عَنْ مَوْلًی لِقُرَيْشٍ کَانَ قَدِيمًا يُقَالُ لَهُ ابْنُ مِرْسَی أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا صَلَّی الظُّهْرَ قَالَ يَا يَرْفَا هَلُمَّ ذَلِکَ الْکِتَابَ لِکِتَابٍ کَتَبَهُ فِي شَأْنِ الْعَمَّةِ فَنَسْأَلَ عَنْهَا وَنَسْتَخْبِرَ عَنْهَا فَأَتَاهُ بِهِ يَرْفَا فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِيهِ مَائٌ فَمَحَا ذَلِکَ الْکِتَابَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَوْ رَضِيَکِ اللَّهُ وَارِثَةً أَقَرَّکِ لَوْ رَضِيَکِ اللَّهُ أَقَرَّکِ
ایک مولیٰ سے قریش کے روایت ہے کہ جس کو ابن موسیٰ کہتے تھے کہا کہ میں بیٹھا تھا عمر بن خطاب کے پاس انہوں نے ظہر کی نماز پڑھ کر یرفا (حضرت عمر کے غلام) سے کہا میری کتاب لے آنا وہ کتاب جو انہوں نے لکھی تھی پھوپھی کی میراث کے بارے، میں نے اپنی رائے سے پھوپھی کے واسطے میراث تجویز کی تھی اس قیاس سے کہ پھوپھی کا وارث بھتیجا ہوتا ہے وہ بھی اس کی وارث ہوگی انہوں نے کتاب منگوائی کہ ہم لوگوں سے پوچھیں اور مشورہ لیں پھر حضرت عمر ؓ نے ایک کڑا ہی یا پیالہ منگایا جس میں پانی تھا اور اس کتاب کو دھو ڈلا اور فرمایا اگر پھوپھی کو حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتا تو اپنی کتاب میں ذکر فرماتا۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amribn Hazm that Abdar-Rahman ibn Hanthala az-Zurqi was informed by a mawla of Quraysh,who used to be known as Ibn Mursi, that he was sitting with Umar ibn al-Khattab, and when they had prayed dhuhr, he said, "Yarfa! Bring that letter! (a letter which he had written about the paternal aunt.) We asked about her and asked for information about her." Yarfa brought it to him. He called for a small vessel or a drinking-bowl in which there was water. He erased the letter in it. Then he said, "Had Allah approved of you as an heir, we would have confirmed you. Had Allah approved of you, we would have confirmed you."
عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ
حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ تعجب کی بات ہے کہ پھوپھی کا بھتیجا وارث ہوتا ہے لیکن بھتیجے کی پھوپھی وارث نہیں ہوتی۔
Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abi Bakr ibn Hazm heard his father say many times, Umar ibn al-Khattab used to say, It is a wonder that the paternal aunt is inherited from and does not inherit. "
بَاب مِيرَاثِ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا فِي وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ أَنَّ الْأَخَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنْ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأَخُ لِلْأَبِ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنْ بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَبَنُو الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى مِنْ بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَبَنُو الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ بَنِي ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَبَنُو ابْنِ الْأَخِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى مِنْ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْعَمُّ أَخُو الْأَبِ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ بَنِي الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَابْنُ الْعَمِّ لِلْأَبِ أَوْلَى مِنْ عَمِّ الْأَبِ أَخِي أَبِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ قَالَ مَالِك وَكُلُّ شَيْءٍ سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ فَإِنَّهُ عَلَى نَحْوِ هَذَا انْسُبْ الْمُتَوَفَّى وَمَنْ يُنَازِعُ فِي وِلَايَتِهِ مِنْ عَصَبَتِهِ فَإِنْ وَجَدْتَ أَحَدًا مِنْهُمْ يَلْقَى الْمُتَوَفَّى إِلَى أَبٍ لَا يَلْقَاهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَى أَبٍ دُونَهُ فَاجْعَلْ مِيرَاثَهُ لِلَّذِي يَلْقَاهُ إِلَى الْأَبِ الْأَدْنَى دُونَ مَنْ يَلْقَاهُ إِلَى فَوْقِ ذَلِكَ فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ كُلَّهُمْ يَلْقَوْنَهُ إِلَى أَبٍ وَاحِدٍ يَجْمَعُهُمْ جَمِيعًا فَانْظُرْ أَقْعَدَهُمْ فِي النَّسَبِ فَإِنْ كَانَ ابْنَ أَبٍ فَقَطْ فَاجْعَلْ الْمِيرَاثَ لَهُ دُونَ الْأَطْرَافِ وَإِنْ كَانَ ابْنَ أَبٍ وَأُمٍّ وَإِنْ وَجَدْتَهُمْ مُسْتَوِينَ يَنْتَسِبُونَ مِنْ عَدَدِ الْآبَاءِ إِلَى عَدَدٍ وَاحِدٍ حَتَّى يَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّى جَمِيعًا وَكَانُوا كُلُّهُمْ جَمِيعًا بَنِي أَبٍ أَوْ بَنِي أَبٍ وَأُمٍّ فَاجْعَلْ الْمِيرَاثَ بَيْنَهُمْ سَوَاءً وَإِنْ كَانَ وَالِدُ بَعْضِهِمْ أَخَا وَالِدِ الْمُتَوَفَّى لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَكَانَ مَنْ سِوَاهُ مِنْهُمْ إِنَّمَا هُوَ أَخُو أَبِي الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ فَقَطْ فَإِنَّ الْمِيرَاثَ لِبَنِي أَخِي الْمُتَوَفَّى لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ قَالَ مَالِك وَالْجَدُّ أَبُو الْأَبِ أَوْلَى مِنْ بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَأَوْلَى مِنْ الْعَمِّ أَخِي الْأَبِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ بِالْمِيرَاثِ وَابْنُ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى مِنْ الْجَدِّ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس امر میں کچھ اختلاف نہیں ہے اور ہم نے اپنے شہر والوں کو اسی پر پایا کہ سگا بھائی مقدم ہے سوتیلے بھائی کا بیٹا مقدم ہے سگے بھائی کے پوتے اور سوتیلے بھائی کا بیٹا مقدم ہے سگے چچا پر اور سگا چچا مقدم ہے سوتیلے چچا پر (جو باپ کا سوتیلا بھائی ہو) اور سوتیلا چچاسگے چچا کے بیٹوں پر مقدم ہے اور سوتیلے چچا کے بیٹے باپ کے چچا پر مقدم ہیں (جو دادا کا سگا بھائی ہو) کہا مالک نے دادا بھتیجوں سے مقدم ہے اور چچا سے بھی مقدم ہے اور بھتیجاسگے بھائی کا بیٹاولاء لینے میں دادا سے مقدم ہے۔
Malik said, "The generally agreed on way of doing things among us, in which there is no dispute, and which I saw the people of knowledge in our city doing, about paternal relations is that full brothers are more entitled to inherit than half-brothers by the father and half-brothers by the father are more entitled to inherit than the children of the full brothers. The sons of the full brothers are more entitled to inherit than the sons of the half-brothers by the father. The sons of the half-brothers by the father are more entitled to inherit than the sons of the sons of the full brothers. The sons of the sons of the half-brothers by the fathers side are more entitled to inherit than the paternal uncle, the full brother of the father. The paternal uncle, the full brother of the father, is more entitled to inherit than the paternal uncle, the half-brotherof the father on the fathers side. The paternal uncle, the half-brother of the father on the fathers side is more entitled to inherit than the sons of the paternal uncle, the full brother of the father. The son of the paternal uncle on the fathers side is more entitled to inherit than the paternal great uncle, the full brother of the paternal grandfather." Malik said, "Everything about which you are questioned concerning the inheritance of the paternal relations is like this. Trace the genealogy of the deceased and whoever among the paternal relations contends for inheritance. If you find that one of them reaches the deceased by a father and none of them except him reaches him by a father, then make his inheritance to the one who reaches him by the nearest father, rather than the one who reaches him by what is above that. If you find that they all reach him by the same father who joins them, then see who is the nearest of kin. If there is only one half-brother by the father, give him the inheritance rather than more distant paternal relations. If there is a full brother and you find them equally related from a number of fathers or to one particular father so that they all reach the genealogy of the deceased and they are all half-brothers by the father or full brothers, then divide the inheritance equally among them. If the parent of one of them is an uncle (the full-brother of the father of the deceased) and whoever is with him is an uncle (the paternal half brother of the father of the deceased), the inheritance goes to the sons of the full brother of the father rather than the sons of the paternal half-brother of the father. That is because Allah, the Blessed, the Exalted, said, Those related by blood are nearer to one another in the Book of Allah, surely Allah has knowledge of everything. "
بَاب مَنْ لَا مِيرَاثَ لَهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّ ابْنَ الْأَخِ لِلْأُمِّ وَالْجَدَّ أَبَا الْأُمِّ وَالْعَمَّ أَخَا الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْخَالَ وَالْجَدَّةَ أُمَّ أَبِي الْأُمِّ وَابْنَةَ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْعَمَّةَ وَالْخَالَةَ لَا يَرِثُونَ بِأَرْحَامِهِمْ شَيْئًا قَالَ وَإِنَّهُ لَا تَرِثُ امْرَأَةٌ هِيَ أَبْعَدُ نَسَبًا مِنْ الْمُتَوَفَّى مِمَّنْ سُمِّيَ فِي هَذَا الْكِتَابِ بِرَحِمِهَا شَيْئًا وَإِنَّهُ لَا يَرِثُ أَحَدٌ مِنْ النِّسَاءِ شَيْئًا إِلَّا حَيْثُ سُمِّينَ وَإِنَّمَا ذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ مِيرَاثَ الْأُمِّ مِنْ وَلَدِهَا وَمِيرَاثَ الْبَنَاتِ مِنْ أَبِيهِنَّ وَمِيرَاثَ الزَّوْجَةِ مِنْ زَوْجِهَا وَمِيرَاثَ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَمِيرَاثَ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَمِيرَاثَ الْأَخَوَاتِ لِلْأُمِّ وَوَرِثَتْ الْجَدَّةُ بِالَّذِي جَاءَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مَنْ أَعْتَقَتْ هِيَ نَفْسُهَا لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اخیافی بھائی کا بیٹا اور نانا اور باپ کا اخیافی بھائی اور ماموں اور نانا کی ماں اور سگے بھائی کے بیٹے اور پھو بھی اور خالہ وارث نہ ہوں گے۔ کہا مالک نے جو عورت دور کے رشتے کی ہو ان عورتوں میں سے وہ وارث نہ ہوگی اور عورتوں میں کوئی وارث نہیں مگر جن کو اللہ جل جلالہ نے بیان کردیا ہے اپنی کتاب میں وہ ماں ہے اور بیٹی اور بیوی اور بہن سگی اور سوتیلی اور بہن اخیافی اور نانی دادی کی میراث حدیث سے ثابت ہے اسی طرح عورت اپنے اس غلام کی وارث ہوگی جس کو وہ آزاد کرے۔
Malik said, "The generally agreed on way of doing things among us in which there is no dispute and which I saw the people of knowledge in our citydoing, is that the child of the half-sibling by the mother, the paternal grandfather, the paternal uncle who is the maternal half-brother of the father, the maternal uncle, the great-grandmother who is the mother of the mothers father, the daughter of the full-brother, the paternal aunt, and the maternal aunt do not inherit anything by their kinship."
ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔
ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ إِنَّمَا وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ قَالَ فَلِذَلِکَ تَرَکْنَا نَصِيبَنَا مِنْ الشِّعْبِ
علی بن حسین سے روایت ہے انہوں نے کہا جب ابوطالب مرگئے تو ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے اور علی ان کے وارث نہیں ہوئے علی بن حسین نے کہا اسی واسطے ہم نے اپنا حصہ مکہ میں گھروں میں سے چھوڑ دیا۔
ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
عَنْ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ ذَکَرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَالَ لَهُ مَنْ يَرِثُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا ثُمَّ أَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَتُرَانِي نَسِيتُ مَا قَالَ لَکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا
محمد بن اشعث کی ایک پھوپھی یہودی تھی یا نصرانی مرگئی محمد بن اشعث نے حضرت عمر ؓ سے بیان کیا اور پوچھا کہ اس کا کون وارث ہوگا عمر بن خطاب ؓ نے کہا اس کے مذہب والے وارث ہوں گے پھر عثمان ؓ بن عفان جب خلیفہ ہوئے تو ان سے پوچھا عثمان نے کہا کیا تو سمجھتا ہے کہ عمر نے جو تجھ سے کہا تھا اس کو میں بھول گیا وہی اس کے وارث ہوں گے جو اس کے مذہب والے ہیں۔
ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَکِيمٍ أَنَّ نَصْرَانِيًّا أَعْتَقَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَلَکَ قَالَ إِسْمَعِيلُ فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَجْعَلَ مَالَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ أَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُوَرِّثَ أَحَدًا مِنْ الْأَعَاجِمِ إِلَّا أَحَدًا وُلِدَ فِي الْعَرَبِ قَالَ مَالِك وَإِنْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ حَامِلٌ مِنْ أَرْضِ الْعَدُوِّ فَوَضَعَتْهُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ فَهُوَ وَلَدُهَا يَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ وَتَرِثُهُ إِنْ مَاتَ مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالسُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّهُ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ بِقَرَابَةٍ وَلَا وَلَاءٍ وَلَا رَحِمٍ وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ لَا يَرِثُ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ وَارِثٌ فَإِنَّهُ لَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ
اسمعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام نصرانی تھا اس کو انہوں نے آزاد کردیا وہ مرگیا تو عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا کہ اس کا مال بیت المال میں داخل کردو۔ سعید بن مسیب کہتے تھے کہ عمر بن خطاب نے انکار کیا غیر ملک کے لوگوں کی میراث دلانے کا اپنے ملک والوں کی مگر جو عرب میں پیدا ہوا ہو۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت حاملہ کفار کے ملک میں سے آ کر عرب میں رہے اور وہاں (بچہ) جنے تو وہ اپنے لڑکے کی وارث ہوگی اور لڑکا اس کا وارث ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ مسلمان کافر کا کسی رشتہ کی وجہ سے وارث نہیں ہوسکتا خواہ وہ رشتہ نانے کا ہو یا ولاء کا یا قرابت کا اور نہ کسی کو اس کی وارثت سے محروم کرسکتا ہے۔ کہا مالک نے اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کرسکتا۔
جن کی موت کا وقت معلوم نہ ہو مثلا لڑائی میں کئی آدمی مارے جائیں ان کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّهُ لَمْ يَتَوَارَثْ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ وَيَوْمَ صِفِّينَ وَيَوْمَ الْحَرَّةِ ثُمَّ کَانَ يَوْمَ قُدَيْدٍ فَلَمْ يُوَرَّثْ أَحَدٌ مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا إِلَّا مَنْ عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ قَبْلَ صَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَلَا شَكَّ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَكَذَلِكَ الْعَمَلُ فِي كُلِّ مُتَوَارِثَيْنِ هَلَكَا بِغَرَقٍ أَوْ قَتْلٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْمَوْتِ إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ لَمْ يَرِثْ أَحَدٌ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا وَكَانَ مِيرَاثُهُمَا لِمَنْ بَقِيَ مِنْ وَرَثَتِهِمَا يَرِثُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَرَثَتُهُ مِنْ الْأَحْيَاءِ و قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي أَنْ يَرِثَ أَحَدٌ أَحَدًا بِالشَّكِّ وَلَا يَرِثُ أَحَدٌ أَحَدًا إِلَّا بِالْيَقِينِ مِنْ الْعِلْمِ وَالشُّهَدَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ يَهْلَكُ هُوَ وَمَوْلَاهُ الَّذِي أَعْتَقَهُ أَبُوهُ فَيَقُولُ بَنُو الرَّجُلِ الْعَرَبِيِّ قَدْ وَرِثَهُ أَبُونَا فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُمْ أَنْ يَرِثُوهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا شَهَادَةٍ إِنَّهُ مَاتَ قَبْلَهُ وَإِنَّمَا يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنْ الْأَحْيَاءِ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الْأَخَوَانِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ يَمُوتَانِ وَلِأَحَدِهِمَا وَلَدٌ وَالْآخَرُ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَهُمَا أَخٌ لِأَبِيهِمَا فَلَا يُعْلَمُ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَمِيرَاثُ الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَلَيْسَ لِبَنِي أَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ شَيْءٌ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ تَهْلَكَ الْعَمَّةُ وَابْنُ أَخِيهَا أَوْ ابْنَةُ الْأَخِ وَعَمُّهَا فَلَا يُعْلَمُ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ لَمْ يَرِثْ الْعَمُّ مِنْ ابْنَةِ أَخِيهِ شَيْئًا وَلَا يَرِثُ ابْنُ الْأَخِ مِنْ عَمَّتِهِ شَيْئًا
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن اور بہت سے علماء سے روایت ہے کہ جتنے لوگ قتل ہوئے جنگ جمل اور جنگ صفین اور یوم الحرہ میں اور جو یوم القدید میں مارے گئے وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوئے مگر جس شخص کا حال معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے وارث سے پہلے مارا گیا۔ کہا مالک نے یہی حکم ہے اگر کوئی آدمی ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مارے جائیں یا قتل کئے جائیں جب معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون مرا اور بعد میں کون مرا تو آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے بلکہ ہر ایک کا ترکہ اس کے وارثوں کو جو زندہ ہوں پہنچے گا۔ کہا مالک نے کوئی کسی کا وارث شک سے نہ ہوگا بلکہ علم و یقین سے وارث ہوگا مثلا ایک شخص مرجائے اور اس کے باپ کا مولیٰ (غلام آزاد کیا ہوا) مرجائے اب اس کے بیٹے یہ کہیں اس مولیٰ کا وارث ہمارا باپ تھا تو یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ علم و یقین یا گواہوں سے یہ ثابت نہ ہو کہ پہلے مولیٰ مرا تھا۔ اس وقت تک مولیٰ کے وارث جو زندہ ہوں اس ترکہ کو پائیں گے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر سگے دو بھائی مرجائیں ایک کی اولاد ہو اور دوسرا لاولد ہو ان دونوں کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہو پھر معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون سا بھائی مرا ہے تو جو بھائی لاولد مرا ہے اس کا ترکہ اس کے سوتیلے بھائی کو ملے گا اس کے بھتیجوں کو نہ ملے گا۔
لعان والی عورت کے بچے اور ولد الزنا کی میراث کا بیان
بَاب مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَقُولُ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا إِنَّهُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْهُ أُمُّهُ حَقَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَيَرِثُ الْبَقِيَّةَ مَوَالِي أُمِّهِ إِنْ كَانَتْ مَوْلَاةً وَإِنْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً وَرِثَتْ حَقَّهَا وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَكَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ لعان والی عورت کا لڑکا یا زنا کا لڑکا جب مرجائے تو اس کی ماں کتاب اللہ کے موافق اپنا حصہ لے گی اور جو اس کے مادری بھائی ہیں وہ اپنا حصہ لیں گے باقی اس کی ماں کے موالی کو ملے گا اگر وہ آزاد کی ہوئی ہو اور اگر عربیہ ہو تو بعد ماں اور بھائی بہنوں کے حصے کے جو بچے گا وہ مسلمانوں کا حق ہوگا۔ کہا مالک نے سلیمان بن یسار سے بھی مجھے ایسا ہی پہنچا اور ہمارے شہر کے اہل علم کی یہی رائے ہے۔
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ فِي الْکِتَابِ الَّذِي کَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ أَنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي کُلِّ أُصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِکَ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ
ابوبکر ؓ بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ بن حزم کے واسطے لکھی تھی دیتوں کے بیان میں اس میں یہ تھا کہ جان کی دیت سو اونٹ ہیں اور ناک کی جب پوری کاٹی جائے سو اونٹ ہیں اور مامومہ میں تیسرا حصہ دیت ہے اور جائفہ میں بھی تیسرا حصہ دیت کا ہے اور آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ کے بھی پچاس اور پیر کے بھی پچاس اور ہر انگلی کے دس اونٹ ہیں اور ہر دانت کے پانچ اونٹ اور موضحہ کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from his father that in a letter which the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent to Amr ibn Hazm about blood-money he wrote that it was one hundred camels for a life, one hundred camels for a nose if completely removed, a third of the blood-money for a wound in the brain, the same as that for a belly wound, fifty for an eye, fifty for a hand, fifty for a foot, ten camels for each finger, and five for teeth, and five for a head wound which laid bare the bone.
عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی فَجَعَلَهَا عَلَی أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَی أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ
حضرت عمر ؓ بن خطاب نے دیت کی قیمت لگائی گاؤں والوں پر تو جن کے پاس سونا رہتا ہے ان پر ہزار دینار مقرر کئے اور جن کے پاس چاندی رہتی ہے ان پر بارہ ہزرا درہم مقرر کئے۔
Malik related to me that he had heard that Umar ibn al-Khattab estimated the full blood-money for the people of urban areas. For those who had gold, he made it one thousand dinars. and for those who had silver he made it ten thousand dirhams.
بَاب الْعَمَلِ فِي الدِّيَةِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى فَجَعَلَهَا عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك فَأَهْلُ الذَّهَبِ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ مِصْرَ وَأَهْلُ الْوَرِقِ أَهْلُ الْعِرَاقِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ أَنَّ الدِّيَةَ تُقْطَعُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ أَوْ أَرْبَعِ سِنِينَ قَالَ مَالِك وَالثَّلَاثُ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فِي الدِّيَةِ الْإِبِلُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْعَمُودِ الذَّهَبُ وَلَا الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الذَّهَبِ الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْوَرِقِ الذَّهَبُ
کہا مالک نے سونے والے شام اور مصر کے لوگ ہیں اور چاندی والے عراق کے لوگ ہیں۔ مالک نے سنا لوگوں سے کہ دیت وصول کی جائے گی تین برس میں یا چار برس میں۔ کہا مالک نے تین سال میں وصول کرنا دیت کا مجھے بہت پسند ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ اتفاق ہے کہ سونے چاندی والوں سے دیت میں اونٹ نہ لئے جائیں گے اونٹ والوں سے سونا چاندی نہ لیا جائے گا اور سونے والے سے چاندی نہ لی جائے گی اور چاندی والے سے سونا نہ لیا جائے گا۔
Malik said, "The people of gold are the people of ash-Sham and the people of Egypt. The people of silver are the people of Iraq "
قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان
عَنْ ابْنَ شِهَابٍ کَانَ يَقُولُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ إِذَا قُبِلَتْ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً
ابن شہاب کہتے تھے قتل عمد میں کہ جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں تو دیت پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون اور پچس حقے اور پچیس جذعے ہوگی۔
Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "The full blood-money for murder when it is accepted is twenty-five yearlings, twenty-five two-year-olds, twenty-five four-year-olds, and twenty-five five-year-olds."
قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَتَبَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا فَکَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَی مَجْنُونٍ قَوَدٌ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ میرے پاس ایک مجنوں لایا گیا ہے جس نے ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب میں لکھا کہ اسے قید کر اور اس سے قصاص نہ لے کیونکہ مجنوں پر قصاص نہیں ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Marwan ibn al-Hakam wrote to Muawiya ibn Abi Sufyan that a madman was brought to him who had killed a man. Muawiya wrote to him, "Tie him up and do not inflict any retaliation on him. There is no retaliation against a madman."
قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اس کا بیان اور مجنوں کی جنایت کا بیان
قَالَ مَالِک فِي الْکَبِيرِ وَالصَّغِيرِ إِذَا قَتَلَا رَجُلًا جَمِيعًا عَمْدًا أَنَّ عَلَی الْکَبِيرِ أَنْ يُقْتَلَ وَعَلَی الصَّغِيرِ نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَکَذَلِکَ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ يَقْتُلَانِ الْعَبْدَ فَيُقْتَلُ الْعَبْدُ وَيَکُونُ عَلَی الْحُرِّ نِصْفُ قِيمَتِهِ
کہا مالک نے اگر ایک بالغ اور نابالغ نے مل کر ایک شخص کو عمداً قتل کیا تو بالغ سے قصاص لیا جائے گا اور نابالغ پر نصف دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح سے ایک آزاد شخص اور ایک غلام مل کر ایک غلام کو عمداً مار ڈالیں تو غلام قصاصاً قتل کیا جائے گا اور آزاد پر آدھی قیمت اس غلام کی لازم ہوگی۔
Malik said about an adult and a child when they murder a man together, "The adult is killed and the child pays half the full blood-money."
عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَی فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَی إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنُزِيَ مِنْهَا فَمَاتَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ أَتَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا وَقَالَ لِلْآخَرِينَ أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ فَأَبَوْا فَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَی السَّعْدِيِّينَ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَی هَذَا
عراک بن مالک اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو بنی سعد میں سے تھا اپنا گھوڑا دوڑایا اور ایک شخص کی انگلی جو جہینہ کا تھا کچل دی اس میں سے خون جاری ہوا اور وہ شخص مرگیا حضرت عمر ؓ نے پہلے کچلنے والے کی قوم سے کہا کہ تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اس امر پر کہ وہ شخص انگلی کچلنے سے نہیں مرا انہوں نے انکار کیا اور رک گئے پھر میت کے لوگوں سے کہا تم قسم کھاتے ہو انہوں نے بھی انکار کیا آپ نے آدھی دیت بنی سعد سے دلائی۔ کہا مالک نے اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Irak ibn Malik and Sulayman ibn Yasar that a man of the Banu Sad ibn Layth was running a horse and it trod on the finger of a man from the Juhayna tribe. It bled profusely, and he died. Umar ibn al-Khattab said to those against whom the claim was made. "Do you swear by Allah with fifty oaths that he did not die of it?" They refused and stopped themselves from doing it. He said to the others, "Will you take an oath?" They refused, so Umar ibn al-Khattab gave a judgement that the Banu Sad had to pay half the full blood-money.
عَنْ ابْنَ شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانُوا يَقُولُونَ دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَکَرًا وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً
ابن شہاب اور سلیمان بن یسار اور ریبعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے قتل خطا کی دیت بیس بنت مخاض اور بیس بنت لبون اور بیس ابن لبون اور بیس حقے اور بیس جذعے ہیں۔
Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab, Sulayman ibn Yasar, and Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "The blood-money of manslaughter is twenty yearlings, twenty two-year-olds, twenty male two-year-olds, twenty four-year-olds, and twenty five-year-olds."
قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمْ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لَا يَکُونُ إِلَّا خَطَأً وَذَلِکَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَکَبِيرًا قَتَلَا رَجُلًا حُرًّا خَطَأً کَانَ عَلَی عَاقِلَةِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لَا قَوَدَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ کَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَی بِهِ دَيْنُهُ وَتَجُوزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ فَإِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ تَکُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عَفَا عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِکَ جَائِزٌ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِکَ الثُّلُثُ إِذَا عَفَا عَنْهُ وَأَوْصَی بِهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا اگر وہ کوئی جنایت قصداً بھی کریں تو خطا کے حکم میں ہوگی ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں اور احتلام نہ ہونے لگے اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتل خطا سمجھا جائے گا اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر نصف دیت ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص خطاءً قتل کیا جائے اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کردے تو درست ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو تو ثلث کے موافق معاف کرسکتا ہے کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔
Malik said, "The generally agreed on way with us is that there is no retaliation against children. Their intention is accidental. The hudud are not obliged for them if they have not yet reached puberty. If a child kills someone it is only accidentally. Had a child and an adult killed a free man accidentally, each of them pays half the full blood-money."
خطاء سے کسی کو زخمی کرنے کی دیت کا بیان
بَاب عَقْلِ الْجِرَاحِ فِي الْخَطَإِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّ الْأَمْرَ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَهُمْ فِي الْخَطَإِ أَنَّهُ لَا يُعْقَلُ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ وَيَصِحَّ وَأَنَّهُ إِنْ كُسِرَ عَظْمٌ مِنْ الْإِنْسَانِ يَدٌ أَوْ رِجْلٌ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ مِنْ الْجَسَدِ خَطَأً فَبَرَأَ وَصَحَّ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَلَيْسَ فِيهِ عَقْلٌ فَإِنْ نَقَصَ أَوْ كَانَ فِيهِ عَثَلٌ فَفِيهِ مِنْ عَقْلِهِ بِحِسَابِ مَا نَقَصَ مِنْهُ قَالَ مَالِك فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَظْمُ مِمَّا جَاءَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى فَبِحِسَابِ مَا فَرَضَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ وَلَا عَقْلٌ مُسَمًّى فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي الْجِرَاحِ فِي الْجَسَدِ إِذَا كَانَتْ خَطَأً عَقْلٌ إِذَا بَرَأَ الْجُرْحُ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ عَثَلٌ أَوْ شَيْنٌ فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ إِلَّا الْجَائِفَةَ فَإِنَّ فِيهَا ثُلُثَ دِيَةِ النَّفْسِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي مُنَقِّلَةِ الْجَسَدِ عَقْلٌ وَهِيَ مِثْلُ مُوضِحَةِ الْجَسَدِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الطَّبِيبَ إِذَا خَتَنَ فَقَطَعَ الْحَشَفَةَ إِنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ وَأَنَّ ذَلِكَ مِنْ الْخَطَإِ الَّذِي تَحْمِلُهُ الْعَاقِلَةُ وَأَنَّ كُلَّ مَا أَخْطَأَ بِهِ الطَّبِيبُ أَوْ تَعَدَّى إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ ذَلِكَ فَفِيهِ الْعَقْلُ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک خطا میں یہ حکم اتفاقی ہے کہ زخم کی دیت کا حکم نہ ہوگا جب تک مجروح اچھا نہ ہوجائے۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر جڑ کر اچھی ہوجائے پہلے کے موافق تو اس میں دیت نہیں ہے اور اگر کچھ نقص رہ جائے تو اس میں دیت ہے نقصان کے موافق۔ اگر وہ ہڈی ایسی ہو جس میں رسول اللہ ﷺ سے دیت ثابت ہے تو اسی قدر دیت لازم ہوگی ورنہ سوچ سمجھ کر جس قدر مناسب ہو دیت دلائیں گے۔ کہا مالک نے اگر بدن میں خطاءً زخم لگ کر اچھا ہوجائے نشان نہ رہے تو دیت نہیں ہے اگر دھبہ یا عیب رہ جائے تو اس کے موافق دیت دینی ہوگی مگر جائفہ میں تہائی دیت لازم ہوگی اور منقلہ جسد میں دیت نہیں ہے جیسے موضحہ جسد میں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر جراح نے ختنہ کرتے وقت خطاء سے حشفے کو کاٹ ڈالا تو اس پر دیت ہے اور یہ دیت عاقلے پر ہوگی اسی طرح طبیب سے جو غلطی ہوجائے بھول چوک کر اس میں دیت ہے (اگر قصداً ہو تو قصاص ہے)۔
Malik related to me that the generally agreed on way of doing things amongst the community about an accident is that there is no blood-money until the victim is better. If a mans bone, either a hand, or a foot, or another part of his body, is broken accidentally and it heals and becomes sound and returns to its form, there is no blood-money for it. If the limb is impaired or there is a scar on it, there is blood-money for it according to the extent that it is impaired. Malik said, "If that part of the body has a specific blood-money mentioned by the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, it is according to what the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, specified. If it is part of what does not have a specific blood-money for it mentioned by the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and if there is no previous sunna about it or specific blood-money, one uses ijtihad about it."