ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ، وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ» (رواه البيهقي فى شعب الايمان)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ “وہ شخص مومن نہیں ہے کہ جو خود شکم سیر ہو کر کھائے اور اس کے برابر میں رہنے والا اس کا پڑوسی فاقہ سے ہو ”۔
تشریح
یعنی اپنے پڑوسی کی بھوک اور فاقہ سے بے نیاز اور لاپروا ہو کر اپنا پیٹ بھرنے والا آدمی (اگرچہ وہ ستر پشتوں کا مسلمان ہو) حقیقتِ ایمان سے بے نصیب ہے، اور سنگدلی اور خود غرضی کی یہ کیفیت شانِ ایمان کے بالکل منافی ہے۔
(ہم مسلمانوں کا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اور عام بندگانِ خدا کے ساتھ جو معاملہ اور برتاؤ ہے اس کو سامنے رکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان ارشادات کی روشنی میں ذرا ہم اپنے ایمانوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ کی ان احادیث کی رو سے ہمارا مقام کیا ہے اور ہم کہاں ہیں)۔
ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مسلمانوں میں زیادہ کامل ایمان اُس کا ہے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں”۔ (ابو داؤد، دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کمال ایمان کا انحصار حسنِ اخلاق پر ہے، پس اخلاق میں جو جتنا بلند ہو گا، اسی قدر اس کا ایمان کامل ہو گا، یا اسی کو یوں کہہ لیجئے کہ حسنِ اخلاق کمالِ ایمان کا لازمی نتیجہ اور ثمرہ ہے، لہذا جس شخص کا ایمان جتنا کامل ہو گا، اسی کی نسبت سے اسکے اخلاق بلند ہوں گے۔ یہ نہں ہو سکتا کہ کسی شخص کو ایمان کی حقیقت تو نصیب ہو، لیکن اُس کے اخلاق اچھے نہ ہوں۔
ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ.(رواه ابن ماجة والترمذى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں کا تارک ہو”۔ (رواہ ابن ماجہ، ترمذی، شعب الایمان للبیھقی)
تشریح
انسان اشرف المخلوقات ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت قیمتی بنایا ہے، اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان کو اس وقت کا اور صلاحیتوں کا جو سرمایا دیا گیا ہے، وہ اس کو بالکل ضائع نہ کرے، بلکہ صحیح طور سے اس کو استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ ترقی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور قُرب حاصل کرے۔۔۔ یہی دین کی تمام تعلیمات کا حاصل اور لبِ لباب ہے، اور یہی ایمان و اسلام کا مقصد ہے، اس لیے جو خوش نصیب یہ چاہے کہ اُس کو ایمان کا کمال حاصل ہو اور اُس کے اسلام کے حسن پر کوئی داغ دھبہ نہ ہو، تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ کھلے گناہوں اور بداخلاقیوں کے علاوہ تمام فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں سے بھی اپنے کو بچائے رکھے، اور اپنے وقت اور اپنی تمام خداداد قوتوں اور صلاحیتوں کو بس ان ہی کاموں میں لگائے جن میں خیر اور منفعت کا کوئی پہلو ہو، یعنی جو معاد یا معاش کے لحاظ سے ضروری یا مفید ہوں۔۔۔ یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔
جو لوگ غفلت سے لایعنی باتوں اور بے حاصل چیزوں میں اپنا وقت اوراپنی قوتیں صرف کرتے ہیں، وہ نادان جانتے نہیں کہ اللہ نے ان کو کتنا قیمتی بنایا ہے، اور وہ اپنے کیسے بیش بہا خزانہ کو مٹی میں ملاتے ہیں، اس حقیقت کو جنہوں نے سمجھ لیا ہے، بس وہی دانا اور عارف ہیں۔
ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ» (رواه مسلم)
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ نے جو پیغمبر بھی مجھ سے پہلے کس امت میں بھیجا تو اس کے کچھ حواری اور لائق اصحاب ہوتے تھے، جو اس کے طریقے پر چلتے، اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے نالائق پسماندگان ان کے جانشین ہوتے تھے، اور ان کی حالت یہ ہوتی تھی کہ وہ کہتے تھے اور خود وہ کام نہیں کرتے تھے، یا مطلب یہ ہے کہ کرنے کے جو کام، وہ نہیں کرتے تھے ان کے متعلق لوگوں سے کہتے تھے، کہ ہم کرتے ہیں، گویا اپنی مشخییت اور اپنا تقدس قائم رکھنے کے لیے وہ جھوٹ بھی بولتے اور جن کاموں کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا، ان کو کرتے تھے (یعنی اپنے پیغمبر کی سنتوں اور اس کے اوامر و احکام پر تو وہ عامل نہ تھے، مگر وہ معصیات و بدعات جن کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا ان کو خوب کرتے تھے) تو جس نے ان کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا وہ مومن ہے، اور جس نے (بدرجہ مجبوری) صرف زبان ہی سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے، اور جس نے (جہاد باللسان سے بھی عاجز رہ کر) صرف دل ہی سے ان کے خلاف جہاد کیا (یعنی دل میں ان سے نفرت کی اور ان کے خلاف غیظ و غضب رکھا) تو وہ بھی مومن ہے، لیکن اسکے بغیر رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہے”۔
تشریح
حدیث کا مطلب اور اس کی روح یہی ہے کہ انبیاءؑ اور بزرگان دین کے جانشینوں اور نام لیواؤں میں جو غلط کار اور بدکردار ہوں، جو دوسروں کو تو اعمالِ خیر کی دعوت دیتے ہوں، لیکن خود بےعمل اور بد عمل ہوں، ان کے خلاف حسبِ استطاعت ہاتھ سے یا زبان سے جہاد کرنا اور کم از کم دل میں اس جہاد کا جذبہ رکھنا ایمان کے خاص شرائط اور لوازم میں سے ہے، اور جو شخص اپنے دل میں بھی اس جہاد کا جذبہ نہ رکھتا ہو، اس کا دل ایمان کی حرارت اور اس کے سوز سے گویا بالکل ہی خالی ہے۔۔۔ لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ کا یہی مطلب ہے، اور اگلی حدیث میں اسی کو “أَضْعَفُ الْإِيمَانِ” (ایمان کا ضعیف ترین درجہ) فرمایا گیا ہے۔
ملحوظ رہے کہ اس حدیث میں انبیاء علیہم السلام اور بزرگانِ دین کے ناخلف اور نالائق جانشینوں کے خلاف جہاد کا جو حکم ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان کو درست کرنے کی اور صحیح راستے پر لانے کی کوشش کی جائے اور اگر اس سے مایوسی ہو تو ان کے برے اثرات سے اللہ کے بندوں کو بچانے کے لئے ان کی جھوٹی مشخیت اور ان کے موروثی اثر و اقتدار کو ختم کرنے کی جدو جہد کی جائے۔
ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنْ أَبِىْ سَعِيد الْخُدْرِى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» (رواه مسلم)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تم میں سے کوئی بری اور خلاف شرع بات دیکھے، تو لازم ہے کہ اگر طاقت رکھتا ہو، تو اپنے ہاتھ سے (یعنی زور و قوت سے) اس کو بدلنے کی (یعنی درست کرنے کی) کوشش کرے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو پھر اپنی زبان سے اس کو بدلنے کی کوشش کرے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل ہی سے اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ (مسلم)
تشریح
اس سے پہلی حدیث میں ایک خاص طبقے کی بدکاری اور بدکرداری کے خلاف حسب استطاعت جدو جہد کو لازمہ ایمان قرار دیا گیا تھا، اور اس حدیث میں ہر برائی اور ہر شرارت کو روکنے اور اس کو بدل ڈالنے کی بقدر استطاعت سعی و کوشش کا عام حکم فرمایا گیا ہے، اور اوپر والی حدیث کی طرح یہاں بھی اس کے تین درجے بتلائے گئے ہیں۔
۱۔ اگر طاقت و اقتدار حاصل ہو اور اس کے ذریعہ اس برائی کو روکا جا سکتا ہو، تو طاقت استعمال کر کے اس کو روکا جائے۔
۲۔ اگر طاقت و اقتدار اپنے ہاتھ میں نہیں ہے تو زبانی افہام و تفہیم اور پند و نصیحت ہی سے اس کو روکنے کی اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
۳۔ اگر حالات ایسے ناموافق ہیں اور اہلِ دین اس قدر کمزور پوزیشن میں ہیں کہ اس برائی کے خلاف زبان کھولنے کی بھی گنجائش نہیں ہے، تو آخری درجہ یہ ہے کہ دل میں اس کو برا سمجھا جائے اور اس کو مٹانے اور بدل کا جذبہ دل میں رکھا جائے، جس کا فطری نتیجہ کم از کم یہ ہو گا کہ دل اللہ تعالیٰ سے اس کے مٹانے کی دعا کرتا رہے گا، اور تدبیریں بھی سوچا کرے گا۔ اس آخری درجے کو حدیث میں “أَضْعَفُ الْإِيمَانِ” فرمایا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان کا وہ آخری کمزور درجہ ہے، کہ اس کے بعد کوئی اور درجہ ایمان کا ہے ہی نہیں، یہی بات پہلی حدیث میں دوسرے لفظوں میں فرمائی گئی تھی۔
اس حدیث کی رو سے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جو برائیاں اس کے سامنے اس قسم کی ہوں، جو زور و قوت سے روکی جا سکتی ہوں، تو اگر اس کو وہ زور قوت حاصل ہو تو اس کو استعمال کر کے وہ اس برائی کو روکنے کی کوشش کرے، اور اگر زور قوت ہاتھ سے خالی ہو تو پھر زبانی افہام و تفہیم سے کام لے، اور اگر حالات میں اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو پھر کم از کم دل میں اس کے خلاف جذبہ اور سوزش ہی رکھے۔
ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ بہت کم ایسا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ دیا ہو، اور اس میں یہ نہ ارشاد فرمایا ہو کہ: “جس میں امانت کی خصلت نہیں اُس میں ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پابندی نہیں، اس میں دین نہیں”۔ (شعب الایمان للبیھقی)
تشریح
یعنی امانت داری اور عہد کی پابندی سے کسی آدمی کا خالی ہونا دین و ایمان کی حقیقت سے اس کی محرومی اور بے نصیبی کی دلیل ہے، کیوں کہ امانت اور ایفاء عہد ایمان و اسلام کے لوازم میں سے ہیں۔۔۔ جیسا کہ پہلے بھی بعض حدیثوں کی تشریح میں لکھا جا چکا ہے، اس طرح کی حدیثوں کا مقصد و منشا یہ نہیں ہوتا کہ ایسا شخص اسلام کے دائرے سے بالکل نکلا گیا، اور اب اُس پر بجائے اسلام کے کفر کے احکام جاری ہوں گے، بلکہ مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص ایمان کی اصل حقیقت اور اس کے نور سے بے نصیب ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس کا ایمان بہت ہی ناقص درجے کا، اوربے جان ہے۔
ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْغَضَبَ لَيُفْسِدُ الْإِيمَانَ كَمَا يُفْسِدُ الصَّبْرُ الْعَسَلَ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
بہز بن حکیم اپنے والد حکیم کے واسطے سے اپنے دادا معاویہ بن حیدہ قشیری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “غصہ ایمان کو ایسا خراب کر دیتا ہے جیسے کہ ایلوا شہد کو خراب کر دیتا ہے”۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
در حقیقت غصہ ایسی ہی ایمان سوز چیز ہے، جب آدمی پر غصہ سوار ہوتا ہے تو اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے وہ تجاوز کر جاتا ہے، اور اس سے وہ باتیں اور وہ حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جو اُس کے دین کو برباد کر دیتی ہیں اور اللہ کی نظر سے اُس کو گرا دیتی ہیں۔
ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
عَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کے لئے، اور اس کا ساتھ دینے کے لئے چلا اور اُس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔
تشریح
جب ظلم کا ساتھ دینا، اور ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اُس کی کسی قسم کی مدد کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو اسلام سے نکل جانے والا قرار دیا ہے، تو سمجھا جا سکتا ہے کہ خود ظلم ایمان و اسلام کے کس قدر منافی ہے، اور اللہ و رسول کے نزدیک ظالموں کا کیا درجہ ہے۔
ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ " (رواه الترمذى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “مومن لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا، اور نہ فحش گو اور بدکلام ہوتا ہے”۔ (ترمذی و شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بدکلامی اور فحش گوئی اور دوسروں کے خلاف زبان درازی، یہ عادتیں ایمان کے منافی ہیں، اور مسلمان کو ان سے پاک ہونا چاہئے۔
ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
عَنْ صفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قِيلَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَقِيلَ لَهُ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: " لَا " (رواه مالك والبيهقى فى شعب الايمان مرسلا)
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا، کہ: کیا مسلمان بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا، “ہاں ,! (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) ”۔ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: “ہاں ,! (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) ”۔ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان کذاب (یعنی بہت جھوٹا) ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا “نہیں! (یعنی ایمان کے ساتھ بیباکانہ جھوٹ کی ناپاک عادت جمع نہیں ہو سکتی، اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کر سکتا) ”۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بخل اور بزدلی اگرچہ بُری عادتیں ہیں، لیکن یہ دونوں انسان کی کچھ ایسی فطری کمزوریاں ہیں، کہ ایک مسلمان میں بھی یہ ہو سکتی ہیں، لیکن جھوٹ کی عادت میں اور ایمان میں ایسی منافات ہے، کہ یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ» وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ» وَلَا يَغُلُّ اَحَدُكُمْ حِيْنَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاِيَّاكُمْ اِيَّاكُمْ ۔ (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں زنا کرتا کوئی زناکار، جس وقت وہ زنا کرتا ہے اور وہ اس وقت مومن ہو، اور نہیں چوری کرتا کوئی چور جس وقت وہ چوری کرتا ہے اور وہ اس وقت مومن ہو، اور نہیں شراب پیتا کوئی شرابی جب کہ وہ شراب پیتا ہے اور وہ اس وقت مومن ہو، اور نہیں لُوٹتا لُوٹ کا کوئی مال کہ لوگ اُس کی طرف آنکھیں اٹھا اٹھا کر اس کی لوٹ مار کو دیکھتے ہوں جب کہ وہ لوٹتا ہے اور وہ اس وقت مومن ہو، اور نہیں خیانت کرتا کوئی خیانت کرنے والا جب کہ وہ خیانت کرتا ہے اور وہ اس وقت مومن ہو، پس (اے ایمان والو! ان منافی ایمان حرکات سے) اپنے کو بچاؤ! بچاؤ۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
یہ حدیث بخاری و مسلم ہی میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت سے بھی آئی ہے، اور اس میں زنا، چوری، شراب نوشی، لوٹ مار اور خیانت کے علاوہ قتل ناحق کا بھی ذکر ہے، یعنی اس میں ان الفاظ کا اور اضافہ ہے: “وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ” (یعنی نہیں قتل کرتا کوئی قتل کرنے والا کسی کو جب کہ وہ قتل کرتا ہے، اور وہ اس وقت مومن ہو)۔ (بخاری و مسلم)
تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ زنا، چوری، شراب نوشی، قتل و غارت گری، اور خیانت، یہ سب حرکتیں ایمان کے قطعاً منافی ہیں، اور جس وقت کوئی شخص یہ حرکتیں کرتا ہے اُس وقت اس کے دل مین ایمان کا نور بالکل نہیں رہتا، یہ مطلب نہیں ہے، کہ وہ اسلام کے دائرہ سے بالکل نکل کر کافروں مین شامل ہو جاتا ہے۔۔۔ خود امام بخاریؒ نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:
لَا يَكُوْنُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُوْنُ لَهُ نُوْرُ الْاِيْمَانِ (صحيح البخارى كتاب الايمان)
ان گناہوں کا کرنے والا جس وقت کہ یہ گناہ کرتا ہے اُس وقت وہ پورا مومن نہیں ہوتا، اور اس میں ایمان کا نور نہیں رہتا۔
اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ ایمان دل کی جس خاص کیفیت کا نام ہے، وہ اگر جاندار اور بیدار ہو، اور دل اُس کے نور سے روشن ہو تو ہرگز آدمی سے ایسا کوئی گناہ نہیں ہو سکتا، ایسے ناپاک گناہوں کے لیے آدمی کا قدم اس وقت اٹھ سکتا ہے جب کہ دل میں ایمان کی شمع روشن نہ ہو، اور وہ خاص ایمانی کیفیت غائب ہو گئی ہو، یا کسی وجہ سے بے جان اور مضمحل ہو گئی ہو جو آدمی کو گناہوں سے بچانے والی طاقت ہے۔
بہر حال حدیث پڑھنے والے کو یہ اصولی بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اس قسم کی حدیثیں جن میں خاص خاص بداعمالیوں اور بداخلاقیوں کے متعلق فرمایا گیا ہے، کہ جو لوگ ان کے مُرتکب ہوں ان میں ایمان نہیں، یا یہ کہ وہ مومن نہیں، اور اسی طرح وہ ھدیثیں جن میں بعض اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے، کہ جو شخص ان کا تارک ہو وہ ایمان سے خالی اور بے نصیب ہے، یا یہ کہ وہ مومن نہیں ہے، ان کا مقصد و منشا یہ نہیں ہوتا کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے بالکل نکل گیا، اور اب اس پر اسلام کے بجائے کفر کے احکام جاری ہوں گے، اور آخرت میں اس کے ساتھ ٹھیٹ کافروں والا معاملہ ہو گا، بلکہ مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص اُس حقیقی ایمان سے محروم اور بے نصیب ہے جو مسلمانوں کی اصلی شان ہے، اور جو اللہ کو محبوب ہے اور اس کے لیے نحوی ترکیب میں “کاملا” یا “تاما” جیسے الفاظ مقدر ماننے کی بالکل ضرورت نہین، بلکہ ایسا کرنا ایک قسم کی بدذوقی ہے، ہر زبان کا یہ عام محاورہ ہے کہ اگر کسی میں کوئی صفت بہت ناقص اور کمزور درجہ کی ہو تو اُس کو کالعدم قرار دے کر اس کی مطلق نفی کر دی جاتی ہے خاص کر دعوت و خطابت اور ترغیب و ترہیب میں یہی طرزِ بیان زیادہ موزوں، اور زیادہ مفید مطلب ہوتا ہے۔
مثلاً یہی حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے زنا اور چوری اور خونِ ناحق وغیرہ گناہوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ “ان کا کرنے والا جس وقت یہ ناپاک کام کرتا ہے وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا” اگر بجائے اس کے آپ یوں فرماتے کہ “اس وقت اُس کا ایمان کامل نہیں ہوتا” تو اس میں کوئی زور اور وزن نہ ہوتا، ارو ترہیب و تخویف جو حدیث کا مقصد ہے وہ بالکل فوت ہو جاتا، یا مثلاً چند صفحے پہلے یہ حدیث گذر چکی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اکثر خطبات میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ “لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ” (جس میں امانت نہیں، اُس میں ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا دین میں حصہ نہیں) اب اگر بجائے اس کے صریح الفاظ میں یہ فرمایا جاتا کہ “جس میں امانت نہیں وہ مومن کامل نہیں اور جو عہد کا پابند نہٰں وہ پورا دیندار نہیں” تو ظاہر ہے کہ اس میں وہ زور اور اثر بالکل نہ ہوتا، جو حدیث کے موجودہ الفاظ میں ہے، بہر حال دعوت و موعظت اور انذار و ترہیب، جو ان حدیثوں کا اصل مقصد ہے اُس کے لیے یہی طرز بیان صحیح اور زیادہ موزوں و خوبصورت ہے۔
پس ان حدیثوں کو “کفر کے فتوے” اور فقہ کے “قانونی فیصلے” سمجھنا اور اس بنیاد پر ان گناہوں کے مُرتکبین کو ملّتِ اسلام سے خارج قرار دینا (جیسا کہ معتزلہ اور خوارج نے کیا ہے) ان حدیثوں کے اصل مقصد اور رسول اللہ ﷺ کے طرزِ کلام کی خصوصیات سے ناواقفی اور نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ (۱)
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں اُن چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اُس کا ھال یہ ہے کہ اُس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، اور وہ اسی حال میں رہے گا، جب تک کہ اپس عادت کو چھوڑ نہ دے۔ وہ چاروں عادتیں یہ ہیں کہ جب اُس کو کسی امانت کا امین بنایا جائے، رتو اُس میں خیانت کرے، اور جب باتیں کرے تو جھوٹ بولے، اور جب عہد معاہدہ کرے تو اُس کی خلاف فرزی کرے، اور جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بدزبانی کرے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
حقیقی اور اصلی نفاق، انسان کی جس بدترین حالت کا نام ہے، وہ تو یہ ہے کہ آدمی نے دل سے تو اسلام کو قبول کیا نہ ہو (بلکہ دل سے اُس کا منکر اور مخالف ہو) لیکن کسی وجہ سے وہ اپنے کو مومن و مولم ظاہر کرتا ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عبداللہ ابن اُبی وغیرہ مشہور منافقین کا حال تھا، یہ نفاق دراصل بدترین اور ذلیل ترین قسم کا کفر ہے، اور ان ہی منافقین کے بارہ میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے، کہ:
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
ضرور بالضرور یہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ڈالے جائیں گے۔
لیکن بعض بُری عادتیں اور بد خصلتیں بھی ایسی ہیں، جن کو ان منافقین سے خاص نسبت اور مناسبت ہے اور وہ دراصل اُن ہی کی عادتیں اور خصلتیں ہیں، اور کسی صاحبِ ایمان میں ان کی پرچھائیں بھی نہیں ہونی چاہئے۔ پس اگر بدقسمتی سے کسی مسلمان میں ان میں سے کوئی عادت ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُس میں یہ منافقانہ داعت ہے، اور اگر کسی میں بدبختی سے منافقوں والی وہ ساری عادتیں جمع ہو جائیں، تو سمجھا جائے گا کہ وہ شخص اپنی سیرت میں پورا منافق ہے۔
الغرض ایک نفاق تو ایمان و عقیدے کا نفاق ہے، جو کفر کی بدترین قسم ہے، لیکن اُس کے علاوہ کسی شخص کی سیرت کا منافقوں والی سیرت ہونا بھی ایک قسم کا نفاق ہے، مگر وہ عقیدے کا نہیں بلکہ سیرت اور کردار کا نفاق ہے اور ایک مسلمان کے لئے جس طرح یہ ضروری ہے کہ وہ کفر و شرک اور اعتقادی نفاق کی نجاست سے بچے، اُسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ منافقانہ سیرت اور منافقانہ اعمال و اخلاق کی گندگی سے بھی اپنے کو محفوظ رکھے۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے خصائل نفاق میں سے چار کی ذکر فرمایا ہے: ۱۔ خیانت، ۲۔ جھوٹ، ۳۔ عہد شکنی، ۴۔ بدزبانی، اور ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو، اُس کو سمجھنا شاہئے کہ اُس میں ایک منافقانہ خصلت ہے اور جس میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہوں، وہ اپنی سیرت میں خالص منافق ہے۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا، کہ نہ تو اُس نے اور نہ اپنے جی میں اُس کی تجویزیں سوچیں اور تمنا کی، تو وہ نفاق کی ایک صفت پر مرا۔ (مسلم)
تشریح
یعنی ایسی زندگی جس میں دعوائے ایمان کے باوجود نہ کبھی راہ خدا میں جہاد کی نوبت آئے اور نہ دل میں اُس کا شوق اور اُس کی تمنا ہو، یہ منافقوں کی زندگی ہے، اور جو اسی حال میں اس دُنیا سے جائے گا وہ نفاق کی ایک صفت کے ساتھ جائے گا۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا» (رواه مسلم)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ: یہ تو منافق والی نماز ہے کہ بےپروائی سے بیٹھا آفتاب کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ جب وہ زرد ہو گیا، اور اس کے غروب کا وقت قریب آ گیا تو نماز کو کھڑا ہوا، اور چڑیا کی طرح چار چونچیں مار کے ختم کر دی، اور اللہ کا ذکر بھی اُس میں بہت تھوڑا کیا۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مومن کی شان تو یہ ہے کہ شوق کی بے چینی سے نماز کے وقت کا منتظر رہے، اور جب وقت آئے تو خوشی اور مستعدی سے نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اس وقت مجھے مالک الملک کے دربارِ عالی کی حضور نصیب ہے، پورے اطمینان اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور قیام و قعود اور رکوع و سجود میں خوب اللہ کو یاد کرے، اور اس سے اپنے دل کو شاد کرے، لیکن منافقوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز اُن کے لیے ایک بوجھ ہوتی ہے، وقت آ جانے پر بھی اُس کو ٹالتے رہتے ہیں، مثلاً عصر کی نماز کے لیے اُس وقت اُٹھتے ہیں جب سورج بالکل ڈوبنے کے قریب ہو جاتا ہے، اور بس چڑیا کی سی چار چونچیں مار کے نماز پوری کر دیتے ہیں، اور اللہ کا نام بھی بس برائے نام ہی لیتے ہیں، پس یہ نماز منافق کی نماز ہے اور جو کوئی ایسی نماز پڑھتا ہے وہ مخلص مؤمنوں والی نہیں، بلکہ منافقوں والی نماز پڑھتا ہے۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ، لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ، وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ، فَهُوَ مُنَافِقٌ» (رواه ابن ماجة)
حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے اور وہ اس کے بعد بھی بلا کسی خاص ضرورت کے مسجد سے باہر چلا جائے اور نماز میں شرکت کے لئے واپسی کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو، تو وہ منافق ہے۔ (ابنِ ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ منافقانہ طرزِ عمل ہے، پس ایسا کرنے والا اگر عقیدے کا منافق نہیں ہے تو وہ “منافق عملی” ہے۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ فِي صُدُورِهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَتَكَلَّمْ» رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل کے برے خیالات اور وسوسوں کو معاف کر دیا ہے، اُن پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا، جب تک اُن پر عمل نہ ہو اور زبان سے نہ کہا جائے۔
تشریح
انسان کے دل میں بعض اوقات بڑے گندے خیالات اور خطرات آتے ہیں، اور کبھی کبھی منکرانہ اور ملحدانہ سوالات و اعتراضات بھی دل و دماغ کو پریشان کرتے ہیں، اس حدیث میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ خیالات اور وساوس جب تک کہ صرف خیالات اور وساوس ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہے، ہاں! جب یہی خیالات، خطرات و وساوس کی حد سے بڑھ کر اُس شخص کا قول یا عمل بن جائیں، تو پھر اُن پر مواخذہ اور محاسبہ ہو گا۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّه عليه وسلم جاءه رجل فقال انى احدث نفسى بالشيى لَأَن يَكُون حُمَمَةً أحَبُّ إِليه من أن اَتَكَلَّمَ به، قَالَ الحمد للَّه الذي رَدَّ اَمْرَهُ إِلىَ الْوَسْوَسَةِ" (رواه ابو داؤد)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: “کبھی کبھی میرے دل میں ایسے بُرے خیالات آتے ہیں کہ جل کر کوئلہ ہو جانا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اُن کو زبان سے نکالوں؟” آپ نے ارشاد فرمایا: “اللہ کی حمد اور اس کا شکر ہے جس نے اُس کے معاملہ کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے”۔ (ابو داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ غمگین اور فکر مند ہونے کی بات نہیں، بلکہ اس پر اللہ کا شکر کرو کہ اُس کے فضل و کرم اور اُس کی دستگیری نے تمہارے دل کو اُن برے خیالات کے قبول کرنے اور اپنانے سے بچا لیا ہے، اور بات وسوسہ کی حد سے آگے نہیں بڑھنے دی ہے۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: «وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ» (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے دلوں میں ایسے بُرے خیالات اور وسوسے پاتے ہیں کہ اُن کو زبان سے کہنا بھی بہت بُرا اور بہت بھاری معلوم ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا واقعی تمہاری یہ حالت ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں! یہی حال ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ: یہ تو خالص ایمان ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی یہ کیفیت کہ وہ دین و شریعت کے خلاف وساوس سے اتنا گھبرائے اور ان کو اتنا بُرا سمجھے کہ زبان سے ادا کرنا بھی اس کو گراں ہو، یہ خالص ایمانی کیفیت ہے۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولَ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ (یہاں تک کہ یہی سوال وہ اللہ کے متعلق بھی دل میں ڈالتا ہے، کہ جب ہر چیز کا کوئی پیدا کرنے والا ہے تو پھر) اللہ کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ پس سوال کا سلسلہ جب یہانتک پہنچے تو چاہئے کہ بندہ اللہ سے پناہ مانگے اور رُک جائے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے وسوسے اور سوالات شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، اور جب شیطان کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ جاہلانہ اور احمقانہ سوال ڈالے تو اُس کا سیدھا اور آسان علاج یہ ہے کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اور خیال کو اس طرف سے پھیر لے یعنی اس مسئلہ کو قابل تعجہ اور لائق غور ہی نہ سمجھے، اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اللہ جب اُس ہستی کا نام ہے جس کا وجود اُس کی ذاتی صفت ہے، اور جو تمام موجودات کو وجود بخشنے والا ہے، اُس کے متعلق یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔
بعض منافقانہ اعمال و عادات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ" (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ: لوگوں میں ہمیشہ فضول سوالات اور چون و چرا کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ یہ احمقانہ سوال بھی کیا جائے گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے، تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس کو اس سے سابقہ پڑے وہ یہ کہہ کر بات ختم کر دے، کہ اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر میرا ایمان ہے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مومن کا رویہ ان سوالات اور وساوس کے بارے میں یہ ہونا چاہئے کہ وہ سوال کرنے والے آدمی سے یا وسوسہ ڈالنے والے شیطان سے اور اپنے نفس سے صاف کہہ دے کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان کی روشنی مجھے نصیب ہو چکی ہے، اس لئے میرے لئے یہ سوال بالکل قابل غور نہیں، جس طرح کسی آنکھوں والے کے لئے یہ سوال قابلِ غور نہیں کہ سورج میں روشنی ہے یا نہیں؟