کتاب المناقب والفضائل

Maarif-ul-Hadith · Chapter 17 · 144 hadiths · Page 6 of 8

2072Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ، وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الهِجْرَةِ، وَأَعْتَقَ بِلاَلاً مِنْ مَالِهِ، رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، يَقُولُ الحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ، تَسْتَحْيِيهِ الْمَلاَئِكَةُ، رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا، اللَّهُمَّ أَدِرِ الحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:“اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ابو بکر پر، انہوں نے اپنی بیٹی (عائشہ) کا میرے ساتھ نکاح کر دیا، اور دارالہجرۃ مدینہ منورہ تک پہنچنے کے لئے میرے واسطے (سواری وغیرہ) سفر کے انتظامات کئے، اور بلال کو اپنے مال سے خرید کر آزاد کیا، ..... اللہ کی رحمت ہو عمر پر، وہ حق بات کہتا ہے اگرچہ کڑوی ہو، اس کی اس (بےلاگ) حق گوئی نے اس حال میں کر چھوڑا ہے کہ کوئی اس کا سچا اور پورا دوست نہیں .... اللہ کی رحمت ہو عثمان پر جس کا حال یہ ہے کہ فرشتے بھی اس سے شرماتے ہیں .... اور اللہ کی رحمت ہو علی پر، اے اللہ! تو حق اور سچائی کو اس کے ساتھ دائر اور سائر کر دے، وہ حق کے ساتھ رہے اور حق اس کے ساتھ ”۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض ارشادات میں جس طرح ایک ساتھ شیخین حضرت ابو بکر و عمر ؓ کے فضائل بیان فرمائے اور جس طرح بعض ارشادات میں حضرت عثمان ؓ کو بھی شامل فرما کر ایک ساتھ تینوں حضرات کے فضائل بیان فرمائے (جو اپنے موقعہ پر پہلے ذکر کئے جا چکے ہیں) اسی طرح آپ نے اپنے بعض ارشادات میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو بھی شامل فرما کر چاروں خلفاء کے فضائل ایک ساتھ بیان فرمائے ہیں ذیل میں آپ ﷺ کے ایسے ہی چند ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں۔ تشریح .....رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں چاروں خلفاء راشدین کے لئے رحمت کی دعا فرمائی، سب سے پہلے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے حق میں دعاءرحمت فرمائی اور خصوصیت کے ساتھ ان کے تین اعمال خیر کا ذکر فرمایا، سب سے پہلے ان کے اس عمل کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا آپ ﷺ سے نکاح کر دیا .... اس عاجز کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علاوہ اگرچہ کم از کم آٹھ ازواج مطہرات آپ ﷺ کی اور بھی ہوئیں، لیکن حضرت عائشہؓ کے نکاح کی خاص اہمیت یہ تھی کہ آپ ﷺ کی سب سے پہلی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ جن کا وجود ان کے کمال ایمان، ان کی فراست و دانشمندی اور بالخصوص ان کی وجہ سے خانگی ضروریات کی فکروں سے بے فکر اور آزادی حاصل ہو جانے کی وجہ سے حضور ﷺ کے لئے باعث سکون کاطر تھا ..... ان کی وفات سے فطری طور پر آپ ﷺ کو غیر معمولی رنج اور صدمہ تھا، اس وقت عالم غیب کی طرف سے آپ ﷺ کو اشارہ ملا کہ ابو بکر کی بیٹی عائشہ تمہاری رفیقہ حیات ہوں گی۔ اگرچہ وہ اس وقت بہت کمسن تھیں لیکن آنحضرت ﷺ نے غیبی اشارہ کی بنا پر یقین فرما لیا کہ یہ منجانب اللہ مقدر ہو چکا ہے اور ان کی رفاقت حضرت خدیجہؓ ہی کی طرح میرے لئے خیر اور باعث سکون خاطر ہو گی، چنانچہ ایک نیک خاتون خولہ بنت حکیم نے حضرت ابو بکرؓ کو حضور ﷺ کی طرف سے رشتہ کا پیغام پہنچایا ..... جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا حضرت عائشہؓ اس وقت بہت کمسن تھیں نیز ان کی نسبت جبیر ابن مطعم کے بیٹے سے ہو چکی تھی جو ابو بکر ہی کی طرح مکہ کے خوشحال اور دولت مند لوگوں میں تھے .... اور مالی حیثیت سے حضور ﷺ کا جو حال تھا وہ ابو بکرؓ کے سامنے تھا اس کے باوجود انہوں نے حضور ﷺ کی اس حالت کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اس امید پر کہ یہ نکاح رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کے سکون کا ذریعہ بنے گا اپنی اور بیٹی کی سعادت سمجھ کو اسے قبول کر لیا اور حضرت عائشہؓ کا آپ ﷺ سے نکاح کر دیا ..... بہرحال آنحضرت ﷺ نے اپنے مندرج بالا ارشاد میں حضرت ابو بکرؓ کے حق میں رحمت کی دعا کرنے کے ساتھ پہلے ان کے اس احسان کا ذکر فرمایا اس کے بعد ان کے اس دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے لئے میرے واسطے انتظامات کئے اور پورے سفر میں میرے ساتھ رہے، آخر میں حضور ﷺ نے ابو بکر صدیقؓ کے اس تیسرے عمل خیر کا ذکر فرمایا کہ حضرت بلال حبشی ؓ کو جو مکہ کی ایک انتہائی سنگدل کافر و مشرک کے غلام تھے وہ صرف حضور ﷺ پر ایمان لانے اور شرک چھوڑ کر توحید کو قبول کر لینے کی وجہ سے ان کو سخت لرزہ خیز تکلیفیں دیتا تھا، حضرت ابو بکرؓ نے حضرت بلالؓ کے علاوہ بھی ایسے متعدد غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کیا تھا جن کو ان کے کافر و مشرک مالک صرف ایمان لانے کے جرم میں تکلیفیں دیتے تھے لیکن حضرت بلالؓ حبشی کی خصوصیات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں صرف انہیں کو خرید کر آزاد کرنے کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد آپ ﷺ نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس خاص وصف کا ذکر فرمایا کہ وہ مخلوق کی رضا مندی و ناراضی سے بےپرواہ ہو کر ہر معاملے میں حق بات کہتے ہیں اگرچہ وہ لوگوں کو کڑوی معلوم ہو اور اس کی وجہ سے ان سے دور اور ناراض ہو جائیں ..... معلوم ہوا کہ کسی بندہ کا یہ حال بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے اور ایسا بندہ اللہ کی رحمت کا خاص طور پر مستحق ہے ..... حضرت عمرؓ کے بعد آپ ﷺ نے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ان کے اس وصف کا ذکر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے بھی ان سے شرماتے ہیں (اسی سلسلہ معارف الحدیث میں حضرت عثمان ؓ کے فضائل میں ان کے اس وصف کا ذکر گذر چکا ہے) ..... حضرت عثمانؓ کے بعد آپ ﷺ نے چوتھے خلیفہ حضرت علی مرتضیٰؓ کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ! تو علی کے ساتھ حق کو دائر و سائر کر دے یعنی ہمیشہ وہ حق پر رہیں اور حق ان کے ساتھ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں جس ترتیب کے ساتھ ان چاروں کا ذکر کیا اور ان کے حق میں رحمت کی دعا فرمائی اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں یہ چاروں حضرات سب سے افضل اور بلند مرتبہ ہیں اور ان کے درمیان اسی ترتیب کے مطابق درجات کا فرق ہے، نیز اس ترتیب سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد یہ چاروں حضرات اسی ترتیب کے مطابق یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کے خلیفہ اور جانشین ہوں گے ..... اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت سے ارشادات میں اسی ترتیب سے ان چاروں حضرات کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ان سب احادیث سے یہی اشارہ ملتا ہے ..... ان میں سے چند حدیثیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔

2073Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهُ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. (رواه ابن عساكر)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میری امت کے لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دل میری امت میں ابو بکر ہیں ..... اور اللہ کے معاملہ میں سب سے سخت عمر بن خطاب ہیں ..... اور حیاء کے لحاظ سے میری امت میں سب سے افضل عثمان بن عفان ہیں اور نزاعات و خصومات کا فیصلہ کرنے میں علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے فائق ہیں۔ (ابن عساکر) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں خلفاء اربعہ میں سے ہر ایک کے اس وصف کا ذکر فرمایا ہے، جس میں اس کو امت کے تمام دوسرے افراد پر امتیاز حاصل ہے ..... حضرت ابو بکرؓ صفت رحمت اور رحم دلی کے لحاظ سے تمام امت میں فائق ہیں ..... اسی طرح شدت فی امر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اور حقوق کے بارے میں سخت گیری کے لحاظ سے حضرت عمر ؓ ممتاز ہیں علیٰ ہذا صفت حیاء جس کو حدیث شریف میں ایمان کا خاص شعبہ بتایا گیا ہے اس ایمانی صفت کے لحاظ سے امت میں حضرت عثمان ابن عفان ؓ کو امتیاز حاصل ہے، اور نزاعات و خصومات کا صحیح اور حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت جو اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور الٰہی اور نبوی خلافت کا خاص وظیفہ ہے اس میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو تمام امت پر فوقیت حاصل ہے۔

2074Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: من فضل على أبي بكر وعمر وعثمان وعلي فقد رد ما قلته وكذب ما هم أهله. (رواه الرافعى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس نے ابو بکر و عمر اور عثمان و علی پر (کسی اور کو) فضیلت دی تو ا س نے میری بتلائی ہوئی بات کی تردید کی، اور یہ چاروں (عنداللہ) جس مرتبے پر ہیں، اس کی تکذیب کی۔ (الرافعی) تشریح حدیث کسی تشریح کی محتاج نہیں، اہل حق کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ یہ چاروں حضرات تمام امت میں افضل ہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اس بارے میں واضح ہیں جو کوئی بد عقیدہ شخص کسی دوسرے کو ان چاروں سے افضل جانے تو وہ رسول اللہ ﷺ کی ارشادات کی تردید اور مخالفت کا مرتکب ہوا۔

2075Maarif-ul-Hadith

فضائل خلفاء اربعہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِىٍّ فِيْ قَلْبِ مُنَافِقٍ. (رواه الطبرانى فى الاوسط وابن عساكر)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ان چاروں (میرے ساتھیوں اور رفیقوں ابو بکر و عمر اور عثمان و علی) کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہ ہو گی۔ (معجم اوسط طبرانی، ابن عساکر) تشریح یہ حدیث بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں بفضلہٖ تعالیٰ اہل السنۃ والجماعۃ کا حال یہی ہے کہ وہ ان چاروں حضرات سے محبت کو گویا جزو ایمان یقین کرتے ہیں اور جو بدنصیب ان میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے اس کو فاسد العقیدہ اور حقیقی ایمان سے محروم جانتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا تھا کتب حدیث میں اور بھی ایسی روایات ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے ان خلفاء اربعہ کی فضیلت اور ان کے امتیاز کا ذکر اسی ترتیب سے فرمایا ہے، ان سب روایات سے ان حضرات کی فضیلت کے ساتھ ان کے درمیان فرق مراتب اور خلافت کے بارے میں ترتیب کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ خلفاء اربعہ کے فضائل کے بارے میں ایک قابل لحاظ حقیقت حدیث کی اکثر کتابوں میں شیخین (حضرت ابو بکرؓ و عمر ؓ) کے فضائل کے بارے میں حدیثوں کی تعداد کم ہے ..... حضرت عثمان ؓ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ..... اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دور صحابہ میں شیخین کی شخصیتیں متفق علیہ تھیں اور کسی کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کے فضائل کی روایتیں تلاش کرے اور امت کے عوام کو پہچائے، حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں خاص طور سے ایک گروہ کی سازش اور شرارت سے جس کا سرغنہ ایک منافق عبداللہ بن سبا تھا ان کی شخصیت متفق علیہ نہیں رہی، اس لئے اس کی ضرورت پیدا ہو گئی کہ ان کے فضائل سے متعلق روایتیں تلاش کر کے بیان کی جائیں۔ اسی وجہ سے ان کے فضائل سے متعلق حدیثوں کی تعداد حدیث کی کتابوں میں شیخین کی بہ نسبت زیادہ ہے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی شخصیت بھی متنازعہ وہ گئی اور خوارج کا ایک مستقل ایسا گروہ بھی پیدا ہو گیا جو ان کو دین اور امت میں فتنہ جانتا اور واجب القتل سمجھتا تھا (جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے)۔ اس لئے ان کے فضائل کی حدیثیں تلاش کرنے کی بھی ضرورت پیدا ہو گئی اور اللہ کے مخلص بندوں نے محنت و تلاش سے ان کے فضائل کی حدیثیں جمع کیں۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں غلو کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جو ان کے فضائل میں حدیثیں وضع کرنا کار ثواب سمجھتے تھے، ان میں سے بہت سے بظاہر صالحین کی سی زندگی گذارتے تھے۔ ہمارے محدثین بشر ہی تھے ان کا زمانہ بھی ان راویوں کے بہت بعد کا تھا، وہ ان کے اندرونی حال سے واقف نہ ہو سکے اور ان کی روایتیں بھی ہماری کتب حدیث میں شامل ہو گئیں، اس لئے بھی حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فضائل کی روایات ہماری کتب حدیث میں خلفاء ثلثہ کی بہ نسبت بہت زیادہ تعداد میں نظر آتی ہیں۔ اس بات کی ضرورت واقعۃً موجود ہے کہ ان احادیث کا محدثانہ اور محققانہ اصول و قواعد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ..... یہ عاجز اب عمر کے اس مرحلہ اور ضعف و معذوری کے اس حال میں ہے کہ خود اس طرح کے کسی کام کی ہمت نہیں کر سکتا، دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کا داعیہ اس کے اہل لوگوں کے قلب میں ڈال دے اور یہ کام بھی انجام پا جائے۔

2076Maarif-ul-Hadith

عشرہ مبشرہ کے بقیہ حضراتؓ کے فضائل

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ» (رواه الترمذى)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو بکرؓ جنتی ہیں، عمرؓ جنتی ہیں، عثمانؓجنتی ہیں، علیؓ جنتی ہیں، طلحہؓ جنتی ہیں،، زبیرؓ جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاصؓ جنتی ہیں، سعید بن زیدؓ جنتی ہیں، اور ابو عبیدہ الجراحؓ جنتی ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ارشاد میں (جو ناظرین کرام ان تمہیدی سطروں کے بعد جامع ترمذی کے حوالہ سے پڑھیں گے) اپنے اصحاب کرام سے خصوصیت کے ساتھ دس حضرات کو نامزد کر کے اعلان فرمایا کہ یہ جنتی ہیں .... ان حضرات کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔ ان دس میں خلفاء اربعہ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذو النورین، حضرت علی مرتضیٰ ؓ بھی ہیں اور حضور نے سب سے پہلے انہیں کے جنتی ہونے کا اعلان فرمایا ہے، ان حضرات کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں ناظرین کرام کی نظر سے گذر چکی ہیں، ان کے علاوہ باقی حضرات کے فضائل سے متعلق حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔ تشریح ..... ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا یہ اعلان وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع اور اس کے حکم سے تھا ..... جمہور علماء اہل سنت نے حضور کے اس ارشادع ہی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ دس حضرات باقی اصحاب کرام اور پوری امت میں افضل ہیں، اگرچہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات کے جنتی ہونے کی حضور ﷺ نے مختلف مواقع پر اطلاع دی ہے، لیکن ان دس حضرات کو دوسرے تمام حضرات کے مقابلہ میں امتیاز اور فضیلت حاصل ہے۔ واللہ اعلم۔ آنحضرت ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد میں حضرات خلفاء اربعہ کے بعد جس ترتیب سے باقی حضرات کے اسماء گرامی درج کئے گئے ہیں اسی ترتیب کے مطابق ان حضرات کے فضائل کی حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔

2077Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ. (رواه الترمذى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ کر فرمایا جس کے لئے یہ بات خوشی اور مسرت کا باعث ہو کہ وہ کسی ایسے شہید کو دیکھے جو زمین پر چل پھر رہا ہو تو وہ طلحہ ابن عبیداللہ کو دیکھ لے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر یہ بات منکشف فرما دی گئی تھی کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ شہید ہوں گے، آپ ﷺ نے اس ارشاد میں جس خاص انداز میں ان کے شہید ہونے کی اطلاع دی، ظاہر ہے کہ اس سے حضور ﷺ کا مقصد ان کی ایک خاص فضیلت اور عنداللہ ان کی شہادت کی غیر معمولی اہمیت اور مقبولیت بیان فرمانا تھا۔ حضرت طلحہ ابن عبیداللہ رسول اللہ ﷺ کے وصال فرمانے کے قریباً پچیس سال بعد جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کا ان کی شہادت کی اطلاع دینا آپ کے معجزات میں سے ہے۔

2078Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَعَدَ تَحْتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ. (رواه الترمذى)

حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جنگ احد کے دن آنحضرت ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ نے اسی حالت میں پتھر کی ایک چٹان پر چڑھنا چاہا تو (دو زرہوں کے بوجھ اور دباؤ کی وجہ سے) آپ چٹان پر چڑھ نہیں سکے، تو طلحہ بیٹھ گئے تا کہ آپ ان کے اوپر اپنا قدم مبارک پر رکھ کر اس چٹان تک پہنچ سکیں چنانچہ) آپ ﷺ ان پر اپنا پائے مبارک رکھ کر پتھر کی اس چٹان تک پہنچ گئے (حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں) میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا “أَوْجَبَ طَلْحَةُ” یعنی طلحہ نے اپنے لئے (جنت واجب کر لی۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو زرہیں پہننے کا ذکر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنگ کے موقع پر اپنی حفاظت اور دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے امکانی حد تک اسباب کا استعمال کرنا نہ صرف یہ کہ توکل کے منافی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے۔

2079Maarif-ul-Hadith

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ

عَنْ قَيْسِ ابْنِ حَازِمٍ قَالَ: «رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ» (رواه البخارى)

قیس ابن ابی حازم ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے طلحہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل ہو چکا تھا، انہوں نے غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کو اس ہاتھ کے ذریعہ (دشمن کے تیروں کا نشانہ بننے سے) بچایا تھا۔ (صحیح بخاری) تشریح جنگ احد کے دن ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن لشکر کے تیر اندازوں نے خصوصیت سے رسول اللہ ﷺ کو اپنے تیروں کا نشانہ بنا کر آپ کو شہید کر دینا چاہا ..... اس وقت جب کہ آنحضرت ﷺ پر تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی، حضرت طلحہ ابن عبیداللہؒ نے اپنے سپر کے ذریعہ حضور ﷺ کو بچانے کی کوشش کی، اسی حال میں ہاتھ ایسا زخمی ہوا کہ سپر ہاتھ سے گر گیا تو انہوں نے خود اپنی ذات اور اپنے پورے جسم کو خاص طور سے اپنے دونوں ہاتھوں کو سپر بنا لیا اور حضور کی طرف آنے والے ہر تیر کو اپنے اوپر لیا دشمن کا ایک تیر بھی حضور ﷺ تک نہیں پہنچنے دیا، جس کی وجہ سے ایک ہاتھ تو بالکل شل ہو گیا اور پورا جسم گویا چھلنی ہو گیا، روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر اسی سے اوپر زخم شمار کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق زندہ ہے اور احد کے بعد بھی قریباً تمام ہی غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے، پھر آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد حضرت عثمان ؓ کی شہادت تک دین اور امت مسلمہ کی خدمت ہی ان کا نصب العین اور ان کی زندگی کا مصرف رہا یہاں تک کہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ ؓ وارضاہ۔ اس روایت کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے راوی قیس ابن ابی ھازم معروف اصطلاح کے مطابق صحابی نہیں ہیں، انہوں نے آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کے ارادہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا لیکن ایسے وقت پہنچے کہ آنحضرت ﷺ اس دنیا سے رفیق اعلیٰ کی طرف رحلت فرما چکے تھے، اس لئے اگرچہ تابعین میں ہیں، لیکن چونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری اور زیارت و بیعت کی نیت سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کیا تھا، اس لئے ان کتابوں کے مصنفین نے حضور ﷺ کے ارشاد “إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى” کی روشنی میں ان کی نیت ہی کو عمل کے قائم مقام قرار دے کر صحابہ کرامؓ کے ساتھ شمار کر لیا ہے۔

2080Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ القَوْمِ يَوْمَ الأَحْزَابِ؟» قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب کے دن حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو دشمن قوم (کے لشکر) کی خبر لائے، حضرت زبیرؓ نے عرض کیا۔ میں (خبر لاؤں گا) اس پر (ان کے اس عرض کرنے پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، راجح قول کے مطابق ۵؁ھ کے اواخر میں ہوا بعض حیثیتوں سے اس غزوہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے قرآن مجید میں غیر معمولی انداز میں پورے دو رکوع میں اس غزوہ کے حالات کا ذکر فرمایا گیا ہے، اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام الاحزاب ہے، س کے بارے میں تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں مین دیکھی جا سکتی ہیں، ہاں عام ناظرین کی واقفیت کے لئے کسی قدر اختصار کے ساتھ اس کا واقعہ لکھا جاتا ہے۔ معلوم ہے کہ قریش مکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کے شدید ترین دشمن تھے۔ بدر اور احد کے تجربوں اور حالات کی رفتار دیکھنے کے بعد انہوں نے گویا طے کر لیا تھا کہ آئندہ وہ اپنی طرف سے مسلمانوں کے خلاف کوئی جنگی اقدام نہیں کریں گے ..... مدینہ طیبہ کے جوار میں جو یہودی قبائل آباد تھے، ان میں سے بنو نضیر کو ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیون کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے جلا وطن کرا دیا تھا اور وہ خیبر جا کر آباد ہو گئے تھے .... سازش اور فتنہ پردازی یہودیوں کی گویا فطرت ہے، انہوں نے خیبر میں آباد ہو جانے کے بعد یہ اسکیم بنائی کہ عرب کے تمام بڑے قبائل کو اس پرا ٓمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی پوری اجتماعی طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ کریں اور ان کو نیست و نابود کر دیں گے اس مقصد کے لئے بنو نضیر کا ایک وفد پہلے مکہ معظمہ پہنچا اور قریش کے سرداروں کی سامنے جو اسلام اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن تھے اپنی یہ اسکیم رکھی، اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم اس کی پوری کوشش کریں گے کہ دوسرے قبیلے بھی اس جنگ میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ شریک ہوں اور مدینہ کے قریب میں جو یہودی آبادیاں ہیں (بنو قریظہ وغیرہ) وہ بھی اس جنگ میں آپ کا پورا ساتھ دیں گے اور اس صورت میں مسلمان آپ لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ان کا نام و نشان تک مٹ جائے گا ..... قریش مکہ کے ان سرداروں کو راضی کرنے کے بعد اس وفد نے قبیلہ غطفان اور بنو اسد وغیرہ قبائل میں پہنچ کر ان کو بھی اس جنگ میں شرکت پر آمادہ کیا اور بتلایا کہ اس جنگ کے نتیجہ میں مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے پورے علاقے پر جو بہت سرسبز و شاداب اور بہت زرخیز تھا، آپ لوگوں کا قبضہ ہو جائے گا، چنانچہ یہ قبیلے بھی آمادہ ہو گئے، اس طرح قریش مکہ، غطفان، بنو اسد وغیرہ عرب قبائل پر مشتمل دس ہزار اور ایک روایت کے مطابق بارہ ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ کے لئے تیار ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو دشمنانِ اسلام کے اس ناپاک منصوبہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے معمول کے مطابق اپنے خواص اصحاب سے مشورہ کیا .... صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں ان مسلمانوں کی کل تعداد جن سے جنگ میں حصہ لینے کی توقع کی جا سکتی تھی، تین ہزار سے زیادہ نہ تھی وہی اس وقت کی اسلامی فوج تھی، اس کے پاس زندگی کی ضروریات اور جنگ کا سامان اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا، جو دشمن لشکر کے پاس تھا، اس لئے مشورہ ہی سے جنگی حکمت عملی یہ طے کی گئی کہ باہر نکل کر کھلے میدان جنگ نہ کی جائے بلکہ مدینہ میں رہ کر ہی مدافعانہ جنگ کی جائے۔ سلمان فارسیؓ جو ایرانی النسل تھے انہوں نے بتلایا کہ ایسے موقعوں پر ہمارے ملک ایران میں کثیر التعداد اور طاقت ور دشمن لشکر کے مقابلے اور اس سے بچاؤ کے طریقہ یہ ہے کہ ایسی خندق کھودی جاتی ہے کہ آدمی نہ خود ہی چھلانگ لگا کر اس کو پار کر سکے اور نہ گھوڑے کا سوار۔ مدینہ منورہ تین طرف سے قدرتی طور پر پہاڑوں وغیرہ سے اس طرح گھرا ہوا تھا کہ ان سمتوں سے کسی بڑے لشکر کے حملہ آور ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا، ایک سمت شمال مشرق کھلی ہوئی تھی کہ دشمن لشکر اس طرف سے حملہ کر سکتا تھا .... رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام نے سلمان فارسیؓ کے مشورہ کو قبول کرنا مناسب سمجھا اور اس سمت میں خندق کھودے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا اس خندق کی گہرائی اور چوڑائی قریباً دس ہاتھ تھی، دس (۱۰) دس (۱۰) مسلمانوں کی جماعت بنا کر ان پر خندق کا کام تقسیم کر دیا گیا اور صحابہ کرامؓ نے انتہائی مشقت کے ساتھ سخت سردی کے موسم میں دن کے علاوہ سرد راتوں میں بھی کھدائی کا کام کیا، اس خندق کا طول آثار مدینہ کے بعض ماہرین کے لکھنے کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ذراع یعنی ڈھائی ہزار گز تھا (گویا قریباً ڈیڑھ میل)۔ دشمن لشکر ابو سفیان کی سربراہی میں آیا اور خندق کے مقابل میدان میں پڑاؤ ڈالا ان لوگوں کے ساتھ خیمے وغیرہ بھی تھے اور کھانے پینے کا سامان بھی وافر، قریباً ایک مہینے تک یہ لشکر پڑاؤ ڈالے رہا لیکن خندق کو پار کر کے مدینہ پر حملہ کرنا اس لشکر کے لئے ممکن نہ تھا بس دونوں طرف سے کچھ تیر اندازی ہوئی، سیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں صحابہ کرام میں سے سات شہید ہوئے اور مشرکین میں چار جہنم واصل ہوئے ..... قرآن مجید (سورۃ الاحزاب) میں اس غزوہ میں مسلمانوں کی سخت ترین آزمائش اور قربانی کا جس طرح ذکر فرمایا گیا ہے اس طرح کسی دوسرے غزوہ کے بارے میں ذکر نہیں فرمایا گیا، آگے قرآن مجید ہی میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کی مشقت و مصیبت اور قربانی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد آئی یہ ایسی تیز و تند ہوا تھی جس نے دشمن لشکر کے سارے خیمے اکھاڑ پھینکے چولہوں پر دیگیں چڑھی ہوئی تھیں وہ سب الٹ گئیں، ان کے کچھ گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑا کر مختلف فمتوں میں بھاگ گئے ..... (میرا خیال ہے کہ لشکر کے بہت سے لوگوں نے آندھی کی اس غیر معمولی نوعیت کی وجہ سے اس کو خداوندی عذاب سمجھا ہو گا) .... لشکر کے قائد اور سپہ سالار ابو سفیان نے بھی واپسی کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح پورا لشکر نامراد ہو کر واپس ہو گیا۔ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ اسی غزوہ میں کسی خاص مرحلہ پر آنحضرت ﷺ کو دشمن لشکر کا حال معلوم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا “مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ القَوْمِ” یعنی کون ہے جو دشمن لشکر کا حال معلوم کر کے لائے، ظاہر ہے کہ اس میں جان کا بھی خطرہ تھا ..... حضرت زبیرؓ نے سبقت کر کے عرض کیا کہ اس خدمت کو میں انجام دوں گا، اس پر حضور ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا ہر نبی کے لئے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ اردو میں کوئی لفظ نہیں ہے جو حواری کے پورے مفہوم کو ادا کر سکے (جاں نثار، رفیق کار اور مدد گار کے الفاظ سے کسی حد تک حواری کا مطلب ادا ہو جاتا ہے) ..... بلا شبہ حضرت زبیر ؓ کی یہ بڑی فضیلت ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عشرہ مبشرہ میں حضرت علی مرتضیٰؓ کی طرح ان کو بھی رسول اللہ ﷺ کی قرابت قریبیہ حاصل ہے، حضرت علی مرتضیٰؓ آپ کے چچا ابو طالب بن عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت زبیرؓ آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی۔ ؓ وارضاہ۔

2081Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حراء پہاڑ پر رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکرؓ و عمرؓ، علیؓ، عثمانؓ اور طلحہؓ و زبیرؓ بھی تھے۔ تو پہاڑ کی اس چٹان میں (جس پر یہ حضرات تھے) جنبش پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے (پہاڑ کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ ساکن ہو جا کہ تیرے اوپر بس اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور شہید ہونے والے۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کا معجزانہ واقعہ کئی دفعہ پیش آیا ہے، وہ حدیثیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں، جن میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ صرف شیخین یا ان کے علاوہ حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے، اس میں آپ کے ساتھ خلفاء اربعہ کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی تھے، اور اس حدیث میں آپ نے ان دونوں کے شہید ہونے کی بھی پیشن گوئی فرمائی اور یہ دونوں حضرات اسی پیشن گوئی کے مطابق جنگ جمل میں مظلومانہ شہید ہوئے۔

2082Maarif-ul-Hadith

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الجَنَّةِ. (رواه الترمذى)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے سنا آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ طلحہؓ اور زبیرؓ جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں البتہ یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ ان دونوں حضرات (حضرت طلحہؓ و زبیرؓ) رسول اللہ ﷺ سے سنے ہوئے فضائل خاص طور سے آپ ﷺ کے وہ ارشادات جن میں ان دونوں بزرگوں کے شہید فی سبیل اللہ اور جنتی ہونا ذکر فرمایا گیا ہے خاص اہتمام سے بیان فرماتے تھے چنانچہ یہی حدیث جس میں ان دونوں حضرات کی یہ عظیم ترین فضیلت بیان ہوئی ہے کہ “یہ دونوں جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے، اس کے لئے حضرت علیؓ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا کہ “سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ” کہ میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ پیرایہ بیان اسی خاص اہتمام کا مظہر ہے اور اس کی خاص وجہ غالباً یہ تھی کہ ان دونوں حضرات کو جنگ جمل کے موقعہ پر جب کہ یہ دونوں جنگ سے کنارہ کش ہو گئے تھے حضرت علی مرتضیٰؓ کے لشکر کے بعض بدبختوں نے ان کو شہید کیا تھا۔ اس جنگ کے بارے میں اتنی وضاحت یہاں بھی کر دینا ضروری ہے کہ یہ اس دنیا کی وہ عجیب و غریب اور عبرت آموز جنت تھی جس کے دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک بھی جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا، دونوں ایک دوسرے کے فضائل و مناقب سے واقف اور ان کے معترف تھے، لیکن کچھ شیاطین الانس عبداللہ بن سبا اور اس کے چیلوں نے اپنی شیطنت و فریب کاری سے رات کے اندھیرے میں دونوں فریقوں میں جنگ کرا دینے میں کامیابی حاصل کر لی ..... بہرحال یہ جنگ بلا ارادہ محض دھوکہ میں ہوئی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کو انتہائی رنج و افسوس ہوا، اور وہ برابر استغفار اور تلافی کی ممکن کوشش کرتے رہے۔ اس جنگ کے بارے میں تفصیلات ان کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

2083Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ الْاَنْصَارِىِّ قَالَ: سَأَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ: «هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُهُ إِلَى حَرِّ الْجَبَلِ، وَعَلَيْهِ عَكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَهَرَبْتُ إِلَيْهِ لِأَمْنَعَهُ، فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ» . فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: ظَفِرَتْ يَمِينُكَ، أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ؟ قَالَ: أَمَّا هَذَا لِأَرْطاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ. قُلْتُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه ابن منذه فى مسنده والطبرانى فى المعجم الكبير و ابو نعيم فى الحلية)

حضرت حارث بن صمہ انصاریؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد کے دن جب کہ رسول اللہ ﷺ گھاٹی میں تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: “کہ تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے؟” میں نے عرض کیا “ہاں یا رسول اللہ! مین نے ان کو دیکھا ہے، پہاڑ کے سیاہ پتھروں والے حصے کی طرف، اور ان پر حملہ کر رہی تھی مشرکین کی ایک جماعت، تو میں نے ارادہ کیا ان کی پاس جانے کا تا کہ میں ان کو بچاؤں کہ اسی وقت میری نگاہ آپ ﷺ پر پڑی، تو میں آپ کی طرف چلا آیا!”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے فرشتے عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔” (حارث کہتے ہیں کہ) حضور ﷺ سے یہ بات سننے کے بعد میں عبدالرحمٰن بن عوف کی طرف لوٹ آیا، تو می نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں ان کے پاس پڑی تھیں تو میں نے ان سے کہا۔ کامیاب اور فتح یاب رہیں تمہارے ہاتھ، کیا ان سب کو تم نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کہ یہ ارطاہ بن عبد شرحبیل اور یہ دو ان کو تو میں نے قتل کیا ہے، باقی یہ چار میں نے نہیں دیکھا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے۔ (ان کا یہ جواب سن کر) میں نے کہا کہ “صادق ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ ”۔ (روایت کیا اس کو ابن منذہ نے اپنے مسند میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں) تشریح حدیث کا مطلب صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ غزوہ احد کے بارے میں مختصراً کچھ ذکر کر جائے۔ غزوہ بدر جو رمضان المبارک ۲؁ھ میں ہوا تھا م، اس میں مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے، اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا، کیوں کہ مدینہ سے کسی باقاعدہ جنگ کے ارادہ سے چلے ہی نہ تھے، اس لئے جو سامان جنگ ساتھ لے سکتے تھے وہ بھی ساتھ نہیں اور مکہ کے مشرکین کے لشکر کی تعداد تین گنی سے بھی زیادہ ایک ہزار تھی، وہ جنگ ہی کے ارادہ سے پورے سامان جنگ کے ساتھ لیس ہو کر آئے تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خاص غیبی مدد سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی، مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں سے قتل ہو کر مشرکین مکہ میں ستر (۷۰) جہنم رسید ہوئے جن میں ابو جہل اور اس جیسے کئی دوسرے قریشی سردار بھی تھے اور ستر (۷۰) کو قیدی بنا لیا گیا، باقی سب نے شکست کھا کر راہ فرار اختیار کی جنگ کے اس نتیجہ نے مکہ کے خاص ان مشرکوں میں جو جنگ میں شریک نہیں تھے، مسلمانوں کے خلاف سخت غیظ و غضب کی آگ بھڑکا دی اور انہوں نے طے کیا کہ ہمیں اس کا انتقام لینا ہے اور پوری تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینا ہے، چنانچہ پورے ایک سال تک ان لوگوں نے تیاری کی اور واقعہ بدر کے ٹھیک ایک سال بعد شوال ۳؁ھ میں تین ہزار کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں مسلمانوں کو ختم کر دینے کے ناپاک ارادہ کے ساتھ روانہ ہوا اور منزلیں طے کرتا ہوا مدینہ کی قریب پہنچ گیا، رسول اللہ ﷺ جاں نثار صحابہؓ کو ساتھ لے کر مقابلہ کے لئے تشریف لائے، آپ کے ساتھ مجاہدین کی تعداد صرف سو تھی ..... مدینہ کی آبادی سے دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر احد پہاڑ ہے، اس کے دامن میں ایک وسیع میدان ہے آپ ﷺ نے وہیں صحابہؓ کے لشکر کو اس طرف صف آرا کیا کہ احد پہاڑ ان کی پشت پر تھا جس کی وجہ سے یہ اطمینان تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے گا، لیکن پہاڑ میں ایک درہ ایسا تھا کہ دشمن اس درہ سے آ کر پیچھے حملہ کر سکتا تھا، اس کے لئے آپ ﷺ نے یہ انتظام فرمایا کہ پچاس تیر اندازوں کی ایک جماعت کو درہ کے قریب کی ایک پہاڑی پر متعین کیا اور عبداللہ بن جبیرؓ کو (جو تیر اندازی میں خود بھی خاص مہارت رکھتے تھے) اس دستہ کا امیر مقرر فرمایا اور ہدایت فرما دی کہ “وہ اسی جگہ رہیں” آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ دشمن لشکر اس درہ کی طرف سے آ کر حملہ نہ کر سکے۔ جنگ شروع ہوئی پہلے ہی مرحلہ میں مسلمان مجاہدین نے ایسے زور کا حملہ کیا کہ دشمن لشکر (جس کی تعداد چار گنا سے زیادہ تھی) کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا، یہاں تک کہ مجاہدین نے سمجھ لیا کہ جنگ ہماری فتح پر ختم ہو گئی اور وہ دشمن کا چھوڑا ہوا مال غنیمت بٹورنے میں مشغول ہو گئے ..... درہ پر متعین کی ہوئی تیر اندازوں کی جماعت نے جب یہ حال دیکھا تو ان میں سے بھی بہت سے مال غنیمت بٹورنے کے لئے پہاڑی سے نیچے اتر کر میدان کی طرف آنے لگے، ان کے امیر عبداللہ بن جبیرؓ نے ان کو روکنا چاہا اور یاد دلایا کہ حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی تھی کہ “تم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم تو اس وقت تک کے لئے تھا جب تک جنگ جاری ہو، مگر اب جب کہ جنگ ختم ہو گئی، اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، تو ہم یہاں کیوں رہیں، الغرض ان لوگوں نے اپنے امیر کی بات نہیں مانی اور پہاڑی سے نیچے اتر کر یہ بھی مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے، مگر دستہ کے امیر عبداللہ بن جبیر اور چند ساتھی حضور ﷺ کی ہدایت کے مطابق پہاڑی ہی پر رہے ..... خالد بن ولید جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مشرکین کے ایک دستہ کو ساتھ لے کر اس درہ کی طرف سے آ گئے، عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے جو پہاڑی پر تھے، روکنا چاہا، لیکن وہ نہیں روک سکے اور سب کے سب شہید ہو گئے، خالد بن ولید نے اپنے دستہ کے ساتھ درہ میں سے آ کر پیچھے سے اچانک مسلمانوں پر ایسے وقت میں حملہ کر دیا جب وہ لوگ غلطی سے جنگ ختم سمجھ چکے تھے، اس حملہ نے بہت سے مسلمانوں کو حواس باختہ کر دیا اور وہ جم کر اور منظم ہو کر اس حملہ کا مقابلہ نہیں کر سکے، ان میں افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی، متعدد جلیل القدر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے، حتیٰ کہ خود حضور ﷺ بھی شدید طور پر زخمی ہوگئے۔ (اس صورت حال کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے) ..... پھر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پانسہ پلٹا، صحابہ کرام جو منتشر ہو گئی تھے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کی خبر نہ تھی، یہ معلوم ہونے کے بعد کہ حضور ﷺ بفضلہٖ تعالیٰ زندہ سلامت ہیں، پھر منظم ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے پھر دشمن کو شکست دی ..... مندرجہ بالا حارث بن صمہؓ کی اس حدیث کا تعلق بظاہر اسی مرحلہ سے ہے، معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبدالرحمٰن بن عوف کا یہ حال منکشف کیا گیا کہ وہ مشرکین سے جنگ کر رہے ہیں اور اللہ کے فرشتے ان کے ساتھ شریک جنگ ہیں، اور ان کی مدد کر رہے ہیں آپ نے اسی بنا پر حارث بن صمہؓ سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بارے میں دریافت کیا، اور انہوں نے وہ جواب دیا جو حدیث میں مذکور ہوا، ان کا جواب سن کر حضور ﷺ نے فرمایا “أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ” (معلوم ہونا چاہئے کہ فرشتے ان کے ساتھ ہو کر جنگ کر رہے ہیں) حضور ﷺ سے یہ سننے کے بعد حارث بن صمہؓ پھر وہاں پہنچے جہاں انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اس حال میں دیکھا تھا کہ مشرکین کی ایک جماعت ان پر حملہ کر رہی ہے تو انہوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ سات مشرکوں کی لاشیں پڑیں ہیں، عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے انہوں نے دریافت کیا، کیا ان سب کو تم نے ہی جہنم رسید کیا ہے؟ تو انہوں نے سات میں سے تین کے بارے میں کہا کہ “ان کو تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے میں نے ہی قتل کیا ہے، باقی چار کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ ان کو کس نے قتل کیا، ان کا یہ جواب سن کر حارث بن صمہؓ کہہ اٹھے کہ: “صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ” مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ “عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ساتھ فرشتے جنگ کر رہے ہیں، اس کو میں نے آنکھوں سے دیکھ لیا اور میرا ایمان تازہ ہو گیا”۔ اس حدیث سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی یہ خصوصیت معلوم ہوئی کہ وہ جنگ احد کے خاص آزمائشی وقت میں بھی استقامت کے ساتھ مشرکین سے جنگ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے تھے ..... بلاشبہ یہ واقعہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے خاص فضائل میں سے ہے، نیز حضور ﷺ نے ان کے بارے میں جو فرمایا تھا کہ “فرشتے جنگ میں ان کی مدد کر رہے ہیں” یقیناً یہ حضور ﷺ کا معجزہ تھا۔

2084Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَلَغَنِيْ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ جُرِحَ يَوْمَ أُحُدٍ إحْدَى وَعِشْرِين جِرَاحَةٌ ، وَجُرْح فِي رِجْلَه فَكَان يَعْرُجُ مِنْهَا. (أبو نعيم وابن عساكر).

ابراہیم بن سعد (تابعی) سے روایت ہے انہو نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو غزوہ احد میں (تیروں اور تلواروں کے) اکیس زخم آئے تھے، ان کا پاؤں بھی زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے تھے۔ (ابو نعیم ابن عساکر) تشریح معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس گزوہ اھد میں شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، بلاشبہ بڑے خوش نصیب اور بلند مرتبہ ہیں وہ سب حضرات جو اس غزوہ میں شہید یا شدید طور پر زخمی ہوئے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی انہیں خوش نصیبوں میں سے ہیں۔

2085Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ الْمُغِيرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِالنَّاس فَإِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِم ، فَلَمَّا رَآهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَمَّ أَنْ يَرْجِعَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ! فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ مَا أَدْرَكْنَا وقضينا مَا فَاتَنَا . (رواه الضياء المقدسى فى المختاره)

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے، وہ آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی لائے، آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اس وضو میں خفین پر مسح کیا پھر آپ لوگون کے ساتھ نماز کی جماعت میں شریک ہوئے، اس وقت حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے، تو جب عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے آپ ﷺ کو دیکھا، ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ کر جماعت میں شامل ہو جائیں، (اور باقی نماز حضور ﷺ پڑھائیں) لیکن آنحضرت ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہ پر رہو۔ (پیچھے نہ ہٹو .... آگے حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تو ہم دونوں نے نماز باجماعت کا جو حصہ پایا وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں پڑھا، اور جو فوت ہو گیا تو وہ ہم نے بعد میں ادا کیا۔ (مختار لضیاء المقدسی) تشریح اس روایت میں واقعہ کے بیان میں انتہائی درجہ کے اجمال اور اختصار سے کام لیا گیا ہے، واقعہ کی پوری تفصیل حضرت مغیرہؓ ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتی ہے جو سنن سعید بن منصور کے حوالہ سے “کنز العمال” میں مندرجہ بالا روایت کے ساتھ ہی درج کی گئی ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی نے مغیرہ بن شعبہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت ابو بکرؓ کے علاوہ کسی اور شخص کی اقتداء میں بھی رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز پڑھی ہے؟ تو مغیرہؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو آپ نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں، تو میں آپ کے ساتھ ہو گیا، پھر آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ میں بھی ساتھیوں سے الگ ہو کر ایک طرف چل دئیے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت دور ہو گئے .... پھر رسول اللہ ﷺ مجھے چھوڑ کر ایک طرف چلے گئے یہاں تک کہ میری نظر سے بھی آپ ﷺ غائب ہو گئے، کچھ دیر کے بعد فارغ ہو کر آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ “ہاں ہے” پھر میں اپنے نے مشکیزہ سے پانی لیا جو میری سواری کے کجاوے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ بہت اچھی طرح دھوئے اور پانی میں آپ ﷺ کے ہاتھوں پر ڈالا، پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) دھوئے اور سر کا مسح فرمایا اور خفین پر بھی مسح فرمایا پھر ہم دونوں اپنی سواریوں پر سوار ہو کر واپس آئے اور ایسے وقت پہنچے کہ فجر کی جماعت شروع ہو چکی تھی، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ امام کی حیثیت سے نماز پڑھا رہے تھے وہ دوسری رکعت میں تھے تو میں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بتلانا چاہا (یعنی یہ کہ حضور ﷺ تشریف لے آئے ہیں) تو آپ ﷺ نے مجھے منع فرما دیا، اور دوسری رکعت جو ہم نے پائی تھی وہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی، اور پہلی رکعت جو ہمارے آنے سے پہلے ہو چکی تھی اس کو ہم دونوں نے بعد میں ادا کیا۔ اسی واقعہ کی دوسری بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ فجر کی نماز میں جب زیادہ تاخیر ہونے لگی، (اور آپ ﷺ کے سفر کے رفقاء میں سے کسی کو علم نہیں تھا کہ حضور ﷺ کدھر تشریف لے گئے ہیں اور کب تک تشریف لائیں گے) تو مشورہ سے طے ہوا کہ اب نماز ادا کر لی جائے اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو امام بنا کر نماز شروع کر دی، تو جیسا کہ مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہو چکا، ایک رکعت ہو چکی تھی کہ آنحضرت ﷺ اور مغیرہ بن شعبہؓ پہنچے اور جماعت میں شامل ہو کر دوسری رکعت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی اقتداء میں ادا کی اور پہلی رکعت جو فوت ہو چکی تھی اس کو بعد میں ادا کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو یہ خاص امتیازی فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی اقتداء میں نماز ادا فرمائی اور انہوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو پیچھے ہٹنے سے منع فرما دیا۔

2086Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» (رواه احمد)

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ اپنی ازواج سے فرماتے تھے، کہ جو شخص میرے بعد اپنی دولت سے تمہاری بھرپور خدمت کرے گا وہ ہے صادق الایمان اور صاحب احسان بندہ، اے اللہ! عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کے سلسبیل سے سیراب فرما۔ (مسند احمد) تشریح حضرت ام سلمہ ؓ کی اس حدیث سے “سلسبیل” کا لفظ آیا ہے، وہ جنت کا ایک خاص اور نفیس ترین چشمہ ہے ..... قرآن مجید سورہ دہر میں فرمایاگیا ہے “عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا” چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ “انبیاء علیہم السلام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی، وہ جو کچھ چھوڑیں وہ فی سبیل اللہ صدقہ ہے، اس لئے فطری طور پر ازواج مطہرات کے لئے از راہِ بشریت یہ فکر و تشویش کی بات ہو سکتی تھی کہ حضور ﷺ کے بعد ہمارا گذارہ کس طرح اور کہاں سے ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کو مطمئن کرنے کے لئے فرمایا کہ “اللہ کا ایک صادق الایمان بندہ جس کی فطرت میں اللہ نے احسان کی صفت خاص طور سے رکھی ہے، تمہاری بھرپور خدمت کرے گا ... آگے آپ ﷺ نے دعائیہ کلمہ میں عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا نام لے کر متعین بھی فرما دیا کہ وہ کون ہو گا ..... ظاہر ہے کہ یہ پیشن گوئی حضور ﷺ کا ایک معجزہ تھا ..... جامع ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے ابو سلمہ سے (جو اکابر تابعین میں سے ہیں) فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے والد عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو جنت کے خاص چمہ “سلسبیل” سے سیراب فرمائے ..... آگے اسی روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنا ایک ایسا قیمتی باغ ازواج مطہرات کی خدمت میں لوجہ اللہ پیش کر دیا تھا جو بعد میں چالیس ہزار مین فروخت ہوا ..... اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ چار لاکھ میں فروخت ہوا تھا ..... بعض شارحین نے ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح کی ہے کہ “چالیس ہزار” سے مراد ہزار دینار ہیں اور “چار لاکھ” سے مراد چار لاکھ درہم ہیں۔ (عہد نبوی میں درہم و دینار کا یہی تناسب تھا)۔

2087Maarif-ul-Hadith

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِأُمّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْف : أَقَالَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : انكحى سَيِّدُ الْمُسْلِمِيْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . (رواه ابن منده وابن عساكر)

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مجمع بن حارثہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ نے عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ سے دریافت کیا تھا: کیا (یہ بات صحیح ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمایا تھا کہ تم عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے نکاح کر لو جو “سید المسلمین” ہیں؟ تو ام کلثوم نے کہا کہ “ہاں، بے شک” (حضور نے مجھ سے یہی ارشاد فرمایا تھا)۔(مسند ابن منذہ و تاریخ ابن عساکر) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو “سید المسلمین” فرمایا تھا، بلاشبہ یہ ان کی اعلیٰ درجہ کی فضیلت و منقبت ہے۔ ؓ وارضاہ۔

2088Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا، رسول خدا ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے جمع کیا ہو اپنے ماں باپ دونوں کو کسی کے لئے (یعنی فداک ابی وامی فرمایا ہو) سوائے سعد بن مالک (یعنی سعد بن ابی وقاصؓ) کے میں نے غزوہ احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (اے سعد! تیر چلاتے رہو اسی طرح، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے اس بیان میں حضرت سعد بن مالک سے مراد “سعد بن ابی وقاص” ہیں، ان کے والد کا نام مالک تھا، ابو وقاص کنیت تھی۔ غزوہ احد کا مختصر حال حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے تذکرہ میں بیان کیا جا چکا ہے، اس غزوہ میں صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات اللہ تعالیٰ کی کاص توفیق سے پوری طرح ثابت قدم رہے، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی ہیں، یہ تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے ...... یہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہی تھے، تیر پر تیر چلا رہے تھے اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا “يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (سعد! تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں اسی طرح تیر چلاتے رہو،) بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ صرف ہمت افزائی نہ تھی، بلکہ بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی انتہائی دلی مسرت اور خوشنودی کا اظہار بھی تھا ..... اور شرح السنہ میں کود حضرت سعد بن ابی وقاص ہی کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی “اللهم اشدد رميته واوجب دعوته” (اے اللہ اپنے اس بندے (سعد) کی تیر اندازی میں قوت و طاقت پیدا فرما دے اور اس کی دعائیں قبول فرما۔) اور جامع ترمذی میں حضرت سعدؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔ “اللهم استجب لسعد اذا دعاك” خداوند، سعد جب تجھ سے کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول فرما لے) ..... حضور ﷺ کی اس دعاو ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سعدؓ جو دعا کرتے وہ عموماً قبول ہی ہوتی، اسی لئے لوگ ان سے اپنے واسطے دعائیں کراتے تھے اور ان کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے۔

2089Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، قَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي»، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلاَحٍ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟»، فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ قَالَ مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ وَقَعَ فِىْ نَفْسِيْ خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فدعا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ َنَامَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو (کسی غزوہ سے) مدینہ تشریف آوری پر (غالباً کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے) رات کو نیند نہیں آ رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: کاش کوئی مرد صالح اس وقت حفاظت کے لئے آ جاتا اسی وقت ہم نے ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا “کون ہے؟” آنے والے شخص نے کہا۔ “میں سعد ہوں” آپ ﷺ نے فرمایا: “تم اس وقت کیوں آئے؟” سعد نے عرض کیا میرے دل میں آپ ﷺ کے متعلق خطرہ پیدا ہوا (کہ مبادا کوئی دشمن آپ کو ایذا پہنچائے) تو میں آپ ﷺ کی حفاظت اور نگہبانی ہی کے ارادہ سے آ گیا ہوں ..... تو آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی، پھر آپ ﷺ (اطمینان سے) سو گئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جب کسی بندہ کو اللہ کے کسی خاص مقبول بندے سے وہ للہی محبت ہو جاتی ہے جس کو “عشق” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کے قلب میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، محب کے قلب پر اس کا اثر پڑتا ہے ..... حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جو واقعہ بیان فرمایا وہ اسی حقیقت کی ایک مثال ہے، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ جو سابقین اولین میں ہیں ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی “عشق” والی محبت تھی، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ کسی وقتی خطرہ کی وجہ سے نیند نہ آنے سے جو کیفیت اور تمنا آپ ﷺ کے دل میں پیدا ہوئی کہ کاش کوئی مرد صالح حفاظت و نگہبانی کے لئے اس وقت آ جاتا تا کہ میں اطمینان سے سو سکتا ..... اس کا اثر سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب پر پڑا، اور وہ تیر، کمان، نیزے وغیرہ سے مسلح ہو کر آپ ﷺ کی حفاظت ہی کی نیت سے آ گئے، بلاشبہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے قلب کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ للہی عاشقانہ تعلق ان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بڑی فضیلت ہے۔

2090Maarif-ul-Hadith

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عَنْ قَيْسِ ابْنِ أَبِىْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِىْ وَقَّاصٍ يَقُولُ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةُ وَوَرَقُ السَّمُرُ، وَإِنَّ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَالَهُ خِلْطٌ» ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْاِسْلَامِ، لَقَدْ خِبْتُ، إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي، وَكَانُوْا وَشَواَبِهِ اِلَى عُمَرَ ، وَقَالُوْا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّىْ. (رواه البخارى ومسلم)

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے (جو تابعی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ سنا میں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے فرماتے تھے: “عربوں میں سے میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں (اسلام کے دشمنوں پر) تیر اندازی کی اور میں نے دیکھا اپنے کو اور اپنے ساتھی دوسرے صحابہ کو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (دشمنانِ اسلام سے) جہاد کرتے تھے ایسی حالت میں کہ ہمارے لئے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوتا تھا، سوائے ببول (کیکر) کی پھلیوں اور اسی کے پتوں کے (ببال کی ان پھلیوں اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے) ہم لوگوں کو اجابت ہوتی تھی بکریوں کی مینگنی کی طرح، (بالکل خشک) جس میں کوئی چیک نہیں ہوتی تھی، پھر اب بنو اسد مجھے سرزنش کرنے لگے ہیں، اسلام کے بارے میں پھر تو میں خائب و نامراد رہ گیا اور میرے سارے عمل غارت گئے (واقعہ یہ ہوا تھا کہ) بنو اسد کے لوگوں نے اس بات کی شکایت کی تھی حضرت عمر ؓ سے کہ یہ نماز اچھی نہیں پڑھتے۔”(صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو کوفہ کا ولی و حاکم مقرر فرمایا تھا، قاعدہ کے مطابق وہی نماز کی امامت بھی فرماتے تھے ...... حضرت زبیر بن عوام کے پردادا کا نام اسد ہے اسی وجہ سے حضرت زبیرؓ کے پورے خاندان کو “بنو اسد” کہا جاتا تھا۔ اسی خاندان کے کچھ لوگوں نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں شکایت بھیجی کہ سعد نماز اچھی نہیں پڑھتے حضرت عمر ؓ نے اس بارے میں حضرت سعدؓ کو لکھا کہ تمہارے بارے میں یہ شکایت کی گئی ہے، جب یہ بات حضرت سعدؓ تک پہنچی تو یہ فطری طور پر سخت متاثر ہوئے اور وہ فرمایا جو اس روایت میں قیس بن حازم سے نقل کیا گیا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے دشمنانِ اسلام پر تیر اندازی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پہلے ہی سال صحابہ کرامؓ ایک جماعت کو جس میں سعد بن ابی وقاصؓ بھی تھے، رسول اللہ ﷺ نے جہاد کے لئے روانہ فرمایا، اسی غزوہ میں سعد بن ابی وقاصؓ نے تیر اندازی کی، جہاد اسلامی کی تاریخ میں یہ پہلی تیر اندازی تھی، اسی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ اللہ کی توفیق سے راہ خدا میں تیر سب سے پہلے میں نے ہی چلایا۔ آگے حضرت سعدؓ نے اپنا اور اپنے ساتھ والے مومنین سابقین کے مجاہدوں اور قربانی کا یہ حال بیان فرمایا کہ “ہم ایسی بےسرو سامانی کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کفار سے جہاد کرتے تھے کہ ہمارے پاس انسانی خوراک اور غذا کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، ہم ببول (کیکر) کے درخت کی پھلیوں، اور اس کے پتوں کو بطور غذا استعمال کرتے تھے، (جو دراصل جنگل میں چرنے والی بکریاں عام طور سے کھاتی ہیں) اور پھر اسی وجہ سے ہم لوگوں کو بکریوں کی مینگنیوں ہی طرح اجابت ہوتی تھی۔ اپنا یہ حال بیان فرمانے کے بعد حضرت سعدؓ نے دلی دکھ کے ساتھ فرمایا کہ اب یہ بنو اسد کے کچھ لوگ میری سرزنش کرتے ہیں اسلام کے بارے میں، تو اگر ان کی شکایت صحیح ہو تو پھر تو میں بالکل ہی ناکام اور نامراد رہ گیا، اور میرے سارے عمل غارت و ضائع ہو گئے۔ اگرچہ شکایت کرنے والوں نے حضرت عمرؓ سے حضرت سعدؓ کے نماز اچھی طرح نہ پڑھنے ہی کی شکایت کی تھی، لیکن نماز چونکہ اسلام کا اولین رکن ہے، اور اسلام کے قالب کی گویا روح اور جان ہے۔ اس لئے حضرت سعدؓ نے نماز اچھی نہ پڑھنے کی شکایت کو ناقص الاسلام ہونے کی شکایت سے تعبیر فرمایا، (تُعَزِّرُنِي عَلَى الْاِسْلَامِ)...... آگے اسی روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کو شکایت کے جواب میں لکھا کہ میں ویسی ہی نماز پڑھاتا ہوں، جیسے حضور ﷺ کو نماز پڑھاتے دیکھا تھا، پہلی دو رکعتوں میں قرأت طویل کرتا ہوں اور بعد کی دو رکعتوں میں مختصر۔ حضرت عمر ؓ نے جواب میں ان کو لکھا۔ “میرا بھی تمہارے بارے میں یہی خیال تھا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود اس شکایت کو صحیح نہیں سمجھا تھا، لیکن میں نے اصول و ضابطہ کے مطابق ضرور سمجھا کہ تم کو اس کی اطلاع کروکں، اور حقیقت حال دریافت کروں”۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بنو اسد کے لوگوں کی شکایت کو رد فرما دیا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اللہ کا کوئی بندہ کسی وقت ضروری سمجھے تو اپنی اسلامی خدمات اور اس سلسلہ کے ان مجاہدات کا بیان کرنا جن سے اس کی بڑائی ثابت ہو جائز ہے، اور یہ وہ تفاخر اور خودستائی نہیں ہے جس کی ممانعت ہے۔ حضرت سعدؓ سے متعلق یہ چند باتیں بھی قابل ذکر ہیں، جو صحیح احادیث روایت میں متفرق طور پر بیان کی گئیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپؓ نے خود بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ایمان و اسلام کی دعوت کو قبول کرنے والا تیسرا اادمی ہوں، مجھ سے پہلے اللہ کی صرف دو بندوں نے اسلام قبول کیا تھا ..... وہ اس وقت صرف سترہ سالہ نوجوان تھے۔ ان کی والدہ نے ان پر انتہائی درجہ دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے باپ دادا کا مشرکانہ دین و مذہب چھوڑ کر اس نئے دین (اسلام)کو قبول نہ کریں، جب حضرت سعدؓ ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے قسم کھا لی کہ جب تک تو میری بات نہیں مانے گا میں نہ کچھ کھاؤں کی نہ کچھ پیوں گی۔ اسی کے مطابق انہوں نے عمل شروع کر دیا، کئی دن تک نہ کچھ کھایا نہ پیا، اس درمیان میں تین دفعہ ان پر بےہوشی بھی طاری ہوئی۔ لیکن حضرت سعدؓ ان کو منانے کی کوشش تو کرتے رہے، مگر اسلام چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے .... صحیح مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ اسی موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ “وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا” (1) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا یہ واقعہ بھی خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بیعت تو کر لی تھی، لیکن جب اس مظلومانہ شہادت کے نتیجہ ہی میں باہمی خانہ جنگی اور قتل و قتال کا فتنہ شروع ہوا تو حضرت سعدؓ نے اپنے کو اس سے بالکل الگ اور دور رہنے کا فیصلہ کر لیا، چنانچہ جب حضرت علی مرتضیٰ ؓ یا ان کے بعض خاص رفیقوں نے حضرت سعدؓ کو جنگ میں اپنا ساتھ دینے کے لئے فرمایا یا تو انہوں نے کہا کہ: “مجھ کو ایسی تلوار لا کر دے دو کہ اس سے میں کافر پر وار کروں تو اس کو قتل کر دے اور اگر وار مومن پر ہو تو کوئی اثر نہ کرے” اور پھر اس خانہ جنگی اور قتل و قتال سے الگ رہنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مدینہ طیبہ کی آبادی سے فاصلہ پر وادی عقیق میں ان کی جو زمین تھی، اس پر مکان بنا لیا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے الگ تھلگ وہیں پر رہائش اختیار فرما لی، چاہتے تھے کہ باہمی خانہ جنگی کی باتیں بھی ان تک نہ پہنچیں۔ اسلامی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ عراق اور پورا ملک فارس انہیں کی قیادت میں فتح ہوا۔ راجح قول کے مطابق حضرت معاویہؓ کے دور حکومت میں ۵۵؁ھ میں اپنے وادی عقیق والے مکان ہی میں وفات پائی وہاں سے جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ہی ہیں۔ ؓ وراضاہ۔

2091Maarif-ul-Hadith

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى العَاشِرِ لَمْ آثَمْ. قِيلَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ، فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. قِيلَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. قِيلَ فَمَنِ العَاشِرُ؟ قَالَ: أَنَا. (رواه الترمذى)

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ:میں نو حضرات کے بارے میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ “جنتی” ہیں اور اگر ایک دسویں آدمی کے بارے میں یہی شہادت دوں کہ وہ جنتی ہیں تو گنہگار نہ ہون گا، آپ سے کہا گیا: “یہ بات کس طرح ہے؟” یعنی آپ کس بنیاد پر یہ بات فرما رہے ہیں؟ تو اس کے جواب میں) حضرت سعیدؓ نے بیان کیا: کہ ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے، (پہاڑ میں جنبش پیدا ہوئی، اور وہ حرکت کرنے لگا تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے نبی ہیں یا صدیق یا شہید ..... (اس کے بعد حضرت سعیدؓ سے دریافت کیا گیا “وہ کون حضرات تھے؟” تو انہوں نے بتایا۔ ایک خود رسول اللہ ﷺ (آپ کے علاوہ) ۲۔ ابو بکر، اور ۳۔ عمر اور ۴۔ عثمان اور ۵۔ علی اور ۶۔ طلحہ اور۷۔ زبیر اور۸۔ سعد (یعنی ابن ابی وقاصؓ) اور ۹۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ ” لوگوں نے آپ سے کہا: بتلائیے کہ دسواں آدمی کون ہے؟ تو فرمایا: “خود یہ بندہ” ..... (جامع ترمذی) تشریح عشرہ مبشرہ سے متعلق جامع ترمذی ہی کے حوالہ سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وہ روایت پہلے گذر چکی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دس اصحاب کرام کو نام لے کر ان سب کے بارے میں جنت کی بشارت دی ہے، ان میں نو حضرات تو وہی ہیں جن کے اسماء گرامی حضرت سعید بن زیدؓ کی زیر تشریح حدیث میں ذکر کئے گئے ہین اور دسواں نام حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا ہے، اس عاجز (راقم سطور) کا خیال ہے کہ جبل حراء کا جو واقعہ حضرت سعید بن زیدؓ نے بیان فرمایا ہے، اس میں ابو عبیدہ بن جراح حضور ﷺ کے ساتھ نہیں تھے۔ ایک دوسرا فرق ان دونوں روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ والی روایت میں آنحضرت ﷺ نے دس صحابہ کا نام لے کر ان کے “جنتی” ہونے کی بشارت دی ہے ..... اور حضرت سعید بن زیدؓ کی اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے کسی کا نام لے کر کچھ نہیں فرمایا، بلکہ صرف یہ فرمایا: “اے حراء ساکن ہو جا اس وقت تیرے اوپر یا تو اللہ کے ایک نبی ہیں، یا صدیق یا شہید ..... آگے حضرت سعیدؓ کا بیان ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے نو صحابی اور تھے، جن کے اسماء گرامی حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں۔ حضرت سعید بن زیدؓ نے حضور ﷺ کے ارشاد کی بنیاد پر یقین کر لیا کہ یہ سب حضرات بلابشہ “جنتی” ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے “جنتی” ہونے کی شہادت دی ہے، کیوں کہ اللہ کے نبی و رسول اور صدیق اور شہید کے “جنتی” ہونے میں کوئی شبہ نہیں ..... جن حضرات کے اسماء گرامی کا ذکر حضرت سعید بن زیدؓ نے کیا ہے، ان میں خود رسول اللہ ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور حضرت ابو بکر صدیق بلکہ “صدیق اکبر” ہیں اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، یہ پانچوں شہید ہوئے، باقی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ یہ تینوں بھی بلاشبہ “صدیقین” میں ہیں۔ حضرت سعید بن زیدؓ کا عنداللہ کیا مقام و مرتبہ تھا، وہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو جاتا ہے جو اسی سلسلہ “معارف الحدیث” کتاب المعاملات، غصب کے بیان میں ذکر کی جا چکی ہے، جس کے ایک راوی خود یہ حضرت سعید بن زیدؓ بھی ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہاں بھی نقل کر دیا جائے۔ اور وہ یہ ہے۔ “ایک عورت نے (جس کا نام ارویٰ تھا) حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں انہی حضرت سعید بن زید ؓ کے خلاف مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ “انہوں نے میری فلاں زمین دبا لی ہے۔ حضرت سعید ؓ کو اس جھوٹے الزام سے بڑا صدمہ پہنچا، انہوں نے مروان سے کہا: “قَالَ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»” ترجمہ: کہا کیا میں اس عورت کی زمین دباؤں گا اور غصب کروں گا؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ “جس شخص نے ظالمانہ طور پر کسی کی ایک بالشت بھر زمین بھی غصب کر لی تو قیامت کے دن زمین کا وہ غصب کیا ہوا ٹکڑا سالوں زمین تک طوق بنا کر اس ظالم کے گلے میں ڈالا جائے گا”۔ یہ روایت حضرت سعیدؓ نے دل کے کچھ ایسے تاثر کے ساتھ اور ایسے انداز سے کہی کہ خود مروان بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہ “اب میں آپ سے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں مانگتا ..... اس کے بعد حضرت سعید ؓ نے (دکھے ہوئے دل سے) بددعا کی کہ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے تو اس کو آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے، اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے”۔ (واقعہ کے راوی حضرت عروہ کہتے ہیں کہ) “پھر ایسا ہی ہوا، میں نے خود اس عورت کو دیکھا ہے وہ آخر عمر میں نابینا ہو گئی، اور خود کہا کرتی تھی کہ “سعید بن زیدؓ کی بددعا سے میرا یہ حال ہوا ہے، اور پھر ایسا ہوا کہ وہ ایک دن اپنی زمین ہی میں چلی جا رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ اس واقعہ سے سبق لینے کی توفیق دے۔