حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر امت کے لئے ایک امین ہوتا ہے، اور میری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراحؓ ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اسی سلسلہ معارف الحدیث میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں “امانت” کا لفظ بہت وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب ہے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق سے متعلق جو ذمہ داریاں کسی بندے ہوں، صحیح اور پورے طور پر ان کو ادا کرنا۔
حضرت انسؓ کی زیر تشریح روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و توفیق سے حضرت ابو عبیدہ ؓ کو اس صفت میں امتیاز حاصل تھا ..... آگے درج ہونے والی حدیث سے بھی مزید وضاحت کے ساتھ یہی معلوم ہو گا۔
حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ
عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ»، قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نجران کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ایک امین شخص کو ہمارے لئے مقرر فرما کر بھیج دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ“میں ایک ایسے “مرد امین ” کو تمہارے لئے مقرر کروں گا جو سچا پکا امین ہو گا” تو لوگ اس کے لئے متوقع اور خواہش مند ہوئے، آگے حدیث کے راوی (حضرت حذیفہؓ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نجران بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
نجران ایک علاقہ تھا یمن اور شام اور حجاز کے درمیان، اس کے بڑے اور مرکزی شہر کو نجران ہی کہا جاتا تھا، یہ ۱۰ ھ میں فتح ہوا، اس میں بیشتر آبادی عیسائیوں کی تھی اور یہ اس پورے علاقہ میں عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز تھا، اس نجران کے ایک وفد نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ درخواست کی تھی جس کا حذیفہ بن الیمانؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی درخواست پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو وہاں کا عامل اور حاکم بنا کر بھیجا۔ کنز العمال میں حضرت حذیفہؓ کی یہ حدیث مسند احمد وغیرہ متعدد کتب حدیث کے حوالہ سے بھی نقل کی گئی ہے اور اس میں نجران کے وفد کی اس درخواست کے جواب میں کہ “آپ ہمارے لئے ایک “مرد امین” مقرر فرما دیجئے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔ “لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” آپ ﷺ نے “أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ” کا لفظ تین دفعہ فرمایا۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تین دفعہ اس کلمہ کے ارشاد فرمانے سے وصف امانت کے لحاظ سے حضرت ابو عبیدہؓ کی عظمت و فضیلت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔
حضرت ابو عبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَسُئِلَتْ: " مَنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، فَقِيلَ: ثُمَّ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قِيلَ مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ". (رواه مسلم)
ابن ابی ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے خود سنا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کے لئے کسی کو خلیفہ مقرر فرماتے تو کس کو نامزد کرتے؟ تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا: ابو بکرؓ کو، اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ ابو بکر کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے تو حضرت صدیقہؓ نے فرمایا: عمرؓ کو، پھر دریافت کیا گیا عمرؓ کے بعد کے لئے کس کو نامزد فرماتے؟ تو انہوں نے فرمایا: ابو عبیدہ بن جراحؓ کو ..... (صحیح مسلم)
تشریح
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی رائے مبارک، اور رجحانات و عزائم سے واقفیت میں خاص امتیاز ھاصل تھا، انہوں نے حضور کا جو معاملہ اپنے والد ماجد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ، اور حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ کے ساتھ دیکھا تھا، اس کی بنا پر انہوں نے یہ رائے قائم فرمائی۔
اور بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے بارے میں تو آنحضرت ﷺ نے اس کا اظہار بھی فرما دیا تھا، اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضور ﷺ کے مرض وفات کے بیان میں حضرت عائشہ صدیقہؓ ہی کا یہ بیان ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے مرض کے آغاز ہی میں فرمایا تھا کہ اپنے والد ابو بکر اور بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلوا لو، میں ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وصیت لکھوا دوں۔
لیکن پھر آپ نے یہ لکھانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اپنے اس یقین اطمینان کا اظہار فرمایا۔ “يابى الله والمومنون الا ابا بكر” (یعنی مجھے اطمینان ہے کہ اللہ مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے آخری وقت میں جس طرح حضرت عمر ؓ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر فرمایا، اور جس طرح اس وقت کی امت مسلمہ نے اس کو بشرح صدر قبول کیا اس سے بھی حضرت عمرؓ کے بارے میں حضرت صدیقہؓ کے بیان کی تصدیق ہو گئی۔
اور کنز العمال میں مسند احمد اور ابن جریر وغیرہ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا کہ حضرت عمر ؓ، جب ملک شام کی فتح مکمل ہو جانے کے بعد (ملک کے عمائد کی درخواست پر) شام کی طرف روانہ ہوئے، اور راستہ میں مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کو بتایا گیا کہ ملک شام میں سخت وبا ہے اور لوگ بکثرت لقمہ اجل بن رہے ہیں، اس اطلاع کے دینے والوں کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس وقت شام تشریف نہ لے جائیں، لیکن آپ نے شام کی طرف سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت یہ بھی فرمایا: إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَيٌّ، اسْتَخْلَفْتُهُ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللهُ: لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينًا، وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ.
ترجمہ: اگر میری موت کا مقررہ وقت آ گیا اور ابو عبیدہ اس وقت زندہ ہوئے تو میں ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کروں گا پھر اگر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ ابو عبیدہؓ کو تم نے کس وجہ سے امت محمدیہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے تو میں عرض کروں گا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ “ہر پیغمبر کا ایک امین ہوتا ہے اور میرے امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں”۔
لیکن اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق حضرت عمرؓ تو شام کے سفر سے صحیح سالم واپس تشریف لے آئے، مگر حضرت ابو عبیدہ ؓ طاعون میں مبتلا ہو کر واصل بحق ہوئے۔ “وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا”
اور کنز العمال ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا:
لَوْ أَدْرَكْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ لَاسْتَخْلَفْتُهُ وَمَا شَاوَرْتُ فِيهِ فَإِنْ سُئِلْتُ عَنْهُ، قُلْتُ: اسْتَخْلَفْتُ أَمِينَ اللَّهِ وَأَمِينَ رَسُولِهِ.
ترجمہ: اگر میں ابو عبیدہ کو پاتا تو ان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد کرتا اور کسی سے مشاورت بھی نہ کرتا، اگر اس بارے میں مجھ سے پوچھا جاتا تو میں جواب دیتا کہ میں نے اس شخص کو خلیفہ نامزد کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک امین ہے۔
بظاہر یہ بات آپ نے اس وقت فرمائ جب آپ کو ایک شقی ازلی ابو لؤلؤ مجوسی نے عین نماز کی حالت میں خنجر سے ایسا زخمی کیا کہ اس کے بعد زندہ رہنے کی توقع نہیں رہی اور اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے یا نہکرنے کا اہم مسئلہ آپ کے سامنے آیا۔ واللہ اعلم۔
الغرض حضرت عمر ؓ کے ان ارشادات سے بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس خیال کی پوری تصدیق و توثیق ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کے لئے خلیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ فرماتے تو پہلے نمبر پر حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے پر حضرت عمرؓ اور ان کے بعد ابو عبیدہ بن جراحؓ کو نامزد فرماتے، بلاشبہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا یہی مقام و مرتبہ تھا۔ ؓ وارضاہ۔
اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے حضرات عشرہ مبشرہ کے مناقب کا سلسلہ ختم ہوا۔
فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، وَطَعَامٌ، فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ، وَلاَ نَصَبَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے رسول خدا: یہ خدیجہ آ رہی ہیں ان کے ساتھ ایک برتن ہے اس میں سالن اور کھانا ہے، جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے سلام پہنچائیے اور میری طرف سے بھی، اور ان کو خوشخبری سنائیے جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی، جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کوئی زحمت و مشقت ہو گی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ ایک حقیقت ہے جس میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے، سورۃالاحزاب کے چوتھے رکوع میں ازواج مطہرات کو کچھ خاص ہدایات دینے کے بعد فرمایا گیا ہے۔ “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” جس کا مطلب یہ ہے کہ “اے ہمارے پیغمبر کی بیویوں! تم کو جو یہ خاص ہدایتیں دی گئیں ہیں ان سے اللہ کا مقصد تم کو زحمت و مشقت میں مبتلا کرنا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ان ہدایات سے یہ ہے کہ تم کو ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی اور گندگی سے مطہر اور پاک صاف کر دیا جائے .....“جو شخص عربی زبان کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے اس کو سورہ احزاب کے اس پورے رکوع کے پڑھنے کے بعد اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ یہاں “اہلبیت” کا لفظ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے ..... لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قرآن پر ایمان رکھنے والے ہم مسلمانوں کا حال آج یہ ہے کہ “اہل بیت”کا لفظ سن کر ہمارا ذہن ازواج مطہرات کی طرف بالکل نہیں جاتا بلکہ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے شوہر حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان دونوں کی ذریت ؓ ہی کی طرف جاتا ہے۔
“اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں سورہ احزاب کے علاوہ صرف ایک جگہ اور سورہ ہود کے چھٹے رکوع میں بھی آیا ہے، جہاں یہ واقعہ بیان ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس میں عام قانون فطرت کے مطابق اولاد کی امید نہیں کی جا سکتی اور لاولد تھے، تب اللہ تعالیٰ کی بھیجے ہوئے فرشتوں کی ایک جماعت نے آ کر انہیں اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو ایک بیٹے کو تولد کی بشارت دی، حضرت سارہ نے از راہ تعجب کہا: “أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا” (میں خود بڑھیا اور میرے یہ میاں بھی بوڑھے تو اب کیا میں بچہ جنوں گی؟) ..... اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا “ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ” (محترمہ! کی آپ اللہ کے تکوینی حکم کے بارے میں تعجب کرتی ہیں، آپ “اهل البيت” پر تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں) ..... ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی “اهل البيت” سے مراد ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔
عربی زبان و محاورات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کسی شخص کے “اهل البيت” کا اولین مصداق اس کی بیوی ہی ہوتی ہے، اسی طرح فارسی میں “اہل خانہ” اور اردو میں “گھر والے” یا “گھر والی” بیوی ہی کو کہا جاتا ہے، ماں، بہن، بیٹی اور داماد اور ان کی اولاد کے لئے “اہل البیت” اور “اہل خانہ” اور “گھر والوں” کا لفظ استعمال نہیں ہوتا، الغرض اس میں شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ “اہل البیت” کا لفظ قرآن مجید میں ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور وہی اس کی اولین مصداق ہے ..... البتہ یہ بات حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جب سورہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت: “إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین اور ان کے ساتھ ان کے شوہر اور اپنے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ (ؓ اجمعین) کو ایک کملی میں اپنے ساتھ لے کر دعاء فرمائی: “اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا” (اے اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ان سے بھی ہر طرح کی برائی اور گندگی کو دور فرما دے اور ان کو مکمل طور سے مطہر و پاک صاف فرما دے) ..... بلاشبہ حضور ﷺ کی یہ دعا قبول ہوئی اور سورہ احزاب والی آیت میں ازواج مطہرات “اھل البیت” کے لفظ سے ذکر فرما کر ان پر اللہ تعالیٰ کے جس خاص انعام کا ذکر فرمایا گیا تھا، اس میں اور لفظ “اھل البیت” کے اطلاق میں یہ حضرات بھی شامل ہو گئے، اس بنیاد پر یہ حضرات بھی لفظ “اھل البیت” کا صحیح مصداق ہیں، لیکن جیسا کہ تفصیل سے عرض کیا جا چکا، قرآن مجید میں یہ لفظ ازواج مطہرات ہی کے لئے استعمال ہوا ہے، اور وہی اس کی اولین مصداق ہیں۔
الغرض یہ بات کہ ازواج مطہرات آ پ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں بلکہ اس لفظ کا مصداق صرف آپ کی ایک بیٹی، ایک داماد اور دو نواسے ہیں، نہ تو زبان کے لحاظ سے درست ہے نہ قرآن و حدیث سے ثابت ..... بلکہ ایک خاص فرقہ کے فنکاروں کی سازش کے نتیجہ میں اس غلطی نے امت میں عام کی حیثیت اختیار کر لی اور ہماری سادہ دلی کی وجہ سے اس طرھ کی بہت سی دوسری غلط باتوں کی طرح اس کو بھی قبول عام حاصل ہو گیا اور جیسا کہ عرض کیا گیا حالت یہ ہو گئی کہ “اھل بیت” کا لفظ سن کر ہمارے اچھے پڑھے لکھوں کا ذہن بھی ازواج مطہرات کی طرف نہیں جاتا جو قرآن مجید کی رو سے اس لفظ کی اولین مصداق ہیں۔
اب اس عاجز نے لفظ “اھل البیت” کے صحیح مفہوم کو امت میں رائج کرنے کی نیت سے “اھل بیت نبوی” کے عنوان کے تحت ہی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اور آپ کی ذریت طیبہ دونوں کے فضائل و مناقب لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وَالله ُالْمُوَفِّقْ وَهُوَ الْمُسْتَعَانِ
ازواج مطہرات
جیسا کہ حدیث و سیرت کی مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات جو منکوحہ بیوی کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ تھوڑی یا زیادہ مدت رہیں وہ کل گیارہ ہیں، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
1.حضرت خدیجہ بنت خویلد
2.حضرت سودہ بنت زمعہ
3.حضرت عائشہ صدیقہؓ
4.حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب
5.حضرت زینب بنت جحش
6.حضرت ام سلمہ
7.حضرت زینب نبت جحش
8.حضرت ام حبیبہ
9.حضرت جویریہ بنت الحارث
10.حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب
11.حضرت میمونہ (ؓن وارضاھن)
ان میں سے حضرت خدیجہؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ نے حضور ﷺ کی حیات مین وفات ان گیارہ کے علاوہ بنو قریظہ میں سے ریحانہ شمعون کے متعلق بھی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہودی بنی قریظہ کی غداری کی وجہ سے ان کے خلاف کار روائی کی اور ان کی بقایا کو گرفتار کیا گیا تو ان میں یہ ریحانہ بھی تھیں، انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو آزاد کر کے اپنے نکاح میں لے لیا، لیکن بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حضور ﷺ کی منکوحہ بیوی بننے کا شرف حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ باندی کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ حضور ﷺ کی وفات سے چند روز پہلے اور ایک روایت کے مطابق حجۃ الوداع سے واپس آنے کے بعد حضور ﷺ کی حیات ہی میں وفات پا گئیں۔
زوجیت کا شرف
رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف بجائے خود یقیناً اعلیٰ درجہ کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے اور فرق مراتب کے باوجود یہ تمام ازواج مطہرات کو یکساں طور پر حاصل ہے اسی طرح ازواج مطہرات کو جو خصوصی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے ہیں، وہ بھی یکساں طور پر ان سبھی کے لئے ہیں، قرآن مجید میں “وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ” فرما کر ان کو تمام اہل ایمان کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے ہر امتی اور ہر صاحب ایمان کے لئے ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا ابد الآباد تک اسی طرح حرام قرار دے دیا گیا ہے جس طرح اپنی حقیقی ماں کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔
یہاں تک ازواج مطہرات کے صرف اسماء گرامی لکھے گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کے شرف سے متعلق مختصراً کچھ اشارات کئے گئے ہیں، آگے ان شاء اللہ ان “امہات المومنین” کا بقدر ضرورت تعارف، قابل ذکر خصوصی احوال و اوصاف، ان میں سے ہر ایک کے رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے کی تفصیل اور اس کے خاص اسباب و محرکات، نیز ان کی وفیات کا تذکرہ ناظرین کرام مطالعہ فرمائیں گے اور ان شاء اللہ ان سوالات و شبہات کا جواب بھی ان کو مل جائے گا، جو ازواج مطہرات کی تعداد کے بارے میں کچھ شیاطین الانس کی وسوسہ اندازی سے ان کے دلوں میں پیدا ہو سکتے ہیں۔
ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ
یہ پہلی خوش قسمت خاتون ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کے شرف سے مشرف ہوئیں، ان کے والد خویلد بن اسد مکہ کے ایک دولت مند اور معزز تاجر تھے، حضرت خدیجہؓ کی پہلی شادی ابو ہالہ تمیمی سے ہوئی تھی ان سے دو (۲) بیٹے (ہالہ اور ہند) پیدا ہوئے، کچھ مدت کے بعد ابو ہالہ کا انتقال ہو گیا تو ان کا دوسرا نکاح عتیق ابن عابد مخزومی سے ہوا، ان سے بھی ایک بیٹی پیدا ہوئی، لیکن عتیق کی عمر نے بھی زیادہ وفا نہ کی ..... پھر جب کہ خدیجہ کی عمر قریباً ۳۵۔ ۳۶ سال کی ہو گئی تھی، ان کے والد خویلد کا بھی انتقال ہو گیا، اب تجارتی کاروبار کی ذمہ داری خود حضرت خدیجہؓ کو سنبھالنی پڑی ..... مکہ میں رواج تھا کہ لوگ نفع میں مقررہ شرح سے شرکت کی بنیاد پر دوسرے لوگوں کے ذریعہ بھی تجارتی کاروبار کرتے تھے (جس کو فقہی اصطلاح میں “مضاربت” کہا جاتا ہے) اپنے والد اور شوہر کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہؓ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔
رسول اللہ ﷺ کی معصومانہ سیرت، امانت و دیانت، صداقت شعاری اور راست بازی کا مکہ میں عام شہرہ تھا، یہاں تک کہ آپ “الامین” کے لقب سے معروف تھے اسی وجہ سے حضرت خدیہؓ نے ایک دفعہ چاہا کہ آپ ﷺ ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ ﷺ ان کا مال تجارت لے کر ملک شام جائیں اور پیشکش کی کہ منافع میں جتنا حصہ اب تک میں دوسروں کو دیتی رہی ہوں آپ ﷺ کو اس سے دوگنا دوں گی آپ نے اپنے چچا ابو طالب سے مشورہ کے بعد اس کو قبول فرما لیا، خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ کو بھی آپ کے ساتھ کر دیا، اس تجارتی سفر میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت دی اور پہلے جو نفع ان کو ہوا کرتا تھا اس سے دوگنا نفع ہوا، اس کے علاوہ حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے آپ کے حسن اخلاق، معصومانہ سیرت کا تجربہ اور کچھ غیر معمولی خارق عادت کرامتی قسم کی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا، واپس آنے پر جن کا تذکرہ میسرہ نے حضرت خدیجہؓ سے بھی کیا۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکاح
حضرت خدیجہؓ ایک دولت مند شریف الطبع خاتون ہونے کے علاوہ ظاہری حسن و جمال، باطنی محاسن اخلاق، کردار کی بلندی، فیاضی اور پاک بازی جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی ممتاز تھیں، اسی بناء پر وہ طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں، اس وجہ سے قریش مکہ کے بہت سے معزز حضرات کی طرف سے ان کو نکاح کا پیغام دیا گیا، لیکن دو شوہروں سے بیوہ ہو جانے کے باعث باقی زندگی اسی طرح گزارنے کا ارادہ کر لیا تھا، اس لئے کسی کا پیغام قبول نہیں کیا ..... مگر میسرہ نے تجارتی سفر سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تجربات اور مشاہدات بیان کئے تو خود ان کے دل میں آپ ﷺ سے نکاح کی خواہش پیدا ہوئی، اور اس مقصد کے لئے ایک دوسری خاتون نفیسہ بنت امیہ کو رازدارانہ طور پر آپ ﷺ کے پاس بھیجا نفیسہ کا بیان ہے کہ ..... میں آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ “آپ ﷺ نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نادار اور خالی ہاتھ ہوں، کس طرح نکاح کر سکتا ہوں، میں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی عورت آپ ﷺ سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہو جو ظاہری حسن و جمال اور طبعی شرافت کے علاوہ دولت مند بھی ہو اور آپ ﷺ کی ضروریات کی کفایت کرنے پر بھی خوش دلی سے آمادہ ہو تو آپ اس سے نکاح کر لینا پسند کریں گے؟ ..... آپ نے دریافت کیا کہ ایسی کون خدا کی بندی ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا: خدیجہ بنت خویلد ..... آپ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے ذکر کیا، انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے نفیسہ کو جواب دے دیا کہ اگر خدیجہ اس کے لئے آمادہ ہیں تو میں بھی راضی ہوں۔
نفیسہ نے آ کر حضرت خدیجہ کو اس کی اطلاع دی، پھر خدیجہ نے نفیسہ ہی کے ذریعہ آپ کو بلوا کر براہ راست بھی آپ سے بات کی، اس گفتگو ہی میں طے ہو گیا کہ آپ اپنے خاندان کے بزرگوں کو لے کر فلاں دن میرے یہاں آ جائیں، چنانچہ آپ اپنے چچا ابو طالب اور دوسرے خاندانی بزرگوں کو لے کر جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے، خدیجہ کے گھر پہنچ گئے، انہوں نے بھی اپنے چچا عمرو ابن اسد کو بلوا لیا، اور قریش کے اس دور کے رواج کے مطابق انہیں کی ولایت میں نکاح ہو گیا، اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ کی چالیس سال، آپ کا یہ پہلا نکاح تھا جو بعثت سے قریباً پندرہ سال پہلے ہوا۔
اولاد
اس رشتہ اردواج کے کچھ مدت بعد (ایک مشہور تاریخی روایت کے مطابق ۵ سال بعد) آپ کے پہلے صاحبزادہ پیدا ہوئے، جن کا نام “قاسم” رکھا گیا، انہیں کے نام پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی کنیت “ابو القاسم” رکھی، ان کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی “زینب” پیدا ہوئیں ان دونوں کی پیدائش آغاز نبوت سے پہلے ہی ہوئی، اس کے بعد ایک صاحبزادے پیدا ہوئے، ان کا ام عبداللہ رکھا گیا ان کی پیدائش دور نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال بھی صغر سنی ہی میں ہو گیا، پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہ رکھے گئے، چاروں صاحبزادیوں کا تذکرہ آگے “ذریت طبیہ” کے عنوان کے تحت ناظرین کرام ان شاء اللہ مطالعہ فرمائیں گے۔
حضرت خدیجہؓ کی بعض قابلِ ذکر خصوصیات
معلوم ہے کہ قریش کا قبیلہ بلکہ عام طور سے اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے اور یہ شرک انہیں اتنا پیارا تھا کہ اس کے خلاف کوئی لفظ سننا بھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھا، لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دو چار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک حضرت خدیجہؓ بھی تھیں ..... اس دور کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واحد خاتون تھیں جو شرک و بت پرستی سے بیزار تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسرے بہت سے انعامات کے علاوہ دولت مندی کی نعمت سے بھی نوازا تھا ..... رسول اللہ ﷺ کا حال اس کے برعکس تھا، انہوں نے اپنی پوری دولت گویا آپ کے قدموں میں ڈال دی اور آپ کو اس سلسلہ کی فکروں سے آزاد کر دیا، قرآن مجید سورہ “والضحى” میں اسی صورت حال کے بارے میں فرمایا گیا ہے “ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ” (اے پیغمبر! تم کو تمہارے پروردگار نے مفلس اور نادار پایا پھر مستغنی کر دیا) اس سلسلہ میں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ زید بن حارثہ، حضرت خدیجہؓ کے زر خرید غلام تھے، انہوں نے دیکھا کہ زید کو رسول اللہ ﷺ سے خاص انس و محبت ہے اور آپ کا معاملہ بھی زید کے ساتھ خصوصی درجہ کی شفقت و پیار کا ہے، تو انہوں نے زید کو حضور ﷺ ہی کی ملکیت میں دے دیا، پھر آپ ﷺ نے ان کو آزاد کر دیا اور عربوں کے اس وقت کے رواج کے مطابق ..... ان کو اپنا منہ بولا بیٹا، بنا لیا یہاں تک کہ ان کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد ہی کہا جانے لگا۔
پھر جب نکاح کے پندرہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ ﷺ پر وہ شدید غیر معمولی حالات آئے جن کا ذکر بیان مناقب کے شروع ہی میں آغاز نبوت والی حدیث کے حوالہ سے کیا جا چکا ہے، تو اس وقت آپ ﷺ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حضرت خدیجہ ہی سے ملی اور جب وہ آپ کے اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے عالم تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے غار حراء کی واردات اور سرگذشت سن کر یقین و وثوق کے ساتھ آپ کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی بات کہی تو حضرت خدیجہؓ نے بھی ان کی اس بات کو دل سے قبول کر لیا، بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات و اوصاف کے پندرہ سالہ تجربہ کی بنا پر پہلے ہی سے ان کا دل آپ کی ہر بات کی تصدیق کے لئے تیار ہو چکا تھا، اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ پوری امت میں وہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے مبعوث من اللہ نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔
پھر جب آپ نے بحکم خداوندی توحید اور دین حق کی دعوت کا کام شروع کیا تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی، ہر ممکن طریقہ سے آپ کو ستایا برسوں تک ان بدنصیبوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا، مظلومیت کے اس پورے دور میں حضرت خدیجہؓ نہ صرف آپ کی غم خوار و غمگسار بلکہ پوری طرح شریک حال رہیں، یہاں تک کہ جب ان ظالموں نے مکہ کی قریبا پوری آبادی کو اپنے ساتھ لے کر آپ کا اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جنہوں نے اگرچہ آپ کی دعوت اسلام کو قبول نہیں کیا تھا لیکن نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے بائی کاٹ کرنے کا فیصلہ کیا، اور آپ اور آپ کے وہ قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دئیے گئے اور ایسی ناکہ بندی کی گئی کہ کھانے پینے کی ضروریات بھی ان کو نہ پہنچ سکیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گذارہ کرنا پڑا ..... اس حالت میں بھی حضرت خدیجہؓ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ رہیں، حالانکہ ان کے لئے بالکل ممکن تھا کہ وہ ان دنوں اپنے گھر ہی رہتیں۔
حضرت خدیجہؓ کے سلسلہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ پورے پچیس سال تک آپ کی رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہیں اور اس پورے دور میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا نبوت کے دسویں سال ہجرت سے قریباً تین سال پہلے رمضان المبارک ۱۱ نبوی میں عمر کے ۶۵ ویں سال وفات پائی۔
اس وقت تک نہ تو نماز پنجگانہ فرض ہوئی تھی اور نہ نماز جنازہ کا حکم ہوا تھا، اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، رسول اللہ ﷺ نے خود ان کو اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر مین اتارا اور رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔ (ؓ وارضاھا)
تشریح ..... حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح و وضاحت کا محتاج نہیں، لیکن اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت جبرئیل کی یہ آمد کہاں اور کب ہوئی، جس میں انہوں نے حضرت خدیجہؓ سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کہی۔
فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے طبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے: إِنَّ ذَالِكَ كَانَ وَهُوَ بِحِرَاءَ ...... یعنی جبرائیل کی یہ آمد اس وقت ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ غار حرا میں تھے ..... اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ واقعہ غار حراء میں حضرت جبرئیل کی اس پہلی آمد کے بعد کا ہے جس کا ذکر اسی سلسلہ معارف الحدیث کتاب المناقب کے شروع میں “آغاز وحی و نبوت” کے تحت پوری تفصیل سے کیا جا چکا ہے ..... اسی سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت جبرائیلؑ کی پہلی آمد اور آغاز نبوت کے بعد اس غار حرا میں آپ کی خلوت گزینی کا سلسلہ بالکل ختم اور منقطع نہیں ہو گیا تھا ..... یہ بات ناقابل فہم ہے، کہ جہاں آپ طویل مدت تک خلوت گزیں ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول رہے ہوں اور جہاں اس کے عظیم المرتبہ حامل وحی فرشتے جبرئیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا نزول آپ پر شروع ہوا ہو، اس کے بعد آپ کا اس مقدس مقام سے کوئی تعلق نہ رہا ہو ..... الغرض اس روایت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آغاز نبوت کے بعد بھی آپ غار حراء میں کبھی کبھی قیام فرماتے تھے، اسی دور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت جبرئیل آئے اور آپ کو مطلع کیا کہ آپ کی زوجہ محترمہ خدیجہؓ آ رہی ہیں اور آپ کے لئے کھانے کا کچھ سامان لا رہی ہیں، جب وہ آئیں تو آپ ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے بھی ان کو سلام پہنچائیں اور ان کو موتیوں سے جنت میں بنے ہوئے ایک ایسے گھر کی بشارت دیں جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ کسی قسم کی زحمت اور نہ تکلیف ہو گی۔
اس حدیث سے حضرت خدیجہ ؓ کی تین خاص فضیلتیں معلوم ہوئیں۔
۱۔وہ ایک معزز دولت مند اور بوڑھی خاتون ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے لئے کھانے پینے کا سامان گھر پر تیار کر کے غار حراء تک خود لے کے گئیں، جو کہ اس وقت شہر مکہ مکرمہ کی آبادی سے قریباً ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر تھا اور حراء کی بلندی کی وجہ سے اس پر چڑھنا اچھے طاقتور آدمی کے لئے بھی آسان نہیں، (راقم سطور کو خود بھی اس کا تجربہ ہے) بلاشبہ حضرت خدیجہؓ کا یہ عمل ایسا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں اس کی خاص قدر ہو۔
۲۔دوسری بڑی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ان کو رب العرش (اللہ تعالیٰ) کا سلام اور اسی کے ساتھ اس کے عظیم المرتبہ فرشتے جبرئیل امین کا سلام پہنچایا گیا ہے۔
۳۔جنت میں ان کے لئے موتیوں سے بنے ہوئے بیت (گھر) کی بشارت دی گئی جس کی خاص صفت یہ بیان کی گئی کہ نہ تو اس میں کسی قسم کا شور و شغب ہو گا اور نہ کسی طرح کی زحمت و تکلیف اٹھانی پڑے گی، جیسا کہ دنیا کے گھروں میں عام طور سے اپنے گھر والوں کا یا پاس پڑوس کا شور و شغب آرام و یکسوئی میں خلل انداز ہوتا ہے اور جس طرح گھر کی صفائی اور درستی وغیرہ میں زحمت و تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔
فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ
عَنْ عَلِيِّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران ہیں اور اس (دنیا) کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری اس دنیا کی تمام عورتوں میں سب سے بہتر اور بالا تر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم بنت عمران اور رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ہیں اگر حدیث کا مطلب یہی ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ دونوں مرتبہ میں برابر ہیں ..... بعض شارحین نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت مریم پہلی امتوں کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور حضرت خدیجہؓ اس امت محمدیہ کی تمام عورتوں میں بہتر اور بالاتر ہیں اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کی یہ امت خیر امم ہے یعنی پہلی تمام امتوں سے بہتر اور بالاتر ہے، اس لئے حضرت خدیجہؓ بہ نسبت حضرت مریم بنت عمران کے بہتر اور برتر ہوں گی۔ واللہ اعلم۔
فضائل اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات اور ذریت طیّبہ): فضائل ام المومنین حضرت خدیجہؓ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةُ، فَيَقُولُ «إِنَّهَا كَانَتْ، وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا کہ خدیجہؓ پر آیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا نہیں، لیکن آپ ان کو بہت یاد کرتے، اور بکثرت ان کا ذکر فرماتے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺ بکری ذبح فرماتے، پھر اس کے اعضاء الگ الگ ٹکڑے کرتے، پھر وہ ٹکڑے خدیجہؓ سے میل محبت رکھنے والیوں کے یہاں بھیجتے تو میں کس وقت کہہ دیتی دنیا میں بس خدیجہ ہی ایک عورت تھیں، اور آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں، ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو جن اخلاق حسنہ سے نوازا تھا ان میں ایک احسان شناسی کا وصف بھی تھا۔ حضرت خدیجہ نے آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آنے کے بعد آپ ﷺ کی جو خدمتیں کیں اور دور نبوت کے آغاز میں جس طرح وہ آپ ﷺ کے لئے تقویت اور تسلی کا ذریعہ بنیں، اور پھر دین حق کی دعوت کے وقت جس طرح وہ شدائد و مصائب میں آپ ﷺ کی شریک حال رہیں، اور ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیات ان کو عطا فرمائی تھیں (جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر آ چکا ہے) ان کا حق تھا کہ آنحضرت ﷺ ان کو کبھی فراموش نہ کرتے اور احسان شناسی کے جذبہ کا تقاضا تھا کہ آپ ﷺ ان کا اور ان کی خدمات و احسانات کا دوسروں کے خاص کر اپنی ازواج مطہرات کے سامنے ذکر فرماتے یہی آپ ﷺ کا عمل تھا، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کا یہ بھی معمول تھا کہ کبھی کبھی آپ ﷺ بکری ذبح کرتے تھے اس کے گوشت کے پارچے حضرت خدیجہؓ سے میل محبت کا تعلق رکھنے والی خواتین کو ہدیہ کے طور پر بھیجتے، آپ ﷺ کا یہی وہ طرز عمل تھا، جس کی بنا پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر ویسا رشک نہیں آیا جیسا کہ آپ ﷺ کی پہلی مرحومہ بیوی خدیجہؓ پر آتا تھا، ھالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں تھا (کیوں کہ ان کے پچپنے ہی میں وہ وفات پا گئیں تھیں) ..... اسی سلسلہ بیان میں حضرت صدیقہؓ نے کود ہی اپنی اس کمزوری کا ذکر فرمایا کہ میں ایسے وقت جب آپ ﷺ اپنی مرحومہ بیوی خدیجہؓ کی خوبیوں کا ذکر فرماتے تو کبھی کہہ دیتی کہ “دنیا میں بس خدیجہؓ ہی ایک عورت تھیں”۔ تو آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں ایسی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی خدمات و احسانات اور خوبیوں کا ذکر فرماتے، اس سلسلہ میں آپ ﷺ ان کی اس خصوصیت کا بھی ذکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کے ذریعہ مجھے اولاد عطا فرمائی۔ کیوں کہ ان کے علاوہ دس بیویوں میں سے کسی سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے ایک صاحبزادے پیدا ہوئے تھے جن کا نام آپ نے ابراہیم رکھا تھا، وہ شیر خوارگی ہی کے ایام میں قریباً صرف ڈیڑھ سال کی عمر پا کر انتقال فرما گئے تھے لیکن حضرت ماریہؓ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے نہیں تھیں، بلکہ آپ ﷺ کی مملوکہ تھیں جن کو اسکندریہ کے صاحب حکومت مقوقس نے کچھ اور ہدایا کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا، پھر وہ حضرت ابراہیم کی پیدائش کے بعد شریعت کے حکم کے مطابق “ام ولد” ہو گئی تا آنکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ۵ سال بعد حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں وفات پائی۔ (ؓ وارضاہا)
ام المومنین حضرت سودہ صدیقہ ؓ
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو بت پرستی اور جاہلیت والی زندگی چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش اور اس کی فرمانبرداری والی زندگی کی دعوت کا کام شروع کیا، تو پوری قوم آپ کی دشمن بن کر کھڑی ہو گئی، لیکن چند ایسے سلیم الفطرت افراد بھی تھے، جن کے دلوں نے آپ کی دعوت حق کو ابتدائی دور ہی میں قبول کر لیا، ان میں ایک سودہ بنت زمعہ عامریہ بھی تھیں، ان کی شادی اپنے چچا زاد بھائی سکران سے ہوئی تھی، وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت اسلام کی دشمنی میں عام مشرکین قریش کے ساتھ تھا، حضرت سودہؓ نے مصلحت اس میں سمجھی کہ وہ اپنے اسلام کو ظاہر نہ کریں۔ جس وقت وہ مناسب سمجھتیں تو اپنے شوہر سکران کے سامنے ایسی باتیں کرتیں جن سے ان کا دل بھی رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور اسلام کی حقانیت کے بارے میں سوچنے لگے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی توفیق سے ان کے شوہر سکران نے بھی کچھ مدت کے بعد اسلام قبول کر لیا اور پھر میاں بیوی دونوں نے اپنے اسلام و ایمان کا اعلانیہ اظہار بھی کر دیا، جس کے بعد ان دونوں پر بھی کفار قریش کی طرف سے ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو بڑھتا ہی گیا ..... بالآخر مظالم سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کے مشورہ پر ان دونوں نے بھی بہت سے دوسرے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کی طرح ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی ..... چند برس کے بعد ان کے شوہر سکران کا حبشہ ہی میں انتقال ہو گیا، تو یہ بیوہ ہو کر مکہ مکرمہ واپس آ گئیں اور اپنے والد کے پاس رہیں۔
نبوت کے دسویں سال جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ فطری طور پر ان کے مفارقت کی صدمہ سے سخت غمگین تھے، علاوہ اس کے ایک پریشان کن صورت ھال یہ پیدا ہو گئی کہ گھر میں صرف کم عمر چار بچیاں تھیں، جن کی دیکھ بھال کرنے والا اور خانہ داری کی دوسری ضرورتیں پوری کرنے والا کوئی نہ تھا ..... عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ بنت حکیم نے اس صورت حال کو محسوس کر کے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کو جلدی نکاح کر لینا چاہئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری نگاہ میں کون ایسی خاتون ہیں، جن کو تم ان حالات میں مناسب سمجھتی ہو؟ انہوں نے سودہ بنت زمعہؓ کا نام لیا، جو بیوہ اور سن رسیدہ تھیں، آپ ﷺ نے ایمان میں ان کی سابقیت، پھر حبشہ کی طرف ہجرت اور سکران کی وفات کے بعد ان کی بیوی کے صدمہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے نکاح کرنے کا ارادہ فرما لیا، اور خولہ سے فرمایا: تم خود ہی ان کو میرا پیغام پہنچاؤ ..... خولہ کا بیان ہے کہ میں سودہ کے پاس پہنچی اور ان کو مبارک باد دیتے ہوئے آپ ﷺ نے پیغام پہنچایا، انہوں نے کہا کہ “میں دل و جان سے راضی ہوں“ التبہ بہتر یہ ہے کہ تم میرے والد زمعہ سے بھی اس سلسلہ میں بات کرو! میں اسی وقت ان کے پاس بھی گئی اور پیام پہنچایا، انہوں نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تم خود سودہ سے بھی دریافت کرو، میں نے بتایا کہ میں ان سے بات کر چکی ہوں، وہ بڑی خوش دلی کے ساتھ رضامند ہیں، بالآخر زمعہ نے خولہ بنت حکیم ہی کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو بلوایا، اور آپ کے ساتھ اپنی بیٹی سودہ کا نکاح کر دیا، اس وقت حضرت سودہؓ کی عمر قریباً پچاس سال تھی ..... نکاح کے بعد آنحضرت ﷺ کے ہجرت فرمانے تک تین سال منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے تنہا وہی آپ کے ساتھ رہیں ..... ان کے اوصاف و احوال میں ان کی سرچشمی، استغناء دنیا سے بےرغبتی، اور فیاضی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ ان کے مذکورہ بالا امتیازات کی وجہ سے ان کے ساتھ احترام کا خاص رویہ رکھتے تھے ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی، ان کی خدمت میں بھیجی، لانے والے سے پوچھا: کیا تھیلی میں کھجوریں ہیں، انہوں نے کہا نہیں! اس میں درہم ہیں، آپؓ نے فرمایا: کھجوریں ہوتیں تو کھانے کے کام آ جاتیں، یہ کہہ کر تھیلی لے لی، اور اس میں بھرے ہوئے سب درہم ضرورت مندوں پر تقسیم فرما دئیے۔
حضرت عمرؓ کے اخیر دور خلافت ۲۲ھ مین قریباً ۵۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ؓ وارضاہا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرَةٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَفَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں میں تو بہت لوگ درجہ کمال کو پہنچے ہیں، مگر عورتوں میں صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کامل ہوئی ہیں ..... اور عائشہؓ کی فضیلت تما عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ تمام کھانوں میں ثرید افضل و اعلیٰ ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ بعثت کے چوتھے سال پیدا ہوئیں، جیسا کہ معلوم ہے وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہیں جو اول المومنین ہیں، اور ان کی والدہ ماجدہ ام رومان بھی اولین مومنات میں سے ہیں، ازواج مطہرات میں سے یہ شرف تنہا انہیں کو حاصل ہے کہ ان کے والدین ان کی پیدائیش سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی دعوت ایمان کو قبول کر چکے تھے اور عنقریب ہی ناظرین کرام کو صحیح بخاری و صحیح مسلم اور جامع ترمذی کےک حوالہ سے معلوم ہو گا کہ خواب میں متعدد بار رسول اللہ ﷺ کو ان کی صورت دکھلائی گئی اور بتلایا گیا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ ہونے والی ہیں۔ اوپر ام المومنین حضرت سودہ ؓ کے حالات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے خصوصی درجہ کا ایمانی تعلق رکھنے والی خاتون خولہ بنت حکیم نے آپ سے نکاح کے بارے میں گفتگو کی، وہاں اس سلسلہ میں صرف وہی حصہ ذکر کیا گیا جس کا تعلق حضرت سودہ ؓ سے تھا ...... اسی موقع پر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں بھی عرض کیا تھا، جن کی عمر اس وقت صرف چھ سات سال کے قریب تھی اور معلوم ہے کہ حضور ﷺ کی عمر شریف پچاس سال سے متجاوز ہو چکی تھی، اس حالت میں کولہ بنت حکیمؓ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح کی تجویز پیش کرنے کے لئے توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ اس بارے میں عالم غیب میں ہو چکا تھا، اس کے عمل میں آنے کا ذریعہ خولہ بنت حکیم کی اس تجویز کو بنایا جائے روایت کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خولہ کو حضور ﷺ کے خواب کے بارے میں علم نہیں تھا، اور واقعہ یہ ہے کہ یہ خواب ایسا ہی تھا کہ کسی سے بھی اس کا ذکر نہ فرمایا جاتا ..... بہرحال یہی ہوا خولہ نے حضور ﷺ کے سامنے سودہ بنت زمعہؓ کے ساتھ ہی حضرت عائشہؓ سے نکاح کی بھی تجویز پیش کی۔آپ ﷺ نے جس طرح حضرت سودہؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم ہی میری طرف سے پیام ان کو پہنچاؤ، اسی طرح حضرت عائشہؓ کے بارے میں بھی ان ہی کو مامور فرمایا کہ تم ہی ان کے والدین کو میری طرف سے پیام پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ حضرت ابو بکرؓ کے مکان پر پہنچیں، لیکن اتفاق سے وہ اس وقت موجود نہیں تھے، ان کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ کی والدہ ماجدہ ام رومانؓ موجود تھیں، خولہ نے مبارک باد دیتے ہوئے ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کا ذکر کیا۔ انہوں نے سن کر بڑی خوشی کا اظہار کیا کچھ دیر کے بعد حضرت ابو بکرؓ بھی آ گئے ..... خولہ نے ان کے سامنے بھی ان کی بیٹی عائشہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پیام کی بات کہی، حضرت ابو بکرؓ نے کہا “أَوْ تَصْلُحُ لَهُ وَهِىَ بِنْتُ اَخِيْهِ”؟ مطلب یہ تھا کہ کیا عائشہ کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح ہو سکتا ہے حالانکہ وہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے، (حضرت ابو بکرؓ نے یہ بات اس بنیاد پر فرمائی کہ عربوں میں جس طرح پہلے منہ بولے بیٹے کی حیثیت حقیقی بیٹے کی تھی اسی طرح منہ بولے بھائی کی حیثیت حقیقی نسبی بھائی جیسی ہوتی تھی اور اسی طرح اس کی بیٹی سے نکاح کو جائز اور درست نہیں سمجھا جاتا تھا، جس طرح حقیقی نسبی بھتیجی سے نکاح کو درست اور جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔)
خولہ نے حضرت ابو بکرؓ کی یہ بات آنحضرت ﷺ کو پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “هُوَ اَخِىْ فِى الْاِسْلَامِ وَابْنَتُهُ تَحُلُّ لِىْ” مطلب یہ تھا کہ وہ اسلامی بھائی ہیں۔ نسبی بھائی نہیں ہیں، اس لئے ان کی بیٹی عائشہؓ سے میرا نکاح اللہ کی نازل فرمائی ہوئی شریعت میں جائز اور صحیح ہے، اگر بالفرض وہ میرے حقیقی نسبی بھائی ہوتے تو ان کی بیٹی سے نکاح کرنا میرے لئے جائز اور درست نہ ہو گا۔ خولہ نے ابو بکرؓ کو حضور ﷺ کا جواب پہنچایا تو فطری طور پر ان کو بڑی خوشی ہوئی، لیکن اس بارے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ عائشہ کی نسبت بچپن ہی میں جبیر ابن مطعم سے ہو چکی تھی اور اس نسبت کو ایک طرھ کا معاہدہ سمجھا جاتا تھا، اس لئے انہوں نے اخلاقی طور سے ضروری سمجھا کہ جبیر کے والد مطعم سے بات کر کے ان کو اس کے لئے راضی کر لیں، تا کہ میری طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی اور عہد سکنی نہ ہو، اس بارے میں گفتگو کرنے کے لئے وہ مطعم کے مکان پر پہنچے ..... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ یہ بعثت نبوی کا گیارہوں سال تھا، جب کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت اسلام، اور اس کو قبول کرنے والوں کے ساتھ کفار مکہ کی دشمنی انتہائی درجہ کو پہنچ چکی تھی حضرت ابو بکرؓ نے مطعم کے مکان پر پہنچ کر اپنی بات شروع کی، اور کہا کہ میری بیٹی عائشہ کے بارے میں تمہارا اب کیا خیال ہے؟ اس وقت مطعم کی بیوی قریب ہی بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا کہ “تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟” اس نے کہا کہ “میں نہیں چاہتی کہ اب وہ بچی (عائشہ ہمارے گھر میں آئے، اگر وہ آئے گی تو اس کے ساتھ اسلام کے قدم بھی ہمارے گھر میں آ جائیں گے، اور ہم اپنے باپ دادا کے جس دین پر اب تک چل رہے ہیں اس کے نظام میں گڑبڑ ہو جائے گی)”۔ مطعم کی بیوی کا یہ جواب سن کر حضرت ابو بکرؓ نے مطعم سے کہا کہ “تم بتاؤ تمہارا فیصلہ کیاہے؟ اس نے کہا: کہ تم نے اس (میری بیوی) کی بات سن لی میری بھی یہی رائے ہے” ..... حضرت ابو بکرؓ مطمئن ہو کر واپس تشریف لائے، اور خولہ سے کہا کہ “تم رسول اللہ ﷺ کو بلا لاؤ” وہ گئیں اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور اسی وقت نکاح ہو گیا۔
یہ شوال کا مہینہ تھا جس کے بعد قریباً تین سال رسول اللہ ﷺ کا قیام مکہ معظمہ ہی میں رہا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اس پوری مدت میں حضرت سودہ بنت زمعہؓ ہی آپ ﷺ کی منکوحہ رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں اور وہی تنہا تمام امور خانہ داری انجام دیری رہیں ..... بعثت کی قریباً ۱۳ سال پورے ہو جانے پر آپ نے بحکم خداوندی مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی ..... جیسا کہ معلوم ہے یہ سفر رازداری کے ساتھ رات میں ہوا اور تنہا حضرت ابو بکرؓ ہی کو اپنےساتھ لیا، ان کے بیوی بچے سب مکہ مکرمہ ہی میں رہے، مدینہ طیبہ پہنچ کر قیام کے بارے میں ضروری انتظام کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے ایک شخص (عبداللہ بن اریقط) کو مکہ معظمہ بھیج کر اپنی اہلیہ مکرمہ ام رومان اور دونوں صاحبزادیوں حضرت عائشہؓ اور ان کی بڑی بہن حضرت اسماء کو بھی بلوا لیا ..... اور رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہؓ کو مکہ مکرمہ بھیج کر اپنے اہل و عیال حضرت سودہ بنت زمعہؓ اور دونوں صاحبزادیوں (حضرت ام کلثومؓ و حضرت فاطمہؓ) کو بلوا لیا، یہ وقت تھا، جب آپ ﷺ مسجد تعمیر کرا رہے تھے اور اس کے ساتھ اپنے لئے چھوٹے چھوٹے گھر بنوا رہے تھے، تو حضرت سودہؓ نے مکہ مکرمہ سے آ کر انہیں میں سے ایک گھر میں قیام فرمایا ..... حضرت عائشہؓ جن کے ساتھ آپ ﷺ کا نکاح تین سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا، اب قریباً ۹۔۱۰ سال کی ہو گئیں تھیں، حضرت ابو بکرؓ کو ان کی غیر معمولی صلاحیت کا پورا اندازہ تھا اور جانتے تھے کہ تعلیم و تربیت اور سیرت سازی کا بہترین اور سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ صحبت ہے، اس لئے انہوں نے خود ہی حضور ﷺ سے عرض کیا کہ “اگر آپ کے نزدیک نامناسب نہ ہو تو یہ بہتر ہو گا کہ عائشہ آپ ﷺ کی اہلیہ اور شریک حیات کی حیثیت سے آپ کے ساتھ رہے۔ (1) آپ ﷺ نے اس کو منظور فرما لیا، اور وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے بنوائے ہوئے ایک گھر مین مقیم ہو گیں، راجح روایت کے مطابق یہ ۱ ہجری شوال کے مہینہ میں ہوا ..... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ چونکہ کبھی شوال کے مہینہ میں عرب میں طاعون کی شدید وبا آئی تھی، اس وجہ سے اس مہینہ کو نامبارک اور منحوس مہینہ سمجھا جاتا تھا اور اس میں شادی جیسی تقریبات نہیں کی جاتی تھیں، لیکن ام المومنین حضرت صدیقہ ؓ کا مکہ مکرمہ میں نکاح بھی شوال کے مہینہ میں ہوا تھا، اور جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ آ کر رفیقہ حیات کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ مقیم ہوئی تو وہ بھی شوال کا مہینہ تھا، اس طرح حضرت صدیقہؓ کے مبارک نکاح اور مبارک رخصتی نے عربوں کی اس توہم پرستی کا خاتمہ کر دیا۔
بعض قابل ذکر خصوصیات
ازواج مطہرات میں صرف انہیں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ صغر سنی یعنی قریباً ۹۔۱۰ سال کی عمر سے رسول اللہ ﷺ کی صحبت و رفاقت، اور تعلیم و تریبت سے مستفید ہوتی رہیں، اسی طرح چند اور سعادتیں بھی تنہا انہیں کے حصہ میں آئیں جن کا وہ کود اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ذکر فرمایا کرتی تھیں ..... فرماتی تھیں: تنہا مجھے ہی یہ شرف نصیب ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے عقد نکاح میں آنے سے پہلے سے ہی آپ ﷺ کو خواب میں میری صورت دکھلائی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی زوجہ ہونے والی ہیں ..... اور آپ ﷺ کی ازواج میں تنہا میں ہی ہوں جس کا آپ ﷺ کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ یہ تعلق اور رشتہ نہیں ہوا ..... اور تنہا مجھی پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم تھا کہ آپ جب میرے ساتھ ایک لحاف میں آرام فرما ہوتے تو آپ ﷺ پر وحی آتی، دوسری ازواج میں سے کسی کو یہ سعادت میسر نہیں ہوئی اور یہ کہ میں ہی آپ ﷺ کی ازواج میں سے آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی اور اس باپ کی بیٹی ہوں جو حضور ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے ..... اور یہ شرف بھی آپ ﷺ کی ازواج میں سے مجھے ہی نصیب ہے کہ میرے والد اور میری والدہ دونوں مہاجر ہیں ..... اور یہ کہ بعض منافقین کی سازش کے نتیجہ میں جب مجھ پر ایک گندی تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے لئے قرآنی آیات نازل فرمائیں جن کی قیامت تک اہل ایمان تلاوت کرتے رہیں گے، اور ان آیات میں مجھے نبی پاک (طیب) کی پاک بیوی (طیبہ) فرمایا گیا، نیز اس سلسلہ کی آخری آیت میں “أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ” فرما کر میرے لئے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں کبھی اپنی اس خوش نصیبی کا بھی ذکر فرماتیں کہ آپ ﷺ نے زندگی کا آخری پورا ایک ہفتہ میرے ہی گھر میں میرے ساتھ قیام فرمایا، اسی سلسلہ میں یہ بھی فرماتیں کہ حیاۃ مبارکہ کا آخری دن میری باری کا دن تھا، اور اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص کرم مجھ پر یہ ہوا کہ اسی آخری دن میرا آب دہن آپ ﷺ کے آب دہن کے ساتھ آپ ﷺ کے شکم مبارک مین گیا اور آخری لمحات میں میں ہی آپ کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی، اور جس وقت بحکم خداوندی روح مبارک نے جسد اطہر سے مفارقت اختیار کی اس وقت آپ ﷺ کے پاس میں ہی تھی، یا موت کا فرشتہ اور آخری بات یہ کہ میرا ہی گھر قیامت تک کے لئے آپ ﷺ کی آرام گاہ بنا یعنی اسی میں آپ کی تدفین ہوئی۔
تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ سے اوپر ہے، سبھی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، اسی طرح ان کے حواریین اور خلفاء جن کی تعداد اللہ ہی کے علم میں ہے، سب کامل ہی تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی خواتین میں سے اس حدیث میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ بس وہی درجہ کمال کو پہنچ سکیں۔ ان دونوں کے اس امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ قرآن پاک سورہ تحریم کے آخر میں ان دونوں کے مومنانہ کردار کو سب ایمان والوں کے لئے لائق تقلید مثال اور نمونہ کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔
بعض شارحین نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق صرف اگلی امتوں سے ہے، اس لئے اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ ﷺ کی امت میں اللہ کی کوئی بندی درجہ کمال کو نہیں پہنچی ..... کچھ ہی پہلے حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے۔ “خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ” (دنیا کی سب عورتوں میں بہتر مریم بنت عمران ہیں، اور خدیجہ بنت خویلد۔) خود اسی زیر تشریح حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے “وَفَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ” اسکا مطلب یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کو اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمائی ہوئی تمام خواتین پر ایسی فضیلت و برتری حاصل ہے جیسی ثرید کو تمام کھانوں پر ..... واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ثرید کو لذت اور نافعیت میں دوسرے سب کھانوں پر فوقیت و برتری حاصل تھی ..... ثرید کے بارے میں لغت کی کتابوں میں اور شروح حدیث میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا ..... اس عاجز (راقم سطور) کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے دسترخوان پر بار بار ثرید کھانا نصیب ہوا ہے ..... اس عاجز کا تجربہ اور احساس بھی یہی ہے کہ وہ لذت، کھانے میں سہولت سرعت ہضم اور نافیعت کے لحاظ سے ہمارے زمانہ کے ان تمام کھانوں سے بھی جو عام طور پر بہتر سمجھے جاتے ہیں، فائق ہے۔
بعض حضرات نے اس حدیث کی بنا پر یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو تمام دنیا کی عورتوں پر، اگلی امتوں، اور امت محمدیہ کی بھی تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے ..... لیکن ان تمام حدیثوں پر غور کرنے کے بعد جن میں اس طرح کسی کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ قرین صواب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت کلی نہیں، بلکہ کسی خاص جہت سے ہے۔ مثلاً حضرت صدیقہؓ کو احکام شریعت کے علم، تفقہ جیسے کمالات کی بنا پر دوسری تمام خواتین پر فضیلت و برتری حاصل ہے، اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ کو ان خصوصیات کی وجہ سے جو ان کے احوال و اوصاف کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہیں، دوسری تمام خواتین پر فضیلت حاصل ہے، اور مثلاً سیدہ حضرت فاطمہؓ کو رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر ہونے کے ساتھ ان کمالات کی وجہ سے جن کا بیان ان کے فضائل کے بیان میں قارئین کرام پڑھیں گے، جو شرف و فضیلت حاصل ہے، وہ بلاشبہ انہیں کا حصہ ہے۔
یہ حدیث ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت سے ہے، صحیح بخاری ہی میں حضرت انسؓ کی روایت سے حدیث کا صرف آخری حصہ (فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ) روایت کیا گیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلاَثَ لَيَالٍ جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَقُلْتُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے دکھائی گئیں خواب میں تین رات، فرشتہ ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لے کر آتا، اور مجھ سے کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، تو میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا، تو دیکھا کہ وہ تم ہو، تو میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پور افرمائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث میں اس کا کوئی ذخر نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خواب کب اور کس زمانہ میں دیکھا؟ بظاہر قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد جب ان جیسی شریک ھیات کی مفارقت کا فطری طور پر آپ ﷺ کو سخت صدمہ تھا، اور مستقبل کے بارے میں فکر تھی تو اس وقت آپ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو یہ دکھایا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اگرچہ اس وقت قریباً چھ سال کی بچی تھیں، لیکن اس بچپن ہی میں ان کے جو احوال و اطوار تھے ان سے آنحضرت ﷺ کو ان کی ذہانت و فطانت اور غیر معمولی صلاحیت کا بخوبی اندازہ تھا، اس طرح آپ ﷺ کو منجانب اللہ بتلایا گیا کہ یہی آپ ﷺ کے لئے مستقبل میں حضرت خدیجہؓ کا بدل ثابت ہوں گی، واللہ اعلم ...... یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ نبوت کے ابتدائی دور میں آنحضرت ﷺ کو اپنی شریک حیات میں جن خصوصیات کی ضرورت تھی، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کو بھرپور عطا فرمائی تھیں اور ہجرت کے بعد کے مدنی دور میں اپنی رفیقہ حیات میں آپ کو جن خاص صفات کی ضرورت تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کو بدرجہ کمال عطا فرمائی تھیں۔
حدیث شریف کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے خواب دیکھنے کے بعد اپنے دل میں کہا: “إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ.” (جس کا لفظی ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ خواب منجانب اللہ ہے تو وہ اس کو پورا فرمائے گا) اس پر کسی کو اشکال ہو سکتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام خاص کر رسول اللہ ﷺ کا خواب تو وحی کی ایک قسم ہے تو اس کے بارے میں شک شبہ کی کیا گنجائش تھی ..... حقیقت یہ ہے کہ “إِنْ يَكُنْ” کا لفظ شبہ ظاہر کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ کسی شخص سے راضی ہو کر کہے: اگر میں بادشاہ ہوں تو تمہارا یہ کام ضرور کیا جائے گا، ..... الغرض اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل میں اطمینان محسوس کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ضرور ایسا ہی ہو گا ..... اور ایسا ہی ہوا۔
آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامع ترمذی کی روایت میں صراھت ہے کہ خواب میں حضرت عائشہ کی صورت لے کر آنے والے فرشتے حضرت جبرائیل تھے اور انہوں نے ؓحضور ﷺ سے کہا تھا: “هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِى الدُّنْيَا وَالْاَخِرَةِ” (یہ آپ کی بیوی ہونے والی ہیں دنیا اور آخرت میں)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لاَ أَرَى. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:“اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” تو میں نے عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” (ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت) آگے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ وہ دیکھتے تھے، جو ہم نہیں دیکھتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت خدیجہؓ کے فضائل کے بیان میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت جبرائیل غار حراء میں آپ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ ﷺ سے کہا کہ خدیجہؓ کھانے پینے کا کچھ سامان لے کر آ رہی ہیں ان کو اپنے رب کا سلام پہنچائیے اور میرا ..... اور یہاں اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ “یہ جبرائیل ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں” حضرت صدیقہؓ نے جواب میں عرض کیا “وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ” ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل کو حضور دیکھ رہے تھے،میں نہیں دیکھ رہی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتْ إِنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ، وَالْحِزْبُ الآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ لَهَا كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَيَقُولُ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ، فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: لاَ تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي، وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلاَّ عَائِشَةَ. قَالَتْ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ. فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ، أَلاَ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ. قَالَتْ بَلَى قَالَ فَأَحُبِّيْ هَذِهِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب خصوصیت سے میری باری ہی کے دن ہدیے بھیجنے کا اہتمام کرتے تھے، وہ اپنے اس عمل سے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی چاہتے تھے، (اور صورت حال یہ تھی کہ) آپ ﷺ کی ازواج کے دو گروہ تھے، ایک گروہ میں عائشہ، حفصہ، صفیہ، اور سودہ تھیں، اور دوسرے گروہ میں ام سلمہ اور باقی ازواج، ام سلمہ کی گروہ والیوں نے ام سلمہ سے بات کی، اور ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے تم کہو کہ آپ اپنے اصحاب سے فرما دیں کہ اگر کوئی آپ کے لئے ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ جہاں بھی ہوں (یعنی ازواج میں سے کسی کے یہاں بھی مقیم ہوں) تو وہ وہیں آپ کو ہدیہ بھیجے، چنانچہ ام سلمہؓ نے آپ سے یہی عرض کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے عائشہؓ کے بارے میں اذیت نہ دو، عائشہؓ ہی کی خصوصیت ہے کہ انہیں کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے، ام سلمہؓ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! میں اللہ کے حضور میں آپ کو اذیت دینے سے توبہ کرتی ہوں۔ پھر ام سلمہؓ کی گروہ والی ازواج مطہرات نے (آپ کی صاحبزادی) حضرت فاطمہؓ کو اسی غرض سے آپ کے پاس بھیجا، چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے وہی عرض کیا تو آپ نے فرمایا: اے بیٹا! کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی جس سے مجھے محبت ہو، عرض کیا: کیوں نہیں! (یعنی آپ جس سے محبت کرتے ہیں میں ضرور اس سے محبت کروں گی) آپ نے فرمایا: “فَأَحُبِّيْ هَذِهِ” تو تم اس (عائشہ) سے محبت کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں چند باتیں وضاحت طلب ہیں ..... ایک یہ کہ اس میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے دو گروہ میں تقسیم ہونے کی بات کہی گئی ہے، دو گروہوں میں یہ تقسیم کسی باہمی اختلاف کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ کچھ ازواج مطہرات کو مزاجی مناسبت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے زیادہ تھی، اور کچھ کو حضرت ام سلمہؓ سے (واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل و دانش کے لحاظ سے یہ دونوں تمام ازواج مطہرات میں ممتاز تھیں، اور حضور کو قلبی تعلق بھی ان دونوں کے ساتھ بہ نسبت دوسری ازواج کے زیادہ تھا ..... دوسری بات قابل وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے پینے، پہننے اور شب باشی جیسے اختیاری معاملات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ امکانی حد تک یکساں برتاؤ کا خاص اہتمام فرماتے تھے ..... لیکن قلبی محبت کا تعلق انسان کے اختیار میں نہیں ہے، اسی بنا پر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ «اللَّهُمَّ هَذِا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا أَمْلِكُ» (1) (اے اللہ میں تقسیم میں برابری کرتا ہوں ان چیزوں میں جو میرے اختیار میں ہیں، اے میرے مالک مجھ سے درگذر فرما اس چیز کے بارے میں جو صرف تیرے اختیار میں ہے اور میرے اختیار میں نہیں ہے یعنی دل کا لگاؤ) بہرحال یہ واقعہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی بعض ازواج کے ساتھ زیادہ محبت تھی، اور سب سے زیادہ محبت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے تھی، اور آنحضرت ﷺ کے قریبی تعلق رکھنے والے اصحاب کرام اس حقیقت سے باخبر اور واقف تھے، اس لئے وہ جب کوئی کھانے وغیرہ کی قسم کی کوئی چیز ہدیہ کے طور پر بھیجنا چاہتے تو اس کا اہتمام کرتے کہ اس دن بھیجیں جس دن آپ ﷺ کا قیام حضرت عائشہؓ کے یہاں ہو ..... یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے کبھی کسی کو کوئی اشارہ بھی نہیں فرمایا، تاہم یہ بات ان ازواج کے لئے گرانی کا باعث تھی جو حضرت ام سلمہؓ سے خصوصی تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے ان سے کہا کہ تم حضور ﷺ سے اس بارے میں بات کرو اور یہ عرض کرو، پھر ام سلمہؓ کا حضور ﷺ سے عرض کرنا، اور آپ ﷺ کا جواب اور اس پر ام سلمہؓ کی گذارش یہ سب حدیث کے ترجمہ میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ آگے حدیث میں یہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے حضور کی صاحبزادی، حضرت فاطمہؓ سے بات کی اور ان کو اسی غرض سے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا انہوں نے جا کر آپ کی ان ازواج کی طرف سے وہی عرض کیا جو حضرت ام سلمہؓ نے کیا تھا پھر حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا اور حضرت فاطمہؓ نے جو عرض کیا وہ بھی ترجمہ میں آپ پڑھ چکے ہیں ..... البتہ یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، کہ حضرت فاطمہؓ کو اس کا علم تھا کہ حضرت ام سلمہؓ اس بارے میں حضور ﷺ سے عرض کر چکی ہیں یقین ہے کہ اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ ہرگز اس کے لئے تیار نہ ہوتیں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلاَّ وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا. (رواه والترمذى)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ جب کبھی ہم لوگوں یعنی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو کسی بات اور کسی مسئلہ میں اشتباہ ہوا، تو ہم نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے پوچھا تو ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ قدیم الاسلام ہیں، ان چند صحابہ کرامؓ میں ہیں جو علم اور تفقہ میں ممتاز تھے، یہ دراصل علاقہ یمن کے رہنے والے تھے، دعوت ایمان و اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ان کو اس کی خبر پہنچی تو یہ خود مکہ معظمہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے معمول کے مطابق ان کے سامنے بھی اسلام کی دعوت پیش کی تو ان کے قلب سلیم نے بغیر تردد و توقف کے اسلام قبول کر لیا، اور مکہ معظمہ ہی میں رہنے کا فیصلہ کر لیا، اور پھر جب مکہ کے کفار و مشرکین نے اسلام قبول کرنے والوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بنایا، اور بات ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئی تو حضور ﷺ ہی کے مشورہ سے ان ستم رسیدہ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی قیادت میں صحابہ کرامؓ کی جو جماعت حبشہ کے لئے روانہ ہوئی ان ہی میں ابو موسیٰ اشعریؓ بھی تھے ..... چند برسوں تک یہ حضرات حبشہ ہی میں مقیم رہے، رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے کے بعد یہ حضرات مدینہ طیبہ آ گئے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو اللہ تعالیٰ نے خاص درجہ کی علمی صلاحیت عطا فرمائی تھی وہ حضور ﷺ کے دور حیات ہی میں ان چند صحابہؓ میں شمار ہوتے تھے جن کی طرف عام مسلمان دینی معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے تھے، اصطلاحی الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ “فقہاء صحابہ میں سے تھے ان کا یہ بیان بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کو یعنی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کرام کو حضور ﷺ کے بعد کسی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تو وہ حضرت عائشہؓ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور جو مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کے بارے میں ان کے پاس علم ہے ..... یعنی وہ مسئلہ حل فرما دیتیں یا تو ان کے پاس اس بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہوتا یا اپنی اجتہادی صلاحیت سے مسئلہ حل فرما دیتیں .... اس سلسلہ میں چند اکابر تابعین کی یہ شہادتیں بھی ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔”
حضرت عروہ ابن زبیرؓ جو حضرت عائشہؓ کے حقیقی بھانجے ہیں، اور حضرت صدیقہؓ کی روایتوں کی بڑی تعداد کے وہی راوی ہیں، حاکم اور طبرانی نے ان کا یہ بیان حضرت صدیقہؓ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ:
«مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِالْقُرْآنِ وَلَا بِفَرِيضَةٍ وَلَا بِحَرَامٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَلَا بِفِقْهٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِطِبٍّ وَلَا بِحَدِيثِ الْعَرَبِ وَلَا بِنَسَبٍ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا» (1)
ترجمہ: میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو اللہ کی کتاب قرآن پاک اور فرائض کے بارے میں اور حرام و حلال اور فقہ کے بارے م یں اور شعر اور طب کے بارے میں اور عربوں کے واقعات اور تاریخ کے بارے میں اور انساب کے بارے میں (ہماری خالہ جان) عائشہؓ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔
اور حاکم اور طبرانی ہی نے ایک دوسرے تابعی مسروق سے روایت کیا ہے۔ فرمایا:
وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْأَكَابِرَ مِنَ الصَّحَابَةِ وَفِىْ لَفْظِ مَشِيْخَةِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَكَابِرَ يَسْأَلُونَ عَائِشَةَ عَنِ الْفَرَائِضِ. (2)
ترجمہ: میں نے اکابر صحابہؓ کو دیکھا ہے فرائض کے بارے میں حضرت عائشہؓ سے دریافت کرتے تھے۔ اور حاکم ہی نے ایک تیسرے بزرگ تابعی عطاءابن ابی رباح کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ:
«كَانَتْ عَائِشَةُ، أَفْقَهَ النَّاسِ وَأَعْلَمَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ» (3)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بڑی فقیہہ تھیں اور بڑی عالم اور عام لوگوں کی رائے ان کے بارے میں بہت اچھی تھی۔
کمالِ خطابت
مندرجہ بالا علمی کمالات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطابت میں بھی کمال عطا فرمایا تھا، طبرانی نے حضرت معاویہؓ کا بیان نقل کیا ہے، فرمایا:
قَالَ مُعَاوِيَةَ: " وَاللهِ مَا رَأَيْتُ خَطِيبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْصَحَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ. (رواه الطبرانى)
ترجمہ: خدا کی قسم میں نے کوئی خطیب نہیں دیکھا جو فصاحت و بلاغت اور فطانت میں حضرت عائشہؓ سے فائق ہو۔
یہی وہ خداداد کمالات تھے جن کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ (ؓ وارضاھا)
ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا
عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ اِرْتَجَعَهَا وَذَالِكَ أَنَّ جِبْرَائِيْلَ، قَالَ لَهُ إِرْجِعْ حَفْصَةَ فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ، وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ وَفِي الْجَنَّةِ.
قیس ابن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کو ایک مرتبہ طلاق دی پھر رجوع فرما لیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ آپ ﷺ حفصہؓ سے رجعت کر لیں اس لئے کہ وہ بہت روزہ رکھنے والی اور بہت نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہوں گی۔
تشریح
یہ حضرت عمر ؓ کی صاحبزادی تھیں، حضرت عمرؓ کی اولاد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی تنہا یہی حقیقی بہن تھیں، ان کی والدہ زینب بنت مظعونؓ تھیں جو مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں، اور خود بھی صحابیہؓ تھیں۔ حضرت حفصہؓ کی ولادت بعثت نبوی سے ۵ سال پہلے ہوئی تھی، اس لحاظ سے یہ رسول اللہ ﷺ سے قریباً ۳۵ سال چھوٹی تھیں۔
ہجرت سے پہلے ان کا نکاح حضرت خنیس بن حذافہ سہمی نامی ایک صحابی سے ہوا تھا اور ان ہی کے ساتھ انہوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی تھی۔ حضرت خنیسؓ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور راجح قول کے مطابق بدر ہی میں ان کے کاری زخم آئے جن سے وہ جانبر نہیں ہو سکے تھے۔ اور کچھ ہی عرصہ کے بعد ان ہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی۔
حضرت خنیسؓ کے انتقال کے بعد حضرت عمرؓ کو اپنی بیٹی کی فکر ہوئی۔ یہ غزوہ بدر کے بعد کا زمانہ ہے۔ اسی موقعہ پر حضرت عثمانؓ کی اہلیہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا انتقال ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عثمانؓ سے حضرت حفصہؓ کے نکاح کی پیشکش کی۔ انہوں نے غور کرنے کے لئے کچھ وقت مانگا۔ اور چند دن کے بعد معذرت کر دی۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے یہی پیش کش کی، مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ مجھے ان کی خاموشی حضرت عثمانؓ سے زیادہ ناگواری گذری ...... اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کے لئے پیام دیا، اور جب یہ نکاح ہو گیا تب حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ سے ملے اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ سے نکاح کی خواہش کی تھی، اور میں خاموش رہا تھا تو تم اس سے رنجیدہ ہوئے تھے۔ اصل میں قصہ یہ تھا کہ مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کا ارادہ حفصہؓ کو اپنے نکاح میں لینے کا ہے۔ اور اسی وجہ سے میں نے تمہاری پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، میں یہ بھی مناسب نہیں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو بات ابھی راز میں رکھی تھی، مین اس کو ظاہر کر دوں۔ اور اگر رسول اللہ ﷺ کا یہ ارادہ میرے علم میں نہ ہوتا تو میں ضرور تمہاری پیش کش قبول کر لیتا۔ یہ ساری تفصیلات صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغٖیرہ میں حضرت حفصہؓ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی کی روایت سے موجود ہیں۔ حدیث کی ایک اور کتاب مسند ابو یعلیٰ میں اتنی بات کا اور اضافہ ہے کہ جب حضرت عثمانؓ نے حضرت عمرؓ کی پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر دی تو حضرت عمرؓ نے اس کا شکوہ رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ جس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حفصہ کو عثمانؓ سے بہتر شوہر دے گا اور عثمانؓ کو تمہاری بیٹی حفصہؓ سے بہتر بیوی۔ چنانچہ کچھ ہی دنوں کے بعد حضرت عثمانؓ کا نکاح رسول اللہ ﷺ ہی کی دوسری صاحبزادی ام کلثومؓ سے ہوا اور حضرت حفصہؓ کو رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف ملا۔
حضرت حفصہؓ کے مناقب میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت عمر ؓ کے مشورہ سے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں قرآن مجید کا جو نسخہ مکمل شکل میں مرتب و مدون کیا گیا تھا۔ وہ نسخہ حضرت عمر ؓ کی وفات کے بعد حضرت حفصہ ؓ ہی کی تحویل میں رہا، اور حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں جب ضرورت پڑی کہ قرآن مجید کے یکساں نسخے مرکز خلافت ہی سے مدون و مرتب کرا کے عالم اسلام میں بھیجے جائین تو حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ نسخہ کو بنیاد مانا گیا تھا ..... اس کی ضروری تفصیل اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضرت عثمانؓ کے مناقب میں لکھی جا چکی ہے ..... یہاں تو صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ عہد فاروقی کے بعد اس نسخہ کی حفاظت کا شرف حضرت حفصہؓ کے حصہ میں آنا یقیناً ان کی ایک قابل ذکر فضیلت ہے۔ ام المومنین حضرت حفصہؓ نے حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت میں ۴۵ھ میں انتقال فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر قریباً ۶۳ سال تھی۔
ان تعارفی و تمہیدی کلمات کے بعد وہ حدیث پڑھئے جس میں اللہ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل کی زبانی حضرت حفصہؓ کے بارے میں ایک شہادت نقل ہوئی ہے اور اسی کی وجہ سے واقعہ یہ ہے کہ حضرت حفصہؓ کے فضائل میں تنہا یہی حدیث بالکل کافی ہے۔
تشریح ..... اللہ تعالیٰ کی یہاں حضرت حفصہؓ کی قدر و منزلت اور مقبولیت و محبوبیت کا اندازہ کرنے کے لئے یہ حدیث بالکل کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب کسی وجہ سے ان کو طلاق دے دی تو اللہ نے نہ صرف حضرت جبرائیل کے ذریعہ آپ ﷺ کو رجعت کرنے کا حکم بھیجا بلکہ حضرت حفصہؓ کی سیرت و کردار کے بارے میں یہ سند اور یہ شہادت بھی عطا فرمائی کہ یہ دن کو کثرت سے روزہ رکھتی ہین اور رات کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتی ہیں اور یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ خوشخبری بھی سنائی کہ جنت میں بھی ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف مقدر ہو چکا ہے۔
یہ بات تحقیقی طور پر نہیں معلوم ہو سکی کہ طلاق کے اس واقعہ کا اصل سبب کیا تھا۔ البتہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ طلاق اور رجعت ان دونوں کے سلسلہ کا یہ واقعہ جو رسول اللہ ﷺ کے گھر میں پیش آیا اسی سے امت کو طلاق اور رجعت کا صحیح اور مسنون طریقہ عملی طور پر معلوم ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کے پیش آنے کی ایک حکمت اسی طریقہ کی تعلیم ہو ...... اس کے علاوہ یہ بھی اسی واقعہ کی برکت ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حضرت حفصہؓ کی بلندی مقام، اور ان کے وہ خاص اوصاف جو اس کا سبب بنے، اور پھر ان کا جنتی ہونا، یہ سب بھی معلوم ہو گیا۔ ؓ وارضاہا۔
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کا نام ہند تھا، بعض مورخین نے رملہ لکھا ہے آپ کے والد کے نام میں بھی اختلاف ہے۔ بعض لوگ حذیفہ بتلاتے ہیں زیادہ مشہور قول سہل یا سہیل بن المغیرہ ہے۔ ان کی کنیت ابو امیہ تھی اور کنیت سے ہی مشہور ہیں مکہ کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ بہت سخی اور صاحب خیر تھے۔ سفر میں جاتے تو تمام شرکاء سفر کا تکفل فرماتے، اسی لئے آپ کا لقب زاد الراکب (اہل قافلہ کی زاد راہ کے ذمہ دار) پڑ گیا تھا۔
حضرت ام سلمہؓ کی پہلی شادی اپنے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عبدالاسد المخزومی کے ساتھ ہوئی تھی، یہ رسول اللہ ﷺ کے رضائی (دودھ شریک) بھائی بھی تھے۔ ام سلمہؓ کے ایک بیٹے سلمہ کی وجہ سے ہی ان کی کنیت ام سلمہؓ کے شوہر حضرت عبداللہ کی کنیت ابو سلمہؓ پڑ گئی تھی۔ حضرت ابو سلمہؓ بھی شرفاء مکہ میں شمار ہوتے تھے۔
میاں بیوی دونوں ہی مکہ میں بالکل ابتدائی زمانہ میں اسلام لانے والے اور سابقین اولین میں ہیں۔ اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر یہ دونوں میاں بیوی حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے کچھ عرصہ حبشہ میں قیام کے بعد دونوں مکہ تشریف لے آئے۔ لیکن مکہ کے حالات نے اب بھی مکہ میں نہ رہنے دیا اور دونوں اپنے بیٹے سلمہ کو لے کر ہجرت کے ارادہ سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے لئے نکلے ابھی یہ لوگ مکہ سے نکلے ہی تھے کہ حضرت ام سلمہؓ کے خاندان بنو مغیرہ کے لوگوں کو اس کا علم ہو گیا کہ ابو سلمہؓ خود تو مدینہ جا ہی رہے ہیں ان کے خاندان کی لڑکی، ام سلمہؓ کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں ان لوگوں نے حضرت ابو سلمہؓ سے کہا کہ اپنے بارے میں تم بااختیار ہو جہاں چاہو رہو۔ لیکن ہم اپنی بیٹی کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے تمہارے ساتھ ہرگز نہ جانے دیں گے اور وہ حضرت ام سلمہؓ اور ان کے بچے سلمہ کو مکہ واپس لے گئے حضرت ابو سلمہؓ تنہا ہی مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے۔
اس واقعہ کی اطلاع جب حضرت ابو سلمہب کے خانداں بنو المخزوم کے لوگوں کو ہوئی کہ ان کے خاندان کے ایک فرد ابو سلمہ کے ساتھ بنو المغیرہ کے لوگوں نے یہ زیادتی کی ہے، تو خاندانی حمیت کی وجہ سے ان لوگوں نے ام سلمہؓ کے کاندان بنو المغیرہ سے سلمہؓ کو جو ابھی بچے ہی تھے یہ کہہ کر لے لیا کہ ام سلمہؓ تو تمہارے خاندان کی ہیں ان کو تم رکھو لیکن سلمہؓ تو ہمارے خاندان کا بچہ ہے۔
اب صورت ھال یہ ہو گئی کہ ابو سلمہؓ تو مدینہ طیبہ تشریف لے گئے، ام سلمہؓ اپنے گھر بنو المغیرہ میں ہیں، اور بچہ سلمہؓ حضرت ابو سلمہؓ کے قبیلہ بنو المخزوم کے قبضہ میں ہے۔
اس مصیبت میں مبتلا حضرت ام سلمہؓ مکہ سے نکل کر دن بھر مقام ابطح میں بیٹھی اپنے شوہر اور بچہ کے غم میں روتی رہتیں۔
ہفتہ عشرہ اسی حال میں گزر گیا، ایک دن ان کے خاندان کے کسی شخص نے ان کو اس طرح روتے دیکھا تو اہل خاندان سے کہا اس بیچاری پر رحم کرو اور اس کو اپنے شوہر کے پاس جانے دو، قبیلہ کے لوگوں کو بھی ان پر ترس آ گیا اور ان کو ان کے شوہر ابو سلمہؓ کے پاس مدینہ طیبہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ جب اس کا علم حضرت ابو سلمہؓ کے قبیلہ کو ہوا تو انہوں نے سلمہؓ کو حضرت ام سلمہؓ کے حوالے کر دیا۔
حضرت ام سلمہؓ اپنے بچہ سلمہ کو لے کر اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کے ارادہ سے تنہا نکل پڑیں۔ ابھی مکہ سے چند میل دور مقام تنعیم تک ہی پہنچیں تھیں کہ عثمان بن طلحہ نامی مکہ کے ایک شخص ملے پوچھا ابو امیہ کی بیٹی کہاں کا ارادہ ہے، ام سلمہؓ نے جواب دیا اپنے شوہر ابو سلمہؓ کے پاس مدینہ جانا ہے، پوچھا کوئی ساتھ ہے ام سلمہؓ نے کہا کہ اس بچہ اور اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں۔ عثمان بن طلحہ نے کہا میں ساتھ ہوں ابو امیہ کی بیٹی تنہا سفر نہیں کرے گی۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں میں نے ان جیسا شریف آدمی نہیں دیکھا۔ راستہ بھر ان کا معمول یہ رہا کہ جب منزل پر اترنے کا وقت آتا تو اونٹ کو بٹھاتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے اور میں اونٹ سے اتر آتی اور جب چلنے کا وقت آتا تو آ کر اونٹ بٹھاتے میں سوار ہو جاتی اور وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دیتے پورا سفر اسی طرح طے ہوا۔ جب یہ لوگ مقام قبا میں (جو اس زمانہ میں مدینہ سے باہر ایک چھوٹی سی آبادی تھی اور اب مدینہ طیبہ ہی کا ایک محلہ ہے) پہنچے تو عثمان بن طلحہ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ تمہارے شوہر یہیں قبا میں ہیں انہوں نے حضرت ام سلمہؓ کو ان کے حوالے کیا اور خود مکہ واپس چلے گئے۔
اکثر مؤرخین اور سیر نگاروں کے نزدیک سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والی عورت حضرت ام سلمہؓ ہی ہیں۔
مسلم شریف کی آئندہ ذکر کی جانے والی روایت سے بھی اس قول کی کچھ تائید ہوتی ہے۔
غزوہ احد میں حضرت ابو سلمہؓ نے بڑی بےجگری و جاں بازی اور شوق شہادت میں شرشار ہو کر قتال میں حصہ لیا، اسی موقعہ پر ان کے بہت گہرا زخم لگا تھا جو کچھ دنوں میں ٹھیک ہو گیا۔ اور حضرت ابو سلمہؓ بالکل صحت یاب ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بنو اسد سے جہاد کرنے والی جماعت کا امیر بنا کر بھیجا۔ اس جنگ میں ان کا پرانا زخم پھر ہرا ہو گیا اور اس میں شدید تکلیف پیدا ہو گئی اور اسی زخم کی وجہ سے ۸؍ جمادی الاخریٰ ۴ھ کو حضرت ابو سلمہؓ کی وفات ہو گئی۔ انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے آپ ﷺ ہی نے اپنے دست مبارک سے ابو سلمہؓ کی آنکھیں بند کیں اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کی دعا کی اور یہ بھی عرض کیا کہ اے اللہ ان کی جگہ آپ ہی ان کے پسماندگان کی نگرانی و سرپرستی فرمائیں۔ حضرت ام سلمہؓ کے لئے حالت پردیسی میں شوہر کی وفات بڑا حادثہ تھا۔
وہ اپنے شوہر کو بےمثال شوہر سمجھتی تھیں اور ان کے بعد ان سے بہتر یا ان جیسے شوہر کے ملنے کی امید نہ تھی۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے باوجود مجھے ابو سلمہؓ کا متبادل نظر نہ آتا تھا کہ:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ}، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: جس صاحب ایمان پر کوئی مصیبت آئے (اور کوئی چیز فوت ہو جائے) اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے وہ عرض کرے جو عرض کرنے کا حکم ہے۔ یعنی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم سب لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور (جو چیز مجھ سے لے لی گئی ہے) اس کے بجائے اس سے بہتر مجھے عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اس چیز کے بجائے اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا (ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ) جب میرے پہلے شوہر ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میرے شوہر مرحوم ابو سلمہؓ سے اچھا کون ہو سکتا ہے۔ وہ سب سے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے گھر بار کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی (لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے مطابق) میں نے ان کی وفات کے بعد إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا اور دعا کی اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہؓ کی جگہ رسول اللہ ﷺ مجھے نصیب فرمایا۔
حضرت ام سلمہ ؓ کی یہ روایت مسلم شریف کے حوالے سے معارف الحدیث جلد سوم میں گزر چکی ہے یہاں بھی اصل روایت اور اس کا ترجمہ وہیں سے نقل کیا گیا ہے صحیح مسلم کے علاوہ حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی اس واقعہ کے ساتھ یہ دعا الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی گئی ہے، ابن سعد نے طبقات میں ام سلمہؓ کے واسطہ سے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک دن میں نے اپنے شوہر ابو سلمہؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شہر مر جائے اور بیوہ دوسری شادی نہ کرے اور دونوں جنت میں جائیں تو اللہ تعالیٰ جنت میں بھی ان کا رشتہ برقرار رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر بیوی مر جائے اور شوہر دوسری شادی نہ کرے تو بھی دنیا کا یہ رشتہ جنت میں باقی رکھا جاتا ہے۔ آئیے ہم دونوں عہد کریں کہ ہم دونوں میں سے جو پہلے مر جائے دوسری شادی نہیں کرے گا۔ حضرت ابو سلمہؓنے یہ سن کر کہا کیا تم مجھ سے عہد کرنے کو تیار ہو، میں نے کہا بالکل اس پر حضرت ابو سلمہؓ نے فرمایا کہ اگر میرا انتقال پہلے ہو جائے تو تم شادی کر لینا اور اس کے بعد یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ میرے بعد ام سلمہؓ کو مجھ سے بہتر شوہر عطا فرما جو ان کے لئے نہ باعث غم ہو نہ باعث تکلیف۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ان سے بہتر کون ہو سکتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا پیغام آیا۔
ابو سلمہؓ کے انتقال اور ام سلمہؓ کی عدت گذر جانے کے بعد حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ نے اور ام سلمہؓ کو شادی کا پیغام دیا تھا لیکن ام سلمہؓ نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جب حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کر آئے تو انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو قبول کرنے میں مجھے تین (۳) عذر ہیں نمبر ۱ میں بہت غیرت مند ہوں۔ نمبر ۲ میرے کئی بچے ہیں۔ نمبر ۳ میری عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ان وجوہات سے رسول اللہ ﷺ کے حقوق کی ادائیگی میں کہیں کوتاہی نہ ہو جائے۔ بعض روایات میں یہ عذر بھی مذکور ہے کہ میرا کوئی ولی مدینہ میں نہیں ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے ام سلمہؓ کے یہ اعذار آپ ﷺ کو پہنچائے تو آپ ﷺ نے فرمایا جہاں تک ان کی حد سے بڑھی ہوئی غیر کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ اسے دور فرما دے گا اور رہا بچوں کا سوال تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہیں اور رہا ان کی درازی عمر کا مسئلہ تو میری عمر ان سے زیادہ ہے۔ اور ان کا کوئی بھی ولی اس رشتہ کو ناپسند نہیں کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ ...... کی یہ ہدایات جب ام سلمہؓ کو پہنچیں تو وہ فوراً رشرہ کے لئے تیار ہو گئیں اور شوال ۴ھ میں حضرت ام سلمہؓ حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔
اولاد
حضرت ام سلمہؓ کے اپنے پہلے شوہر سے دو لڑکے سلمہ اور عمر تھے اور دو لڑکیاں درہ اور برہ تھیں بعد میں آپ ﷺ نے بردہ کا نام بدل کر زینب رکھ دیا تھا۔
فضائل
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے فضائل میں صحیح بخاری و صحیح مسلم میں یہ روایت ذکر کی گئی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حضرت جبرائیلؑ آئے اور حضرت ام سلمہب آپ کی قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیلؑ چلے گئے تو آپ ﷺ نے حضرت ام سلمہؓ سے سوال کیا کہ یہ کون تھے؟ حضرت ام سلمہؓ نے عرج کیا کہ یہ دحیہ کلبیؓ تھے (اس لئے کہ حضرت جبرائیل دحیہ کلبیؓ ہی کی شکل میں آئے تھے) اس کے بعد آپ نے مسجد تشریف لے جا کر حضرت جبرائیل کی تشریف آوری کا ذکر کیا تو حضرت ام سلمہؓ سمجھیں کہ وہ حضرت جبرائیلؑ ہی تھے۔
ازواج مطہرات کے سلسلہ میں سورہ احزاب کی آیت “ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ” حضرت ام سلمہؓ ہی کے مکان میں نازل ہوئی۔ اس کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کو بلا کر اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور حضرت علیؓ آپ کی پشت کے پیچھے بیٹھ گئے پھر آپ نے یہ دعا کی “اللهم هوءلاء اهل بيتى فطهرهم تطهيرا” اے اللہ یہ لوگ بھی میرے اہل بیت ہیں ان کو بھی پاک و صاف فرما دیجئے۔ یہ سن کر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں بھی تو ان کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا انت علی مکانک وانت علی خیر یعنی تم تو اہل بیت میں ہو ہی اور تم خیر پر بھی ہو۔
حضرت ام سلمہؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ عورتوں کا ذکر قرآن مجید میں کیوں نہیں ہے ان کی اس طلب اور خواہش پر آیت کریمہ “ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ...... الخ” نازل ہوئی۔ اور آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر اس آیت کو صحابہ کرامؓ کو سنایا۔
حضرت ام سلمہب بہت ذہین اور فہیم تھیں اللہ نے تفقہ فی الدین سے بھی خوب نوازا تھا صلح حدیبیہ کے موقع پر جب یہ طے ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس سال تو واپس چلے جائیں اور آئندہ سال عمرہ کے لئے آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں۔ آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ سب عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھے واپسی کے لئے احرام سے نکلنا اور اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کرنا ضروری تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو احرام سے نکلنے یعنی اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کرنے اور سر منڈوانے کا حکم دے دیا یہ کام صحابہ کرامؓ کے لئے بڑا شاق اور گراں تھا ان کے دل کسی طرھ عمرہ کئے بغیر احرام کھولنے کے لئے آمادہ نہ ہوتے تھے۔ آپ نے اپنے خیمہ میں آ کر صحابہ کرامؓ کی اس حالت اور اس پر اپنی ناگواری کا اظہار ام سلمہؓ سے کیا حضرت ام سلمہب نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) آپ خیمے سے باہر تشریف لے جائیں اور اپنی ہدی کا جانور ذبح کر کے اور بال منڈوا کر احرام سے نکل جائیں۔ آپ نے باہر آ کرایسا ہی کیا صحابہ کرامؓ نے جب آپ ﷺ کا یہ عمل دیکھا تو سب نے اپنے جانور ذبح کئے بال منڈوائے اور احرام کھول دئیے۔
حضرت ام سلمہؓ کو احادیث رسول بکثرت یاد تھیں۔ حضرت عائشہؓ حضرت ابن عباسؓ اور بہت سے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے آپؓ سے احادیث روایت کی ہیں۔ محدثین نے آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۳۷۸ بتلائی ہے۔
لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے طرز پر قرآن مجید پڑھنے کی ترغیب دیتی تھیں اور بتلاتی تھیں کہ آپ ﷺ رک رک کر قرآن مجید پڑھتے تھے۔ اور مثال کے طور پر کہتیں کہ آپ الحمدللہ رب العالمین پڑھتے اور وقف فرماتے پھر الرحمٰن الرحیم پڑھتے اور وقف فرماتے۔ ام سلمہب یہ بھی ذکر کرتی تھیں کہ آپ ﷺ مالک یوم الدین کی جگہ، ملک یوم الدین پڑھتے تھے۔ ترمذی ۲ ص ۱۱۶ روایات احکام کے علاوہ قراۃ قرآن کی کیفیت اور قرآن کی تفسیر کے سلسلہ کی متعدد روایات حضرت ام سلمہؓ کے واسطہ سے کتب حدیث میں مروی ہیں۔
آپ کے سن وفات میں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ آپ نے ۵۹ھ میں وفات پائی اور حضرت ابو ہریرہؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش ؓ
ام المومنین حضرت زینب ؓ کا نام پہلے برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے بدل کر زینب رکھ دیا۔
برہ کے معنی نیک اور فیاض کے ہیں۔
ام المومنین حضرت زینب کے علاوہ بعض۔۔۔۔۔ جن کا نام برہ تھا ان کا نام آپ ﷺ نے بدل دیا اور فرمایا لا تزكوا انفسكم الله اعلم باهل البر منكم (1) یعنی خود اپنے آپ کو نیک اور سخی نہ کہو اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کون نیک اور سخی ہے۔
آپ کے والد جحش بن رئاب کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے تھا اور والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کی حقیقی پھوپھی تھیں۔ یعنی حضرت زینب ؓ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔
حضرت زینب شروع ہی میں ایمان لانے والے لوگوں میں تھیں كانت قديمة الاسلام وقال الزهرى زينب من المهاجرات الاول (2) یعنی آپ قدیم الاسلام تھیں اور امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ زینب بالکل اولین دور میں ہجرت کرنے والوں میں تھیں۔
پہلا نکاح
پھوپھی زاد بہن ہونے اور نو عمری میں ہی اسلام لے آنے کے وجہ سے حضرت زینبؓ رسول اللہ ﷺ کی تربیت ہی میں رہیں اس لئے آپ ﷺ نے ان کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ سے کر دیا تھا۔ حضرت زیدؓ بچپن ہی سے آپ ﷺ کی زیر تربیت رہے تھے اس لئے علم و دین میں ممتاز تھے پھر آپ ﷺ نے ان کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بھی بنا لیا۔ اور آپ ﷺ کو ان سے اولاد کا سا تعلق بھی تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود بہرحال وہ ایک آزاد کردہ غلام اور حضرت زینبؓ قبیلہ قریش کے سردار عبدالمطلب کی نواسی اور اپنے باپ کی طرف سے بھی ایک بڑے گھر کی بیٹی تھیں اس لئے شروع میں حضرت زینبؓ اور ان کی بھائی عبداللہ بن جحش نے اس رشتہ کو نامنظور کر دیا تھا۔
طبرانی نے بسند صحیح یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت زیدؓ کا پیغام خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ کو دیا تھا اور حضرت زینبؓ نے یہ کہہ کر کہ میں نسباً ان سے بہتر ہوں اس پیغام کو رد کر دیا تھا۔ اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا (سورة احزاب آيت نمبر 36)
ترجمہ: کسی صاحب ایمان مرد اور عورت کے لئے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا (قطعی) حکم دے دیں تب بھی وہ اس کام کے بارے میں بااختیار رہیں۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے وجوبی حکم دینے کے بعد کسی بھی مومن یا مومنہ کو اپنے دنیوی اور ذاتی معاملہ میں بھی کوئی حق اور اختیار باقی نہیں رہتا۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی عبداللہ بن جحشؓ نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ ﷺ نے حضرت زیدؓ کا نکاح حضرت زینبؓ سے کر دیا اور اپنے پاس سے ان کا مہر دس دینار (تقریباً ۴ تولہ سونا) اور ساٹھ درہم (تقریباً ۱۸۔ تولہ چاندی) اور ایک باربرداری کا جانور ایک زنانہ جوڑا اور پچاس مد آٹا (تقریباً ۲۵ سیر) اور دس مد کھجور (تقریباً پانچ (1) سیر ادا کیا۔)
حضرت زینبؓ نے اس رشتہ کو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی وجہ سے قبول کر لیا تھا اور اپنی طبیعت کو بھی اس پر راضی کر لیا تھا۔ لیکن مدینہ کے منافقین نے جو رسول اللہ ﷺ کی ایذا رسانی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے اس کو لے کر ایک فتنہ کھڑا کر دیا کہ لیجئے محمد ﷺ نے ایک شریف خاندان کی عورت کا نکاح ایک غلام سے کر دیا۔ خصوصاً منافقین کی عورتوں نے اس فتنہ انگیزی میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضڑت زینبؓ جو دل سے اس رشتہ کو قبول کر چکی تھیں ان کو ورغلانے کی پوری پوری کوششیں کیں۔ حضرت زینبؓ کے دل پر ان باتوں کا اثر ہوا ان کی مزاج میں کچھ تیزی اور احساس برتری تو تھا ہی منافقین کے اس فتنہ نے حضرت زینبؓ اور حضرت زیدؓ کے درمیان کچھ دوری پیدا کر دی۔
ادھر حضرت زیدؓ کو حضرت زینبؓ کا احساس تفوق و برتری اپنی حساس اور غیرت مند طبیعت پر بار محسوس ہونے لگا جس کی وجہ سے انہوں نے اس رشتہ کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی اجازت چاہی آپ نے حضرت زیدؓ سے سوال کیا کہ کیا زینب کی طرف سے تمہیں کچھ شک ہے عرض کیا کوئی شک کی بات تو نہیں البتہ زینبؓ کو اپنے خاندانی شرف کا احساس ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کر دیتی ہیں۔
پھر ممکن ہے وہ یہ بھی سمجھتے ہوں کہ زینبؓ کی خواہش بھی رشتہ کو ختم کر دینے ہی کی ہے اس طرح اس رشتہ کے ختم ہونے سے دونوں کو راحت مل جائے گی۔
حضرت زیدؓ کی درخواست کو آپ ﷺ نے منظور نہیں فرمایا اور رشتہ کو باقی رکھنے ہی کا حکم دیا۔
لیکن یہ رشتہ زیادہ دنوں باقی نہ رہ سکا۔ حضرت زیدؓ رشتہ کو ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اور دوبارہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ اب میں رشتہ باقی نہ رکھ سکوں گا۔ آپ نے اب بھی حضرت زیدؓ کو صبر و تحمل کی تلقین فرمائی اور رشتہ کو باقی رکھنے کو فرمایا جس کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ میں ہے أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ یعنی اپنی بیوی کے نکاح کو باقی رکھو اور خدا سے ڈرو۔
لیکن حضرت زیدؓ کی حالت حد اضطرار کو پہنچ گئی تھی اور صورت ھال ایسی ہو گئی تھی کہ اب نکاح کو باقی رکھنا شرعاً درست نہ تھا اس لئے چار و ناچار آپ ﷺ نے حضرت زیدؓ کو طلاق دینے کی اجازت دے دی اور پھر حضرت زیدؓ نے طلاق دے بھی دی اور صرف ایک سال ہی میں یہ رشتہ ختم ہو گیا۔
چونکہ یہ رشتہ آپ نے اسلامی مساوات کے اظہار کے لئے کرایا تھا۔ پھر اس رشتہ کی وجہ سے حضرت زینبؓ کو منافقین کی طرف سے آزاد کردہ غلام کی بیوی کا طعنہ سننا پڑا تھا اور اب طلاق ہو جانے کے بعد یہ بھی طعنہ سننا پڑ گیا کہ لو غلام نے بھی طلاق دے دی۔ اس لئے آپ ﷺ کو اس حادثہ سے بہت رنج ہوا۔ پھر حضرت زینبؓ پر بھی اس حادثہ کا کافی اثر تھا اس کی تلافی اور حضرت زینبؓ کی دلداری کی شکل صرف یہی تھی کہ آپ ﷺ حضرت زینبؓ سے نکاھ فرما لیں لیکن منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ اس نکاح کو ایک دوسرے فتنہ کا ذریعہ بنا دیں گے اور کہیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنے متبنیٰ کی مطلقہ سے شادی کر لی۔ جاہلیت کے رسم و رواج میں اس کی بالکل گنجائش نہیں تھی اس لئے فتنہ کا کافی اندیشہ تھا۔
ادھر طبیعت پر طلاق کے حادثہ کا اثر اور ادھر اس کی مناسب تلافی کی صورت میں فتنہ کا اندیشہ اس لئے طبیعت بہت پریشان تھی اور آپ ﷺ اپنی بات زبان پر لاتے ڈرتے تھے اسی پریشانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ میں فرمایا ہے۔
یعنی تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے اور تم لوگوں (منافقوں) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ مستحق ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرا جائے۔
اس آیت میں گویا اس بات کی اجازت بلکہ حکم تھا کہ حضرت زینبؓ سے نکاح کر لیا جائے۔
حضرت زینبؓ کی عدت ختم ہو چکی تھی اور اب یہ آیت بھی نازل ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ کے پاس اپنے نکاح کا پیغام لے کر حضرت زیدؓ ہی کو بھیجا جب حضرت زید نے جا کر حضرت زینبؓ کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچایا، تو حضرت زینبؓ نے کہا ما انا بصانعة شيئا حتى او امر ربى فقامت الى مسجدها کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اپنے اللہ سے استخارہ ضرور کروں گی یہ کہہ کر اپنے مصلے پر کھڑی ہو گئیں یعنی نماز شروع کر دی۔
ادھر حضرت زیدؓ نے آ کر آپ ﷺ کو حضرت زینبؓ کا جواب بتلایا ادھر یہ آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا (2) نازل ہو گئی۔ (ترجمہ: پس جب زید نے زینب سے اپنارشتہ منقطع کر لیا (اور عدت بھی گذر گئی) تو ہم نے ان کا نکاح تم سے کر دیا تا کہ اہل ایمان کے لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کوئی حرج اور تنگی باقی نہ رہے بشرطیکہ وہ لوگ اپنی بیویوں سے اپنا رشتہ ختم کر لیں۔
اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت زینب کا نکاح آسمان پر ہی ہوا دنیا میں نہیں اور آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا کے واضح اور متبادر معنی بھی یہی ہیں۔ علاوہ ازیں صحیح روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے زمین پر نکاح نہیں کیا۔ صحیح مسلم کی جو روایت ابھی ہم نے ذکر کی ہے اس میں بھی فقامت الى مسجدها کے بعد فنزل القرآن وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عليها بغير اذن (3) کے الفاظ ہیں۔
یعنی ان آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺ بلااجازت لئے حضرت زینبؓ کے پاس تشریف لے گئے علاوہ ازیں حضرت زینبؓ خود اس بات پر فخر کرتی تھیں کہ میرا نکاح میرے اللہ نے کیا جب کہ دیگر ازواج مطہرات کا نکاح ان کے اولیاء یا اہل خاندان نے کیا ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ ہیں وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: زَوَّجَكُنَّ أَهْلُوكُنَّ وَزَوَّجَنِي الله مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ (1) یعنی زینبؓ دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں بطور فخر کہا کرتی تھیں تمہارا نکاح تمہارے اہل خاندان نے کیا اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔
صحیح بخاری میں اس مذکورہ روایت کی بعد اس معنی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ صحیح بخاری کے علاوہ اس مضمون کی روایات حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینبؓ کا نکاح دنیا میں نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر ہی کر دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے ہی کافی سمجھا۔ (2)
لیکن سیرت ابن ہشام میں یہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے ان آیات کے نزول کے بعد حضرت زینبؓ سے نکاح کیا اور چار سو درہم مہر مقرر فرمایا۔ تہذیب سیرت ابن ہشام میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ وتزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش بن رئاب الاسديه زوجه اياها اخوها ابو احمد بن جحش واصدقها رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع مائة درهم (3) لیکن عام مفسرین اور محدثین کے نزدیک روایات کی کثرت اور اصحیت کی بنیاد پر پہلا قول ہی راجح ہے۔
مشہور مفسر ابن کثیرؒ آیت کریمہ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا کی تفسیر میں لکھتے ہیں وكان الذى ولى تَزْوِيجِهَا مِنْهُ هو الله عز وجل بمعنى انه اوحى اليه ان يدخل عليها بلا ولى ولا عقد ولا مهر ولا شهود من البشر. (4) جس کا حاصل یہی ہے کہ دنیا میں نہ نکاح ہوا نہ گواہی اور نہ مہر ہی متعین ہوا۔
اسی طرح علامہ شوکانیؒ نے بھی مذکورہ آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے۔ فَلَمَّا أَعْلَمَهُ اللَّهُ بِذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ، وَلَا عَقْدٍ، وَلَا تَقْدِيرِ صَدَاقٍ، وَلَا شَيْءٍ مِمَّا هُوَ مُعْتَبَرٌ فِي النِّكَاحِ فِي حَقِّ أُمَّتِهِ. وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِهِ: الْأَمْرُ لَهُ بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَبِهِ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ
اس کا حاصل بھی یہی ہے جو تفسیر ابن کثیر کی عبارت کا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح آسمان پر ہی کر دیا تھا جس کی وجہ سے دنیا میں ایجاب و قبول اور تعیین مہر اور دیگر متعلقات نکاح کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
اس کے بعد علامہ شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ دوسرا قول اس بارے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت زینبؓ سے نکاح کرنے کا حکم دیا لیکن اول قول راجح اور احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
حضرت زینبؓ کے نکاح کے سال کے بارے میں کئی قول ہیں لیکن زیادہ راجح قول یہ ہے کہ آپ کا نکاح ذیقعدہ ۴ھ میں ہوا۔
حضرت زینبؓ کے اس پورے واقعہ میں بہت سی دینی حکمتیں ہیں اس میں اسلامی مساوات کا بھی اظہار ہے کہ نکاح میں کفارہ کے معتبر ہونے کے باوجود اگر بعض دینی مصالح متقاضی ہوں تو ایک بڑے خاندان کی لڑکی کا نکاح ایک آزاد کردہ غلام سے بھی کرایا جا سکتا ہے پھر اس واقعہ سے متعلق آیات میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قطعی حکم کے بعد کسی صاحب ایمان مرد و عورت کو اپنے بارے میں اس حکم کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دینی کاموں کو عوام الناس کے شور و غوغا اور اعتراضات کی وجہ سے نہیں چھوڑا جا سکتا، جاہلی رسم و رواج کو ختم کرنے اور غلط عقائد کی اصلاح کے لئے یہ سب تو سننا اور برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔
دنیا میں ایجاب و قبول کے بجائے آسمان پر ہی نکاح کر دینے میں حضرت زینبؓ کو اعزاز بخشا ہے کہ ان کے نکاح کا متولی اللہ تعالیٰ ہے واقعہ حضرت زینبؓ کی قربانی کا یہی صلہ ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے امتثال امر میں بڑی قربانی دی ہے۔
ولیمہ
حضرت زینبؓ کے نکاح کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایسا شاندار لیمہ کیا کہ ایسا ولیمہ کسی بھی زوجہ مطہرہ کے نکاح کے بعد نہیں کیا گھا۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا، أَوْلَمَ بِشَاةٍ» (1) یعنی میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنی کسی بھی زوجہ مطہرہ کا اتنا شاندار ولیمہ کیا ہو جتنا حضرت زینبؓ کا ولیمہ کیا آپ ﷺ نے حضرت زینبؓ کے ولیمہ میں بکری ذبح کی تھی۔
پھر اس ولیمہ میں حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیم ؓ نے حیس (مالید یا اسی طرح کا کوئی کھانا) بھی بھیجا تھا۔
اس ولیمہ کے موقع پر آپ ﷺ نے حضرت انسؓ سے کچھ صحابہ کرامؓ کے نام لے کر فرمایا کہ جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ اور جو بھی تمہیں ملے اس کو بھی بلا لانا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے بتائے ہوئے صحابہ کرامؓ کو اور جو جو بھی مجھے ملے سب کو بلا لایا حضرت انسؓ کے شاگرد جعد نے پوچھا کہ کل کتنے لوگ ولیمہ میں آ گئے تھے حضرت انسؓ نے فرمایا کہ تقریباً تین سو ۳۰۰۔ کھانا ایک طشت میں کر دیا گیا اور حاضرین صحابہ کرامؓ کو آپ نے دس دس کی جماعت کر کے بلانا شروع کیا، لوگ آتے رہے اور کھا کر جاتے رہے یہاں تک کہ سب لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے۔ جب کھانے کے لئے کوئی نہیں بچا تو رسول اللہ ﷺ نے طشت اٹھانے کو فرمایا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں فیصلہ نہیں کر سکتا کہ لوگوں کے کھانے سے پہلے طشت میں کھانا زیادہ تھا یا فارغ ہونے کے بعد (1) اسی ولیمہ کی موقع پر آیت حجاب۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ
ترجمہ: اے ایمان والوں! نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے۔ نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ یہ باتیں نبی کے لئے باعث اذیت تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ازواج نبی سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ (2)
اس آیت کے نزول کی کچھ تفصیل مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ دعوت ولیمہ کے ختم ہو جانے کے بعد بھی بعض صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کے مکان میں جہاں حضرت زینبؓ بھی دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھیں اس طرح محو گفتگو تھے کہ ان کو اس کا خیال ہی نہیں رہا کہ اب ان کو یہاں سے اٹھ جانا چاہئے رسول اللہ ﷺ مروت اور حیاء کی وجہ سے کچھ کہہ تو نہ سکے لیکن ان کو اٹھانے کے لئے خود گھر سے باہر تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد جب واپس آئے تب بھی وہ لوگ بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ دوبارہ تشریف لے گئے کچھ دیر کے بعد جب تشریف لائے تو ان صحابہ کرامؓ کو توجہ ہو گئی اور وہ اٹھ کر چلے گئے۔ آپ ﷺ نے دروازہ پر پردہ لٹکا دیا۔ اس کے بعد ہی مذکورہ آیت حجاب نازل ہوئی۔
اس آیت مین چند احکامات ہیں اول یہ کہ بلا بلائے آپ کے گھروں میں نہ آئیں۔ دوم یہ کہ بلانے پر بھی قبل از وقت آ کر نہ بیٹھ جائیں اور نہ کھانے کے بعد بیٹھ کر گفتگو میں مشغول ہوں سوم یہ کہ ازواج مطہرات سے بھی کوئی چیز مانگنی ہو تو پردہ کے پیچھے سے ہی مانگیں۔ اس آیت کے بعد کی آیتیں بھی رسول اللہ ﷺ اور ازواج مطہرات ہی سے متعلق احکامات کی ہیں۔
فضائل
ام المومنین حضرت زینبؓ کے بےشمار فضائل ہیں۔ ان کا نکاح اللہ تعالیٰ نے خود کیا جس پر وہ دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں فخر و مباہات فرماتی تھیں۔ وہ خاندانی رشتہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں قریب ترین تھیں۔ سورہ احزاب کی متعدد آیتوں کے نزول کا تعلق ان کی ذات سے ہے۔
بہت متقی پرہیز گار ااور اللہ سے ڈرنے والی اور اللہ کی راستہ میں مال خرچ کرنے والی تھیں۔ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ زینبؓ بہت صالحہ، کثرت سے روزہ رکھنے والی اور شب بیداسر تھیں۔ (1)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی بہت مداح ہیں صحیح مسلم کی ایک روایت میں ان کا بیان پڑھئے۔
قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ. وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ تَعَالَى، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا، تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ. (2)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ تمام ازواج مطہرات میں صرف حضرت زینبؓ ہی بارگاہ نبوی میں میرے ہم پلہ تھیں اور میں نے زینب سے زیادہ دیندار، متقی و پرہیزگار، سچ بولنے والی صلہ رحمی کرنے والی، صدقہ کرنے والی اور اپنی جان کو نیکی اور تقرب الی اللہ کے کاموں میں زیادہ کھپانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔ ہاں مزاج میں ذرا سی تیزی تھی جس پر وہ جلد ہی قابو پا لیتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ کے ان بلند کلمات کی وقعت اور عظمت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ بھی معلوم ہو جائے کہ یہ کلمات ایک ایسی طویل حدیث میں ہیں جس مین حضرت عائشہؓ یہ ذکر کر رہی ہیں کہ حضرت زینبؓ ازواج مطہرات کی نمائندہ بن کر رسول اللہ ﷺ سے میری کچھ شکایات کرنے کے لئے آئی تھی۔ انہیں حضرت عائشہؓ کا قول حافظ شمس الدین ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں نقل کیا ہے فرماتی ہیں۔
يرحم الله زينب لقد نالت فى الدنيا الشرف الذى لا يبلغه الشرف. ان الله زوجها ونطق به القران وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا اسرعكن لحوقا اطولكن باعا فبشرها بسرعة لحوقها به وهى زوجته فى الجنة. (3)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ زینب پر رحم فرمائے انہوں نے دنیا ہی مین وہ شرف و کمال حاصل کر لیا جس کا مقابلہ کوئی شرف و کمال نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ نے خود ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے فرمایا اور قرآن مجید میں اس کا ذکر بھی فرمایا۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ خوشخبری دی کہ ازواج مطہرات میں میری وفات کے بعد سب سے پہلے میرے پاس آنے والی میری وہ بیوی ہوں گی جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی (یعنی کار خیر میں بہت خرچ کرنے والی) ہوں گی اور وہ جنت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہیں۔
حضرت زینبؓ اگرچہ کوتاہ قامت تھیں اور اسی حساب سے ان کے ہاتھ بھی دیگر ازواج مطہرات کے مقابلہ میں چھوٹ ہی ہوں گے لیکن چونکہ بہت فیاض اور سخی تھیں اور عربی میں اطولكن يدًا یا اطولكن باعًا بطور مجاز سخی و فیاض کے معنی میں بولا جاتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے ان کے لئے اطولكن باعًا یا اطولكن يدًا کے الفاظ استعمال فرمائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ہم ازواج النبی ﷺ اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں اور آپ ﷺ کے فرمان اطولكن باعًا کا ظاہری مطلب ہی لیتی تھیں لیکن جب آپ کی وفات کے بعد حضرت زینبؓ ہم سب سے پہلے آپ ﷺ سے جا ملیں تو پتہ چلا کہ آپ ﷺ کے فرمان اطولكن باعًا کا مطلب سب سے زیادہ سخی اور فیاض ہے۔ اور واقعی زینبؓ ہم سب میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھیں۔
حضرت عائشہؓ یہ بھی فرماتی ہیں كانت زينب صناع اليدين فكانت تدبغ وتحرز وتتصدق به فى سبيل الله. (1)
یعنی زینبؓ اپنے ہاتھ سے کمائی کرتی تھیں وہ چمڑے کی دباغت کرتی اور چمڑے کا سامان بناتی اور اس سے حاصل شدہ مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتی تھیں۔
ان کی شان استغناء کا ایک واقعہ ابن سعد نے طبقات میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔
عَنْ بَرْزَةَ بِنْتِ رَافِعٍ، قَالَتْ: أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى زَيْنَبَ بِعَطَائِهَا فَقَالَتْ: غَفَرَ اللَّهُ لِعُمَرَ غَيْرِي كَانَ أَقْوَى عَلَى قَسْمِ هَذَا قَالُوا: هَذَا كُلُّهُ لَكِ، قَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاسْتَتَرَتْ مِنْهُ بِثَوْبٍ وَقَالَتْ: صُبُّوهُ وَاطْرَحُوا عَلَيْهِ ثَوْبها واخذت تفرقه فى رحمها وايتامها واعطتنى ما بقى فَوَجَدْنَا تَحْتَهُ خَمْسَةً وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا، ثُمَّ رَفَعَتْ يَدَيْهَا فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكُنِي عَطَاءٌ عُمَرَ بَعْدَ عَامِي هَذَا. (2)
ترجمہ: حضرت زینبؓ کی خادمہ برزہ بنت رافع کہتی ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت زینبؓ کی خدمت میں ایک گرانقدر عطیہ بطور وظیفہ بھیجا۔ حضرت زینبؓ نے اسے دیکھ کر کہا اللہ عمرؓ کی مغفرت فرمائے کہ اس مال کو تو میرے علاوہ کوئی اور شخص زیادہ اچھا تقسیم کرتا لانے والوں نے کہا کہ یہ برائے تقسیم نہیں بھیجا ہے یہ سب آپ کا ہے یہ سن کر حضرت زینبؓ نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اسے یہیں ڈال دو اور اس پر کپڑا ڈھک دو۔ اس کے بعد آپ نے اسے اپنے عزیزوں اور یتیموں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ تقسیم کے بعد جو بچ رہا وہ مجھے عنایت فرما دیا میں نے اسے گنا تو وہ پچاسی درہم تھے پھر حضرت زینبؓ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی اے اللہ اس سال کے بعد میرے پاس عمرؓ کا عطیہ نہ آئے۔
پھر ہوا بھی یہی حضرت زینبؓ آئندہ سال آنے سے پہلے ہی وفات پا گئیں۔ حضرت عمرؓ کو جب معلوم ہوا کہ حضرت زینبؓ نے سب مال تقسیم کر دیا ہے تو خود ان کے گھر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں مزید رقم بھیجوں گا اور ایک ہزار درہم پھر بھیجے۔ حضرت زینبؓ نے وہ بھی تقسیم کر دئیے۔
جیسا کہ ابھی گزرا کہ حضرت زینبؓ ازواج مطہرات کی نمائندہ بن کر حضرت عائشہؓ کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے بات کرنے گئی تھیں اور صحیح مسلم کی اسی روایت میں یہ بھی ذخر ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت عائشہؓ کے خلاف خوب کھل کر بات کی تھی۔ لیکن تقویٰ و راست گوئی کا یہ حال تھا کہ جب واقعہ افک کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ سے حضرت عائشہؓ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے صاف کہہ دیا والله ما علمت الا خيرا والله میں ان کے بارے میں صرف اچھی رائے ہی رکھتی ہوں۔ حالانکہ فتنہ افک میں ان کی حقیقی بہن حضرت حمنہؓ مبتلا ہو گئی تھیں۔
ان کی نیکی، دینداری اور متقی و پرہیز گار ہونے کی شہادت تو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک نے بھی دی تھی۔ ام المومنین حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مال فئی کو صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت میں تقسیم فرما رہے تھے حضرت زینبؓ نے اس سلسلہ میں آپ کو کچھ مشورہ دے دیا جو حضرت عمرؓ کو ناگوار گزرا اور حضرت عمرؓ نے ان کے دخل دینے پر اپنی ناگواری کا اظہار بھی کرنا چاہا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو خاموش کر دیا اور فرمایا زینب کو کچھ نہ کہو اس لئے کہ وہ اوٰھہ ہیں۔ کسی صحابی نے اوٰھہ کا مطلب دریافت کیا تو فرمایا کہ اواھہ کے معنی ہیں خشوع و خضوع کرنے والی اور آپ نے آیت کریمہ ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب بھی پڑھی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حلیم (بردبار) اواہ (خشوع و خضوع کرنے والے) اور منیب (اللہ کی طرف توجہ کرنے والے) فرمایا ہے۔
آپ اگرچہ کثیر الروایت نہیں ہیں پھر بھی آپ کی روایت کردہ احادیث صحاح ستہ وغیرہ حدیث کی مشہور کتابوں میں ہیں۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن جحش۔ ام حبیبہ نبت ابی سفیان، زینب بنت ابی سلمہ وغیرہ صحابہ و تابعین ہیں۔
وفات
ام المومنین حضرت زینب ؓ کی وفات ۲۰ یا ۲۱ ہجری میں ہوئی آپ رسول اللہ ﷺ کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے وفات پانے والی زوجہ مطہرہ ہیں۔ وفات سے پہلے اپنا کفن تیار کر کے رکھ لیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر حضرت عمر بھی کفن بھیجیں تو ایک کو تو استعمال کر لیا جائے اور دوسرے کو صدقہ کر دیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کی بہن حضرت حمنہؓ بنت جحش نے حضرت عمرؓ کا کفن تو استعمال کرا دیا اور حضرت زینبؓ کا تیار کردہ کفن صدقہ کر دیا۔ ان کی وفات پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا ذھبت حمیدہ سعیدہ مفزع الیتامیٰ والارامل۔
ایک ستودہ صفات، نیک بخت اور یتیموں اور بیواؤں کی سہارا عورت دنیاسے رخصت ہو گئیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور محمد بن عبداللہ بن جحش، حضرت عبداللہ بن ابی احمد بن جحش اور حضرت اسامہ بن زید ؓ نے قبر میں اتارا قبر مبارک جنت البقیع میں ہے۔ ؓ وارضاھا۔
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ الہلالیہ ؓ
ازواج مطہرات میں حضرت زینب بنت جحش کے علاوہ زینب نام کی آپ کی ایک اور زوجہ مطہرہ بھی تھیں۔ ان کا پورا نام زینب بنت خزیمہ الہلالیہ ہے۔ باپ کا نام خزیمہ ہے ان کے سلسلہ نسب میں ایک شخص ہلال نامی تھے جس کی وجہ سے ان کو زینب بنت خزیمہ الہلالیہ کہا جاتا ہے۔ والدہ کا نام ہند بنت عوف یا خولہ بنت عوف ہے جن کا تعلق قبیلہ حمیر سے ہے۔ ان ہی ہند کی بیٹی ام المومنین حضرت میمونہ ؓ ہیں۔ حضرت زینب بنت خزیمہ کی وفات کے کئی سال بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمایا ان دونوں کی ماں ایک ہیں لیکن والد الگ الگ ہیں۔
حضرت زینب بنت خزیمہ کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش ؓ سے ہوا تھا۔ (1) حضرت عبداللہ بن جحش غزوہ احد شوال ۳ھ میں شہید ہو گئے تھے ان کی شہادت کے کچھ ہی دنوں کے بعد حضرت زینبؓ کے یہاں ناتمام بچہ پیدا ہوا جس سے ان کی عدت ختم ہو گئی اور ذی الحجہ ۳ ھ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت خزیمہؓ سے نکاح کر لیا، ابھی نکاح کو صرف تین مہینے ہی گزرے تھے کہ ام المومنین حضر زینب بنت خزیمہ ؓ کا انتقال ہو گیا۔ انا لله وانا اليه راجعون۔
ان کے نکاح اور وفات کے بارے میں ایک قول یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ نکاح تو رمضان ۳ھ میں ہوا اور وفات ربیع الاول ۴ھ یا ربیع الآخر ۴ھ میں نکاح سے ۷ یا ۸ مہینے کے بعد ہوئی لیکن اول قول راجح بتلایا جاتا ہے۔
ازواج مطہرات میں صرف ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ ہی کی وفات رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہوئی ہے دیگر تمام ازواج مطہرات آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی باحیات رہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ طیبہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن فرمایا۔ وفات کے وقت ان کی عمر صرف تیس سال تھی۔ (2)
فضائل
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ بہت زیادہ سخی تھیں۔ غریبوں کی غمخواری کرتیں اور مسکینوں کو کھانا کھلاتی تھیں۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے سے پہلے ہی ام المساکین کے لقب سے مشہور تھیں۔
اپنی ذاتی خوبیوں کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف، پھر آپ ہی کے سامنےوفات پانا اور آپ کا خود نماز جنازہ پڑھانا اور اپنی نگرانی میں جنت البقیع میں دفن کرنا یہ بھی بڑی خوبی اور فضیلت کی بات ہے۔
ام المومنین حضرت جویریہ ؓ
۵ھ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کی قبیلہ بنی مصطلق کا سردار حارث ابن ابی ضرار اہل مکہ کے اکسانے پر یا خود ہی مدینہ طیبہ پر حملہ کرنے اور العیاذ باللہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے اپنے قرب و جوار کے دیگر مشرک قبائل کو بھی جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ (1)
یہ قبیلہ بنی مصطلق قبیلہ خزاعہ کی شاخ تھا اور مکہ معظمہ سے کچھ دور مریسیع (2) نام کے چشمہ یا تالاب کے کنارے آباد تھا۔ قرب و جوار کے بہت سے قبائل اسلام دشمنی کی وجہ سے اس ارادہ میں اس قبیلہ کے لوگوں کے سامنے تھے اور ان لوگوں کو مشرکین مکہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔
جب رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کے اس ارادہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے پیش قدمی کر کے خود بنی مصطلق پر حملہ کرنے کا ارادہ فرما ہی لیا اور شعبان ۵ ھ میں تقریبا ایک ہزار صحابہ کرامؓ کی جمیعت کو ساتھ لے کر اچانک قبیلہ بنی مصطلق پر حملہ کر دیا ان لوگوں کو ابھی تک اس کا علم نہ ہو سکا تھا اور وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول تھے کہ مسلمانوں کا یہ لشکر وہاں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے فرمایا کہ ان لوگوں سے کہو کہ لا الٰہ الا اللہ کے قائل ہو جائیں یعنی اسلام قبول کر لیں جس سے ان کی جان و مال سب محفوظ ہو جائے گا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بآواز بلند رسول اللہ ﷺ کا یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا لیکن انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے یکبارگی حملہ کر دیا۔ قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ مقابلہ نہ کر سکے، ان کے انصار و اعوان قبائل تو پہلے ہی راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔ بنی مصطلق نے بھی اب ہتھیار ڈال دئیے صحابہ کرامؓ نے پورے قبیلہ کے لوگوں کو قیدی بنا لیا جن کی تعداد تقریباً ۷۰۰ سو تھی اس جنگ میں بنی مصطلق کے دس ۱۰ مشرک مارے گئے تھے اور صرف ایک صحابیؓ شہید ہوئے تھے۔
بنی مصطلق کے قیدیوں میں قبیلہ کے سردار ابن ابی ضرار کی بیٹی جویریہؓ بھی تھیں۔ حارث خود تو کسی طرح بچ گئے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھ نہیں آئے تھے لیکن جویریہؓ کا شوہر مسافع بن صفوان مارا گیا تھا ان قیدیوں کو دیگر مال غنیمت کے ساتھ صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دیا گیا۔ حضرت جویریہؓ حضرت ثابت بن قیسؓ کے حصہ میں آئیں۔ انہوں نے حضرت ثابت بن قیس ؓ سے کہا کہ اگر آپ مجھے رقم لے کر آزاد کرنے پر تیار ہوں تو میں رقم کا انتظام کر لوں۔حضرت ثابت نے اسے منظور کر لیا۔ شرعی اصطلاح میں اس طرح کے معاملہ یا عقد کو کتابت کہتے ہیں اور جو رقم آزادی کے بدلہ میں دینا طے ہوتی ہے اسے بدل کتابت کہا جاتا ہے۔ حضرت جویریہؓ اور حضرت ثابت بن قیسؓ کے درمیان بدل کتابت ۹ اوقیہ سونا طے پایا تھا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے ایک درہم تین ماشہ سے کچھ زائد ہوتا ہے۔
حضرت جویریہؓ خود باندی اور ان کے قبیلہ کے لوگ بھی سب غلام باندی ہی تھے۔
بدل کتابت کا انتظام ان کے بس کی بات نہ تھی لیکن رئیس زادی تھیں، ہمت اور عقل سے کام لیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں، میں مسلمان ہو گئی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور میں جس مصیبت میں گرفتار ہوں آپ سے مخفی نہیں ہے۔ غلاموں اور باندیوں کی تقسیم میں، میں ثابت بن قیسؓ کے حصہ میں آ گئی ہوں انہوں نے مجھ سے معاملہ کتابت کر لیا ہے لیکن بدل کتابت میرے پاس نہیں ہے۔ آپ سے مدد کی طالب ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی درخواست سن کر فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں انہوں نے عرض کیا کہ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم منظور کر لو تو میں تم کو ثابت بن قیسؓ سے خرید کر آزاد کر دوں اور پھر تم مجھ سے نکاح کر لو۔ حضرت جویریہؓ نے اسے بخوشی منظور کر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو خرید کر آزاد فرما دیا اور ان سے نکاح فرما لیا اور چار ہزار درہم مہر مقرر فرمایا۔ (1)
اس غزوہ سے تین دن پہلے حضرت جویریہؓ نے اپنے گھر پر ہی خواب دیکھا تھا کہ مدینہ سے چاند چلا اور میری گود میں آ گیا۔ میں نے اپنے گھر کے لوگوں سے اس کا تذکرہ مناسب نہ سمجھا لیکن جب یہ غزوہ ہوا اور میں قید کر کے مدینہ لائی گئی تو مجھے اپنے خواب کی تعبیر کی کچھ امید نظر آئی۔ (2)
جب صحابہ کرامؓ کے علم میں یہ بات آئی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جویریہؓ سے نکاح کر لیا ہے اور اب ان کے یہ غلام اور باندی جن کا تعلق قبیلہ بنی مصطلق سے ہے رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ دار ہو گئے ہیں لہذا اب ان لوگوں کو غلام اور باندی بنائے رکھنا مناسب نہیں ہے تو صحابہ کرامؓ نے اپنے ان غلاموں اور باندیوں کو آزاد کر دیا۔ (3) جن کی تعداد تقریباً سات سو تھی، پھر بعد میں یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔ اسی موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا تھا۔ ما اعلم امرۃً اعظم برکۃ منھا علی قومھا۔ یعنی میرے علم میں کوئی عروت ایسی نہیں ہے جو جویریہؓ سے زیادہ اپنی قوم کے لئے باعث خیر و برکت ہو۔
جب یہ سب کچھ ہو چکا تو حضرت جویریہؓ کے والد حارث بن ابی ضرار اپنی بیٹی کو چھڑانے کے لئے بہت سا مال و دولت بطور فدیہ لے کر آئے ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے اس مال و دولت مین بڑی تعداد میں اونٹ بھی تھے۔ اثنائے سفر میں حارث بن ابی ضرار کو دو اونٹ بہت اچھے محسوس ہوئے اور انہوں نے ان دونوں اونٹوں کو راستہ ہی میں کسی وادی میں چھپا دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور اپنی آمد کا مقصد ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ جویریہ موجود ہیں جانا چاہیں تو لے جاؤ۔
باپ نے بیٹی سے کہا کہ محمد (ﷺ) نے تمہیں میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔ چلو گھر چلو، حضرت جویریہؓ نے فرمایا اخترت اللہ ورسولہ میں نے تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو اختیار کر لیا ہے باپ نے ہر چند سمجھایا اپنی عزت کا واسطہ بھی دیا لیکن حویریہؓ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہیں ہوئیں۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے حارث بن ابی ضرار سے ان دو اونٹوں کا بھی ذخر فرمایا جو حارث بن ابی ضرار راستہ میں چھپا آئے تھے اور ان اونٹوں کا ذخر سن کر حارث بولے ان اونٹوں کی خبر تو میرے اور اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ (1) ان کے ساتھ دو بیٹے بھی مسلمان ہو گئے۔
اس طرح پورا قبیلہ بنی مصطلق اسلام لے آیا۔ یہ سب حضرت جویریہؓ کے نکاح کی برکت ہے۔ دینی نقطہ نظر کے علاوہ سیاسی اور دفاعی نقطہ نظر سے بھی قبیلہ بنی مصطلق کا ایمان لانا بڑا اہم واقعہ تھا اس لئے کہ یہ قبیلہ مدینہ طیبہ کے مقابلہ میں مکہ معظمہ کے زیادہ قریب تھا اور اہل مکہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے۔
فضائل
ام المومنین حضرت جویریہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے متعدد روایات نقل کی ہین اور ان سے حضرت ابن عباسؓ ِ، حضرت جابرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ صحابہ کرامؓ نے روایات لی ہیں۔
ام المومنین حضرت جویریہ ؓ بڑی ذاکر و شاغل تھیں۔ نما زکے بعد بعض اوقات گھنٹوں مصلے پر بیٹھ کر ذکر خداوندی میں مشغور رہتی تھیں ان کے اس طرح طویل ذکر الٰہی کا ایک واقعہ امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ نے حضرت جویریہؓ ہی کی روایت سے نقل کیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔
عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى، وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ. (2)
ترجمہ: ام المومنین حضرت جویریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نماز فجر پڑھنے کے بعد ان کے پاس سے باہر نکلے وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھیں پھر آپ کچھ دیر کے بعد جب چاشت کا وقت آ چکا تھا واپس تشریف لائے حضرت جویریہؓ اسی طرھ بیٹھی اپنے وظیفہ میں مشغول تھیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا میں جب سے تمہارے پاس سے گیا تھا کیا تم اس وقت سے برابر اسی حال میں اور اسی طرح پڑھ رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
اس ھدیث میں ابھی اور بھی کچھ باقی ہے لیکن ہمیں صرف اتنا ہی ذکر کرنا جس سے حضرت جویریہؓ کے کثرت سے ذکر اور وظیفہ میں مشغولیت کا پتہ چلتا ہے۔ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت ترمذی میں بھی ہے۔
ان کے نفلی روزے رکھنے کا ذکر بھی حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے۔ ایک دفعہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے معلوم ہوا کہ وہ نفلی روزہ رکھے ہوئے ہیں آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا، عرض کیا نہیں، پھر دریافت کیا کہ کیا کل رکھو گی؟ عرض کیا نہیں۔ اس کے بعد آپ نے ان کو تنہا جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا تنہا جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مختلف فیہ ہے۔ تفصیل حدیث و فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
ام المومنین حضرت جویریہؓ کے فضائل میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی ذات ہی قبیلہ بنی مصطلق کے لوگوں کی آزادی کا اور ایمان لانے کا ذریعہ بنی۔
وفات
ام المومنین حضرت جویریہ ؓ نے ربیع الاول ۵۰ھ میں وفات پائی۔ مروان بن الحکم نے جو مدینہ کے حاکم تھے اور تابعی ہیں نماز جنازہ پڑھائی۔ اور مدینہ طیبہ کی قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ
مشہور صحابی حضرت ابو سفیان بن حزب ؓ کی صاحبزادی اور امیر المومنین حضرت معاویہ ؓ کی بہن ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کا نام رملہ تھا۔ ان کی ایک بیٹی حبیبہ کی وجہ سے ان کی کنیت ام حبیبہ تھی۔ ان کی والدہ صفیہ بنت ابو العاص حضرت عثمان ؓ کی پھوپھی تھیں۔ حضرت ابو سفیان ؓ اگرچہ بہت دیر سے ایمان لائے لیکن حضرت ام حبیبہ ؓ اور ان کے پہلے شوہر عبیداللہ بن جحش اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسلام لا چکے تھے اور اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔
عبیداللہ بن جحش حبشہ جا کر نصرانی ہو گیا اور اس حالت ارتداد میں اسے موت آئی۔ اس نے حضرت ام حبیبہؓ کو اسلام ترک کرنے اور نصرانیت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ لیکن حضرت ام حبیبہؓ اس نازک وقت میں ثابت قدم رہیں اور ان کی خوش نصیبی کہ عبیدہ بن جحش کے انتقال اور ان کی عدت کے گذرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ کو اپنے نکاح کا پیغام دے کر حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس، جو خود مسلمان ہو چکے تھے بھیجا اور اپنے نکاح کا وکیل بھی نجاشی کو بنایا۔ بادشاہ نجاشی نے اپنی ایک باندی کو حضرت ام حبیبہؓ کے پاس یہ پیغام لے کر بھیجا کہ بادشاہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گرامی نامہ ان کے نام آیا ہے جس میں یہ تحریر ہے کہ وہ ام حبیبہ کو ہمارے نکاح کا پیغام دین اور اگر وہ منظور کر لیں تو آپ ہی ہمارا نکاح کر دیں۔ حضرت ام حبیبہؓ نے جب یہ خوشخبری سنی تو اس باندی کو جو یہ پیغام مسرت لے کر آئی تھی چاندی کے دو کنگن، کئی انگوٹھیاں اور دو اور زیور انعام میں دئیے۔ اور اپنے ایک قریبی عزیز خالد بن سعید بن العاص ؓ کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کر دیا۔ (1)
حضرت ام حبیبہ کی منظوری مل جانے پر دوسرے دن بادشاہ نجاشی نے حبشہ میں موجود صحابہ کرامؓ کو جن میں رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ بھی تھے، اپنے محل میں بلایا اور خود خطبہ نکاح پڑھا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایجاب نکاح کیا۔ حضرت خالد بن سعیدؓ نے حضرت ام حبیبہ ؓ کی طرف سے نکاح قبول کیا۔ نجاشی نے ۴۰۰ دنار مہر مقرر کیا اور خود ہی مہر کی یہ رقم ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کی خدمت میں بھیجی۔ مہر کی رقم میں سے پچاس دینار ام المومنین نے اس باندی کو جو نکاح کا پیغام لے کر آئی تھی دئیے، اس باندی نے وہ واپس کر دئیے اور وہ زیورات بھی واپس کر دئیے جو کل ام المومنین نے دئیے تھے اور کہا، بادشاہ سلامت کا یہی حکم ہے۔ نکاح کے بعد بادشاہ نے ام المومنین کی خدمت میں بہت سے ہدایا اور خوشبوئیں بھیجیں۔
مجلس نکاح کے اختتام پر جب صحابہ کرامؓ اٹھنے لگے تو نجاشی نے کہا کہ بیٹھ جائیے سب لوگ کھانا کھا کر جائیں گے اور یہ بھی کہا کہ نکاح کے موقع پر کھانا کھلانا انبیاء علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔ (2) مشہور قول کے مطابق یہ نکاح ۶ھ میں ہوا ہے۔ جب حضرت ابو سفیان کو جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اس نکاح کی اطلاع مکہ میں ملی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا اعتراف کیا اور آپ کی شان میں بہت بلند کلمات کہے۔ (3)
ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے نکاح کے سلسلے میں صحیح مسلم کی ایک طویل روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو سفیانؓ نے ایمان لانے کے بعد مدینہ طیبہ میں آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ میری بیٹی ام حبیبہؓ سے شادی کر لیں اورآپ نے ان کی یہ درخواست قبول بھی فرما لی۔ (4)
محدثین نے روایت کے اس حصہ کی مختلف توجیہات کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ روایت کا یہ حصہ جس میں حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح حضرت ابو سفیانؓ کے اسلام لانے اور مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد ہونا معلوم ہوتا ہے صحیح نہیں ہے۔
بہرحال یہ نکاح حبشہ ہی میں ہوا ہے اور حضرت ابو سفیان ؓ کے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے۔کہ صلح حدیبیہ کے بعد ابو سفیان اہل مکہ کے نمائندہ بن کر صلح ہی سے متعلق بعض معاملات کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور اپنی بیٹی ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے گھر ان سے ملنے کے لئے گئے وہ جب اند گھر میں پہنچے تو ام المومنین نے رسول اللہ ﷺ کا بستر جو بچھا ہوا تھا لپیٹ دیا۔ حضرت ابو سفیانؓ نے کہا کہ یہ تم نے کیا کیا، آیا یہ بستر میرے لائق نہیں ہے یا میں بستر کے قابل نہیں ہوں۔ ام المومنین نے کہا، ابا جان آپ مشرک ہیں اور یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے، اس لئے آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔ (1)
فضائل
ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری حسن و جمال کے ساتھ باطنی کمالات سے بھی نوازا تھا۔ وہ اولین ایمان لانے والوں میں ہیں۔ حالانکہ ان کے والد ابو سفیان ؓ جو سرداران قریش میں سے تھے بہت دیر میں فتح مکہ کے قریب ایمان لائے تھے گھر کے دوسرے افراد بھی دیر ہی سے مسلمان ہوئے، ایسے حالات میں ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا اسلام کے ابتدائی عہد ہی میں مشرف اسلام ہو جانا اور اپنے گھر کے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنا اور اسلام کی خاطر مکہ معظمہ سے حبشہ کو ہجرت کر جانا، پھر جب ان کا پہلا شوہر حبشہ میں مرتد ہو گیا اور ان کو بھی اسلام کو ترک کرنے اور نصرانیت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی تو ان کا اپنے ایمان کو بچائے رکھنا اور دین اسلام پر ثابت قدم رہنا بڑی ہمت اور اولو العزمی کی بات تھی، جب کہ پردیس میں صرف وہی شوہر ظاہری سہارا تھا۔اسی طرح حضرت ابو سفیانؓ کے آنے پر رسول اللہ ﷺ کے بستر کو لپیٹ دینا اور ان کے سوال کرنے پر یہ کہنا کہ ابا جان یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے اور آپ مشرک ہیں آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں، رسول اللہ ﷺ سے ان کی غیر معمولی محبت و عقیدت اور ان کے دل میں آپ کی بےپناہ عظمت و شوکت اور خود ان کی اعلیٰ درجہ کی قوت ایمانی کا پتہ دیتا ہے۔
وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے کا بڑا اہتمام کرتی تھیں ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کہتی ہیں کہ:
دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. (2)
روایت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت زینب بن ابی سلمہ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے والد حضرت ابو سفیانؓ کی وفات پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور بظاہر ابو سفیان ؓ کی وفات کو تین دن گذر چکے تھے) حضرت ام حبیبہ ؓ نے ایک خوشبو جو زعفران وغیرہ سے بنائی جاتی ہے اور جس میں سرخ اور پیلا رنگ ہوتا ہے منگائی اور ایک بچی کے لگائی اور پھر اپنے رخساروں پر بھی لگا لی اور فرمایا مجھے خوشبو استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی صاحب ایمان عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ البتہ شوہر پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لئے اپنے رخساروں پر یہ خوشبو لگا لی ہے۔ (تا کہ یہ اظہار ہو جائے کہ میں اپنے والد حضرت ابو سفیان ؓ کا تین دن سے زیادہ سوگ نہیں منا رہی ہوں۔)
انہی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد حدیث کی متعدد کتابوں میں نقل کیا ہے۔ کہ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ. (1) حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن رات میں یہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تیار کر دے گا۔ چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔ مسند احمد میں اسی روایت کے بعد یہ بھی اضافہ ہے فما برحت اصليهن بعد یعنی جب سے میں نے آپ کا یہ ارشاد سنا ہے کبھی ان رکعتوں کا ناغہ نہیں کیا ہمیشہ یہ رکعتیں پابندی سے پڑھتی ہوں۔ حدیث کی کتابوں میں ان کے متعلق اتباع سنت کے اہتمام کے اور بھی واقعات مذکور ہیں۔ آخرت کے حساب و کتاب سے بہت ڈرتیں اور صفائی معاملات کا بہت خیال کرتی تھیَں۔ ابن سعد نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کا قول نقل کیا ہے قالت دعتنى ام حبيبه عند موتها فقالت قد كان يكون بينا ما يكون بين الضرائر فحللينى من ذالك فحللتها واستغفرت لى استغفرت لها فقالت لى سررتنى سرك الله وارسلت الى ام سلمه مثلا ذالك (2) روایت کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ ؓ نے اپنی وفات کے وقت مجھے بلایا اور فرمایا ہم لوگوں میں کبھی کبھی بعض ایسے واقعات پیش آئے ہوں گے جو سوتنوں مین پیش آ جاتے ہیں، میں تم سے ان کی معافی مانگتی ہوں۔ مین نے معاف کر دیا۔ تو انہوں نے میرے واسطے دعائے مغفرت کی اور میں نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اسی طرح انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے بھی اپنی کوتاہیوں کی معافی تلافی کی۔
رسول اللہ ﷺ سے براہ راست اور بالواسطہ متعدد روایات نقل کی ہیں جو حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ وغیرہ میں موجود ہیں، ان سے روایات نقل کرنے والوں میں ان کے بھائی معاویہؓ بیٹی حبیبہؓ اور بعض دیگر صحابہ و تابعینؒ ہیں۔
وفات
امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے زمانہ خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔ سن وفات کے بارے میں کئی قول ہیں۔ لیک راجح قول ۴۲ھ ہے۔ اور مدینہ طیبہ میں دفن کی گئیں۔ ؓ وارضاھا۔
ام المومنین حضرت صفیہ ؓ
ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کا باپ حیی ابن اخطب قبیلہ بنی نضیر کا سردار تھا اس کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ماں کا نام ضرہ ہے یہ قبیلہ بنی قریظہ کے سردار کی بیٹی تھیں۔ (1)
بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ کے ممتاز یہودی قبیلے گے، ان قبیلوں کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعدآپ سے یہ عہد کیا تھا کہ ہم آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے۔ (2)لیکن دونوں قبیلون کے لوگوں نے عہد شکنی کی۔ قبیلہ بنی نضیر نے مشرکین مکہ کے کہنے پر رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دے دی۔ (3) اور آپ نے ان کی بدعہدی کی وجہ سے غزوہ بدر کے چھ مہینے کے بعد ان کے قلعہ کا محاصرہ فرمایا۔ (4) ان لوگوں نے مجبور ہو کر صلح کی درخواست کی آپ نے ان کی درخواست منظور فرما لی اور یہ طے پایا کہ وہ اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جا سکتے ہوں لے جائیں۔ البتہ اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ (5) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور خیبر میں جا کر بس گئے جہاں یہود کی بڑی بڑی بستیاں تھیں۔ حضرت صفیہ کے والدین بھی اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ خبیر چلے گئے تھے اس وقت حضرت صفیہؓ بہت کم دمر تھیں وہاں خیبر میں ان کی پہلی شادی سلام بن مشکم سے ہوئی تھی اس نے طلاق دے دی تھی پھر کنانہ بن ابی حقیق سے نکاح ہوا وہ غزوہ خیبر میں مارا گیا اور حضرت صفیہ ؓ ۷ھ میں خیبر کے قیدیوں کے ساتھ قید ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں۔ مشہور صحابی حضرت دحیہ کلبی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے خیبر کے قیدیوں میں سے ایک باندی مانگی آپ نے فرمایا انتخاب کر کے لے لو، انہوں نے حضرت صفیہ ؓ کا انتخاب کر لیا۔ ایک صحابی نے آ کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول! (ﷺ) آپ نے حضرت دحیہ کو بنو نضیر اور بنو قریظہ کی رئیس زادی دے دی ہے۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لئے مناسب ہے، آپ نے حضرت دحیہ کو دوسری باندی دی اور حضرت صفیہؓ کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا۔ (6) آزاد کرنے کے بعد آپ ﷺ نے حضرت صفیہ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ اپنے وطن چلی جائیں یا مسلمان ہو کر آپ ﷺ سے نکاح کر لیں۔ حضرت صفیہؓ نے عرض کیا اختار الله ورسوله لقد كنت اتمنى ذالك فى الشرك یعنی میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔ اب تو الحمدللہ، اللہ نے ایمان کی دولت سے نواز دیا میری تو اسلام سے پہلے بھی یہی خواہش تھی۔ (1) نکاح کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ایک خواب کا واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتلایا کہ یا رسول اللہ(ﷺ) جب آپ اور صحابہ کرامؓ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اسی زمانہ میں ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ چاند میری گود میں آ کر گرا ہے۔ میں نے اپنے شوہر کو یہ خواب سنایا تو اس نے میرے چہرے پر اتنی زور سے طمانچہ مارا کہ چہرہ پر اس کا نشان پڑ گیا اور کہا کہ تو بادشاہ عرب کو اپنا شوہر بنانے کی خواہش کرتی ہے۔ (2)
رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے واپسی پر راستے میں مقام سد الصہباء پر آپ سے نکاح کیا تھا اور دوسرے دن وہیں ولیمہ فرمایا۔ ولیمہ میں آپ کے فرمانے پر صحابہ کرامؓ اپنے اپنے سامان میں سے کھجور، پنیر، گھی وغیرہ لے آئے، ایک دسترخوان پر رکھ کر کھا لیا گیا یہی ولیمہ ہو گیا۔ (3) راستہ میں ام المومنین حضرت صفیہؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے آپ کے اونٹ پر ہی سوار رہیں، مدینہ منورہ تک اسی طرح سفر ہوا۔
فضائل
ام المومنین حضرت صفیہ ؓ بہت زیادہ عقل مند اور سمجھ دار تھیں۔ جیسا کہ ابھی گزرا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اختیار دینے کے باوجود اپنے گھر جانا پسند نہیں کیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر لیا۔ وہ بہت زیادہ حلیم اور بردبار تھیں، ایک دفعہ ان کی ایک باندی نے حضرت عمر ؓ سے جا کر حضرت صفیہ ؓ کی شکایت کی کہ وہ یہود کی طرح اب تک یوم السبت یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں۔
حضرت عمرؓ نے حقیقت معلوم کرنے کے لئے کسی کو بھیجا تو ام المومنین حضرت صفیہؓ نے فرمایا کہ جب سے اللہ نے مجھے یوم السبت سے بہتر یوم الجمعہ عطا فرما دیا ہے میں یوم السبت کی تعظیم نہیں کرتی۔ رہی یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کی بات تو ان سے میری قرابت داری ہے اس لئے میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں (اور ظاہر ہے کہ اسلام اس سے منع نہیں کرتا) پھر انہوں نے اپنی باندی سے پوچھا کہ تم نے یہ شکایت کیوں کی، باندی نے کہا کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔ ام المومنین حضرت صفیہؓ نے یہی نہیں کہ اس کو کچھ سزا نہیں دی بلکہ فرمایا اچھا جاؤ تم آزاد ہو۔ (4)
ان کے سلسلہ نسب کے سلسلہ میں پہلے ہی گزر چھا ہے کہ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں رسول اللہ ﷺ کو اس کا خاص خیال رہتا تھا اور آپ ان کی بہت دلداری فرماتے تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت صفیہؓ رو رہی ہیں وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی ازواج تو ہیں ہی آپ کے خاندانی ہونے کا بھی شرف رکھتی ہیں اور تم تو یہودی خاندان سے تعلق رکھتی ہو لہذا ہم تم سے بہتر ہیں۔ آپ(ﷺ) نے ان کو تسلی دی اور فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم لوگ مجھ سے افضل کیسے ہو سکتی ہو، میں اللہ کے نبی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں ہوں۔ میرے چچا حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی نبی ہیں اور میرے شوہر حضرت محمد ﷺ بھی نبی ہیں۔ (1)
ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ان کے بارے میں کوئی نامناسب کلمہ کہہ دیا۔ آپ ﷺ نے بہت ناگواری کا اظہار کیا۔ (2) اسی طرھ ایک بار حضرت زینب بنت جحشؓ نے انہیں یہودیہ کہہ دیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ انها اسلمت وحسن اسلامها یعنی وہ پکی مومنہ ہیں اور آپ کئی ہفتہ حضرت زینبؓ کے یہاں تشریف نہیں لے گئے تھے۔ (3)
انہیں رسول اللہ ﷺ سے بہت غیر معمولی محبت اور تعلق تھا۔ آپ کے مرض وفات مین جب مرض کی تکلیف بہت زیادہ ہوئی تو ام المومنین حضرت صفیہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! واللہ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ تکلیف بجائے آپ کے مجھے ہو جاتی بعض ازواج مطہرات کو ان کے اس کلام کی صداقت میں کچھ شبہ ہوا جس کا اظہار ان کے چہروں سے بھی ہو گیا۔ آپ نے اس کو محسوس کر کے فرمایا واللہ یہ اپنی بات میں سچی ہیں۔ (4)
آپ بہت سخی تھیں۔ جب پہلی بار مدینہ طیبہ آئی ہیں تو حضرت فاطمہؓ اور بعض ازواج مطہرات کو اپنے زیور عنایت فرمائے۔ (5)
جس وقت باغیوں نے حضرت عثمان ؓ کے مکان کا محاصرہ کیا تھا اور حضرت عثمان کے مکان میں کھانا پانی تک جانے کی اجازت نہ دیتے تھے ایسے وقت میں حضرت صفیہؓ ان کی مدد کرنے کے ارادہ سے ان کے گھر تشریف لے جانے کے لیے نکلیں لیکن جب گھر کے قریب پہنچیں تو باغیوں نے آگے نہ جانے دیا واپس تشریف لے آئیں اور پھر حضرت حسن ؓ کے ذریعہ ان کے گھر کھانے پینے کا سامان بھیجنے کا انتظام کیا۔ (6)
رسول اللہ ﷺ کی متعدد روایات ان کے واسطے سے محدثین نے نقل کی ہیں، ان کے تلامذہ میں حضرت زین العابدین، حضرت اسحٰق بن عبداللہ، حضرت مسلم بن صفوان، حضرت کنانہ اور حضرت یزید بن معتب وغیرہم تابعین کے نام ذکر کئے جاتے ہیں۔
وفات
ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کی وفات رمضان ۵۰ھ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ بعض حضرات نے سنہ وفات ۵۲ھ ذکر کی ہے مشہور قول ۵۰ھ ہی کا ہے۔
ام المومنین حضرت میمونہ ؓ
ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے والد حارث بن حزن کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا اور ان کی والدہ ہند بنت عوف یا خولہ بنت عوف قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتی ہیں۔ (1) یہی ام المومنین حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کی بھی والدہ ہیں۔ حضرت زینبؓ کے تذکرہ میں گزر چکا ہے کہ ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ اور ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث دونوں کی والدہ ایک ہیں اور والد الگ الگ۔
حضرت میمونہ ؓ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت خالد بن الولید ؓ اور مشہور تابعی حضرت یزید ابن الاصم کی خالہ ہیں۔ ان کی بہن حضرت ام الفضل حضرت عباس ؓ کی اہلیہ ہیں۔ ایک دوسری بہن حضرت اسماء ؓ حضرت جعفر بن ابی طالب کی اہلیہ تھیں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکرؓ کے نکاح میں رہیں اور ان کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے نکاح میں آئیں۔
حضرت میمونہ ؓرسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے سے پہلے ابو رہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں، ان کے انتقال کے بعد حضرت میمونہ کے بہنوئی اور رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓنے آپ ﷺ سے ان کی بیوی کا تذکرہ کیا اور یہ چاہا کہ آپ ﷺ ان سے نکاح فرما لیں، آپ ﷺ نے یہ مشورہ قبول فرما لیا اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو حضرت میمونہؓ کے پاس اپنے نکاح کا پیغام لے کر بھیجا۔ حضرت میمونہؓ نے رشتہ منظور کر لیا اور اپنے بہنوئی حضرت عباس ؓ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد کا ہے، ابھی نکاح نہیں ہو سکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء، (۷ھ) کی نیت سے مکہ کے لئے تشریف لے گئے اس سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات اور حضرت میمونہؓ بھی تھیں۔ اثنائے سفر ہی میں آپ کا نکاح حضرت میمونہؓ سے ہوا ہے۔ اس نکاح کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ آیا یہ نکاح احرام باندھنے سے پہلے ہوا ہے یا احرام باندھنے کے بعد ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنے والی یہ سب سے آخری زوجہ مطہرہ ہیں۔ آپ ﷺ نے حضرت معمونہؓ کا مہر چار سو ۴۰۰ درہم مقرر فرمایا تھا۔ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ ہی میں ولیمہ کرنے کا رادہ تھا لیکن اہل مکہ نمے تین دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہ دی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے واپسی میں مقام سرف میں ولیمہ فرمایا۔ یہ مقام مکہ سے دس میل دور بجانب مدینہ ہے۔ فضائل
ام المومنین حضرت میمونہ ؓ تین سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہی ہیں۔ ذیقعدہ ۷ھ میں ان کا نکاح ہوا ہے اور ربیع الاول ۱۰ھ میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تین سال کی قلیل مدت میں حضرت میمونہ ؓ نے آپ ﷺ کی صحبت سے بہت علم و فضل حاصل کیا۔ بہت سی ایسے مسائل اور دینی معلومات جو اکابر صحابہ کرامؓ کو بھی معلوم نہ ہوتے تھے ان کے علم میں ہوتے تھے۔ خصوصاً عورتوں سے متعلق مسائل اور غسل وغیرہ کے بعض مسائل کی احادیث، حدیث کی کتابوں میں ان کے واسطے سے روایات کی گئی ہیں۔ کل ان سے چھیالیس (۴۶) حدیثیں مروی ہیں۔ جن میں سات متفق علیہ ہیں۔ یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم میں مذکور ہیں۔ اور پاند صرف صحیح مسلم میں ہیں۔ باتی حدیث کی دوسری کتابوں میں ہیں۔
ان کے شاگردوں میں ان کے بھانجے عبداللہ بن عباسؓ، عبداللہ بن شدادؓ، عبدالرحمٰن بن سائبؓ، یزید ابن الاصم اور ان کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار اور سلیمان کے بھائی عطار بن یسار وغیرہم ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے کمال ایمان کی شہادت دی ہے۔ ابن سعد نے سند صحیح کی ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے الاخوات مومنات ميمونه وام الفضل واسماء (1) یعنی میمونہ، ان کی بہن ام الفضل اور اسماء تینوں بڑے درجے کی صاحب ایمان بہنیں ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بھی ان کی دینداری اور صلہ رحمی کی بہت تعریف کی ہے، فرماتی ہیں انها كانت من اتقانا الله واصلنا للرحم (2) جس کا مطلب یہ ہے کہ میمونہ ہم لوگوں میں خوف خدا اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔
ان کے بھانجے یزید بن الاصم ذکر کرتے ہیں کہ ہماری خالہ بہت کثرت سے نماز پڑھتی تھیں، گھر کے کام بھی خود کرتی تھیں اور مسواک کرنے کا خاص اہتما فرماتی تھیں۔ غلام آزاد کرنے کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ باندی آزاد کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیا دی۔ “اللہ تم کو اس کا اجر عطا فرمائے۔”
وفات
ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کی وفات ۵۱ھ میں مقام سرف میں ہوئی۔ آپ حج یا عمرہ کے سلسلہ میں مکہ معظمہ آئی ہوئی تھیں۔ وہیں طبیعت خراب ہوئی اپنے بھانجے حضرت یزید بن الاصم سے کہا کہ مجھے مکہ سے لے چلو اس لئے کہ مکہ میں میرا انتقال نہیں ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پہلے ہی اطلاع دے دی ہے کہ تم کو مکہ میں موت نہیں آئے گی۔ یزید بن الاصم کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کو بحالت مرض ہی مکہ سے لے کر چلے ابھی مقام سرف ہی میں پہنچے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ (3)
سرف مکہ سے ۹ یا ۱۰ میل دور بجانب مدینہ ایک جگہ ہے۔
بعض اصحاب سیر نے لکھا ہے کہ آپ کا نکاح پھر ولیمہ بھی ۷ ھ میں مقام سرف مین ہوا ہے۔ اور ۵۱ھ میں انتقال بھی مقام سرف میں ہی ہوا ہے۔ (1)
نماز جنازہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے پڑھائی۔ جنازہ کو اٹھاتے وقت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا، یہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ کا جنازہ ہے لہذا جنازہ کو ادب و احترام کے ساتھ اٹھاؤ اور آہستہ آہستہ لے کر چلو۔ قبر میں عبداللہ بن عباسؓ، یزدی ابن الاصم اور عبیداللہ بن شداد نے اتارا۔ یہ تینوں ہی ام المومنین حضرت میمونہؓ کے بھانجے ہیں۔
عمرۃ القضاء سے واپسی میں مقام سرف میں جس جگہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لئے خیمہ لگوایا تھا قبر مبارک بالکل اسی جگہ بنی۔
امہات المومنین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آئیں اور سب سے آخر میں ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کا نکاح ہوا۔ حدیث و سیرت کی مستند کتابوں میں جن گیارہ امہات المومنین کا تذکرہ ہے الحمدللہ ان کی کسی قدر سوانح اور فضائل کا بیان ام المومنین حضرت میمونہؓ کے فضائل کے ذکر پر مکمل ہو گیا ہے۔ رضی اللہ عنھن وارضاھن۔ اب رسول اللہ ﷺ کی ذریت طیبہ کا ذکر اور ان کے فضائل کا بیان شروع ہو گا۔
ذریت طیبہ
ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے تذکرہ پر ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ وعلیہن کے فضائل کا بیان اختتام کو پہنچا۔ اب رسول اللہ ﷺ کی ذریت طیبہ کا تذکرہ اور ان کے فضائل کا بیان شروع ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اولاد کی تعداد کے بارے میں سخت اختلاف ہے۔ (1) بظاہر راجح قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی اولاد کی تعداد سات (۷) ہے۔ جن میں صرف ابراہیم نام کے ایک صاحبزادہ تو آپ کی باندی حضرت ماریہ قبطیہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے، باقی سب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی اولاد ہیں۔
ام المومنین حضرت خدیجہؓ الکبریٰ ؓ کے فضائل کے بیان میں عم محترم حضرت مولانا نعمانی صاحب دامت برکاتہم نے تحریر فرمایا تھا اس رشتہ ازدواج کے کچھ مدت کے بعد (ایک مشہور تاریخی روایت کے مطابق پانچ سال بعد) آپ کے پہلے صاحبزادے پیدا ہوئے جن کا نام “قاسم” رکھا گیا۔ انہیں کے نام پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی کنیت “ابو القاسم” رکھی، ان کا صغر سنی ہی میں انتقال ہو گیا، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی “زینب” پیدا ہوئیں۔ ان دونوں کی پیدائش آغاز نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال بھی صغر سنی ہی میں ہو گیا۔ پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔ جن کے نام رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہؓ رکھے گئے۔ صاحبزادگان جتنے بھی رہے ہوں سب ہی صغر سنی میں وفات پا گئے تھے البتہ بنات طہرات یعنی صاحبزادیاں سب ہی سن رشد کو پہنچیں، سب نے زمانہ اسلام پایا، مشرف باسلام ہوئیں، مکہ سے مدینہ کو ہجرت بھی کی اور رسول اللہ ﷺ ہی نے ان سب کی شادیاں بھی کیں۔ اس لئے تذکرے صرف بنات طاہرات ہی کے کریں گے بنات طاہرات میں سب سے بڑی حضرت زینبؓ ہیں، لہذا سب سے پہلے انہیں کا تذکرہ اور ان کے فضائل کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت زینب ؓ
حضرت زینب ؓ رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں آپ کی ولادت رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دس سال پہلے ہوئی۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک تو آپ ﷺ کی ذریت طیبہ میں سب سے بڑی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ سے پہلے آپ کے ایک بھائی قاسم نام کے پیدا ہوئے تھے جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے۔ بہرحال صاحبزادیوں میں آپ سب سے بڑی تھیں۔
نکاح
آپ کا نکاح ابو العاص بن ربیع جو آپ کی خالہ ہالہ بنت خویلد کے صاحبزادے تھے، سے ہوا تھا۔ ابو العاص بہت ہی شریف اور سلیم الطبع شخص تھے۔ حضرت زینب اور ابو العاص دونوں کو ایک دوسرے سے غیر معمولی محبت اور تعلق تھا۔ اور زندگی بھر یہ تعلق برقرار رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی تو اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ لا سکے تھے۔ حضرت زینبؓ اپنی سسرال یعنی ابو العاصؓ کے گھر پر ہی تھیں ابو العاصؓ اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ یہاں تک کہ ۲ھ میں غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ساتھ ابو العاصؓ بھی جنگ کرنے کے لئے بدر پہنچے تھے اور پھر بدر کے قیدیوں کے ساتھ قید کر کے مدینہ لائے گئے تھے۔ جس طرح اور قیدیوں کے رشتہ داروں نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے بطور فدیہ مال بھیجا تھا۔ حضرت زینب نے بھی ابو العاصؓ کی رہائی کے لئے مال بھیجا تھا۔ (1) رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس شرط پر رہا کر دیا تھا کہ وہ مکہ پہنچ کر حضرت زینبؓ کو مدینہ بھیج دیں گے۔ ابو العاص نےمکہ پہنچ کر اپنے بھائی کنانہ کے ساتھ حضرت زینبؓ کو اونٹ پر بٹھا کر مدینہ کے لئے روانہ کر دیا۔ ابھی مکہ سے نکل کر مقام ذی طویٰ ہی تک پہنچے تھے کہ بعض مشرکین مکہ نے آ گھیرا کہ محمد (ﷺ) کی بیٹی کو ہم مدینہ نہیں جانے دیں گے انہیں میں سے ایک شخص نے حضرت زینبؓ کے نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ اونٹ سے گر گئیں اور بہت زخمی ہو گئیں ابو العاصؓ کے بھائی کنانہ نے اپنا تیر کمان سنبھالا اور کہا کہ اب اگر کوئی قریب آیا تو اس کی خیر نہیں ہے۔ سب لوگ اپنی جگہ پر ٹھہر گئے لیکن اس پورے واقعے کی خبر مکہ والوں کو پہنچ گئی ابو سفیانؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اہل مکہ کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے چند سربرآوردہ لوگوں کو لے کر کنانہ سے گفتگو کرنے کے لئے آئے اور یہ کہا کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ ہم لوگوں نے ابھی غزوہ بدر میں محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں کتنی تکلیفیں اور رسوائیاں برداشت کی ہیں اگر تم محمد (ﷺ) کی بیٹی کو اس طرح علی الاعلان لے جاؤ گے تو اس میں ہماری مزید ذلت و رسوائی ہو گی۔ ایسا کرو کہ جب معاملہ ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو رات کی تاریکی میں نکال لے جانا۔ کنانہ نے بھی اسی کو غنیمت سمجھا اور حضرت زینبؓ کو دوبارہ ابو العاص کے گھر پہنچا دی گئیں اور حسب وعدہ چند دن کے بعد پھر کنانہ ہی کے ساتھ مدینہ کے لئے روانہ ہو گئیں۔ ادھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ اور ایک اور انصاری صحابیؓ کو بطن یا جج نام کے ایک مقام تک حضرت زینبؓ کو لانے کے لئے بھیج دیا تھا۔ کنانہ بطن یا جج پہنچ کر حضرت زینبؓ کو ان دونوں حضراات کے حوالے کر کے مکہ واپس چلے گئے۔
اس طرح حضرت زینب ؓ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۶ھ میں ابو العاص پھر ایک جنگ میں قید کر کے مدینہ لائے گئے اس وقت بھی حضرت زینبؓ کام آئیں اور انہوں نے ابو العاصؓ کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ کی سفارش پر ابو العاصؓ کو رہا فرما دیا۔ ابو العاصؓ مکہ واپس ہوئے اور لوگوں کی امانتیں جو ان کے پاس تھیں واپس کیں اور اسلام لا کر مدینہ طیبہ حاضر ہو گئے حضرت زینبؓ اور ابو العاصؓ کے درمیان کئی سال علیحدگی رہی لیکن نہ ابو العاصؓ نے اپنی شادی کی اور نہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ کا نکاح کہیں اور کیا، اب جب کہ حضرت ابو العاصؓ مسلمان ہو کر مدینہ آ گئے تو آپ نے پھر حضرت زینبؓ کا نکاح انہیں سے کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں حضرت ابو العاص ؓ کا ان کی شرافت، ایفائے عہد اور حضرت زینب کے ساتھ ان کے حسن تعلق کی وجہ سے بڑا مقام تھا اور آپ اس کا اظہار بھی فرماتے تھے۔ اسی سلسلے میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کے بہت بلند کلمات حضرت ابو العاصؓ کی تعریف میں مذکور ہیں۔ (1)
فضائل
حضرت زینبؓ کے شرف کے لئے یہ کیا کم ہے کہ آپ جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ ہیں، پھر وہ بالکل اولین ایمان لانے والوں میں ہیں، اپنی والدہ حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ ہی انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئی تھیں۔ پھر شوہر سے غیر معمولی محبت اور تعلق بھی ان کے لئے ایمان پر ثابت قدم رہنے، رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے اور ہجرت سے مانع نہ ہو دکا اور وہ اپنے شوہر کو مکہ میں چھوڑ کر غزوہ بدر کے بعد جلدی ہی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئیں۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی ان سے بہت محبت تھی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ان کی ہجرت کے وقت جب حضرت زینبؓ کے زخمی ہونے کی اطلاع آپ ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا هى افضل بنائى اصيبت فى یہ میری بہترین بیٹی ہیں جو میری وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا ہوئی ہیں۔ (2)
وفات
۶ھ میں حضرت ابو العاصؓ مدینہ طیبہ آئے ہیں اور آپ نے حضرت زینبؓ کا نکاح دوبارہ ان کے ساتھ کیا ہے اور ۸ھ میں حضرت زینب ؓ کی وفات ہو گئی ہے، رسول اللہ ﷺ پر ان کی وفات کا بہت اثر تھا۔ ان کے غسل اور کفن کے سلسلہ میں غسل دینے والی عورتوں کو آپ ﷺ خود ہدایات دے رہے تھے اور کفن کے لئے اپنی استعمال فرمائی ہوئی لنگی عنایت فرمائی تھی۔ حضرت ام عطیہؓ جو غسل دینے والی عورتوں مین شامل تھیں ان کی روایت کے الفاظ صحیح مسلم اس طرح ہیں
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا، فَأَعْلِمْنَنِي» قَالَتْ: فَأَعْلَمْنَاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ (1) حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کی وفات ہوئی تو آپ نے ہم غسل دینے والی عورتوں سے فرمایا کہ طاق دفعہ غسل دینا خواہ تین بار یا پانچ بار اور پانچویں مرتبہ غسل دینے کے لئے پانی میں کافور ملا لینا یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تھوڑا سا کافور ملا لینا۔ اور جب غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا۔ حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ جب ہم عورتیں غسل سے فارغ ہو گئیں تو آپ ﷺ کو اطلاع کر دی آپ ﷺ نے کفن کے لئے اپنی مبارک لنگی عنایت فرمائی اور فرمایا اس کو کفن مین سب سے اندر کی طرف حضرت زینبؓ کے جسم سے ملا کر استعمال کرنا۔ نماز جنازہ رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی اور آپ ﷺ نے اور حضرت ابو العاصؓ نے قبر میں اتارا۔ ہجرت کے وقت جو چوٹ لگی تھی اس کی تکلیف وفات تک باقی رہی اسی لئے بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت زینبؓ کو مقام شہادت بھی نصیب ہوا۔ (2)
اولاد
آہ کے ایک صاحبزادے علی نام کے تھے اور ایک صاحبزادی امامہ نامی تھیں، دونوں بچوں سے رسول اللہ ﷺ کو بہت محبت تھی۔ صحیحین کی روایت کے مطابق کبھی کبھی حالت نماز میں آپ ﷺ کی یہی نواسی حضرت امامہ آپ کے کندھے پر سوار ہو جایا کرتی تھیں اور آپ کو ان کا یہ عمل ناگوار بھی نہ ہوتا تھا آپ ﷺ کے یہ نواسے حضرت علیؓ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی اونٹنی پر سوار تھے اور جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔ (3) ؓ وارضاھم۔
حضرت رقیہ ؓ
صاحبزادیوں میں حضرت زینب ؓ کے بعد دوسرے نمبر پر حضرت رقیہ ؓ ہیں۔ جس وقت حضرت رقیہ پیدا ہوئی ہیں آپ ﷺ کی عمر تینتیس (۳۳) سال تھی۔ (4) پچپن ہی میں آپ نے حضرت رقیہؓ کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے اور دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح ابو لہب ہی کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے کر دیا تھا۔ اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کی بعثت نہیں ہوئی تھی۔ ابھی دونوں کی رخصتی کی نوبت بھی نہ آ پائی تھی۔ کہ رسول اللہ ﷺ کو نبوت مل گئی اور آپ ﷺ نے دین کی دعوت شروع کی، ابو لہب نے آپ ﷺ کی دشمنی اور مخالفت میں اپنے دونوں بیٹوں کو یہ حکم دیا کہ تم لوگ اگر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو محمد (ﷺ) کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار کر لو، بیٹوں نے باپ کے کہنے کے مطابق عمل کیا جس کی وجہ سے دونوں صاحبزادیاں رقیہؓ اور ام کلثومؓ رشتہ نکاح سے آزاد ہو گئیں۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت رقیہ ؓ کا نکاح ہجرت سے پہلے ہی حضرت عثمان ؓ سے کر دیا تھا۔ (5) مشرکین مکہ کی ایذار رسانی کی بنا پر جن صحابہ کرامؓ نے حبشہ کو ہجرت کی تھی ان میں اول ہجرت کرنے والوں میں حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ بھی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کی ہجرت کے موقع پر فرمایا تھا ان عثمان اول من هاجر باهله بعد لوط۔ یعنی لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرنے والے سب سے پہلےشخص حضرت عثمانؓ ہیں۔
حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری حسن و جمال سے بھی خوب نوازا تھا مکہ میں اتنا حسین و جمیل جوڑا اور کوئی نہ تھا۔ حضرت عثمانؓ کے خاندان کی بعض عورتوں نے ان دونوں کی شان میں قصیدہ بھی کہا تھا۔ زرقانی نے کچھ اشعار اس قصیدے کے ذکر کئے ہیں جس میں مذکور ہے کہ کسی نے بھی ایسا حسین و جمیل جوڑا نہیں دیکھا۔
کچھ دنوں کے بعد حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ حبشہ سے مکہ واپس آ گئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد دونوں مدینہ طیبہ ہجرت کر گئے۔ حبشہ کے زمانہ قیام میں حضرت رقیہؓ کے یہاں ایک صاحبزاے پیدا ہوئے جن کا نام عبداللہ رکھا تھا چھ سال کی عمر میں اس بچہ کا انتقال ہو گیا پھر غالباً کوئی اور اولاد نہیں ہوئی۔ جب آپ ﷺ غزوہ بدر کے لئے تشریف لے گئے تھے اس وقت حضرت رقیہؓ کی طبیعت بہت خراب تھی ان کی دیکھ بھال اور تیمارداری کے لئے آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو غزوہ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا وہ مدینہ میں ہی رہ گئے تھے بدر کی فتح کی خوشخبری تو مدینہ آ گئی تھی لیکن آپ ﷺ ابھی تشریف نہیں لائے تھے کہ حضرت رقیہؓ کی وفات ہو گئی، واپس آنے پر جب علم ہوا تو آپ کو بہت صدمہ ہوا قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اتنا روئے کہ آنسو قبر پر گرنے لگے۔ (1) ؓ وارضاہا۔
حضرت ام کلثوم ؓ
رسول اللہ ﷺ کی تیسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ بھی بعثت نبوی سے پہلے ہی پیدا ہوئی تھیں اور اسلام ہی کے آغوش میں ہوش سنبھالا تھا۔ حضرت رقیہؓ کے تذکرہ میں یہ بات گذر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم ؓ کا نکاح بچپن ہی میں ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کر دیا تھا۔ اور جب آپ ﷺ نے اللہ کی توحید اور اپنی نبوت کی دعوت دی تو ابو لہب نے آپ کی سخت مخالفت کی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو آپ ﷺ کی دونوں صاحبزادیوں سے علیحدگی اختیار کرنے کو کہا، دونوں نے اپنے باپ کے کہنے پر رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں سے علیحدگی اختیار کر لی اور دونوں صاحبزادیوں کا یہ قصہ نکاح رخصتی سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ (2) پھر آپ ﷺ نے حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمان ؓ سے کر دیا اور جب ۲ھ میں حضرت رقیہؓ کا انتقال ہو گیا تو کچھ دنوں کے بعد آپ نے حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کر دیا۔ا ور یہ سعادت حضرت عثمان ؓ کے نصیب میں آئی کہ وہ یکے بعد دیگرے آپ کی دو صاحبزادیوں کے شوہر بنے اور ذو النورین کے لقب سے نوازے گئے۔ حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کر دیا اور حضرت عثمانؓ کی حیات ہی میں حضرت ام کلثوم ؓ کی بھی وفات ہو گئی تو آپ نے فرمایا لو كان عندى ثالثة لزوجتها یعنی میں نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں عثمان سے بیاہ دیں اور اب دوسری کا بھی انتقال ہو گیا اور عثمان بے بیوی کے رہ گئے اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی جو عثمانؓ سے بیاہی جا سکتی تو ضرور میں اس کی شادی بھی عثمان سے کر دیتا۔ (1)
عتیبہ نے جس وقت حضرت ام کلثومؓ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اسی وقت اس نے آپ ﷺ کی شام میں گستاخی بھی کی تھی دونوں باتوں سے آپ کو سخت تکلیف پہنچی تھی اور زبان مبارک سے اللهم مسلط عليه كلبا من كلابك بد دعا نکلی تھی۔ (2) کہ اے اللہ اس کے اوپر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط فرما دے۔ اس بددعا کا علم جب ابو لہب کو ہوا تو وہ گھبرا گیا اور بیٹے کی جان کی فکر پڑ گئی، کچھ دنوں کے بعد یہ باپ نے ملک شام کے ایک سفر میں تھے ایک جگہ قافلہ نے قیام کیا وہاں کے لوگوں نے بتلایا کہ اس علاقہ میں شیر آگے جاتے رہتے ہیں۔ ابو لہب کو آپ کی بددعا یاد تھی، اس نے بیٹے کی حفاظت کی تمام تدبیریں کر ڈالیں لیکن زبان نبوت سے نکلی ہوئی بددعا خالی نہ گئی اور شیر سب تدبیروں کے باوجود (جن کی تفصیل زرقانی میں ہے) عتیبہ کو اٹھا لے گیا۔
حضرت ام کلثومؓ کا نکاح جب حضرت عثمانؓ سے ہوا اس سے پہلے ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت عمرؓ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ جو کچھ دن پہلے ہی بیوہ ہوئی تھیں کا نکاح حضرت عثمان سے کرنے کی پیش کش کی حضرت عثمان نے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن ا ثبات میں بھی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی، آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہاری بیٹی کے لئے عثمان سے بہتر شوہر اور عثمان کے لئے تمہاری بیٹی سے بہتر بیوی نہ بتلاؤں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ضرور، اس پر آپ نے فرمایا اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح مجھ سے کر دو اور میں اپنی بیٹی ام کلثومؓ کا نکاح عثمان سے کئے دیتا ہوں۔ (3)
فضائل
مذکورہ واقعہ سے حضرت ام کلثومؓ کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کو آپ نے حضرت حفصہؓ سے بھی افضل قرار دیا۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی اور بالکل اول اول ایمان لانے والے صحابہ کرامؓ میں ہیں، آپ کو ان سے محبت بھی بہت تھی جس کا اظہار عتیبہ کے واقعہ سے ہوتا ہے پھر آپ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی، خود دفن میں شرکت فرمائی جیسا کہ ابھی آئے گا۔
وفات
۳ھ میں آپ کا نکاح حضرت عثمانؓ کے ساتھ ہوا ہے اور تقریباً چھ سال کے بعد ۹ھ میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ (1) رسول اللہ ﷺ اس وقت مدینہ طیبہ ہی میں تشریف رکھتے تھے۔ حضرت ام عطیہ ؓ اور بعض دیگر صحابیاتؓ نے غسل دیا حضرت زینبؓ کے غسل کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی جن ہدایات کا ذکر حضرت زینبؓ کے تذکرہ میں گذر چکا ہے کہ آپ نے غسل دینے والی عورتوں سے فرمایا تھا کہ تین بار یا پانچ بار غسل دینا اور آخر میں کافور ملے ہوئے پانی کا استعمال کرنا اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا اور بعد فراغت جب اصحابیاتؓ نے آپ کو غسل سے فارغ ہونے کی اطلاع دی تو آپ نے اپنا تہبند یہ کہہ کر عنایت فرمایا کہ اس کو کفن میں اس سے اندر کی کی طرف استعمال کریں۔ بعض شارحین حدیث نے غسل و کفن کی اس روایت کو حضرت ام کلثومؓ کی وفات سے متعلق ذکر کیا ہے۔ اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ واقعہ دونوں بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا ہو۔ اس لئے کہ دونوں ہی آپ کی بیٹیاں تھیں اور روایت میں نام نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن فرمایا۔ ؓ وارضاہا۔
حضرت فاطمہ زہرا ؓ
رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ محبوب صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا ؓ کی ولادت بعض مورخین نے بعثت سے پانچ سال پہلے اور بعض نے صرف ایک سال پہلے ذکر کی ہے۔ لیکن اس پر اتفاق ہے کہ آپ بعثت سے پہلے ہی پیدا ہوئی ہیں۔ (2) پھر ہجرت تک رسول اللہ ﷺ ہی کے ساتھ رہیں۔ ہجرت کے موقع پر آپ ان کو مکہ ہی میں چھوڑ آئے تھے بعد مین ان کو بلوایا ہے اور ۲ھ میں غزوہ بدر کے کچھ بعد حضرت علی ؓ سے آپ کا نکاح ہوا۔ (3) چونکہ حضرت علیؓ بھی رسول اللہ ﷺ ہی کے تکفل میں تھے اور ان کا کوئی گھر علیحدہ نہ تھا اس لئے آپ نے ان کا گھر بسانے کے لئے کچھ ضروری گھریلو سامان اس موقع پر عنایت فرمایا تھا۔ جس میں ایک چادر، ایک مشکیزہ، چمڑے کا ایک گدا، جس میں اذخر نام کی گھاس بھری ہوئی تھی وغیرہ چند چیزیں تھیں۔ یہ سامان مروجہ جہیز کی قسم سے نہ تھا اس لئے جہیز کا ثبوت نہ ازواج مطہرات کے کسی نکاح میں ہے نہ دیگر بنات طاہرات کے نکاح کے موقع پر آپ نے کچھ دیا ہے اور نہ اہل عرب میں اس کا رواج تھا۔ حضرت علیؓ نے مہر میں اپنی درع یا اس کی قیمت دی تھی ان کے پاس مہر ادا کرنے کے لئے اس کے سوا کچھ نہ تھا۔
اولاد
آپ کے تین بیٹے حسن حسین اور محسن پیدا ہوئے۔ محسن کی وفات بچپن ہی میں ہو گئی اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ بہت بعد تک حیات رہے۔ ان تینوں کے علاوہ دو بیٹیاں حضرت زینبؓ اور حضرت ام کلثومؓ بھی پیدا ہوئیں جو بعد تک زندہ رہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں صرف حضرت فاطمہ زہرا ؓ ہی سے آپ ﷺ کی نسل چلی ہے دیگر صاحبزادیوں کے یہاں یا تو اولاد ہی پیدا نہیں ہوئی یا جلد ہی سلسلہ منقطع ہو گیا۔
فضائل
حضرت فاطمہ زہرا ؓ رسول اللہ ﷺ کی بہت ہی محبوب اور چہیتی بیٹی تھیں ان سے رسول اللہ ﷺ کو غیر معمولی محبت تھی۔ ایک بار آپ نے فرمایا احب اهلى الى فاطمه (1) مجھے اپنے گھر والوں میں فاطمہ سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ان کی تکلیف آپ کے لئے ناقابل برداشت ہوتی تھی۔ حضرت علی رسول اللہ ﷺ، ابو جہل کی لڑکی سے شادی کرنا چاہی حضرت فاطمہؓ نے آپ سے اس کی شکایت کر دی، آپ کو حضرت علیؓ کے اس ارادے سے سخت تکلیف پہنچی اور آپ ﷺ نے مسجد میں خطبہ میں اپنی اس تکلیف اور ناگواری کا اظہار فرمایا اور اسی خطبہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا فاطمة بضعة منى فمن اغضبها اغضبى فاطمہ میرا جزو بدن ہیں جس نے ان کو غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا۔ الفاظ کے جزوی اختلاف کے ساتھ یہ روایت بخاری و مسلم، ابو داؤد، ترمذی وغیرہ حدیث کی تقریباً سب ہی کتابوں میں ہے۔ (2)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ ؓ اپنے انداز گفتگو میں رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھیں اور ان کے چلنے کا انداز بھی بالکل آپ ﷺ ہی کی طرح تھا اور آپ کا معمول یہ تھا کہ جب فاطمہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان کو مرحبا کہتے اور کہتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کا معمول بھی آپ کے ساتھ یہی تھا۔ (3)
جب آپ سفر پر تشریف لے جاتے تو جاتے وقت سب سے آخر میں حضرت فاطمہؓ سے مل کر جاتے اور واپسی میں سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ سے ملتے۔ (4)
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مرض وفات میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو اپنے قریب بلایا اور کان میں کچھ فرمایا حضرت فاطمہؓ رونے لگیں۔ دوبارہ آپ ﷺ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرا دیں۔ بعد میں مین نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو ظاہر نہیں کروں گی۔ لیکن جب آپ ﷺ کی وفات کے بعد میں نے اس واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو فرمایا اب بتلاتی ہوں۔ پہلی بار تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آ چکا ہے۔ جس پر مجھے رونا آ گیا تھا۔ دوسری بار آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے پاس میرے گھر کے لوگوں میں سب سے جلد آنے والی ہو۔ اس پر مجھے ہنسی آئی تھی۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دوسری بار یہ فرمایا تھا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم جنت میں تمام عورتوں کی سردار ہو۔ بظاہر آپ ﷺ نے دونوں ہی باتیں فرمائی تھیں۔ (1) علاوہ ازیں حضرت فاطمہؓ کی فضیلت کی احادیث کتب حدیث میں بڑی کثرت سے مروی ہیں۔
وفات
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا غم تمام صحابہ کرامؓ کے لئے جان لیوا تھا۔ حضرت فاطمہؓ تو اب اکلوتی بیٹی تھین، پھر ان کو آپ ﷺ سے اور آپ ﷺ کو ان سے جو غیر معمولی محبت تھی جس کا کچھ ذکر ابھی گذرا ہے اس کی وجہ سے تو یہ غم واقعی جان لیوا ثابت ہواو اور آپ اپنی زندگی ہی مین اس کی اطلاع بھی دے چکے تھے کہ تم سب سے پہلے میرے پاس آنے والی ہو۔ ابھی آپ کی وفات کو صرف چھ مہینے ہی گذرے تھے کہ حضرت فاطمہ ؓ نے بھی رخت سفر باندھ لیا اور اپنے والد ﷺ سے جا ملیں۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ۲۹ سال یا ۲۴ سال بتلائی جاتی ہے۔ یہ اختلاف اصل میں سن ولادت کے اختلاف کی وجہ سے ہے اگر آپ کی ولادت بعثت سے پانچ سال پہلے ہے تو عمر ۲۹ سال ہو گی اور اگر ولادت کا سال بعثت سے صرف ایک سال پہلے ہے تو عمر مبارک صرف ۲۴ سال ہو گی۔ (2) ابن کثیر نے عمر مبارک ۲۹ سال اور حافظ ذہبی (3) نے ۲۴ سال ذکر کی ہے۔واللہ اعلم۔
حضرت علی ؓ نے نماز جنازہ بڑھائی اور جنت البقیع میں دفن فرمایا۔ ؓ وارضاہا۔ حضرت فاطمہؓ کے تذکرہ پر آپ کی بنات طیبات کا ذکر بھی مکل ہوا۔
حضرت حسن بن علی ؓ
آپ کا اسم شریف حسن اور کنیت ابو محمد ہے۔ حسن نام رسول اللہ ﷺ ہی نے تجویز فرمایا تھا۔ (4) آپ کے والد حضرت علی ؓ اور والدہ جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ زہرا ؓ ہین۔ آپ حضرت علیؓ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ حضرت علی کی کنیت ابو الحسن آپ ہی کے نام کی وجہ سے ہے۔
ولادت
رمضان ۳ھ میں آپ پیدا ہوئے، رسول اللہ ﷺ ولادت کی خبر پا کر حضرت علی کے گھر تشریف لے گئے، پیارے نواسے کو گود میں لیا، خود ان کے کان میں اذان دی اور عقیقہ کرایا اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (1) اور اس طرح براہ راست ان ان کے کان میں پہلی آواز رسول اللہ ﷺ کی پہنچی اور جو بات پہلی بار کان میں پہنچی وہ بھی اذان تھی جو دین کی بھرپور دعوت ہے۔ بچپن کا بڑا حصہ رسول اللہ ﷺ ہی کے سایہ عاطفت میں گذرا ہے۔ آپ کی وفات کے وقت حضرت حسن ؓ کی عمر ۸ سال کی تھی۔
خلافت
حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں کوفہ اور قرب و جوار کے مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت ہی میں ان کے اور حضرت معاویہؓ کے مابین شدید اختلاف تھے ابھی حضرت حسن کی بیعت خلافت کو ۶ یا ۷ ماہ ہی گذرے تھے کہ قتل و قتال سے بچنے کے لئے حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کر لی اور بار خلافت سے حضرت معاویہؓ کے حق مین دست بردار ہو کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے اور رسول اللہ ﷺ کی پیشن گوئی ابنى هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين الفئتين من المسلمين یعنی میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کراوئے گا۔ صحیح ثابت ہو گئی۔ (2) اس مصالحت کے وقت حضرت حسنؓ نے جو بھی شرائط صلح حضرت معاویہؓ کے سامنے رکھے حضرت معاویہؓ نے ان کو قبول فرما لیا اور مدت العمر ان کا لحاظ رکھا۔ (3) ان میں وافر مقدار میں مال کی شرف بھی تھی جو ان کے آرام و راحت کے ساتھ گذر اوقات کے لئے خوب کافی تھا۔ لیکن وہ اس مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے تھےحتی کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ اپنے موزے بھی اللہ کے راستہ میں خرچ کر دئیے اور صرف جوتے روک لئے۔ مدینہ پہنچ کر حضرت حسنؓ نے یکسوئی کی زندگی اختیار فرمائی اور عبادت و ریاضت اور دین کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔
آپ نے کئی شادیاں کیں اور ان سے دس یا اس سے بھی زیادہ بچے پیدا ہوئے۔
وفات
۵۰ھ یا ۵۱ھ میں کسی نے آپ کو زہر دے دیا اور یہی وجہ شہادت بن گیا۔ مدینہ کے امیر سعید بن العاصؓ نے نماز پڑھائی۔ ؓ وارضاہ۔
حلیہ
آپ شکل و صورت میں رسول اللہ ﷺ کے بہت مشابہ تھے۔ ایک موقع پر حضرت ابو بکرؓ نے حضرت حسنؓ کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور حضرت علیؓ کے سامنے فرمایا کہ حسن تمہارے مشابہ نہیں ہیں یہ تو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہیں۔ حضرت علیؓ سنتے رہے اور ہنستے رہے۔ (4) امام ترمذیؓ نے حضرت انسؓ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ (5)
فضائل
حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کے فضائل بڑی حدی تک مشترک ہیں اس لئے ان کے مناقب و فضائل بھی حضرت حسینؓ کے تذکرہ کے بعد ہی ذکر کئے جائیں گے محدثین میں امام بخاری، امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ وغیرہم نے بھی ایسا ہی کیا ہے کہ دونوں کے فضائل و مناقب ایک ساتھ ہی ذکر کئے ہیں۔
حضرت حسین بن علی ؓ
رسول اللہ ﷺ کے دوسرے نواسے اور حضرت علی و حضرت فاطمہؓ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے حضرت حسینؓ کی ولادت شعبان ۴ھ میں ہوئی، آپ ﷺ نے ہی ان کا نام حسین رکھا، ان کو شہد چٹایا، ان کے منہ میں اپنی زبان مبارک داخل کر کے لعاب مبارک عطا فرمایا اور ان کا عقیقہ کرنے اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت فاطمہؓ نے ان کے عقیقہ کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی۔ (1) اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ کی طرح حضرت حسین بھی رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے اور آپ ﷺ کو ان سے بھی غیر معمولی محبت اور تعلق تھا جس کا کچھ تذکرہ مناقب و فضائل کے سلسلہ میں آئے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو ان کی عمر صرف چھ یا سات سال تھی، لیکن یہ چھ سات سال آپ کی صحبت اور شفقت و محبت میں گذرے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ نے خاص لطف و کرم اور محبت کا برتاؤ کیا۔ حضرت عمرؓ کے آخری زمانہ خلافت مں آپ نے جہاد میں شرکت شروع کی ہے اور پھر بہت سے معرکوں میں شریک رہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جب باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا تو حضرت علیؓ نے اپنے دونوں بیٹوں حسنؓ اور حسینؓ کو ان کے گھر کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسنؓ نے جب حضرت معاویہؓ سے مصالحت کر کے خلافت سے دستبرداری کے ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت حسینؓ نے بھائی کی رائے سے اختلاف کیا لیکن بڑے بھائی کے احترام میں ان کے فیصلہ کو تسلیم کر لیا۔ البتہ جب حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد حضرت معاویہؓ نے یزید کی خلافت کی بیعت لی تو حضرت حسینؓ اس کو کسی طرح برداشت نہ کر سکے اور یزید کے خلیفہ بن جانے کے بعد اپنے بہت سے مخلصین کی رائے و مشورہ کو نظر انداز کر کے جہاد کے ارادہ سے مدینہ طیبہ سے کوفہ کے لئے تشریف لے چلے ابھی مقام کربلا ہی تک پہنچے تھے کہ واقعہ کربلا کا پیش آیا اور آپ وہاں شہید کر دئیے گئے۔ ؓ وارضاہ۔ تارخ وفات ۱۰ محرم ۶۱ھ ہے اس وقت عمر شریف تقریباً ۵۵ سال تھی۔
جیسا کہ پہلے بھی حضرت فاطمہ زہراؓ کے تذکرہ میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نسل حضرت فاطمہؓ ہی سے چلی ہے اور ان کی اولاد میں حضرات حسنین اور ان کی دو بہنیں حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم ؓ اجمعین ہی آپ ﷺ کی بقاء نسل کا ذریعہ بنے ہیں۔
حضرات حسنینؓ کے فضائل و مناقب
رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور آپ کے صحابی ہونے کا شرف کیا کم ہے پھر آپ ﷺ کو حضرات حسنین ؓ سے بہت محبت بھی تھی۔ شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ یہ دونوں بھائی بچپن میں حالت نماز میں آپ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے کبھی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرتے رہتے اور آپ نماز میں بھی ان کا خیال کرتے۔ جب تک وہ کمر پر چڑھے رہتے آپ سجدہ سے سر نہ اٹھاتے۔ (1)آپ اکثر انہیں گود میں لیتے، کبھی کندھے پر سوار کرتے، ان کا بوسہ لیتے انہیں سونگتے اور فرماتے انكم لمن ريحان الله تم اللہ کی عطا کردہ خوشبو ہو۔ (2) ایسے ہی ایک موقعہ پر حضرت اقرع ابن حابس ؓ نے عرض کر دیا اے اللہ کے رسول! (ﷺ) میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے آج تک کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا انه من لا يرحم لا يرحم۔ جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی من جانب اللہ رحم نہیں کیا جاتا۔ (3) حضرت فاطمہ زہراؓ کے تذکرہ، میں گذر چکا ہے۔ آیت تطہیر کے نزول کے بعد آپ نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کو اپنی ردائے مبارک میں داخل فرما کر اللہ سے عرض کیا اللهم هؤلاء اهل بيتى فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا۔ (4) اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے گندگی کو دور فرما دیجئے اور پاک و صاف کر دیجئے۔
صحیح بخاری میں حضرت عدی بن ثابتؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسنؓ کو اپنے کندھے پر سوار کئے ہوئے تھے اور یوں دعا کر رہے تھے اللهم ابنى احبه فاحبه، اے اللہ یہ مجھے محبوب ہے آپ بھی اسے اپنا محبوب بنا لیجئے۔ (5)
امام بخاری نے ہی حضرات حسنینؓ کے مناقب مٰں حضرت ابن عمرؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ان سے کسی عراقی نے مسئلہ دریافت کیا کہ محرم اگر مکھی مار دے تو کیا کفارہ ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے بڑی ناگواری سے جواب دیا کہ اہل عراق مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھنے آتے ہیں اور نواسہ رسول اللہ ﷺ (حضرت حسنینؓ) کو قتل کر دیا حالانکہ آپ نے اپنے دونوں نواسوں کے بارے میں فرمایا تھا ھما ریحانتای من الدنیا۔ یہ دونوں میرے لئے دنیا کی خوشبو ہیں۔ (6) امام ترمذی نے حضرت اسامہ بن زید کی حدیث ذکر کی ہے کہ میں کسی ضرورت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ گھر کے باہر اس حال میں تشریف لائے کہ آپ ﷺ دونوں کوکھوں پر (یعنی گود میں) کچھ رکھے ہوئے تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے، میں جب اپنے کام سے فارغ ہو گیا تو عرض کیا یہ کیا ہے آپ ﷺ نے چادر ہٹا دی میں نے دیکھا کہ ایک جانب حسنؓ اور دسری جانب حسینؓ ہیں، اور فرمایا۔ هذان ابنى وابنا ابنتى اللهم من احبهما فاحبهما واحب من يحبهما۔ (1) اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت فرمائیے اور جو ان سے محبت کرے اس کو بھی اپنا محبوب بنا لیجئے۔ “اللهم انى احبهما فاحبهما” اے اللہ میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں آپ بھی ان کو اپنا محبوب بنا لیجئے کہ دعائیہ کلمات صحیح سندوں سے حدیث کی متعدد کتابوں میں مروی ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آپ کے یہ دونوں نواسے اللہ کے بھی محبوب اور اللہ کے رسول کے بھی محبوب اور ان دونوں سے محبت رکھنے والے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب ہیں، ایک بار ایسا ہوا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے، دونوں نواسے آگئے آپ نے خطبہ روک کر ان دونوں کو اٹھا لیا اور اپنے پاس بٹھایا پھر باقی خطبہ پورا کیا۔
امام ترمذی نے حضرت یعلی بن مرہؒ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسين منى وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط۔ (2)
ترجمہ: حسین میرے ہیں اور میں حسین کا، جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے حسین میرے ایک نواسے ہیں۔
حسين منى وانا من حسين کے کلمات انتہائی محبت، اپنائیت اور قلبی تعلق کے اظہار کے لئے ہیں، اس کے بعد ویہ دعائیہ کلمات ہیں جن کے متعلق عرض کیا کہ یہ الفاظ متعدد روایات میں مذکور ہیں اس مضمون کی کئی روایات امام ترمذی نے مناقب الحسن والحسین کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی والدہ کو سيدة نساء اهل الجنة اور دونوں بھائیوں کو سيدا شباب اهل الجنة فرمایا ہے۔ (3) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام خصوصاً حضرات شیخین کا معاملہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ بہت ہی لطف و کرم کا رہا، ابھی حضرت حسنؓ کے تذکرہ میں گذرا کہ حضرت ابو بکرؓ نے ان کو گود میں اٹھا لیا تھا بلکہ بعض روایات میں تو کندھے پر بٹھانے کا ذکر ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ نے اپنےزمانہ خلافت میں دونوں بھائیوں کا وظیفہ اہل بدر کے وظائف کے بقدر پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کیا اور اس کی وجہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت بیان کی۔ (4) حالانکہ یہ دونوں حضرات ان کے دور خلافت کے آخر میں بھی بالکل نوجوان ہی تھے حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کا واقعہ ہے کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے حضرت حسینؓ آئے اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا، میرے باپ (نانا جان) کے منبر سے اترو اور اپنے والد کے منبر پر جا کر خطبہ دو، حضرت عمرؓ نے کہا میرے باپ کا تو کوئی بھی منبر نہیں ہے یہ کہا اور ان کو اپنے پاس منبر پر بٹھا لیا اور بہت اکرام اور لطف و محبت کا معاملہ کیا۔ (5) انہیں حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں یمن سے کچھ حلے (چادروں کے جوڑے)آئے، آپ نے وہ صحابہ کرامؓ کے لڑکوں میں تقسیم کر دئیے اور حضرات حسینؓ کے لئے ان سے بہتر حُلے منگوائے اور ان دونوں بھائیوں کو دئیے اور فرمایا اب میرا دل خوش ہے۔ (1)
یہ دونوں بھائی اگرچہ کثیر الروایت نہیں لیکن پھر بھی براہ راست رسول اللہ ﷺ اور اپنے والدین سے احادیث رسول اللہ ﷺ نقل کرتے ہیں۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ دونوں بھائی بہت ہی عبادت گزار تھے، دونوں نے بار بار مدینہ سے مکہ تک پیدل سفر کر کے حج کئے ہیں۔ (2) اللہ کے راستہ میں کثرت سے مال خرچ کرتے تھے۔ جو دو سخاوات، ماں باپ اور نانا جان سے وراثت میں ملی تھی۔ ؓ وارضاہما۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
کتاب المناقب والفضائل کے عنوان کے تحت اب تک رسول اللہ ﷺ آپ کے صحابہ کرامؓ میں سے دس خاص صحابہ جن کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے جن میں خلفائے اربعہ بھی ہیں اور آپ کی اہل بیت یعنی آپ کی ازواج مطہرات اور بنات طیبات اور دونوں نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب کا بیان ہوا ہے اب یہاں سے کچھ اور مشہور صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا جائے گا۔ صحابہ کرام کے درمیان اگرچہ فرق مراتب ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ان الفاظ میں فرمایا ہے لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ (1) لیکن شرف صحابیت میں سب باہم شریک ہیں اور یہ ایسا شرف ہے جس کو کوئی بھی غیر صحابی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی بھی غیر صحابی خواہ کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ ہو کسی بھی صحابی سے خواہ وہ صحابہ کرام میں بڑے مقام و مرتبہ کا نہ ہو افضل نہیں ہو سکتا۔ (2)
شریعت کی اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے حالت اسلام میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو یا اسے آپ کی صحبت نصیب ہوئی ہو۔ خواہ ایک لمحہ کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔ (3)قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں صحابہ کرام کی فضائل و مناقب بہت کثرت کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں، اس سلسلہ میں پہلے ہم چند آیات قرآنی ذکر کرتے ہیں۔ پھر کچھ احادیث ذکر کریں گے جن میں عام صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہو گا۔ پھر خاص خاص صحابہ کرامؓ کے تذکرہ میں ہر ایک کے مخصوص فضائل و مناقب کا ذکر ہو گا۔
آیت ۱ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا .
(سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۴۳)
ترجمہ: اسی طرح ہم نے تم کو نہایت معتدل امت بنایا تا کہ تم (آخرت میں) لوگوں کے بارے میں گواہی دو اور رسول اللہ ﷺ تمہارے بارے میں گواہی دیں۔
اس آیت سے پہلے تحویل قبلہ کا ذخر ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جیسے تمہارا قبلہ نہایت صحیح اور معتدل قبلہ ہے اسی طرح تم (صحابہ کرام اور ان کے متبعین) بھی نہایت معتدل امت ہو اور تم آخرت میں دوسری امتوں کے بارے میں گواہ بناےئے جاؤ گے جیسا کہ نبی ﷺ تمہارے سلسلہ میں گواہ ہوں گے وسط کے معنی بالکل بیچ کا راستہ ہیں جو سب سے زیادہ سیدھا اور معتدل ہوتا ہے۔ یہ لفظ عربی زبان میں انتہائی تعریف اور مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرامؓ اور ان کے متبعین کے بڑے شرف اور عظمت کا ذکر ہے۔
آیت ۲ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ.
ترجمہ:سو جو لوگ ان (نبی ﷺ) پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی اتباع کی جو ان کے ساتھ اترا ہے۔ ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اس آیت میں بھی صحابہ کرامؓ کا ذکر ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے اور آپ کی تعظیم کرنے والے اور مدد کرنے والے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کا اتباع کرنے والے ہیں اور ایسے ہی لوگ دنیا و اخرت میں کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔
آیت ۳ لَـٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٨٨﴾ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(سورہ توبہ آیت نمبر ۸۸، ۸۹)
ترجمہ: لیکن رسول اللہ(ﷺ) اور جو لوگ ایمان لائے ان کےساتھ انہوں نے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کیا اور انہیں کے لئے ہیں ساری خوبیاں اور وہی ہیں کامیاب ہونے والے اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ لوگ ہمیشہ ان باغات میں رہنے والے ہیں اور یہی ہے بڑی کامیابی۔
اس آیت سے پہلے منافقین کا ذکر تھا کہ وہ حیلے بہانے کر کے جہاد سے بچنا چاہتے ہیں اور یہ بھی ذکر تھا کہ ان کی یہ حالت اس وجہ سے تھی کہ اللہ نے ہی ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ اپنے نفع و نقصان کو بھی نہیں سمجھ سکتے پھر صحابہ کرامؓ کی مذکورہ تعریف ہے کہ وہ اپنے جان و مال کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جس کا اجر و ثواب یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں انہیں کے لئے ہیں۔
آیت ۴ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(سورہ توبہ آیت نمبر ۱۰۰)
ترجمہ: مہاجرین اور انصار صحابہ کرامؓ (ایماب لائے ہیں) اور جو سابقین اولین جو ان کے متبعین ہیں نیکی کے کاموں میں، اللہ راضی ہو ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان باغات میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت میں ان صحابہ کرامؓ کی فضیلت کا ذکر ہے جو اولین ایمان لانے والے ہیں خواہ وہ مدینہ طیبہ کے رہنے والے انصار ہوں یا باہر سے آنے والے مہاجرین ہوں پھر یہ بھی مذکور ہے کہ اس فضیلت میں بعد ایمان لانے والے صحابہ کرام اور ان کے بعد اہل ایمان بھی شریک ہیں۔
آیت ۵ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا
(سورہ احزاب آیت نمبر ۲۳)
ترجمہ: مومنین میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کر دکھایا پھر ان میں بعض تو ایسے ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض (نذر کو پورا کرنے) کے منتظر ہیں۔
اس آیت کے شان نزول کے بارے میں امام ترمذیؒ نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ “حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضرؓ کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ آئندہ کوئی جہاد کا موقعہ عطا فرمائے گا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، پھر جب آئندہ سال ہی غزوہ احد کا واقعہ پیش آیا تو حضرت انس بن نضرؓ اس میں شریک ہوئے اور جان کی بازی لگا دی اور شہید ہو گئے ان کے جسم پر اسی سے زائد زخم تھے کسی طرح صورت پہنچانی نہ جاتی تھی ان کی بہن نے انگلیوں سے اپنے بھائی کو پہچانا۔ (1)” بعض دیگر صحابہ کرامؓ نے بھی اسی طرح کا عہد کیا تھا لیکن ابھی شہادت مقدر نہ تھی وہ منتظر شہادت رہے۔ مذکورہ آیت میں دونوں طرح کے صحابہ کرام کا ذکر ہے۔
آیت ۶ لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
(سورہ فتح آیت نمبر ۱۸)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ خوش ہوا مومنین سے جب کہ وہ بیعت کر رہے تھے تم سے درخت کے نیچے۔
اس آیت میں بیعت رضوان کا ذکر ہے اور اس آیت ہی کی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں اس کا قصہ یوں تھا کہ ذیقعدہ ۶ھ میں آپ صحابہ کی ایک جمیعت کے ساتھ مدینہ طیبہ سے عمرہ کے ارادے سے مکہ معظمہ کے لئے نکلے۔ ابھی راستے ہی میں تھے کہ آپ کو اطلاع ملی کہ اہل مکہ مزاحمت کے لئے تیار ہیں اور کسی طرح آپ کو اور آپ کے صحابہؓ کو عمرہ کی ادائیگی کے لئے بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپ نے مقام حدیبیہ میں قیام فرمایا اور اہل مکہ سے مصالحت کی گفتگو کرنے اور اپنی آمد کی غرض واضح کرنے کے لئے حضرت عثمانؓ کو مکہ بھیجا، اہل مکہ نے حضرت عثمانؓ کو نظر بند کر لیا۔ جب حضرت عثمانؓ کے آنے میں تاخیر ہوئی تو صحابہ کرام میں یہ خبر عام ہو گئی کہ حضرت عثمان شہید کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ نے اس وقت صحابہ۹ کرام سے جہاد و قتال پر بیعت لی تھی جس کا حاصل یہ تھا کہ اگر جنگ کی نوبت آئی تو آخر دم تک ساتھ دیں گے صحابہ کرامؓ نے پورے جوش و ولولہ اور صدق دل کے ساتھ آپ کے دست مبارک پر یہ بیعت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیعت پر اپنی خوشی اور رضامندی کا اظہار فرمایا۔ اس آیت کے بعد کئی آیات اسی واقعہ سے متعلق ہیں جن میں صحابہ کرام کی تعریف و توصیف اور ان پر اللہ کی عظیم احسانات کا تذکرہ ہے۔
آیت ۷ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖتَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ
(سورہ فتح آیت نمبر ۲۹)
ترجمہ: محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھی کافروں پر بہت سخت اور آپس میں نرم دل ہیں، تم ان کو رکوع و سجدے میں دیکھو گے وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے خواہاں ہیں۔ سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانیاں ہین یہی شان ان کی تورات اور انجیل میں مذکور ہے۔
یہ آیت بھی سورہ فتح کی آیت ہے اور سلسلہ کلام بھی بیعت رضوان کا ہے اس میں صحابہ کرام کی جو خوبیاں بیان فرمائی ہیں وہ کسی تفسیر و تشریح کی محتاج نہیں ہیں۔
آیت ۸ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ﴿٣٦﴾ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
(سورہ نور آیت نمبر ۳۷)
ترجمہ: پاکی بیان کرتے ہیں ان میں (مساجد میں) ایسے مرد جن کو تجارت اور خرید و فروخت غافل نہیں کرتی اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے وہ لوگ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔
اس سے پہلی آیت میں مساجد کا ذکر ہے اس آیت مین مساجد کو آباد کرنے والے مردان خدا کا تذکرہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے مساجد کو آباد کرتے ہیں اور جب مساجد سے باہر اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں تب بھی اللہ کی یاد اور اقات صلوٰۃ و ایتاء زکوٰۃ سے غافل نہیں ہوتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روز قیامت سے ڈرتے ہیں۔
صحابہ کرام کا تذکرہ اور ان کی توصیف و تعریف اور ان کے مناقب و فضائل کا بیان قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات میں ہے۔ تطویل کے خیال سے صرف ان ہی آیات پر اکتفا کرتا ہوں۔ اس کے بعد اسی سلسلہ کی چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ جن میں صحابہ کرام کے فضائل و مناقب اور شرف صحابیت کی عظمت کا ذکر ہے۔
حدیث ۱ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
(صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۱۰)
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
یہ روایت صحیح مسلم کی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ہیں اسی طرح صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ (1) ہیں سب ہی روایات کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی جماعت سب سے بہتر جماعت ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیاجا چکا ہے کہ جماعت صحابہ کرامؓ کی افضلیت پر امت کا اجماع ہے۔
مشہور محدث حافظ ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول بایں الفاظ نقل کیا ہے۔ إن الله نظر في قلوب العباد فاختار محمدا صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه، ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختار له أصحابا فجعلهم أنصار دينه ووزراء نبيه صلى الله عليه وسلم. (2) (ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہین کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے قلوب پر نظر ڈالی اور ان سب میں اپنے علم کے مطابق حضرت محمد ﷺ کو منتخب فرمایا اور اپنی رسالت کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا پر آپ کے بعد لوگوں کے قلوب پر نظر ڈالی تو کچھ لوگوں کو آپ کے اصحاب اور اپنے دین کے ناصر و مددگار اور آپ کے وزراء اور نائبین کے طور پر منتخب فرماایا۔) یعنی صحابہ کرام اللہ کے چیدہ اور منتخب بندے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد ان صحابہ کرام سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہے۔ یہ اللہ کے دین کے ناصر و مددگار اور آپ ﷺ کے وزیر ہیں۔
انہیں حافظ ابو نعیم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے: اولئك اصحاب محمد كانوا خير هذه الامة ابرها قلوبا واعمقها علما واقلها تكلفا قوم اختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه (3) یہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب اس امت کے بہترین لوگ ہین۔ ان کے قلوب سب سے زیادہ نیک و صالح اور ان کا علم سب سے زیادہ عمیق ہے یہ پوری امت میں سب سے کم تکلف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور اپنے دین کی تبلیغ کے لئے ان کا انتخاب فرمایا ہے۔
حدیث ۲ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ. (4)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر (بغرض جہاد) روانہ کیا جائے گا اور (بوقت جہاد) لوگ اس تلاش و جستجو میں ہوں گے کہ کیا اس لشکر مین کوئی صحابی ہے، ایک صحابی اس لشکر میں مل جائیں گے اور انہیں کی برکت سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لشکر کو فتح نصیب فرمائیں گے۔
حدیث کے مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کی روایت کے ہیں۔ صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث الفاظ کے معمولی سے اختلاف کے ساتھ حضرت ابو سعید خدریؓ ہی سے روایت کی گئی ہے۔ اس حدیث کا حاصل جیسا کہ ترجمہ سے بھی ظاہر ہے صحابہ کرامؓ کی منقبت اور ان کی خیر و برکت کا اظہار فرمانا ہے۔
حدیث ۳ عن أبي موسى الاشعرى رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» (1)
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا وجود و بقا میری صحابہ کرامؓ کی حفاظت اور امن و سلامتی کا ذریعہ ہے اور میرے صحابہ کرام کا وجود میری امت کے امن و امان اور سلامتی کا ذریعہ ہے۔ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد صحابہ پر وہ حوادث پیش آئیں گے جن کے بارے میں میں آگاہ کر چکا ہوں اور صحابہ کے دنیا سے ختم ہو جانے کے بعد پوری امت ان خطرات سے دو چار ہو گی جن سے میں آگاہ کر چکا ہوں۔
یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے۔ امام نوویؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جن خطرات سے آگاہ فرمایا تھا وہ واقع ہوئے اور آپ کے بعد صحابہ کرامؓ کی جماعت میں اختلاف رائے اور اس کے نتیجہ میں قتل و قتال اور فتنوں کا ظہور ہوا سی طرح صحابہ کرامؓ کی جماعت کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بدعات کا ظہور اور دینی فتنوں اور حوادث کا وقوع ہوا جن کی نشاندہی آپ نے فرما دی تھی۔
حدیث ۴ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدرى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ» (2)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ مین سے کسی کو بھی برا نہ کہو اس لئے کہ (وہ اتنے بلند مقام اور اللہ کے محبوب ہیں) تم اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو گے تب بھی ان کے ایک مد بلکہ نصف مد خرچ کرنے کے برابر بھی ثواب کے مستحق نہ ہو گے۔
حدیث کے ابتدائی حصہ میں یہ ذخر کیا گیا ہے کہ حضرت خالد بن الولیدؓ نے کسی بات پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو کچھ نامناسب الفاظ کہہ دئیے تھے جس پر آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جلیل القدر صحابی اور عشرہ مبشرہ میں ہیں، حضرت خالدؓ بن الولید اپنی جلالت شان کے باوجود عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے درجے کے صحابی نہیں ہیں۔ جب حضرت خالدؓ اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے درمیان اتنا فرق مراتب ہے تو صحابہ کے بعد کے لوگوں اور صحابہ کرام کے درمیان درجات کا تفاوت اور بھی بہت زیادہ ہو گا۔ احد پہاڑ مدینہ طیبہ کا ایک پہاڑ ہے اور مد تو ایک چھوٹا سا پیمانہ ہے جو آج کل تقریبا صرف ایک کلو وزن کے برابر ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کا یہ مقام ان کی صحابیت کی بنیاد پر ہے۔
حدیث ۵ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (1)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کرامؓ کے (حقوق کی ادائیگی کے) بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، ان کو میرے بعد (سب و شتم اور طعن و تشنیع کے لئے) تختہ مشق نہ بنانا (اور یہ بھی سمجھ لو کہ) جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی ہے اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض ہی کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ہے اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف دی اور اس کا پورا خطرہ ہے کہ (اللہ) ایسے شخص کو (دنیا و آخرت میں) مبتلا عذاب کر دے۔
حدیث کا مطلب ترجمہ ہی سے واضح ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں صحابہ کرامؓ کے بارے میں احتیاط سے کام لیں، ان کی تکریم و تعظیم اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا لحاظ رکھیں۔ کسی قسم کی بے توقیری ان کے بارے میں نہ کریں ورنہ دنیوی یا اخروی عذاب کا خطرہ ہے۔
پھر یہ بھی ملحوظ رہے کہ صحابیت کے اس شرف میں تمام صحابہ کرامؓ شریک ہیں خواہ وہ اپنے زمانہ کفر میں اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے کتنے ہی مخالف کیوں نہ رہے ہوں اور انہوں نے آپ ﷺ اور مسلمانوں کی کتنی ہی مخالفت بلکہ دل آزاری اور ایذار رسانی ہی کیوں نہ کی ہو، اس سلسلے میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد پڑھ لیجئے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فى هذا الامر كرههم.
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ تم لوگ اسلام کے معاملہ میں بہترین شخص ایسے شخص کو پاؤ گے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام کا انتہائی مخالف رہا ہو۔
له قبل ان يقع فيه(2)
صحابہ کرام میں اس حدیث کی تائید میں بےشمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ اس کی سب سے واضح مثال ہیں، اسی طرح حضرت عمرو بن العاص، حضرت ثمامہ بن اثال اور بہت سے صحابہ کرام کے نام بطور مثال بیش کئے جا سکتے ہیں جن کی زمانہ کفر میں اسلام دشمنی اور اسلام لانے کے بعد آپ اور اسلام سے محبت دونوں حد انتہا کو پہنچتی ہوئی تھیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اپنی دونوں حالتیں خود ذکر کی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ زمانہ کفر میں کوئی شخص بھی میرے مقابلہ میں آپ ﷺ سے زیادہ بغض رکھنے والا نہیں تھا اور میری آخری درجہ کی خواہش تھی کہ کبھی موقع مل جائے تو میں آپ کو شہید کر دوں لیکن اسلام لانے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی کہ آپ سے زیادہ محبوب میری نظر میں کوئی نہ تھا اور میرے دل میں آپ کی عظمت و جلالت کا یہ حال تھا کہ میں نظر بھر کر آپ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا۔ (1)
حضرت ثمامہ بن اثال نے) بھی ایمان لانے کے بعد تقریباً انہی الفاظ میں رسول اللہ ﷺ سے اپنے قلبی جذبات کا اظہار کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایمان لانے سے پہلے سب سے زیادہ مبغوض شخص میری نگاہ میں آپ تھے اور اب کوئی بھی آپ سے زیادہ محبوب نہیں اسی طرح ایمان لانے سے پہلے آپ کا دین تمام ادیان میں سب سے زیادہ مبغوض تھا اور اب تما دینوں میں سب سے زیادہ محبوب دین ہے۔ پہلے آپ کے وطن مدینہ سے بےحد نفرت تھی اور اب میری نگاہ میں مدینہ طیبہ سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ (2)
عام صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کی احادیث کتب حدیث میں بڑی کثرت سے نقل کی گئی ہیں یہاں خوف تطویل مانع ہے ورنہ اور بھی روایات نقل کی جا سکتی ہیں۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ
رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ نبوت کے دوسرے سال ہی ایمان لے آئے تھے، ان کو بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ سے انس و محبت اور قریبی تعلق تھا۔ چچا ہونے کے علاوہ آپ رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بھائی بھی تھے، دونوں کو ابو لہب کی باندی ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، (3) علاوہ ازیں آپ کی والدہ اور حضرت حمزہؓ کی والدہ حقیقی چچازاد بہنیں بھی تھیں۔ (4) پھر عمر میں بھی حضرت حمزہ دو چار سال ہی بڑے تھے، ان مختلف وجوہات سے ان کو رسول اللہ ﷺ سے بہت محبت اور تعلق خاطر تھا۔ اور بظاہر یہی محبت و تعلق خاطر ان کے اسلام لانے کا سبب بن گیا، وہ شکاری تھے۔ ایک دن شکار کھیل کر آئے تو باندی نے خبر دی کہ آج ابو جہل نے تمہارے بھتیجے محمد (ّ ﷺ) کو ان کے منہ پر بہت برا بھلا کہا ہے وہ فوراً ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کی گستاخی پر اپنی شدید ناگواری کے اظہار کے ساتھ اپنے ایمان لانے کا بھی اظہار کر دیا، پھر اس دن سے زندگی بھر آپ ﷺ کا ساتھ نبھایا، آپ کے مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے پر خود بھی مدینہ آ گئے اور آکر غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
حضرت حمزہؓ اہل مکہ کی نظر میں بڑے معزز، محترم، باوقار اور شجاعت و دلیری میں ضرب المثل تھے، اسی لئے ان کے اسلام لانے سے مشرکین مکہ کو بہت دھکا لگا، اب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی ایذا رسانی میں کچھ محتاط ہو گئے۔ (1) مشرکین نے جب رسول اللہ ﷺ اور خاندان بنی ہاشم کو شعب ابی طالب میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا تھا حضرت حمزہؓ اس میں بھی آپ کے ساتھ تھے، غزوہ بدر جو غزوات میں سب سے پہلا اور ممتاز ترین غزوہ ہے اس میں حضرت حمزہؓ نے شرکت فرمائی ہے۔ (2) پھر دوسرے سال غزوہ احد میں بھی اپنی بہادری اور جانبازی کے جوہر دکھلائے ہیں، اسی غزوہ میں وہ شہید ہو گئے ہیں، لیکن شہادت سے پہلے وہ تیس یا اس سے بھی زیادہ کافروں کو قتل کر چکے تھے۔ (3)
ان کی شہادت کا واقعہ ان کے قاتل وحشی (جو بدر میں اسلام لے آئے تھے) کی زبانی سنئے: حضرت وحشیؓ نے اسلام لانے کے بعد بیان کیا کہ میں جبیر بن(4) مطعم کا غلام تھا اور جبیر کے چچا طعیمہ بن عدی کو حضرت حمزہؓ نے غزوہ بدر میں قتل کر دیا تھا، میرے مالک جبیر نے مجھ سے کہا کہ اگر میرے چچا کے قاتل حمزہ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو، میں چھوٹے نیزے کو پھینک کر مارنے میں ماہر تھا، غزوہ احد میں میں ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور موقع کی تاک میں رہا مین نے دیکھا کہ حضرت حمزہؓ نے سباع بن عبدالعزی نامی ایک کافر کا تلوار کے ایک وار ہی میں کام تمام کر دیا۔ میں انتظار میں رہا جیسے ہی حضرت حمزہؓ میری زد میں آئے میں نے اپنا نیزہ ان کی طرف پھینک کر مارا جو ان کے ناف کے نیچے لگا اور آر پار ہو گیا۔ (5)
فضائل
حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے چچا، رضاعی اور خالہ زاد بھائی اور آپ کے مشہور صحابی ہیں، غزوہ احد میں شہادت سے سرفراز ہوئے اور زبان نبوت سے سید الشہداء کا لقب پایا۔ (6) رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اسد اللہ کا خطاب دیا۔ (7) ان کی شہادت کے بعد مشرکین مکہ نے ان کا مثلہ کیا تھا اور اعضا جسم کو کاٹ ڈالا تھا۔ (8) غزوہ احد کے خاتمہ پر جب تجہیز و تکفین کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت حمزہؓ کی بہن صفیہؓ بنت عبدالمطلب اپنے بھائی کے کفن کے لئے دو چادریں لے کر آئیں آپ ﷺ نے اس خیال سے کہ صفیہؓ بھائی کا یہ حال دیکھ کر شاید صبر و ضبط نہ کر سکیں، حضرت صفیہؓ کے صاحبزادہ زبیرؓ کو بھیجا کہ اپنی ماں کو منع کریں کہ حضرت حمزہؓ کو نہ دیکھیں، پہلے تو وہ باز نہ آئیں لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم ہے تو باز آ گئیں، دو چادریں جو بہن اپنے بھائی کے کفن کے لئے لائی تھیں ان میں سے بھی بھائی کو ایک ہی مل سکی اس لئے کہ حضرت حمزہؓ کے پاس ہی ایک انصاری صحابی شہید پڑے ہوئے تھے، ایک چادر ان کو دے دی گئی اور حضرت حمزہؓ کو صرف ایک چادر میں کفن دیا گیا جو اتنی چھوٹی تھی کہ سر ڈھکتے تو پاؤں کھل جائے، اور پاؤں ڈکھتے تو سر کھل جاتا، آخر سر کو چادر سے ڈھک کر پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈال دی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو حضرت حمزہؓ کی شہادت پر غیر معمولی صدمہ ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر صفیہؓ کے رنج و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں حمزہؓ کو ایسے ہی بےگور و کفن چھوڑ دیتا، تا کہ روز قیامت و ہ درندوں اور پرندوں کے پیٹ سے نکل کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوتے۔ (1)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے اندر رکھ دیا ہے، وہ پرندے جنت کی نہروں میں پانی پیتے اور اس کے پھلوں کو کھاتے ہین عرش رحمانی کے نیچے (ان کے گھونسلوں کے لئے) سونے کی قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں جن میں آرام کرتے ہیں، انہوں نے اپنی اس خوش حالی اور آرام و راحت کی خبر اپنے دنیوی بھائیوں تک پہنچانے کی خواہش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے آیات کریمہ:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
(آل عمران آیت نمبر ۱۶۹ تا نمبر ۱۷۱)
ترجمہ: اور تم ان لوگوں کو جو اللہ کے راستہ میں شہید ہو گئے ہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے ہیں۔ وہ اللہ کی عنایات پر بےانتہا خوش ہیں اور (اس پر بھی) خوش ہوتے ہیں کہ ان کے پسماندگان کو نہ خوف ہے نہ غم، وہ خوش ہیں اللہ کی نعمت اور فضل و کرم پر اور اس پر بھی کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ
رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ عمر میں آپ ﷺ سے دو سال بڑے تھے لیکن عمر کے اس فرق کو واضح کرنے کے لئے وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ میں آپ ﷺ سے بڑا ہوں، بلکہ جب کوئی سوال کرتا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ ﷺ تو وہ جواب میں کہتے کہ هو اكبر وانا ولدت قبله (2) یعنی بڑے تو رسول اللہ ﷺ ہی ہیں ہاں پیدا پہلے میں ہوا تھا۔ ان کو رسول اللہ ﷺ سے بہت تعلق خاطر تھا۔ مسلمان ہونے سے پہلے بھی آپ کی حمایت کرتے تھے۔
نبوت کے بارہویں سال مدینہ طیبہ کے ایک گروہ نے مکہ معظمہ کے قریب رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی تھی، اس موقع پر حضرت عباسؓ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے موجود تھے انہوں نے اہل مدینہ سے کہا تھا کہ یہ (محمد ﷺ) تم کو لوگوں کے یہاں جانا چاہتے ہیں اگر تم لوگ مرتے دم تک حمایت کا دم بھرتے ہو تب تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے جوابدے دو۔ (1) غزوہ خیبر کے فوراً بعد حجاج بن علاطؓ نامی صحابی نے جن کا اسلام اہل مکہ کے علم میں نہ تھا، اپنی ایک مجبوری اور رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے مکہ آ کر یہ ذکر کر دیا کہ محمد ﷺ غزوہ خیبر میں بری طرح شکست کھا گئے ہیں یہ اطلاع جب حضرت عباسؓ کو ہوئی تو بےقرار ہو گئے اور گھبرائے ہوئے حجاج بن علاطؓ کے پاس آئے۔ حضرت حجاجؓ نے خاموشی سے انہیں آپ کی فتح یابی کی خبر دی اور اپنی مجبوری بتلائی جس کی بنا پر انہوں نے یہ خبر پھیلائی تھی۔ تب جا کر حضرت عباسؓ کو اطمینان نصیب ہوا۔ (2)
حضرت عباس دراز قد، وجیہہ و باوقار، انتہائی حلیم و بردبار اور بلند آواز تھے۔ سربراہی اور سیادت کے تمام اوصاف آپ کے اندر پائے جاتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں سقایۃ الحاج (حجاج کرام کو پانی پلانے) اور عمارۃ المسجد (مسجد حرام کا اہتمام و انصرام) کی ذمہ داری (جو بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی) ان کے ہی ذمہ تھی، (2) غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ کے ساتھ مجبوراً آئے، لیکن آپ ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ ان کو قتل نہ کیا جائے، صحابہ کرامؓ نے ان کو قید کر لیا، ان کے پاس اس وقت بیس (۲۰) اوقیہ (ایک وزن کا نام ہے) سونا تھا۔ جب بات فدیہ کی آئی تو حضرت عباسؓ نے آپ سے کہا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں، آپ نے فرمایا
الله اعلم بشانك ان يك ما تدعى حقا فالله يجزيك اما ظاهر امرك فقد كان علينا فافد نفسك. (4)
ترجمہ: یعنی حقیقت حال تو اللہ جانے اگر تم اپنے دعوہ اسلام میں سچے ہو تو اللہ تم کو اس کا بدلہ عطا فرمائے گا، رہا ہمارا معاملہ تو ہم تو ظاہر حال کے مطابق ہی عمل کریں گے لہذا فدیہ دیجئے۔
اس پر حضرت عباسؓ نے کہا کہ یہ بیس (۲۰) اوقیہ سونا جو میرے پاس ہے فدیہ میں لے لیجئے۔ آپ نے فرمایا یہ تو اللہ نے بطور غنیمت ہمیں عنایت ہی فرما دیا ہے آپ فدیہ کی ادائیگی کے لئے مکہ سے مال منگوائیے انہوں نے کہا کہ میرے پاس مکہ میں بھی اس کے سوا اور مال نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا مکہ سے روانہ ہوتے وقت آپ چچی کے حوالہ جو مال کر آئے تھے اسے منگوا لیجئے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا کہ میں تو جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اس مال کا علم میرے اور آپ کی چچی کے سوا کسی کو نہ تھا (5) اور واقعہ میں دو جگہ حضرت عباسؓ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے سے ہی اسلام لا چکے ہیں، اسی لئے بعض سیرت نگار یہ لکھتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر کے معاً بعد اسلام لائے اور اہل مکہ سے اپنے اسلام کو چھپاتے اور رسول اللہ ﷺ کو اہل مکہ کی خبریں بھیجتے رہتے تھے۔ (1)
اگر اس وقت ان کا مسلمان ہونا تسلیم نہ کیا جائے تب بھی بہرحال یہ تو طے ہی ہے کہ وہ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے، اسی وجہ سے وہ ابو سفیان بن حرب کو اپنی پناہ میں لے سکے تھے اور اسی لئے وہ طلقاء مکہ میں بھی شمار نہیں ہوتے ہیں، طلقاء مکہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی شان کریمی سے ان کو معاف فرما دیا تھا۔
فضائل
آپ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں اور آپ ہی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ:
ايها الناس من اذى عمى فقد اذانى فانما عم الرجل صنوابيه. (1)
ترجمہ: اے لوگو! جس نے میرے چچا کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس لئے کہ کسی بھی شخص کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور صحابہ کرام بھی حضرت عباسؓ کی عظمت شان کے معترف تھے، امام بغویؒ حضرت عباسؓ کے بارے میں لکھتے ہیں:
كان العباس اعظم الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم والصحابة يعترفون للعباس بفضله ويشاورونه ويأخذون رايه. (2)
ترجمہ: حضرت عباسؓ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک عظیم ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے صحابہ کرام بھی ان کی فضیلت کے معترف تھی، ان سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے پر عمل کرتے تھے۔
جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے انہیں بھی رسول اللہ ﷺ سے بڑی محبت تھی۔ غزوہ حنین میں ایک مواقع ایسا آیا کہ عام صحابہ کرام کے قدم اکھڑ گئے تھے اور آپ تقریباً تنہا رہ گئے تھے، لیکن ایسے نازک وقت میں بھی حضرت عباس آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ (3)
ایک بار حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ خلافت میں قحط پڑ گیا تھا، حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سے بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی، حضرت عباسؓ نے دعا کی اور اللہ نے باران رحمت نازل فرمائی۔ (4)
رسول اللہ ﷺ حضرت عباسؓ اور ان کی اولاد کے لئے اہتمام سے دعا فرماتے تھے، اسی سلسلہ کی ایک دعا کے الفاظ یہ ہیں:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لاَ تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ. (1)
ترجمہ: اے اللہ عباسؓ اور ان کی اولاد کے تمام ظاہری و باطنی گناہ معاف فرما دیجئے اور اے اللہ ان لوگوں کی ایسی مغفرت فرما دیجئے جو کوئی گناہ باقی نہ رہنے دے، اے اللہ عباسؓ کی حفاظت فرما ان کی اولاد کے بارے میں۔
دعا کا مطلب تو ترجمہ سے ہی واضح ہے، دعا کے آخری جملہ اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ کا مطلب بظاہر یہ ہو گا کہ، اے اللہ حضرت عباس کی حفاظت فرما کر ان سے اپنی اولاد کے سلسلہ میں بھی کوئی غلط کام نہ ہو پائے۔ اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں فرمایا تھا۔
إِن يَعْلَمِ اللَّـهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ (2)
(سورہ انفال آیت نمبر ۷۰)
ترجمہ: یعنی اس وقت تو فدیہ ہی دینا ہے، لیکن اگر تمہارے دلوں میں ایمان ہو گا تو تم کو اس فدیہ کے مال سے بہتر مال بھی ملے گا اور اللہ تعالیٰ گناہ بھی معاف فرما دے گا۔
حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ جو مال مجھ سے بطور فدیہ لیا گیا تھا۔ اللہ نے مجھے اس مال سے بہت زیادہ مال بھی عطا فرمایا اور مجھے امید ہے کہ میرا اللہ آخرت میں بھی میرے ساتھ مغفرت کا معاملہ فرمائے گا۔
اولاد
حضرت عباسؓ کیاولاد مین چھ بیٹے فضلؓ، عبداللہؓ، عبیداللہؓ، قثمؓ، عبدالرحمٰنؓ اور معبدؓ تھے۔ ایک بیٹی ام حبیبؓ تھیں۔ فضلؓ سب سے بڑے تھے۔ عبداللہؒ سب سے زیادہ مشہور اور ذی علم ہوئے ہیں۔
وفات
حضرت عباسؓ کی وفات ۳۲ھ میں حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر اسی سال سے متجاوز ہو چکی تھی، غسل میں حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور عبداللہ بن عباسؓ شریک تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ
رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کے صاحبزادہ حبر الامۃ امام التفسیر و ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی اپنے والد حضرت عباس اور والدہ ام الفضل ؓ کے ساتھ فتح مکہ سے چھ پہلے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ چلے آئے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر کل تیرہ سال تھی، ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے کا موقع تو بہت کم ملا، لین ذوق و شوق اور طلب علم نے اس کمی کی تلافی کر دی۔
فضائل
حضرت عباسؓ کے تذکرہ میں یہ بات گذر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور ان کی اولاد کے لئے دعا فرمائی تھی، خاص طور پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو علم و حکمت تفقہ فی الدین اور علم تفسیر قرآن کی جو دعائیں زبان نبوت سے ملی ہیں، ان کی مثال اور کہیں مشکل سے ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ خود رواوی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے میں نے آپ کے تشریف لانے سے پہلے ہی وضو کے لیے پانی بھر کر رکھ دیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ پانی کس نے رکھاہے، میں نے عرض کیا میں نے رکھا ہے، آپ نے میرے لئے دعا فرمائی۔
اللهم! فقهه في الدين (1)
ترجمہ: اے اللہ ان کو تفقہ فی الدین عطا فرما۔
یہ روایت مسلم کی ہے، بعض دوسری روایتوں میں اللهم! فقهه في الدين کے ساتھ وعلمه التأويل کا (1) اضافہ بھی ہے، یعنی تفقہ فی الدین کے ساتھ قرآن کی تفسیر کا علم بھی عطا فرما دیجئے، ترمذی کی روایت میں ہے، ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے سینہ مبارک سے چمٹا لیا اور دعاس فرمائی اللهم علمه الحكمة (3) اے اللہ ان کو حکمت یعنی دین کا صحیح علم عطا فرما۔ اسی مضمون کی دعائیں الفاظ کے کسی قدر فرق کے ساتھ حدیث و سیرت کی متعدد کتابوں میں مذکور ہیں، انہیں دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اکابر صحابہ کرام بھی آپ کو حبر الامہ، ترجمان القرآن، بحر العلم، امام التفسیر جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
نعم ترجمان القرآن ابن عباس لو ادرك اسناننا ما عاشره منا احد. (4)
ترجمہ: ابن عباسؓ بہترین مفسر قرآن ہیں، اگر وہ ہم لوگوں کی عمر پاتے ہم میں سے کوئی بھی ان کے مساوی نہ ہو سکتا تھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں:
ما رأيت أحدا أحضر فهما ولا ألب لبا ولا أكثر علما ولا أوسع حلما من ابن عباس! لقد رأيت عمر بن الخطاب يدعوه للمعضلات فيقول: قد جاءتك معضلة، ثم لا يجاوز قوله، وإن حوله لأهل بدر. (5)
ترجمہ: یعنی میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے زیادہ حاضر دماغ، عقلمند، صاحب دعلم اور حلیم و بردبار شخص نہیں دیکھا (اس کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ) حضرت عمرؓ مشکل مسائل کو حل کرنے کے لئے ابن عباسؓ کو بلاتے اور کہتے ایک مشکل مسئلہ پیش آ چکا ہے۔ پھر ان کے قول کے مطابق ہی عمل کرتے حالانکہ ان کی مجلس میں بدری صحابہ بھی موجود ہوتے تھے۔
حضرت عمر فاروق ؓ، ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
ذالك فتى الكهول له لسان سئول وقلب عقول. (1)
ترجمہ: یہ ایسے نوجوان ہیں جنہیں پختہ عمر لوگوں کا فہم و بصیرت حاصل ہے، ان کی زبان علم کی جویا اور قلب علم کا محافظ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو کہتے ابن عباسؓ سے پوچھو ھو اعلم الناس بما انزل علی محمد ﷺ وہ قرآن کے سب سے بڑے عالم ہیں۔ (2) اسی لئے حضرت عمرؓ ان کو اکابر صحابہ کرام کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ ان کے اس بلند مقام تک پہنچنے میں رسول اللہ ﷺ کی خصوصی توجہات اور عنایات کے علاوہ ان کی طلب اور ذوق و شوق کو بھی بڑا دخل تھا، اور ظاہر ہے یہ ذوق و طلب بھی آپ کی دعاؤں ہی کا نتیجہ تھا وہ خود اپنے ذوق و شوق اور طلب علم کا حال ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا آؤ صحابہ کرام سے علم حاصل کر لیں ابھی تو وہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں، ان صحابی نے کہا ابن عباسؓ مجھے تم پر تعجب ہوتا ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ تحصیل علم کے لئے تمہارے محتاج ہوں گے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں ان کا جواب سن کر میں نے انصاری صحابی کو چھوڑ دیا اور خود اکابر صحابہکرام کے پاس جا جا کر رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور دین کا علم حاصل کرنا شروع کر دیا، اس سلسلہ میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث فلاں صحابی کے پاس میں ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، یہ سن کر میں نے چادر بچھائی اور ان کے دروازہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا، ہواؤں نے میرے سر اور جسم پر گرد و غبار لا کر ڈال دیا اتنے میں وہ صحابی نکل آئے اور مجھے اس حال میں دیکھ کر کہا آپ رسول اللہ ﷺ کے بھائی ہیں، آپ مجھے بلا لیتے میں حاضر ہو جاتا آپ نے کیوں زحمت فرمائی میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ہے میں وہ حدیث آپ سے حاصل کرنے آیا ہوں اور اس کام کے لئے میرا آنا ہی زیادہ مناسب ہے۔ کہتے ہیں میری طالب علمی کا یہ سلسلہ جاری رہا وہ انصاری صحابی مجھے دیکھتے رہے، آخر ایک وقت ایسا آیا کہ اکابر صحابہ کرامؓ دنیا سے رخصت ہو گئے اور لوگ طلب علم کے لئے میرے پاس آنے لگے اب وہ انصاری صحابی کہتے ہیں، یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقلمند نکلا۔ (3) طلب علم میں ان کے یہاں قناعت پر عمل نہ تھا ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لئے کئی کئی صحابہ کرامؓ سے ملتے، فرماتے ہیں کہ:
ان كنت لا سأل عن الامر الواحد ثلاثين من اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم. (1)
ترجمہ: میں ایک حدیث یا ایک مسئلہ کو تیس (۳۰) تیس صحابہ کرامؓ سے معلوم کرتا تھا۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد سے قرآن مجید کی تفسیر اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث حاصل کی ہیں جن صحابہ کرام سے انہوں نے روایات لی ہیں ان کی تعداد بہت ہے اور جن تابعین نے ان سے روایات نقل کی ہیں وہ بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ ان کا شمار ان چھ (۶) سات (۷) صحابہ کرام میں ہے جن کو مکثرین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔ ان کی روایات کردہ احادیث کی تعداد ۶۶ یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ (2) وہ اپنی عمر کے اعتبار سے اگرچہ بڑے صحابہ کرامؓ کی صف میں نہیں ہیں۔ لیکن اپنے علم کے اعتبار سے ان کا شمار بڑے درجہ کے صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے۔ حضرت مجاہد تابعیؒ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ کو ان کے علم کی وجہ سے لوگ بحر العلوم کہتے تھے۔ حضرت طاؤسؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے زیادہ صاحب علم نہیں دیکھا، صحابہ کرام میں اگر کسی علمہ مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو آخر میں فیصلہ ابن عباسؓ کے قول پر ہوتا۔ (3) وہ بہت ہی حسین و جمیل اور وجیہہ تھے۔
۶۸ھ میں طائف میں وفات پائی۔ حضرت محمد بن الحنفیہ (جو حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں) نے نماز پڑھائی اور کہا۔
اليوم مات ربانى هذه الامة. (4)
ترجمہ: آج اس امت کا ایک اللہ والا چلا گیا۔
حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ
رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے بھائی حضرت جعفر طیار ؓ، بالکل ابتداء اسلام ہی میں شرف اسلام و صحابیت سے مشرف ہونے والی خوش نصیب و بلند مرتبت صحابہ کرام میں ہیں۔ (5) وہ عمر میں حضرت علی ؓ سے دس سال بڑے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ بھی اسلام کے ابتدائی دور ہی میں مشرف بہ اسلام ہو گئی ہیں۔ حضرت علی ؓ کے سب بہن بھائی اور ان کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ؓ بھی جلد ہی ایمان لانے والے حضرات صحابہ کرام میں شامل ہیں۔
حضرت جعفر ؓ، حضرت علی ؓ، سے دس سال بڑے اور رسول اللہ ﷺ سے بیس سال چھوٹے ہیں۔ (1)
اسلام کے ابتدائی دور میں چند صحابہ کرام مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور ایذار رسانیوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ملک حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اگرچہ عیسائی مذہب کا تھا لیکن سلامتی مزاج اور وسعت قلبی بتوفیق خداوندی نصیب تھی۔ اس لئے مسلمانوں کو وہاں کچھ سکون محسوس ہوا۔ یہ حبشہ کی پہلی ہجرت تھی، اس کے بعد صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت (جس کے شرکاء کی تعداد تقریباً نو سو (۹۰۰) بتلائی جاتی ہے) نے دوسری ہجرت اسی ملک حبشہ کو کی، اس جماعت میں حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ اور ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ بھی تھیں۔ جب یہ لوگ بھی حبشہ پہنچ گئے تو مشرکین مکہ نے ایک نمائندہ وفد کثیر اور گرانقدر تحائف کے ساتھ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی خدمت میں بھیجا۔
وفد نے درجہ بدرجہ درباری علماء اور احکام کو ہدایا اور تحائف پیش کر کے اپنا ہمنوا بنا لیا اور بادشاہ تک رسائی حاصل کر لی، پھر بادشاہ سے اپنا مقصد بایں الفاظ عرض کیا: “ہمارے شہر مکہ کے کچھ نوجوانوں نے ایک نیا مذہب ایجاد کر لیا ہے جو باعث فتنہ و شر ہے، ان میں سے کچھ لوگ بھاگ کر آپ کے یہاں آ گئے ہیں، ہم اپنے قوم کے ذمہ دار لوگوں کی یہ درخواست لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ ان لوگوں کو ہمارے حوالہ کر دیا جائے۔ رشوت کھائے ہوئے درباری علماء و حکام نے اس بات کی تائید کی اور کہا کہ ان لوگوں کو ملک نے نکال دیجئے اور ان کی قوم کے حوالہ کر دیجئے، لیکن نجاشی نے صورت حال معلوم کرنے کے لئے ان مہاجرین کو بلا بھیجا، ان حضرات نے بادشاہ سے بات کرنے کے لئے حضرت جعفر ؓ کا انتخاب کیا، جب یہ حضرات بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو بادشاہ نے ان سے سوال کیا کہ۔ “وہ کون سا دین تم لوگوں نے ایجاد کر لیا ہے، جس کی وجہ سے تم نے اپنے آباء و اجداد کے دین کو بھی چھوڑ دیا ہے اور ادیان سابقہ میں سے بھی کوئی دین اختیار نہیں کیا ہے”۔ حضرت جعفر ؓ کھڑے ہوئے اور بادشاہ کے سامنے ایک نہایت فصیح و بلیغ خطبہ دیا اور کہا۔
بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے، بت پرستی کرتے اور مردار کھاتے تھے، فواحش کا ارتکاب کرتے اور قطع رحمی کرتے ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہم میں کے طاقتور کمزوروں اور ضعیفوں کا استحصال کرتے تھے، اسی اثناء میں اللہ نے ہم میں ایک پیغمبر مبعوث فرمایا جس کی نجابت و شرافت، حق گوئی و امانتداری اور پاکدامنی کے ہم سب پہلے ہی سے معترف تھے اللہ کے ان پیغمبر نے ہمیں صرف اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور ہم سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہم اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے خود ساختہ بتوں کی عبادت ترک کر دیں، انہوں نے ہم کو سچ بولنے، امانتوں کو ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے اور ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا۔ ان کی تعلیمات میں یہ بھی ہے کہ ہم ہر طرح کی برائیوں اور فحاشیوں سے پرہیز کریں، ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں، جھوٹ بولنے یتیم کا مال کھانے، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے اجتناب کریں، انہوں نے ہمیں توحید خالص کی دعوت دی ار روزہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا۔
بادشاہ سلامت! ہم نے ان پیغمبر کی اور ان کی دین کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے۔ بس ہمارا جرم یہی اور صرف یہی ہے اور اسی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہو گئی اس نے ہمیں انتہائی سخت تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں کہ ہم اپنے آسمانی دین کو ترک کر کے پھر بت پرستی اور دین جاہلیت کو اختیار کر لیں۔ ان لوگوں کے ظلم و ستم اور ایذا رسانی سے تنگ آ کر ہم لوگ آپ کے ملک آ گئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہاں ہم اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہ سکیں گے۔
حضرت جعفرؓ کی بات ختم ہونے پر بادشاہ نجاشی نے کہا، کیا تمہارے پاس تمہارے نبی (ﷺ) پر نازل ہونے والی کتاب کا کچھ حصہ بھی ہے، حضرت جعفر ؓ، نے سورہ مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی، ابھی چند آیات ہی کی تلاوت کی تھی کہ بادشاہ نے رونے لگا، حتیٰ کے اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی اور اس نے کہا بخدا یہ کلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والا کلام ایک ہی نور کے پر تو ہیں اس کے بعد اس نے اہل مکہ کے وفد سے کہا تم لوگ چلے جاؤ یہ حضرات یہیں رہیں گے میں ان کو تمہارے حوالہ ہرگز نہیں کروں گا۔
اہل مکہ کے وفد نے ابھی ہمت نہیں ہاری اور دوسرے دن بادشاہ سے مل کر یہ شکایت کی کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں بھی خوش عقیدہ نہیں ہیں، بلکہ ان کے بارے میں نامناسب رائے رکھتے ہیں بادشاہ، نے پھر ان مہاجرین صحابہ کرامؓ کو بلوا بھیجا اور آنے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا عقیدہ معلوم کیا، حضرت جعفرؓ نے پوری صراحت کے ساتھ کہا۔ “انه عبدالله وروحه وكلمته القاها الى مريم” وہ اللہ کے بندے، اس کی روح اور کلمۃ اللہ ہیں۔ یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا واللہ عیسیٰ ابن مریم اس تعریف و توصیف سے اس تنکے بھر بھی زیادہ نہیں ہیں، اس نے مشرکین کے وفد کو اپنے دربار سے نکال دیا اور مسلمانوں کو ہر طرح امن و سکرن سے رہنے کا اطمینان دلایا۔ (1) حضرت جعفر ؓ اور ان کے ساتھیوں نے ۵ھ نبوی یعنی نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کو ہجرت کی تھی اور ۷ھ میں فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ آپ نے حضرت جعفر ؓ کو دیکھ کر اپنے سینے سے لگا لیا پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا “ما ادرى انا بقدوم جعفر اسرام، بفتح خيبر” (2) یعنی میں فیصلہ نہیں کر سکتا کہ مجھے جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہے یا فتح خیبر کی۔ ان کو مسجد نبوی کے قریب ہی مکان کے لئے جگہ عنایت فرمائی اور اپنے قریب تر رکھا۔ ابھی مدینہ طیبہ آئے ہوئے صرف چند ماہ ہی گذرے تھے کہ ۸ھ میں غزوہ موتہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جو لشکر روانہ کیا اس میں حضرت فعفر ؓ کو بھیجا، موتہ مدینہ سے دور ملک شام کا ایک علاقہ ہے۔ اس لشکر کا امیر حضرت زید بن حارثہؓ کو بنایا اور فرمایا زید اگر شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہیں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہؓ، اور ان کی شہادت کی صورت میں وہاں مسلمان خود اپنا امیر منتخب کر لیں۔ (1) ایسا ہی ہوا یہ سب حضرات یکے بعد دیگرے شہید ہوتے رہے اور ایک کے بعد دوسرا امیر بنتا رہا۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے ان کو دیکھا تو ان کے جسم پر نوے ۹۰ سے بھی زیادہ زخم تھے۔ (2) رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی ان حضرات کی شہادت کی اطلاع ملی گئی تھی اور آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی خبر دے دی تھی۔ آپ ﷺ کو ان لوگوں کی شہادت کا بہت ہی غم ہوا تھا۔ (3)
فضائل
حضرت جعفرؓ رسول اللہ ﷺ کے بان العم اور سابقین اولین میں ہیں بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان سے پہلے صرف اکتیس ۳۱ شخڈ ہی مسلمان ہوئے تھے۔ (4) انہوں نے ۵ نبوی میں مع اپنی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس کے ہجرت کی اور تقریبا چودہ سال دین کی خاطر اپنے وطن اور اپنوں سے دور دیار غیر میں گذارے پھر وہاں سے مدینہ طیبہ پہنچے اور چند ماہ کے بعد ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت سے پہلے جنگ میں ان کے دونوں ہاتھ کٹ گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جعفرؓ کے دونوں ہاتھوں کے بدلے ان کو دو بازو عنایت فرمائے ہیں جن سے وہ جنت میں جہاں چاہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد حدیث و سیرت کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے کسی قدر فرق کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ (5)اسی لئے ان کو جعفر طیار اور جعفر ذو الجناحین کہا جاتا ہے۔ عبداللہ عمرؓ جب حضرت جعفرؓ کے بیٹے عبداللہ سے ملتے تو اس طرح سلام کرتے السلام عليكم يا ابن ذى الجناحين. (6)
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
حضرت جعفر ؓ، غریبوں اور مسکینوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں جعفرؓ سے جب بھی کوئی بات دریافت کرتا وہ پہلے مجھے اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلاتے۔ پھر میری بات کا جواب دیتے۔ وہ مساکین کے بارے میں (رسول اللہ ﷺ کے استثناء کے ساتھ) سب سے بہتر شخص تھے۔ (7) اسی لئے ان کا لقب ابو المساکین پڑ گیا تھا۔
وہ صورت و سیرت میں رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مشابہ تھے۔ خود زبان نبوت نے اس کی شہادت ان الفاظ میں مرحمت فرمائی۔
اشبهت خلقى وخلقى. (1)
ترجمہ: تمہاری شکل و صورت اور سیرت و کردار میری شکل و صورت اور سیرت و کردار کے بہت مشابہ ہے۔ حبشہ کو ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کی یہ جماعت جب مدینہ طیبہ پہنچی ہے تو ایک دن حضرت جعفرؓ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ ام المومنین حضرت حفصہؓ کے یہاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت عمر ؓ، تشریف لائے پوچھا کون ہیں۔ حضرت حفصہ ؓ نے بتلایا اسماء بنت عمیسؓ ہیں، حضرت عمرؓ نے (بظاہر بطور مزاح ہی) فرمایا ہم لوگ یعنی مکہ سے سیدھے مدینہ ہجرت کرنے والے تم لوگوں سے جو حبشہ رہ کر مدینہ آئے ہو ہجرت مدینہ میں مقدم اور رسول اللہ ﷺ کے زیادہ حق دار ہیں۔ حضرت اسماءؓ اس بات پر بہت خفا ہو گئیں۔ پہلے تو خود حضرت عمرؓ کو خوب خوب سنائی۔ انہوں نے کہا، عمر! تم نے غلط کہا واللہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تم میں اگر کوئی بھوکا ہوتا تو آپ ﷺ اسے کھلاتے دین سے کوئی ناواقف ہوتا تو آپ اسے وعظ و نصیحت کرتے اور ہم لوگ دور دراز، ناپسندیدہ اور غیر مانوس ملک حبشہ میں غم و الم اور فکر و پریشانی میں مبتلا تھے۔ اور یہ سباللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر تھا۔
بعد میں رسول اللہ ﷺ سے بھی حضرت عمرؓ کے اس طنز کی شکایت کی آپ ﷺ نے فرمایا عمر، تم لوگوں کے مقابلہ میں میرے زیادہ حقدار نہیں ہیں، ان کی اور ان کے ساتھیوں کی صرف ایک ہجرت ہے اور تم لوگوں کی تو دو ہجرتیں ہیں۔ (2)
شہادت کے وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی۔ زمانہ قیام حبشہ میں تین بیٹے عبداللہ، عون اور محمد پیدا ہوئے۔ ؓ ورضوا عنہ۔
حضرت زید بن حارثہ ؓ
حضرت زید بن حارثہ ؓ کا تعلق قبیلہ بنی کلاب سے تھا۔ یہ قبیلہ مکہ معظمہ سے دور کہین رہتا تھا۔ حضرت زید ؓ بچپن میں اپنی والدہ اور ایک قول کے مطابق اپنے چچا کے ہمراہ ایک قافلہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے پورے قافلہ کو لوٹ لیا اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ پھر ان بچوں کو مکہ معظمہ کے قریب کسی بازار یا میلے میں لا کر فروخت کر دیا۔ انہیں بچوں میں ایک بچہ زید نامی بھی تھا جسے مکہ کے ایک شخص حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی خدیجہ کو دے دیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت بلکہ حضرت خدیجہؓ کے آپ کی نکاح میں آنے سے بھی پہلے کا ہے۔ اس وقت حضرت زید کی عمر تقریباً ۸ سال کی تھی۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی شادی کے بعد یہ غلام رسول اللہ ﷺ کو تحفہ میں دے دیا۔ آپ نے اس معصوم بچہ کو اتنے پیار و محبت سے وازا کہ یہ غلام بچہ اپنے ماں باپ کو بھول گیا۔
ادھر ماں باپ کا اپنے بچے کے فراق میں برا حال تھا، قبیلہ بنی کلاب کی کسی شخص نے جو حج کے لئے معظمہ آیا تھا۔ مکہ میں زید کو دیکھا اور پہچان لیا۔ پھر اپنے قبیلہ پہنچ کر ان کے والدین کو اس کی اطلاع کر دی کہ تمہارا بچہ مکہ میں ہے۔ ان کے والد اور چچا ان کو لینے کے لئے مکہ آئے اور برائے فدیہ زر کثیر بھی اپنے ساتھ لائے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے رابطہ قائم کیا اور اپنی آمد کا مقصد عرض کر کے مال و دولت بطور فدیہ دینے کی پیشکش کی۔ آپ ﷺ نے حضرت زید کو بلایا اور فرمایا ان لوگوں کو پہچانتے ہو۔اپنےو الد اور چچا کو انہوں نے پہچان لیا۔ آپ نے ان لوگوں سے فرمایا۔ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ زید ہیں اگر یہ تم لوگوں کے ساتھ جانا چاہیں انہیں اختیار ہے۔ حضرت زید ؓ، کو آپ کی ذات گرامی سے اتنا تعلق ہو گیا تھا کہ اپنے والد و چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ حضرت زیدؓ کے اس عمل نے آپ ﷺ کو اتنا متاثر کیا کہ آپ حرم شریف تشریف لائے اور قریش کو گواہ بنا کر کہا کہ یہ زید آج سے میرا بیٹا ہے۔ اور میں اس کا باپ، یہ میرا وارث ہو گا۔ اور میں اس کا اس دن سے لوگ ان کو زید بن محمد ہی کہا کرتے تھے۔ پھر عرصہ کے بعد جب اسلامی قانون نے متبنی (منہ بولا بیٹا) بنانے کی جاہلی رسم کو ختم کر دیا تو یہ زید، زید بن حارثہ کہلائے جانے لگے۔ (1) بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھائی جبلہ بن حارثہ بھی ان کو لینے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے حضرت زید پر کافی زور ڈالا لیکن وہ جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے، بعد میں ان کے بھائی نے کہا زید کی رائے میری رائے سے بہتر تھی۔ (2)
پھر جب اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا اور محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں یہی زید ہیں۔ (3) (جو ابھی تک زید بن محمد ہی کہلاتے تھے) اور ایمان لانے کے صلہ میں ہر ہر تکلیف میں رسول اللہ ﷺ کے سہیم و شریک رہے ہیں۔ وہ طائف کے مشہور سفر میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہجرت کے بعد بہت سے غزوات میں دین کے لئے جان کی بازی لگائی ہے۔ اور آخر غزوہ موتہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
زیدؓ جب شادی کے قابل ہو گئے تو آپ ﷺ نے حضرت زیدؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش ؓ سے کرا دیا تھا۔ لیکن یہ رشتہ زیادہ دن باقی نہ رہ سکا اور حضرت زیدؓ نے طلاق دے دی جس کا کسی قدر تفصیلی ذکر حضرت زینب بنت جحش ؓ کے تذکرہ میں گزر چکا ہے۔ اس کے بعد آپ ہی نے ان کا دوسرا نکاح حضرت ام ایمنؓ سے کر دیا۔ یہ آپ کے والد عبداللہ کی باندی تھیں اور ان کے انتقال پر آپ کی مملوکہ ہو گئی تھیں۔ آپ نے ان کو آزاد کر دیا تھا۔ انہیں سے حضرت زیدؓ کے صاحبزادے حضرت اسامہ ؓ پیدا ہوئے ہیں۔ (4)
فضائل
حضرت زید بن حارثہ ؓ، کے فضائل و مناقب کا شمار مشکل ہے۔ ان کو رسول اللہ ﷺ سے اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ محبت تھی، اسی لئے انہوں نے اپنے والد اور چچا کے ساتھ آزاد ہو کر اپنے وطن جانے کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غلام ہو کر رہنے کو ترجیح دی، ادھر رسول اللہ ﷺ کو بھی ان سے غیر معمولی تعلق تھا۔ اسی لئے آپ نے ان کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا اور ان کی زندگی کا خاصلہ حصہ اسی طرح گزرا کہ صحابہ کرامؓ انہیں زید بن محمد ہی کہتے تھے۔ حتیٰ کہ جب آیت کریمہ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ نازل ہوئی جس میں نسب کو اپنے اصل والد سے جوڑنے کا حکم ہے۔ تب صحابہ کرامؓ نے زید بن حارثہ کہنا شروع کیا۔ (1) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت زید کا نسب تو اپنے والد حارثہ سے ہی جوڑ دیا گیا لیکن رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں ان کی محبت بیٹے کی محبت ہی کی طرح رہی اور آپ اس محبت و تعلق کا اظہار صحابہ کرامؓ اور حضرت زیدؓ سے کرتے بھی تھے۔ (2) حضرت زیدؓ اگر کبھی مدینہ سے باہر جاتے تو آپ بڑے اشتیاق سے ان کی آمد کے منتظر رہتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ ﷺ کی اسی شفقت و محبت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ زید بن حارثہؓ کہیں باہر سے مدینہ طیبہ آئے، رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ زید نے دروازہ کھٹکھٹایا (اور کسی طرح آپ ﷺ کو علم بھی ہو گیا کہ آنے والے زیدؓ ہی ہیں) آپ اتنی سرعت کی ساتھ ان کے استقبال کے لئے نکلے کہ آپ کی چادر جسم مبارک سے نیچے کھسک گئی، اور آپ اسے گھسیٹتے ہوئے ہی باہر نکل گئے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے کبھی بھی آپ کو اس حالت میں باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور بوسہ دیا۔ (3) رسول اللہ ﷺ کو ان کی بہادری اور قائدانہ صلاحیت پر بڑا اعتماد تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے جب بھی حضرت زیدؓ کو کسی غزوہ میں بھیجا ہمیشہ لشکر کا امیر انہی کو بنایا (4) اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ خود غزوہ میں تشریف لے جاتے تو مدینہ میں اپنا خلیفہ زیدؓ کو بنا کر جاتے۔
شہادت
۸ھ میں غزوہ موتہ کے لئے جو لشکر آپ نے روانہ فرمایا تھا، اس کا امیر حضرت زید بن حارثہؓ ہی کو بنایا تھا۔ موتہ ملک شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔ مسلمانوں کا مقابلہ روم کی ٹڈی دل فوج سے ہوا۔ حضرت زیدؓ نے انتہائی بہادری اور جوانمردی کے ساتھ جہاد کیا اور شہید ہو گئے آپ کو ان کی شہادت کی بہت تکلیف ہوئی، اسی غزوہ میں آپ ﷺ کے بھائی حضرت جعفرؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ بھی شہید ہوئے۔
حضرت زیدؓ کی شہادت کی خبر پر آپ ﷺ نے فرمایا:
استغفروا لاخيكم قد دخل الجنة وهو يسعى. (1)
ترجمہ: اپنے بھائی زید کے لئے دعاء مغفرت کرو وہ دوڑتے ہوئے جنت میں داخل ہو گئے۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت اسامہ بن زید ؓ
حضرت زید بن حارثہ ؓ، کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید ؓ، کی ولادت ۳ نبوی یعنی بعثت کے تیسرے سال ہوئی ہے۔ ان کی ولادت سے رسول اللہ ﷺ کو بہت خوشی ہوئی، اس لئے کہ ان کے والد حضرت زیدؓ اور والدہ حضرت ام ایمنؓ دونوں ہی آپ کو بہت عزیز تھے، زید تو آپ کے آزاد کردہ غلام اور متبنیٰ تھے ہی ام ایمن بھی آپ ہی کی آزاد کردہ باندی تھیں، انہوں نے آپ کو گود میں بھی کھلایا تھا اس لئے آپ کو ان سے محبت ہی نہیں احترام کا بھی تعلق تھا۔ والدین سے یہ تعلق اور محبت حضرت اسامہؓ کی طرف بھی منتقل ہوا تھا۔
فضائل
حضرت اسامہؓ نے پورا بچپن آغوش نبوت ہی میں گزرا۔ آپ ﷺ کا تعلق ان کے ساتھ بالکل ایسا تھا، جیسے دادا کا اپنے پوتے کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ انہیں اپنی گود میں لیتے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دست مبارک سے ان کی ناک بھی صاف فرما دیتے۔ ایک بار آپ ﷺ نے ان کی ناک صاف کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا آپ رہنے دیجئے میں صاف کئے دیتی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا عائشة احبيه فانى احبه (2) عائشہ یہ بچہ مجھے محبوب ہے۔ تم بھی اس سے محبت کیا کرو کبھی کبھی آپ ﷺ اپنے نواسے حضرت حسنؓ اور حضرت اسامہؓ کو پکڑ کر دونوں کے لئے یہ دعا کرتے۔ اللهم احبهما فانى احبهما (3) اے اللہ یہ دونوں بچے مجھے محبوب ہیں آپ بھی انہیں اپنا محبوب بنا لیجئے۔
حضرت زیدؓ کے بیٹے حضرت اسامہؓ اور ان کی اہلیہ حضرت ام ایمنؓ آپ کے اہل خاندان ہی کی طرح تھے، مکہ میں بھی اسی طرح رہے اور ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں بھی یہ تینوں حضرات آپ ﷺ کے انتہائی قریبی لوگوں میں تھے۔ اور صحابہ کرامؓ بھی ان تینوں کو آپ کے انتہائی مقرب اور معتمد علیہ لوگوں میں سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک معزز خاندان کی ایک عورت نے چوری کر لی جس کی سزا کے طور پر آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس کے خاندان کے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ بہت تکلیف دہ اور رسوا کن تھا۔ لیکن آپ سے کچھ بھی عرض کرنے کی ہمت کسی کو نہ ہوتی تھی، بہت غور و فکر کے بعد ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام اگر کوئی کر سکتا ہے تو اسامہ کر سکتے ہیں، اس سلسلہ کی صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (4)
ترجمہ: یعنی اس سفارش کی ہمت رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زیدؓ ہی کر سکتے ہیں۔
اور پھر اسامہؓ نے سفارش کی بھی۔ لیکن آپ ﷺ نے اس کو قبول نہیں فرمایا۔ حدود خداوندی کے معاف کرنے کا آپ ﷺ کو اختیار نہ تھا۔
غزوہ احد کی وقت حضرت اسامہؓ بچے ہی تھے۔ جہاد میں شریک ہونے کی تمنا تھی، خود آپؓ سے آ کر اپنی خواہش کا اظہار کر دیا آپ ﷺ نے واپس کر دیا، غزوہ خندق میں ان کی عمر ۱۵ سال کی ہو چکی تھی، اس بار آپ ﷺ نے ان کی درخواست قبول فرما لی، اس کے بعد تو کتنے ہی غزوات میں شریک ہوئے اور کتنے ہی غزوات میں امیر بنا کر بھیجے گئے۔ غزوہ موتہ میں جس میں ان کے والد حضرت زیدؓ شہید ہوئے ہیں، وہ اپنے والد کی سرکردگی میں شریک غزوہ ہوئے ہیں اور اپنی آنکھوں سے اپنے باپ کی شہادت دیکھی ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کی بالکل آخر میں اسی علاقہ کو فتح کرنے کے لئے جو باپ کے ہاتھوں فتح نہ ہو سکا تھا ایک عظیم لشکر حضرت اسامہؓ کی سرکردگی میں بھیجا، اس لشکر میں حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ تھے۔ (1)
اس وقت حضرت اسامہؓ کی عمر کل ۲۰ سال تھی، بعض حضرات کو اس پر اشکال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا۔
«إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ»
ترجمہ: یعنی اگر تمہیں اسامہ کی امارت پر اشکال ہے تو تم تو ان کے باپ زید کی امارت پر بھی اشکال کر چکے ہو، حالانکہ واللہ وہ امارت کے بھی اہل تھے اور واللہ مجھے انتہائی محبوب بھی تھے۔ اسی طرح یہ اسامہ بھی واللہ امارت کے اہل ہیں اور مجھے انتہائی محبوب بھی ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ کا اضافہ بھی ہے یعنی میں تم لوگوں کو اسامہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لئے کہ وہ تم لوگوں کے صالحین میں سے ہیں۔
ابھی یہ لشکر مدینہ طیبہ سے کچھ دور ہی گیا تھا رسول اللہ ﷺ کا مرض وفات شروع ہو گیا اور اس کی سنگینی کی اطلاع لشکر میں شریک صحابہ کرامؓ کو ہو گئی، جس کی وجہ سے یہ لشکر مدینہ واپس آ گیا، جب واپس آ کر حضرت اسامہؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تو آپ کا بولنا بند ہو چکا تھا، لیکن آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ حضرت اسامہؓ پر رکھتے اور پھر دعا کرنے کے انداز میں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے، حضرت اسامہؓ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپ میرے لئے دعا فرما رہے تھے۔ (1)
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے لئے انتہائی تشویشناک حالات پیدا ہو گئے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد اس حق میں تھی کہ فی الحال یہ لشکر روانہ نہ کیا جائے، اور اگر روانہ کرنا ضروری ہی ہے تو کسی تجربہ کار اور سن رسیدہ شخص کو امیر بنایا جائے لیکن حضرت ابو بکر ؓ نے اس لشکر کے بارے میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں فرمایا لشکر روانہ ہوا اور اسامہ بن زیدؓ کی سرکردگی اور امارت ہی میں روانہ ہوا اور پھر الحمدللہ بہت ہی کامیاب اور سالماً غانماً واپس آیا۔
رسول اللہ ﷺ کی محبت کی وجہ سے حضرات صحابہ کرامؓ سے بہت محبت کرتے تھے، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں بیت المال سے صحابہ کرامؓ کے وظائف مقرر فرمائے تھے، اس میں مراتب کے لحاظ سے کمی بیشی کی تھی۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کا وظیفہ تین ہزار درہم اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کا وظیفہ تین ہزار درہم مقرر کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عرض کیا ابا جان اسامہؓ کو مجھ پر فضیلت دینے کی کیا وجہ ہے۔ وہ تو کبھی بھی کسی معرکہ میں مجھ سے سبقت نہیں لے گئے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسامہؓ کے والد زیدؓ رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب اور اسامہؓ آپ ﷺ کو تم سے زیادہ محبوب تھے۔ میں نے آپ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دی ہے۔
وفات
حضرت اسامہؓ کی وفات ۵۴ھ میں یا اس سے پہلے مدینہ چیبہ یا اس کے قریب وادی القریٰ میں ہوئی ہے، وفات سے پہلے کافی مدت دمشق کے قریب مزہ نامی بستی میں گزاری ہے۔ ؓ وارضاہ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ مکہ معظمہ کے رہنے والے اور اولین اسلام لانے والے صحابہ کرام میں سے ہیں، خود فرماتے ہیں کہ مجھ سے پہلے صرف پانچ شخص مسلمان ہوئے تھے۔ اسلام لانے والوں میں میرا چھٹا نمبر ہے۔ (2) ان کے والد کا انتقال زمانہ جاہلیت ہی میں ہو گیا تھا۔ لیکن والدہ ایمان لے آئیں تھیں اور بلند پایہ صحابیہ تھیں۔ ایمان لانے کے نتیجے میں جو تکلیف و مصائب ہر صاحب ایمان کے نصیب میں آتے تھے وہی عبداللہ بن مسعودؓ کے حصہ میں بھی آئے۔ ایک دن مکہ میں چند صحابہ کرامؓ مٰں یہ مشورہ ہوا کہ قریش کو قرآن مجید کس طرح پہنچایا جائے وہ تو قرآن سننے کے بالکل روادار نہیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں اس خدمت کے لئے تیار ہوں۔ صحابہ کرام نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص یہ کام کرے جس کے خاندان کے لوگ اس کے حمایتی ہوں اور قریش اس کو مارنے پیٹنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ قریش کی مجلس میں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر سورہ رحمٰن کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا واپس آئے تو پورا بدن لہو لہان تھا۔ صحابہ کرامؓ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تو کہنے لگے یہ مشرکین میری نگاہ میں وہاں جانے سے پہلے جتنے بےحیثیت تھے اب اس سے بھی زیادہ بےوقعت ہیں اور میں اب پھر اس کام کے لئے ان کے پاس جانے کو تیار ہوں۔
مشرکین کی اذیتوں سے تنگ آ کر صحابہ کرامؓ کی جو جماعت نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینہ میں حبشہ چلی گئی تھی، ان صحابہ کرامؓ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے وہاں جانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد ان حضرات کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس اطلاع پر عبداللہ بن مسعودؓ مکہ واپس چلے آئے، لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی اس لئے جلد ہی دوبارہ حبشہ کو ہجرت کر گئے اور جب رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کی اطلاع حبشہ پہنچی تو عبداللہ بن مسعود ؓ مدینہ طیبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ (1) جس وقت عبداللہ بن مسعود ؓ مدینہ پہنچے ہیں رسول اللہ ﷺ غزوہ بدر کی تیاری کر رہے تھے وہ آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ابو جہل کا کام تمام کیا جس کو دو نوجوان انصاری صحابیوں نے قتل کر دیا تھا لیکن ابھی کچھ جان باقی تھی۔ (2) غزوہ بدر کے بعد آپ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے رہے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ پتلے دبلے جسم کے تھے، رنگ گندمی تھا، ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ان کو کسی ضرورت سے درخت پر چڑھایا صحابہ کرامؓ ان کی دبلی پتلی ٹانگ کو دیکھ کر ہنسنے لگے آپ نے فرمایا کہ لرجل عبداللہ اثقل فی المیزان یوم القیامۃ من احد یعنی اللہ کے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی یہ دبلی پتلی ٹانگ بھی احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہے۔ کپڑے صاف ستھرے پہنتے اور کثرت سے عطر استعمال فرماتے تھے۔ (3)
فضائل
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا شمار بڑے اہل فضل و کمال صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے وہ سابقین اولین میں ہیں جن کے متعلق اللہ کی طرف سے ؓ ورضوا عنہ کا مژدہ سنا دیا گیا ہے۔ ان کی زندگی کا خاصا حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزرا ہے سفر و حضر میں آپ کی ذاتی خدمت میں جو صحابہ کرامؓ پیش پیش رہتے تھے، ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے اسی لئے صحابہ کرامؓ کو صاحب النعلین والسواک والوسادہ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ضروریات کا خیال رکھنے والا کہتے تھے۔ (4) ان کو جو قرب و تعلق آپ کی ذات گرامی سے نصیب تھا وہ چند ہی صحابہ کرامؓ کو میسر تھا۔ وہ ہمہ وقت آپ کے گھر آتے جاتے اور خدمت میں رہتے تھے۔آپ کی طرف سے ان کو اس سلسلہ میں خصوصی اجازت تھی۔ خود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا۔ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي، حَتَّى أَنْهَاكَ (5) یعنی جب تم دیکھو کہ میرے دروازہ کا پردہ اٹھا ہوا ہے تو تم بلااجازت اندر آ سکتے ہو اور میرے راز کی بات سن سکتے ہو الا یہ کہ میں تم کو آنے سے منع کر دوں۔ اسی لئے صحابہؓ ان کو آپ ﷺ کا رازدار بھی کہتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ، فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی یمن سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ہم دونوں بھائی عبداللہ بن مسعودؓ اور ان کی والدہؓ کی رسول اللہ ﷺ کے دولت کدہ پر بکثرت حاضری دیکھ کر مدت تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ آپ کے گھر کے ہی ایک فرد ہیں۔ (1)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا علمی مقام بھی بہت بلند ہے، ان کا شمار ان صحابہ کرامؓ میں ہے جو اہل فتویٰ اور اہل قضاء سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن و سنت کا بہت علم حاصل کیا اور اللہ نے ان کو تلامذہ بھی غیر معمولی قسم کے عطا فرمائے جنہوں نے ان کے علم اور ان کی روایت کردہ احادیث اور قرآن کی تفسیر کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا۔ ان کو قرآن مجید سے خصوصی شغف اور تعلق تھا۔ قرآن مجید یاد بھی بہت اچھا تھا اور بہت صحیح اور سوز کے ساتھ پڑھتے تھے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار ایسا ہوا کہ عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکرؓ اور میں کسی مشورہ میں آپ ﷺ کے گھر پر دیر تک رہے، جب مشورہ ختم ہو گیا تو آپ ﷺ ہم دونوں کو رخصت کرنے کے لئے باہر (مسجد تک جو آپ کے دولت کدہ سے متصل ہی تھی) تشریف لائے ہم لوگوں نے دیکھا کہ کوئی شخص مسجد میں نماز میں مشغول ہے آپ ﷺ نے ان کو پہچان لیا وہ عبداللہ بن مسعودؓ تھے۔ آپ دیر تک کھڑے ان کی قرأت سنتے رہے پھر فرمایا من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد (2) یعنی جو شخص قرآن مجید کو بالکل ترو تازہ جیسا اترا ہے ویسا ہی پڑھنا چاہے اس کو عبداللہ بن مسعودؓ کے طرز پر قرآن مجید پڑھنا چاہئے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ، میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی جب آیت کریمہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا تک پہنچا تو آپ نے مجھے روک دیا میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ (3)
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو جن اکابر صحابہ کرام سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم یا مشورہ دیا تھا ان میں سب سے پہلا نام آپ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کا ذکر فرمایا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے۔ «اسْتَقْرِئُوا القُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» (4)
حضرت ابو مسعود انصاری حضرت ابن مسعود ؓ کے اس فضل کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں ما اعلم رسول الله ترك بعد اعلم بما انزل الله من هذا القائم. (5) (یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ) یعنی میرے علم میں رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص بھی عبداللہ بن مسعودؓ سے زیادہ قرآن کا علم نہیں رکھتا ...... خود عبداللہ بن مسعودؓ اپنے بارے میں فرماتے ہیں میں نے قرآن مجیدن کی ستر ۷۰ سے زیادہ سورتیں براہ راست رسول اللہ ﷺ سے پڑھی ہیں اور قرآن مجید کی ہر سورت کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی ہے اور ہر ہر آیت کا شان نزول بھی مجھے معلوم ہے۔ (1)
حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو اہل کوفہ کی تعلیم و تربیت کے لئے کوفہ بھیجا تھا اور اہل کوفہ کے نام اس سلسلہ میں جو گرامی نامی تحریر فرمایا تھا اس میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے متعلق یہ لکھا تھا۔ “میں عبداللہ بن مسعود ؓ کو اپنا نائب اور تمہارا معلم بنا کر بھیج رہا ہوں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اکابر صحابہ میں ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والے لوگوں میں ہیں، ان کی مجھے بھی ضرورت تھی لیکن میں تم لوگوں کو اپنے مقابلہ میں ترجیح دیتا ہوں، تم ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو۔” حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں عبداللہ بن مسعود ؓ کوفہ ہی میں رہے، اور کوفہ ہی ن کی دینی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا اور یہیں سے ان کے علوم کی نشر و اشاعت ہوئی حدیث کی کتابوں میں ان کی مرویات کی تعداد ۸۴۸ ہے۔ حضرت عمرؓ نے ان کو بیت المال کا نگہبان بھی بنا دیا تھا یہ عہدہ بھی جب تک وہ کوفہ میں رہے ان کے پاس ہی رہا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنی خلافت کے آخری دور میں ان کو مدینہ بلا لیا تھا۔ (2)
وہ اپنی سیرت و کردار میں بھی رسول اللہ ﷺ کی کامل اتباع کرتے۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں«مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» (3) یعنی میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص اپنے طور طریقہ اور سیرت و کردار میں عبداللہ بن مسعودؓ کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ قریب تر ہے۔ حدیث و سیرت کی کتابوں میں عبداللہ بن مسعودؓ کے مناقب و فضائل جو بیان فرمائے گئے ہیں۔ اگر ان سب کو جمع کر دیا جائے ایک اچھا خاصا رسالہ تیار ہو جائے۔ اس مختصر تذکرہ میں سب کی گنجائش کہاں ہے۔ اس لئے بس ایک روایت صحیح مسلم کی اور ذکر کی جاتی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہم چھ آدمی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے جن میں عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے۔ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ ﷺ اپنے پاس سے ان لوگوں کو ہٹا دیں تو ہم آپ کی بات سنے کو تیار ہیں آپ نے اس کا ارادہ فرمایا ہی تھا کہ آیت کریمہ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ (4) (آیت نمبر ۵۲ سورہ انعام)
نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے اللہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں اور ان کا مقصد صرف رجائے الہٰی ہی ہوتا ہے ..... اس آیت میں ان صحابہ کرامؓ کی جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے بڑی فضیلت کا بیان ہے۔ آیت میں آگے مزید تاکید اور سختی سے پھر یہی حکم دیا گیا ہے۔
وفات
حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے آخری زمانہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو کوفہ سے مدینہ بلا لیا۔ مدینہ میں ہی ان کی وفات ۳۲ھ میں ہوئی اور غالباً حضرت عثمانؓ ہی نے نماز جنازہ بھی پڑھائی، وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی۔ (1)
حضرت اُبّی بن کعب ؓ
رسول اللہ ﷺ ابھی مکہ معظمہ میں ہی تھے لیکن اسلام کی شعاعیں مدینہ طیبہ کے افق کو منور کرنے لگی تھیں، نبوت کے گیارہویں سال میں حج کے موقع پر مدینہ طیبہ کے کچھ لوگ مکہ معظمہ آئے اور آپ ﷺ کی دعوت سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے اور منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اس کو بیعت عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر صرف چھ حضرات ہی اسلام اور بیعت سے مشرف ہوئے تھے۔ آئندہ سال یعنی ۱۲ نبوی مین بارہ ۱۲ حضرات حج کے موقع پر آئے اور یہ سب بھی منیٰ میں جمرہ عقبہ کے پاس ہی آپ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر کے مسلمان ہو گئے، اس کو بیعت عقبہ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ ان حضرات میں حضرت اُبّی بن کعب ؓ بھی تھے۔
فضائل
حضرت اُبّی بن کعب ؓ کا تعلق مدینہ طیبہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھا۔ اہل مدینہ میں اول ایمان لانے والے صحابہؓ میں ان کا شمار ہے۔ ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے ہیں اور ہجرت کے بعد غزوہ بدر اور بعد کے امام ہی غزوات میں شرکت کی ہے۔ (2) ہجرت کے بعد کتابت وحی کی سعادت بھی ان کے نصیب میں آئی۔ قرآن مجید بہت اچھا پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو اپنی امت کے سب سے بڑے قاری ہونے کے خطاب سے نوازا تھا۔ (3) ایک دفعہ آپ ﷺ نے حضرت اُبّی بن کعب ؓ سے فرمایا۔ ابی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤں۔ حضرت اُبّی بن کعب ؓ نے عرض کیا۔ کیا میرا نام لے کر اللہ نے کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، تمہارا نام لے کر اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید سناؤں یہ سن کر حضرت اُبّی بن کعب ؓ رونے لگے اور آپ ﷺ نے حضرت اُبّی بن کعب ؓ کو سورہ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا پڑھ کر سنائی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی حیات ہی میں پورے قرآن کے حافظ ہو چکے تھے۔ (4) حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں رمضان المبارک میں باجماعت تراویح کا اہتمام کرایا تھا اور حضرت اُبّی بن کعب ؓ کو امام مقرر فرمایا تھا۔ (1)
ایک بار رسول اللہ ﷺ نے حضرت اُبّی بن کعب ؓ سے دریافت فرمایا اُبّی بن کعبؓ یہ بتلاؤ کہ قرآن مجید میں کون سے آیت تمہارے نزدیک سب سے زیادہ عظیم المرتبت آیت ہے۔ حضرت ابی نے عرض کیا اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (الآیۃ) یعنی آیت الکرسی آپ نے فرمایا ليهنك العلم يا أبا منذر اے ابو منذر تمہیں علم مبارک ہو۔ (2) چونکہ آیۃ الکرسی میں اللہ کی توحید اس کی عظیم قدرت اور صفات عالیہ کا ذکر ہے اس لئے وہ سب سے عظیم آیت ہے اور اسی لئے اس کے فضائل بھی احادیث میں بکثرت وارد ہوئے ہیں ان کو علماً و عملاً قرآن مجید سے امتیازی قسم کا تعلق تھا۔۔ اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔
ایک شخص نے آپ سے اپنے لئے کچھ نصیحت کرنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اتخذ كتاب الله اماما وارض به حكما وقاضيا فانه الذى استخلف فيكم رسولكم، شفيع مطاع، شاهد لا يتهم، فيه ذكركم وذكر من كان قبلكم وحكم ما بينكم وخبركم وخبر ما بعدكم. (3) یعنی قرآن مجید کو اپنا مقتدا بنا لو، ہر بات میں اس کی اتباع کرو اور اس کے ہر فیصلہ کو بخوشی قبول کرو، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کے لئے اسی کو اپنا جانشین بنا کر گئے، وہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت یقیناً قبول کی جائے گی، ایسا گواہ ہے جس پر کوئی اتہام نہیں لگتا سکتا۔ اس میں تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا تذکرہ ہے اور تمہارے باہمی تنازعات کا حل ہے، اس میں تمہاری اور تم سے بعد کے لوگوں کو بھی خبریں ہیں۔
آخرت کی فکر اور اس کی تیاری کا خیال بہت رکھتے اور دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے، ایک شخص کو دیکھا کہ دنیا کی بہت برائی بیان کر رہا ہے تو فرمایا کہ هل تدرى ما الدنيا فيها زادنا الى الاخرة وفيها اعمالنا التى تجزى بها جانتے ہو دنیا کیا ہے، دنیا ہی زاد آخرت ہے، اسی میں وہ اعمال کرنے ہیں جن کے بدلے میں جنت ملے گی۔
صحابہ کرامؓ عام طور پر ان کا بہت اکرام کرتے۔ حضرت عمرؓ تو ان کو سیدالمسلمین کہتے ان سے مسئلے دریافت کرتے اور لوگوں کے فیصلے کراتے تھے۔ (4)
میانہ قد، گورا رنگ، نحیف و لطیف جسم تھا۔ کپڑے بہت صاف ستھرے استعمال کرتے تھے۔
وفات کے بارے میں تین قول ۱۹ھ، ۲۲ھ، ۳۰ھ ذخر کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (5) ؓ، وارضاہ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ
حضرت ابو ہریرہ ؓ کے نام کے بارے میں اسماء الرجال کے واقفین کے مابین سخت اختلاف ہے۔ ایسا اختلاف کسی بھی صحابیؓ کے نام میں نہیں ہے۔ ان کے نام کے بارے میں تقریباً تیس قول ذکر کئے جاتے ہیں۔ امام ترمذیؒ نے ناموں کے اس اختلاف کو ذخر کرنے کے بعد عبد شمس یا عبدللہ نام بتلایا ہے اور کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے عبداللہ نام کو ترجیح دی۔ (1)
امام نوویؒ نے شرح مسلم میں عبدالرحمٰن بن ضخر کو ترجیح دی ہے، فرماتےہیں ابو هريرة عبدالرحمن بن صخر على الصح من نحو ثلاثين قولا یہی بات تذکرۃ الحفاظ (2) میں بھی ہے۔
وہ اپنی کنیت ابو ہریرہ ہی کے ساتھ مشہور ہیں حتیٰ کے بہت ہی کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان کا نام ابو ہریرہؓ نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ ابو ہریرہؓ کی کنیت کیسے ہوئی اس کے بارے میں بھی ان ہی کے دو قول نقل کئے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ میں اپنے گھر پر اپنی بکریاں چرایا کرتا تھا میرے پاس ایک چھوٹی سی بلی تھی۔ رات میں اس کو پیڑ پر چڑھا دیا کرتا اور دن میں جب بکریاں چرانے جاتا تو اسے ساتھ لے جاتا اور دن بھر اس سے کھیلتا رہتا تھا۔ میرے گھر والوں نے مجھے ابو ہریرہ کہنا شروع کر دیا۔ (3) ہریرہ عربی زبان میں چھوڑی بلی کو کہتے ہیں) ان ہی کا دوسرا قول یہ ذکر کیا جاتا ہے۔ کہ ایک دن میں بلی لئے ہوئے تھا رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر مجھے ابو ہریرہ کے لفظ سے خطاب فرما دیا میں ابو ہریرہ ہی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ (4)
فضائل
ان کا تعلق قبیلہ دوس سے تھا۔ اس قبیلہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی تھی۔ اللهم اهد دوسا وائت بهم (5) الہی قبیلہ دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور ان کو میرے پاس پہنچا دے۔ حضرت ابو ہریرہؓ تیس ۳۰ سال کی عمر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ اس وقت خیبر تشریف لے گئے تھے۔ ابو ہریرہؓ بھی وہیں پہنچے۔ یہ واقعہ (فتح خیبر) ۷ھ کا ہے۔ اس وقت سے آپ ﷺ کی وفات تک سفر و حضر میں ہمیشہ آپ کی ساتھ رہے۔ باہر سے آنے والے صحابہ کرام جو طلب علم کے لئے آپ کی خدمت میں رہتے تھے اور ان کا گھر بار کچھ نہ ہوتا تھا ان کے لئے رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قریب ہی ایک چھپر ڈلوا دیا تھا۔ یہ حضرات اسی میں رہتے اور طالب علمی کرتے تھی۔ یہ چھپر ان کا دار الاقامہ تھا۔ مسجد نبوی درس گاہ اور رسول اللہ ﷺ ان کے معلم تھے اہل مدینہ ان طلباءِ کرام کا تکفل کرتے تھے۔ کسی سے سوال کرنے کی قطعاً اجازت نہ تھی۔ خواہ کچھ بھی گزر جائے اور کیا کیا نہ گزرتا تھا۔ بھوک اور فاقہ کی وجہ سے یہ لوگ نماز میں کھڑے ہونے سے گر جاتے تھے۔ آپ نماز سے فارغ ہو کر فرماتے۔ تم لوگوں کو اگر معلوم ہو جائے کہ تمہارے لئے ان فاقوں کے بدلہ اللہ کے یہاں کیا کیا اجر و ثواب ہے تو تم خواہش کرو کہ ان فاقوں میں مزید اضافہ ہو۔ (1) حضرت ابو ہریرہؓ ان فاقہ مستیوں میں نہایت ممتاز اور نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی ان فاقہ مستیوں کا بیان خود ان کی زبانی سنئے۔ فرماتے ہیں کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ میں بھوک کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے منبر شریف فاور ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حجرہ کے درمیان بےہوش ہو کر گر جاتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مرگی یا بےہوشی کا دورہ ہو گیا ہے جس کے علاج کے لئے وہ میری گردن اپنے پاؤں سے دباتے تھے۔ حالانکہ مجھے مرگی یا بےہوشی کا دور ہ نہیں ہوتا تھا۔ میری یہ حالت تو بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔ (2)
کبھی بھوک اور فاقہ کی تکلیف ناقابل برداشت ہو جاتی تو صحابہ کرام سے کسی آیت کا مطلب معلوم کرنے لگتے اور مقصد یہ ہوتا کہ وہ مخاطب صحابی ان کی ھالت زار دیکھ لیں اور کچھ کھلا دیں۔ کبھی کوئی صحابی ان کی حالت زار کی طرف متوجہ ہو جاتے اور اپنے ساتھ لے جا کر کچھ کھلا دیتے ورنہ آیت کا مطلب بتا کر چلے جاتے۔ (3) ایسے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ انہوں نے علم دین کے لیے اتنی قربانیاں دی ہیں جس کی مثال مشکل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں نوازا بھی خوب ہے، وہ سب سے زیادہ احادیث نقل کرنے والے صحابی ہیں۔ ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۵۳۷۴ ہے۔ (4) بعض صحابہ و تابعین کو ان کی روایات کی کثرت پر کبھی اشکال بھی ہوتا تھا کہ ابو ہریرہؓ ۷ھ میں ایمان لانے والے صحابی ہیں اور سب سے کثرت سے آپ ﷺ کی احادیث نقل کرتے ہیں۔ یہ اشکال جب ابو ہریرہؓ کے علم میں آتا تو جواب دیتے «أَنَّ النَّاسَ، كَانُوا يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنِّي كُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِي حَتَّى لاَ آكُلُ الخَمِيرَ وَلاَ أَلْبَسُ الحَبِيرَ، وَلاَ يَخْدُمُنِي فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنَةُ، وَكُنْتُ أُلْصِقُ بَطْنِي بِالحَصْبَاءِ مِنَ الجُوعِ» (5) لوگوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ میں بہت کثرت سے روایات نقل کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ نہ اچھا کھانا کھاتا اور نہ اچھا کپڑا پہنتا تھا، اور نہ کسی سے خدمت لیتا تھا۔ بھوک کی وجہ سے کبھی کبھی مجھے اپے پیٹ کے بل زمین پر لیٹ جانا پڑتا تھا کبھی فرماتے كُنْتُ رَجُلًا مِسْكِينًا، أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ (6) میں ایک مسکین شخص تھا، رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا اور در دولت ہی سے کچھ کھانے کو مل جاتا تھا۔ حضرات مہاجرین تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے باغات میں، (اس لئے مجھے آپ ﷺ کی احادیث و اقوال محفوظ کر لینے کا زیادہ موقع میسر آیا) وہ فرماتے تھے۔ “مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ”(1) یعنی صحابہ کرامؓ میں کوئی شخص بھی رسول اللہ ﷺ سے اس کثرت سے روایتیں نقل نہیں کرتا، جس کثرت سے میں نقل کرتا ہوں، البتہ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ مجھ سے زیادہ روایات نقل کرتے ہیں، اس لئے کہ وہ لکھتے ہیں اور میں نہیں لکھتا ہون، حضرت ابو ہریرہؓ تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے متعلق ان کے لکھ لینے کی وجہ سے یہی سمجھتے تھے کہ ان کی احادیث کی تعداد میری احادیث کے مقابلہ میں زیادہ ہوں گی۔ لیکن کتب احادیث میں تو حضرت ابو ہریرہؓ کی روایات ہی زیادہ ہیں اور یہ متفق علیہ ہے کہ کوئی بھی صحابی ان سے زیادہ روایات نقل کرنے والے نہیں ہیں۔ “وقد اجمع اهل الحديث على انه اكثر الصحابة حدىثا ” (2) ان کی روایات کے کثیر ہونے کی ایک وجہ حضرت ابی بن کعبؓ یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات کر لیا کرتے تھے جن کی ہمت ہم میں سے کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ (3)
وہ علم کے اتنے حریص تھے کہ دنیا کی ساری نعمتیں ان کے نزدیک علم کے سامنے ہیچ تھیں۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ “الا تسألنى عن هذه الغنائم” ابو ہریرہ! غنیمت کے ان مالوں میں سے کچھ مانگو حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اسئلك ان تعلمنى مما علمك الله۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ مجھے تو وہ علم عنایت فرما دیجئے جو اللہ نے آپ کو عنایت فرمایا ہے۔ (4) وہ علم کے بڑے حریص تھے اور رسول اللہ ﷺ سے صرف علم و دین ہی کا سوال کرتے تھے، ان کی اس صفت کی شہادت رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک نے بھی دی ہے۔ خود کہتے ہیں کہ ایک بار میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ القِيَامَةِ اے اللہ کے رسول آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ کس خوش نصیب کو فائدہ پہنچے گا۔ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا «لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ» (5) ابو ہریرہ میرا یہی خیال تھا کہ یہ سوال سب سے پہلے تم ہی کرو گے اس لئے کہ میں تمہاری حرص حدیث سے واقف ہوں۔ اس کے بعد اصل سوال کا جواب ارشاد فرمایا شفاعت سے سب سے زیادہ فائدہ اخلاص قلب کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہنے والے کو ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں سے بھی حصہ وافر ملا تھا ان کے حافظہ کے لئے آپ ﷺ نے بڑے اہتمام سے دعائیں فرمائیں (1) اور ان کے حق میں یہ دعائیں مقبول بھی ہوئیں، وہ جو بات آپ ﷺ سے سن لیتے کبھی نہ بھولتے۔ اسی لئے ان کو محدثین نے احفظ اصحاب محمد ﷺ اور احفظ من روی الحدیث فی عصرہ کہا ہے۔ (2) حضرت ابو ہریرہؓ نے اپنے قوی الحفظ ہونے کی یہ وجہ بتلائی ہے کہ میں نے ایک بار آپ ﷺ سے عرض کیا۔ میں آپ ﷺ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں لیکن یاد نہیں رہتیں، آپ ﷺ نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤمیں نے چادر پھیلا دی اس پر آپ نے کچھ پڑھا پھر آپ کی حکم سے میں نے اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس دن کے بعد سے میں کبھی آپ کی کوئی بات نہیں بھولا۔ (3) صحابہ کرام حضرت ابو ہریرہؓ کے حافظہ اور ہمت وقت خدمت اقدس میں حاضری اور کثرت روایت کے معترف تھے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے کسی نے کہا کہ کیا ابو ہریرہؓ نے واقعی آپ لوگوں سے زیادہ احادیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں یا یونہی روایات نقل کرتے ہیں۔ حضرت طلحہؓ نے جواب دیا انہوں نے واقعی وہ روایات آپ ﷺ سے سنی ہیں جو ہم لوگوں نے نہیں سنی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین شخص تھے، مال و دولت ان کے پاس نہ تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان تھے۔ آپ ہی کے ساتھ کھاتے پیتے اور ہمہ وقت آپ کے ساتھ رہتے تھی اور ہم لوگ اہل و عیال اور مال و متاع والے تھے۔ ہماری حاضری صرف صبح و شام ہوتی تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو روایات وہ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ ہی سے سنی ہیں اور ہم اپنے مشاغل کی وجہ سے ان سے محروم رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی ایک موقع پر کہا، ابو ہریرہؓ ہم لوگوں کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں زیادہ رہتے تھے اور آپ کی احادیث زیادہ محفوظ رکھتے تھے۔ (4)
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ان میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ نے ان کو لے کر برکت کی دعا فرما دی اور فرمایا ان کو اپنے تھیلے میں رکھ لو، جب بھی ضرورت ہو اس میں سے نکالتے رہنا۔ فرماتے ہیں وہ تھیلا میرے پاس برسوں رہا اور میں اسی سے کھاتا رہا اور اس مین سے بہت سی اللہ کے راستہ میں خرچ بھی کیں۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی موقع پر کہیں گم ہو گیا۔ (5)
ان کے اسلام لانے کے بعد بھی ان کی والدہ ایمان کی دولت سے محروم تھیں انہیں اس کا بڑا صدمہ تھا۔ والدہ کی بہت منت سماجت کرتے لیکن وہ کسی طرح آمادہ نہ ہوتیں، بلکہ انہیں ہی سخت و سست کہتی تھیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر والدہ نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کر دی۔ سب کچھ قابل برداشت تھا لیکن یہ تو کسی طرح بھی برداشت نہ ہو سکتا تھا، روتے ہوئے آپ ﷺ ی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی والدہ کو دین کی دعوت دیتا رہتا ہوں وہ انکار کرتی رہتی ہیں لیکن آج تو غضب ہو گیا۔
میں نے جب ان کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کی شان میں بھی گستاخی کر دی۔ اے اللہ کے رسول آپ میری والدہ کی ہدایت کی دعا فرما دیں۔ آپ نے فوراً ہی دعا فرما دی۔ اللهم اهد ام ابى هريرة۔ الہی ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے دیجئے۔ فرماتے ہیں کہ آپ کی دعا سن کر میں خوش خوش گھر کی طرف چل دیا، گھر پہنچا تو دروازہ بند پایا، اور اندر سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ میری والدہ نے آہٹ پا کر مجھے باہر ہی رہنے کو کہا، انہوں نے جلد جلد غسل کیا اور کپڑے پہن کر دروازہ کھولا، پھر کہا اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد عبده ورسوله۔ میں خوشی سے رونے لگا اور آ کر رسول اللہ ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی۔
آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کچھ اچھے کلمات ارشاد فرمائے۔ اس کے بعد میں نے ایک اور دعا کی درخواست کی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کر دیجئے کہ میری اور میری ماں کی محبت اپنے نیک بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور اپنے نیک بندوں کو ہمارا بھی محبوب بنا دے۔ آپ ﷺ نے یہ دعا بھی فرما دی۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اسی دعا کا نتیجہ ہے کہ ہر بندہ مومن مجھ سے محبت کرتا ہے۔ (1) ان کی والدہ کا نام حضرت امیمہ ؓ تھا۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد اکابر صحابہ کرامؓ سے بھی احادیث لی ہیں اور ان سے احادیث کی روایت کرنے والوں میں صحابہ و تابعین کی بہت بڑی تعداد ہے۔ امام بخاریؒ نے ان کے تلامذہ کی تعداد آٹھ سو ۸۰۰ بتلائی ہے۔ (2)وہ مسجد نبوی ہی میں حدیث کا درس دیتے تھے۔ (3)
علمی اور تدریسی مشاغل کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت اور مجاہدہ بھی بہت کرتے تھے۔ ابو عثمان النہدی تابعی کہتے ہیں کہ میں ایک بار سات دن تک ابو ہریرہؓ کے یہاں مہمان رہا۔ مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے، ان کی اہلیہ اور خادم نے رات کے تین حصہ کر لئے ہیں باری باری ایک ایک شخص اپنے حصہ شب میں جاگتا ہے اور یہ ان لوگوں کا مستقل معمول ہے۔(4)
حضرت عمرؓ نے انہیں بحرین کا عمال بنا دیا تھا۔ لیکن جلد ہی انہوں نے اس خدمت سے سبکدوشی حاصل کر لی۔ حضرت عمرؓ نے ان کو دوبارہ عامل بنانا چاہا انہوں نے انکار کر دیا حضرت عمرؓ نے کہا کہ تم عامل بننے سے انکار کرتے ہو، حالانکہ تم سے بہتر شخص نے ھاکم یا عامل بننے کی خواہش کی تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا وہ کون شخص تھے، حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ حضرت یوسف تو نبی ابن نبی تھے اور میں تو ابو ہریرہؓ ابن امیمہ ہوں۔ (5) پھر مروان نے اپنے زمانہ میں کبھی کبھی مدینہ مین اپنا نائب بھی مقرر کیا ہے۔
مرض وفات میں جب وقت قریب معلوم ہونے لگا تو رونے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ، سفر سخت ہے اور زاد راہ کم ہے یہ خوف آخرت تھا ورنہ اگر ان کے پاس زاد راہ کم تھا تو پھر کس کے پاس زیادہ ہو گا۔ خلیفہ مروان عیادت کو آئے اور دعا کی شفاك الله۔ اللہ آپ کو شفا دے۔
ابو ہریرہؓ نےبھی فوراً دعا کی اللهم احب لقاءك فاحبب لقائى۔ اے اللہ میں آپ کی ملاقات کا مشتاق ہوں۔ آپ بھی میری ملاقات کو پسند فرما لیجئے۔ (1) تھوڑی ہی دیر کے بعد اللہ و رسول ﷺ کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینے آنے والا رسول اللہ ﷺ کا یہ مہمان اپنے مالک حقیقی کی رحمت کے آغوش میں پہنچ گیا۔ ؓ وارضاہ۔
سنہ وفات میں بھی اختلاف ہے ۵۷، ۵۸، ۵۹ سنین وفات ذکر کئے جاتے ہیں ۵۷ھ راجح ہے۔ (2) وفات کے وقت عمر ۷۵ سال تھی ولید بن عقبہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ
خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ، کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی ولادت ۳ نبوی یعنی بعثت کے تیسرے سال ہوئی۔ ان کی والدہ کا نام زینب بنت منطعونؓ ہے۔ یہ مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعونؓ کی بہن ہیں۔ ام المومنین حضرت حفصہؓ بھی انہیں کی صاحبزادی ہیں۔(3)
بچپن ہی میں اپنے والدین کے ساتھ حضرت عبداللہ بھی ایمان لے آئے تھے۔ ہجرت بھی اپنے والد حضرت عمرؓ کے ساتھ کی ہے۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ ابن عمرؓ اپنے والد سے پہلے مدینہ ہجرت کر کے آ گئے تھے۔ (4)
ہجرت کے وقت ان کی عمر صرف دس سال تھی۔ غزوہ بدر کے وقت خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا میں غزوہ میں شریک ہونا چاہتا ہوں، لیکن آپ ﷺ نے کم عمری کی وجہ سے واپس کر دیا۔ غزوہ احد میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پھر غزوہ خندق میں جب ان کی عمر ۱۵ سال کی ہوئی تو آپ نے ان کی درخواست قبول فرما کر غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ (5) اس کے بعد تو غزوات میں شرکت ہی رہی حدیبیہ میں بیعت رضوان میں بھی شریک رہے ہیں۔ (6)
فضائل
حضرت عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحای، قریبی عزیز اور حضرت عمر فاروقؓ کے سب سے زیادہ باکمال صاحبزادے ہیں۔ جن کے صلاح و تقویٰ کی شہادت خود زبان نبوت نے دی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں، میں نے ایک رات خواب دیکھا کہ دو فرشتے پکڑ کر مجھے آگ کے ایک کنویں کے پاس لے گئے میں اس کو دیکھ کر ڈر گیا اور اعوذ باللہ من النار اعوذ باللہ من النار پڑھنے لگا۔ ایک اور فرشتے نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں۔ میں نے یہ خواب اپنی بہن حضرت حفصہؓ سے ذکر کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نعم الرجل عبداللہ لو کان یصلی من اللیل، عبداللہ بہترین شخص ہیں کیا ہی اچھا ہو تہجد بھی پڑھنے لگیں۔ اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ان کی صاحبزادہ سالمؓ نقل کرتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ ارشاد نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں فكان عبدالله بعد ذالك لا ينام من الليل الا قليلا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد نعم الرجل عبدالله لو كان يصلى من الليل۔ کو سننے کے بعد میرے والد حضرت عبداللہ بن عمرؓ رات کو بس برائے نام ہی سوتے تھے۔ (1) ان کے بیٹے حضرت سالمؓ کے علاوہ ان کی شب بیداری کا تذکرہ ان کے آزاد کردہ غلام حضرت نافعؓ بھی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ابن عمرؓ ساری رات نماز میں مشغول رہتے۔ جب صبح صادق کا وقت قریب آ جاتا تو استغفار شروع کر دیتے اور صبح تک کرتے رہتے۔ خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید پڑھتے جاتے اور روتے جاتے، ایک بار آیت کریمہ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ پڑھ کر روتے روتے بےحال ہو گئے۔ (2)جامع ترمذی کی روایت میں ان کے ایک خواب کا ذکر ہے۔ فرماتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں اور میرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے میں اس کو جنت کی جس جانب اشارہ کرتا ہوں وہ مجھے اڑا کر وہیں لے جاتا ہے، میں نے یہ خواب اپنی بہن حضرت حفصہؓ سے ذکر کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، آپ نے اس موقع پر بھی وہی تعبیر بیان فرمائی کہ ان عبدالله رجل صالح (3) عبداللہ بن عمرؓ نیک و صالح شخص ہیں۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ان کا کندھا پکڑ کر فرمایا كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ القُبُورِ (4) یعنی دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ تم پردیسی ہو یا مسافر اور اپنے کو اہل قبور یعنی مردوں میں شمار کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق پوری زندگی زاہدانہ گزار دی۔ عمر بھر دنیا سے کوئی تعلق نہ رکھا کیسے کیسے مواقع حصول دنیا کے آئے۔ لیکن انہوں نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد بعض صحابہ کرامؓ نے ان کو آگے بڑھ کر بیعت لینے پر آمادہ کرنا چاہا مگر وہ آمادہ نہ ہوئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین جب شدید اختلاف ہوا تب بھی بعض صحابہؓ نے ان سے پیشکش کی کہ آپ کے نام پر تقریباً سب ہی متفق ہو جائیں گے لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ ارشاد کے علاوہ ان کے سامنے اپنے محترم والد حضرت عمرؓ کا فرمان بھی تھا۔ حضرت عمرؓ کی شہادت کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے آئندہ ہونے والے خلیفہ کے انتخاب کے لئے ایک مجلس شوریٰ متعین کر دی تھی جس کے ارکان حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ تھے۔ ان حضرات کو یہ ہدایت تھی کہ آپ لوگ انہیں مذکورہ چھ حضرات میں سے خلیفہ کا انتخاب کر لیں۔ مشورہ میں میرے بیٹے عبداللہ کو بھی شامل کر لیں لیکن خلافت کے لئے ان کا انتخاب نہ کریں۔ (1)
سادگی کا یہ حال تھا کہ حضرت سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مسئلہ دریافت کرنے کے لئے ان کے یہاں حاضر ہوا مجھے اندر گھر میں ہی بلا لیا، میں نے دیکھا کہ وہ اس ٹاٹ یا موٹے کپڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جو ان کے اونٹ پر کجاوہ کے نیچے ڈالا جاتا ہے۔ (2) حضرت عثمانؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کو قاضی بنانا چاہا، لیکن ان کے پیہم اصرار کے باوجود کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ (3)
اتباع سنت کا غیر معمولی اہتمام کرتے، اس معاملہ میں کسی کی رعایت نہ کرتے۔ ایک بار ایک شخص نے آخر ان سے حج تمتع کے بارے میں دریافت کیا کہ تمتع کرنا صحیح ہے یا نہیں آپ نے فرمایا بالکل صحیح ہے، اس شخص نے کہا کہ آپ کے والد صاحب تو تمتع کرنے سے منع کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا یہ بتلاؤ کہ اگر میرے والد صاحب منع کرتے ہوں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے کیا ہو تو کیا میرے والد صاحب کی اتباع کی جائے گی یا رسول اللہ ﷺ کی۔ اس شخص نے کہا کہ اتباع تو رسول اللہ ﷺ ہی کی کی جائے گی۔ اس کے بعد فرمایا تو سن لو کہ آپ نے تو حج تمتع ہی کیا ہے۔ (4) ایک بار آپ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ايذنوا للنساء بالليل الى المساجد ذكر فرما رہے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ عورتوں کو رات میں نماز جماعت کے لئے مسجد جانے دیا کرو۔ ان کے بیٹے (جن کا نام واقد یا بلال ذکر کیا جاتا ہے) نے کہا ہم عورتوں کو مسجد جانے کی اجازت نہیں دیں گے وہ اس آمدورفت کو فتنہ کا ذریعہ بنا لیں گی۔ ابن عمرؓ کو اپنے بیٹے کی اس بات پر بہت غصہ آیا اور بہت سخت و سست کہا۔ پھر فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے اور تم کہتے ہو کہ ہم اجازت نہیں دیں گے۔ (5)
سفر میں بھی اتباع سنت کا بہت لحاظ کرتے۔ جن راستوں سے آپ ﷺ کاگذر ہوا ہو وہ حتی الوسع انہیں راستوں سے گذرتے، اثنائے سفر جہاں جہاں آپ نے قیام فرمایا ہو وہیں قیام فرماتے۔ جہاں جہاں آپ نے نماز پڑھی ہو وہیں نماز پڑھتے۔ حتی کہ سایہ کے لئے جس درخت کا انتخاب آپ ﷺ نے کیا ہو، ابن عمرؓ بھی اسی درخت کے سایہ میں بیٹھتے۔ ہر سال حج کرتے اور عرفہ میں آپ ہی کے موقف میں قیام فرماتے تھے۔ (1) راہ خدا میں بکثرت مال و دولت خرچ کرتے، خصوصاً اپنی پسندیدہ چیزوں کو تو ضرور ہی اللہ کے لئے خرچ کر دیتے، جو غلام یا باندی کسی بھی حیثیت سے اچھا ہوتا اسے آزاد کر دینے میں تامل ہی نہ ہوتا بلکہ قصداً اسی کو آزاد کرتے۔ مشہور و جلیل القدر تابعیؒ حضرت نافع ان کے غلام تھے۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ نے ان سے نافع کو خریدنا چاہا اور ایک ہزار دینار قیمت دینے کی پیشکش کی۔ لیکن ابن عمرؓ نے اپنا غلام نافع کو فروخت نہیں کیا اور لوجہ اللہ آزاد کر دیا۔ یہی نافع حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے خاص شاگرد اور ان کی کتنی ہی روایت کردہ احادیث کے راوی ہیں۔ امام مالک ان کی سند کو سلسلۃ الذہب یعنی سونے کی زنجیر فرماتے ہین حضرت نافع کے علاوہ بھی بہت سے غلام اور باندیاں انہوں نے آزاد کیں جن میں بعض کو بڑا علمی مقام نصیب ہوا۔
ایک بار حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ طیبہ سے باہر کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستہ میں کسی جگہ قیام کیا اور کھانے کے لئے دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لے کر قریب سے گذرا اور ان حضرات کو سلام کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس کو کھانے کی دعوت دی۔ اس نے کھانے سے معذرت کر دی اور کہا کہ میرا روزہ ہے آپ نے فرمایا ایسے سخت گرم اور لو گے دنوں میں تم نفلی روزے رکھتے ہو، اس نے کہا کہ میں ان ایام کو غنیمت سمجھتا ہوں۔ حضرت ابن عمرؓ اس کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور اس کے تقوے کا امتحان لینے کے لئے اس سے کہا میاں ایک بکری ہمارے ہاتھ فروخت کر دو، اس کی قیمت بھی ہم تمہیں دیں گے اور اس کے گوشت میں سے بھی تمہارے افطار کے لئے کچھ تمہیں دے دیں گے۔ اس نے جواب دیا یہ بکریاں میری نہیں ہیں، میرے مالک کی ہیں، میں کیسے بکری فروخت کر سکتا ہوں حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا ایک بکری کا مالک کو کیا پتہ چلے گا۔
اس بندہ خدا نے جواب دیا۔ فاين الله لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ وہ تو حاضر و موجود ہے، وہ کہاں چلا گیا ہے۔ ابن عمرؓ اس جواب سے بہت متاثر ہوئے اور بہت دیر تک اس کے جواب فاين الله، فاين الله کی تکرار کرتے رہے۔ جب مدینہ طیبہ واپس آئے تو اس کے مالک سے وہ غلام بھی خریدا اور بکریاں بھی۔ غلام کو آزاد کر دیا اور بکریاں اسی کو ہبہ کر دیں۔(2)
طبقات ابن سعد میں بہت سے واقعات ان کی ایثار اور انفاق فی سبیل اللہ کے مذکور ہیں۔ (3)
صحابہ و تابعین بھی ان کے فضل و کمال کے بہت معترف تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو عمر و مقام میں ان سے بڑے ہیں فرماتے ہیں ان املك شباب قريش لنفسه عن الدنيا عبدالله بن عمر (4) قریش کے نوجوانوں میں دنیا کے معاملہ میں اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے عبداللہ بن عمرؓ ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرؓ دنیا کی طرف بالکل مائل نہ تھے۔ حضرت سدی تابعیؒ کہتے ہیں، میں نے بہت سے صحابہ کرامؓ کو دیکھا سب کی رائے یہ تھی کہ عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی اسی حال میں رہے جس حال میں آپ ان کو چھوڑ کر گئے تھے۔ (1) ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ کا جب انتقال ہوا ہے تو وہ فضل و کمال میں اپنے والد حضرت عمرؓ کی طرح تھے۔ اس کے بعد ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ تو ایسے زمانہ میں تھے جس میں ان جیسے دوسرے حضرات بھی تھے۔ لیکن ابن عمرؓ اپنے زمانہ میں بس آپ ہی اپنی مثال تھے۔ (2) صحابہ و تابعین کے ایسے ہی اقوال ان کی سیرت نگاروں نے بکثرت نقل کئے ہیں۔ وہ ان چند صحابہ کرامؓ میں ہیں جن کو محدثین نے مکثرین فی الروایہ کے طبقہ میں شمار کیا ہے۔ بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کے بعد وہ سب سے زیادہ احادیث نقل کرنے والے صحابی ہیں۔ ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۱۶۳۰ ہے۔ اگرچہ وہ روایت کرنے اور آپ کی جانب کسی بات کے انتساب کرنے میں از خد احتیاط کرتے تھے۔ جو بات معلوم نہ ہوتی بلاتکلف لا ادری یعنی میں نہیں جانتا کہہ دیتے۔ (3)
رسول اللہ ﷺ کے بعد تقریباً ساٹھ سال زندہ رہے۔ غزوات میں شرکت کے علاوہ زندگی کا اکثر حصہ مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ ہی میں گذرا۔ لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں آتے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا علم حاصل کرتے۔ حضرت معاویہؓ کی وفات کے بعد بڑے مشکل حالات میں بھی وہ راہ اعتدال پر ہی گامزن رہے۔
وفات
مکہ معظمہ ہی میں ۷۳ یا ۷۴ھ میں تقریباً ۸۷ سال کی عمر میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔
سیدنا بلال ؓ
رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سیدنا بلالؓ حبشی النسل تھے باپ کا نام رباح اور ماں کا نام حمامہ ذکر کیا جاتا ہے۔ کسی طرح مشرکین مکہ کے غلام ہو گئے تھے اسلام کے بالکل ابتدائی دور ہی میں اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دیا۔ مکہ کے ایک بت پرست کے غلام کی یہ جسارت کہ وہ اس کے بتوں اور معبودوں کو بالکل قرار دے کر الہ واحد کی ربوبیت کا قائل ہو جائے اس کے مشرک مالک اور دیگر مشرکین مکہ کے نزدیک کسی طرح بھی قابل برداشت اور لائق معافی نہ تھی۔ ان لوگوں نے اسلام لانے کے جرم کی پاداش میں ہر طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ اذیتوں اور ایذا رسانیوں کے ساری حدیث ختم کر دیں۔ کبھی ان کو سخت گرم دوپہر میں لوہے کی زرع (قمیص) پہلا کر دھوپ میں مکہ کی پتھریلی زمین پر ڈال دیا جاتا، کبھی ننگے بدن دھوپ میں جلتی ہوئی چٹانوں پر لٹا کر ان کے سینے پر بھی پتھر کی ایک بڑی چٹان رکھ دی جاتی۔ کبھی ان کا مالک ان کو زمین میں پیٹ کے بل لٹا دیتا اور خود ان کی کمر پر کھڑا ہو جاتا۔ مکہ کے اوباشوں کو جمع کر کے لاٹھیوں، ڈنڈوں اور کوڑوں سے ان کی پٹائی کرائی جاتی، اور مقصود و مطالبہ صرف ایک یعنی اسلام کو چھوڑ کر پھر ان کے شر ک و کفر والے دین کو اختیار کر لیں۔
لیکن ان کی زبان سے ہر ظلم و ستم کے جواب میں ربی اللہ، احد احد ہی نکلتا۔ ان کی ان تکلیفوں اور مصیبتوں کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن ایسے ہی کسی موقع پر زبان مبارک سے نکلا۔ لو کان عندنا شئی ابتعنا بلالا۔ کاش ہمارے پاس کچھ مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے۔ حضرت ابو بکرؓ کو آپ ﷺ کی خواہش کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت بلالؓ کو خرید کر آزاسد کر دیا۔ اب تو مشرک کی غلامی سے نجات ملی گئی تھی، ہمہ وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہنے لگے اور پوری زندگی آپ کی غلامی میں گذار دی۔ (1)
فضائل
انہوں نے دین کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں اور ایمان کے لئے جو اذیتیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کی ہیں وہ کم ہی صحابہ کرام کے حصہ میں آئی ہیں۔ اسی لئے ان کو رتبہ بھی بڑا ملا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک دن فرمایا ابو بكر سيدنا واعتق سيدنا يعنى بلالا۔ ابو بکرؓ ہمارے آقا و سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے آقا و سردار کو آزاد کیا ہے۔ (2)
وہ ان صحابہ کرامؓ میں ہیں جن کے جنتی ہونے کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلاَلٍ: «عِنْدَ صَلاَةِ الفَجْرِ يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ» قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ» (3)
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن فجر کی نماز کے وقت رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے دریافت فرمایا۔ بلال! بتلاؤ تمہارا کون سا دینی عمل ہے جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ قابل بھروسہ اور لائق اعتماد ہے۔ اس لئے کہ میں نے جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی ہے۔ حضرت بلالؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (ﷺ) میرے اعمال میں میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل بھروسہ عمل یہ ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو حسب توفیق کچھ نفل نماز ضرور پڑھ لیتا ہوں۔
یہ الفاظ تو صحیح بخاری کی روایت کے تھے تقریباً ایسے ہی الفاظ صحیح مسلم کی روایت کے بھی ہیں جامع ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا يَا بِلاَلُ لِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الجَنَّةِ؟ مَا دَخَلْتُ الجَنَّةَ قَطُّ إِلاَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، دَخَلْتُ البَارِحَةَ الجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي. بلال تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے سابق ہو جاتے ہو۔ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا۔ تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی۔ رات بھی میں جنت میں گیا تھا تب بھی تمہارے جوتوں کی آواز میں نے سنی تھی۔ ترمذی کی اس روایت میں حضرت بلالؓ کے جواب کے الفاظ اس طرح ہیں: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلاَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلاَّ تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهِمَا (1)
یعنی جب بھی اذان دیتا ہوں دو رکعت نفل نماز پڑھتا ہوں (جو بظاہر تحیۃ المسجد ہو گی) اور جب بھی وضو ٹوٹتا ہے فوراً وضو کر لیتا ہوں اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے دو رکعتیں پابندی سے پڑھتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
یہی دونوں عمل اس فضیلت کے باعث ہیں۔ جامع ترمذی کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے بار بار حضرت بلالؓ کو جنت میں اپنے آگے دیکھا یا ان کے جوتوں کی آواز سنی۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ فرماتے ہیں یہ واقعہ یا واقعات خواب کے تھے۔ بعض روایات میں اس کی صراحت بھی ہے اور انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔
امام ترمذیؒ نے آپ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جنت بلال کی مشتاق و منتظر ہے۔ (2) وہ باعتبار ہجرت بھی سابقین اولین ہی میں ہیں ان سے پہلے صرف حضرت مصعب بن عمیرؓ اور حضرت ابن ام مکتومؓ نے ہجرت کی ہے۔ (3) پھر جب مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد نماز باجماعت پڑھی جانے لگی اور اذان کی مشروعیت ہوئی تو روز اول سے مسجد نبوی ﷺ کے مؤذن ہونے کی سعادت بھی انہیں کو ملی (4) اور آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں وہ مسلسل اذان دیتے رہے لیکن آپ کی وفات کے بعد وہ مدینہ طیبہ میں نہ رہ سکے حلیفہ رسول ﷺ حضرت ابو بکرؓ سے غزوات میں شرکت کے لئے جانے کی اجازت چاہی۔ حضرت ابو بکرؓ نے باصرار اپنے پاس مدینہ طیبہ روکنا چاہا تو انہوں نے کہا۔ اعتقنى لله او لنفسك۔ آپ نے مجھے اللہ کی خاطر آزاد کیا تھا یا اپنے لئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا۔ اللہ کے لئے۔ اس پر حضرت بلالؓ نے کہا تو پھر مجھے غزوہ میں جانے دیجئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اجازت دے دی اور وہ غزوات میں شرکت کے لئے ملک شام چلے گئے۔ پھر مدینہ واپس نہ آ سکے، ملک شام ہی میں وفات پائی۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے روکنے سے تو رک گئے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے اصرار کے باوجود بھی نہ رکے اور غزوات میں شرکت کے لئے مدینہ سے نکل گئے۔ حضرت عمرؓ جب ملک شام گئے ہیں تو حضرت بلالؓ سے ملاقات کی اور اذان دینے کی فرمائش کی، انہوں نے اذان دی تو کہرام مچ گیا۔ صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ ﷺ کا زمانہ یاد آ گیا۔ (5)
وہ ان چند صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نےاپنا خاص رفیق اور انتہائی مقرب صحابی قرار دیا ہے۔ اور جن کا تذکرہ اپنے اہل بیت کے ساتھ کیا ہے۔ (6)
صحابہ کرام ان کا بڑا اکرام کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا مقولہ کہ ابو بكر سيدنا واعتق سيدنا۔ یعنی بلالاً تو آپ نے پڑھ ہی لیا ہے۔ اب ان کے صاحبزادہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا قول بھی پڑھئے۔ ہوا یہ کہ ایک شاعر نے عبداللہ بن عمرؓ کے ایک بیٹے جن کا نام بلال تھا کہ شان میں کچھ اشعار کہے۔ جن میں ایک مصرعہ۔
وبلال عبدالله خير بلال
تھا یعنی ابن عمر کے بیٹے بلال، بلال نام کے لوگوں میں سب سے بہترین بلال ہیں۔ حضرت ابن عمرؓ نے فوراً کہا کہ كذبت بل بلال رسول الله خير بلال۔ تم نے غلط کہا، بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کے بلال، بلال نام کے لوگوں میں سب سے بہترین بلال ہیں۔ ابن عمرؓ انہیں بلال نام کے لوگوں میں سب سے افضل بھی کہہ رہے ہیں اور ان کو بلال رسول اللہ، یعنی اللہ کے رسول ﷺ کے بلال بھی فرما رہے ہیں۔
مشہور تابعی حضرت سعید بن المسیبؓ ان کے بارے میں کہتے ہیں كان شحيحا على دينه انہیں اپنا دین ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ تکلیفیں برداشت تھیں، دین چھوڑنا برداشت نہ تھا۔
وفات
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ملک شام کی طرف چلے گئے تھے۔ ۲۰ھ یا ۲۱ھ میں دمشق میں وفات پائی۔ (1) جب وفات کا وقت آیا تو بیوی رونے اور واویلا کرنے لگیں۔ انہوں نے بیوی کے واویلا کے جواب میں وافرحاہ کہا، یعنی کیا ہی خوشی کا موقع ہے اور پھر اس کے بعد کہا:
غدا نلقى الا حبةمحمدا وحزبه
کل کو اپنے محبوبوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہو گی۔ ؓ وارضاہ۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت انس بن مالک ؓ
حضرت انس بن مالک ؓ کا تعلق مدینہ کے مشہور خاندان قبیلہ خزرج سے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کی ننہال اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی نجار میں تھی۔ (3) ابھی یہ بچے ہی تھے کہ ان کے والد مالک کا انتقال ہو گیا۔ والدہ ام سلیمؓ بڑی صاحب فضل و کمال صحابیات میں تھیں، پہلے شوہر مالک کے انتقال کے بعد مدینہ کے ایک شخص ابو طلحہ نے شادی کا پیغام دیا، وہ اس وقت تک مسلمان نہ تھے، ام سلیمؓ نے کہا میں تم سے شادی کرنے پر راضی ہوں بشرط یہ کہ تم مسلمان ہو جاؤ، ابو طلحہؓ مسلمان ہو گئے اور پھر شادی ہو گئی۔
فضائل
جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لائے ہیں، اس وقت حضرت انسؓ کی عمر صرف دس سال تھی۔ لیکن بہت ذہین بچے تھے، ان کی والدہ ام سلیم اور سوتیلے باپ ابو طلحہؓ ان کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ان انسا غلام کیس فلیخدمک۔ اے اللہ کے رسول انس بہت سمجھدار بچہ ہے ہم اس کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو اپنی خدمت میں رکھ لیا۔ اس دن سے وہ سفر و حضر میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہے۔ (1) حتی کہ اس نو عمری کے باوجود غزوات میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ اسلام کا پہلا غزوہ غزوہ بدر ہے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً گیارہ سال تھی۔ اس غزوہ میں بعض کم عمر صحابہ کرامؓ کو ان کی خواہش کے باوجود صغر سنی کی وجہ سے آپ ﷺ نے شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن حضرت انس بحیثیت خادم آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں۔ (2) ان کی یہ شرکت چونکہ آپ ﷺ کے خادم کے طور پر تھی اس لئے بدری صحابہ کرامؓ کے تذکرہ میں محدثین نے ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
وہ آپ ﷺ کے کادم تھے اور اپنے نام کے ساتھ خادم رسول اللہ ﷺ کا لفظ لگاتے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ان سے بہت محبت تھی کبھی کبھی پیار و محبت میں آپ ﷺ ان کو یَا بُنَیَّ یعنی اے میرے بیٹے کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ ﷺ ان سے اپنے بچوں کی طرح مزاح فرماتے کبھی کبھی ان کے کان پکڑ کر یا ذا الاذنین اے دو کانوں والے فرماتے۔ انہیں بھی آپ سے بہت محبت اور تعلق تھا۔ آپ ﷺ کے وہ تمام کام جو گھر کے بچے کرتے ہیں، حضرت انسؓ ہی انجام دیتے، آپ نے ایک بار ان کو کسی کام کو بھیجنا چاہا کہتے ہیں میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں تھا کہ ضرور جاؤں گا۔ میرے انکار کے بعد آپ نے مجھ سے کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا بعد میں میں اس کام کے لئے چلا گیا، راستہ میں بچے کھیل رہے تھے میں بھی وہیں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے یہ خیال فرمایا کہ میں کام کے لئے نہیں گیا ہوں، اس لئے خود اس کام کے لئے تشریف لے جانے لگے۔ راستہ میں مجھے بچوں کے کھیل میں مشغول دیکھا تو فرمایا تم گئے نہیں، میں نے عرض کیا ابھی جاتا ہوں۔ بچپن کے باوجود ذہانت اور سمجھداری بھی بہت تھی کہتے ہیں کہ ایک بار میری والدہ نے مجھ سے معلوم کیا تو تم اتنی دیر سے کہاں تھے۔ (3) میں نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ نے ایک کام سے بھیجا تھا، والدہ نے معلوم کیا کیا کام تھا، میں نے عرض کیا کہ یہ آپ کا راز ہے، والدہ نے فرمایا آپ کا راز کسی کو نہ بتلانا۔ حضرت انسؓ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد اپنے شاگرد حضرت ثابت بنانیؒ سے فرماتے ہیں کہ آپ کا راز اگر کسی کو بتلاتا تو ثابت تمہیں بتلاتا۔ (4) حضرت انسؓ کی کنیت ابو حمزہ ہے۔ یہ کنیت ان کے کسی بیٹے کے نام پر نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بچپن میں جنگل کی ایک سبزی جسے حمزہ کہتے ہیں توڑ کر کھا رہے تھے، آپ ﷺ نے دیکھ کر انہیں ابو حمزہ فرما دیا بس ان کی کنیت ابو حمزہ ہو گئی۔ (1)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انسؓ کی والدہ ا م سلیم کی درخواست پر حضرت انسؓ کے لئے ہر خیر کی دعا فرمائی اور آخر میں یہ دعا بھی فرمائی:
اللهم اكثر ماله وولده وبارك له فيما اعطيته
ترجمہ: اے اللہ! انوسؓ کو خوب مال اور اولاد سے نوازئیے اور جو کچھ بھی آپ اس کو دیں اس میں برکت عطا فرمائے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہا اسی اسی دعا کا نتیجہ ہے کہ واللہ میرا مال بہت ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد آج سو ۱۰۰ سے بھی متجاوز ہے۔ (2) یہ بھی آپ ﷺ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ ان کے باغ کی ایک جھاڑی کے پتیوں سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اسی طرح ان کے باغ میں سال میں دو بار پھل آتے تھے۔ جب کہ اور لوگوں کے باغات سال بھر میں صرف ایک ہی بار پھل دیتے تھے۔ (3) بعض روایات میں ان دعاؤں کے ساتھ وادخلہ الجنۃ کا بھی اضافہ ہے۔ یعنی اے اللہ ان کو جنت میں داخل فرما۔ اسی لئے صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے تین دعائیں فرمائیں دو ۲ کو تو میں نے پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔ ان شاء اللہ تیسری دعا (وادخلہ الجنۃ) بھی ضرور قبول ہو گی۔ (4) رسول اللہ ﷺ نے تو ان کے لئے دعائیں فرمائیں ہی تھیں، وہ خود بھی مستجاب الدعوات تھے، ایک بار ان کی کاشت کے ذمہ دار ملازم نے آ کر عرض کیا۔ کہ آپ کی کھیتی سوکھ رہی ہے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی خوب بارش ہوئی اور کھیتی سیراب ہو گئی۔ (5) نماز بہت اچھی اور بہت اہتمام سے پڑھتے، حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ما رأيت احدا اشبه صلوة برسول الله صلى الله عليه وسلم من ابن ام سليم یعنی میں نے کسی کو حضرت انسؓ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ حضرت انسؓ کثیر الروایہ صحابی ہیں۔ ہجرت نبوی ﷺ کے بعد ان کا پورا وقت آپ کی خدمت اور صحبت میں گزرا اور انہیں بہت قریب سے آپ ﷺ کے اعمال کو دیکھنے اور اقوال کو سننے کا موقع ملا ہے۔ ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۲۲۷۶ ذکر کی جاتی ہے۔ (6) انہوں نے آپ کے بعد اکابر صحابہ کرامؓ سے بھی روایات لی ہیں۔ ان سے روایت کرنے والے بعض صحابہ کرامؓ بھی ہیں، تابعینؒ میں تو ان کے تلامذہ کی ایک بڑی جماعت ہے۔
ان کی والدہ ام سلیم ؓ بھی بہت ذہین، سمجھدار اور بڑے درجہ کی صحابیہ ہیں۔ امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یا آپ کے والد عبداللہ سے کوئی قریبی قرابت تھی ان کے ایک بھائی بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شہید ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے آپ ﷺ ان کا بہت لحاظ کرتے اور ان کے یہاں آتے جاتے رہتے تھے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے خواب میں جنت دیکھی اور وہاں حضرت ام سلیم ؓ کو بھی دیکھا۔ (1)
مزاج میں سخاوت بھی بہت تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری پر آپ ﷺ کی ضروریات کے لئے کھجور کا ایک باغ بطور عاریتاً آپ کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ (2)
وہ بڑی جانباز، نڈر اور بہادر تھیں، غزوات میں شریک ہوتی تھیں۔ اصل کام تو مریضوں کی تیمارداری، زخمیوں کو پانی پلانا اور اپنے گھر کے مردوں کے لئے کھانا تیار کرنا تھا۔ لیکن اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ بھی ساتھ رکھتی تھیں۔ غزوہ حنین کے موقع پر ایک خنجر لئے ہوئے تھیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے تو عرض کیا یہ خنجر میں نے اس لئے لیا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، (3) ان کے شوہر ابو طلحہؓ بھی غیر معمولی شجاع اور میدان جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے لوگوں میں تھے غزوہ احد میں جب مشرکین مکہ نے یکجا ہو کر رسول اللہ ﷺ پر یلغار کر دی اور سب نے اپ ﷺ ہی کو نشانہ بنا کر تیر و پتھر پھینکنے شروع کر دئیے۔ ایسے موقع پر جب کہ بڑے بڑے جانباز اور بہادر صحابہ کرامؓ کے قدم اکھڑ گئےتھے، حضرت ابو طلحہؓ آپ کے لئے سپر بنے ہوئے تھے۔ وہ بہترین تیر انداز تھے۔ اور مسلسل تیر اندازی کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنی پشت پر کر لیا تھا اور خود آپ ﷺ کے سامنے سینہ سپر ہو گئے تھے۔ آپ ﷺ کبھی کبھی سر اٹھا کر مشرکین کو دیکھتے تو ابو طلحہ کہتے۔ يا نبى الله بابى انت وامى لا يشرف لا يصيبك سهم من سهام القوم نحرى دون نحرك۔ اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ سر اٹھا کر نہ دیکھیں۔ خدانخواستہ دشمنوں کا کوئی تیر آپ کے نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کی حفاظت کرنے کے لئے حاضر ہے۔ (4)
رسول اللہ ﷺ کے یہاں فاقہ تو رہتا ہی تھا۔ ام سلیمؓ اور ابو طلحہؓ اس کا خیال رکھتے اور کبھی کبھی آپ ﷺ کی خدمت میں کچھ پیش کر دیتے یا آپ ﷺ ہی کبھی تشریف لے آیا کرتے اور کھانا تناول فرما لیتے تھے، اس گھر میں سب ہی افراد کا آپ ﷺ سے بہت ہی قریبی تعلق تھا۔ اسی سلسلہ کا ایک عجیب و غریب واقعہ صحیح بخاری کے حوالہ سے پڑھ لیجئے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت ابو طلحہؓ نے ام سلیمؓ سے آ کر کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں بھوک کی وجہ سے بہت کمزوری محسوس کی ہے، تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اور اس کے بعد چھوڑی چھوڑی چند جو کی روٹیاں نکالیں اور اپنی چادر کے ایک کونے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں چادر کا باقی حصہ میرے اوپر لپیٹ دیا اور مجھے وہ روٹیاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ میں جب روٹیاں لے کر آپ کی خدمت میں پہنچا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور کچھ صحابہ کرامؓ بھی وہاں موجود تھے میں وہاں جا کر کھڑا ہو گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا تمہیں ابو طلحہؓ نے بھیجا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا کھانا لے کر میں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے وہاں مسجود سب صحابہ کرامؓ سے فرمایا ابو طلحہ کے یہاں چلیں، میں ان حضرات سے پہلے گھر پہنچا اور آ کر حضرت ابو طلحہ کو اس بات کی اطلاع کی انہوں نے میری والدہ ام سلیمؓ سے کہا رسول اللہ ﷺ صحابہ کی ایک جماعت کو لئے ہم لوگوں کے یہاں تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے کھلانے کو کچھ نہیں ہے۔ ام سلیم نے کہا اللہ ورسولہ اعلم یعنی آپ صحابہؓ کو خود لائے ہیں اللہ جانے اور آپ جانیں۔ حضرت ابو طلحہؓ نے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا اور گھر لے آئے آپ نے ام سلیمؓ سے کہا جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ۔ ام سلیمؓ وہی روٹیاں لے آئیں آپ نے ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرائے۔ ام سلیم نے گھی کی کپی سے گھی ڈال دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر کچھ پڑھا اور فرمایا دس دس کر کے لوگوں کو بلاتے رہو۔ صحابہ کرامؓ کی دس ۱۰ دس ۱۰ کی جماعتیں آتئی رہیں اور کھانے سے فارغ ہو کر نکلتی رہیں حتیٰ کہ ستر ۷۰ یا اسی ۸۰ صحابہ کھانے سے فارغ ہو گئے۔ (1)
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے حضرت انسؓ کو بعض حکومتی کاموں کا ذمہ دار بنا کر بحریں بھیجا تھا۔ آخر میں بصرہ میں سکونت اختیار کر لی تھی، وہیں ۹۳ھ میں وفات پائی۔ بصرہ میں وفات پانے والے آخری صحابی حضرت انسؓ ہی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرات شیخین اور بعض دیگر اکابر صحابہؓ سے بھی روایت کرتے ہیں۔ ان کے مشہور تلامذہ میں حسن بصری، ثابت بنانی، قتادہ زہری وغیرہم ہیں ؓ، وارضاہ۔
حضرت سلمان فارسی ؓ
حضرت سلمان فارسی ؓ، کا وطن ملک ایران کا شہر اصبہان ہے وہاں سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ طیبہ پہنچایا اور شرف ایمان و صحابیت سے نوازا ہے ان کے اس شرف و کمال تک پہنچنے کی داستان خود ان کی زبانی سنئے۔ انہوں نے یہ پورا واقعہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ میں ایرانی النسل ہوں۔ میرا وطن اصبہان ہے۔ میرے والد اپنے گاؤں کے سردار تھے۔ انہیں مجھ سے بہت محبت اور غیر معمولی تعلق تھا۔ اسی لئے ہمہ وقت گھر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ انہوں نے میری پرورش، تربیت اور نگرانی بچیوں کی طرح خارجی ماحول سے کلی حفاظت کے ساتھ کی تھی۔ ہمارے یہاں کا دین آتش پرستی تھا۔ مجھے بھی اپنے دین سے بہت تعلق اور لگاؤ تھا، والد صاحب نے اپنے عبادت خانہ برائے عبادت جو آگ جلا رکھی تھی اور جس کو کبھی بجھنے نہ دیا جاتا تھا، میں ہی اس کا نگران تھا۔ والد مالدار اور صاحب ثروت تھے۔ بہت سے جانور اور کاشت کی زمین تھی۔ اس کی دیکھ بھال وہ خود ہی کرتے تھے، لیکن ایک دن کسی مجبوری کی وجہ سے مجھے جانوروں یا کاشت کاری کے سلسلے کے کسی کام سے بھیجا اور تاکید کر دی کہ کام سے فارغ ہو کر فوراً واپس آ جانا۔ میں اس کام کے لئے جب گیا تو راستہ میں مجھے نصاریٰ کا ایک کنیسہ۔ (گرجا) ملا۔ جس میں وہ لوگ اپنی عبادت میں مشغور تھے۔ ان کی آوازیں سن کر میں کنیسہ کے اندر داخل ہو گیا۔ چونکہ مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہ تھی، اس لئے ابھی تک میں مجوسیت یعنی آتش پرستی کے سوا کسی دین سے واقف نہ تھا مجھے ان کی عبادت اور ان کا دین اپنے دین اور آتش پرستی کے مقابلہ میں بہت اچھے لگے میں صبح شام تک انہیں لوگوں کے پاس رہا اور والد کے کام سے نہ جا سکا۔ میں نے ان لوگوں سے اس دین میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور یہ معلوم کیا کہ اس دین کا مرکز اصلی کہاں ہے۔ انہوں نے مجھے بتلایا کہ ہمارا مذہبی مرکز ملک شام میں ہے میرے دیر تک نہ آنے کی وجہ سے گھر پر میری تلاش شروع ہو گئی تھی۔ رات کو جب گھر پہنچا تو والد نے سوال کیا کہاں تھے؟ میں نے پورا واقعہ بتلا دیا اور نصرانیت میں اپنی رغبت کا ذکر بھی کر دیا۔ میرے والد نے مجھے سمجھایا اور کہا بیٹے اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے۔ سارے ادیان میں تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا دین سب سے بہتر دین ہے۔ لیکن میں اپنی رائے پر قائم رہا اور میں نے والد صاحب سے کہہ دیا کہ میرے نزدیک تو وہ دین یقیناً ہمارے دین سے بہتر دین ہے۔ اب میرے والد کو میرے بارے میں خطرہ ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ مجھے خانہ قید کر دیا۔ بلکہ میرے پاؤں میں بیڑیاں بھی ڈال دیں، میں نے خاموشی سے اس کنیسہ کے لوگوں کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر کوئی قافلہ ملک شام سے آئے تو مجھے اطلاع کرا دیں حسن اتفاق جلد ہی ایک قافہ ملک شام سے آ گیا اور اس کی واپسی کے وقت میں اپنی قید سے کسی طرح بھاگ کر اس قافلہ کے ساتھ ملک شام پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر مجھے دین نصاریٰ کے کسی بڑے عالم کی تلاش ہوئی لوگوں نے بتلایا کہ فلاں کنیسہ میں ایک بڑا نصرانی عالم ہے میں اس کے پاس پہنچا اور اپنا پورا قصہ اور آمد کا مقصد بھی بیان کر دیا کہ آپ کی خدمت میں رہ کر علم دین حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے میری درخواست منظور کر کے قیام کی اجازت دے دی۔ میں اس کے پاس کچھ عرضہ رہا لیکن وہ اچھا آدمی نہ نکلا۔ دوسرے کو اعمال خیر کی ترغیب دیتا اور خود عمل نہ کرتا تھا، مال کا حریص تھا، لوگوں سے صدقات و خیرات وصول کر کے جمع کرتا رہتا تھا۔ اس نے سونے چاندی سے پانچ مٹکے بھر لئے تھے، اسی وجہ سے مجھے اس سے نفرت ہو گئی تھی۔ اللہ کا کرنا کہ جلد ہی وہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کنیسہ کے لئے ایک دوسرے عالم متعین کئے گئے وہ واقعی دیندار اور عابد، زاہد تھے۔ میں انے کے پاس رہا۔ ان کے صلاح و تقویٰ کی وجہ سے مجھے ان سے بہت محبت اور عقیدت ہو گئی۔ کافی دنون کے بعد جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے کہا کہ اب بظاہر آپ کا وقت قریب آ گیا ہے۔ آپ مجھے کس کی خدمت میں جانے کی وصیت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب علماء میں دین نہیں رہ گیا ہے، میرے علم میں ایک دیندار عالم موصل نامی شہر میں ہیں تم میری وفات کے بعد ان کے پاس چلے جانا۔ ان کی وفات کے بعد میں نے ایسا ہی کیا اور موصل پہنچ کر ان عالم کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنا پورا واقعہ اور پہلے عالم کی وصیت کا ذکر کیا کہ انہوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنی خدمت میں رکھ لیا۔ وہ بھی بہت نیک عابد، زاہد عالم تھے، لیکن ان کی وفات بہت جلد ہو گئی۔ وفات سے پہلے میں نے ان سے بھی وہی سوال کیا کہ اب آپ کے بعد میں کہا جاؤں۔ انہوں نے مجھے نصیبین کے ایک عالم کا پتہ دیا میں ان کے انتقال کے بعد نصیبین کے عالم کے پاس پہنچا۔ وہ بھی عالم با عمل تھے۔ مگر میرے پہنچنے کے بعد جلس ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ بھی زیادہ دن کے مہمان نہیں ہیں۔ اس لئے ان سے بھی میں نے آئندہ کے لئے وصیت و نصیحت کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ سے ملک روم کے شہر عمودیہ کے ایک عالم کے پاس چلے جانے کو کہا اور پھر میں ان کی وصیت کے مطابق ان کے انتقال کے بعد عمودیہ کے ان عالم کی کدمت مین پہنچا جن کا پتہ نصیبین کے عالم نےدیا تھا۔ یہاں میں نے تحصیل علم کے ساتھ کچھ تجارت بھی کی جس سے میرے پاس کافی گائیں اور بکریاں جمع ہو گئی۔ اللہ کا کرنا ان عالم صاحب کا بھی وقت موعود آن پہنچا تو مین نے اپنا وہی پرانا سوال ان کے سامنے رکھ دیا۔ کہ اب آپ کے بعد کہاں؟ انہوں نے مجھ سے کہا اب تو کوئی عالم نصاریٰ میں ایسا نہیں رہا۔ جس کی طرف راہنمائی کی جا سکے۔ البتہ اب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ وہ ملت ابراہیمی پر ہوں گے۔ اور ان کا دارالہجرت ایک ایسا نخلستان یعنی کھجوروں کا علاقہ ہو گا جو دو پتھریلے علاقوں کے بیچ میں ہو گا، ان کی علامات نبوت بالکل واضح ہوں گی۔ وہ ہدیہ قبول کریں گے، صدقہ نہیں، ان کی کمر پر دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اتر تمہاری رسائی ان تک ہو سکے تو تم ضرور ان کی خدمت میں چلے جانا۔ عموریہ کے ان عالم کی وفات کے بعد عرصہ تک میں عموریہ میں رہا۔ کافی دنوں کے بعد وہاں ملک عرب کے قبیلہ بنو کلاب کا ایک تجارتی قافلہ پہنچا۔ میں نے اہل قافلہ سے کہا، مجھے آپ لوگ اپنے ساتھ عرب لے چلیں۔ میں اپنی سب گائیں اور بکریاں آپ لوگوں کو دے دوں گا۔ انہوں نے میری بات قبول کر لی اور میں ان کے ساتھ ملک عرب کے لئے روانہ ہو گیا۔ لیکن جب یہ لوگ وادی القریٰ (جو خیبر کی قریب یہود کی ایک بستی ہے) پہنچے تو ان لوگوں نے بدعہدی کی اور مجھے غلاب بتا کر ایک یہودی کے ہاتھ بیچ دیا۔ کافی دنوں کے بعد ایک روز میرے مالک کا ایک عزیز مدینہ طیبہ سے آیا اور مجھے خرید کر مدینہ طیبہ لے گیا۔ مدینہ طیبہ میں نبی آخری الزماں ﷺ کے دارالہجرت ہونے کی وہ تمام علامتیں موجود تھیں جو مجھے عموریہ کے عالم نے بتلائی تھین اور مجھے یقین ہو گیا کہ ایک دن ضرور نبی آخر الزماں ﷺ یہاں یشریف لائیں گے۔
میں یہاں غلامی کی زندگی گذارتا رہا۔ اپنے مالک کے کام کاج میں مشغول رہتا تھا مکہ معظمہ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ کچھ خبریں مدینہ بھی آئیں، لیکن مجھ غلام کو کچھ پتہ نہ چلا۔ ایک دن مین نے یہودی مالک کے باغ میں کھجور کی درخت پر چڑھا ہوا تھا، میرا مالک قریب ہی بیٹھا تھا کہ اس کے ایک عزیز نے آ کر یہ خبر دی کہ مدینہ طیبہ کے بہت سے لوگ ایک ایسے شخص کے استقبال کے لئے قبا گئے ہیں جو مکہ سے آیا ہے، اور خود کو اللہ کا نبی کہتا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی میرا عجیب حال ہو گیا، جسم کانپنے لگا اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں درخت سے نیچے نہ گر جاؤں۔ بمشکل تمام اتر کر آیا اور خبر دینے والے شخص سے پوچھنے لگا کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔ میرے مالک کو میرے سوال پر بہت غصہ آیا، اس نے میرے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور کہا تم سے کیا مطلب تم اپنا کام کرو میں نے کہا بس یونہی سوال کر رہا تھا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو ایک رات کو میں کھانے کا کچھ سامان لے کر بغرض امتحان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یہ صدقہ آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے لئے لایا ہوں آپ ﷺ نے غریب صحابہ کرام سے فرمایا تم لوگ کھاؤ اور خود اس کو ہاتھ نہ لگایا میں نے دل میں کہا جو علامات عموریہ کے عالم نے بتلائی تھی ان میں سے ایک علامت تو صحیح نکلی کچھ دنوں کے بعد کھانے کا کچھ سامان لے کر دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا یہ آپ کی خدمت میں ہدیہ ہے آپ نے اس کو قبول فرما لیا خود بھی کھایا اور صحابہ کرام کو بھی کھلایا میں نے اپنے دل میں کہا یہ دوسری علامت بھی صحیح ثابت ہوئی پھر ایک دن موقع پا کر کمر مبارک پر ختم نبوت بھی دیکھ لی اس آخری علامت کو دیکھ کر صبر نہ ہوسکا اور میں پشت مبارک سے چمٹ کر رونے لگا آپ نے مجھے اپنے سامنے کی جانب بلا لیا میں نے آپ کے سامنے بیٹھ کر اپنا پورا قصہ سنا دیا آپ نے میرا قصہ وہاں موجود صحابہ کرام کو بھی سنوایا۔
اب کس چیز کا انتظار تھا زندگی بھر سے جس نور ہدایت کی تلاش تھی میں اس کے سامنے تھا تمام عمر کی بے چینی کو قرار نصیب ہوگیا۔ کلمہ شہادت پڑھ کر اسی وقت مسلمان ہوگیا۔ (1)
فضائل
حضرت سلمان فارسی دین حق کی طلب میں کس طرح اپنے گھر کے آرام و راحت کو چھوڑ کر ملکوں ملکوں گھومتے پھرے اور ایک عالم سے دوسرے عالم کی خدمت میں علم دین کے خاطر جاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کو آغوش نبی ﷺ تک پہنچادیا گئی دین کا ایسا شوق اور طلب اللہ کی ان مخصوص بندوں ہی کا نصیب تھا اب رسول اللہ ﷺ کو ان کی آزادی کی فکر تھی آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اپنے یہودی مالک سے کتابت کرلو۔ کتاب کی صورت یہ ہوتی ہے کہ غلام اور اس کے مالک کے درمیان یہ بات طے ہو جائے کہ ایک متعین مدت میں غلام اپنے آقا کو متعین رقم یا کوئی اور متبادل چیز ادا کردے تو وہ آزاد ہے آپ کے فرمانے پر حضرت سلیمان فارسی نے اپنے مالک سے کتابت کرلی اس یہودی نے بہت سخت شرائط پر کتابت کی تھی۔
اس کی پہلی شرط تو یہ تھی کہ میرے باغ میں تین سو کھجور کے درخت لگائے جائیں اور جب تک وہ پھل دینے کے قابل نہ ہو اس وقت تک سلمان ان کی پرورش اور نگہداشت کریں دوسری شرط چالیس اوقیہ چاندی کی ادائیگی تھی۔ (ایک اوقیہ چالیس درہم کے ہم وزن ہوتا ہے لہذا چالیس اوقیہ کا وزن چھ سو درہم ہوا) رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے کھجور کے تین سو پودے منگوائے اور اپنے دست مبارک سے سب پودے لگائے ایک بودا حضرت عمرؓ نے لگایا سب پودے اسی سال پھل دینے لگے سوائے اس ایک پودے کے کہ اس پر پھل نہیں آئے آپ ﷺ نے جب اس کے پھل نہ دینے کی تحقیق کی تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا یہ پودا میں نے لگا دیا تھا آپ ﷺ نے اسے اکھاڑ کر دوبارہ اپنے دست مبارک سے لگا دیا وہ بھی اسی سال پھل دینے لگا۔ (1) چاندی کی ادائیگی کا انتظام بھی آپ ہی نے کرکے حضرت سلمان فارسی کو اس یہودی کی غلامی سے آزاد کرایا۔(2)
وہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے فورا بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے لیکن غزوہ بدر اور احد میں اپنی غلامی کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے تھے آزادی کے بعد غزوہ خندق میں شریک ہوئے اور پھر جملہ غزوات میں شرکت کی غزوہ خندق کے موقع پر انہیں کی تجویز پر مدینہ کے اطراف میں خندق کھودی گئی جس کے کھودنے میں رسول اللہ ﷺ بھی صحابہ کرام کے ساتھ شریک رہتے تھے اور اسی خندق کی وجہ سے اس غزوہ کو غزوہ خندق کہتے ہیں۔ (3) رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا جنت سلمان کے لیے ہمہ تن اشتیاق بنی ہوئی ہے۔ (4) وہ بڑے صاحب علم تھے، صحابہ کرامؓ بھی ان کے علم و دین کے معترف تھے حضرت معاذ بن جبلؓ سے انکی وفات کے قریب ان کے شاگردوں اور عزیزوں نے وصیت و نصیحت کی درخواست کی انہوں نے جو نصیحت فرمائیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ سلمان فارسیؓ صاحب علم ہیں ان سے علم حاصل کرنا۔ (5)
صحابہ کرام کی ایک غلطی پر تنبیہ کرنے کے لئے اللہ تعالی نے آیت کریمہ “إِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم” نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگ دین کی خدمت میں کوتاہی کرو گے تو اللہ تعالی تمہارے بجائے دوسرے لوگوں سے دین کا کام لے لے گا جو تمہاری طرح غلطی و کوتاہی نہ کریں گے۔
صحابہؓ نے اس آیت کے نزول کے بعد فورا ہی اپنی کوتاہی کی تو اصلاح کرلیں لیکن رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی دریافت کرلیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ ہماری بجائے ان سے دین کی خدمت لے لے گا اور پھر وہ ہماری جیسی کوتاہی بھی نہ کریں گے آپ نے حضرت سلیمان فارسیؓ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ اور انکی قوم۔ حضرت سلمان فارسیؓ اپنے ملک ایران سے نکل کر کس طرح مدینہ طیبہ پہنچے تھے یہ تو آپ نے پڑھ لیا پھر ایک دن وہ بھی آیا کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے ایران کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا اس لشکر کے امیر حضرت سلیمان فارسیؓ تھے ان کے ساتھیوں نے حملہ کرنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے کہا ابھی انتظار کرو میں ان کو اس طرح دین کی دعوت دیتا ہو جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دین دیتے سنا ہے اسکے بعد حضرت سلیمانؓ ان ایرانیوں کے قریب آکر فارسی زبان میں ان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا۔ ایران کے لوگوں! میں تم ہی میں کا فارسی النسل ایک شخص ہو تم دیکھ رہے ہو یہ عرب میری اطاعت کر رہے ہیں اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے تو تم بالکل ہم لوگوں کے مساوی ہو جاؤ گے تم کو وہ جملہ حقوق حاصل ہوجائیں گے جو ہم سب کو ہیں اور تمہاری ذمہ داریاں بھی وہی ہوں گی جو ہماری ہیں۔ اور اگر تم اسلام نہیں لاتے تو تم جانو لیکن تمہیں جزیہ دینا پڑے گا جو ایک ذلت کی بات ہے اور اگر جزیہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تو پھر قتال کے لئے تیار ہو جاؤ اہل فارس کسی بات کے لئے تیار نہیں ہوئے حضرت سلیمانؓ کے ساتھیوں نے اب حملہ کی اجازت چاہی آپ نے فرمایا ابھی نہیں تین دن تک اسی طرح دعوت دی جائے گی پھر حملہ کیا جائے گا بالآخر تین دن تک دعوت دینے کے بعد حملہ ہوا اور مسلمان کامیاب ہوئے۔ (1) رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ تشریف لا کر انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات کرادی تھی جس کی صورت یہ تھی کہ ایک ایک مہاجر صحابی کو ایک ایک انصاری صحابی کا بھائی قرار دے دیا گیا تھا۔ حضرت سلیمان فارسی کو جو مہاجر تھے حضرت ابودرداء انصاریؓ کا بھائی بنا دیا تھا۔
ایک دن حضرت سلمانؓ حضرت ابودرداءؓ کے یہاں ملاقات کیلئے آئے ان کی اہلیہ ام درداء کو دیکھا کہ بہت ہی معمولی حال میں ہیں زیب و زینت کی کوئی چیز بھی اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں انہوں نے معلوم کیا کہ تم نے اپنا یہ حال کیوں بنا رکھا ہے انہوں نے جواب دیا تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی تعلق ہی نہیں کچھ دیر بعد ابودرداءؓ تشریف لے آئے کھانے کا اہتمام کیا اور حضرت سلمانؓ سے کہا آپ کھائیے میرا روزہ ہے حضرت سلمانؓ نے کہا کہ میں تمہارے بغیر نہیں کھاؤنگا اس پر حضرت ابو درداءؓ نے بھی کھانا کھا لیا۔ جب رات آئی تو ابودرداءؓ نفل نماز پڑھنے چلے حضرت سلمانؓ نے کہا سو جائیے وہ سو گئے کچھ دیر بعد وہ پھر نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے حضرت سلمانؓ نے کہا اب کھڑے ہو جائءے اور نماز پڑھیے۔ دونوں نے نماز پڑھی اس کے بعد حضرت سلمانؓ نے حضرت ابو درداءؓ سے فرمایا تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے اہل و عیال کا بھی تم پر حق ہے ہر صاحب حق کو اس کا حق دینا چاہیے حضرت ابو درداء نے رسول اللہ ﷺ سے آکر اس پورے واقعہ کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا سلمان نے صحیح کہا۔ (2) یہ روایت تو صحیح بخاری کی تھی ایک دوسری روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابو درداء سے فرمایا “سلمان افقه منك” سلمان تم سے زیادہ فقیہ یعنی زیادہ دینی سمجھ بوجھ اور واقفیت رکھنے والے ہیں ایک بار آپ نے حضرت سلمان کے بارے میں فرمایا “سلمان منا اهل البيت” سلمان تو ہمارے اہل بیت میں ہیں۔
کمال علم کے ساتھ زہد و تقویٰ میں بھی بڑا بلند مقام تھا حضرت عمرؓ نے مدائن کا حاکم بنا کر بھیجا تھا اور 5 ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا تھا لیکن وہ سب راہ خدا میں خرچ کرتے اور خود اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ (1) صحابہ کرام میں حضرت انسؓ حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضرت ابو سعید خدریؓ اور بعض دیگر صحابہ کرام اور تابعین کی بھی ایک خاصی تعداد نے ان سے روایات نقل کی ہیں ان کی روایات کی تعداد 60 ہے عمر بہت طویل پائی بعض حضرات نے ساڑھے تین سو اور بعض نے ڈھائی سو سال ذکر کی ہے۔ (2) 36ھ یا 37ھ میں حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں مدائن میں وفات ہوئی وہی قبر ہے۔ (3) ؓ وارضاہ۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت ابو موسی اشعری ؓ
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا نام عبداللہ بن قیس ہے۔ (4) لیکن اپنی کنیت ابو موسی کے ساتھ مشہور ہیں اشعر علاقہ حجاز کے ایک پہاڑ کا نام ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ مدینہ سے ملک شام جاتے ہوئے راستہ میں یہ پہاڑ پڑتا ہے اسی کے قریب قبیلے اشعر کا مسکن تھا اس قبیلہ کے کچھ لوگ یمن چلے آئے تھے انھیں میں حضرت ابوموسیٰ اشعری اور ان کے خاندان کے لوگ بھی تھے۔ یہ لوگ یمن ہی میں ایمان لے آئے تھے۔ (5) صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جب ان حضرات کو رسول اللہ ﷺ کے ہجرت مدینہ کا علم ہوا تو یمن سے سمندر کے راستہ پچاس سے زائد لوگوں کا قافلہ مدینہ طیبہ کے لیے نکلا۔ ان کی کشتی کو ہواؤں نے مدینہ کے قریب کسی ساحل پر پہنچانے کے بجائے ملک حبشہ پہنچادیا وہاں ان کی ملاقات حضرت جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی حضرت جعفرؓ نے ان لوگوں کو وہیں اپنے پاس روک لیا پھر سب لوگ یعنی جو پہلے حبشہ ہجرت کر گئے اور وہیں مقیم تھے اور یہ نوواردین یعنی حضرت ابوموسیٰ اشعری اور ان کے ساتھی ایک ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے حبشہ سے روانہ ہوئے جب یہ لوگ مدینہ طیبہ پہنچے ہیں اس وقت آپ غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے جا چکے تھے یہ سب حضرات بھی خیبر ہی پہنچ گئے ان کے پہنچنے سے پہلے ہی خیبر فتح ہوچکا تھا آپ ﷺ نے خیبر کے مال غنیمت میں حبشہ سے آنے والوں کو بھی شریک فرما لیا۔ (6)
حضرت ابو موسی اور ان کے ساتھی چونکہ حبشہ بھی پہنچ گئے تھے اور وہیں سے مدینہ طیبہ آئے تھے اس لئے بعض حضرات نے ان کو مہاجرین حبشہ میں شمار کیا ہے صحیح بخاری کی مذکورہ روایت سے بھی اس کی کچھ تائید ہوتی ہے اسلئے کہ روایت کے آخر میں یہ بھی تذکرہ ہے کہ حبشہ سے آنے والے صحابہ کرامؓ میں حضرت جعفرؓ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ بھی تھیں ان سے حضرت عمرؓ نے یہ کہا کہ ہم لوگ ہجرت کی فضیلت میں تم سے مقدم اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ حضرت اسماء نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا اور آپ ﷺ سے اس کی شکایت بھی کی آپ ﷺ نے فرمایا عمر اور انکی ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم لوگوں کی دو ہجرتیں ہیں حضرت ابو موسی اور ان کے ساتھی حضرت اسماء سے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو بار بار سنا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ خود کو بھی اصحاب الہجرتین میں شمار کرتے تھے اس سفر میں ان کے ساتھ ان کے دو بھائی ابوبردہؓ اور ابو رہمؓ بھی تھے ان کا ذکر تو بخاری کی مذکورہ روایت میں بھی ہے۔ تذکرۃ الحفاظ میں بھی مذکور ہے کہ ان کی والدہ طیبہ بنت وہبؓ بھی صحابیہ ہیں(1) بظاہر وہ بھی اسی سفر میں ساتھ آئی ہوگی۔
فضائل
رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اشعر کے لوگوں کی باہمی محبت اور ایثار و قربانی کی بہت تعریف فرمائی ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگوں کا مدینہ میں یا سفر میں کھانا کم پڑ جاتا ہے تو سب لوگ اپنا کھانا یکجا جمع کر لیتے اور پھر برابر باہم تقسیم کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا فہم منی وانا منھم وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں(2) یہ پورا خاندان بہت ہی خوش الحان تھا سب لوگ قرآن مجید بہت اچھا پڑھتے تھے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ فرماتے ہیں “إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ، حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ” (3) قبیلہ اشعر کے لوگ جب رات کو اپنے گھروں میں تلاوت قرآن کرتے ہیں تو میں ان کی آواز پہچان لیتا ہوں اور اسی آواز سے ان کے مکانات کو بھی جان جاتا ہوں خواہ میں نے ان کو دن میں ان کے گھروں میں آتے جاتے نہیں دیکھا ہو اس قبیلہ کی تلاوت اور قرات قرآن کی تعریف میں آپ نے فرمایا “اشعرون في الناس كصرة فيها مسك” (4) یعنی قبیلہ اشعر کے لوگوں کی مثال ایک مشق بھری ہوئی تھیلی کی ہے خاص طور پر حضرت ابوموسی کی تلاوت و قرات قرآن کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا “لَقَدْ أُوْتِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ” اللہ نے انکو حضرت داؤد علیہ السلام کے خاندان کے لوگوں کی طرح حسن صورت اور خوش الحانی عطا فرمائی ہے (5)
رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا” اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو بخش دیجئے اور قیامت کے دن (جنت میں) اکرام کے ساتھ داخل فرما دیجئے۔ (6)
حضرت عمر فاروقؓ بھی ان کی تلاوت قرآن کی بہت تعریف فرماتے اور کہتے کہ ان کی تلاوت سے اللہ کی یاد اور اس کا شوق پیدا ہوتا ہے ان کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جو اہل فتوی سمجھے جاتے ہیں مشہور تابعی حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں صحابہ کرام علم کا منتہیٰ ہے ان میں حضرت ابوموسیؓ بھی ہیں امام بخاری اور علی بن مدینی نے بھی ان کا شمار اصحاب القضاء والفتوی صحابہ کرام میں کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تھا حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ خلافت میں بھی وہ یمن ہی میں رہے حضرت عمرؓ نے بصرہ کا حاکم بنایا پھر چار سال تک بصرہ کے گورنر رہے حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرا کوئی حاکم ایک سال سے زیادہ کسی جگہ نہیں رہا البتہ ابوموسیؓ چار سال بصرہ میں بحیثیت گورنر رہے۔
اہل بصرہ ان سے بہت خوش تھے حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بصرہ میں کوئی حاکم بھی اہل بصرہ کے لئے ان سے بہتر نہیں آیا (1) بصرہ کے قیام کے زمانہ میں بڑی بڑی فتوحات ان کے ذریعہ ہوۓ ہیں اصبہان اور اہواز وغیرہ کے علاقہ انہی کی سرکردگی میں فتح کیے گئے ہیں پھر حضرت عثمانؓ نے آپ کو کوفہ کا گورنر بنایا مسئلہ تحکیم میں حضرت علیؓ کی طرف سے آپ ہی حکم بنائے گئے تھے۔
وفات
ذی الحجہ 44ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ (2) ؓ وارضاہ۔
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ
رسول اللہ ﷺ کے میزبان حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا نام خالد بن زید ہے۔ مدینہ طیبہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایمان لانے میں سابقین اولین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ واقعہ ہجرت سے کافی پہلے مدینہ طیبہ سے مکہ معظمہ جا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے بیعت عقبہ ثانیہ میں شرکت فرمائی اور ایمان لائے انہوں نے اور ان کے ساتھ مدینہ طیبہ کے کچھ صحابہ کرامؓ نے ہر طرح کی ذمہ داری لے کر آپ کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی تھی پھر ہجرت رسول اللہ ﷺ کے بعد جملہ غزوات میں شریک رہے ہیں اور ہر طرح سات نبھایا ہے۔ (3)
رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لائے ہیں اس وقت مدینہ میں خاصی تعداد میں لوگ مسلمان ہو چکے تھے آپ کی تشریف آوری پر مدینہ کے سربر آوردہ حضرات نے مدینہ سے باہر ہی قبا جا کر آپ ﷺ کا استقبال کیا تھا مدینہ تشریف لانے پر ہر شخص کی خواہش اور درخواست یہ تھی کہ آپ اسے شرف میزبانی سے نوازیں اور اسی کے گھر پر قیام فرمائیں اس درخواست کو لے کر وہ لوگ بار بار آپ کی اونٹنی(جس پر سوار ہوکر آپ تشریف لائے تھے) کے سامنے آتے اور اسکی مہار پکڑنا چاہتے آپ فرما دیتے “دعواها فانها مامورة” اس کو نہ روکو یہ منجانب اللہ مامور ہے۔ جہاں رکنے کے لیے اس کو اللہ کا حکم ہوگا یہ وہیں رکھے گی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے جا کر بیٹھ گئی اور یہ دولت بے بہا ابو ایوبؓ کی قسمت میں آئی۔ ان کا مکان دومنزلہ تھا انہوں نے نیچے کا پورا حصہ آپ کے لیے خالی کردیا اور خود بالائی حصہ پر چلے گئے لیکن جانے کے بعد خیال آیا کہ ہم اوپر کے حصہ میں ہیں اور رسول اللہ ﷺ نیچے کے حصہ میں یہ تو بڑی بے حرمتی کی بات ہے وہ رات تو کسی طرح اوپر کی منزل کے ایک کونے میں کاٹ لی لیکن صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے اس خیال کو عرض کیا آپ ﷺ نے فرمایا ہماری اور ہمارے پاس آمدورفت رکھنے والوں کی سہولت اسی میں ہے کہ ہم نیچے کے مکان میں رہیں اس لیے یہی نظم باقی رہا لیکن ایک رات ایسا ہوا کہ اوپر کی منزل میں جہاں حضرت ابوایوبؓ اور ان کی اہلیہ رہتے تھے پانی کا ایک گھڑا ٹوٹ گیا اور پانی فرش پر بہہ پڑا اس خیال سے کہ اب پانی نیچے کی منزل میں جہاں آپ قیام فرما ہیں ٹپکے گا انہوں نے فورا اپنے لحاف میں پانی جذب کر لیا اور پوری رات دونوں میاں بیوی سردی کی وجہ سے سو نہ سکے اس لیے کہ اس لحاف کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چیز رات کو اوڑھنے کی نہ تھی جب یہ واقعہ آپ کے علم میں آیا تو آپ ﷺ نے اپنا قیام اوپر کی منزل میں کر لیا جب تک آپ کے اہل خانہ کے لیے مکان کا انتظام نہیں ہوا آپ کے قیام و طعام کی سعادت حضرت ابو ایوب انصاری کے نصیب میں ہی رہی۔ (1)
فضائل
حضرت ابو ایوب سابقین اولین میں بڑے جلیل القدر صحابی ہیں آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دینے اور پھر تشریف آوری پر حتی الامکان آپ کی خدمت اور راحت رسانی کی فکر کرنے والے صحابی ہیں آپ جب تک ان کے یہاں قیام فرما رہے کھانا پکا کر پہلے سب آپ کی خدمت میں بھیج دیا جاتا جو وہاں سے بچ کر آ جاتا میاں بیوی دونوں کھا لیتے بلکہ حضرت ابو ایوب تو اسی جگہ سے کھاتے جہاں سے آپ نے نوش فرمایا ہوتا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات ہوتے تھے (2) آپ کی حیات طیبہ میں جملہ غزوات میں شریک رہے اور آپ کی وفات کے بعد بھی مسلسل غزوات میں شرکت فرماتے رہے ہیں۔ 52ھ میں غزوہ قسطنطیہ کے لیے جانے والے لشکر میں شامل تھے راستے ہی میں مریض ہو گئے اور بچنے کی امید نہ رہی لشکر کے امیر یزید بن معاویہ عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کوئی خواہش ہو تو ارشاد فرمائیں انہوں نے فرمایا میرے انتقال کے بعد بھی میرے جنازے کو جہاں تک دشمن کی سرزمین میں لے جا سکو لے جانا اور وہاں جا کر دفن کرنا۔ انتقال کے بعد ان کی خواہش کی تکمیل کی گئی اور ان کو قسطنطیہ کے قلعہ کی دیوار کے قریب لے جا کر دفن کیا گیا۔ (3)
رسول اللہ ﷺ سے محبت اور تعلق اور آپ کی اتباع کا بہت خیال رکھتے تھے صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ایک بار حسب معمول ان کے یہاں سے کھانا پکا کر آپ کی خدمت میں بھیجا گیا کچھ دیر بعد جب کھانے کے برتن واپس آئے تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے تو کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے حضرت ابوایوبؓ گھبرا گئے اور فورا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانا نوش نہ فرمانے کی وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس میں لہسن ہے انہوں نے عرض کیا کیا لہسن حرام ہے آپ نے فرمایا حرام تو نہیں ہے لیکن بدبو کی وجہ سے مجھے پسند نہیں ہے حضرت ابو ایوبؓ نے عرض کیا جو آپ کو ناپسند ہو وہ مجھے بھی ناپسند(1) اور ہمیشہ کے لیے لہسن کھانا چھوڑ دیا۔
ان کی دینی حمیت اور اتباع سنت کا ایک واقع اور پڑھ لیجئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے صاحبزادے حضرت سالم فرماتے ہیں کہ والد صاحب نے میرے ولیمہ کی دعوت میں جن صحابہ کرامؓ کو مدعو کیا تھا ان میں حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بھی تھے وہ جب تشریف لائیں تو انھوں نے دیکھا کہ میرے مکان کی دیواروں پر کپڑے کے پردے لٹکے ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر حضرت ابوایوبؓ میں بہت سخت ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا دیواروں کو کپڑے پہناتے ہو والد صاحب کو ان کے فرمانے پر بڑی خفت ہوئی اور کہا عورتیں غالب آ گئی اس پر حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے فرمایا “من خشيت أن تغلبه النساء، فلم أخش أن يغلبنك لا ادخل لكم بيتا ولا آكل لكم طعاما” (2) مجھے ہر شخص کے بارے میں یہ خطرہ ہوسکتا تھا کہ عورتیں اس پر غالب آ سکتی ہیں لیکن تمہارے بارے میں عورتوں کے غلبہ کا خطرہ بالکل نہ تھا میں نہ تمہارے گھر میں قدم رکھوں گا اور نہ تمہارا کھانا کھاؤں گا اور بغیر کھانا کھائے ہی واپس چلے گئے۔
صحابہ کرامؓ آپ کے بعد بھی ان کے میزبان رسول اللہ ﷺ ہونے کا بڑا خیال کرتے اور اس وجہ سے ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ بصرہ میں قیام فرما تھے ان کے یہاں حضرت ابو ایوب انصاریؓ تشریف لائے ابن عباسؓ نے اپنا پورا مکان مع سازوسامان قیام کے لیے ان کے حوالہ کردیا اور بڑی مقدار میں ہدایا اور عطیات پیش خدمت کیے بالکل اسی طرح کا معاملہ حضرت علی نے بھی ان کے ساتھ کیا تھا (3)
ان سے احادیث کی روایت کرنے والے صحابہ کرامؓ میں حضرت براء بن عازبؓ حضرت زید بن خالد حضرت مقدام بن معدی کربؓ حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضرت جابر بن سمرہؓ حضرت انس بن مالکؓ جیسے صحابہ کرامؓ ہیں تابعین کی بھی بڑی تعداد نے ان سے احادیث نقل کی ہیں۔
وفات
جیسا کہ اوپر گزرا 521ھ میں غزوہ قسطنطنیہ میں وفات پائی اور وہیں دفن کئے گئے۔
حضرت عمار بن یاسر ؓ
حضرت عمار بن یاسرؓ کے والد یاسرؓ اصلا یمن کے رہنے والے ہیں مکہ معظمہ آ کر بس گئے تھے اور وہاں قبیلہ بنو مخزوم کہ ایک شخص ابوحذیفہؓ سے حلف کرلی تھی (زمانہ جاہلیت میں حلف دوشخصوں یا دو قبیلوں کے درمیان باہمی نصرت وحمایت کا معاہدہ ہوتا تھا) ابو حذیفہؓ نے ان کی شادی اپنی باندی سمیہؓ سے کردی تھی انہیں دونوں کے بیٹے حضرت عمارؓ ہیں یہ تینوں یعنی حضرت عمارؓ اور ان کے والدین بالکل ابتدائی زمانہ میں اسلام لانے والے اور دین کے خاطر مشرکین مکہ کے ہاتھوں طرح طرح کے ظلم و ستم برداشت کرنے کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہنے والے صحابہ کرامؓ میں ہیں مکہ میں سخت گرمی کے زمانہ میں تپتی ہوئی چٹانوں پر باندھ کر ڈال دئیے جاتے تھے اور ایذارسانی کی ہر ممکن صورت ان پر آزمائی جاتی تھی ایسے ہی ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کا گزر ان حضرات پر ہوا تو فرمایا “صبرا يا آل ياسر موعدكم الجنة” یاسر کے گھر والو صبر کرو تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔
ان کی والدہ حضرت سمیہؓ کو وہ جو بہت ہی کمزور اور بوڑھی عورت تھیں ابوجہل نے نیزہ مار کر شہید کر دیا تھا اسلام میں سب سے پہلی شہادت انہی کی ہے (3) ان کے والد یاسر بھی ان تکلیفوں اور اذیتوں کی وجہ سے مکہ ہی میں وفات پا گئے تھے (4) تین افراد پر مشتمل اس خاندان میں سے حضرت عمارؓ ہی باقی بچے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے خود ہجرت فرمانے سے پہلے انہیں اور حضرت بلالؓ کو مدینہ طیبہ بھیج دیا تھا (5)
فضائل
جیسا کہ ابھی گزرا وہ اور ان کے والدین سابقین اولین میں ہیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اولین ایمان لانے والے سات صحابہ کرامؓ میں حضرت عمار اور ان کے والد حضرت یاسرؓ کو شمار کیا ہے (6) اور اللہ تعالی نے ان لوگوں کے لئے ؓ و رضوا عنہ و کام مژدہ سنایا ہے یعنی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر اور اس کے بعد بھی جملہ غزوات میں شریک رہے ہیں (7) حضرت عمارؓ بڑے صاحب فضیلت صحابی ہیں رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ “مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا” (1) یعنی ان کے مزاج میں اتنی سلامتی ہیں اور اللہ نے انکی شیطان اور اس کے وساوس سے ایسی حفاظت فرمائی ہے کہ وہ کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے اور جب بھی ان کو کن ہی دو کاموں یا دو باتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو وہ اسی کو اختیار کرتے ہیں جو برحق ہوتا ہے حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں کہ اللہ نے انکے شیطان سے محفوظ و مامون ہونے کا اعلان بزبان نبوت فرمایا ہے (2) یعنی حضرت ابودرداءؓ کے علم میں رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی حدیث ہے جس میں آپ نے حضرت عمارؓ کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کو شیطان اور اس کے وساوس سے محفوظ رکھا ہے۔
ان سے رسول اللہ ﷺ کو بڑی محبت تھی ان کی حاضری اور ملاقات سے آپ ﷺ بہت خوش ہوتے ایک بار در دولت پر حاضر ہوئے اور اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا “ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ” (3) بلا لو انکو اور فرمایا خوش آمدید اس شخص کو جو ہر طرح پاک و صاف ہے۔
ان کے فضائل میں امام ترمذی نے حضرت حذیفہؓ کی ایک حدیث نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد حضرت عمارؓ کی سیرت و کردار کو اختیار کرنے کا حکم دیا اور اسے اسوہ قرار دیا ہے فرماتے ہیں۔ “كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنِّي لاَ أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَكُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ” (4) ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ ﷺ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کے میں کتنے دن تم لوگوں کے درمیان رہتا ہوں لہذا میرے بعد ان دونوں یعنی ابوبکر و عمر کی پیروی کرنا اور عمارؓ کی سیرت کو اپنانا اور جو بات عبداللہ بن مسعودؓ بیان کریں اس کو مان لینا رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان واھتدوا بہدی عمار میں حضرت عمار کی سیرت و کردار کی بلندی اور پاکیزگی کی کیسی شہادت اور کتنا واضح اعلان ہے رسول اللہ ﷺ نے انہیں اعلی درجہ کا مومن اور کامل الایمان قرار دیا ارشاد فرماتے ہیں “ان عمارا ملئى ايمانا الى مشاشه” (5) عمارؓ اپنی ہڈیوں کے سروں اور جوڑوں تک ایمان سے بھرے ہوئے ہیں مشاش کا لفظ عربی زبان میں ہڈی کے سرے کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے بظاہر حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان ان کے رگ و پے میں اور جوڑ جوڑ میں سرایت کر گیا ہے اور یہ تعبیر ہے ان کے اعلی درجے کے مومن اور کامل الایمان ہونے کی۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں ان کا ایک کان کٹ گیا تھا عمار بن یاسرؓ اس کے کٹنے پر خوشی بلکہ فخر کا اظہار کرتے اور فرماتے تھے جو کان کاٹ گیا وہ زیادہ بہتر تھا اس کان سے جو بچ گیا اس لیے کہ وہ اللہ کے راستے میں کام آ گیا حضرت علیؓ حضرت عمارؓ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ارشاد “دم عمار ولحمه حرام على النار ان تطعمه” (6) نقل کیا ہے یعنی جہنم کی آگ کے لیے حرام ہے کہ وہ عمارؓ کے خون اور گوشت کو کھائے۔
شہادت
حضرت عمر نے حاکم بنا کر کوفہ بھیج دیا تھا عرصہ تک وہاں رہے پھر جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے اور 87 میں بعمر 93 سال جنگ صفین ہوں میں شہید ہوئے ہیں (ؓ وارضاہ
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت صہیب رومی ؓ
حضرت صہیب رومی اصلا عرب ہیں بچپن میں رومی پکڑ کر لے گئے تھے اور غلام بنا لیا تھا وہیں پلے بڑھے ہیں اسی لیے رومی کہلاتے ہیں بڑے ہونے پر یا تو خود بھاگ آئے اور مکہ آکر عبداللہ بن جدعان سے موالات کرلی یا کسی نے روم سے خرید کر مکہ میں لاکر بیچ دیا اور عبداللہ بن جدعان نے خرید کر آزاد کر دیا دونوں کو ذکر کئے جاتے ہیں (2)
رسول اللہ ﷺ سے قبل بعثت ہی سے تعلق تھا فرماتے ہیں “صحبت النبى صلى الله عليه وسلم قبل ان يوحى اليه” (3) پھر اسلام لانے میں بھی سبقت کرنے والے لوگوں میں ہی حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ دارارقم میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایمان قبول کرلیا آپ کی ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ ہجرت کی ہے ان کی ہجرت کا واقعہ بھی عجیب و غریب ہے وہ مکہ سے بارادہ ہجرت نکلے ہی تھے کہ مکہ کے مشرکین کو علم ہوگیا انہوں نے راستے ہی میں روک لیا حضرت صہیب نے فرمایا تم مجھے جانتے ہو میں بہتر کی انداز ہو جب تک میرے ترکش میں ایک بھی تیر باقی رہے گا تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے ہو پھر میرے پاس میری تلوار بھی ہے جو تمہارے سروں کو تمہارے جسموں سے جدا کر دے گی ان لوگوں نے کہا ہمیں تمہارے جانے پر زیادہ اعتراض نہیں لیکن تم جو مال لے جا رہے ہو یہ مال تو مکہ کا ہے تم جب مکہ آئے تھے تو بالکل غریب تھے اور اب مالدار ہو گئے ہو حضرت صہیب نے فرمایا یہ بتلاؤ کے اگر میں اپنا مال تمہیں دے دوں تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے انہوں نے کہا بے شک اس کے بعد حضرت صہیب نے مکہ میں موجود اپنا مال کا بتا دیا کہ فلاں فلاں کے پاس میرا مال ہے اور میرے گھر میں فلاں جگہ سونا دفن ہے اس پر ان لوگوں نے حضرت صہیب کو مدینہ طیبہ جانے کی اجازت دے دی۔
حضرت صہیب جب مدینہ پہنچے ہیں اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کو قبا ہی میں تھے جو اس وقت مدینہ طیبہ کی ایک مضافاتی بستی تھی ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ان کے بارے میں آیت “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ” (سورۃ بقرہ آیت نمبر 207) نازل ہوچکی تھی ترجمہ اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے جو اپنی جان کو اللہ کی رضا جوئی کیلئے بیچتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا ربح البیع ربح البیع ربح البیع تمہاری تجارت نفع مند رہی یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا۔ (1)
فضائل
حضرت صہیبؓ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا بالکل ابتداء ہی میں اسلام لانے والے صحابہ کرام میں ہیں چونکہ مکہ میں ان کا کوئی عزیز اورحامی و ناصر نہ تھا اس لئے مشرکین مکہ نے ایمان لانے پر ان کو سخت ترین سزائیں دیں مارنا پیٹنا ہاتھ پاؤں باندھ کر سخت گرمی کے دنوں میں تپتی ہوئی چٹانوں پر دھوپ میں ڈال دینا یہ تو روز مرہ کا معمول تھا۔
ان کے بارے میں اوپر ذکر کی گئی آیت کریمہ “ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ..... الخ” تو نازل ہوئی ہی اس کے علاوہ آیت کریمہ “وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّـهِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴿٤١﴾ الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ” (سورۃ النحل نمبر41) کا مصداق بھی وہ اور ان جیسے صحابہ کرامؓ ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے ظلم و ستم کے بعد اللہ کے واسطے ہجرت کی۔ ان کو ہم دنیا میں یقینا بہترین ٹھکانہ دینگے اور آخرت کا اجروثواب تو بہت ہی بڑا ہے۔ اگر ان کو معلوم ہوتا وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسا کیا (2) رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا صهيب سابق الروم الى الجنة۔ (3) اہل روم میں صہیب سب سے پہلے جنت میں جانے والے شخص ہیں۔
وہ آپ کے ہجرت فرمانے کے فورا بعد ہی ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچ گئے ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھ جملہ غزوات میں شریک رہے اگر آپ ﷺ نے کبھی کوئی لشکر روانہ فرمایا ہے جس میں دینی مصالح کی بنا پر آپ خود تشریف نہیں لے جاسکے ہیں تب بھی صہیبؓ اس میں شریک ہوئے ہیں آپ نے جب بھی صحابہ کرامؓ سے کسی بات پر عہدوپیمان اور بیعت لی حضرت صہیبؓ اس عہد و پیمان اور بیعت میں بھی شریک رہے وہ بڑے بہادر اور جانباز تھے ہر خطرہ کے وقت وہ سب سے آگے رہتے کسی موقع پر بھی دشمن کے مقابلہ میں وہ پیچھے نہیں رہے ہیں۔ (4)
ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کو حضرت ابوبکرؓ کے متعلق یہ خیال ہوا کہ شاید انہوں نے صہیبؓ کو کچھ تکلیف پہنچا دی ہے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا “لعلك آذيته فقال لا والله فقال لو آذيته لاذيت الله ورسوله” کیا تم نے اس صہیبؓ کو ایذا پہنچائی انہوں نے عرض کیا واللہ ایسا نہیں ہے آپ نے فرمایا اگر تم نے ان کو تکلیف پہنچائی تو سمجھ لو گے تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی۔ (1)
ان کے بارے میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے “من كان يومن بالله واليوم الاخر فليحب صهيبا حب الوالدة لولدها” (2) یعنی اہل ایمان کو چاہیے کہ صہیبؓ سے ایسی محبت کریں جیسی ماں اپنے بیٹے سے کرتی ہے۔
صحابہ کرامؓ کی نظر میں بھی ان کی بڑی قدر و منزلت تھی اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے زخمی ہونے کے بعد فرمایا جب تک خلیفہ کا انتخاب نہ ہوجائے مسجد نبوی ﷺ میں امامت صہیبؓ کریں گے اور میری نماز جنازہ بھی صہیبؓ ہی پڑھائیں گے۔ (3) اور پھر ایسا ہی ہوا۔
وفات
سن وفات 38ھ یا 39ھ ذکر کیا جاتا ہے وفات کے وقت بہت سنجیدہ ہو چکے تھے۔ (4) ؓ وارضاہ
حضرت ابوذر غفاری ؓ
نام شریف جندب بن جنادہ ہے لیکن اپنی کنیت ابو ذر کے ساتھ ہی مشہور ہیں ان کا قبیلہ غفار مکہ سے ملک شام جاتے ہوئے راستہ میں پڑتا ہے اسلام لانے سے پہلے بھی مزاج میں سلامتی تھی توحید کے قائل تھے اور صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے حضرت عبداللہ بن صامتؓ نے اس بارے میں انہیں کا بیان نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے تین سال پہلے ہی سے نماز پڑھتا تھا حضرت عبداللہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا آپ کس کے لئے نماز پڑھتے تھے فرمایا اللہ کے لیے میں نے پوچھا کدھر کو رخ کر کے نماز پڑھتے تھے کہا جدھر میرا رب میرا رخ کر دیتا تھا ادھر ہی کو متوجہ ہو کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا رات کے اولین حصّہ میں نماز شروع کرتا اور جب وقت آخر شب ہوتا تو اللہ کے حضور سجدے میں پڑ جاتا سورج نکلنے تک ایسے ہی پڑا رہتا۔ (5)
ان کے ایمان لانے کا ایک واقعہ صحیحین کی ایک روایت کے مطابق اس طرح ہے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے تحقیق حال کے لئے اپنے بھائی حضرت انیسؓ کو مکہ بھیجا انہوں نے واپس آکر رسول اللہ ﷺ کے متعلق بتلایا کہ وہ مکارم اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور ایسا کلام سناتے ہیں جو شعر تو بہرحال نہیں ہے حضرت ابوذر کو بھائی کی بات سے پورا اطمینان نہیں ہوا مختصر سامان سفر لیا اور مکہ کے لیے روانہ ہوگئے مکہ پہنچ کر حرم شریف میں جا کر ٹھہر گئے اور رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے لگے نہ خود پہچانتے تھے نہ کسی سے دریافت کرنا مناسب سمجھتے تھے اسی حال میں رات ہوگئی حضرت علی پردیسی خیال کرکے اپنے گھر لے گئے قیام و طعام کے علاوہ کوئی گفتگو دونوں میں نہیں ہوئی رات وہیں گزاری اور صبح کو اپنا سامان لے کر پھر حرم شریف آگئے دن بھر وہی رہے دوسری رات کو بھی حضرت علی یہ خیال کر کے کہ پردیسی ہیں ابھی اپنی منزل تک نہیں پہنچے اپنے گھر لے گئے آج بھی دونوں میں مطلب کی کوئی بات نہیں ہوئی اور حضرت ابوذر صبح کو پھر حرم شریف آ گئے تیسرے دن بھی حضرت علی نے ان کو حرم میں ہی دیکھا تو اپنے ساتھ لے جاتے ہوے حاضری کا مقصد معلوم کیا انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس بات کا عہد وپیمان کریں کہ مجھے صحیح بات بتلائیں گے تو میں اپنی آمد کی غرض بتلاؤں جب حضرت علی نے وعدہ کرلیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے متعلق دریافت کیا حضرت علی نے فرمایا وہ بالکل برحق ہے اور بلاشبہ وہ اللہ کے رسول ہیں آپ رات کو میرے ساتھ رہئے میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں لے چلوں گا اور دیکھئے اگر میں راستہ میں آپ کے لیے کوئی خطرہ محسوس کروں گا تو پیشاب کرنے کے بہانے رک جاؤں گا (آپ چلتے رہیے گا) صبح کو دونوں حضرات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کی بات سن کر حضرت ابوذر اسی وقت مسلمان ہوگئے آپ نے ان سے فرمایا کہ تم اس وقت تو اپنے گھر چلے جاؤ اور وہاں دین کی دعوت کا کام کرو اور جب ہمارے غلبہ کا علم ہوجائے چلے آنا انہوں نے کہا میں خاموشی سے گھر واپس نہیں جاؤں گا علی الاعلان مشرکین مکہ کے سامنے اپنے اسلام لانے کا اظہار کروں گا اور پھر حرم شریف آ کر قریش کے لوگوں کے سامنے باآواز بلند اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله۔ کا اعلان کردیا یہ نعرہ ایمانی سن کر لوگ چاروں طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے برا حال کر دیا پورا جسم لہولہان ہو گیا حضرت عباس کو اس کا علم ہوا آئے اور ان کو بچایا ابوذر نے دوسرے دن بھی اشھد ان لا الہ الخ کا نعرہ بلند کیا اور آج بھی وہی سب کچھ ہوا جو کل ہوا تھا (1) طبرانی کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے ان کو اس اعلان سے بار بار منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ مجھے تمہارے قتل کر دئیے جانے کا خطرہ ہے لیکن ہر بار وہ جواب میں یہی عرض کرتے تھے “انه لا بد منه وان قتلت” یہ تو میرے لئے ناگزیر ہے خواہ قتل ہی کیوں نہ کر دیا جاؤں صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں مزید یہ بھی ہے کہ وہ جب مکہ سے اپنی والدہ اور بھائی کے پاس واپس پہنچے تو وہ لوگ بھی ان کے ایمان لانے پر ایمان لے آئے (2) اس وقت تک صرف تین چار حضرات تھی ایمان لائے تھے (3)
رسول اللہ ﷺ سے رخصت ہو کر اپنے قبیلہ آئے اور آپ کے حکم کے مطابق وہاں دعوت دین کا کام شروع کردیا بہت ہی کم عرصہ میں قبیلہ غفار اور اس سے متصل قبیلہ اسلم کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں قبیلوں کی بہت تعریف فرمائی ہے کبھی آپ نے فرمایا غفار غفر اللہ لھا واسلم سالمھا ا اللہ۔ اللہ قبیلہ غفار کی مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے۔ کبھی آپ نے فرمایا یہ دونوں قبیلے اللہ کے مولا ہیں اور ان کا اللہ و رسول کے علاوہ کوئی مولا نہیں ہے (عربی زبان میں مولیٰ کا لفظ حامی ناصر اور انتہائی قریبی شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے) حدیث کی کتابوں میں ان دونوں قبیلوں کی مدح و ستائش کی روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں۔ (1)
رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد وہ فورا مدینہ حاضر نہ ہو سکے تھے بلکہ غزوہ احد کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر مستقل آپ کی خدمت و صحبت ہی میں رہے۔ (2)
فضائل
حضرت ابوذرؓ کا شمار سابقین اولین اکابر صحابہ کرام میں ہوتا ہے وہ اگرچہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے لیکن حضرت عمرانؓ کے فضل و کمال کی وجہ سے انھیں بدری صحابہ کرامؓ ہی کی صف میں شمار کرتے تھے ان کے نزدیک علم و فضل میں حضرت ابوذر کا درجہ اور مقام حضرت عبداللہ بن مسعود جیسا تھا حضرت علی بھی ان کو علم کا خزانہ کہتے تھے (3) غزوہ تبوک میں اونٹ کے بیماریاں کمزور ہو جانے کی وجہ سے عام لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے اس لئے اونٹ کو چھوڑا سامان کمر پر لادا اور پیدل چل دئیے آپ نے دیکھا تو دعا فرمائی “يرحم الله ابا ذر” اللہ ابوذرؓ پر رحم فرمائے پھر فرمایا تنہا زندگی گزارتے ہیں موت بھی تنہائی میں آئی گی اور روز محشر بھی سب سے الگ اٹھیں گے۔ (4)
ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا “مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلاَ أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ وَلاَ أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ” (5) آسمان کے زیرسایہ اور روئے زمین پر کوئی شخص ابوذر سے زیادہ سچا اور بات کا پکا نہیں ہے وہ (اپنے زہد اور دنیا سے بے رغبتی میں) حضرت عیسی علیہ السلام کے مشابہ ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا “أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ” (6) ابوذرؓ حضرت عیسی علیہ السلام کے زھد کے حامل ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حضرت ابوذر جس طرح زاہدانہ زندگی گزارتے تھے انہوں نے اپنی زندگی میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی تھی اور آپ کا ارشاد ہے “اقربكم من مجلسا يوم القيامة من خرج من الدنيا كهيئة يوم تركتها فيها” قیامت میں سب سے زیادہ میرے قریب مقام اس شخص کو نصیب ہو گا جو دنیا سے اسی حالت میں رخصت ہوا جس حالت میں میں اس کو چھوڑ کر آیا تھا (1) آپ ﷺ نے ان کو اپنے انتہائی خاص صحابہ کرام میں شمار کیا ہے ایک بار آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو چودہ مخصوص اور فاضل رفقاء عطا فرمائے ہیں پھر آپ ﷺ نے ان چودہ رفقاء خاص کے اسمائے گرامی بھی ذکر فرمائے جن میں حضرت ابوذر کا نام بھی شامل ہے۔ (2)
وفات
حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں اپنے زاہدانہ مزاج کی وجہ سے مدینہ سے باہر مقام ربدہ میں آکر رہنے لگے تھے اہلیہ کے علاوہ غالبا اور کوئی ساتھ نہ تھا وہیں وقت موعود آ پہنچا مسلمانوں کی ایک جماعت جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی تھے وہاں سے گزری انہیں حضرات نے تجہیزوتکفین کی حضرت عبداللہ بن مسعود نے نماز جنازہ پڑھائی۔ (3) ؓ وارضاہ
حضرت معاذ بن جبل ؓ
ایک انتہائی حسین و جمیل خوبرو نوجوان جس کی عمر ابھی بیس سال بھی نہ تھی بیعت عقبہ ثانیہ یا ثالثہ کے موقع پر مدینہ طیبہ سے مکہ معظمہ حاضرہوکر رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک میں اپنا ہاتھ دے کر اسلام پر جینے اور مرنے اور مرتے دم تک اسلام کی خدمت و حمایت کی بیعت کر رہا تھا اسے ایمان کی دولت حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ذریعہ نصیب ہوئی تھی جنہیں اللہ کے رسول ﷺ نے خود ہجرت فرمانے سے پہلے ہی مدینہ طیبہ کے لوگوں کو دین کی دعوت اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے بھیجا تھا اس نوجوان کا نام معاذ بن جبلؓ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد تو معاذ سایہ کی طرح آپ ﷺ کے ساتھ رہے اکیس سال کی عمر میں غزوہ بدر سے غزوات میں شرکت شروع کی پھر تمام ہی غزوات میں شریک رہے ابھی عمر کی صرف تیس منزلیں ہی طے کی تھیں کے اہل یمن کی درخواست پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو یمن کا حاکم اور اہل یمن کا معلم بنا کر بھیجا۔ (4)
فضائل
حضرت معاذ بن جبلؓ نو عمری ہی میں سعادت ایمانی سے نواز دیے گئے تھے انہوں نے قرآن مجید اور دینی مسائل کی تحصیل براہ راست رسول اللہ ﷺ سے کی تھی اور آپ ﷺ نے ان کو اس کم عمری ہی میں قرآن و سنت اور دینی و فقہی مسائل کا بڑا عالم قرار دے دیا تھا اپنی حیات ہی میں آپ نے جن حضرات صحابہ کرامؓ کو قرآن مجید کا معلم بنایا تھا ان میں معاذ بن جبلؓ بھی ہیں صحیح بخاری وغیرہ میں آپ ﷺ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے “اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيٍّ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ” (1) یعنی ان چار حضرات سے جن میں معاذ بن جبلؓ بھی ہیں قرآن مجید پڑھا کرو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے “اعلم امتى بالحرام والحلال معاذ بن جبل” (2) یعنی حلت و حرمت کے مسائل کی واقفیت میں معاذ بن جبل کا مقام سب سے بلند مقام ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں پورا قرآن حفظ کرلیا تھا فتح مکہ کے بعد آپ نے حضرت معاذؓ کو اہل مکہ کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے کچھ دنوں کے لیے وہیں چھوڑ دیا تھا رسول اللہ ﷺ ان سے بہت خوش رہتے تھے ایک بار ان کے بارے میں فرمایا “نعم الرجل معاذ بن جبل” (3) معاذ بن جبلؓ بہت ہی اچھے شخص ہیں آپ کو حضرت معاذؓ سے بہت محبت تھی اور کبھی کبھی آپ ﷺ اس کا اظہار بھی فرما دیتے تھے ایک موقع پر آپ نے حضرت معاذ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا “يا معاذا والله انى لاحبك” معاذ واللہ مجھے تم سے بہت محبت ہے اس کے بعد آپ نے انہیں ایک دعا تعلیم فرمائی اور فرمایا ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور پڑھا کرو “اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ” (4) اے اللہ میری مدد فرما اور مجھے توفیق دے اپنے ذکر کی اپنے شکر کی اور اپنی اچھی عبادت کی۔
۱۰ھ میں آپ صلی اللہ وسلم نے حضرت معاذؓ ..... کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا ہے اور مدینہ طیبہ سے اس شان سے رخصت فرمایا ہے کہ معاذؓ (آپ کے حکم کے مطابق) گھوڑے پر سوار ہیں اور آپ ﷺ پاپیادہ ان کے ساتھ چل رہے ہیں اور حضرت معاذؓ کے بار بار عرض کرنے کے باوجود بھی ان کو گھوڑے سے اترنے کی اجازت نہیں دی ہے رخصت کرتے وقت آپ نے ان کو دین کی دعوت اور اسلامی حکومت کے سلسلہ کی بہت سی نصیحتیں فرمائی ہیں جن کا ذکر صحیحین وغیرہ کی روایات میں ہے (5) اسی سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔ معاذ! وہاں کے لوگوں کے درمیان اگر قضا یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی ضرورت پڑے گی تو کس طرح فیصلے کرو گے انہوں نے عرض کیا اولا کتاب اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کروں گا اور اگر اس قضیہ کا حل کتاب اللہ میں نہیں ملے گا تو آپ کی سنت میں اس کا حل تلاش کروں گا ورنہ پھر خود خوب غوروفکر کرکے فیصلہ کرونگا رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کے اس جواب کو بہت پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” (6) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میرے قاصد کو خیر اور صحیح طریقہ کی توفیق عطا فرمائی۔ اسی موقع پر آپ نے حضرت معاذؓ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ غالبا یہ آخری ملاقات ہے جس پر دونوں کی آنکھوں سے آنسو برس پڑے تھے۔ اسی موقع پر آپ نے ان کو “حفظك الله من بين يديك ومن خلفك ودرأ عنك شر الانس والجن” کی دعا دی تھی۔ اللہ تمہاری ہر طرف سے حفاظت فرمائے اور تم کو جن و انس کے شر سے محفوظ رکھے۔ (1) حضرت معاذ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے یہ بشارت بھی دی تھی کہ وہ قیامت کے دن دعلماء کی ایک جماعت کے امام بن کر آئیں گے۔
ان کا شمار ان صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ ہی میں معلمین قرآن اور اصحاب فتویٰ سمجھے جاتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ برسر منبر پر اعلان کیا تھا۔ “من كان يريد ان يسأل عن الفقه فليات معاذ بن جبل” جسے دینی مسائل سے واقفیت مطلوب ہو اس کو معاذ بن جبلؓ کے پاس جانا چاہئے۔ (2)
رسول اللہ ﷺ کے حکم سے معاذ بن جبلؓ یمن گئے تھے پھر آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ زمانہ خلافت میں واپس آئے اور ملک شام کی طرف بغرض جہاد چلے گئے۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا تھا، معاذؓ کے علم کی اہل مدینہ کو بہت ضرورت ہے ان کے جانے سے مدینہ میں علم کا بہت خلاء ہو جائے گا آپ انہیں ملک شام جانے کے ارادہ سے باز رکھئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ ایک اللہ کا بندہ شوق شہادت کے جذبہ سے میدان جہاد کے لئے جا رہا ہے میں اسے نہیں روک سکتا حضرت معاذؓ ملک شام جانے کے بعد وہاں طاعون کے مرض میں مبتلا ہوئے اور اسی میں ۱۷ یا ۱۸ھ میں شہید ہو گئے۔
شہادت کے وقت عمر صرف ۳۳ سال تھی۔ بعض حضرات نے ۳۴ یا ۳۵ سال بھی بتلائی ہے۔(4)
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت عبادہ بن صامت ؓ
حضرت عبادہؓ کا تعلق مدینہ طیبہ کے قبیلہ خزرج سے ہے۔ مکہ معظمہ آ کر بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر ایمان لائے تھے۔ یہ واقعہ ۱۲ نبوی کا ہے۔ اس سے ایک سال پہلے حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب مدینہ طیبہ سے حج کے لئے اانے والے حضرات کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور ان کو دین کی دعوت دی تھی اس وقت کل چھ مدنی صحابہ کرامؓ ایمان لے آئے تھے۔ آئندہ سال حج کے موقعہ پر اسی جگہ کچھ اور مدنی صحابہ کرامؓ حاضر خدمت ہو ئے اور مشرف باسلام ہو کر آپ کے دستِ مبارک پر اسلام اور اس کے بنیادی احکامات کی بیعت کر کے مدینہ طیبہ واپس ہوئے ہیں اس بیعت کا کس قدر تفصیلی ذکر صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے۔ (5) ان میں سے کچھ لوگوں کو آپ ﷺ نے الگ الگ قبیلوں کا نقیب یعنی دینی دعوت کے سلسلہ میں ذمہ دار بنایا تھا۔ انہیں نقباء میں سے حضرت عبادہ بن صامتؓ بھی تھے جن کو قبیلہ بنی عوف کا نقیب بنایا تھا۔ (6) صحیح بخاری کی اس روایت میں بھی جس کی طرف ابھی اشارہ کیا گیا ہے۔ آپؓ کے نقیب ہونے کا ذکر ہے۔
فضائل
مدینہ طیبہ کے صحابہ کرامؓ میں اولین ایمان لانے والے صحابی ہیں لیلۃ العقبۃ الاولیٰ میں شریک ہونے والے اور ہجرت کے بعد غزوہ بدر سے لے کر تمام ہی غزوات میں شریک ہونے والے صحابی ہیں۔
بدری صحابہ کرامؓ میں بھی آپؓ کا بڑا بلند مقام ہے۔ چند صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ان میں حضرت عبادہ بن صامتؓ بھی ہیں۔ (1) حضرت یزید بن ابی سفیانؓ نے ملک شام سے حضرت عمرؓ کو خط لکھا کہ یہاں کی لوگوں کو قرآن پڑھانے اور دینی مسائل کی تعلیم دینے کے لئے کچھ معلمین بھیج دیجئے اور حضرت عمرؓ نے حضرت معاذؓ، حضرت عبادہؓ اور حضرت ابو درداءؓ کو بھیج دیا۔ حضرت عبادہؓ نے فلسطین میں قیام کیا اور وہاں کے لوگوں نے قرآن و سنت کی تعلیم دی۔ (2) وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ خواہ اس کا تعلق حاکم وقت ہی سے کیوں نہ ہو۔
جب حضرت معاویہؓ ملک شام کے حاکم ہوئے ہیں تو حضرت عبادہؓ وہیں قیام فرما تھے، انہوں نے حضرت معاویہؓ کی بہت سی باتوں پر نکیر کی ہے اور ان میں سے بعض باتوں کو حضرت معاوویہؓ نے تسلیم بھی کر لیا، ایک مرتبہ ایک خطیب نے خطبہ میں حضرت معاویہؓ کی موجودگی میں ان کی تعریف شروع کر دی، حضرت عبادہؓ نے زمین سے خاک اٹھائی اور خطیب کے منہ پر مار دی۔ حضرت معاویہؓ نے جب ان کے اس عمل پر گرفت کی تو انہوں نے فرمایا ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے یہی حکم دیا ہے کہ منہ پر تعریف کرنے والوں کے منہ پر خاک ڈال دیں۔ (3) غزوہ احد کے بعد مسلمانوں کی پریشاں حالی کو دیکھ مدینہ کے قرب و جوار کے یہودی قبائل نے مسلمانوں سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو نظر انداز کر کے ان کے خلاف مختلف شکلوں میں اعلان جنگ کر دیا تھا۔ قبیلہ بنی قینقاع نے سب سے پہلے عہد شکنی کی تھی۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا اس قبیلہ سے پرانا معاہدہ تھا وہ اس قبیلہ کے ساتھ رہا۔ عبداللہ بن ابی کی طرح حضرت عبادہ بن صامتؓ کا بھی ان لوگوں سے پرانا معاہدہ تھا لیکن انہوں نے اس معاہدہ کی بالکل پرواہ نہ کی اور اپنی برأت اور بےتعلقی کا اعلان کر دیا، اسی موقع پر آیت کریمہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے دوستی رکھنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ (4)
وفات
حضرت معاویہؓ کے زمانہ خلافت میں ۳۴ھ میں بعمر ۷۲ سال ملک شام میں انتقال ہوا۔
حضرت خباب بن الارت ؓ
حضرت خبابؓ کا تعلق قبیلہ بنی تمیم سے ہے بچپن میں کسی نے ان کو پکڑ کر مکہ معظمہ میں لا کر بیچ دیا اور مکہ کی ایک عورت ام انمار نے خرید کر اپنا غلام بنا لیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں جن صحابہ کرامؓ نے بالکل ابتدائی زمانہ میں لبیک کہا ان میں حضرت خبابؓ بھی ہیں۔ انہوں نے اسلام لانے کی پاداش میں ہر طرح کے ظلم و ستم برداشت کئے۔ (1) زمانہ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتے تھے اسلام لانے کے بعد بھی وہی کام کرتے رہے۔ اسی سلسلہ میں عاص بن وائل پر کچھ قرض ہو گیا تھا جس کا مطالبہ کرنے کے لئے عاص کے پاس گئے اس نے کہا تمہارے پیسے جب ملے گے جب تم محمد (ﷺ) کی نبوت کا انکار کر دو، خبابؓ نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار ہرگز نہیں کر سکتا خواہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو جائے۔ (2) عاص نے کہا کیا میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا حضرت خبابؓ نے فرمایا بالکل، اس نے کہا کہ پھر اس وقت میرے پاس بہت سا مال و دولت اور آل اولاد ہو گی میں اسی وقت تمہارے قرض کی ادائیگی کروں گا۔ اس پر سورہ مریم کی کئی آیتیں أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا سے لے کر وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا تک آیات نمبر ۷۷، نمبر ۷۹، نمبر ۸۰ نازل ہوئیں۔ (3) جن میں عاص کی اس بےہودہ قول پر سخت نکیر فرمائی گئی ہے، ان آیات کا ترجمہ اس طرح ہے۔ “بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیتوں (قدرت کی نشانیوں اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی دلیلوں کا منکر ہوا اور اس نے کہا مجھ کو (دوبارہ زندہ ہونے کی صورت میں) مال اور اولاد ضرور ملے گا کیا اس نے (آئندہ کی) غیب کی باتوں کو دیکھ لیا ہے یا اللہ سے کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں (یعنی مال اولاد کچھ نہیں ملے گا۔)بلکہ ہم اس کی اس بات کو جو وہ کہہ رہا ہے لکھ رکھیں گے اور اس کے لئے عذاب کو طویل تر کرتے رہیں گے۔ اور جس منال و اولاد کا وہ کر کر رہا ہے وہ سب بھی ہمارا ہی ہو گا (یعنی اس کو وہاں کچھ نہ ملے گا) اور وہ ہمارے حضور میں تنہا حاضر ہو گا۔
فضائل
جیسا کہ ابھی گزرا وہ اولین اسلام لانے والوں میں ہیں اور اسلام کے لئے ہر طرح کی قربانیاں انہوں نے دی ہیں، چونکہ وہ غلام تھے اس لئے ان کے لئے ہر طرح کی ایذاء رسانیاں جائز تھیں اور کوئی بھی ان کا حمایتی نہ تھا۔ ایک بار مشرکین مکہ نے آگ جلائی اور اس کے دہکتے ہوئے انگاروں پر حضرت خبابؓ کو لٹا دیا ان کی کمر کی چربی سے جب تک انگارے بجھ نہ گئے ان کو اٹھنے نہ دیا۔ عرصہ کے بعد حضرت عمر فاروقؓ نے ان کی کمر دیکھ کر فرمایا تھا، میں نے آج تک ایسی کمر نہیں دیکھی۔ جلنے کے نشانات کی وجہ سے ان کی کمر پر برص کی طرح سفید داغ ہو گئے تھے۔ ان تکلیفوں سے تنگ آ کر ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکوہ شکایت اور دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا ابھی جلدی نہ کرو پہلے لوگوں نے تو دین کے سلسلہ میں بہت سخت آزمائشیں برداشت کی تھیں۔ (اور آپ ﷺ نے ان آزمائشوں کا ذکر بھی کیا) اور پھر فرمایا واللہ یہ دین ضرور غالب ہو کر رہے گا۔ (1)
حضرت علیؓ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا۔ “رحم الله خبابا لقد اسلم راغبا وهاجر طائعا وعاش مجاهدا وابتلى فى جسمه حولا ولن يضيع الله اجر من احسن عملا”(2)
اللہ خبابؓ پر رحم فرمائے وہ اپنی رضا و رغبت سے ایمان لائے اور انہوں نے خود اپنی خوشی سے ہجرت کی، مجاہدانہ زندگی بسر کی، ہر طرح کی جسمانی تکالیف برداشت کیں اور اللہ اعمال صالحہ کرنے والوں کا اجر ضائع نہیںفرمائے گا وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر اور اس کے بعد جملہ غزوات میں شریک رہے ہیں۔ (3)
وفات
۳۷ھ کوفہ میں وفات پائی۔ (۴)ؓ وارضاہ۔
حضرت سعد بن معاذ ؓ
حضرت سعد بن معاذ ؓ کا تعلق مدینہ کے مشہور خاندان قبیلہ اوس کی ایک شاخ قبیلہ بنی عبدالاشہل سے ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لانے سے پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ پر ایمان لا چکے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کو دین کی دعوت دینے کے لئے ہجرت سے پہلے ہی مدینہ طیبہ بھیج دیا تھا، ایمان لانے کے بعد انہوں نے اپنے خاندابنی عبدالاشہل کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا اے میرے قبیلہ کے لوگو! تم لوگوں کے نزدیک میرا مقام کیا ہے؟ سب نے کہا آپ ہمارے سردار ہیں، اور ہم سب میں بلند مقام ہیں، یہ جواب سن کر حضرت سعدؓ نے فرمایا میرے لئے تم لوگوں سے بات کرنا حرام ہے جب تک کہ تم سب مرد و عورت اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لے آؤ، قبیلہ کے تمام مردوں و عورتوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور سب ہی لوگ ان کے کہنے پر مسلمان ہو گئے۔ پورے قبیلہ میں ایک بھی شخص ایسا نہ رہا جو دولت ایمانی سے محروم رہا ہو ..... (5) وہ قبیلہ بنی عبدالاشہل ...... (جو اوس کی شاخ ہے اور جس سے ان کا تعلق تھا۔) کے سردار تھے ہی اصل قبیلہ اوس جو انصار مدینہ کا ایک بہت بڑا قبیلہ تھا اس کے بھی سردار تھے، انصار میں کم ہی لوگ ان کے ہم پلہ سمجھے جاتے تھے، زمانہ جاہلیت میں بھی اہل مدینہ میں ان کو یہ بلند مقام حاصل تھا اور مدینہ طیبہ میں اسلام آ جانے کے بعد بھی ان کا یہ مقام اہل مدینہ میں مسلم رہا، خود رسول اللہ ﷺ نے ان کو اہل مدینہ کے سردار کے لقب سے یاد فرمایا ہے۔ (6) رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لے آنے کے بعد آپ مسلسل دین ک دعوت اور رسول اللہ ﷺ کی نصرت و حمایت میں مشغول رہے، غزوہ بدر سے ہی غزوات میں شرکت شروع کر دی تھی، غزوہ خندق میں ایک مشرک کے تیر سے زخمی ہوئے، تیر ہاتھ کی ایک ایسی نس میں لگا جس کے کسی طرح بھی خون نہ رکتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے کئی بار اس زخم پر گرم لوہے سے داغ لگوائے، اس وقت خون کو روکنے کے لئے یہ بھی ایک طریق علاج تھا، کئی بار کے بعد خون کا بہنا بند ہوا جب ان کا خون کسی طرح نہ رکتا تھا تو انہوں نے دعا کی تھی اے اللہ تو جانتا ہے کہ مجھے کوئی چیز بھی تیرے راستہ میں جہاد کرنے اور ان لوگوں سے جنگ اور قتال کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہے، جنہوں نے تیرے نبی ﷺ کی تکذیب کی ہے اور ان کو ان کے گھر (مکہ) سے نکالا ہے، الٰہی اگر قریش سے ابھی کوئی جنگ ہونا باقی ہو تو مجھے ابھی مزید زندگی عطا فرما تا کہ ان سے تیرے راستہ میں جہاد کروں، پروردگار، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بظاہر اب قریش سے مزید کوئی جنگ نہیں ہونی، اگر ایسا ہی ہے تو مجھے اسی زخم میں شہادت عطا فرما دے۔ (1) بعض روایات میں یہ بھی اضافہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی دعا کی تھی کہ اے اللہ میرے موت سے پہلے بنو قریظہ کو ان کی دھوکہ دہی اور عہد شکنی کی سزا دے کر میری آنکھیں ٹھنڈی کر دے، (2) بنو قریظہ کا قصہ یہ تھا کہ یہ مدینہ کے قریب ایک یہودی قبیلہ تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عہد و پیمان کیا تھا کہ ہم نہ آپ لوگوں سے جنگ کریں گے نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے، لیکن دوسرے یہودیوں کی طرح ان لوگوں نے بھی عہد شکنی کی اور مشرکین مکہ اور عرب کے بعض دیگر قبائل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا انہیں کی سازشوں کے نتیجہ میں غزوہ خندق پیش آیا، اس لئے جیسے ہی رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے ہیں، فوراً ہی اللہ کا حکم آ گیا کہ بنی قریظہ پر حملہ کرنے کے لئے چلا جائے آپ صحابہ کرام کی ایک جمیعت لے کر وہاں تشریف لے گئے اور تقریباً ایک ماہ ان کے قلعہ کا محاصرہ کیا ان لوگوں نے اپنے اس مسئلہ میں حضور ﷺ ہی کو حکم بنایا چاہا لیکن آپ ﷺ نے ان کی رضامندی سے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو حکم بنا دیا، حضرت سعد بن معاذؓ اور ان کے قبیلہ اوس سے زمانہ جاہلیت میں بنو قریظہ سے حلف یعنی نصرت و حمایت کا معاہدہ تھا لیکن حضرت سعدؓ کو اپنے ان حلیفوں کی عہد شکنی اور رسول اللہ ﷺ سے بغاوت انتہائی ناگوار گذری تھی اس لئے حضرت سعدؓ نے ان لوگوں کے مقاتلین کے قتل کئے جانے اور باقی لوگوں کو غلام بنانے کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ ان لوگوں نے بار بار اپنے پرانے عہد و معاہدہ کی یاد دہانی کرائی اور نرم فیصلہ کرانے کی کوششیں کیں بلکہ بعض لوگوں نے تو ان کو اپنے حلیفوں کی حفاظت و حمایت نہ کر سکنے پر بہت عار بھی دلائی، لیکن حضرت معاذؓ نے یہی فیصلہ برقرار رکھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے فیصلے کی تصویب فرمائی۔ (3) حضرت سعدؓ نے زخمی ہونے کے بعد جو دعا کی تھی وہ مقبول ہوئی اور اللہ نے انہیں کے ذریعہ ان کی زندگی میں ہی بنو قریظہ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور جیسے ہی وہ بنو قریظہ کے قضیہ سے فارغ ہوئے، زخم کا منہ کھل گیا اور وہی وجہ شہادت ہوا۔
فضائل
حضرت سعد بن معاذ ؓ نہایت حسین و جمیل اور طویل القامت شخص تھے ظاہری حسن و وجاہت کے ساتھ اللہ نے ان کو دینی و دنیوی عزت و وقار بھی عطا فرمایا تھا اہل مدینہ میں ان کا بہت بلند مقام تھا ان کے اسلام لانے سے مدینہ میں اسلام کو بڑی تقویت ملی، ان کا پورا فیصلہ بنی عبدالاشہل ان کے اسلام لانے پر مسلمان ہو گیا تھا رسول اللہ ﷺ بھی ان کے مقام کا اعتراف و لحاظ فرماتے تھے۔ جب غزوہ خندق میں وہ زخمی ہوئے ہیں تو آپ نے ان کے لئے مسجد نبوی کے صحن میں ہی خیمہ لگوا دیا تھا تا کہ ان کی تیمارداری اور علاج و معالجہ آپ کی نگرانی میں ہوتا رہے اور وہ ہمہ وقت آپ ﷺ کی نظر میں رہیں پھر جب آپ ﷺ نے ان کو بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے قبیلہ بنو قریظہ بلوایا ہے اور وہ سواری پر سوار ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا قوموا الى سيدكم اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ، بنو قریظہ کے بارے میں جو فیصلہ انہوں نے فرمایا تھا اس فیصلہ کو آپ ﷺ نے اللہ کا فیصلہ قرار دیا تھا اور اسی کے مطابق عمل بھی کرایا تھا۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے اللہ کے حضور عرض کیا۔ اللهم ان سعدا قد جاهد فى سبيلك وصدق رسولك وقض الذى عليه فتقبل روحه بخير ما تقبلت به روحا الٰہی سعد نے آپ کے راستہ میں جہاد کیا، آپ کے رسول ﷺ کی تصدیق کی اور اپنی تمام دینی ذمہ داریوں کو پورا کیا، میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ ان کی روح کا بہتر سے بہتر استقبال فرمائیں حضرت سعد ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر آنکھیں کھول دیں اور عرض کیا السلام عليك يا رسول الله میں آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں وفات ہو جانے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جزاك الله خيرا فقد انجزت ما وعدته ولينجزنك ما وعدك۔ اللہ تم کو بہترین جزا دے، تم نے جو وعدے اللہ سے کئے سب پورے کر دکھائے اب یقیناً اللہ بھی تم سے کئے ہوئے اپنے وعدے پورے فرمائے گا۔ آپ نے ان کی وفات کے بعد فرمایا کہ سعد، اللہ کا نیک بندہ ہے جس کی آمد کی خوشی پر عرشِ الہٰی جھوم اٹھا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے اور ستر ہزار فرشتے آسمان سے ان کے جنازے میں شرکت کے لئے اتر آئے جو کبھی پہلے زمین میں نہیں اترے تھے۔ صحابہ کرام کو ان کی وفات پر اتنا صدمہ ہوا تھا کہ ایسا صدمہ شاذ و نادر ہی کسی کی وفات پر ہوا تھا، حضرت ابو بکر و عمر جیسے صحابہ کرامؓ بھی رو رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے ضبط غم کے لئے اپنی داڑھی پکڑ رکھی تھی۔ (1)رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دومۃ الجندل کے امیر نے ایک ریشمی جبہ بھیجا تھا، صحابہ کرامؓ نے ایسا قیمتی اور شاندار جبہ کبھی نہ دیکھا تھا، صحابہ اس کو بار بار چھوتے اور اس کی نرمی و نزاکت پر تعجب کا اظہار کرتے تھے، آپ نے صحابہ کرامؓ کے اس عمل کو دیکھ کر فرمایا کیا تم کو یہ بہت اچھا معلوم ہو رہا ہے، جنت میں سعد بن معاذؓ کے رومال اس سے بہت زیادہ بہتر اور نرم و نازک ہیں۔ (2)
ان کی والدہ حضرت کبشہ ؓ بھی صحابیہ ہیں، بیٹے کی وفات پر بہت رنجیدہ تھیں، بڑا درد بھرا مرثیہ کہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا مرثیہ سن کر ان کو صبر کی تلقین فرمائی اور فرمایا واللہ وہ دین میں بہت پختہ اور اللہ کے کام میں بہت قوی تھے۔
وفات
غزوہ احزاب یعنی غزوہ خندق میں زخمی ہونے کی چند دن کے بعد ہی وفات ہو گئی اور وہی زخم شہادت کا سبب بنا تھا، غزوہ خندق کا واقعہ ۵ھ کا ہے وفات کے وقت ان کی عمر ۳۷ سال تھی۔ (1)