اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ مَالِكِ بْنِ الحُوَيْرِثِ ، قَالَ : اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي ، فَقَالَ لَنَا : إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا. (رواه البخارى)
مالک بن الحویرث ؓ سے روایت ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ایک چچا زاد بھائی بھی ساتھ تھے، تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سفر کرو تو نماز کے لیے اذان اور اقامت کہو اور جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرے اور نماز پڑھائے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
صحیح بخاری ہی کی دوسری ایک روایت میں ہے کہ یہ مالک بن الحویرث اپنے قبیلہ کے بعض اور آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور دین سیکھنے اور حضور ﷺ کے فیض صحبت سے مستفید ہونے کی نیت سے قریبا بیس دن قیام کیا تھا، اپنی اس روایت میں انہوں نے حضور ﷺ کے جس ارشاد کا ذکر کیا ہے وہ غالبا اس وقت کا ہے جب وطن واپس جانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو رخصت فرمایا تھا۔ اس میں آپ ﷺ نے ان کو دو ہدایتیں فرمائی تھیں ایک یہ کہ سفر میں بھی نماز کے لیے اذان و اقامت کا اہتمام کیا جائے، اور دوسری یہ کہ جو بڑا ہو وہ امامت کرے، چونکہ دین اور علم دین کے لحاظ سے یہ اور ان کے ساتھی بظاہر برابر تھے، کسی کو دوسرے کے مقابلے میں کوئی خاص فضیلت اور فوقیت حاصل نہیں تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم میں عمر کے لحاظ سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے اور ایسی صورت میں یہی اصول اور مسئلہ ہے۔
عَنْ أَبِىْ سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ المُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ القِيَامَةِ. (رواه البخارى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک جو جن اور جو انسان اور جو چیز بھی اس کی آواز سنتی ہے وہ قیامت کے دن ضرور اس کے حق می شہادت دے گی۔ (صحیح بخاری)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر چیز کو اپنی معرفت کا کوئی حصہ عطا فرمایا ہے (وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖالایۃ) اس لیے جب موذن اذان دیتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اس کی توحدی اور اس کے رسول کی رسالت اور اس کی دعوت کا اعلان کرتا ہے تو جن و انس کے علاوہ دوسری مخلوقات بھی اس کو سنتی اور سمجھتی ہیں اور قیامت میں اس کی شہادت ادا کریں گی۔ بلا شبہ اذان اور موذنوں کی یہ بڑی قابل رشک فضیلت ہے۔ وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ » (رواه مسلم)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ شیطان جب نماز کی پکار یعنی اذان سنتا ہے تو مقام روحاء کے برابر دور چلا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ کی مخلوق میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو بعض دوسری چیزوں کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ مثلاً اندھیرے کے لیے آفتاب ناقابل برداشت ہے۔ آفتاب کے نکلتے ہی اندھیرا کافور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سردی کے لیے آگ ناقابل برداشت ہے، جہاں آگ روشن کر دی جائے وہاں سے سردی دفع ہو جاتی ہے، بس کچھ یہی حال شیطان کا اذان کی پکار سے ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمانا ہے کہ جیسے ہی وہ اس کو سنتا ہے اتنی دور چلا جاتا ہے جتنی دور مدینہ سے مثلاً مقام روحاء ہے۔ (حضرت جابرؓ سے اس حدیث کے روایت کرنے والے راوی طلحہ بن نافع کا بیان اسی حدیث کے ساتھ صحیح مسلم میں مروی ہے کہ روحاء مدینہ سے ۳۶ میل دور ہے) حدیث کی روح یہ ہے کہ اذان جو توحید اور ایمان کی پکار ہے جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے اور اس کے اچھے بندے اس کو سن کر مسجدوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اسی طرح شیطان مردود کے لیے وہ گویا بم کا گولا ہے، جہاں اللہ کے منادی نے اذان شروع کی وہ اس سے ایسا بھاگتا ہے جیسے آفتاب سے اندھیرا کافور ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ مُعَاوِيَةُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه مسلم)
حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اذان کہنے والے قیامت کے دن دوسرے سب لوگوں کے مقابلے میں دراز گردن (یعنی سربلند) ہوں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ “ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا ” کا لفظی ترجمہ تو دراز گردن ہی ہے لیکن شارحین نے اس کے کئی مطلب بیان کئے ہیں، اس عاجز کے نزدیک اس سے مراد ان کی سربلندی ہے۔ اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ امتیاز اسی طرح حاصل ہو گا جیسا کہ آگے آنے والی حدیث مین ان کا یہ امتیاز بھی بتایا گیا ہے کہ وہ قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے۔
عَنْ عَبْدُاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاَثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ ، أُرَاهُ قَالَ ، يَوْمَ القِيَامَةِ : عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ ، وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تین (قسم کے) آدمی مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ ایک وہ نیک غلام جس نے دنیا مین اللہ کا حق بھی ادا کیا اور اپنے آقا کا بھی، دوسرا وہ آدمی جو کسی جماعت کا امام بنا، اور لوگ (اس کی نیک عملی اور پاکیزہ سیرت کی وجہ سے) اس سے راضی اور خوش رہے اور تیسرے وہ بندہ جو دن رات کی پانچوں نمازوں کے لیے روزانہ اذان دیا کرتا تھا۔ (جامع ترمذی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے جس بندہ نے سات سال تک اللہ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے براءت لکھ دی جاتی ہے (یعنی اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے فرما دیا جاتا ہے کہ دوزخ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، اور اس کی آگ اور لپٹ کو اس بندہ کو چھونے کی بھی اجازت نہیں)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمُؤَذِّنِيْنَ وَالْمُلَبِّيْنَ يَخْرُجُوْنَ مِنْ قُبُوْرِهِمْ ، يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ ، وَيُلَبِّي الْمُلَبِّيُ. (رواه الطبرانى فى الاوسط)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذان کہنے والے اور تلبیہ پڑھنے والے اپنی قبروں سے اس حال میں نکلیں گے کہ اذان کہنے والے اذان پکارتے ہوں گے اور تلبیہ پڑھنے والے تلبیہ کی صدا بلند کرتے ہوں گے۔ (معجم اوسط للطبرانی)
تشریح
اذان اور موذنوں کی جو غیر معمولی فضیلتیں ان حدیثوں میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کا راز یہی ہے کہ اذان ایمان و اسلام کا شعار اور اپنے معنی و ترتیب کے لحاظ سے دین کی نہایت بلیغ اور جامع دعوت و پکار ہے اور موذن اس کا داعی اور گویا اللہ تعالیٰ کا نقیب اور منادی ہے۔ افسوس آج ہم مسلمانوں نے اس حقیقت کا بولکل بھلا دیا ہے اور اذان کہنا ایک حقیر پیشہ بن گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس عظیم ترین اجتماعی گناہ کو معاف فرمائے اور توبہ و اصلاح کی ہمیں توفیق دے۔
اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا
عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ أَحَدُكُمْ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " (رواه مسلم)
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب موذن کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اور (اس کے جواب میں) تم میں سے کوئی کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، پھر موذن کہے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اور جواب دینے والا بھی (اس جواب میں) کہے، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، پھر موذن کہے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ اور جواب دینے والا بھی کہے، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، پھر موذن کہے حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، تو جواب دینے والا کہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، پھر موذن کہے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اور جواب دینے والا کہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، پھر موذن کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اور جواب دینے والا بھی کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، پھر موذن کہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اور جواب دینے والا بھی کہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور یہ کہنا دل سے ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ناظرین کو جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا ہے اذان کے دو پہلو ہیں یا کہنا چاہیے کہ اذان دو حیثیتوں کی جامع ہے، ایک یہ کہ وہ نماز باجماعت کا اعلان اور بلاوا ہے دوسرے یہ کہ وہ ایمان کی دعوت و پکار اور دین حق کا منشور ہے۔ پہلی حیثیت سے اذان سننے والے اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اذان کی آواز سنتے ہی نماز میں شرکت کے لیے تیار ہو جائے اور ایسے وقت مسجد میں پہنچ جائے کہ جماعت میں شریک ہو سکے۔ (1)
اور دوسری حیثیت سے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ اذان سنتے وقت اس ایمانی دعوت کے ہر جزو اور ہر کلمے کی اور اس آسمانی منشور کی ہر دفعہ کی اپنے دل اور اپنی زبان سے تصدیق کرے اور اس طرح پوری اسلامی آبادی ہر اذان کے وقت اپنے ایمان عہد و میثاق کی تجدید کیا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اذان کا جواب دینے کی اور اس کے بعد دعا میں پھر کلمہ شہادت کی اپنے ارشادات میں جو تعلیم و ترغیب دی ہے۔ اس عاجز کے نزدیک اس کی خاص حکمت یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اذان کا جواب جو بظاہر ایک معمولی سا عمل ہے اس پر داخلہ جنت کی بشارت کا کیا راز ہے؟
اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : « مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ » (رواه مسلم)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص موذن کی اذان سننے کے وقت (یعنی جب وہ اذان پڑھ کر فارغ ہو جائے) کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہین اور میں راضی و خوش ہوں اللہ کو رب مان کر اور حضرت محمد ﷺ کو رسول اللہ مان کر اور اسلام کو دین حق مان کر، تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
نیک اعمال کی برکت سے گناہوں کی بخشش کے بارے میں کچھ ضروری وضاحت وضو کے فضائل و برکات کے بیان میں کی جا چکی ہے وہ یہاں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔
اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ " (رواه البخارى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بندہ اذان سننے کے وقت اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کرے “ اے اللہ اس دعوت تامہ کاملہ اور اس صلوٰۃ قائمہ و دائمہ کے رب! (یعنی اے وہ اللہ جس کے لیے اور جس کے حکم سے یہ اذان اور یہ نماز ہے (اپنے رسول پاک) محمد کو وسیلہ اور فضیلہ کے خاص درجہ اور مرتبہ عطا فرما اور ان کو اس مقام محمود پر سرفراز فرما جس کا تو نے ان کے لیے وعدہ فرمایا ہے۔ ” تو وہ بندہ قیامت کے ند میری شفاعت کا حق دار ہو گیا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تین چیزوں کی دعا کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو بندہ اذان سننے کے وقت اللہ تعالیٰ سے ان تین چیزوں کے رسول اللہ ﷺ کو عطا کرنے کی دعا کرے گا وہ قیامت کے دن شفاعت محمدی ﷺ کا خاص طور سے حق دار ہو گا۔ ایک وسیلہ۔ دوسرے فضیلۃ۔ تیسرے مقام محمود۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس وسیلہ کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقبولیت و محبویت کا ایک خاص الخاص مقام و مرتبہ اور جنت کا ایک مخصوص و ممتاز درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی ایک ہی بندہ کو ملنے والا ہے، اور سمجھنا چاہیے کہ فضیلۃ بھی گویا اسی مقام اختصاص و امتیاز کا ایک عنوان ہے اور اسی طرح مقام محمود و مقام عزت ہے جس پر فائز ہونے والا ہر ایک کی نگاہ میں محمود اور محترم ہو گا اور سب اس کے ثنا خواں اور شکر گزار ہوں گے۔
اسی سلسلہ میں معارف الحدیث کی پہلی جلد میں شفاعت کے بیان مین وہ حدیثیں ناظرین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی جن مین بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے جلال کے ظہور کا خاص دن ہو گا اور سارے انسان اپنے اعمال اور احوال کے اختلاف کے باوجود اس وقت دہشت زدہ اور پریشان ہوں گے۔ حتیٰ کہ حضرت نوح و ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام جیسے اولو العزم پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں کچھ عرض کرنے کی ہمت نہ کر سکیں گے تو اس وقت سید الرسل حضرت محمد ﷺ ہی انا لها انا لها کہہ کرا حکم الحاکمین کی بارگاہ جلال میں سب سے پہلے سارے انسانوں کے لیے حساب اور فیصلہ کی استدعا اور شفاعت کریں گے اور اس کے بعد گنہگاروں کی سفارش اور ان کے دوزخ سے نکالے جانے کی استدعا کا دروازہ بھی آپ ہی کے اقدام سے کھلے گا، خود آپ ﷺ کا ارشاد ہے “ أَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ” (سب سے پہلا شافع میں ہوں گا اور بارگاہ خداوندی میں سے سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی) نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے “ أَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُوْنَهُ، وَلَا فَخْرَ ” (قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ میں ہو گا اور آدم اور ان کے علاوہ سارے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین میرے اسی جھنڈے لواء الحمد کے نیچے ہوں گے) بس یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے۔ “ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ” (بنی اسرائیل۔ ع ۱۰) (امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود عطا فرما دے)۔ الغرض وہ خاص الخاص مرتبہ اور درجہ جس کو حدیث میں وسیلہ اور فضیلہ کہا گیا ہے اور عزت و امتیاز اور محمودیت عامہ کا وہ مقام بلند جس کو قرآن مجید میں اور اس حدیث مقام محمود کہا گیا ہے۔ یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ہم امتیوں پر یہ نوازش ہے کہ زیر تشریح حدیث میں آپ ﷺ نے ہم کو اس کی ترغیب دی کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ یہ درجے اور مقامات آپ ﷺ کو عطا کیے جائیں اور بتلایا کہ جو کوئی میرے لیے یہ دعا کرے گا وہ قیامت کے دن میری شفاعت کا خاص طور سے مستحق ہو گا۔
فائدہ ...... مندرجہ بالا تینوں حدیثوں پر عمل کرنے کا طریقہ اور ترتیب یہ ہے کہ موذن کی اذان کے ساتھ تو اس کے ہر کلمے کو دہرایا جائے جس طرح کہ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں مذکور ہوا، اور اس کے بعد سعد بن ابی وقاص کی حدیث کے مطابق کہا جائے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ (آخر تک) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کی جائے “ اللهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ سے وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ” تک۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کیا ہے کہ بیہقی کی روایت میں اس دعا کے آخر میں “ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” کا اضافہ بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے کہ ان احکام کی روح کو سمجھ کر ان پر عمل کی حقیقی برکات حاصل کریں۔
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا ، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا » (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شہروں اور بستیوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض ان کے بازار اور منڈیاں ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جو عظیم و وسیع مقاصد نماز سے وابستہ ہیں جن میں سے بعض کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ کے حوالے سے کچھ اشارے بھی کیے جا چکے ہیں۔ (1) ان کی تحصیل و تکمیل کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ نماز کا کوئی اجتماعی نظام ہو، اسلامی شریعت میں اس اجتماعی نظام کا ذریعہ مسجد اور جماعت کو بنایا گیا ہے، ذرا سا غور کرنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس امت کی دینی زندگی کی تشکیل و تنظیم اور تربیت و حفاظت میں مسجد اور جماعت کا کتنا بڑ ا دخل ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک طرف تو جماعتی نظام کے ساتھ نماز ادا کرنے کی انتہائی تاکید فرمائی اور ترک جماعت پر سخت وعیدیں سنائیں (جیسا کہ ناظرین عنقریب ہی پڑھیں گے) اور دوسری طرف آپ ﷺ نے مساجد کی اہمیت پر زور دیا اور کعبۃ اللہ کے بعد بلکہ اسی کی نسبت سے ان کو بھی “ خدا کا گھر ” اور امت کا دینی مرکز بنایا اور ان کی برکات اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی عظمت و محبوبیت بیان فرما کر امت کو ترغیب دی کہ ان کے جسم خواہ کسی وقت کہیں ہوں لیکن ان کے دلوں اور ان کی روحوں کا رخ ہر وقت مسجد کی طرف رہے، اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے مساجد کے حقوق اور آداب بھی تعلیم فرمائے۔ اس سلسلے کے آپ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے!
تشریح ..... انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ ایک ملکوتی و روحانی، یہ نورانی اور لطیف پہلو ہے، اور دوسرا مادی و بہیمی جو ظلماتی اور کثیف پہلو ہے۔ ملکوتی و روحانی پہلو کا تقاضا اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا ذکر جیسے مقدس اشغال و اعمال ہیں، انہیں سے اس پہلو کی تربیت و تکمیل ہوتی ہے اور انہیں کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و محبت کا مستحق ہوتا ہے، اور ان مبارک اشغال و اعمال کے خاص مراکز مسجدیں ہیں جو ذکر و عبادت سے معمور رہتی ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو “ بیت اللہ ” سے ایک خاص نسبت ہے اس لیے انسانی بستیوں اور آبادیوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب یہ مسجدیں ہی ہیں۔ اور بازار اور منڈیاں انے اصل موضوع کے لحاظ سے انسانوں کی مادی و بہیمی تقاضوں اور نفسانی خواہشوں کے مراکز ہیں اور وہاں جا کر انسان عموماً خدا سے غافل ہو جاتے ہین اور ان کی فضا غفلت اور منکرات و معصیات کی کثرت کی وجہ ظلماتی اور مکدررہتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسانی آبادیوں کا سب سے زیادہ مبغوض حصہ ہیں۔
حدیث کی اصل روح اور اس کا منشاء یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ مسجدوں سے زیادہ سے زیادہ تعلق رکھیں اور ان کو اپنا مرکز بنائیں اور منڈیوں اور بازاروں میں صرف ضرورت سے جائیں اور ان سے دل نہ لگائیں اور وہاں کی آلودگیوں سے مثلاً جھوٹ، فریب اور بد دیانتی سے اپنی حفاظت کریں۔ ان حدود کی پابندی کے ساتھ بازاروں سے تعلق رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بلکہ ایسے سودا گروں اور تاجروں کو خود رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت سنائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اصول دیانت و امانت کی پابندی کے ساتھ تجارتی کاروبار کریں اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ بیت الخلا غلاظت اور گندگی کی جگہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ اصلا سخت ناپسندیدہ مقام ہے لیکن ضرورت کے بقدر اس سے بھی تعلق رکھا جاتا ہے، بلکہ وہاں کے آنے جانے میں اور قضاء حاجت میں اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات و سنن کا لحاظ رکھے تو بہت کچھ ثواب بھی کما سکتا ہے۔
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الإِمَامُ العَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي المَسَاجِدِ ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ" (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سات قسم کے آدمی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے گا۔ قیامت کے اس دن میں جس دن کہ اس کے سایہ رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہیں ہو گا، ایک عدل و انصاف سے حکمرانی کرنے والا فرمانروا، دوسرا وہ جوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہوئی (یعنی جو بچپن سے عبادت گزار تھا اور جوانی میں بھی عبادت گزار رہا اور جوانی کی مستیوں نے اسے غافل نہیں کیا) تیسرا وہ مرد مومن جس کا حال یہ ہے کہ مسجد سے باہر جانے کے بعد بھی اس کا دل مسجد ہی سے اٹکا رہتا ہے جب تک کہ پھر مسجد میں نہ آ جائے، اور چوتھے وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کے لیے باہم محبت کی، اسی پر جڑے رہے اور اسی پر الگ ہوئے (یعنی ان کی محبت صرف منہ دیکھے کی محبت نہیں جیسی کہ اہل دنیا کی محبتیں ہوتی ہیں، بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ جب یکجا اور ساتھ ہیں جب بھی محبت ہے اور جب ایک دوسرے سے الگ اور غائب ہوتے ہیں جب بھی ان کے دل للہی محبت سے لبریز ہوتے ہیں) پانچواں خدا کا وہ بندہ جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں تو اس کے آنسو بہہ پڑے اور چھٹا وہ مردِ خدا جسے حرام کی دعوت دی کسی ایسی عورت نے جو خوبصورت بھی ہے اور صاحب وجاہت و عزت بھی، تو اس بندے نے کہا کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں اس لیے حرام کی طرف قدم نہیں اتھا سکتا) اور ساتواں وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کر کیا کہ گویا اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں کہ اس کا داہنا ہاتھ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کر رہا ہے اور کس کو دے رہا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں تیسرے نمبر پر اس شخص کو اللہ کے سایہ رحمت کی بشارت سنائی گئی ہے جس کا حال یہ ہو کہ مسجد سے باہر ہونے کی حالت میں بھی اس کا دل مسجد میں اٹکا رہے۔ بے شک مومن کا حال یہی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان سات باتوں میں سے کوئی نہ کوئی بات ہم کو بھی نصیب فرمائے۔
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ غَدَا إِلَى المَسْجِدِ وَرَاحَ ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ جس وقت بھی صبح کو یا شام کو اپنے گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے واسطے جنت کی مہمانی کا سامان تیار کراتا ہے۔ وہ جتنی دفعہ بھی صبح یا شام کو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندہ صبح یا شام جس وقت بھی اور دن میں جتنی دفعہ بھی خدا کے گھر میں (یعنی مسجد میں) حاضر ہوتا ہے، رب کریم اس کو اپنے عزیز مہمان کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہر دفعہ کی حاضری پر جنت میں اس کے لیے مہمانی کا خاص سامان تیار کراتا ہے، جو وہاں پہنچنے کے بعد بندہ کے سامنے آنے والا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ رب کریم کے جنت والے سامان مہمانی کا یہاں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، کنز العمال میں تاریخ حاکم کے حوالے سے بروایت عبداللہ بن عباس ایک حدیث کے الفاظ یہ نقل کئے گئے ہیں۔
المساجد بيوت الله والمؤمنون زوار الله، وحق على المزور أن يكرم زائره. (کنز العمال ص ۱۲۴، ج ۴)
مسجدیں اللہ کے گھر ہیں اور ان میں حاضر ہونے والے اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ملاقاتی (اور مہمان) ہیں اور جن کی ملاقات کو کوئی آئے اس پر حق ہے کہ وہ آنے والے ملاقات کا اکرام اوراس کی خاطر داری کرے۔
“ تاریخ حاکم ” جس کے حوالے سے یہ روایت کنزالعمال میں نقل کی گئی ہے اس کی روایتیں محدثین کے نزدیک عموماً ضعیف ہیں خود کنز العمال کے مقدمہ میں بھی اس کی تصریح کر دی گئی ہے۔ لیکن اس کی اس روایت کا مضمون بخاری و مسلم کی مندرجہ بالا ابو ہریرہؓ والی حدیث کے بالکل مطابق ہے اس لیے تشریح میں یہاں اس کو نقل کر دینا مناسب معلوم ہوا۔ (1)
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَفِي سُوقِهِ ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا ، وَذَلِكَ أَنَّهُ : إِذَا تَوَضَّأَ ، فَأَحْسَنَ الوُضُوءَ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى المَسْجِدِ ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلاَةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً ، إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، فَإِذَا صَلَّى ، لَمْ تَزَلِ المَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ ، مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، وَلاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَةَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کی نماز جو وہ جماعت سے مسجد میں ادا کرے اس کی اس نماز کے مقابلہ میں جو اپنے گھر میں یا بازار میں پڑھے (ثواب میں) پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وجہ یہ ہے کہ جب وہ بندہ اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور اس جانے میں نماز کے سوا اس کا کوئی دنیوی مقصد نہیں ہوتا، تو اس کے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی ایک خطا معاف کر دی جاتی ہے، پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس وقت تک برابر اس کے حق میں عنایت اور رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھنے کی جگہ میں رہے، ان فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے، اے اللہ اپنے اس بندے پر خاص عنایت فرما۔ اس پر رحمت فرما! اور جب تک تم میں سے کوئی نماز کے انتظار میں مسجد میں رہتا ہے، اللہ کے نزدیک اور اس کے حساب میں وہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے پر بہ نسبت گھر اور دکان وغیرہ کے ۲۵ گنا ثواب اور راستہ کے ہر قدم پر ایک درجہ کی بلندی اور ایک گناہ کی معافی، یہ کتنی بڑی اور کتنی ارزاں دولت ہے؟ اور پھر اس سے بھی آگے فرشتوں کی دعا اللهم صلى عليه اللهم ارحمه کیسی عظیم نعمت ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں فرشتوں کی اس دعا میں اللهم اغفر له اللهم تب عليه کا اضافہ بھی ہے (یعنی اے اللہ اس بندے کی مغفرت فرما دے، اس کی توبہ کو قبول فرما لے)۔ نیز اسی روایت کے آخر میں ایک اضافہ یہ بھی ہے مالم يوذ فيه مالم يحدث یعنی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنے والے اس بندے کے حق میں فرشتے یہ دعائیں اس وقت تک برابر کرتے رہتے ہیں جب تک وہ کسی کو اپنے ہاتھ یا اپنی زبان سے ایذا نہ پہنچائے یا اس کا وضو ٹوٹ نہ جائے۔
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ ، فَقَالَ : « إِنَّ تَرَهُّبَ أُمَّتِي الْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارَ الصَّلاةِ » (رواه فى شرح السنة)
حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیجئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھنا ہے۔ (شرح السنہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہؓ میں دینوی معاملات اور دنیا کی لذتوں سے بے تعلق اور کنارہ کش ہو جانے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا اور وہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ سے عرض معروض کرتے تھے۔ اس حدیث کے راوی عثمان بن مظعون ؓ میں یہ رجحان بہت تیز تھا، انہوں نے ایک دفعہ کئی باتیں اسی طرح کی حضور ﷺ سے عرض کیں، ان میں سے آخری بات یہ تھی کہ ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دی جائے جس کے بعد ہم تارک الدنیا راہبوں والی زندگی گزاریں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا جو جواب دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جن روحانی مقاصد اور اخروی منافع کے لیے پہلی امتوں میں رہبانیت تھی میری امت کو وہ چیزیں نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنے ہی پر اللہ تعالیٰ عطا فرمانے والے ہیں اور بس یہی میری امت کی رہبانیت اور درویشی ہے۔ دراصل نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا بھی ایک طرح کا “ اعتکاف ” ہے۔ کاش ہم اس کی قدر و قیمت جانیں۔
مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے جو بندے اندھیروں میں مسجدو ں کو جاتے ہیں، ان کو بشارت سناؤ کہ (ان کے اس عمل کے صلہ میں) قیامت کے دن ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور کامل عطا ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
رات کے اندھیروں میں نماز کے لیے پابندی سے مسجد جانا بلا شبہ بڑا مجاہدہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق کی دلیل ہے، ایسے بندوں کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی بشارت سنوائی ہے کہ ان کے اس عمل کے صلہ میں قیامت کے اندھیروں میں ان کو اللہ تعالیٰ کیطرف سے نور کامل عطا فرما دیا جائے گا۔ فبشرى لهم وطوبى لهم.
مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی دعا
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَقُلْ : اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ ، فَلْيَقُلْ : اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ". (رواه مسلم)
حضرت ابو اسید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہونے لگے تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ (اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر جانے لگے تو دعا کرے اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ (اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں تو میرے لیے اس کا فیصلہ فرما دے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قرآن و حدیث میں رحمت کا لفظ زیادہ تر اخروی اور دینی و روحانی انعامات کے لیے اور فضل کا لفظ رزق وغیرہ دنیوی نعمتوں کی داد دہش اور ان میں زیادتی کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے داخلہ کے لیے فتح باب رحمت کی دعا تعلیم فرمائی، کیوں کہ مسجد دینی و روحانی اور اخروی نعمتوں ہی کے حاصل کرنے کی جگہ ہے اور مسجد سے نکلتے وقت کے لیے اللہ سے اس کا فضل یعنی دینوی نعمتوں کی فراوانی مانگنے کی تلقین فرمائی، کیوں کہ مسجد سے باہر کی دنیا کے لیے یہی مناسب ہے۔ ان دونوں باتوں کا خاص منشاء یہ ہےکہ مسجد میں آنے اور جانے کے وقت بندہ غافل نہ ہو اور ان دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کیطرف اس کی توجہ سائلانہ ہو۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اس کو چاہیے کے بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد کو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نسبت اور اسی نسبت سے اس کو “ خانہ خدا ” کہا جاتا ہے، اس لیے اس کے حقوق اور اس میں داخلہ کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ وہاں جا کر بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کی جائے، یہ گویا بارگاہ خداوندی کی سلامی ہے، اس لیے اس کو “ تحیۃ المسجد ” کہتے ہیں (تحیۃ کے معنی سلامی کے ہیں) لیکن یہ حکم جمہور ائمہ کے نزدیک استحبابی ہے۔
ف....... اس حدیث میں صراحۃً حکم ہے کہ تحیۃ المسجد کی یہ دو رکعتیں مسجد میں بیٹھنے سے پہلے پڑھنی چاہئیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مسجد میں جا کر پہلے قصداً بیٹھتے ہیں اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز کی نیت کرتے ہیں معلوم نہیں یہ غلطی کہاں سے رواج پا گئی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اب سے چار صدی پہلے ان کے زمانہ کے عام مسلمانوں میں بھی یہ غلطی رائج تھی۔
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى ، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ سفر سے واپسی میں آپ ﷺ دن ہی میں چاشت کے وقت مدینہ میں تشریف لاتے اور پہلے مسجد میں رونق افروز ہوتے تھے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد وہیں (کچھ دیر تک) تشریف رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
دوسری بعض حدیثوں میں یہ تفصیل آتی ہے کہ آپ ﷺ سفر سے واپسی میں آخری منزل عموماً مدینہ طیبہ کے قریب ہی فرماتے تھے، جس کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں یہ اطلاع ہو جاتی تھی کہ آپ ﷺ فلاں مقام پر ٹھہر گئے اور کل صبح تشریف لانے والے ہیں، پھر علی الصبح آپ ﷺ اس منزل سے روانہ ہو کر کچھ دن چڑھے یعنی چاشت کے وقت مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوتے تھے اور سب سے پہلے سیدھے اپنی مسجد مبارک میں تشریف لاتے تھے، گویا گھر والوں کی ملاقات سے بھی پہلے بارگاہ خداوندی میں حاضر ہو کر اس کے حضور ﷺ میں یہ ہدیہ عبودیت پیش کرتے تھے، پھر اس کے بعد بھی کچھ دیر تک مسجد ہی میں تشریف رکھتے تھے اور مشتاقان زیارت وہیں آ کر آپ ﷺ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ یہ تھا مسجد کے تعلق کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ، اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو اس کی روح کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے۔
مسجد سے تعلق ایمان کی نشانی
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ. (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی خدمت اور نگہداشت کرتا ہے تو اس کے لیے ایمان کی شہادت دو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد وہی لوگ کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز اور دین مقدس کا شعار و نشان ہے اس لیے اس کے ساتھ مخلصانہ تعلق اور اس کی خدمت و نگہداشت اور اس بات کی فکر و سعی کہ وہ اللہ کے ذکر و عبادت سے معمور اور آباد رہے، یہ سب سچے ایمان کی نشانی اور دلیل ہے۔