Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 80 of 87

1581Mauwatta Imam Malik

کافر کی آنتوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ الْمُسْلِمُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَأْکُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The muslim eats in one intestine, and the kafir eats in seven! "

1582Mauwatta Imam Malik

کافر کی آنتوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ کَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ حَتَّی شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَی فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر آیا مہمان ہو کر آپ ﷺ نے ایک بکری کے دودھ دوہنے کا حکم کیا وہ سب پی گیا پھر دوسری بکری کو دوہا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری بکری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا پھر دوسرے دن صبح کو وہ شخص مسلمان ہوگیا آپ ﷺ نے بکری کا دودھ اس کے پینے کو دیا وہ پی نہ سکا تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave hospitality to a kafir guest. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered a sheep to be brought for him and it was milked. He drank its milk. Then another came, and he drank it. Then another came and he drank it until he had drunk the milk of seven sheep. In the morning he became muslim, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered a sheep for him. It was milked and he drank its milk. Then he ordered another for him and he could not finish it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The mumin drinks in one intestine, and the kafir drinks in seven intestines."

1583Mauwatta Imam Malik

چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پئے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Zayd ibn Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Abi Bakras-Siddiq from Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A person who drinks from a silver vessel brings the fire of Jahannam into his belly."

1584Mauwatta Imam Malik

چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں

عَنْ أَبِي الْمُثَنَّی الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَی مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فَاکَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنِّي أَرَی الْقَذَاةَ فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانُوا يَشْرَبُونَ قِيَامًا

ابو مثنی جہنی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں ابوسعید خدری آئے مروان نے ان سے کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ نے پانی میں پھونکنے سے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا ہاں! ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرکے سانس لے لیا کر پھر وہ شخص بولا میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہادے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور عثمان بن عفان کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Ayyub ibn Habib, the mawla of Sad ibn Abi Waqqas that Abul-Muthanna al-Juhani said, "I was with Marwan ibn al-Hakam and Abu Said al-Khudri came to him. Marwan ibn al-Hakam said to him, Have you heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade blowing into drinks? Abu Said said to him, Yes. A man said to him, Messenger of Allah, I am not quenched from one breath. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, Remove the cup from your mouth and then breathe. He said, Sometimes I see something floating in it? He said, Then pour it out."

1585Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَا لَا يَرَيَانِ بِشُرْبِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ قَائِمٌ بَأْسًا

ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور سعد بن ابی وقاص کھڑے ہو کر پانی پینے میں کچھ قباحت نہیں جانتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Aisha, umm al-muminin and Sad ibn Abi Waqqas did not see any harm in a man drinking while standing.

1586Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَشْرَبُ قَائِمًا

ابو جعفر قاری نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کھڑے کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik that Abu Jafar al-Qari said, "I saw Abdullah ibn Umar drink while standing."

1587Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا

عبداللہ بن زبیر ؓ کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Amir ibn Abdullah ibn az-Zubayr that his father used to drink while standing.

1588Mauwatta Imam Malik

پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَائٍ مِنْ الْبِئْرِ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَی الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کے پاس دودھ آیا جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا اور داہنی طرف آپ ﷺ کے بدوی تھا اور بائیں طرف ابوبکر ؓ تھے تو آپ ﷺ نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا پہلے داہنی طرف والے کو دو پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought some milk which was mixed with well-water. There was a Bedouin at his right side and Abu Bakr (RA) as-Siddiq on his left. He drank and then gave it to the Bedouin and said, "The right-hand to the right-hand."

1589Mauwatta Imam Malik

پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَائِ فَقَالَ الْغُلَامُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْکَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ

سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا آپ ﷺ نے پیا آپ ﷺ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے آپ ﷺ نے لڑکے سے فرمایا اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟ جو بائیں طرف تھے، لڑکے نے کہا نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ میں اپنا حصہ آپ ﷺ کے جو ٹھے میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا تو رسول اللہ ﷺ نے اسی لڑکے کو دے دیا۔

Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar from Sahl ibn Sad al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought a drink and he drank some of it. There was a boy at his right and some old men on his left. He said to the boy, "Will you give me permission to give it to these people?" The boy said, "No, Messenger of Allah, I will not prefer anyone to get my portion from you." He said, "So the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, placed it in his hand."

1590Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ لِلطَّعَامِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنْ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ بِالدُّخُولِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا

انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم سے: کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی۔ تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی ام سلیم نے کچھ روٹیاں جو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں کھڑا ہو رہا آپ ﷺ نے خود پوچھا کیا تجھ کو ابا طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کھانے کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں! رسول اللہ ﷺ نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا سب اٹھو! سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور ابوطلحہ کو جا کر خبر کی، ابوطلحہ نے ام سلیم سے کہا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ابوطلحہ نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے آکر ملے یہاں تک کہ ابوطلحہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں مل کر آئے آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ! ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں آپ ﷺ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا پھر ام سلیم نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی وہ ملیدہ بن گیا اس کے بعد جو اللہ جل جلالہ کو منظور تھا وہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس کو اور بلاؤ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسی (80) سب سیر ہوگئے۔

Yahya related to me from Malik that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha heard Anas ibn Malik say that Abu Talha had said to Umm Sulaym, "I have just been listening to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and his voice was very weak. I recognised hunger in it, so, do you have anything?" She replied, "Yes," and brought out some barley loaves. She took her long head scarf and wrapped up the bread with part of it and put it into my (Anass) hand and gave me part of it to wear. Then she sent me to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." Anas continued, "I took it, and I found the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sitting in the mosque with some people. I watched them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Did Abu Talha send you? I replied, Yes. He said, For food? I said, Yes. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to those with him, Let us go. He set off and I went among them until I came to Abu Talha and told him. Abu Talha said, Umm Sulaym! The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, has brought people and we have no food. What shall we give them to eat? She said, Allah and His Messenger know best. " Anas continued, "Abu Talha went out and met the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, approached with Abu Talha until they entered. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Come now, Umm Sulaym, what have you got? She brought out bread. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered it to be broken into pieces, and Umm Sulaym squeezed out onto it a container of clarified butter which she had seasoned. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said whatever Allah wished him to say, and said, Will you give permission for ten of them to come in? He gave them permission, and they ate until they were full and then left. He said, Give permission to ten more. He gave them permission, and they ate until they were full and left. Then he said, Give permission to ten more. He gave them permission and they ate until they were full and left. Then he said, Give permission to ten more. He gave permission and they ate until they were full and left. There were seventy or eighty men."

1591Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَعَامُ الْاثْنَيْنِ کَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ کَافِي الْأَرْبَعَةِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The food of two is enough for three, and the food of three is enough for four."

1592Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْکُوا السِّقَائَ وَأَکْفِئُوا الْإِنَائَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَائَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِکَائً وَلَا يَکْشِفُ إِنَائً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَی النَّاسِ بَيْتَهُمْ

جابر بن عبداللہ اسلمی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بند کر دروازے کو اور منہ باندھا کرو مشک کا اور بند رکھا کرو برتن کو اور بجھا دیا کرو چراغ کو کہ شیطان دروازہ کو نہیں کھولتا اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا اور برتن نہیں کھولتا اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Jabir ibn Abdullah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Lock the door, tie the waterskin, turn the vessel over or cover it, and put out the lamp. Shaytan does not open a locked door or untie a tied knot, or uncover a vessel. A mouse may set fire to peoples houses about them."

1593Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْکَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَضِيَافَتُهُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّی يُحْرِجَهُ

ابی شریح الکعبی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے اور تین رات دن تک جو کچھ خاطر ہو کھلائے اور زیادہ اس سے ثواب ہے اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Shurayh al-Kabi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever believes in Allah and the Last Day should speak good or be silent. Whoever believes in Allah and the Last Day should be generous to his neighbour. Whoever believes in Allah and the Last Day, should be generous to his guest. His welcome is for a day and a night, and his hospitality is for three days. Whatever is more than that is sadaqa. It is not halal for a guest to stay with a man until he becomes a burden."

1594Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ حَتَّی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ فِي کُلِّ ذِي کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت شدت سے پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں دیکھا اس میں اتر کر پانی پیا جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ جل جلالہ اس سے خوش ہوگیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کے جگر میں ثواب ہے۔

Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man was walking on a road when he became very thirsty. He found a well and went into it and drank and came out. There was a dog panting and eating earth out of thirst. The man said, This dog has become as thirsty as I was. He went down into the well and filled his shoe and then held it in his mouth until he climbed out and gave the dog water to drink. Allah thanked him for it and forgave him." They said, "Messenger of Allah, do we have a reward for taking care of beasts?" He said, "There is a reward for every one with a moist liver."

1595Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ قَالَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّهُ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ قَالَ فَکَانَ يُقَوِّتُنَاهُ کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی فَنِيَ وَلَمْ تُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهُ ذَلِکَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا ساحل دریا کی طرف اور ان پر حاکم مقر کیا ابوعیبدہ بن جراح کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے میں بھی ان میں شریک تھا راہ میں کھانا ختم ہوچکا ابوعبیدہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے ابوعبیدہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصہ میں آنے لگی پھر وہ بھی تمام ہوگئی وہب بن کیسان کہتے ہیں میں نے جابر سے پوچھا ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ دریا کے کنارے پر ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا پھر ابوعیبدہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا۔

Yahya related to me from Malik from Wahb ibn Kaysan that Jabir ibn Abdullah said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a delegation to the coast. Abu Ubayda ibn al-Jarrah was in command of them. There were 30O people and I was among them. We went out until we had gone part of the way and our provisions were finished. Abu Ubayda ordered that the provisions of the army be gathered up and they amounted to two containers of dates. He used to give us a little provision from it each day until it was finished, and we used to have only a single date each. I said, What use is one date? He said, We will certainly feel its loss when they are finished. " Jabir continued, "Then we reached the sea and there was a fish like a small mountain. The army ate from it for eighteen nights. Then Abu Ubayda ordered two ribs from it to be set up. Then he commanded that a camel be ridden underneath them and it did not touch them."

1596Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا

عمر بن سعد بن معاذ کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو! نہ ذلیل کرے کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو اگرچہ وہ ایک کھر جلا ہوا بکری کا بھیجے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Amr ibn Sad ibn Muadh from his grandmother that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "O trusting women, none of you must consider even a roasted sheeps trotter too small to give to her neighbour."

1597Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ نُهُوا عَنْ أَکْلِ الشَّحْمِ فَبَاعُوهُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَيْكُمْ بِالْمَاءِ الْقَرَاحِ وَالْبَقْلِ الْبَرِّيِّ وَخُبْزِ الشَّعِيرِ وَإِيَّاكُمْ وَخُبْزَ الْبُرِّ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَقُومُوا بِشُكْرِهِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا أَخْرَجَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں آئے وہاں ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔

Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Abi Bakr said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, May Allah curse the jews! They were forbidden to eat fat, so they sold it and ate its price. "

1598Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَأْکُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ فَقَالَ عُمَرُ کَأَنَّکَ مُقْفِرٌ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَکَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُکْتُ أَکْلًا بِهِ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عُمَرُ لَا آکُلُ السَّمْنَ حَتَّی يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے ایک بدو آیا آپ نے اس کے بلایا وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا حضرت عمرب نے فرمایا بڑا ندیدہ ہے اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا حضرت عمر ؓ نے کہا میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہوجائے۔

Yahya related to me from Malik that he heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the mosque and found Abu Bakr (RA) as-Siddiq and Umar ibn al-Khattab there. He questioned them and they said, "Hunger has driven us out." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "And hunger has brought me out." They went to Abul-Haytham ibn at-Tayyihan al-Ansari. He ordered that some barley that was in the house be prepared and he got up to slaughter a sheep for them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Leave the one with milk." He slaughtered a sheep for them and brought them sweet water and it was hung on a palm-tree. Then they were brought the food and ate it and drank the water. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, recited, "Then, on that day, you will be asked concerning pleasure." (Sura 102 ayat 8).

1599Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ فَيَأْکُلُهُ حَتَّی يَأْکُلَ حَشَفَهَا

حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab was eating bread with ghee. He summoned one of the desert people and he began to eat and follow the grease in the dish with a morsel of bread. Umar said, "It is as if you were poor." He said, "By Allah. I have not eaten ghee nor have I seen food with it since such-and-such a time." Umar declared, "I shall not eat clarified butter until people are given life again like they were first given life," (i.e. on the Day of Rising.)

1600Mauwatta Imam Malik

کھانے پینے سے متعلق مختلف احادیث کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قَفْعَةً نَأْکُلُ مِنْهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ سے ٹڈی کے بارے میں (حلال ہے یا حرام) پوچھا گیا تو کہا حضرت عمر ؓ نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I saw Umar ibn al-Khattab when he was amir al-muminin being given a sa of dates, and he ate all of them, even the inferior ones." Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, Umar ibn al-Khattab was asked about locusts. He said, I would like to have a basket of them, from which we could eat. "