مسجدوں میں صفائی اور خوشبو کا حکم
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ المَسْجِدِ فِى الدُّوْرِ وَاَنْ يُّنَظَّفَ وَيُطَيَّبَ. (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا محلوں میں مسجدیں بنانے اور یہ بھی حکم دیا کہ ان کی صفائی کا اور خوشبو کے استعمال کا اہتمام کیا جائے۔
(سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو محلے اور آبادیاں دور دور ہوں (جیسا کہ مدینہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا حال تھا) تو ضرورت کے مطابق وہاں مسجدیں بنائی جائیں اور ہر قسم کے کوڑے کرکٹ سے ان کی صفائی کا اور ان میں خوشبو کے استعمال کا انتظام کیا جائے، مسجدوں کی دینی عظمت اور اللہ تعالیٰ سے ان کی نسبت کا یہ بھی خاص حق ہے۔
عَنْ عُثْمَانَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ کے لیے (یعنی صرف اس کی خوشنودی اور اس کا ثواب حاصل کرنے کی نیت سے) مسجد تعمیر کرائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک شاندار محل تعمیر فرمائیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث و قرآن کے بہت سے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخڑت میں ہر عمل کا صلہ اس کے مناسب عطا ہو گا۔ اس بنیاد پر مسجد بنانے والے کے لیے جنت میں ایک شاندار محل عطا ہونا یقیناً قرین حکمت ہے۔
مسجدوں کی ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ پسندیدہ نہیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ » ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے خدا کی طرف سے حکم نہیں دیا گیا ہے مسجدوں کو بلند اور شاندار بنانے کا (یہ حدیث بیان فرمانے کے بعد حدیث کے راوی عبداللہ بن عباسؓ نے بطور پیشن گوئی) فرمایا کہ یقینا تم لوگ اپنی مسجدوں کی آرائش و زیبائش اسی طرح کرنے لگو گے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں میں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد “ ما امرت بتشهيد المساجد ” کا منشاء اور اس کی روح یہ ہے کہ مسجدوں میں ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ مطلوب اور محمود نہیں ہے بلکہ ان کے لیے سادگی ہی مناسب اور پسندیدہ ہے۔ آگے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مسجدوں کے متعلق امت کے بے راہ روی کے بارے میں جو پیشن گئی فرمائی ظاہر یہی ہے کہ وہ بات بھی انہوں نے کسی موقع پر رسول اللہ ﷺ ہی سے سنی ہو گی۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے۔
أَرَاكُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَكُمْ بَعْدِي، كَمَا شَرَّفَتِ الْيَهُودُ كَنَائِسَهَا، وَكَمَا شَرَّفَتِ النَّصَارَى بِيَعَهَا (کنز العمال بحالہ ابن ماجہ)
میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ایک وقت (جب میں تم میں نہ ہوں گا) اپنی مسجدوں کو اسی طرح شاندار بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے کنیسے بنائے ہیں اور نصاریٰ نے اپنے گرجے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے (جو رسول اللہ ﷺ کے بعد قریباً ساٹھ سال تک اس دنیا میں رہے) مسلمانوں کے مزاج اور طرز زندگی میں تبدیلی کا رخ اور کی رفتار دیکھ کر یہ پیشن گوئی فرمائی ہو۔ بہت حال پیشن گوئی کی بنیاد جو بھی ہو وہ حرف بحرف پوری ہوئی، خود ہم نے اپنی آنکھوں سے ہندوستان ہی کے بعض علاقوں میں ایسی مسجدیں دیکھی ہیں جن کی آرائش و زیبائش کے مقابلے میں ہمارا خیال ہے کہ کوئی کنیسہ اور کوئی گرجہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
مسجدوں کی ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ پسندیدہ نہیں
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " (رواه ابوداؤد والنسائى والدارمى وابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسجدوں کے بارے میں لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر و مباہات کرنے لگیں گے۔
(یعنی اپنا تفوق اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے ایک کے مقابلہ میں ایک شاندار مسجد بنائے گا)
(سنن ابی داؤد، سنن نسائی، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
قیامت کی نشانیوں میں سے بعض تو وہ ہیں جو اس کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی، جیسے خروج دجال اور آفتاب کا مغرب کی سمت سے طلوع ہونا وغیرہ وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو قیامت سے پہلے کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو گی۔ رسول اللہ ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والی جن خرابیوں اور جن فتنوں کو قیامت کی نشانیوں میں سے بیاتا ہے وہ اکثر اسی قسم کی ہیں۔ اور مسجدوں کے بارہ میں فخر و مباہات بھی انہی میں سے ہے اور مسلمان اب سے بہت پہلے اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اللهم اصلح امة سيدنا محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بدبو دار چیز کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى ، مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس بدبودار درخت (پیاز یا لہسن) سے کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے کیونکہ جس چیز سے آدمیوں کو تکلیف ہوتی ہے اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجدوں کی دینی عظمت اور حق تعالیٰ کے ساتھ ان کی خاص نسبت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی بدبو سے ان کی حفاظت کی جائے، چونکہ لہسن اور پیاز میں بھی ایک طرح کی بدبو ہوتی ہے اور بعض مخصوص علاقوں میں پیدا ہونے والی ان دونوں چیزوں کی بو بہت ہی تیز اور سخت ناگوار ہوتی ہے اور حضور ﷺ کے زمانے میں لوگ ان کو کچا بھی کھاتے تھے اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو کھا کر کوئی آدمی مسجد میں نہ آئے اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز سے سلیم الطبع آدمیوں کو اذیت ہوتی ہے اس سے اللہ کے فرشتوں کو بھی اذیت ہوتی ہے اور مسجدوں میں چونکہ فرشتوں کی آمدو رفت بڑی کثرت سے ہوتی ہور خاص کر نماز میں وہ بنی آدم کے ساتھ بڑی تعداد میں شریک رہتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بدبو جیسی کسی بھی چیز سے ان مقدس اور محترم مہمانوں کو ایذا نہ پہنچے۔
ایک دوسری حدیث میں صراحت کے ساتھ پیاز اور لہسن دونوں کا نام لے کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کو کھا کر کوئی ہماری مسجد میں نہ آیا کرے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو یہ چیزیں کھانی ہی ہوں تو وہ پکا کر ان کی بدبو زائل کر لیا کرے۔ (1)
ان حدیثوں میں اگرچہ صرف پیاز اور لہسن کا ذکر آیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ہر بدبو دار چیز بلکہ ہر اس چیز کا جس سے سلیم الفطرت انسانوں کو اذیت پہنچے یہی حکم ہے۔
مسجدوں میں شعر بازی اور خرید و فروخت کی ممانعت
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : « نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَعَنِ البَيْعِ وَالاِشْتِرَاءِ فِيهِ ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ فِيهِ يَوْمَ الجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)
عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں اپنے والد شعیب سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجدوں میں شعر بازی کرنے سے اور خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ار اس سے بھی منع فرمایا کہ جمعہ کے دن مسجد میں نماز سے پہلے لوگ اپنے حلقے بنا بنا کر بیٹھیں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
تشریح
مسجدوں کی دینی عظمت کا یہ بھی حق ہے کہ جو مشغلے اللہ کی عبادت سے اور دین سے قریبی تعلق نہ رکھتے ہوں وہ اگرچہ فی نفسہ جائز ہوں (خواہ کاروباری ہوں جیسے تجارت سودا گری یا تفریحی ہوں جیسے مشاعرے اور ادبی مجلسیں) مسجدیں ان کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔ مسجد میں شعر بازی اور خرید و فروخت کی ممانعت کی بنیاد یہی ہے حدیث کا آخری جز جو جمعہ کے دن سے متعلق ہے اس کا منشاء اور مطلب بظاہر یہ ہے کہ جو لوگ جمعہ کے دن نماز کے لیے پہلے سے مسجد پہنچ جائیں (جس کی خود حدیثوں میں ترغیب دی گئی ہے) ان کو چاہیے کہ وہ نماز تک یکسوئی کے ساتھ ذکر و عبادات اور دعا جیسے اشغال میں مشغول رہیں اپنے الگ الگ حلقے اور مجلسیں قائم نہ کریں۔ واللہ اعلم۔
چھوٹے بچوں سے اور شور و شغب وغیرہ سے مسجدوں کی حفاظت
عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ ، وَمَجَانِينَكُمْ ، وَشِرَاءَكُمْ ، وَبَيْعَكُمْ ، وَخُصُومَاتِكُمْ ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ. (رواه ابن ماجه)
واثلہ بن الاسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنی مسجدوں سے دور اور الگ رکھو اپنے چھوٹے بچوں کو اور دیوانوں کو (ان کو مسجدوں میں نہ آنے دو) اور اسی طرح مسجدوں سے الگ اور دور رکھو اپنی خرید و فروخت کو اور اپنے باہمی جھگڑوں ٹنٹوں کو اور اپنے شور و شغب کو اور حدوں کی قائم کرنے کو اور تلواروں کو نیاموں سے نکالنے کو (یعنی ان میں سے کوئی بات بھی مسجدوں کی حدود میں نہ ہو، یہ سب باتیں مسجد کے تقدس اور احترام کے خلاف ہیں)۔ (سنن ابن ماجہ)
مسجدوں میں دینا کی بات نہ کی جائے
عَنِ الْحَسَنِ ، مُرْسَلاً قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ ، فَلَا تُجالِسُوهُمْ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت حسن بصریؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسجدوں میں لوگوں کی بات چیت اپنے دنیوی معاملات میں ہوا کرے گی، تمہیں چاہئے کہ ان لوگوں کے پاس بھی نہ بیٹھو، اللہ کو ان لوگوں سے کوئی سرو کار نہیں۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مسجد چونکہ خانہ خدا ہے اس لیے اس کے ادب کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اس میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کا اللہ کی رضا طلبی سے اور دین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ہاں مسلمانوں کے اجتماعی اور ملی مسائل کے بارے میں خواہ ان کا تعلق مسلمانوں کی زندگی کے کسی شعبہ سے ہو، مسجدوں میں مشورے کیے جا سکتے ہیں اور اس سلسلہ کے کاموں کے لیے مسجدوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بھی مسجدوں کے عام آداب کا لحاظ ضروری ہو گا، نیز یہ بھی شرط ہو گی کہ یہ جو کچھ ہو اللہ کی ہدایت کے تحت ہو اس سے آزاد ہو کر نہ ہو۔
ف..... اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصریؒ تابعی ہین، ظاہر ہے کہ ان کو یہ حدیث کسی صحابی کے واسطے پہنچی ہو گی، لیکن انہوں نے ان صحابی کا حوالہ نہیں دیا۔ ایسی حدیث کو جسے کوئی تابعی صحابی کا حوالہ دئیے بغیر روایت کرے محدثین کی اصطلاح میں “ مرسل ” کہا جاتا ہے یہ روایت بھی اسی قسم کی ہے۔
مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى المَسْجِدِ ، فَأْذَنُوا لَهُنَّ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری بیویاں رات کو مسجد جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دے دیا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ » (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے منع نہ کرو، اور ان کے لیے بہتر ان کے گھر ہی ہیں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں جبکہ مسجد نبوی میں پانچویں وقت کی نماز بہ نفس نفیس آپ ﷺ خود پڑھاتے تھے تو آپ ﷺ کی طرف اے بار بار اس کی وضاھت کے باوجود کہ عورتوں کے لی اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے، بہت ہی نیک بخت عورتوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ کم از کم رات کی نمازوں میں (یعنی عشاء فجر میں) مسجد میں جا کر حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کریں، لیکن بعض لوگ اپنی بیویوں کو اس کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور ان کا یہ اجازت نہ دینا کسی فتنہ کے اندیشہ سے یا کسی بدگمانی کی وجہ سے نہ تھا (کیونکہ اس وقت کا پورا اسلامی معاشرہ اس لحاظ سے ہر طرح قابل اطمینان تھا) بلکہ ایک گیر شرعی قسم کی غیرت اس کی بنیاد تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتیں اگر رات کی نمازوں میں مسجد میں آنے کی اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دے دینا چاہیے لیکن خود عورتوں کو آپ ﷺ برابر یہی سمجھاتے رہے کہ بیبیو تمہارے لیے زیاہ بہتر اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنا ہے، جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیث اور زیادہ واضح ہو جائے گا۔
مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا
عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّةِ ، أَنَّهَا جَاءَتِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي ، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي " (رواه احمد ، كنزالعمال)
مشہور صحابی ابو حمید ساعدی کی بیوی ام حمید ساعدیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ کے ساتھ (جماعت سے مسجد میں) نماز ادا کیا کروں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تمہیں میرے ساتھ (یعنی میرے پیچھے جماعت کے ساتھ) نماز پڑھنے کی بڑی چاہت ہے اور مسئلہ شریعت کا یہ ہے کہ تمہاری وہ نماز جو تم اپنے گھر کے اندرونی حصے میں پڑھو وہ اس نماز سے افضل اور بہتر ہے جو تم بیرونی دالان میں پڑھو، اور بیرونی دالان میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے گھر کے صحن میں پڑھو، اور اپنے گھر کے صحن میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے قبیلہ کی مسجد میں (جو تمہارے مکان سے قریب ہے) نماز پڑھو، اور اپنے قبیلہ والی مسجد میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم میری مسجد میں آ کر نماز پڑھو۔ (کنز العمال بحوالہ مسند احمد)
تشریح
اس حدیث کے علاوہ اور بھی بہت سے حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کی وضاحت بار بار ار مختلف موقعوں پر فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سی صحابیات کا دلی جذبہ یہی ہوتا تھا کہ چاہے ہمارے لیے اپنے گھروں میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کی بات ہو۔ لیکن ہم کم از کم رات کی نمازیں مسجد میں حاضر ہو کر حضور ﷺ کے پیچھے ہی پڑھ لیا کریں۔ اور چونکہ اس جذبہ کی بنیاد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ آپ کی سچی ایمانی محبت تھی اور اس زمانے میں کسی فتنہ کا اندیشہ بھی نہیں تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ عورتیں اگر رات کو مسجدوں میں جانے کی اجازت چاہیں تو ان کو اجازت دے دیا کرو۔ بہرحال یہ اجازت دینے کا حکم اس وقت کا ہے جب کہ عورتوں کے مسجد جانے میں کسی برائی کا خطرہ اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہیں تھا اور بعض صحابہ کرام صرف عرفی غیرت یا اپنی خاص افتاد طبع کی وجہ سے اپنی بیویوں کو مسجد میں جانے سے منع کر دیتے تھے۔ لیکن جب عورتوں اور مردوں دونوں کے حالات میں تبدیلی آ گئی اور فتنوں کے اندیشے پیدا ہو گئے تو خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے (جن سے زیادہ کوئی بھی عورتوں کے ظاہری و باطنی حال اور رسول اللہ ﷺ کے مزاج و منشاء سے واقف نہیں ہو سکتا) وہ فرمایا جو آگے درج ہونے والی حدیث میں آپ پڑھیں گے۔
مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : « لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ ان باتوں کو دیکھتے جو عورتوں نے اپنے (طرز زندگی میں) اب پیدا کر لی ہیں تو آپ ﷺ خود ان کو مسجدوں میں جانے سے منع فرما دیتے، جس طرح کہ (اسی قسم کی باتوں کی وجہ سے) بنی اسرائیل کی عورتوں کو (ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے اگلے پیغمبروں کے زمانہ میں) روک دیا گیا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ بات حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ کے وصال کے بعد اپنے زمانہ میں فرمائی تھی اور بقول حضرت شاہ ولی اللہؒ اسی بناء پر جمہور صحابہؓ کی یہ رائے ہو گئی تھی کہ اب عورتوں کو مسجدوں میں نہ جانا چاہیے، بعد کے زمانوں میں ان تبدیلیوں میں جو اور ترقی ہوئی اور ہمارے معاشرے کی خرابیوں میں جو بے حساب اضافہ ہوا اس کے بعد تو ظاہر ہے کہ اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : « لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةِ » ، وَقَالَ : « إِنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّ مِنْ سُنَنَ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ » .....وَفِىْ رِوَايَةٍ ..... إِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّهُنَّ (اَىِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ) مَنْ سُنَنَ الْهُدَى ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ. (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنے کو (یعنی مسلمانوں کو) اس حال میں دیکھا ہے کہ نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والا یا تو بس کوئی منافق ہوتا تھا جس کی منافقت ڈھکی چھپی نہیں ہوتی تھی، بلکہ عام طور سے لوگوں کو اس کی منافقت کا علم ہوتا تھا۔ یا کوئی بےچارہ مریض ہوتا تھا (جو بیماری کی مجبوری سے مسجد تک نہیں آ سکتا تھا) اور بعضے مریض بھی دو آدمیوں کے سہارے چل کر آتے اور جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو “ سنن ہدی ” کی تعلیم دی ہے (یعنی دین و شریعت کی ایسی باتیں بتلائی ہیں جن سے ہماری ہدایت و سعادت وابستہ ہے) اور انہیں “ سنن ہدی ” میں سے ایسی مسجد میں جہاں اذان دی جاتی ہو جماعت سے نماز ادا کرنا بھی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ:
“ اے مسلمانو! اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے “ سنن ہدی ” مقرر فرمائی ہیں (یعنی ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقام قرب و رضا تک پہنچانے والے ہیں) اور پانچوں نمازیں جماعت سے مسجد میں ادا کرنا انہی “ سنن ہدی ” میں سے ہے اور اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنے لگو گے جیسا کہ یہ ایک آدمی جماعت سے الگ اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے (یہ اس زمانے کے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ تھا) تو تم اپنے پیغمبر ﷺ کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور جب تم اپنے پیغمبر کا طریقہ چھوڑ دو گے تو یقین جانو کہ تم راہ ہدایت سے ہٹ جاؤ گے اور گمراہی کے غار میں جا گرو گے۔ ” (صحیح مسلم)
تشریح
گزشتہ صفحات میں کتاب الصلوٰۃ کے بالکل شروع ہی میں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ نماز صرف ایک عبادتی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایمان کی نشانی اور اسلام کا شعار بھی ہے اور اس کا ادا کرنا اسلامیت کا ثبوت اور اس کا ترک کر دینا دین سے بے اعتنائی اور اللہ و رسول ﷺ نے بے تعلقی کی علامت ہے، اس لیے ضروری تھا کہ نماز کی ادائیگی کا کوئی ایسا بندوبست ہو کہ ہر شخص اس فریضہ کو اعلانیہ اور على رؤس الاشهاد یعنی سب کے سامنے ادا کرے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت رسول اللہ ﷺ نے نماز با جماعت کا نظام قائم فرمایا اور ہر مسلمان کے لیے جو بیمار یا کسی دوسری وجہ سے معذور نہ ہو جماعت سے نماز ادا کرنا لازمی قرار دیا۔ ہمارے نزدیک اس نظام جماعت کا خاص راز اور اس کی خاص الخاص حکمت یہی ہے کہ اس کے ذریعہ افراد امت کا روزانہ، بلکہ ہر روز پانچ مرتبہ احتساب ہو جاتا ہے۔ نیز تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اس جماعتی نظام کے طفیل بہت سے وہ لوگ بھی پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں جو عزیمت کی کمی اور جذبے کی کمزوری کی وجہ سے انفرادی طور پر کبھی بھی ایسی پابندی نہ کر سکتے۔
علاوہ ازیں باجماعت نماز کا یہ نظام بجائے خود افراد امت کی دینی تعلیم و تربیت کا اور ایک دوسرے کے احوال سے باخبری کا ایسا غیر رسمی اور بے تکلف انتظام بھی ہے، جس کا بدل سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
نیز نماز باجماعت کی وجہ سے مسجد میں عبادت و انابت اور توجہ الی اللہ و دعوات صالحہ کی جو فضا قائم ہوتی ہے اور زندہ قلوب پر اس کے جو اثرات پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے مختلف الحال بندوں کے قلوب ایک ساتھ متوجہ ہونے کی وجہ سے آسمانی رحمتوں کا جو نزول ہوتا ہے اور جماعت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کی شرکت کی وجہ سے (جس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دی ہے) نماز جیسی عبادت میں ملائکۃ اللہ کی جو معیت اور رفاقت نصیب ہوتی ہے یہ سب اسی نظام جماعت کے برکات ہیں۔
پھر اس سب کے علاوہ اس نظام جماعت کے ذریعہ امت میں جا اجتماعیت پیدا کی جا سکتی ہے اور محلہ کی مسجد کے روزانہ پنج وقتی اجتماع اور پوری بستی کی جامع مسجد کے ہفتہ وار وسیع اجتماع اور سال میں دو دفعہ عید گاہ کے اس سے بھی وسیع تر اجتماع سے جو عظیم اجتماعی اور ملی فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں ان کا سمجھنا تو آج کے ہر آدمی کے لیے بہت آسان ہے۔
بہر حال نظام جماعت کے انہی برکات اور اس کے اسی قسم کے مصالح اور منافع کی وجہ سے امت کے ہر شخص کو اس کا پابند کیا گیا ہے کہ جب تک کوئی واقعی مجبوری اور معذوری نہ ہو تو وہ نماز جماعت ہی ادا کرے اور جب تک امت میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیمات پر اسی طرح عمل ہوتا تھا جیسا کہ ان کا حق ہے اس وقت سوائے منافقوں یا معذوروں کے ہر شخص جماعت ہی سے نماز ادا کرتا تھا ار اس میں کوتاہی کو نفاق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس تمہید کے بعد جماعت کے متعلق ذیل کی حدیثیں پڑھئے۔
تشریح .....رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے اس ارشاد میں فرمایا ہے کہ پانچوں وقت کی نماز جماعت سے مسجد میں ادا کرنا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمودہ “ سنن ہدی ” میں سے ہے، یعنی آپ ﷺ کی ان اہم دینی تعلیمات میں سے ہے، جن سے امت کی ہدایت وابستہ ہے۔ آگے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کی پابندی ترک کر کے اپنے گھروں ہی میں نمازا پڑھنے لگنا، رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کر لینا ہے۔ اسی کے ساتھ ٓپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: کہ اس امت کے اس اولین دور میں جو مثالی اور معیاری دور تھا، منافقوں اور مجبور مریضوں کے علاوہ ہر مسلمان جماعت ہی سے نماز ادا کرتا تھا، اور اللہ کے بعض صاحب عزیمت بندے تو بیماری کی حالت میں بھی دوسروں کے سہارے آ کر جماعت میں شرکت کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اس پورے بیان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جماعت کی حیثیت ان کے اور عام صحابہؓ کے نزدیک دینی واجبات کی سی ہے۔ پس جن حضرات نے اس روایت کے لفظ “ سنن الہدی ” سے یہ سمجھا ہے کہ جماعت کا درجہ فقہی اصطلاح کے مطابق بس “ سنت ” کا ہے، غالباً انہوں نے غور کرتے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اس پورے ارشاد کو سامنے نہیں رکھا۔ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے اس مسئلہ پر اور زیادہ روشنی پڑے گی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَيْسَ صَلاَةٌ أَثْقَلَ عَلَى المُنَافِقِينَ مِنَ الفَجْرِ وَالعِشَاءِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ المُؤَذِّنَ ، فَيُقِيمَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ، ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ ، فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لاَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ بَعْدُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: منافقوں پر کوئی نماز بھی فجر و عشاء سے زیادہ بھاری نہیں ہے، اور اگر وہ جانتے کہ ان دونوں میں کیا اجر و ثواب ہے اور کیا برکتیں ہیں تو وہ ان نمازوں میں بھی حاضر ہوا کرتے اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا (یعنی اگر بالفرض کسی بیماری کی وجہ سے وہ چل کر نہ آ سکتے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آتے، اس کے بعد ٓپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) کہ میرے جی میں آتا ہے کہ (کسی دن) میں مؤذن کو حکم دوں کہ وہ جماعت کے لیے اقامت کہے، پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ (میری جگہ) وہ لوگوں کی امامت کرے اور خود آگ کے فتیلے ہاتھ میں لوں اور ان لوگوں پر (یعنی ان کے موجود ہوتے ہوئے ان کے گھروں میں) آگ لگا دوں جو اس کے بعد بھی (یعنی اذان سننے کے بعد بھی) نماز میں شرکت کرنے کے لیے گھروں سے نہیں نکلتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
للہ اکبر! کتنی سخت وعید ہے، اور کیسے جلال اور غصہ کا اظہار ہے، رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان لوگوں کے حق میں جو آپ ﷺ کے زمانے میں جماعت میں غیر حاضر ہوتے تھے۔اور اسی بارے میں رسول اللہ ﷺ کا اسی طرح کا ایک لرزہ خیز ارشاد حضرت اسامہ ؓ کی روایت سے سنن ابن ماجہ میں مروی ہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ صاف و صریح ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔
لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ، أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ (كنز العمال بحواله ابن ماجه)
لوگوں کو چاہیے کہ وہ جماعت ترک کرنے سے باز آئیں، نہیں تو میں ان کے گھروں میں آگ لگوا دوں گا۔
یہ تارکین جماعت جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اتنے سخت غصہ کا اظہار فرمایا، خواہ عقیدے کے منافق ہوں یا عمل کے منافق (یعنی دینی اعمال میں سستی اور کوتاہی کرنے والے) بہرحال اس وعید اور دھمکی کا تعلق ان کے عمل “ ترک جماعت ” سے ہے۔ اسی بناء پر بعض ائمہ سلف (جن میں سے ایک امام احمد ابن حنبلؒ بھی ہیں) اس طرف گئے ہیں کہ ہر غیر معذور شخص کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے۔ یعنی ان کے نزدیک جس طرح نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح اس کو جماعت سے پڑھنا ایک مستقل فرض ہے اور جماعت کا تارک ایک فرض عین کا تارک ہے۔ لیکن محققین احناف نے “ جماعت ” سے متعلق تمام احادیث کو سامنے رکھ کر یہ رائے قائم کی ہے کہ اس کا درجہ واجب کا ہے اور اس کا تارک گنہگار ہے۔ اور مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ایک طرح کی تہدید اور دھمکی ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ ، عُذْرٌ » ، قَالُوا : وَمَا الْعُذْرُ؟ ، قَالَ : « خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى » (رواه ابوداؤد والدار قطنى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص نماز باجماعت کے لیے موذن کی پکار سنے اور اس کی بابعداری کرنے سے (یعنی جماعت میں شریک ہونے سے) کوئی واقعی عذر اس کے لیے مانع نہ ہو (اور اس کے باوجود وہ جماعت میں نہ آئے بلکہ الگ ہی اپنی نماز پڑھ لے) تو اس کی وہ نماز اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو گی۔ بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ: حضرت (ﷺ) واقعی عذر کیا ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جان و مال کا خوف یا مرض۔ (سنن ابی داؤد، سنن دار قطنی)
تشریح
اس حدیث میں بھی تارکین جماعت کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے۔ بعض ائمہ سلف کا مذہب اسی حدیث کی بناء پر یہ ہے کہ جماعت وضو وغیرہ کی طرح نماز کے شرائط سے ہے، اور غیر معذور آدمی کی نماز جماعت کے بغیر سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ لیکن جمہور ائمہ کا مذہب یہ نہیں ہے، ان کے نزدیک ایسی نماز ہو تو جاتی ہے لیکن بہت ناقص ادا ہوتی ہے، اور اس کا ثواب بھی کم ہوتا ہے، اور رضاء الہٰی جو خاص الخاص مقصد اور ثمرہ ہے اس سے محروم رہتی ہے، جمہور کے نزدیک مقبول نہ ہونے کا مطلب یہی ہے۔ اور دوسری ان حدیثوں سے جن میں نماز باجماعت اور نماز بے جماعت کے ثواب کی کمی بیشی بتائی گئی ہے۔ جمہور ہی کے مسلک کی تائید ہوتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بغیر عذر کے ترک جماعت بہت بڑی محرومی اور بدبختی ہے۔
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ » (رواه احمد وابوداؤد والنسائى)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی بستی میں یا بادیہ (1) میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقیناً قابو پا لے گا، لہٰذا تم جماعت کی پابندی کو اپنے پر لازم کر لو، کیوں کہ بھیڑیا اسی بھیڑ کو اپنا لقمہ بناتا ہے جو گلہ سے الگ دور رہتی ہے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
مطلب ہے کہ اگر کسی جگہ صرف تین آدمی بھی نماز پڑھنے والے ہوں تو ان کو جماعت ہی سے نماز پڑھنا چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو شیطان آسانی سے ان کو شکار کر سکے گا۔
نماز باجماعت کی فضیلت اور برکت
عَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صَلاَةُ الجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں چیزوں کے خواص اور اثرات میں درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے اور اس کی بناء پر ان چیزوں کی افادیت اور قدر و قیمت میں بھی فرق ہو جاتا ہے، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے، اور اس کا صحیح اور تفصیلی علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی عمل کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ یہ فلاں عمل کے مقابلے میں اتنے درجہ افضل ہے تو وہ اس انکشاف کی بناء پر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ میں آپ ﷺ پر کیا جاتا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کہ نماز باجماعت کی فضیلت اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ۲۷ درجہ زیادہ ہے اور اس کا ثواب ۲۷ گنا زیادہ ملنے والا ہے، وہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر منکشف فرمائی اور آپ نے اہل ایمان کو بتلائی۔ اب صاحب ایمان کا مقام یہ ہے کہ وہ اس پر دل سے یقین کرتے ہوئے ہر وقت کی نماز جماعت ہی سے پڑھنے کا اہتمام کرے۔
اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ اکیلے پڑھنے والے کی نماز بھی بالکل کالعدم نہیں ہے وہ بھی ادا ہو جاتی ہے لیکن ثواب میں۲۶ درجہ کمی رہتی ہے اور یہ بھی یقیناً بہت بڑا خسارا اور بڑی محرومی ہے۔
نماز باجماعت کی فضیلت اور برکت
عَنْ أَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى كُتِبَ لَهُ بَرَاءَتَانِ : بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ. (رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص چالیس دن تک ہر نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اس طرح کہ اس کی تکیبر اولیٰ بھی فوت نہ ہو تو اس کے لیے دو براءتیں لکھ دی جاتی ہیں ایک آتش دوزخ سے براءت اور دوسری نفاق سے براءت۔ (جامع ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کامل ایک چلہ ایسی پابندی اور اہتمام سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہ تکبیر اولیٰ بھی فوت نہ ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا مقبول و محبوب ہے اور بندہ کے ایمان و اخلاص کی ایسی نشانی ہے کہ اس کے لیے فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ اس کا دل نفاق سے پاک ہے اور یہ ایسا جنتی ہے کہ دوزخ کی آنچ سے بھی وہ کبھی آشنا نہ ہو گا۔ اللہ کے بندے صدق دل سے ارادہ اور ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ سے توفیق کی امید ہے، کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عمل خیر کی چالیس دن تک پابندی خاص تاثیر رکھتی ہے۔
جماعت کی نیت پر جماعت کا پورا ثواب
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا اَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا » (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح (یعنی پورے آداب کے ساتھ) وضو کیا، پھر وہ (جماعت کے ارادے سے مسجد کی طرف) گیا، وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے اور جماعت ہو چکی، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو بھی ان لوگوں کے برابر ثواب دے گا جو جماعت میں شریک ہوئے اور جنہوں نے جماعت سے نماز ادا کی، اور یہ چیز ان لوگوں کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث نہیں ہو گی۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو جماعت کی پابندی کرتا ہے اور اس کے لیے پورا اہتمام کرتا ہے اس کو اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آ جائے کہ وہ اپنی عادت کے مطابق اچھی طرح وضو کر کے جماعت کی نیت سے مسجد جائے اور وہاں جا کر اسے معلوم ہو کہ جماعت ہو چکی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت اور اس کے اہتمام کی وجی سے اس کو جماعت والی نماز کا پورا ثواب عطا فرمائیں گے، کیوں کہ ظاہر ہے کہ اس کی کسی نادانستہ کوتاہی یا غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس کی جماعت فوت نہیں ہوئی ہے، بلکہ وقت کے اندازہ کی غلطی یا کسی ایسی ہی وجہ سے وہ بےچارہ جماعت سے رہ گیا ہے، جس میں اس کا قصور نہیں ہے۔
کن حالات میں مسجد اور جماعت کی پابندی ضروری نہیں
عَنِ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ المُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ ، يَقُولُ : « أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات میں جو بہت سردی اور تیز ہوا والی رات تھی، اذان دی، پھر خود ہی اذان کے بعد پکار کے فرمایا: لوگو! اپنے گھروں ہی پر نماز پڑھ لو۔ پھر آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب سردی اور بارش والی رات ہوتی تو آپ ﷺ مؤذن کو حکم فرما دیتے کہ وہ یہ بھی اعلان کر دے کہ آپ لوگ اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھ لیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں سردی اور ہوا کا جو ذکر ہے ظاہر ہے کہ اس سے غیر معمولی اور خطرناک قسم کی سردی اور ہوا ہی مراد ہے اور ایسی صورت میں یہی حکم ہے۔ اسی طرح بارش اگر اتنی ہو کہ مسجد تک جانے میں بھیگ جانے کا اندیشہ ہو، یا راستہ میں پانی یا کیچڑ یا پھسلن ہو تو بھی یہی حکم ہے یعنی اجازت ہے کہ نماز گھر ہی پر پڑھ لی جائے، ایسی سب صورتوں میں جماعت میں حاضری ضروری نہیں رہتی۔