے غیبت کس کو کہتے ہیں آپ نے فرمایا کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو، وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ سچ ہو آپ نے فرمایا اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے۔
Malik related to me from al-Walid ibn Abdullah ibn Sayyad that al-Muttalib ibn Abdullah ibn Hantab al-Makhzumi informed him that a man asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "What is backbiting?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is to mention about a man what he does not want to hear." He said, "Messenger of Allah! Even if it is true?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you utter something false, then it is slander."
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا ثُمَّ ذَهَبَ الرَّجُلُ يَقُولُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَأَسْکَتَهُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ بچا دے دو چیزوں کی برائی سے وہ جنت میں جائے گا۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم کو نہیں بتاتے وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص یہی بولا اور آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا یعنی آپ ہم کو نہیں بتاتے؟ پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص بولا آپ ہم کو نہیں بتاتے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا جاتا تھا اتنے میں ایک دوسرے شخص نے اس کو چپ کرا دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرمایا جس کو اللہ دو چیزوں کے شر سے بچا دے وہ جنت میں جائے گا ایک وہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے بیچ میں ہے یعنی زبان دوسری وہ جو اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں ہے (شرم گاہ) تین بار آپ نے اس کو ارشاد فرمایا۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whomever Allah protects from the evil of two things will enter the Garden." A man said, "Messenger of Allah, do not tell us!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was silent. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, repeated what he had said the first time. The man said to him, "Do not tell us, Messenger of Allah! ﷺ " The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was silent. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said the same thing again. The man said, "Do not tell us, Messenger of Allah! ﷺ " Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said the same thing again. Then the man began to say what he had said previously and a man at his side silenced him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whomever Allah protects from the evil of two things will enter the Garden. They are what is between his jaws and what is between his legs, what is between his jaws and what is between his legs, what is between his jaws and what is between his legs."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دَخَلَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَهْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر گئے ابوبکر کے پاس اور وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر نے کہا ٹھہرو بخشے اللہ تم کو ابوبکر صدیق نے کہا اسی نے مجھ کو تباہی میں ڈالا ہے۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab came upon Abu Bakr (RA) as-Siddiq pulling his tongue. Umar said to him, "Stop, may Allah forgive you!" Abu Bakr (RA) replied, "This has brought me to dangerous places."
دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ فَجَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلًا آخَرَ حَتَّی کُنَّا أَرْبَعَةً فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ اسْتَأْخِرَا شَيْئًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار کے ساتھ تھا عبداللہ بن عمر سے کان میں کچھ کہنا چاہا اور عبداللہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا عبداللہ بن عمر نے ایک اور شخص کو بلایا اب ہم چار آدمی ہوگئے پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا ذرا ہٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar saying, "Abdullah ibn Umar and I were at the house of Khalid ibn Uqba who was away at the market. A man came who wanted to speak to Abdullah ibn Umar and I was the only other person present Abdullah ibn Umar called another man so that we were four and said to me and the man whom he had called, Go a little way off together, because I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Two do not converse secretly to the exclusion of another. "
دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو دو مل کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں تیسرے کو چھوڑ کر۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Two must not converse secretly to the exclusion of another person."
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَيْرَ فِي الْکَذِبِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جُنَاحَ عَلَيْکَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ صَدَقَ وَبَرَّ وَكَذَبَ وَفَجَرَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ فَقَالَ لُقْمَانُ صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْكَاذِبِينَ
صفو ان بن سیلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول ﷺ سے کہا میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے اور وہ شخص بولا میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لئے یوں کر دوں گا یہ بنا دوں گا آپ نے فرمایا اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے لازم جانوں تم سچ بولنے کو کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور بچو تم جھوٹ سے کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت لقمان سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ لقمان نے کہا سچ بولنے سے امانت داری سے اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے پھر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے
Malik related to me from Safwan ibn Sulaym that a man asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Can I lie to my wife, Messenger of Allah? ﷺ " The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "There is no good in lying." The man said, "Messenger of Allah! Shall I make her a promise and tell her?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It will not be held against you."
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا فَقَالَ لَا
صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
Malik related to me that Safwan ibn Sulaym said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked, Can the mumin be a coward? He said, Yes. He was asked, Can the mumin be a miser? He said, Yes. He was asked, Can the mumin be a liar? He said, No. "
مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْضَی لَکُمْ ثَلَاثًا وَيَسْخَطُ لَکُمْ ثَلَاثًا يَرْضَی لَکُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَکُمْ وَيَسْخَطُ لَکُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ
ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ ؓ سنا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بےجا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔
Malik related to me from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah is pleased with three things from you, and He is angry with three things from you. He is pleased that you worship Him and do not associate anything with Him, and that you take hold of the rope of Allah altogether, and that you give good counsel to the one to whom Allah gives command over you. He is angry with you for gossip, squandering property, and asking too many questions."
مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے و ہاں انہی کی سی بات کہہ دے جب دوسرے گروہ میں آئے و ہاں ان کی بات کہے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "One of the most evil of people is the two-faced person who shows one face to these people and another face to those people."
چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا
عَنْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
حضرت ام المومنین ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جب گناہ بہت ہونے لگیں۔
Malik related to me that he had heard that Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Messenger of Allah! Shall we be destroyed while there are people who are salih among us?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, if there is much wickedness."
چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا
عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ کَانَ يُقَالُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ وَلَکِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْکَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ کُلُّهُمْ
عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب عذاب کے مستحق ہوں گے۔
Malik related to me that Ismail ibn Abi Hakim heard Umar ibn Abdul Aziz say, "Some say that Allah the Blessed, the Exalted, will not punish the many for the wrong action of the few. However, when the objectionable action is committed openly, then they all deserve to be punished."
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَخٍ بَخٍ وَاللَّهِ لَتَتَّقِيَنَّ اللَّهَ أَوْ لَيُعَذِّبَنَّکَ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو سنا اور میں ان کے ساتھ تھا آپ ایک باغ میں تھے اور میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل تھی آپ فرماتے تھے واہ واہ اے خطاب کے بیٹے ڈر اللہ سے، نہیں تو اللہ عذاب کرے گا تجھ کو۔
Malik related to me from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I heard Umar ibn al-Khattab, when I was going out with him to visit an orchard, say to himself, and there was a wall between him and me and he was inside the garden, Umar ibn al-Khattab, amir al-muminin! Well done! Well done! By Allah, fear Allah or he will punish you. "
عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَقُولُ أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَمَا يَعْجَبُونَ بِالْقَوْلِ قَالَ مَالِک يُرِيدُ بِذَلِکَ الْعَمَلَ إِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَی عَمَلِهِ وَلَا يُنْظَرُ إِلَی قَوْلِهِ
قاسم بن محمد کہتے تھے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ باتوں پر فریفیہ نہیں ہوتے تھے۔
Malik said, "I heard that al-Qasim ibn Muhammad used to say, I have seen the people, (i.e. the companions), and they were not impressed by speech. " Malik said, "He meant that only action and deeds would be looked at, not words."
بادل گر جنے کے وقت کیا کہنا چایے
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ کَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَکَ الْحَدِيثَ وَقَالَ سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ هَذَا لَوَعِيدٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ
عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے کہ پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے ایک فرشتہ جو مقرر ہے ابر (بادل) پر اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوئی اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے پھر کہتے تھے کہ یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔
Malik related to me that Amir ibn Abdullah ibn az-Zubayr would stop speaking when he heard thunder and say, "Glory be to Allah whom the thunder glorifies with His praise and the angels from the fear of Him." (Subhana-aladhee yusabihu ar-radu bi hamdihi wa malaikatu min khiyfatihi.) Then he would say, "This is a severe warning to the people of the earth."