فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ
مدینہ کے مشہور یہودی قبیلہ بن قینقاع سے تعلق ہے، ان کا سلسلہ نسب حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مل جاتا ہے وہ یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے، اسلام لانے سے پہلے ان کا نام الحصین تھا، رسول اللہ ﷺ ہی نے ان کا نام عبداللہ رکھا تھا، وہ اپنے ایمان لانے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لائے اور میں نے پہلی بار آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا اور دل نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہو سکتا پہلی بار جو میں نے آپ سے سنی وہ یہ تھی “أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ” (2) لوگوں سلام کو عام کرو اور غریبوں کو کھانا کھلاؤ اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ، سلام کو عام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو سلام کیا جائے خواہ وہ شخص جان پہچان کا ہو یا نہ ہو، اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے چند سوالات کئے آپ نے ان کے صحیح صحیح جوابات دے دئیے، جوابات سن کر انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور ایمان لے آئے، سوالات و جوابات کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے۔ (3) اس کے بعد آپ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہود بہت جھوٹی قوم ہے، آپ ابھی میرے ایمان لانے کا اظہار نہ فرمائیں پہلے ان لوگوں سے میرے بارے میں معلوم فرمائیں کہ میرا مقام ان کے نزدیک کیا ہے، آپ ﷺ نے یہودیوں کی ایک جماعت کو بلا کر ان لوگوں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے متعلق معلوم کیا کہ وہ کیسے شخص ہین سب نے بیک زبان کہا خيرنا وابن خيرنا وافضلنا وابن افضلنا واعلمنا وابن اعلمنا، وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر اور سب سے زیادہ صاحب علم ہیں اور ان کے والد بھی اپنے زمانہ میں سب سے افضل و بہتر اور سب سے زیادہ صاحب علم تھے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا یہ بتلاؤ کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو اسلام کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہو گی؟ کہا اللہ کی پناہ یہ نہیں ہو سکتا، آپ ﷺ نے کئی بار یہ سوال دہرایا اور یہود نے ہر بار یہی جواب دیا۔ اس گفتگو کے وقت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کہیں قریب ہی چھپ گئے تھے۔ جب یہود نے بار بار ان کے صاحب علم و فضل ہونے کا اقرار کر لیا تو وہ نکل آئے اور فرمایا اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله، یہود نے فوراً ہی بات بدل دی اور کہنے لگے شرنا وابن شرنا یہ بھی بدترین شخص ہے اور اس کا باپ بھی ایسا ہی شخص تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ان لوگوں سے اسی کا خطرہ تھا۔ (1)
فضائل
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کا سلسلہ نسب جیسا کہ ابھی گزرا اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام تک پہنچتا ہے پھر وہ یہود کے جلیل القدر عالم بھی تھے، انہوں نے یہودیت کو ترک کر کے دین اسلام کو اختیار کیا، ایسے لوگوں کے لئے رسول اللہ ﷺ نے دوہرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے ان کی زندگی ہی میں ان کو جنت کی بشارت دے دی تھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں ایک بار رسول اللہ ﷺ نے کچھ کھانا تناول فرمایا، آپ نے تناول فرمانے کے بعد جو بچ رہا اس کے متعلق فرمایا ابھی ایک جنتی شخص آنے والا ہے جو اس کو کھائے گا۔ کچھ دیر کے بعد عبداللہ بن سلامؓ آئے اور آپ ﷺ نے وہ بچا ہوا کھانا ان کو کھلایا۔ (3) قرآن مجید کی متعدد آیات میں نام لئے بغیر ان کا ذکر ہے، آیت کریمہ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ (4) میں شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ کا مصداق عبداللہ بن سلام ہی ہیں اس طرح قُلْ كَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ (5) میں بھی وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ سے آپ ہی مراد ہیں۔ (6) دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر کے مقابلے میں حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے اسلام لانے کو اسلام اور اس کے پیغمبر کی حقانیت کی دلیل اور شاہد عدل ہونے کے طور پر ذکر کیا ہے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا قول ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحى يمشى انه فى الجنة الا لعبدالله بن سلام نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے زندہ لوگوں میں صرف عبداللہ بن سلام کے متعلق ہی جنتی ہونے کی بشارت سنی ہے۔ صحیحین ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے عبداللہ بن سلامؓ کے متعلق فرمایا انت على الاسلام حتى تموت تم مرتے دم تک دین اسلام پر ثابت قدم رہو گے۔ (7) حضرت معاذ بن جبلؓ نے اپنے مرض وفات میں اپنے خاص شاگرد یزید بن عمیرہ کو اپنے بعد جن چار صحابہ کرامؓ سے تحصیل علم کی وصیت فرمائی تھی ان میں حضرت عبداللہ بن سلامؓ بھی ہیں جن کے متعلق حضرت معاذؓ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ انه عاشر عشرة فى الجنة یعنی یہ ان عشرہ مبشرہ کی طرح ہیں۔جن کے متعلق جنتی ہونے کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی تھی۔ (1)
وفات
۴۳ھ مدینہ طیبہ میں وفات پائی۔ (2)ؓ وارضاہ۔
حضرت مصعب بن عمیر ؓ
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا پہلا ہی سال تھا اور ابھی صررف چند خاصان خدا ہی اسلام کی دولت سے سرفراز ہوئے تھے کہ اللہ نے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو بھی دولت ایمان سے نواز دیا۔ وہ دار ارقم میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست مبارک پر مشرف باسلام ہو گئے۔ کچھ مدت تک تو اپنے اسلام کو چھپائے رکھا لیکن زیادہ دن تک یہ بات راز نہ رہ سکی اور اسلام لانے کی پاداش میں ان کے گھر کے لوگوں نے انہیں گھر میں مقید کر دیا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں انہیں دی جانے لگیں۔ ایذا رسانیوں اور قید و بند کا یہ سلسلہ ان کی ہجرت حبشہ تک برقرار رہا۔ مکہ کے چند ستم زدہ مسلمانوں نے ۵ نبوی میں پہلی بار حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، ان ہی حضرات میں حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی تھے۔ پھر جب ان مہاجرین حبشہ کو مکہ کے حالات کے کچھ سازگار ہونے کی اطلاع ملی (جو در حقیقت غلط تھی) تو ان میں سے کچھ حضرات مکہ واپس آگئے۔ ان میں حضرت مصعبؓ بھی تھے۔ یہاں آ کر دیکھا تو حالات بالکل ویسے ہی تھے جن کی بناء پر ہجرت کرنی پڑی تھی اور مصائب و شدائد بھی پہلے ہی کی طرح ان حضرات کے استقبال کے لئے تیار تھے۔ بالآخر رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب اور بعض دیگر صحابہ کرامؓ کو مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ (3) حضرت مصعب بن عمیر ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ (4)
فضائل
حضرت مصعب بن عمیر ؓ مکہ معظمہ کے سب سے زیادہ ناز و نعم میں پلے نوجوان تھے۔ ان کے باپ کا شمار مکہ کے اغنیاء میں ہوتا تھا وہ حضرت مصعبؓ سے بہت محبت کرتا اور ان کے لئے قیمتی اور شاندار کپڑوں کا اہتمام کرتا تھا کہ ایسے کپڑے مکہ کے کسی نوجوان کو نصیب نہ تھے لیکن اسلام لانے کے بعد ماں باپ دونوں نے ناطہ توڑ لیا اور ہر طرح کی تکلیفوں اور آزمائش سے حضرت مصعبؓ کا واسطہ پڑنے لگا۔ قید و بند اور بھوک پیاس کی وجہ سے یہ ناز و نعم میں پلا ہوا جسم بالکل جھلس گیا تھا۔ کھال جسم سے الگ ہو کر اترنے لگی تھی۔ ضعف کی وجہ سے چند قدم چلنا بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتا تھا ان حالات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ بھیجا تھا۔ اہل مدینہ کو قرآن اور دین کی تعلیم کے لئے ایک معلم کی ضرورت بھی تھی۔ آپ نے اس کام کے لئے حضرت مصعب کا انتخاب فرمایا تھا۔ مدینہ کے صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد ان کے ہاتھ پر ایمان لانے والوں اور ان سے علم دین حاصل کرنے والے کی تھی۔ (1)
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے جسم پر ایک بوسیدہ چادر تھی جس میں چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھی۔ آپ کو ان کے اسلام لانے سے پہلے کے ناز و نعم یاد آ گئے اور ان کی اس خستہ ھالی کو دیکھ کر رونے لگے۔ (2) ان کا شمار اکابر اور اہل فضل صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ وہ اولین ایمان لانے والے اور حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والے مہاجرین صحابہ کرامؓ میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دین کی تعلیم اور قرآن مجید پڑھانے کے لئے ہجرت سے پہلے ہی مدینہ طیبہ بھیج دیا تھا اور انہوں نے مدینہ آ کر سب سے پہلے جمعہ کی نماز کے قیام کا انتظام کیا تھا۔ (3) ان کو غزوہ بدر میں شریک ہونے کی فضیلت بھی حاصل ہے۔ غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہاتھ میں مسلمانوں کا جھنڈا دیا تھا۔ وہ غزوہ احد میں آپ ﷺ کے بالکل قریب کھڑے ہو کر جہاد کر رہے تھے اور آپ کے اوپر ہونے والے حملوں کو اپنے اوپر لے لیتے تھے۔ اسی حال میں شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ (4) بوقت شہادت ان کے پاس صرف چھوٹی سی ایک چادر تھی اس میں کفن دیا گیا، وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، چادر سے سر ڈھک دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ حضرت خبابؓ حضرت مصعبؓ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مہاجرین نے لوجہ اللہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تھی جس کی وجہ سے ہمارا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ واجب ہو گیا تھا۔ پھر ہم میں کے بعض ساتھی وہ تھے جنہوں نے دنیا میں اس اجر سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور یونہی تکالیف و مصائب کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے، ایسے ہی لوگوں میں حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی تھے۔ (5) حضرت خبابؓ کے فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام نے جو دین کے لئے قربانیاں دی تھیں اللہ نے ان کی ان قربانیوں کے بدلے میں دنیا و آخرت میں اپنے انعامات سے نوازا ہے۔ لیکن بعض صحابہ کرام ایسے بھی تھے جن کی شہادت یا وفات ان دنیوی انعامات کے دور سے پہلے ہی ہو گئی تھی اور ان کو ان قربانیوں کا کوئی بدلہ دنیا میں نہیں ملا ان کا پورا پورا بدلہ اور اجر و ثواب ان کو ان شاء اللہ آخرت میں ہی ملے گا۔ ایسے ہی صحابہ کرام میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ تھے کہ ان کی شہادت ایسی تنگ دستی کے زمانہ میں ہوئی تھی کہ کفن کے لئے ایک کامل و مکمل چادر بھی نصیب نہ ہو سکی تھی جس چادر میں ان کو کفن دیا گیا تھا وہ اتنی چھوٹی اور ناکافی تھی کہ سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور پاؤں ڈکھتے تھے تو سر کھل جاتا تھا۔ بالآخر سر کو تو چادر سے ڈھک دیا اور پاؤںپر اذخر نامی گھاس ڈال دی۔
حضرت خالد بن الولید ؓ
حضرت خالد بن الولید ؓ کے والد کا نام ولید بن المغیرہ ہے اور والدہ لبابہ بنت الحارث ہیں یہ ام المومنین حضرت میمونہؓ کی حقیقی بہن ہیں۔اسلام لانے سے پہلے بھی وہ اشراف قریش میں شمار کئے جاتے تھے، شجاعت و بہادری کے پیکر تھے۔ مسلمانوں کے خلاف اہل مکہ کی جانب سے جنگوں میں شریک رہتے اور اپنی بہادری کے جوہر دکھلاتے تھے۔ ۷ یا ۸ ہجری میں اسلام لانے کے ارادہ سے مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ راستے میں حضرت عمرو بن العاصؓ ملے انہوں نے دریافت کیا کہاں کا قصد ہے کہنے لگے اسلام لانے کے ارادہ سے مدینہ جا رہا ہوں اب کب تک کفر پر قائم ہوں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا میرا ارادہ بھی یہی ہے۔ دونوں ایک ساتھ مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے حضرت خالد ایمان لائے اور دست مبارک پکڑ کر بیعت علی الاسلام سے مشرف ہوئے پھر حضرت عمرو بن العاصؓ نے بھی یہی کیا۔ (1)
فضائل
کفر کی حمایت میں جس جوش و جذبہ کے ساتھ میدان جنگ میں شریک ہوتے تھے اسلام لانے کے بعد اس سے بہت زیادہ جوش و جذبہ اور شجاعت و بہادری کا مظاہرہ اسلام کی حمایت اور کفر کی مخالفت میں زندگی بھر کیا اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا لقب پایا۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اثناء سفر ایک جگہ قیام فرما تھے میں قریب ہی بیٹھا ہوا تھا لوگ آپ کے سامنے گزر رہے تھے آپ آنے جانے والوں کے متعلق دریافت فرماتے تھے یہ کون ہے۔ میں عرض کرتا فلاں ہے۔ آپ ہر ایک کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرماتے رہتے۔ جب خالد بن الولیدؓ گزرے تب بھی آپ نے من ھذا یہ کون ہے؟ کا سوال کیا میں نے عرض کیا خالد بن الولید ہیں فرمایا نعم عبداللہ خالد بن الولید سیف من سیوف اللہ۔ (2) حضرت ابو بکر صدیق ؓب نے مرتدین سے قتال کرنے کے لئے خالد بن الوالید کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا میں نے ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے نعم عبدالله واخو العشيرة خالد بن الوليد سيف من سيوف الله سله الله على الكفار والمنافقين (1) خالد بن الولید اپنے خاندان کے بہترین فرد اور اللہ کے بہت ہی اچھے بندے ہیں وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جس کو اللہ نے کفار اور مشرکین کے لئے نیام سے نکال رکھا ہے۔
ان کے ایمان لانے اور مدینہ طیبہ آنے کے کچھ ہی عرصہ کے بعد غزوہ موتہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر ملک شام روانہ کیا تھا اور یہ فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالبؓ امیر ہوں گے اور ان کی بھی شہادت کی صورت میں عبداللہ بن رواحہؓ کو امیر مقرر کیا جائے۔ (1) اللہ کا کرنا یکے بعد دیگرے تینوں شہید ہو گئے پھر لوگوں نے حضرت خالد بن الولید کو امیر بنا لیا۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے موتہ سے خبر آنے سے پہلے ہی مدینہ طیبہ میں ان حضرات کی شہادت کی اطلاع صحابہ کرامؓ کو دی اور فرمایا أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ (3)۔ ان تینوں کی شہادت ہو چکی ہے اور اب اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے (یعنی خالد بن الولیدؓ نے) جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ہے اس موقع پر حضرت خالدؓ نے اس زور کے ساتھ شمشیر زنی کی تھی کہ اس دن ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی تھیں بالآخر ایک یمنی تلوار نے آخر تک ساتھ دیا۔ (4) غزوہ موتہ میں مسلمان پورے علاقہ کو فتح نہیں کر سکے تھے بلکہ کچھ جزوی فتح کی بعد حضرت خالد بن الولیدؓ مسلمانوں کے لشکر کو کسی بڑے نقصان کے بغیر بحفاظت واپس لے آئے تھے اسی کو آپ نے فتح سے تعبیر فرمایا ہے۔ (5) اس فتح کا ذکر صحیح مسلم اور ابو داؤد کی ایک روایت میں بھی ہے۔ (6) پھر اس پورے علاقہ کو جیش اسامہ نے جا کر فتح کیا ہے جس کا ذکر حضرت اسامہ کے تذکرہ میں گزر چکا ہے۔
فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ نے خالدؓ بن الوالید کو لشکر کے ایک حصہ کا امیر بنایا تھا۔ (7) پھر فتح مکہ سے فراغت کے بعد آپ نے حضرت خالدؓ کی سرکردگی میں صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کو قبیلہ بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ حضرت خالدؓ نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی وہ بیچارے اسلمنا (ہم اسلام لے آئے) کہنے کے بجائے صبانا صبانا کہنے لگے جس کا مطلب ان کے نزدیک اسلام لانا ہی تھا، مسلمانوں کے نزدیک یہ تعبیر صحیح نہیں تھی اسی وجہ سے حضرت خالدؓ نے جوش جہاد میں چند لوگوں کو قتل کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی اس جماعت میں شریک تھے انہوں نے حضرت کالدؓ کو مزید قتل کرنے سے باز رکھا واپسی کے بعد جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اللهم انى ابرا اليك مما صنع خالد الٰہی میں خالد کے اس عمل سے بری ہوں، میرا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں تو ضرور فرمایا لیکن اس واقعہ کے بعد بھی آپ ان کو امیر لشکر بنا کر بھیجتے رہے۔ (8) حجۃ الوداع سے کچھ پہلے آپ نے حضرت خالدؓ کو صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کا امیر بنا کر یمن بھیجا تھا۔ (9)رسول اللہ ﷺ خضرت خالدؓ کی شجاعت و جنگی مہارت پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ کئی اور مہموں میں آپ نے حضرت خالدؓ ہی کو امیر بنا کر بھیجا ہے۔ مکہ کے قریب عزیٰ نام کا بت تھا جو مکہ اور اطراف کے لوگوں میں مڑا معز اور محترم سمجھا جاتا تھا اس کو توڑنے کے لئے بھی حضرت خالدؓ ہی کا انتخاب آپ نے فرمایا تھا۔ (10)
آپ ﷺ کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے بھی آپؓ ہی کی طرح حضرت خالد پر اعتماد فرمایا اور اپنے عہد کے غزوات میں بھی ان کو امیر لشکر بنا کر بھیجتے رہے۔ مرتدین سے قتال میں بھی انہوں نے بہت کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ فتح روم و فارس میں بھی حضرت خالد کو بہت دخل رہا ہے۔
حضرت ابو بکرؓ نے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے جہاد کرنے کے لئے بھی حضرت خالد بن الولیدؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا جس نے مسیلمہ کو اور اس کے ہزاروں ساتھیوں کو قتل کیا، ہرمز کو قتل کرنا اور اکیدردومہ کو قید کرنا بھی انہیں کے کارناموں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے جنگی کارنامے بےحد و بےشمار ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے آخر میں ملک شام کا گورنر بنا کر بھیج دیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے بعض انتظامی وجوہات سے ان کو معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح کو امیر بنایا۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ جب حضرت عمرؓ کا گرامی نامہ لے کر حضرت خالدؓ کے پاس پہنچے ہیں جس میں حضرت خالد کو یہ حکم تھا کہ تم معزول کئے جاتے ہو اور تمہاری جگہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو گورنر مقرر کیا جاتا ہے تب بھی اس شیر دل کی بہادری قابل دید تھی گرامی نامہ پڑھ کر فرماتے ہیں ان عمر بعث علیکم امین ھذہ الامۃ۔ عمر نے اہل شام کے لئے اس شخص کو امیر بنا کر بھیجا ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے امین الامت کے لقب سے سرفراز فرمایا تھا۔ (1) اور بلاتکلف گورنری سے دستبردار ہو گئے۔ حضرت ابو عبیدہ نے بھی حضرت خالدؓ کے بارے میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خالد سيف من سيوف الله ہیں۔ (2)
حضرت عمرؓ نے ان کو معزول تو کر دیا تھا لیکن ان کے قلب میں پھر بھی ان کو اتنی عظمت تھی کہ اپنی وفات کے وقت کہنے لگے “لَوْ أَدْرَكْتُ خَالِدَ بنَ الوَلِيْدِ، ثُمَّ وَلَّيْتُهُ، فَقَدِمْتُ عَلَى رَبِّي، لَقُلْتُ: سَمِعْتُ عَبْدَكَ وَخَلِيْلَكَ يَقُوْلُ: (خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ، سَلَّهُ اللهُ عَلَى المُشْرِكِيْنَ” (3) اگر اس وقت خالد بن الولید زندہ ہوتے اور میں ان کو خلیفہ بنا دیتا پھر اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوتا تو عرض کرتا میں نے آپ کے بندے اور محبوب یعنی رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا وہ فرماتے تھے کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جس کو اللہ نے مشرکین کے لئے سونتا ہے۔
اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک دن کہنے لگے مجھے اپنی زندگی کی وہ رات سب راتوں سے زیادہ محبوب اور عنداللہ مقبول معلوم ہوتی ہے جس میں سخت سردی تھی اور بارش بھی ہو رہی تھی اور میں بارش سے بچنے کے لئے اپنی ڈھال کو (بطور چھتری کے) استعمال کرتا تھا اور صبح کو دشمن سے مقابلہ تھا۔
وفات
۲۱ھ میں حمص میں وفات ہوئی اگرچہ بعض مورخین نے مدینہ طیبہ میں وفات ذکر کی ہے۔ وفات کے وقت افسوس کے ساتھ کہنے لگے فلاں فلاں معرکوں میں شرکت کی اور زندگی بھر شہادت کی تلاش و جستجو میں رہا، جسم پر ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں ہے جہاں تلوار نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو لیکن شہادت مقدر میں نہ تھی اور آج بستر پر موت آ رہی ہے۔ وفات سے کچھ پہلے فرمایا: “میرے مرنے کے بعد میرا گھوڑا اور میرے اسلحے وقف فی سبیل اللہ ہیں” اور یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ کل ترکہ بس یہی تھا۔ (1)
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت عمرو بن العاص ؓ
اسلام لانے سے پہلے ان کا شمار سرداران قریش میں ہوتا تھا نہایت جری اور ذہانت و فطانت میں ضرب المثل تھے۔ حضرت خالد بن الولیدؓ کے ساتھ مدینہ طیبہ حاضر ہو کر ۸ھ میں ایمان لائے ہیں۔لیکن خود اپنے ایمان لانے کا تذکرہ جس طرح کرتے ہیں اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدینہ طیبہ آنے سے پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے البتہ آپ کی خدمت میں حاضری اور بیعت علی الاسلام حضرت خالد کے ساتھ ہی ہوئی۔ (2)
وہ اپنے اسلام لانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزوہ خندق سے واپسی کے بعد مکہ آ کر میں نے خاندان قریش کے کچھ ایسے لوگوں کو جمع کیا جو مجھ سے قریبی تعلق رکھتے تھے اور میرا احترام بھی کرتے تھے میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ اب تو بظاہر محمد (ﷺ) کے دین کا بول بالا ہی ہو کر رہے گا میری رائے یہ ہے کہ ہم لوگ ملک حبشہ چلے جائیں اور بادشاہ نجاشی کی حمایت میں رہیں اگر محمد (ﷺ) اہل مکہ پر غالب آ بھی جائیں گے تب بھی ہم وہاں محفوظ رہیں گے۔ محمد (ﷺ) کی ماتحتی میں رہنے کے مقابلہ میں نجاشی کی ما تحتی میں رہنا پسن ہے اور اگر اہل مکہ غالب آ گئے تو اہل مکہ میں ہمارا مقام تو معروف ہی ہے۔ میرے ساتھیوں نے میری تائید کی اور میں بہت سے ہدایا لے کر نجاشی کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں میں نے حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے نجاشی کے پاس آئے تھے میں نے نجاشی سے کہا یہ شخص ہمارے دشمن (محمد) کا قاصد ہے آپ اس کو ہمارے حوالہ کر دیں تا کہ ہم اس کو قتل کر دیں۔ نجاشی نے میری اس بات پر بہت ناگواری کا اظہار کیا اور کہا تم جانتے نہیں یہ شخص جس کا قاصد ہے وہ اسی طرح اللہ کا رسول ہے جس طرح حضرت موسیٰ اللہ کے رسول تھے۔ میں نے کہا کیا واقعی؟ نجاشی نے کہا تمہارا برا ہو تم میری اطاعت اور ان نبی (ﷺ) کی اتباع کرو واللہ وہ بالکل برحق ہیں اور واللہ وہ اپنے مخالفین پر ایسے ہی غالب آئیں گے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے لشکر پر غالب آ گئے تھے اس کے بعد حضرت عمرو بن العاصؓ نے نجاشی کے ہاتھ پر بیعت علی الاسلام کر لی وہیں سے اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر مدینہ کی راہ لی راستہ میں حضرت خالدؓ ملے ہیں اور ان کے ساتھ مدینہ طیبہ جا کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کی ہے اور اسلام کا اظہار کیا ہے۔ (1) صحیح مسلم کی روایت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرنے کی مزید تفصیل ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہاتھ بڑھائیے میں آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں جب آپ نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا آپ نے فرمایا عمرو کیا ہوا میں نے عرض کیا ایک شرط پر بیعت کرتا ہوں آپ نے فرمایا کیا شرط ہے میں نے عرض کیا میرے ماضی کے جملہ گناہ معاف ہونے چاہئیں آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ ایمان لانے سے ماضی کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (1)
فضائل
حضرت عمرو بن العاص ؓ بڑے بہادر نہایت ذہین و فطین اور میدان جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے صحابی ہیں ان کے ایمان لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کی ان صلاحیتوں کو خوب استعمال فرمایا ہے۔ خود فرماتے ہیں “مَا عَدَلَ بِي رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وبخالد مُنْذُ أَسْلَمْنَا أَحَداً مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَرْبِهِ ” (2) یعنی میرے اور خالد کے ایمان لانے کے بعد میدان جنگ کے لئے آپ نے کسی کو بھی ہم دونوں کے مساوی نہیں سمجھا۔ انہیں آپ نے بڑے بڑے صحابہ کرام کی موجودگی میں لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ہے غزوہ ذات السلاسل کے لئے جانے والے لشکر میں حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ بھی موجود ہیں لیکن امیر لشکر حضرت عمرو بن العاصؓ کو بنایا۔ (1) فتح مکہ کے معاً بعد آپ نے حضرت عمرو بن العاصؓ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام کو قبیلہ ہذیل کے بت سواع کو توڑنے کے لئے بھیجا۔ جب حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں پہنچے تو اس کے مجاور نے کہا تم لوگ اس کو توڑ نہیں سکتے یہ خود اپنی حفاظت کرے گا۔ لیکن جب حضرت عمرو بن العاص ؓ وغیرہ نے اس کو توڑ دیا تو وہ مجاور اپنے معبود کی بےکسی دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ ان کے ایمان لانے کی بڑی قدر کرتے تھے۔ فرماتے ہیں “اسلم الناس وامن عمرو بن العاص” (4) جس کا مطلب یہ ہے کہ عمرو بن العاص دل سے ایمان لانے والے ہیں ان کو بھی ایمان لانے کے بعد آپ ﷺ کی ذات سے غیر معمولی محبت اور تعلق ہو گیا تھا۔ صحیح مسلم کی وہ روایت جس کا کچھ حصہ ابھی گزرا ہے اسی میں یہ بھی مذکور ہے کہ “مَا كان أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ من رسول الله صلى الله عليه ولم ولا اجل فى عينى منه وما كنت اطيق ان املا عينى منه اجلا لا له ولو سئلت ان اصفه اطقت لانى لم اكن املا عينى منه” یعنی ایمان لانے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی کہ میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کوئی محبوب و محترم نہ تھا اور میرے دل میں آپ کی عظمت و جلالت کا یہ حال تھا کہ میں نظر بھر کر آپ ﷺ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا۔ اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ مبارک بیان کرنے کو کہے تو میں آپ کا حلیہ بھی بیان نہ کر سکوں گا اس لئے کہ میں کبھی آپ کو نظر بھر کر دیکھ یہ نہ سکا تھا۔
رسول اللہ ﷺ بھی ان کی اس محبت کا اعتراف فرماتے تھے ایک بار آپ ﷺ نے ان کے لئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے یوں عرض کیا۔ “اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عَمْرِو بنِ العَاصِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّكَ وَيُحِبُّ رَسُوْلَكَ” (5) الٰہی عمرو بن العاص پر رحمتیں نازل فرمائیے اس لئے کہ وہ آپ سے اور آپ کے رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔ ایک بار آپ نے ان کے لئے تین بار يرحم الله عمروا (اللہ عمرو بن العاص پر رحم فرمائے) دعا فرمائی، کسی صحابی نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو فرمایا وہ اللہ کے راستہ میں بےدریغ خرچ کرتے ہیں۔ (1) جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان کے بارے میں فرمایا۔ “عمرو بن العاص من صالحى قريش” (2) (عمرو بن العاص قریش کے بہترین لوگوں میں سے ہیں) ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ان کو اطلاع کرائی کہ کپڑے پہن کر اور ہتھیار لگا کر (یعنی جہاد کے لئے تیار ہو کر) چلے آؤ۔ جب وہ آ گئے تو آپ نے ان سے فرمایا میں کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں جہاں سے ان شاء اللہ تم سالماً غانماً واپس آؤ گے۔ وہ کہتے ہیںٰ کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں مال کی خاطر اسلام نہیں لایا۔ میرا مقصود تو اسلام ہی ہے آپ نے فرمایا “نعم المال الصالح للرجل الصالح” (اللہ کے نیک بندہ کے لئے پاک مال بہترین چیز ہے، (3)
وفات
۴۳ھ میں عید کی رات میں مصر میں وفات پائی اور عید الفطر کے دن دفن کئے گئے آپ کے صاحبزادہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ
عابد، زاہد، شب بیدار، بکثرت روزے رکھنے والے اور بہت زیادہ تلاوت کرنے والے، علم کے گویا صحابی بن صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ اپنے والد حضرت عمرو بن العاصؓ سے پہلے ایمان لائے ہیں۔ وہ اپنے والد کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ان کی پیدائش کے وقت عمر بن العاص کی عمر زیادہ سے زیادہ اکیس سال ذکر کی جاتی ہے۔ (4)
فضائل
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بڑے اصحاب الفضائل صحابہ کرامؓ میں شمار ہوتے ہیں۔ نہایت عابد و زاہد اور شب بیدار تھے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے حوالہ سے ان کی ان صفات کا تذکرہ پڑھئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے میری شادی ایک شریف خاندان کی لڑکی سے کر دی تھی وہ اپنی بہو کا بہت خیال کرتے اور میرے طرز عمل کے بارے میں اس سے دریافت کرتے رہتے تھے ان کے سوال کے جواب میں ایک دن میری بیوی نے کہا میرے شوہر بہت نیک، متقی، پرہیزگار آدمی ہیں لیکن مجھ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ والد صاحب نے آپ کا فرمان مجھ تک پہنچا دیا۔ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو فرمایا روزے رکھنے کا تمہار معمول کیا ہے۔ میں نے عرض کیا روزانہ روزہ رکھتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا ختم قرآن کے سلسلہ میں کیا معمول ہے؟ میں نے عرض کیا ہر رات ایک قرآن ختم کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ میں صرف تین روزے رکھا کرو اور ایک ماہ میں ایک قرآن ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ایسا کرو کہ دو دن چھوڑ کر ایک روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا میں اس سے بھی زیادہ روزتے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا روزے رکھنے میں سب سے بہتر طریقہ حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے یعنی ایک دن افطار ایک دن روزہ۔ تم بھی ایسا ہی کیا کرو اور قرآن مجید کا ایک ختم سات راتوں میں کیا کرو۔
اس روایت سے ان کے روزوں اور تلاوت قرآن کا حال معلوم ہوا، روایت کے آخری حصہ میں یہ بھی ہے کہ بڑھاپے تک ان کا معمول یہی رہا بلکہ بڑھاپے میں قرآن مجید کا جو ساتواں حصہ رات کو پڑھنا ہوتا تھا وہ دن میں بھی گھر کے کسی فرد کو سنا لیا کرتے تھے تا کہ رات کو پڑھنے میں سہولت ہو اور روزوں کے معمول میں اگر کبھی خلل پڑھ جایا کرتا تھا تو اس کا حساب رکھتے تھے اور بعد میں اس کی تلافی کر لیا کرتے تھے۔ (1)
وہ رات کو اپنا کمرہ اندر سے بند کر لیتے، چراغ کل کر دیتے اور ساری رات اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے رہتے تھے روتے روتے ان کی آنکھیں ورم کر آتیں تھیں۔ (2)
رسول اللہ ﷺ سے بکثرت روایات نقل کی ہیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں آپ ﷺ کی اجازت سے روایات لکھ لیا کرتے تھے، انہوں نے احادیث کا ایک مجموعہ جس کا نام خود ہی صادقہ رکھا تھا تیار کر لیا تھا۔ اسی مجموعہ احادیث (صادقہ) کی روایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے ابو داؤد و ترمذی، نسائی وغیرہم نے نقل کی ہیں۔ ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد سات سو ہے۔ (3)
رسول اللہ ﷺ کے علاوہ اکابر صحابہ کرامؓ سے بھی روایت کرتے ہیں، ان کے شاگردوں میں بہت سارے جلیل القدر تابعین ہیں ان کے اور ان کے والدین کے متعلق ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا “نعم اهل البيت عبدالله وابو عبدالله وام عبدالله” یعنی عبداللہ، ان کے والد اور ان کی والدہ یہ سب اہل بیت کیا کیا ہی خوب اہل بیت ہیں۔ (4)
وفات
۶۵ھ میں مصر میں وفات پائی اور وہیں دفن کئے گئے۔ (5)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن حزام ؓ
حضرت عبداللہ بن عمرو مشہور صحابی حضرت جابرؓ کے والد ہیں رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے سے پہلے ہی آپ کی خدمت میں مکہ معظمہ حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کو اپنے قبیلہ کا نقیب بنا کر مدینہ طیبہ واپس کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد حضرت عبداللہ غزوہ بدر و احد دونوں میں شریک ہوئے ہیں اور غزوہ احد ہی میں شہید ہو گئے۔ (1) ان کو غزوہ احد میں اپنی شہادت سے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا اسی لئے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت جابرؓ سے فرمایا میرا خیال ہے کہ میں کل سب سے پہلے شہید ہونے والے لوگوں میں ہوں گا تم میرے بعد اپنی بہنوں کا خیال رکھنا اور میرے ذمہ جو قرض ہے اس کی ادائیگی کر دینا۔ (2)
فضائل
وہ بڑے صاحب فضیلت صحابی ہیں مکہ جا کر اسلام لائے اور پھر مدینہ طیبہ میں آپ کے ساتھ غزوہ بدر واحد میں شریک ہوئے۔ غزوہ احد میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔ مشرکین نے ان کو قتل کرنے کے بعد ان کے اعضاء جسم کاٹ کر مثلہ کر دیا تھا۔ ان کے بیٹے حضرت جابر ابھی بالکل نوعمر ہی تھے ان پر اور ان کی پھوپھی یعنی حضرت عبداللہ کی بہن فاطمہ بنت حزام پر اس حادثہ کا بہت اثر تھا جس کی وجہ سے یہ دونوں بہت زیادہ رو رہے تھے۔ آپ نے ان دونوں کی تسلی کے لئے فرمایا کہ عبدالہ بن عمرو کی شہادت کے بعد سے اللہ کے مقرب فرشتے مسلسل ان پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ (3) حضرت جابر اور ان کے خاندان کے دیگر افراد حضرت عبداللہ کو اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کرنے کے لئے میدان احد سے مدینہ طیبہ لے آئے تھے آپ نے ان کے جنازہ کو مدینہ سے میدان احد منگوا لیا، اور پھر وہ وہیں دیگر شہدائے احد کے ساتھ دفن کئے گئے۔ (4) غزوہ احد میں شہداء کی تعداد زیادہ تھی۔ جو لوگ زندہ بچ رہے تھے ان میں بھی خاصی تعداد زخمیوں کی تھی۔ خود رسول اللہ ﷺ بھی زخمی تھے۔ اس لئے آپ نے ایک قبر میں دو دو، تین تین شہداء کو دفن کرنے کی اجازت دے دی تھی اور جو شخص ان میں قرآن کا زیادہ حافظ و عالم ہوتا اس کو مقدم الی القبلہ رکھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کو بھی ایک یا دو شہیدوں کی ساتھ دفن کیا اور ان کو مقدم رکھا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابرؓ سے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی سے بھی بالمشافہ تکلم نہیں فرماتا ہے لیکن تمہارے والد سے بالمشافہ گفتگو فرمائی ہے اور اللہ نے ان سے یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے بندے جو چاہو مانگو میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔ اس پر تمہارے والد نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے رب مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیجئے تا کہ دوبارہ پھر آپ کے راستہ میں شہادت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میری جانب سے یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا۔ (1)
امام مالکؒ نے اپنی کتاب مؤطا میں ایک عجیب و غریب واقعہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی قبر کے متعلق ذکر کیا ہے۔ کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت عمروؓ بن جموح کی قبروں کو پانی کے بہاؤ نے کھول دیا تھا لوگوں نے ان دونوں صحابہ کرامؓ کی مبارک نعشوں کو وہاں سے منتقل کرنے کے لئے ان کی قبروں کو کھودا تو دیکھا کہ دونوں کے جسم بالکل صحیح سلامت اور ترو تازہ ہیں جیسے کل ہی انتقال ہوا ہے۔ حالانکہ ان حضراتؓ کی شہادت کو چھیالیس سال ہو چکے تھے۔ (2) موطا امام مالک میں تو یہ واقعہ غزوہ احد کے چھیالیس سال بعد کا ذکر کیا گیا ہے ..... صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد کو یوم احد میں مجبوراً ایک اور صحابی کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ مجھے یہ بات اچھی نہ لگتی تھی میں نے شہادت کے چھ ماہ کے بعد ان کی اس قبر سے نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دیا اور ان کا جسم مبارک بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ دفن کیا گیا تھا۔ (3) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے ساتھ دوبارہ ایسا واقعہ پیش آیا۔ پہلی بار شہادت کے چھ ماہ کے بعد اور دوسری بار شہادت کے چھیالیس سال بعد۔ اس طرح کا واقعہ بعض دوسرے شہداء کرامؓ کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو ؓ
مدینہ طیبہ کے رہنے والے ہیں اور خاندان خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچپن ہی میں اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمروؓ کے ساتھ جن کا تذکرہ ابھی گذرا ہے مکہ معظمہ جا کر مشرف باسلام ہوئے ہیں۔ جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے تو اس وقت سے آپ سے قریبی تعلق رہا ہے لیکن چونکہ کم عمر بھی تھے اور اپنے والد کے اکلوتے بیٹے اور نو بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اس لئے غزوہ بدر و احد میں شریک نہ ہو سکے۔ اس کے بعد مستقل غزوات میں شریک رہے ہیں۔
فضائل
حضرت جابرؓ باعتبار عمر اگرچہ اکابر صحابہ کرامؓ کی صف میں شمار نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے علم و فضل کے اعتبار سے ان کا شمار جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے وہ جس طرح غزوات میں بکثرت شریک ہونے والے ہیں اسی طرح مکثرین فی الحدیث صحابہ کرام میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد انیس غزوات میں شرکت کی ہے۔ غزوہ بدر و احد میں شریک نہیں ہو سکا تھا اس لئے کہ والد صاحب خود جاتے تھے۔ا ور جھے منع کرتے تھے لیکن جب غزوہ احد میں والد صاحب شہید ہو گئے تو پھر کسی بھی غزوہ میں، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہونے سے محروم نہیں رہا۔ (1) وہ مکثرین فی الحدیث بھی ہیں ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۱۵۴۰ ہے رسول اللہ ﷺ کے علاوہ اکابر صحابہ کرامؓ سے بھی روایات نقل کرتے ہیں۔ اور اسی طرح بہت سے اکابر صحابہؓ اور بڑی تعداد میں تابعینؒ کرام بھی ان سے احادیث کی روایت کرنے والے شامل ہیں۔ (2) چونکہ ان کے والد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہو نے نو عمر لڑکیاں چھوڑی تھیں اور صاحبزادہ صرف جابرؓ ہی تھے اور وہ بھی بہت نو عمر ہی تھے۔ نیز ان کے ذمہ کافی قرض بھی تھا جو حضرت جابرؓ ہی کو ادا کرنا تھا۔ اس لئے آپ حضرت جابرؓ کے ساتھ بڑا محبت و شفقت کا معاملہ کرتے تھے اور ان کی بہت فکر رکھتے تھے۔ جب حضرت جابرؓ کی شادی ہوئی تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کسی کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ یا مطلقہ سے انہوں نے عرض کیا کہ وہ کنواری تو نہیں ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی۔ حضرت جابر کا جواب ان کی نو عمری کے باوجود بڑا سمجھداری کا جواب تھا اور اسی جواب کو ذکر کرنے کے لئے یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا اے اللہ کے رسول والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور انہوں نے نو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ میں نے سن رسیدہ عورت سے اس لئے شادی کی ہے کہ وہ میری بہنوں کی دیکھ بھال کر سکے۔ (3) ان کی اسی خستہ حالی کی وجہ سے آپ ان کے ساتھ مختلف صورتوں سے داد و دہش کا معاملہ کرتے رہتے تھے۔ ایک بار سفر سے واپسی میں آپ نے ان کا اونٹ خریدا اور جب وہ اپنے اونٹ سے اترنے لگے تو آپ نے ان کو اترنے سے منع فرما دیا اور مدینہ طیبہ آ کر اونٹ بھی ان کو دے دیا۔ اور اس کی قیمت بھی سفر کی اسی رات کے متعلق جس میں آپ نے ان کا اونٹ خریدا تھا حضرت جابر فرمایا کرتے تھے آپ نے اس رات میرے لئے پچیس بار دعائے مغفرت فرمائی تھی۔ (4)
رسول اللہ ﷺ کی احادیث سننے اور روایت کرنے کا جو شوق بچپن میں شروع ہوا تھا بڑھاپے تک باقی رہا۔ وہ احادیث کی تحصیل کے لئے دور دراز کا سفر کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعض احادیث جو کسی مکہ صحابہ کے علم میں تھیں ان کی تحصیل کے لئے مکہ کا سفر کیا۔ ایک بار تو صرف ایک حدیث حاصل کرنے کے لئے مدینہ طیبہ سے مصر تشریف لے گئے۔ (5)
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مسجد نبوی میں حضرت جابرؓ کا ایک بڑا حلقہ درس قائم ہوتا تھا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ علم حدیث میں شریک ہو کر فیضیاب ہوتے تھے۔ (6)
وفات
حضرت جابر نے کاصی طویل عمر پائی۔ ان کی وفات ۷۸ھ میں ہوئی ہے۔ وہ ان صحابہ کرامؓ میں جو مدینہ سے مکہ آ کر اسلام لائے اور آپ سے عقبہ (جو منیٰ کا ایک حصہ ہے) میں بیعت کی۔ سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی ہیں۔
حضرت زید بن ثابت ؓ
حضرت زید بن ثابت ؓ، مدینہ طیبہ ہی کے رہنے والے ہیں قبیلہ خزرج سے تعلق ہے رسول اللہ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے وقت وہ بہت ہی کم عمر تھے۔ ان کی عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی۔ لیکن پہلے ہی سے مسلمان ہو چکے تھے اور قرآ مجید کی سترہ سورتیں بھی حفظ کر چکے تھے۔ جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہیں تو لوگوں نے ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا اس بچہ کو قرآن مجیدک کی سترہ سورتیں یاد ہیں۔ آپ نے ان سے وہ سورتیں سنیں اور اس کم عمری میں ان کے ان سورتوں کو حفظ کر لینے پر تعجب کا اظہار فرمایا۔
فضائل
وہ اگرچہ صحابہ کرام میں کم عمر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے علم و فضل کی وجہ سے خصوصاً قرآن سے خصوصی تعلق کی بناء پر ان کا شمار اہل علم و اصحاب فتویٰ صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ وہ نہایت ذہین اور قوی الحفظ تھے، جیسا کہ ابھی گزرا انہوں نے بالکل بچپن ہی میں قرآن مجید کی سترہ سورتیں یاد کر لی تھیں، حالانکہ اس وقت تک رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ بھی تشریف نہیں لائے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ذہانت اور قوت حفظ ہی کی وجہ سے سریانی زبان سیکھنے کے لئے ان کا انتخاب فرمایا تھا۔ مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو قرب و جوار کے یہودیوں سے خط وکتابت کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ ان لوگوں کی خط و کتابت کی زبان ریانی تھی اگر آپ کو خط لکھنا ہوتا تو کسی یہودی سے لکھواتے اور اگر یہود کا خط آپ کے پاس آتا تو اس کو پڑھوانے کے لئے بھی کسی یہودی کی ضرورت پڑتی، آپ کو مدینہ کے یہود پر اعتماد نہ تھا کہ وہ خط لکھنے اور پڑھنے میں دیانت داری سے کام لیں گے اس لئے آپ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے فرمایا تم یہود کی زبان سریانی لکھنا پڑھنا سیکھ لو۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے صرف سترہ دن میں ہی سریانی کے لکھنے اور پڑھنے پر عبور حاصل کر لیا اور پھر رسول اللہ ﷺ نے خط وکتابت کی ذمہ داری ان کے سپرد کر دی۔ (1) جن صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ان میں حضرت زید بن ثابتؓ بھی ہیں حضرت انس فرماتے ہیں جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَيٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ (2) یعنی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں چار صحابہ کرام نے جو سب انصاری صحابہ تھے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، ان کے نام ابی بن کعبؓ، معاذ بن جبلؓ، ابو زیدؓ اور زید بن ثابتؓ ہیں۔
حضرت ابو بکر ؓ، کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک لشکر یمن کے علاقہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جہاد کے لئے گیا تھا، اس لشکر کو اگرچہ فتح حاصل ہو گئی تھی اور مسیلمہ کذاب مارا گیا تھا لیکن مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی تھی۔ جن میں بہت سے قرآن مجید کے حافظ بھی شامل تھے، اس واقعہ سے متاثر ہو کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے درخواست کی تھی کہ اسی طرح اگر حفاظ شہید ہوتے رہے تو خطرہ ہے کہ کہیں قرآن مجید ہی لوگوں کے درمیان باقی نہ رہے۔ اس لئے آپ قرآن مجید کی کتاب کا اہتمام کرا دیں (اس وقت تک الگ الگ سورتیں تو صحابہ کرامؓ کے پاس لکھی ہوئی تھیں لیکن پورا قرآن یکجا مصحف کی شکل میں لکھا ہوا نہ تھا۔) حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ جو کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا میں کیسے کر سکتا ہوں۔ کافی افہام و تفہیم کے بعد بالآخر حضرت ابو بکرؓ قرآن کو یکجا لکھوانے اور جمع کرانے کے تیار ہو گئے۔ اس کام کے لئے دونوں بزرگوں کی نگاہ انتخاب حضرت زید بن ثابتؓ پر پڑی۔ ان کو بلوایا گیا اور حضرت ابو بکرؓ نے اپنا مدعا ان کے سامنے رکھا، اور فرمایا “إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ وَاجْمَعْهُ” تم ایک عاقل نوجوان ہو اس کام کے لئے ہم لوگوں کو تم پر پورا اعتماد ہے۔ پھر تم تو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی کاتب وحی رہے ہو، لہذا قرآن کو تلاش کر کر کے ایک جگہ جمع کر لو حضرت زیدؓ کو بھی وہی اشکال ہوا جو حضرت ابو بکرؓ کو ہوا تھا، کہ جو کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا وہ کام آپ دونوں حضرات کیسے کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حضرات شیخین نے ان کو سمجھایا۔
بالآخر وہ اس کام کے لئے راضی ہو گئے اور صحابہ کرامؓ سے مختلف سورتیں جمع کر کے پورا مصحف یکجا لکھ کر تیار کر دیا۔ (1) وہ خود بھی حافظ قرآن تھے اور ان کے علاوہ بھی بعض صحابہ کرامؓ پورے قرآن کے حافظ تھے۔ الگ الگ سورتیں تو بہت سے صحابہ کرامؓ کو یاد تھیں، لیکن وہ ہر جگہ سے لکھی ہوئی سورتیں جمع کر رہے تھے۔
وہ علم فرائض یعنی ترکہ کی تقسیم کے مسائل و احکام سے بھی بہت واقف تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا۔ “افرض امتى زيد بن ثابت” (2) میری امت میں علم فرائض سے سب سے زیادہ واقف زید بن ثابتؓ ہیں۔
غزوہ تبوک میں قبیلہ بنو نجار کا جھنڈا حضرت عمادہ بن حزمؓ کے ہاتھ میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ ان سے لے کر حضرت زید بن ثابتؓ کو دے دیا۔ حضرت عمارہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے بارے میں کوئی شکایت آپ کو پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہے بلکہ زید بن ثابتؓ کو جھنڈا دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کے حافظ ہیں، صحابہ کرام بھی ان کے علمی مقام کی بہت معترف تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنے زمانہ خلافت میں ان کو اپنے پاس مدینہ طیبہ ہی میں رکھتے تھے۔ کہیں نہ جانے دیتے تھے، وہ ان کی موجودگی میں مدینہ طیبہ میں فتویٰ دیتے تھے۔ (3)
ان کی وفات پر صحابہ کرامؓ نے جو کچھ ان کے بارے میں کہا اس سے صحابہ کرامؓ کی نظر میں ان کی بلند مقامی اور قدر و منزلت کا پتہ چلتا ہے حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں “مات حبر الامة” آج اس امت کا ایک بڑا عالم وفات پا گیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا “دفن اليوم علم كثير” آج بڑا علم دفن ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے دل میں ان کا مقام کتنا بلند تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ ایک دن حضرت زید بن ثابتؓ گھوڑے پر سوار ہو رہے تھے ابن عباسؓ وہاں موجود تھے انہوں نے فوراً ان کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ حضرت زید نے کہا آپ رسول اللہ ﷺ کے ابن العم ہیں، میرے لیے نہایت محترم ہیں، آپ یہ کیا کر رہے ہیں ابن عباسؓ نے کہا ہم اپنے علماء کا اسی طرح اکرام کرتے ہیں۔ اور بھی بعض صحابہ کرامؓ سے اسی طرح کے اقوال ان کے بارے میں مروی ہیں حضرت عمرؓ نے تو کئی بار اپنے حج یا عمرہ کے سفر کے موقع پر ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ (1) ان کی وفات پر حضرت حسانؓ نے جو مرثیہ کہا تھا اس کا ایک شعر یہ تھا۔ ؎
ومن اللقوا فى بعد حسان وابنهومن للمعانى بعد زيد بن ثابت
“حسان اور ان کے بیٹے کے بعد شعر و شاعری کون کرے گا اور زید بن ثابتؓ کے بعد قرآن و حدیث کے معانی کا سمجھنے والا کون رہ گیا ہے”۔
وفات
اکثر مؤرخین کے نزدیک وفات ۴۵ھ میں ہوئی ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ
حضرت جریر بن عبداللہ کا تعلق قبیلہ انمار سے ہے۔ یہ قبیلہ نجد کے علاقہ کا ہے۔ والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا بجیلہ ہے۔ والدہ کی نسبت ہی سے بجلی کہلاتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ۱۰ھ میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے ہیں۔ (2)
فضائل
حضرت جریرؓ اگرچہ بہت تاخیر سے اسلام لائے لیکن ان کا شمار اعیان صحابہ میں ہوتا ہے یہ اپنی قوم کے سردار تھے ان کے مدینہ طیبہ حاضر ہونے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ نے ان کی آمد کی اطلاع دے دی تھی ان کے ایمان لانے کے واقعہ سے بھی ان کی عظمت اور جلالت کا پتہ چلتا ہے جس وقت مسجد نبوی میں حاضر ہوئے ہیں اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور مسجد بھری ہوئی تھی ان کو بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملی رسول اللہ ﷺ نے ا کے لئے اپنی چادر مبارک جس کو آپ زیب تن فرمائے ہوئے تھے بچھا دی اور فرمایا اس پر بیٹھو انہوں نے وہ چادر اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لی اور عرض کیا اكرمك الله كما اكرمتنى يا رسول الله (یا رسول اللہ، اللہ آپ کو بھی ایسے ہی اکرام و اعزاز سے نوازے جیسے کہ آپ نے مجھے اکرام و اعزاز سے نوازا ہے) آپ نے ان سے اس چادر پر بیٹھنے کے لئے اصرار فرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا اشهد انك لا تبغى علوا فى الارض ولا فسادا یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ تم زمین میں برتری کے طالب ہو اور نہ فساد کرنا چاہتے ہو۔ اسی مجلس میں حضرت جریرؓ اسلام لے آئے۔ اس واقعہ کی بعض روایات میں یہ بھی ذکر ہے صحابہ کرامؓ نے آپ کے اس غیر معمولی اکرام کے متعلق آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا (1)
یعنی کسی قوم کا سردار اگر تمہارے پاس آئے تو اس کا اکرام کرنا چاہئے۔ بعد میں بھی رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل ان کے اکرام و اعزاز ہی کا رہا ہے۔ خود حضرت جریرؓ فرماتے ہیں مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ (2) یعنی اسلام لانے کے بعد جب بھی میں حاضر خدمت ہوتا اور آپ سے اندر حاضر ہونے کی اجازت چاہتا آپ ہمیچہ مجھے اندر آنے کی اجازت دے دیتے اور ہمیشہ مجھے دیکھ کر تبسم فرماتے زمانہ جاہلیت میں اہل یمن نے اپنے یہاں ایک نقلی کعبہ بنا لیا تھا۔ جس کا نام ذو الخلصہ تھا اس کو وہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ اس میں کچھ بت رکھ چھوڑے تھے جن کی پوجا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں اس کی طرف سے مسلسل خلش رہتی تھی۔ آپ ﷺ نے حضرت جریرؓ سے فرمایا تم اس جھوٹے اور نقلی کعبہ کو منہدم کر دو تو میرے دل کو سکون ہو جائے۔ حضرت جریرؓ فرماتے ہیں میں نے آپ کے حکم کی تعمیل میں ایک سو پچاس طاقتور شہ سواروں کو لے کر یمن کے سفر کا ارادہ کر لیا لیکن میرا حال یہ تھا کہ میں گھوڑے سواری سے واقف نہ تھا اور گھوڑے پر سے گر جایا کرتا تھا میں نے اپنا یہ حال آپ سے عرض کر دیا۔ آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور دعا کی اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا (3) اے اللہ جریرؓ کو گھوڑے کی کمر پر جما دیجئے اور ان کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دیجئے۔ حضرت جریرؓ فرماتے ہیں کہ اس دعا کی برکت سے میں ایسا شہ سوار ہو گیا کہ پھر کبھی بھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ اور پھر میں نے اور میرے ساتھیوں نے جا کر اس ذوالخلصہ یعنی نقلی کعبہ کو منہدم کر دیا اور اس میں آگ لگا کر اس کو خاک کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو میری کامیابی کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے میرے لئے اور میرے ساتھیوں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ (4)
حضرت جریرؓ حجۃ الوداع میں بھی آپ کی ساتھ شریک ہوئے ہیں اور آپ ﷺ نے ان سے خطبہ کے وقت فرمایا تھا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ (5) حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کو عراق کی جنگوں میں شرکت کے لئے بھیج دیا تھا۔ا نہوں نے ان جنگوں میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔
فتح قادسیہ میں بھی ان کو بڑا دخل تھا۔ ان جنگوں سے فارغ ہو کر وہ کوفہ میں ہی قیام پذیر ہو گئے تھے۔ (6) اور وہیں ان کی وفات ہوئی ہے۔
حضرت جریرؓ کو اہل مدینہ خصوصاً انصاری صحابہ کرامؓ سے بڑی محبت تھی، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں میں حضرت جریرؓ کے ساتھ تھا وہ راستہ میں میری خدمت کرتے تھے میرے منع کرنے پر فرمانے لگے ہیں میں نے حضرات انصار صحابہ کرامؓ کا جو طرز عمل رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دیکھا ہے اس کے بعد سے میں نے قسم کھا لی ہے کہ جب بھی مجھے کسی انصاری صحابی کی صحبت کا موقع نصیب ہو گا میں ان کی خدمت ضرور کروں گا۔ صحیح مسلم میں اس روایت کے راوی محمد بن المثنیؓ اور محمد بن بشارؒ نے روایت نقل کرنے کے بعد یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت جریرؓ حضرت انسؓ سے عمر میں بڑے تھے۔ (1)
باطنی کمالات کے ساتھ اللہ نے حسن ظاہری سے بھی بہت نوازا تھا۔ وہ انتہائی حسین و جمیل تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ ان کو يوسف هذه الامة کہتے تھے۔ مطلب یہ تھا کہ وہ اس امت میں حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح حسین و جمیل ہیں۔ (2)
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ»
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بہتر کس زمانے کے لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ اور پھر ان کے بعد کے زمانہ کے لوگ۔
تشریح
حضرت حسان بن ثابت ؓ
حضرت حسانؓ مدنی خزرجی صحابی ہیں۔ ان کے والد کا نام ثابت اور والدہ کا نام فریعہ ہے۔ حضرت فریعہ بھی صحابیہ ہیں۔ عربی کے بہت بلند پایہ شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اپنے قبیلہ کے شاعر تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کی شاعری کا موضوع رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور دین اسلام کا دفاع ہو گیا تھا۔ اسی لئے ان کا لقب شید شعراء المومنین اور شاعر رسول اللہ ﷺ ہو گیا تھا۔ (3)
فضائل
جیسا کہ ابھی گذرا، انہوں نے اپنی شاعری کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے دفاع کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ان کے اشعار میں نیزوں اور تیروں سے زیادہ چبھن اور تلوار سے زیادہ کاٹ ہوتی تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے دفاع اور مشرکین مکہ کے ہجو کے جواب میں ایسے تیز و تند اور سریع التاثیر اشعار کہتے تھے جن کی تیزی اور قوت تاثیر سے مشرکین بلبلا جاتے تھے صحیح مسلم کی ایک روایت میں خود انہوں نے اپنے اشعار کی اس تاثیر کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ (4) اے اللہ کے رسول میں اس اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ میں اپنی زبان (یعنی اشعار) سے ان کی کھال پھاڑ دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں حضرت حسانؓ کے لئے منبر رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہو کر آپ کی موجودگی میں اشعار پڑھتے تھے اور آپ ان سے فرماتے جاتے یا حسان اجب عن رسول اللہ ﷺ، اے حسان اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے تم جواب دہی کرو اور یہ دعا بھی کرتے اللهم ايده بروح القدس اے اللہ جبرائیل کے ذریعہ ان کی مدد فرما۔ اس دعا میں بذریعہ جبرائیل جس مدد کی درخواست کی گئی ہے اس سے بظاہر اشعار کے ورود اور الہام کی مدد مراد ہو گی۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں اس دعا کی مقبولیت کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جبتک حسانؓ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اپنے اشعار کے ذریعہ دفاع کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ جبرائیل کے ذریعہ ان کی مدد بھی کرتا رہتا ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ إِنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ القُدُسِ مَا يفاخرا وينافح عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) ایک مرتبہ حضرت حسان مسجد نبوی میں شعر پڑھ رہے تھے حضرت عمر کا گزر ہوا اور انہوں نے حضرت حسانؓ کی جانب ذرا گھور کر دیکھا حضرت حسان نے کہا آپ گھور کیا رہے ہیں۔ میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں مسجد مین شعر پڑھا کرتا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اگرچہ حضرت حسانؓ سے ایک شکایت تھی کہ وہ فتنہ افک میں شریک ہو گئے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرنے کی وجہ سے وہ ان کی بڑی قدر کرتی تھیں ان کے آنے پر ان کے بیٹھنے کے لئے گدّا ڈلواتی تھیں۔ ایک بار وہ آئے اور ام المومنین نے اسی طرح ان کا اکرام کیا اور بیٹھنے کے لئے گدّے کا اہتمام کیا تو ان کے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نے کہا آپ ان کو گدّے پر بٹھاتی ہیں حالانکہ انہوں نے جو کیا تھا وہ آپ کے علم میں ہے۔ ام المؤمنین نے فرمایا یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مشرکین کی ہجو کے جواب دیتے تھے اور آپ کے قلب مبارک کو سکون پہنچانے کا سامان کرتے تھے۔ اب یہ نابینا بھی ہو گئے تھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطی کو معاف فرما دے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا نہ فرمائے گا۔ (2) ان کا شمار فن شاعری میں بہت بلند مقام شعراء میں ہوتا ہے اور ان کے اشعار اسلامی عہد کی شاعری میں بہت معیاری اشعار سمجھے جاتے ہیں۔ کچھ اشعار اور ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
قصہ یہ ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی حضرت ابو سفیان بن الحارثؓ عبدالمطلب جو بہت دیر میں مسلمان ہوئے ہیں اپنے کفر کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتے اور آپ کی شان میں گستاخی کرتے تھے، حضرت حسانؓ نے اپنے اشعار میں ان کو ہجو کا جواب دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں ایک بہترین قصیدہ بھی کہہ دیا ہے۔ ان اشعار میں یہ بھی ذکر ہے کہ تم، آپ ﷺ کے خاندان کے ہوتے ہوئے آپ کی ہجو کرتے ہو اور میں غیر ہوتے ہوئے دفاع کر رہا ہوں۔
هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ ... وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ
“تم حضرت محمد ﷺ کی ہجو کرتے ہو میں آپ کی طرف سے اس کا جواب دیتا ہوں اور مجھے اللہ کے یہاں اس کا اجر ملے گا”۔
هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيفًا ... رَسُولَ اللهِ شِيمَتُهُ الْوَفَاءُ
“تم نے محمد ﷺ کی ہجو کی جو بہت ہی وسیع الخیر اور متقی پرہیز گار، اللہ کے رسول ہیں۔ جن کی عادت ہی وفاداری ہے”۔
فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي ... لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ
“میرے ماں باپ، میری عزت و آبرو تمہارے محمد (ﷺ) پر قربان ”۔
صحیح مسلم میں مزید اشعار ہیں اور حضرت حسان بن ثابتؓ کے دیوان میں آپ کی مدح توصیف کا ایسا بیش بہا خزانہ ہے جو شاید ہی کسی شاعر کے یہاں ہو گا۔
حضرت ابو سفیان ؓ
حضرت ابو سفیان کا نام صخر بن حرب ہے لیکن اپنی کنیت ابو سفیان کے ساتھ مشہور ہیں، ان کی ایک کنیت ابو حنظلہ بھی تھی۔ قریش کے سرداروں اور مکہ کے ذہین ترین اور بااثر لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے قرابت کے باوجود ایمان لانے میں بہت تاخیر کی، غزوہ بدر میں قریش کے بڑے بڑے سردار تہہ تیغ کر دئیے گئے تھے، اس لئے غزوہ احد اور غزوہ خندق میں انہوں نے ہی مشرکین مکہ کے لشکروں کی قیادت کی۔ فتح مکہ سے ایک دن پہلے جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ بالکل مکہ کے قریب تشریف فرما تھے تو حاضر خدمت ہوئے اور اسی وقت یا پھر دوسرے دن (فتح مکہ کے دن) ایمان لائے ہیں۔ (1)
فضائل
حضرت ابو سفیانؓ نے اپنے کفر کے زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خوب خوب مخالفت کی تھی لیکن اسلام لانے کے بعد اسلام کی حمایت بھی غیر معمولی قربانیاں دے کر اس کی تلافی کر دی، ویسے بھی آپ کا فرمان ہے “الاسلام يهدم ما كان قبله” یعنی اسلام لانے کے بعد ماضی کے سارے گناہ اور قصور معاف ہو جاتے ہیں کفر کے زمانہ میں بھی انہوں نے ابو جہل اور ابو لہب کی طرح رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمانوں کو تکلیفیں نہیں پہنچائیں تھیں، ایمان لانے کے معاً بعد غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شرکت کی ہے، غزوہ طائف میں تو ان کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی، اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا تم چاہو تو میں اللہ سے تمہاری آنکھ کی صحت کی دعا کر دوں، اللہ تعالیٰ اس کو ٹھیک کر دے گا۔ ورنہ اس کے بدلے میں اللہ تم کو جنت عطا فرمائے گا، حضرت ابو سفیانؓ نے عرض کیا مجھے جنت چاہئے اور آنکھ کی تکلیف اور اس کے ضائع ہونے کو برداشت کر لیا۔ ان کی دوسری آنکھ بھی اللہ کے راستے میں کام آ گئی تھی اپنے بیٹے حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ کی قیادت میں مصروف جہاد تھے اور بآواز بلند دعا کر رہے تھے يا نصر الله اقترب، اے نصرت خداوندی قریب آ جا، اور پوری طرح نابینا ہو جانے کے باوجود مسلمانوں کو ثابت قدم رہنے اور جم کر دشمنوں کے مقابلہ کرنے کی تلقین و نصیحت کر رہے تھے۔ (2)
صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ سے فرمایا تھا من دخل دار ابى سفيان فهو آمن (3) مشہور تابعی حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانت سے دار ابی سفیان کو یہ شرف اس لئے عطا کیا گیا تھا کہ مکہ کے زمانہ قیام میں آپ نے بھی اس گھر میں مشرکین مکہ کی ایذار رسانیوں سے بچنے کے لئے پناہ لی تھی۔ (1) اس حدیث کی شرح میں امام نووی نے تحریر فرمایا ہے فيه تاليف لابى سفيان واظهار لشرفه یعنی آپ کے اس اعلان میں حضرت ابو سفیانؓ کی تالیف قلب کے علاوہ ان کی فضیلت کا بھی اظہار ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت ابو سفیانؓ نے ایمان لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول جس طرح زمانہ کفر میں، میں نے کفار کے لشکروں کی قیادت کی ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسلامی لشکر کی بھی قیادت کروں (رسول اللہ ﷺ چونکہ ان کی قائدانہ صلاحیت سے واقف تھے اس لئے) آپ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی۔ (2)
ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ آپ کی ہی صاحبزادی ہیں، ان کے تذکرہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب ابو سفیان کو اس کا علم ہوا کہ ان کی بیٹی ام حبیبہ سے (جو اس وقت حبشہ میں تھیں) رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرما لیا ہے تو انہوں نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بڑے بلند تعریفی کلمات کہے۔ ان کے صاحبزادی حضرت یزید بن ابی سفیانؓ اور حضرت معاویہؓ بھی ایمان لانے کے بعد اسلام کے بہترین خادم اور مسلمانوں کے قائد بنے۔ حضرت یزید بن ابی سفیانؓ بھی فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے۔ ایمان لانے کے بعد بہت سے معرکوں میں شرکت کی تھی، ملک شام اور اس کے اطراف کے بہت سے علاقوں کے فتح کرنے میں ان کی حربی صلاحیتوں کو کافی دخل رہا ہے۔
وفات
حضرت ابو سفیانؓ کی وفات خلافت عثمانی کے زمانہ میں ہوئی ہے۔
حضرت معاویہ ؓ
حضرت معاویہ ؓ کی ولادت رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پانچ سال پہلے ہوئی تھی، صلح حدیبیہ کے موقع پر ایمان لائے ہیں، اپنے ایمان لانے کا واقعہ بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو عمرہ کرنے سے منع کر دیا اور آپ ﷺ کے اور مکہ والوں کے درمیان صلح نامہ لکھنے جانے کے بعد آپ مدینہ طیبہ واپس جانے لگے تو مجھے آپ ﷺ کے نبی برحق ہونے کا یقین ہو گیا تھا اور جب آئندہ سال آپ عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں تو میں مسلمان ہو چکا تھا، لیکن والدین کے خوف سے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا اور فتح مکہ کے دن اب والدین بھی مسلمان ہو گئے تو میں نے بھی اپنے اسلام کا اظہار کر دیا۔ (1) فتح مکہ کے بعد اس خاندان کے غالباً سبھی لوگ مدینہ آ گئے ہیں۔
فضائل
حضرت معاویہ ؓکو اللہ تعالیٰ نے ظاہری و باطنی کمالات سے حصہ وافر عطا فرمایا تھا۔ وہ بہت ہی حسین و جمیل، طویل القامت، باوقار و بردبار، نہایت ذہین اور معاملہ فہم شخص تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے کتابت وحی اور خط و کتابت کی خدمت میں بھی ان کے سپرد کر دی تھی۔ (1) آپ نے ان کے لئے متعدد بار دعائیں فرمائیں۔ ایک بار ان کے لئے آپ ﷺ نے دعا فرمائی اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الكِتَابَ، وَالحِسَابَ، وَقِهِ العَذَابَ (2) اے اللہ معاویہ کو کتابت اور فن حساب سکھا دیجئے اور ان کو آخرت کے عذاب سے بچائیے۔ اسی روایت کی بعض سندوں کے ساتھ اس کے متن میں ومکن لہ فی البلاد کا اضافہ بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کا ترجمہ “اور ملکوں ملکوں ان کو اقتدار نصیب فرمائیے” ہوتا ہے۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں ان کے لئے آپ کے دعا کے الفاظ اس طرح نقل کئے گئے ہیں اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ (3) اے اللہ معاویہ کو اپنے بندوں کے لئے ذریعہ اور خود ہدایت یافتہ بنا دیجئے اور ان سے ہدایت کا کام بھی لے لیجئے۔ آپ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی یہ مذکورہ دعائیں سب ہی قبول ہوئیں۔ وہ بہترین کاتب تھے، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے ان کو کتابت وحی اور اپنی خط و کتابت کے لئے بھی منتخب فرمایا تھا، حساب کتاب کے ماہر تھے اللہ نے ان کو دور دراز علاقوں تک اسلامی سلطنت کے وسیع کرنے کا ذریعہ بنایا۔ وہ خود بھی ہدایت یافتہ تھے اور اللہ ہی جانتا ہے کتنے بندگان خدا ان کی وجہ سے دولت ایمان سے سرفراز ہوئے اور رہا آخرت کا معاملہ سو وہ ارحم الراحمین کے ہاتھ میں ہی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد ہی میں اسلامی فوج کے ایک بہترین سپاہی تھے، پھر خلفاء ثلثہ کے عہد میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ترقی کرتے رہے، ان کو حضرت عمرؓ نے ملک شام کا گورنر بنایا تھا۔ اور حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں بھی وہ اسی منصب پر فائز رہے۔ (4) حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد ان کے اور حضرت علیؓ کے مابین اختلاف اور جنگ و جدال رہا لیکن جب حضرت حسینؓ خلافت سے ان کے حق میں دست بردار ہو گئے تو وہ خلیفہ المسلمین ہو گئے اور ایک طویل مدت تک باتفاق عام صحابہ و تابعین وہ امیر المومنین رہے ہیں۔ اس زمانہ میں انہوں نے اسلام کے خلاف سازشوں اورشور شوں کو یکسر ختم کر دیا تھا اور مملکت اسلامی میں ہر طرف سکون ہی سکون نظر آتا تھا اس لئے اسلامی فوجوں کو غیر اسلامی علاقوں تک دین کی دعوت پہنچانے اور ان کو مفتوح کرنے کا خوب موقع ملا۔ اس کی تفصیل البدایہ والنہایہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ غیر مسلموں کے ساتھ جنگ میں بھی اسلامی اصولوں اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کی بہت پابندی کرتے تھے۔ صرف اس کی ایک مثال ہی سے اس سلسلہ میں بھی ان کے متبع سنت ہونے کا اندازہ ہو جائے گا۔ حضرت سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں حضرت معاویہؓ نے اور اہل روم کے درمیان ناجنگ معاہدہ تھا۔ جب اس کی مدت ختم ہونے کے قریب ہوئی تو حضرت معاویہؓ نے اسلامی فوجوں کو روم کی سرحد کے قریب بھیجنا شروع کر دیا تا کہ جیسے ہی مدت ختم ہو ملک روم پر حملہ کر دیا جائے۔ بظاہر تو یہ حملہ چونکہ ناجنگ معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ہوتا اس لئے کوئی عہد شکنی کی بات نہ تھی لیکن ایک صحابی حضرت عمرو بن عبسہؓ گھوڑا دوڑاتے ہوئے آئے اور فرمانے لگے الله اكبر وفاء لا غدر یعنی اللہ اکبر ہم لوگوں کے لئے عہد کو پورا کرنا لازمی ہے، بدعہدی جائز نہیں ہے۔ حضرت معاویہؓ نے ان کی اس بات کا مطلب دریافت کیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنائی کہ جس شخص کا کسی قوم سے کوئی عہد وہ پیمان ہو تو اس شخص کو اس عہد و پیمان میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہ کرنا چاہئے حتیٰ کہ اس عہد کی مدت پوری ہو جائے، یا اس کو اس حال میں ختم کیا جائے کہ فریقین بالکل مساوی حیثیت میں ہوں۔ حضرت عمرو بن عبسہؓ کا مطلب یہ تھا کہ رومیوں کی غفلت میں فوجوں کو وہاں لے جا کر جمع کرنا تا کہ مدت ختم ہوتے ہی حملہ کر دیا جائے یہ بھی بد عہدی ہی ہے۔ حضرت معاویہؓ نے فوج کو فوراً واپسی کا حکم دے دیا۔ (1)
ان کے تقویٰ اور خوف خدا کا ایک واقعہ اور پڑھ لیجئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ریا کار شہید، ریاکار عالم، ریاکار مال خرچ کرنے والا، یہ تینوں شخص سب سے پہلے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہ حدیث جب حضرت ابو ہریرہؓ کے کسی شاگرد نے حضرت معاویہؓ کو سنائی تو حضرت معاویہؓ کا روتے روتے یہ حال ہو گیا کہ وہاں پر موجود لوگوں کو یہ خطرہ ہونے لگا کہ کہیں ان کی موت واقع نہ ہو جائے۔ (2)
اتباع سنت کا بہت خیال رکھتے تھے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عورتوں کو اپنے بالوں میں دوسرے بال شامل نہ کرنے چاہئیں، حضرت معاویہؓ کے علم میں یہ بات آئی کہ مدینہ کی بعض عورتیں ایسا کرنے لگی ہیں تو ایک دن خطبہ میں فرمایا کہ علماء مدینہ کہاں چلے گئے ہیں۔ عورتوں کو ایسا کرنے سے کیوں نہیں منع کرتے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (3)
وفات
صحیح قول کے مطابق حضرت معاویہؓ کی وفات رجب ۶۰ھ میں ہوئی ہے ؓ وارضاہ۔
بفضلہٖ تعالیٰ ....... “معارف الحدیث” کا مبارک سلسلہ اس جلد پر تمام ہوا۔