رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت ام المومینن عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں نے بعد آپ کی وفات کے چاہا کہ حضرت عثمان کو ابوبکر صدیق کے پاس بھجیں اور اپنا ترکہ طلب کریں تو حضرت عائشہ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha, umm al-muminin that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, died, the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, wanted to send Uthman ibn Affan to Abu Bakr (RA) as-Siddiq to ask him about their inheritance from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace Aisha said to them, "Didnt the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, No one inherits from us. What we leave is sadaqa. "
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دَنَانِيرَ مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے وارث ترکہ کو تقسم نہ کریں گے جو میں چھوڑ جاؤں اپنی بیبیوں کی خوراک کے اور عامل کے خرچ کے بعد وہ سب صدقہ ہے
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "My inheritance is not divided up by the dinar. What I leave apart from the maintenance of my wives and provision for my servant is sadaqa."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِيَةً قَالَ إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْئًا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آدمیوں کی آگ جس کو وہ سلگاتے ہیں ایک جز ہے ستر جزوں میں سے جہنم کی آگ کا ( یعنی جہنم کی آگ میں اس آگ سے انہتر حصے زیادہ جلن اور تیزی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ آگ دنیا ہی کی کافی تھی ( جلانے کو) آپ نے فرمایا وہ آگ اس آگ سے انہتر حصے زیادہ ہے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The fire of the children of Adam which they kindle is a seventieth part of the fire of Jahannam." They said, "Messenger of Allah, this fire is certainly enough." He said, "That fire is sixty-nine times greater."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَتُرَوْنَهَا حَمْرَائَ کَنَارِکُمْ هَذِهِ لَهِيَ أَسْوَدُ مِنْ الْقَارِ وَالْقَارُ الزِّفْتُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کیا تم جہنم کی آگ کو سرخ سمجھتے ہو جیسے دنیا کی آگ۔ وہ قار سے بھی زیادہ سیاہ ہے اور قار کو زفت کہتے ہیں۔ (تارکول)
Malik related to me from his paternal uncle Abu Suhayl ibn Malik from his father that Abu Hurayra said, "Do you think that it is red like this fire of yours? It is blacker than tar."
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ کَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا کَانَ إِنَّمَا يَضَعُهَا فِي کَفِّ الرَّحْمَنِ يُرَبِّيهَا کَمَا يُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ
سعد بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص حلال مال سے صدقہ دے اور اللہ جل جلالہ نہیں قبول کرتا مگر مال حلال کو تو وہ اس صدقے کو اللہ جل جلالہ کی ہتھلی میں رکھتا ہے اور پروردگار اس کو پرورش کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے پالتا ہے اپنے بھپیرے (اونٹ کے بچے کو) کو اور وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
Malik related to me from Yahya ibn Said from Abul-Hubab Said ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever gives sadaqa from good earning - and Allah only accepts the good - it is as if he placed it in the palm of the Merciful to raise it, as one of you raises his foal or young camel until it is like the mountain "
عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
انس بن مالک کہتے تھے کہ ابوطلحہ سب انصاریوں سے زیادہ مالدار تھے مدینے میں یعنی کھجور کے درخت سب سے زیادہ ان کے پاس تھے اور سب مالوں میں ان کو ایک باغ بہت پسند تھا جس کو بیر حاء کہتے تھے اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیا کرتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ " 3۔ ال عمران: 92) یعنی تم نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو گے اس مال میں سے جس کو تم چاہتے ہو تو ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ارشاد فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اور مجھے اپنے سب مالوں میں بیر حاء پسند ہے وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں اللہ سے اس کی بہتری اور جزاء چاہتا ہوں اور وہ بیر حاء ذخیرہ ہے اللہ کے پاس آپ نے فرمایا واہ واہ یہ مال تو بڑا اجر لانے والا ہے یا بڑے نفع والا ہے اور میں سن چکا ہوں جو تم نے اس مال کے بارے میں کہا ہے میرے نزدیک تم اس مال کو اپنے عزیزوں میں بانٹ دو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ بانٹ دوں پھر ابوطلحہ نے اس کو تقسیم کردیا اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں۔
Malik related to me that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha heard Anas ibn Malik say, "Abu Talha had the greatest amount of property in palm-trees among the Ansar in Madina. The dearest of his properties to him was Bayruha which was in front of the mosque. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to go into it and drink from the pleasant water which was in it." Anas continued, "When this ayat was sent down You will not obtain rightness of action until you expend of what you love, (Sura 2 ayat l76), Abu Talha went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah! Allah, the Blessed, the Exalted, has said, "You will not obtain until you expend of what you love." The property which I love the best is Bayruha. It is sadaqa for Allah. I hope for its good and for it to be stored up with Allah. Place it wherever you wish, Messengerof Allah. " "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Well done! That is property which profits! That is property which profits. I have heard what you have said about it and I think that you should give it to your relatives. Abu Talha said, I will do it, Messenger of Allah! ﷺ Abu Talha therefore divided it among his relatives and the children of his paternal uncle."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْطُوا السَّائِلَ وَإِنْ جَائَ عَلَی فَرَسٍ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو وسائل کو اگرچہ آئے وہ گھوڑے پر۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Give to a beggar even if he comes on a horse."
و حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ أَنْ تُهْدِيَ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلَّا رَغِيفٌ فَقَالَتْ لِمَوْلَاةٍ لَهَا أَعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَتْ لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَعْطِيهِ إِيَّاهُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ قَالَتْ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ أَوْ إِنْسَانٌ مَا كَانَ يُهْدِي لَنَا شَاةً وَكَفَنَهَا فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كُلِي مِنْ هَذَا هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ مِسْكِينًا اسْتَطْعَمَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا عِنَبٌ فَقَالَتْ لِإِنْسَانٍ خُذْ حَبَّةً فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَعْجَبُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَتَعْجَبُ كَمْ تَرَى فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ
مالک، زید بن اسلم، عمرو بن معاذ اشہلی انصاری سے روایت ہے کہ ان کی دادی فرماتی تھیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اے مسلمان عورتو! نہ حقیر کرے کوئی تم میں سے کسی ہمسائی اپنی کو اگرچہ وہ ایک کھر بھیجے بکری کا جلا ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا اور آپ روزہ دار تھیں اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ نے اپنی لونڈی سے کہا یہ روٹی فقیر کو دیدے وہ بولی آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے آپ نے کہا دیدے لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کردی شام کو ایک گھر سے حصہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا حضرت عائشہ نے لونڈی کو بلا کر کہا کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔ امام مالک نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا حضرت عائشہ ؓ اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے انہوں نے ایک آدمی سے کہا ایک دانا انگور کا اٹھا کر اس کو دے وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا حضرت عائشہ نے کہا ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam from Amr ibn Muadh al-Ashali al-Ansari that his grandmother said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, O trusting women! Let none of you despise giving to her neighbour even if it is only a roasted sheeps trotter.
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ثُمَّ قَالَ مَا يَکُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے ان کو دیا پھر انہوں نے سوال کیا آپ ﷺ نے پھر دیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا تمام ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جہاں تک مال ہوگا میں تم سے دریغ نہ کروں گا لیکن جو سوال سے بچے گا تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو قناعت کر کے اپنی تونگری ظاہر کرے گا تو اللہ اس کو غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے
Malik related to me from Malik from Ibn Shihab from Ata ibn Yazid al-Laythi from Abu Said al-Khudri that some people of the Ansar asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he gave to them. Then they asked him again, and he gave to them until he used up what he had. Then he said, "What wealth I have, I will not hoard from you. Whoever has forbearance, Allah will help him. Whoever tries to be independent, Allah will enrich him. Whoever tries to be patient, Allah will give him patience, and no one is given a better or vaster gift than patience."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی هِيَ السَّائِلَةُ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said from the mimbar when mentioning sadaqa and refraining from asking, "The upper hand is better than the lower hand. The upper hand is the one which expends, and the lower one is the one which asks."
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَائٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ رَدَدْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ذَلِکَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُکَهُ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَأْتِينِي شَيْئٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ
عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a gift to Umar ibn al-Khattab, and Umar returned it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Why did you return it?" He said, "Messenger of Allah, didnt you tell us that it is better for us not to take anything from anyone?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "That is by asking. Provision which Allah gives you is different from asking." Umar ibn al-Khattab said, "By the One in whose hand my self is, I will not ask anything from anyone, and anything that comes to me without my asking for it, I will accept."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْکُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْکُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيکَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّکَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِک وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّی أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ ﷺ کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ ﷺ سے سوال کر رہا ہے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت ﷺ سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کردیا ہم کو۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By Him in whose hand myself is! To take your rope and gather firewood on your back is better for you than that you come to a man to whom Allah has given some of His favour and ask him, so he gives to you or refuses."
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِك وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that a man of the Banu Asad said, "My family and I dismounted to rest at Baqi. My family said to me, Go to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and ask him for something that we can eat, and they began to mention their need. I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and found that a man was asking for something, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was saying, I do not have anything to give you. The man turned away from him in anger, saying, By my life! You give to whomever you wish. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, He is angry with me because I do not have anything to give him. Whoever asks of you while he has an uqiya or its like, has asked with importunity. " The man continued, "I said to myself about a camel that we had, It is better than an uqiya. (Malik explained that an uqiya was forty dirhams.) So I returned and did not ask him for anything, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me barley and raisins after that. He gave us from his share until Allah, the Mighty, the Majestic gave us relief."
و عَنْ مَالِك عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ قَالَ مَالِك لَا أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
علاء بن عبدالرحمن کہتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کردیتا ہے۔
Yahya related that Malik heard al-Ala ibn Abd ar-Rahman say, "Sadaqa does not decrease property, and Allah only increases a slave in worth for his restraint, and no slave is humble but that Allah raises him." Malik said, "I do not know whether this hadith goes back to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, or not."
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ
امام مالک کو پنہچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ درست نہیں ہے صدقہ محمد ﷺ کی آل کو کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا۔
Yahya related to me from Malik that he heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Sadaqa to the family of Muhammad is not halal. It is only peoples impurities."
عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ وَکَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ کَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَسْأَلُکَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا
ابوبکر بن محمد، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ ﷺ سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ ﷺ کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ ﷺ کی سرخ ہوجاتیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ ﷺ کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave a man from the Banu Abdul Ashal charge over some sadaqa. When he came to ask him for some camels from the sadaqa, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was so angry that the anger showed in his face. One way in which anger could be recognised in his face was that his eyes became red. Then he said, "This man has asked me for what is not good for me or him. If I refuse it, I hate to refuse. If I give it to him, I will give him what is not good for me or him." The man said, "Messenger of Allah! I will never ask you for any of it!"
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ ادْلُلْنِي عَلَی بَعِيرٍ مِنْ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ جَمَلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلًا بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَکَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاکَهُ فَشَرِبْتَهُ قَالَ فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ
اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that his father said, "Abdullah ibn al-Arqam said, Show me a riding-camel which the amir al-muminim can give me to use. I said, Yes. One of the sadaqa camels. Abdullah ibn al-Arqam said, Would you want a stout man on a hot day to wash for you what is under his lower garment and its folds, and then give it to you to drink? I was angry and said, May Allah forgive you! Why do you say such things to me? Abdullah ibn al-Arqam said, Sadaqa is the impurities of people which they wash off themselves.
عَنْ لُقْمَانَ الْحَکِيمَ أَوْصَی ابْنَهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّ جَالِسْ الْعُلَمَائَ وَزَاحِمْهُمْ بِرُکْبَتَيْکَ فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ کَمَا يُحْيِي اللَّهُ الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَائِ
حضرت لقمان فرماتے تھے اپنے بیٹے سے (مرتے وقت اس بیٹے کا نام شکو تھا یا اسم) کہ اے میرے بیٹے عالموں کے پاس بیٹھا کر اور اپنے گھٹنے ان سے ملادے کیونکہ اللہ جل جلالہ جلاتا (آباد کرتا) ہے دلوں کو حکمت کے نور سے جیسے جلاتا (آباد کرتا) ہے مری ہوئی زمین کو بارش سے۔
Yahya related to me from Malik that he heard that Luqman al-Hakim made his will and counselled his son, saying, "My son! Sit with the learned men and keep close to them. Allah gives life to the hearts with the light of wisdom as Allah gives life to the dead earth with the abundant rain of the sky."
مظلوم کی بد دعا سے بچنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَهُ يُدْعَی هُنَيًّا عَلَی الْحِمَی فَقَالَ يَا هُنَيُّ اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنْ النَّاسِ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَی الْمَدِينَةِ إِلَی زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِکُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَکَ فَالْمَائُ وَالْکَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے مولیٰ کو جس کا نام ہنی تھا عامل مقرر کیا حمی پر (حمی وہ احاطہ ہے جہاں صدقے کے جانور جمع ہوتے ہیں) اور کہا کہ اے ہنی اپنا بازو روکے رہ لوگوں سے، ظلم مت کر کیونکہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور جس کے پاس تیس اونٹ ہیں یا چالیس بکریاں ان کو چرانے سے مت روک اور بچا رہ عثمان نعم بن عضان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں پر رعایت کرنے سے کیونکہ اگر ان کے جانور تباہ ہوجائیں گے تو وہ اپنے باغات اور کھتیوں میں چلے آئیں گے اور تیس اونٹ والا اور چالیس والا اگر تباہ ہوجائے گا تو وہ اپنی اولاد کو لے کر میرے پاس آئے گا اور کہے گا اے امیرالمومنین اے امیرالمومنیں پھر کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا ان کی خبر گیری نہ کروں گا، تیرا باپ نہ ہو (یہ ایک بد دعا ہے عرب کے محاورے میں) پانی اور گھاس دینا آسان ہے مجھ پر سونا چاندی دینے سے قسم اللہ کی وہ جانتا ہے کہ میں نے ان پر ظلم کیا حالانکہ وہ ان کی زمین ہے اور انہی کا پانی ہے، جس پر لڑے زمانہ جاہلیت میں پھر مسلمان ہوئے اسی زمین اور پانی پر، قسم اللہ کی اگر یہ صدقہ کے جانور نہ ہوتے جو انہی کے کام میں آتے ہیں اللہ کی راہ میں تو ان کی زمین سے ایک بالشت بھر بھی نہ لیتا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab gave a mawla of his called Hunayy charge over the hima. He said, "Hunayy! Do not harm the people. Fear the supplication of the wronged, for the supplication of the wronged is answered. Let the one with a small herd of camels and the one with a small herd of sheep enter, but be wary of the livestock of Ibn Awf and the livestock of Ibn Affan. If their livestock are destroyed, they will return to palm-trees and agriculture. If the livestock of the one with a small herd of camels and the one with a small herd of sheep are destroyed, he will bring his children to me crying, Amir al-muminin! Amir al-Muminin! Shall I neglect them? Water and pasturage are of less value to me than gold and silver. By Allah, they think that I have wronged them. This is their land and their water. They fought for it in the jahiliyya and became muslims on it in Islam. By He in whose hand my self is! Were it not for the mounts which I give to be ridden in the way of Allah, I would not have turned a span of their land into hima."
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناموں کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَائٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ
محمد بن جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں، محمد (بہت سراہا ہوا) احمد (سب مخلوقات سے زیادہ تعریف کے لائق) ماحی (کفر کو مٹانے والا) میرے ہاتھ سے اللہ کفر کو مٹائے گا اور حاشر سب کا حشر میرے قدم پر ہوگا، (پانچواں) عاقب ہے
Malik related to me from Ibn Shihab from Muhammad ibn Jubayr ibn Mutim that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I have five names. I am Muhammad. I am Ahmad. I am al-Mahi (the effacer), by whom Allah effaces kufr. I am al-Hashir (the gatherer), before whom people are gathered. I am al-Aqib (the last)."