جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَائِ فَقَالَ مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا وَقَعَ مِنْ الْفِتَنِ کَمْ مِنْ کَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار ہوئے اسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ رات کو اللہ جل جلالہ نے کتنے ایک خزانے کھولے اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی ہوشیار کردو ان کو ٹھریوں والیوں کو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up in the night and looked at the horizon of the sky. He said, "What treasures has the night opened? What trials have occurred? How many are dressed in this world and will be naked on the Day of Rising. Warn the women in their rooms."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص اپنا کپڑ لٹکائے گا تکبر کے طور پر تو قیامت کے روز اللہ جل جلالہ اس کی طرف نظر تک نہ کرے گا۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A person who drags his garment in arrogance will not be looked at by Allah on the Day of Rising."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا
ابوہریرہ ؓ سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "On the Day of Rising, Allah the Blessed, the Exalted, will not look at a person who drags his lower garment in arrogance."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ جل جلالہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا کپڑا لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from Nafi and Abdullah ibn Dinar and Zayd ibn Aslam that all of them informed him from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "On the Day of Rising, Allah will not look at a person who drags his garment in arrogance."
کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ أَنَا أُخْبِرُکَ بِعِلْمٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَی أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْکَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
عبدالرحمن بن یعقوب سے روایت ہے کہ کہتے ہیں ابوسعید خدری ؓ سے پوچھا ازار کا حال انہوں نے کہا مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرو اور گھمنڈ کے طور پر۔
Yahya related to me from Malik from al Ala ibn Abd ar-Rahman that his father said, "I asked Abu Said al-Khudri about the lower garment. He said that he would inform me with knowledge and that he had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, The lower garment of the mumin should reach to the middle of his calves. There is no harm in what is between that and the ankles. What is lower than that is in the Fire. What is lower than that is in the Fire. On the Day of Rising, Allah will not look at a person who trails his lower garment in arrogance. "
عورت اپنا کپڑا لٹکا دے تو کیا حکم ہے ؟
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ حِينَ ذُکِرَ الْإِزَارُ فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُرْخِيهِ شِبْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِذًا يَنْکَشِفُ عَنْهَا قَالَ فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ازار لٹکانے کا ذکر کی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ عورت کیا کرے آپ ﷺ نے فرمایا ایک بالشت ازار نیچے رکھے ام سلمہ نے کہا اتنی تو کھل جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا ایک ہاتھ نیچے رکھے اس سے زیادہ نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Abu Bakr (RA) ibn Nafi from his father Nafi, the mawla of Ibn Umar (RA) that Safiyya bint Abi Ubayd informed him that Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said that when the lower garment of women was mentioned to the Messenger of Allah, he said, "She lets it down a handspan." Umm Salama said, "If it leaves her uncovered?" He said, "Then the length of a forearm and let her not increase it."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُکُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر چاہئے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not wear one sandal. Wear both of them or go with both feet bare."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَکُنْ الْيُمْنَی أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے چاہے کہ داہنے پیر میں اول پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you put on sandals, begin with the right foot. When you take them off, begin with the left foot. The right foot is the first to be put in the sandal and the last to be taken out."
عَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّ رَجُلًا نَزَعَ نَعْلَيْهِ فَقَالَ لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْکَ لَعَلَّکَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی قَالَ ثُمَّ قَالَ کَعْبٌ لِلرَّجُلِ أَتَدْرِي مَا کَانَتْ نَعْلَا مُوسَی قَالَ مَالِک لَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ کَعْبٌ کَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری کعب الاحبار نے کہا تم نے کیوں جوتیاں اتاریں شاید تو نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علی نبینا سے جب وہ طور پر جانے لگے فرمایا اتار جوتیاں اپنی مگر تو جانتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں کا ہے کی تھیں۔ کہا مالک نے مجھ معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا کعب نے کہا حضرت موسیٰ کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔
Yahya related to me from Malik from his paternal uncle Abu Suhayl ibn Malik from his father that Kab al-Ahbar said to a man who took off his sandals, "Why have you taken off your sandals? Perhaps you have interpreted this ayat, Remove your sandals. You are in the pure valley of Tuwa? (Sura 2O ayat 12) Do you know what the sandals of Musa were?"
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَی فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْئٌ وَعَنْ أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ عَلَی أَحَدِ شِقَّيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے دو لباسوں سے اور دو بیعوں سے ایک بیع ملامسہ اور دوسرے بیع منابذہ سے اور ایک کپڑے اوڑھ کر اختباء کرنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہوا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade two sales. Mulamasa, in which a man is obliged to buy whatever he touches without any choice in the matter, and munabadha, in which two men throw their garment to each other without either seeing the others garment. He also forbade two ways of dressing. One in which a man sits with his legs drawn up to his chest wrapped in one garment that does not cover his genitals, and the other in which a man wraps a single garment over one arm and shoulder restricting them."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی حُلَّةً سِيَرَائَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَکْسُکَهَا لِتَلْبَسَهَا فَکَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِکًا بِمَکَّةَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کاش آپ ﷺ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ ﷺ کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کپڑا حضرت عمر ؓ کو دیا حضرت عمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ پہلے تو آپ ﷺ نے عطارد کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے پھر حضرت عمر ؓ نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab saw a silk robe at the door of the mosque. He said, "Messenger of Allah, would you buy this robe and wear it on jumua and when envoys come to you?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Only a person who has no portion in the next world wears this." Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was brought some robes of the same material and gave Umar ibn al-Khattab one of the robes. Umar said, "Messenger of Allah, do you clothe me in it when you said what you said about the robe of Utarid?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I did not give it to you to wear." Umar gave it to a brother of his in Makka who was still an idolater.
قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ کَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلَاثٍ لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ
انس بن مالک نے کہا میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا جب کہ وہ امیر المومنی تھے ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے ایک کے اوپر ایک۔
Yahya related to me from Malik that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha said, "Anas ibn Malik said, I saw Umar ibn al-Khattab when he was the amir of Madina. Three patches were sewn between his shoulders, one patched over the other.
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ شریف کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَی رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَکَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَائَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انس بن مالک کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نہ لمبے تھے بہت نہ ٹھگنے تھے سفید تھے چونے کی طرح نہ بہت گندمی اور بال آپ ﷺ کے بہت گھونگریالے بھی نہ تھے اور بہت سیدتے بھی نہ تھے جب آپ ﷺ کا سن چالیس برس کا ہوا تو اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کو نبوت عطا فرمائی پھر بعد بنوت کے آپ ﷺ مکہ میں دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس رہے اور ساٹح برس کی عمر میں آپ ﷺ نے وفات ہوئی اس وقت آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ ہوں گے۔
Yahya related to me from Malik that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman heard Anas ibn Malik say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was not excessively tall or short. He was not very pallid nor dark. He did not have curly hair or lank hair. Allah commissioned him at the age of forty. He stayed in Makka ten years and at Madina for ten years and Allah the Mighty, the Majestic made him die when he was sixty. There were not twenty white hairs in his hair or beard, may Allah bless him and grant him peace."
عیسی بن مریم (علیہ السلام) اور دجال کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو ؓ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I dreamt at night that I was at the Kaba, and I saw a dark man like the most handsome of dark men you have ever seen. He had hair reaching to between his ears and his shoulders like the most excellent of such hair that you have seen. He had combed his hair, and water was dripping from it. He was leaning on two men or on the shoulders of two men doing tawaf around Kaba. I asked, Who is this? It was said, al-Masih ibn Maryam. Then we were with a man with wiry hair and blind in his right eye, as if it was a floating grape. I asked Who is this? It was said to me, This is al-Masih ad-Dajjal. "
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَالْاخْتِتَانُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنت ہیں ایک ناخن کاٹنا دوسرے مونچھیں کتروانا تیسرے بغل کے بال اکھاڑنا چوتھے زیر ناف کے بال مونڈنا پانچویں ختنہ کرنا۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi from his father that Abu Hurayra said, "There are five things from the fitra: cutting the nails, trimming the moustache, removing the hair from the armpit, shaving the pubic region and circumcision."
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّاسِ ضَيَّفَ الضَّيْفَ وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ الشَّارِبَ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَی الشَّيْبَ فَقَالَ يَا رَبِّ مَا هَذَا فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ يَا رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا عَنْ مَالِک يَقُولُ يُؤْخَذُ مِنْ الشَّارِبِ حَتَّی يَبْدُوَ طَرَفُ الشَّفَةِ وَهُوَ الْإِطَارُ وَلَا يَجُزُّهُ فَيُمَثِّلُ بِنَفْسِهِ
سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت ابراہیم ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ کیا ہے اللہ جل جلالہ نے فرمایا یہ عزت اور وقار ہے، حضرت ابراہیم نے کہا تو اے پروردگار زیادہ عزت دے مجھ کو۔ کہا مالک نے مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyub said, "Ibrahim, may Allah bless him and grant him peace, was the first to give hospitality to the guest and the first person to be circumcised and the first person to trim the moustache and the first person to see grey hair. He said, O Lord! What is this? Allah the Blessed, the Exalted, said, It is dignity, Ibrahim. He said, Lord, increase me in dignity! "
بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَأْکُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّائَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ کَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا بائیں ہاتھ سے کھانے کو اور ایک جوتا پہن کر چلنے کا اور ایک کپڑا سر سے پاؤں تک لپیٹ لینے کو اور ایک کپڑا اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھنے کو اس طرح کہ شرم گاہ کھلی رہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr from Jabir ibn Abdullah as-Salami that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade a man to eat with his left hand or walk in one sandal or wrap a single garment around his drawn-up legs exposing his genitals.
بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَأْکُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْکُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب کوئی کھائے تم میں سے تو اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے پئے اس واسطے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Bakr (RA) ibn Ubaydullah ibn Abdullah ibn Umar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you eat, eat with your right hand and drink with your right hand. Shaytan eats with his left hand and drinks with his left hand."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْکِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يَفْطُنُ النَّاسُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ ﷺ مسکیں کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہیں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The very poor are not the people who constantly walk from person to person and are given one or two morsels, and one or two dates." They said, "Who are the very poor, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "People who do not find enough for themselves and other people are not aware of them to give sadaqa to them, and they do not start begging from other people."
عَنْ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْحَارِثِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُدُّوا الْمِسْکِينَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ
ام بجید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ دو مسکین کو اگرچہ جلا ہوا کھر ہو۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ibn Bujayd (formerly al-Ansari) from his grandmother that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Give to the very poor, if only a roasted hoof."