عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا العِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ. (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر مجھے امت کی تکلیف اور مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ عشاء کی نماز تہائی رات یا آدھی رات تک مؤخر کر کے ہی پڑھا کریں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : " إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً ، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي ، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى" (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات نماز عشاء کے وقت ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کا بڑی دیر تک انتظار کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ اس وقت بارہ تشریف لائے جب تہائی رات جا چکی تھی یا اس کے بعد، اور ہمیں پتہ نہٰں کہ اس تاخیر کا سبب اپنے گھر والوں کے ساتھ آپ ﷺ کی کوئی مشغولی تھی یا اس کے سوا کوئی اور چیز آپ ﷺ کو پیش آ گئی تھی۔ بہر حال آپ ﷺ گھر سے باہر مسجد میں تشریف لائے تو (ہماری تسلی اور دلداری کے لیے) ہم لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اس وقت اس نماز کے انتظار میں ہو جس کا تمہارے سوا کسی دوسرے دین والے انتظار نہیں کرتے۔ اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت کے لیے بھاری اور مشکل ہو جائے گی تو میں یہ نماز (ہمیشہ دیر کر کے) اسی وقت میں پڑھا کرتا (کیوں کہ اس نماز کے لیے یہی وقت افضل ہے) اس کے بعد آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا۔ تو اس نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز کا افضل وقت اگرچہ وہ ہے جب کہ تہائی رات گزر جائے، لیکن اس وقت نماز پڑھنے میں چونکہ عام نمازیوں کے لیے زحمت اور مشقت ہے اور روزانہ اتنی دیر تک جاگ کر نماز کا انتظار کرنے میں بڑا مجاہدہ ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ مقتدیوں کی سہولت کے خیال سے عموماً اس سے پہلے ہی نماز پڑھ لیتے تھے، اور حضرت جابرؓ کی ایک حدیث میں پہلے بھی گزر چکا ہے اکہ اگر لوگ عشاء کےلیے سویرا جمع ہو جاتے تو آپ ﷺ جلدی پڑھ لیتے تھے اور اگر لوگوں کے آنے میں دیر ہوتی اور شروع وقت میں لوگ کم آتے تو آپ ﷺ کچھ دیر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے اس طرز عمل ور ارشاد سے ایک اہم اور نہایت قیمتی اصول یہ معلوم ہوا کہ اگر کسی اجتماعی عمل کے افضل وقت پر اور افضل شکل میں ادا کرنے کی وجہ سے عوام کو قابل لحاظ زحمت اور مشقت ہوتی ہو تو ان کی سہولت کے خیال سے وہاں اس افضل وقت اور افضل شکل کو ترک کر دینا ہی افضل اور بہتر ہو گا اور عوام کے ساتھ اس شفقت و رعایت کا ثواب ان شاء اللہ اس ثواب سے زیادہ ہو گا جو ترک افضل کی وجہ سے فوت ہو گا۔ دوسرے طور پر اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اجتماعی اعمال میں وقت کی فضیلت یا شکل کی فضیلت کے مقابلہ میں عوام کی رعایت اور ان کی سہولت کی فضیلت مقدم ہے۔
ایک دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ نماز عشاء کی فرضیت اس امت کے خصائص میں سے ہے۔ کسی اور امت پر یہ نماز فرض نہیں تھی، یہ بات بعض اور احادیث میں اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ مذکور ہوئی ہے۔
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ". (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اس نماز عشاء کے وقت کو میں تم سب سے زیادہ جانےے والا ہوں، رسول اللہ ﷺ نماز عشاء اس وقت پڑھا کرتے تھے جس وقت مہینہ کی تیسری رات میں چاند غروب ہوا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی)
تشریح
تجربہ اور حساب سے معلوم ہوا ہے کہ تیسری رات کو چاند اکثر و بیشتر غروب آفتاب سے دو ڈھائی گھنٹے بعد غروب ہوتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا عام معمول اتنے ہی وقت نماز عشاء پڑھنے کا تھا۔
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ". (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز (ایسے وقت) پڑھا کرتے تھے کہ عورتیں (نماز سے فارغ ہو کر اپنی چادروں میں لپٹی واپس جاتی تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جا سکتیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز سویرے ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ نماز ختم ہونے کے بعد بھی اتنا اندھیرا رہتا تھا کہ مسجد سے اپنے گھر کو واپس جانے والی کواتین کو جو اپنی چادروں میں لپٹی لپٹائی ہوتی تھیں ان کا کوئی جاننے پہچاننے والا ان کے قد و قامت اور انداز رفتار سے پہچان نہیں سکتا تھا۔
عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، "أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ ، قَالَ : قَدْرِ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً". (رواه البخارى)
حضرت قتادہ تابعی حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے خاص صحابی زید بن ثابت نے ایک دن ساتھ سحری کھائی، پھر جب یہ دونوں حضرات سحری سے فارغ ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی (قتادہ کہتے ہیں) ہم لوگوں نے پوچھا کہ ان دونوں کے کھانے سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ بس اس قدر کہ کوئی آدمی جتنی دیر میں قرآن مجید کی پچاس آیتیں پڑھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
پچاس آیتیں پڑھنے میں صرف چند منٹ صرف ہوتے ہیں۔ اس حساب سے اس دن فجر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے گویا صبح صادق ہوتے ہی پڑھ لی تھی۔ حضور ﷺ کی عادت اگرچہ یہی تھی کہ جر سویرے پڑھتے تھے، جیسا کہ ابھی حضرت صدیقہؓ کی حدیث سے بھی معلوم ہو چکا ہے، لیکن صبح صادق ہوتے ہی بالکل شروع وقت میں نماز پڑھ لینا آپ ﷺ کا عام طریقہ نہیں تھا، جیسا کہ ابو برزہ اسلمیؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ وغیرہ کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، اس لئے قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت انسؓ نے جس دن کا یہ واقعہ بیان کیا ہے اس دن آپ ﷺ نے کسی خاص وجہ سے نماز بالکل شروع وقت ہی میں پڑھ لی تھی، جس طرح ہم لوگ بھی کبھی کبھی خاص حالات میں ایسا کر لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْر". (رواه ابو داؤد والترمذى والدارمى)
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اسفار میں ادا کرو نمازِ فجر (یعنی صبح کا اجالا پھیل جانے پر فجر کی نماز پڑھو) کیونکہ اس میں زیادہ اجر و ثواب ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذٰ، مسند دارمی)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز سویرے اور اتنے اندھیرے میں پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی ایسا اندھیرا رہتا تھا کہ نماز پڑھ کر گھر واپس جانے والی خواتین پہچانی نہیں جا سکتی تھیں۔
اور حضرت رافع بن خدیج ؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی نماز صبح کا اجالا پھیل جانے پر پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کی بات ہے۔ ائمہ مجتہدین اور علماء دین نے اس اختلاف کو کئی طریقوں سے حل کیا ہے۔ اس عاجز کے نزدیک بعض اکابر علماء کی یہ توجیہ سب سے زیادہ رائج ہے کہ رافع بن خدیج کی اس حدیث کے مطابق فجر کے لیے افضل تو اسفار ہی ہے، یعنی یہ کہ کچھ تاخیر کر کے اس وقت پڑھی جائے جب صبح کا اجالا پھیل جائے، لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زیادہ تر لوگ تہجد پڑھنے والے اور فجر کے لیے اول وقت اٹھنے والے تھے (جیسا کہ آج تک بھی اہل صلاح و تقوی کا عام حال ہے) اس لیے ان کے لیے سہولت اسی میں تھی کہ فجر کی نماز تاخیر سے نہ پڑھی جائے۔ دیر کر کے اسفار میں پڑھنے کی صورت میں ان کو طویل انتظار کی زحمت اٹھانی پڑتی، اس لئے رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز زیادہ تر سویرے غلس ہی میں پڑھتے تھے، گویا جس طرح عشاء کی نماز کے لیے تہائی رات تک کی تاخیر افضل ہونے کے باوجود آپ ﷺ کے لیے غلس میں یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے، اور پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اللہ کے بندوں کی رعایت اور سہولت کی فضیلت وقت سے مقدم اور بالا تر ہے۔
ہمارے زمانے میں چونکہ تہجد گزار اور فجر کے لیے اول وقت میں اٹھنے والے بہت کم ہیں اور زیادہ لوگوں کو سہولت اسفار میں (یعنی اجالا پھیل جانے پر پڑھنے میں) ہے، بلکہ فجر کی جماعت اگر اول وقت غلس میں ہو تو نمازیوں میں سے بھی بہت کم شریک جماعت ہو سکیں گے۔ ان سب وجوہ سے ہمارے زمانے میں کچھ تاخیر کر کے اسفار ہی مین فجر کی نماز پڑھنا بہتر ہو گا، تاہم اگر کسی جگہ کے عام نمازی اول وقت ہی میں جمع ہو جاتے ہوں اور تاخیر میں ان کے لیے زحمت اور مشقت ہو تو ان کے لیے یہی بہتر ہو گا کہ وہ اول وقت یعنی غلس ہی میں نماز پڑھ لیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا اکثر معمول تھا۔ بہت سے دینی حلقوں میں رمضان مبارک میں فجر کی نماز اول وقت غلس میں پڑھنے کا دستور اسی بنیاد پر ہے۔
آخر وقت نماز پڑھنے کے بارے میں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ". (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نے اپنی ساری عمر میں دو دفعہ بھی کوئی نماز اس کے آخری وقت میں نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اٹھا لیا۔
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اپنے اس بیان مین دو دفعہ کی قید غالبا اس لیے لگائی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص کو ہر نماز کا اول و آخر وقت بتانے کے لیے آپ ﷺ نے ایک دن کی نمازیں آخر وقت میں بھی پڑھ کر دکھائی تھی۔ یہ واقعہ صحیح مسلم کے حوالے سے نمبر ۱۳ پر درج ہو چکا ہے۔ بہر حال اس بیان سے حضرت صدیقہ ؓ کا مقصد یہی ہے کہ نماز کو مؤخر کر کے آخری وقت میں پڑھنا حضور ﷺ کا طریقہ نہیں تھا۔
آخر وقت نماز پڑھنے کے بارے میں
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا : الصَّلَاةُ إِذَا اَتَتْ ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْوًا " (رواه الترمذى)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے یہ ارشاد فرمایا: علی! تین کام وہ ہیں جن میں تاخیر نہ کرنا: نماز جب اس کا وقت آ جائے، اور جنازہ جب تیار ہو کر آ جائے، اور بے شوہر والی عورت جب اس کے لیے کوئی مناسب جوڑ مل جائے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ان تین کاموں میں ہمیشہ جلدی کی جائے، جو عورت کسی کے نکاح میں نہ ہو اس سے نکاح کرنے کے لیے جب کوئی مناسب آدمی تیار ہو جائے تو پھر نکاح میں دین نہ کی جائے، اسی طرح جب جنازہ آ جائے تو نماز جنازہ اور تدفین میں دیر نہ لگائی جائے علی ہذا جب نماز کا وقت آ جائے (یعنی وہ وقت جس وقت کہ نماز پڑھنی چاہئے) تو پھر بلا تاخیر نماز پڑھ لی جائے۔
آخر وقت نماز پڑھنے کے بارے میں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ، أَوْ يُؤَخِّرُونَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ : صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ ". (رواه مسلم)
حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تمہارا کیا حال اور کیا رویہ ہو گا جب ایسے (غلط کار اور ناخدا ترس) لوگ تم پر حکمراں ہوں گے کہ نماز کو مردہ اور بے وقت کریں گے (یعنی ان کی نمازیں خشوع و خضوع اور آداب کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے بے روح ہوں گی) یا وہ نمازوں کو ان کے صحیح وقت کے بعد پڑھیں گے؟ میں نے عرض کیا تو آپ کا میرے لیے کیا حکم ہے۔ یعنی ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم وقت آ جانے پر اپنی نماز پڑھ لو،۔ اس کے بعد اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع آئے تو ان کے ساتھ پھر پڑھ لو یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔
تشریح
بنی امیہ کے بعض خلفاء اور امراء کے زمانے میں یہ پیشن گوئی حرف بحرف پوری ہو چکی ہے۔ جن صحابہ کرامؓ نے ان کا زمانہ پایا جیسے حضرت انسؓ اور اکثر اکابر تابعین، ان کو یہ ابتلاء پیش آیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت پر عمل کیا۔
سونے یا بھول جانے کی وجہ سے نماز قضا ہوجائے تو .....
عَنْ أَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا". (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت میں سوتا رہ گیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے یا سو کے اٹھے اسی وقت پڑھ لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب سو کر اٹھے یا بھول جانے کی صورت میں جس وقت یاد آئے اسی وقت بلا تاخیر نماز پڑھ لے اس صورت میں وہ نماز ادا ہی کے حکم میں ہو گی اور اس شخص کو کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
بعض سفروں میں رسول اللہ ﷺ کو خود یہ واقعہ پیش آیا کہ رات کے بیشتر حصہ میں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء چلتے رہے، اس کے بعد کچھ آرام کر لینے کے ارادے سے لیٹ گئے اور حضرت بلالؓ نے خود جاگتے رہنے اور فجر کے لیے جگانے کی ذمہ داری لے لی۔ لیکن تقدیر الٰہی کہ صبح صادق کے بالکل قریب خود حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی اور سب سوتے رہ گئے۔ یہاں تک کہ سورج نکل آیا، سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی آنکھ کھلی، پھر سب لوگ گھبرا کر اٹھے، سب کو نماز کا وقت نکل جانے کا اس دن بہت رنج اور صدمہ تھا، آنحضرت ﷺ نے اذان دلوا کر جماعت سے نماز پڑھی اور فرمایا کہ سوتے ہوئے نماز کا وقت نکل جانے سے گناہ نہیں ہوتا۔ گناہ اور جرم جب ہے جب آدمی جاگتے ہوئے اور دانستہ نماز قضا کر دے۔
اذان: اسلام میں اذان کا آغاز
عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : "اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ ، قَالَ : وَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ ، قَالَ : فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ ، فَقَالَ : هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى ، فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ وَهُوَ مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ ، قَالَ : فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ ، قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ ، قَالَ : فَأَذَّنَ بِلَالٌ ". (رواه ابو داؤد)
حضرت انس ؓ کے (سب سے بڑے) صاحبزادے ابو عمیر اپنے بعض چچوں سے جو انصاری صحابیوں میں سے تھے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو نماز کے لیے فکر ہوئی (اور آپ ﷺ نے مشورہ بھی فرمایا) کہ اس کے لیے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے؟ اور کیا تدبیر اختیار کی جائے، پس بعض لوگوں نے عرض کیا کہ نماز کے وقت ایک جھنڈا نصب کیا جائے، جب لوگوں کی اس پر نگاہ پڑے گی تو ایک دوسرے کو اطلاع کر دیں گے، رسول اللہ ﷺ کو یہ رائے پسند نہ آئی۔ راوی کا بیان ہے کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کے سامنے یہودیوں کے بھونپو کا بھی ذکر کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا وہ تو یہودیوں کی چیز اور ان کا طریقہ ہے اور اس کو بھی آپ ﷺ نے پسند نہ کیا، پھر ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا وہ نصاریٰ کا طریقہ ہے اور ان کی چیز ہے (الغرض اس مجلس میں کوئی بات طے نہیں ہو سکی) اس مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ کی غیر معمولی فکر مندی کو دیکھ کر آپ ﷺ کے ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید بن عبدربہؓ بھی بہت فکر مند ہوئے اور اسی فکر کی حالت میں حضور ﷺ کی مجلس سے واپس آ کر پڑ گئے، پھر نیم خواب اور نیم بیداری کی حالت میں انہوں نے اذان سے متعلق خواب دیکھا (اس خواب کی پوری تفصیل آگے آنے والی حدیث سے معلوم ہو جائے گی) وہ صبح سویرے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! رات جب کہ میری حالت یہ تھی کہ نیم خفتہ ار نیم بیدار تھا نہ پوری طرح بیدار تھا اور نہ ہی سویا ہوا تھا، میرے پاس کوئی آنے والا آیا اور اس نے مجھے اذان کہہ کر دکھائی (پھر انہوں نے خواب کی پوری تفصیل سنائی) حضور ﷺ نے فرمایا، بلال! اٹھو اور یہ عبداللہ بن زید تم سے جو کہیں اور جو بتائیں وہی کرو “، (یعنی ان کی تلقین کے مطابق اذان دو) راوی کا بیان ہے کہ بلال نے اس حکم کی تعمیل کی اور اذان دی۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ جب مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ رتشریف لائے اور نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد بنائی گئی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ جماعت کا وقت قریب ہونے کی عام اطلاع کے لیے اعلان کا کوئی خاص طریقہ اختیار کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارہ میں صحابہ کرامؓ سے بھی مشورہ فرمایا، کسی نے کہا کہ اس کے لیے بطورِ علامت کوئی خاص جھنڈا بلند کیا جایا کرے، کسی نے رائے دی کہ کسی بلند جگہ آگ روشن کر دی جایا کرے، کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہودیوں کے عبادت خانوں میں نرسنگھا (ایک قسم کا بھونپو) بجایا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی نماز کے اعلان اور بلاوے کے لیے نرسنگھا بجایا کریں، کسی نے نصاریٰ والے ناقوس کی تجویز پیش کی، لیکن رسول اللہ ﷺ کو ان میں سے کسی بات پر بھی اطمینان نہیں ہوا اور آپ ﷺ اس مسئلہ میں متفکر رہے، آپ ﷺ کی اس فکر مندی نے بعض صحابہ کرامؓ کو بھی بہت متفکر کر دیا ان میں سے ایک انصاری صحابی حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہؓ نہ جو حضور ﷺ کو متفکر دیکھ کر بہت ہی فکر مند اور بےچین ہو گئے تھے، اسی رات خواب دیکھا (جس کی تفصیل آگے آنے والی حدیثوں سے معلوم ہو گی) اس خواب میں انہیں اذان اور اقامت کی تلقین ہوئی، انہوں نے صبح سویرے ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب عرض کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “ ان شاء اللہ یہ رؤیا حق ہے ” یعنی یہ خواب منجانب اللہ ہے۔ (یہ بات آپ ﷺ نے یا تو اس لیے فرمائی کہ ان صحابی کے بیان کرنے سے پہلے ہی خود آپ ﷺ پر بھی اس بارہ میں وحی آ چکی تھی یا خواب سننے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے قلب مبارک مین یہ بات ڈالی) بہرحال آپ ﷺ نے ان صحابی عبداللہ بن زیدؓ سے فرمایا کہ تم بلال کو اذان کے ان کلمات کی تلقین کر دو، ان کی آواز زیادہ بلند ہے وہ ہر نماز کے لیے اسی طرح اذان دیا کریں۔ بس اس دن سے اذان کا یہ نظام قائم ہوا جو آج تک دین اسلام اور امت مسلمہ کا خاص الخاص شعار ہے۔ اس تمہید کے بعد اذان و اقامت سے متعلق ذیل کی حدیثیں پڑھئے!
ابو داؤد کی اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ عبداللہ بن زیدؓ کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب بیان کرنے سے پہلے ہی حضرت عمر ؓ نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا، لیکن جب عبداللہ بن زیدؓ سبقت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور انہوں نے اپنا خواب پہلے بیان کر دیا تو حضرت عمر ؓ کو اپنے خواب کا ذکر کرنے میں کچھ حجاب محسوس ہوا، پھر بعد میں انہوں نے حضور ﷺ سے ذکر کیا۔
بعض دوسری روایات میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اور بعض میں اور بھی چند صحابہ کرامؓ کے اسی قسم کے خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن محدثین کے نزدیک یہ روایتیں ثابت نہیں ہیں۔
اذان: اسلام میں اذان کا آغاز
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : "لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ ، طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ : وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ : نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ : بَلَى ، فَقَالَ : تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ قَالَ : تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ ، فَقَالَ : إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ ، فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ ، قَالَ : فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، وَيَقُولُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا اُرِىَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلِلَّهِ الْحَمْدُ". (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ کے صاحب زادے محمد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ماجد عبداللہ بن زید نے مجھ سے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس کے لیے فرمایا تا کہ اس کے ذریعے نماز باجماعت کا اعلان لوگوں کے لیے کیا جائے تو خواب میں میرے سامنے ایک شخص آیا جو اپنے ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! یہ ناقوس تم بیچتے ہو؟ اس نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں اعلان کر کے لوگوں کو نماز کے لیے بلایا کریں گے، اس نے کہا: کیا میں تم کو ایک ایسی چیز بتا دوں جو اس کام کے لیے اس سے بہتر ہے میں نے کہا: ہاں ضرور بتائیے، اس نے کہا: کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله عبداللہ بن زید ؓ فرماتے ہیں: کہ یہ پوری اذان بتا کے وہ شخص مجھ سے تھوڑی دور پیچھے ہٹ گیا، اور تھوڑے توقف کے بعد اس نے کہا: پھر جب نماز قائم کرو تو اقامت اس طرح کہو الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله (عبداللہ بن زید فرماتے ہیں) کہ جیسے ہی صبح ہوئی میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا تھا اسے وہ آپ ﷺ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رویاء حق ہے ان شاءاللہ “ (اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ) تم بلالؓ کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کلمات کی تلقین کرو جو خواب میں تم نے دیکھے ہیں اور وہ پکار کے ان کلمات کے ذریعہ اذان کہیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند زیادہ بلند ہے، تو میں بلال کے ساتھ کھڑا ہوا، میں ان کلمات کی تلقین کرتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے۔ عبداللہ بن زید فرماتے ہیں کہ عمر بن الخطاب ؓ نے اس کو اپنے گھر میں سنا تو وہ جلدی میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے نکلے وہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کر رہے تھے قسم اس ذات کی! جس نے آپ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے بھی ویسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فلله الحمد۔
تشریح
اس حدیث سے متعلق دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس میں عبداللہ بن زیدؓ کا بیان یہ نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے اعلان کے واسطے ناقوس بنوانے کے لیے فرمایا تھا، اور حضرت انسؓ کے صاحبزادے ابو عمیرؓ کی جو روایت اوپر نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے جب ناقوس کی تجویز پیش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ “ وہ نصاریٰ کی چیز ہے ” اس عاجز کے نزدیک اس اختلاف روایت کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ نماز کے اعلان کے لیے جو چند تجویزیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ ان میں جھنڈے والی اور آگ روشن کرنے والی اور یہودیوں کے نرسنگھے والی تجویزوں کے متعلق تو آپ ﷺ نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرما کر واضح طور پر ان کو نامنظور کر دیا تھا اور اس لیے ان میں سے ہر تجویز کے بعد کوئی دوسری تجویز پیش کی گئی، لیکن ناقوس والی آخری تجویز کے بارہ میں آپ ﷺ نے صرف یہ فرمایا کہ “ هو من امر النصارى ” (وہ نصاریٰ کی چیز ہے) اور کوئی ایسا لفظ نہیں فرمایا جس سے واضح طور پر اس کی نامنظوری سمجھی جاتی اور ممکن ہے کہ آپ ﷺ کے اس وقت کے لب و لہجہ سے بھی بعض صحابہ کرامؓ نے یہ سمجھا ہو کہ دوسری تجاویز کے مقابلہ میں آپ ﷺ کے نزدیک اس تجویز کو کچھ ترجیح ہے اور اس بناء پر انہوں نے یہ خیال کر لیا ہو کہ اس وقت حضور ﷺ نے با دلِ ناخواستہ اس تجویز کو قبول فرما لیا ہے اور جب تک کہ کوئی اور بہتر تجویز سامنے نہ آئے فی الحال ناقوس والی تجویز ہی پر عمل ہو گا (اور غالباً اسی لیے اس کے بعد کسی کی طرف سے کوئی اور تجویز نہیں پیش کی گئی) بہرحال اس عاجز کا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے غالباً اسی صورت کو “ امر بالناقوس ” سے تعبیر فرما دیا ہے، کبھی کبھی کسی چیز کی اجازت اور اختیار دینے کو بھی امر سے تعبیر کر دیا جاتا ہے، قرآن و حدیث میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
دوسری وضاحت طلب بات اس حدیث میں یہ ہے کہ اذان میں جو کلمات دو دو دفعہ کہے گئے تھے اقامت میں ان کو صرف ایک ایک دفعہ کہا گیا ہے۔ آگے حضرت انس بن مالک ؓ کی جو روایت آ رہی ہے اس سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ اقامت میں ان کلمات کے ایک ہی ایک دفعہ کہنے کا حکم تھا، لیکن بعض دوسری حدیثوں میں (جن میں سے بعض آگے درج بھی کی جا رہی ہیں اور ان کی بھی صحت مسلم ہے) اذان کی طرح اقامت میں بھی ان کلمات کا دو دو دفعہ کہنا وارد ہوا ہے۔ بعض ائمہ نے اپنے اصول اور اپنے معلومات کی بناء پر ایک ایک دفعہ والی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے دوسری قسم کی روایات کو، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اقامت کی یہ دونوں صوررتیں ثابت ہیں اور اختلاف صرف ترجیح اور افضلیت میں کیا جا سکتا ہے۔
اذان: اسلام میں اذان کا آغاز
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ، "ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ" (رواه البخارى ومسلم اللفظ له)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ (نماز کے لیے مسجد میں آنے والے) آدمیوں کی تعداد تو انہوں نے آپس میں اس مسئلہ پر گفتگو کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان کیا کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں (تا کہ جلدی بروقت جمع ہو جایا کریں) اس سلسلہ میں یہ بھی ذکر آیا کہ آگ روشن کی جایا کرے۔ یا ناقوس بجایا کریں پھر (آخر کار اس معاملہ کا اختتام اس پر ہوا کہ) بلال کو حکم دیا جائے کہ وہ اذان میں (کلمات اذان کو) دو دو دفعہ کہا کریں اور اقامت میں ایک ایک دفعہ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں واقعہ کو بہت ہی اختصار سے بیان کیا گیا ہے، یہاں تک کہ عبداللہ بن زید کے خواب وغیرہ کا ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے۔ واقعات کے بیان کرنے والے ایسا اختصار کر دینے میں اس وقت کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے جب وہ اندازہ کرتے ہیں کہ ہمارا مخاطب واقعہ کی تفصیل سے واقف ہے یا کسی اور وجہ سے وہ پوری تفصیل کا ذکر کرنا اس وقت غیر ضروری سمجھتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا تھا حضرت انس ؓ کی اس حدیث میں بھی کلمات اقامت ایک ایک دفعہ کہنے کا ذکر کیا گیا ہے، جو حضرات اقامت میں بھی اذان کی طرح ہر کلمہ دو دفعہ کہنے کے حق میں ہیں وہ مذکورہ بالا ان دو حدیثوں کے بارہ میں کہتے ہیں کہ یہ اس ابتدائی دورے سے متعلق ہیں جب اذان کی شروعات ہوئی تھی اس کے بعد عرصہ تک یہی طرز عمل رہا۔ لیکن سات آٹھ سال کی کے بعد غزوہ حنین سے واپسی پر جب رسول اللہ ﷺ نے ابو محذورہ ؓ کو اذان اور اقامت کی تلقین فرمائی ہے تو اس میں آپ ﷺ نے اقامت میں بھی ہر کلمہ دو دو دفعہ کہنے کی تلقین کی ہے جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا۔ اس لیے بعد کا حکم ہونے کی وجہ سے اسی کو ترجیح ہے۔
اس عاجز کے نزدیک اس مسئلہ میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ “ حرف آخر ” ہے کہ اذان و اوقات کے کلمات کے بارے میں یہ اختلاف قرآن مجید کی مختلف قرأتوں کا سا اختلاف ہے اور ہر وہ طریقہ جو حضور ﷺ سے ثابت ہے صحیح اور کافی ہے۔
ابو محذورہ ؓ کو اذان کی تلقین
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، قَالَ : أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ ، فَقَالَ : " قُل : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ تَعُوْدُ ، فَتَقُوْلُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". (رواه مسلم)
حضرت ابو محذورہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اذان پڑھنا مجھے رسول اللہ ﷺ نے بہ نفس نفیس سکھایا۔ مجھ سے فرمایا کہو:۔
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. آپ ﷺ نے فرمایا پھر دوبارہ یہی کہو أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (صحیح مسلم)
ابو محذورہ ؓ کو اذان کی تلقین
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً ، وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً. (رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى والدارمى وابن ماجه)
ترجمہ: حضرت ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان سکھائی۔ انیس کلمے اور اقامت سترہ کلمے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
حضرت ابو محذورہ ؓ کی اوپر والی روایت میں اذان کے پورے انیس کلمے ہیں کیوں کہ شہادت کے چاروں کلمے اس میں مکرر آئے ہیں اور اقامت میں سترہ کلمے اس طرح ہوں گے کہ شہادت کے کلمے مکرر نہ ہونے کی وجہ سے چار کلمے کم ہو جائیں گے اور “ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ” دو کلموں کا اضافہ ہو جائے گا، اس کمی اور بیش کے بعد ان کی تعداد پوری سترہ ہو جائے گی۔
ابو محذورہ کو اذان سکھانے کا یہ واقعہ شوال ۸ھ کا ہے جب رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر واپس آ رہے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل جو مختلف روایات کے جمع کرنے سے معلوم وتی ہے، دلچسپ بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔ اس لیے اس کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ سے فارغ ہو کر اپنے لشکر کے ساتھ حنین کی طرف تشریف لے گئے، جب کہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک خاصی بڑی تعداد ان طلقا کی بھی ہو گئی تھی جن کو آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ہی معافی دے کر آزاد کیا تھا، تو یہ ابو محذورہ بھی جو اس وقت ایک شوخ نوجوان تھے اور مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے اپنے ہی جیسے نوادر یار دوستوں کے ساتھ حنین کی طرف چل دئیے۔ خود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حنین سے واپس ہو رہے تھے۔ راستہ ہی میں حضور ﷺ سے ہماری ملاقات ہوئی۔ نماز کا وقت آنے پر رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے اذان دی۔ہم سب اس اذان سے (بلکہ اذان والے دین ہی سے) منکر و متنفر تھے اس لیے ہم سب ساتھی مذاق اور تمسخر کے طور پر اذان کی نقل کرنے لگے اور میں نے بالکل مؤذن ہی کی طرح خوب بلند آواز سے نقل کرنی شروع کی، رسول اللہ ﷺ کو آواز پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے ہم سب کو بلوا بھیجا، ہم لا کر آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دئیے گئے، آپ ﷺ نے فرمایا بتاؤ تم میں وہ کون ہے جس کی آواز بلند تھی۔ (ابو محذورہ کہتے ہیں کہ) میرے سب ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کر دیا، اور بات سچی بھی تھی، آپ ﷺ نے اور سب کو تو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا کھڑے ہو اور پھر اذان کہو (ابو محذورہ کا بیان ہے کہ) اس وقت میرا حال یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے اور آپ ﷺ نے جس اذان کے دینے کا حکم دیا تھا اس سے زیادہ مکروہ اور مبغوض میرے لیے کوئی چیز بھی نہ تھی، یعنی میرا دل (معاذ اللہ) آپ ﷺ کی نفرت اور بغض سے بھرا ہوا تھا، لیکن میں مجبور اور بے بس تھا اس لیے ناچار حکم کی تعمیل کے لیے کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خود اذان بتانی شروع کی اور فرمایا کہو “ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ ” (آخر تک بالکل اسی طرح جس طرح اوپر والی حدیث میں گزر چکی ہے۔ آگے ابو محذورہ بیان کرتے ہیں) جب میں اذان ختم کر چکا تو آپ ﷺ نے مجھے ایک تھیلی عنایت فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی، اور میرے سر کے اگلے حصہ پر آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک رکھا اور پھر آپو نے دست مبارک میرے چہرہ پر اور پھر میرے سامنے کے حصہ پر یعنی سینہ پر اور پھر قلب و جگر پر اور پھر نیچے ناف کی جگہ تک پھیرا۔ پھر مجھے یوں دعا دی “ بَارَكَ اللهُ فِيكَ وَبَارَكَ اللهُ عَلَيْكَ ” (اللہ تعالیٰ تیرے اندر برکت دے اور تجھ پر برکت نازل فرمائے) یہ دعا آپ ﷺ نے مجھے تین دفعہ دی (حضور ﷺ کی اس دعا اور دست مبارک کی برکت سے میرے دل سے کفر اور نفرت کی وہ لعنت دور ہو گئی اور ایمان اور محبت کی دولت مجھے نصیب ہو گئی) اور میں نے عرض کیا کہ مجھے مکہ معظمہ میں مسجد حرام کا مؤذن بنا دیجئے! آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ ہم حکم دیتے ہیں اب مسجد حرام میں تم اذان دیا کرو!
اس پوری تفصیل سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شہادت کے کلمے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ مکرر یعنی بجائے دو دو دفعہ کے چار چار دفعہ کیوں کہلوائے، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے دل میں اس وقت تک ایمان آیا نہیں تھا، انہوں نے صرف حکم سے مجبور ہو کر اپنے اس وقت تک کے عقیدے کے بالکل خلاف اذان دینی شروع کر دی تھی اور اذان کے کلمات میں سب سے زیادہ ناگوار ان کو اس وقت شہادت کے یہی دو کلمے تھے (یعنی أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ) جب ایک دفعہ کہہ چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا ان کلموں کو پھر دوبارہ کہو اور خوب بلند آواز سے کہو۔ اس عاجز کا خیال ہے کہ آپ ﷺ ان کی زبان سے یہ کلمے کہلوا رہے تھے اور خود اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ تھے کہ وہ ان کلموں کو اپنے اس بندے کے دل میں اتار دے، الغرض یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ اس وقت کی ان کی خاص حالت کی وجہ سے آپ ﷺ نے شہادت کے یہ کلمے مکرر کہلوائے ہوں ورنہ کسی صحیح روایت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مستقل مؤذن حضرت بلالؓ کو یہ حکم دیا ہو اور وہ اذان میں شہادت کے یہ کلمے اس طرح چار چار دفعہ کہتے ہوں، اسی طرح عبداللہ بن زیدؓ کے خواب کی صحیح روایت میں بھی شہادت کے یہ کلمے دو ہی دفعہ وارد ہوئے ہیں۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ابو محذورہؓ مکہ معظمہ میں ہمیشہ سی طرح اذان دیتے رہے یعنی ان کلموں کو مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق چار چار دفعہ کہتے رہے جس کو اصطلاح میں (ترجیع) کہتے ہیں جس کی وجہ غالبا یہ تھی کہ حضور ﷺ نے جس طرح ان سے اذان کہلوائی تھی اور جس کی برکت سے ان کو دین کی دولت ملی تھی وہ ایک عاشق کی طرح چاہتے تھے کہ ہو بہو وہی اذان ہمیشہ دیا کریں ورنہ یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ حضور ﷺ کے موذن بلالؓ کس طرح اذان دیتے ہیں۔ اسی واقعہ کی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو محذورہ کے سر کے اگلے حصے (ناصیہ) پر جہاں دست مبارک رکھا تھا وہ وہاں کے اپنے بالوں کو کبھی کٹواتے نہیں تھے، اس عاجز کا خیال ہے کہ جیسی یہ ان کی ایک عاشقانہ ادا تھی اسی طرح ان کی ایک ادا یہ بھی تھی کہ وہ ہمیشہ ترجیع کے ساتھ اذان کہتے تھے، اور بلا شبہ حضور ﷺ کو اس کا علم تھا لیکن حضور ﷺ نے منع نہیں فرمایا، اس لیے اس کے بھی جواز میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں! اور حقیقت وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہؒ نے بیان فرمائی ہے کہ اذان و اقامت کے کلمات کا یہ اختلاف بس مختلف قراتوں کا سا اختلاف ہے۔ واللہ اعلم۔
اذان و اقامت میں دین کے بنیادی اصولوں کی تعلیم دعوت
اذانو اقامت کے سلسلہ میں یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ناظرین کے لیے ان شاء اللہ مفید اور موجب بصیرت ہو گا کہ اگرچہ یہ دونوں چیزیں بظاہر وقت نماز کے اعلان کا ایک وسیلہ اور نماز کا بلاوا ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایسے جامع کلمات الہام فرمائے ہیں جو دین کی روح بلکہ دین کے پورے بنیادی اصولوں کی تعلیم و دعوت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، دین کے سلسلے مین سب سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا مسئلہ ہے اس بارہ میں اسلام کا جو نظریہ ہے اس کے اعلان کے لیے اللہ اکبر اللہ اکبر سے بہتر اور اتنے جاندار الفاظ نہیں کئے جا سکتے، اس کے بعد نمبر آتا ہے عقیدہ توحید کا بلکہ صفات کا مسئلہ اسی سے صاف اور مکمل ہوتا ہے اس کے لیے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ جیسا جاندار اور مؤثر کوئی دوسرا مختصر کلمہ منتخب نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس حقیقت کے واضح اور معلوم ہو جانے کے بعد کہ بس اللہ ہی ہمارا الہ و معبود ہے، یہ سوال فوراً سامنے آ جاتا ہے کہ اس اللہ تک پہنچنے کا راستہ یعنی اس سے بندگی کا صحیح رابطہ قائم کرنے کا طریقہ کہاں سے معلوم ہو سکے گا؟ اس جواب کے لیے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ سے بہتر کوئی کلمہ نہیں سوچا جا سکتا، اس کے بعد حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے ذریعہ اس صلوۃ کی دعوت دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس سے رابطہ قائم کرنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے، اور اللہ کی طرف چلنے والے کا سب سے پہلا قدم بھی ہے۔ اس کے بعد حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے ذریعہ اس حقیقت کا اعلان کیا جاتا ہے کہ یہی راستہ فلاح یعنی نجات و کامیابی کی منزل تک پہنچانے والا ہے، اور جو لوگ اس راستہ کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلیں گے وہ فلاح سے محروم رہیں گے، گویا اس میں عقیدہ آخرت کا اعلان ہے اور ایسے الفاظ کے ذریعہ اعلان ہے کہ ان سے صرف عقیدہ ہی کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ زندگی کا سب سے اہم اور قابل فکر مسئلہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور آخر میں اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کے ذریعہ پھر یہ اعلان اور پکار ہے کہ انتہائی عظمت و کبریائی والا بس اللہ ہی ہے اور وہی بلا شرکت غیرے الہ برحق ہے۔ اس لیے بس اسی کی رضا کو اپنا مطلوب و مقصود بناؤ۔
بار بار غور کیجئے کہ اذان و اقامت کے ان چند کلمات میں دین کے بنیادی اصولوں کا کس قدر جامع اعلان ہے اور کتنی جاندار اور موثر دعوت ہے۔گویا ہماری ہر مسجد سے روزانہ پانچ وقت دین کی یہ بلیغ دعوت نشر کی جاتی ہے۔
ہم مسلمان اگر اتا ہی کر لیں کہ انے ہر بچہ کو اذان یاد کرا دیں اور کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس کا مطلب سمجھا دیں، خصوصاً أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کا مطلب زمانہ اور ماحول کے مطابق سمجھا دیں تو ان شاء اللہ وہ کبھی کسی غیر اسلامی دعوت کا شکار نہ ہو سکے گا۔
اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلاَلٍ : يَا بِلاَلُ ، إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ ، وَالمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ ، وَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي. (رواه الترمذى)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب تم اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر دیا کرو (یعنی ہر کلمہ پر سانس توڑ دو اور وقفہ کیا کرو) اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فصل کیا کرو کہ جو شخص کھانے پینے میں مشغول ہے، وہ فارغ ہو جائے اور جس کو استنجے کا تقاضا ہے وہ جا کر اپنی ضرورت سے فارغ ہو لے اور کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں اذان و اقامت سے متعلق جو ہدایات دی گئی ہین وہ تو بالکل واضح ہیں۔ کسی تشریح کی محتاج نہیں، البتہ آخری ہدایت وَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي (اور کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو) وضاحت طلب ہے، غالباً کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ حجرہ شریف سے حضور ﷺ کے مسجد تشریف لانے سے پہلے یہ اندازہ کر کے کہ آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے عنقریب باہر تشریف لانے والے ہیں، لوگ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے اس کی آپ ﷺ نے ممانعت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ میں جب تک مسجد مین نہ آ جاؤں اور تم مجھے دیکھ نہ لو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو۔ اس ممانعت کی یہ وجہ تو ظاہر ہے کہ پہلے سے کھڑے ہو جانا بے وجہ کی تکلیف اٹھانا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے آپ ﷺ کو تشرف لانے میں دیر ہو جائے، لیکن اس کے علاوہ آپ ﷺ کی تواضح پسند طبیعت کے لیے یہ بات بھی تکلیف اور گرانی کا باعث ہوتی ہو گی کہ اللہ کے بندے صف باند کر آپ ﷺ کے انتظار میں کھڑے ہوں۔
اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ سَعْدٍ ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : « إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ » . (رواه ابن ماجه)
سعدقرظ جو (مسجد قبا) میں رسول اللہ ﷺ کے مقرر کئے ہوئے موذن تھے ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلالؓ کو حکم دیا کہ اذان دیتے وقت وہ اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کریں، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ایسا کرنے سے تمہاری اور آواز بلند ہو جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ)
اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ زِيَادِ بْنِ الحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ ، فَأَذَّنْتُ ، فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
زیاد بن حارث صدائی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے وقت رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تم اذان پڑھو میں نے اذان پڑھی۔ اس کے بعد جب اقامت کہنے کا وقت آیا تو بلال نے ارادہ کیا کہ اقامت وہ کہین تو حضور ﷺ نے (میرے متعلق) فرمایا کہ اس صدائی نے اذان پڑھی ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان پڑھے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي العَاصِ ، قَالَ : إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ اتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا. (رواه الترمذى)
عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (جب طائف کا عامل بنا کر مجھے روانہ فرمایا تو اس وقت آپ ﷺ نے) آخر میں جو تاکیدی ہدایتیں مجھے فرمائیں ان میں سے ایک یہ ہدایت بھی تھی کہ کوئی ایسا موذن مقرر کر لینا جو اذان پڑھنے کی مزدوری نہ لے (بس اللہ کے لیے اور آخرت کے ثواب کی نیت سے اذان پڑھا کرے)۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث کی روشنی میں اکثر ائمہ دین کا جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں مسلک یہ ہے کہ اذان پڑھنے کی تنخٰواہ اور اجرت لینا درست نہیں ہے۔ دوسرے حضرات نے رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت کو تقویٰ اور عزیمت پر محمول کیا ہے۔ حنفیہ میں سے بھی متاخرین اہل فتویٰ نے زمانہ کے بدلے ہوئے حالات کے تحت اس میں گنجائش سمجھی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اذان اور امامت جیسے دینی اعمال کی عظمت اور تقدس کا تقاضا یہی ہے کہ وہ خالصا لوجہ اللہ ہوں اور تنخواہ کا معاملہ اگر ناگزیری ہوتو دوسری متعلقہ خدمتوں اور پابندیوں کے عوض میں ہو اور معاملہ کے وقت یہ بات صاف کر لی جائے۔
اذان و اقامت سے متعلق بعض احکام
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّ نِينَ. (رواه احمد وابوداؤد والترمذى والشافعى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: امام ضامن اور ذمہ دار ہے اور موذن امین ہے، اے اللہ اماموں کو ٹھیک چلنے کی توفیق دے اور موذنوں کی مغفرت فرما۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، مسند شافعی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ امام پر اپنی نماز کے علاوہ مقتدیوں کی نماز کی بھی ذمہ داری ہے اس لیے اس کو اپنے امکان کی حدتک ظاہر اور باطنا اچھی سے اچھی نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور موذن پر لوگوں نے اذان کے بارے میں اعتماد کیا ہے، لہذا اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی مصالح اور خواہشات کی روایت کے بغیر صحیح وقت پر اذان پڑھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں موذن اور امام دونوں کی ذمہ داری بتلائی اور دونوں کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔