کتاب الایمان

Maarif-ul-Hadith · Chapter 1 · 140 hadiths · Page 2 of 7

21Maarif-ul-Hadith

اسلام لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں

عَنْ أَبِىْ سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَسْلَمَ العَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ القِصَاصُ: الحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا (رواه البخارى)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے، کہ: “جب بندہ اسلام قبول کر لیتا ہے اور اس کا اسلام اچھا ہوتا ہے، تو جو برائیاں اس نے پہلے کی ہوتی ہیں، اللہ اسلام کی برکت سے ان سب کو معاف کر دیتا ہے اور اس کے بعد اس کی نیکیوں اور بدیوں کا حساب یہ رہتا ہے کہ ایک نیکی پر دس گنے سے لیکر سات سو گنے تک ثواب دیا جاتا ہے اور برائی کرنے پر وہ اسی ایک بُرائی کی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی درگزر فرمائے اور معاف ہی فرما دے”۔ (بخاری) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین (اسلام) کو اپنا دین بنانے سے، اور مسلمان ہو جانے سے پچھلے گناہ معاف ہونے کی یہ شرط ہے کہ اسلام کا حسن بھی زندگی میں آ جائے (یعنی اس کا قلب و باطن نورِ اسلام سے منور اور قالب و ظاہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے مُزین اور آراستہ ہو جائے۔) “فَحسُن اِسْلَامُهُ” کا یہی مطلب ہے، پس اگر کسی شخص کی زندگی اسلام میں آ جانے کے بعد بھی نورِ اسلام اور اسلام کے حسن سے خالی رہی، اور اس کے ظاہر و باطن پر اسلام کا رنگ نہیں چڑھا، تو پچھلے سب گناہوں سے معافی کا یہ اعلان اُس کے لئے نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک دئیے جانے کا انعامی قانون بھی اُنہی بندوں کے لئے ہے جنہوں نے اسلام کا کچھ حسن اپنے اندر پیدا کر لیا ہو، اور اس حسن کی کمی بیشی کے حساب سے ہی نیکیوں کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک ملے گا۔

22Maarif-ul-Hadith

ایمان لانے کے بعد جوجان و مال معصوم و محفوظ ہو جاتے ہیں

عَنْ عُمَرَ قَال۔ قَالَ رسول الله ْﷺ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وحسابه على اللَّهُ (رواه البخاري ومسلم)

حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک کہ وہ “لا الہ الا اللہ ” کے قائل نہ ہو جائیں، پس جو شخص “لا الہ الا اللہ” کا قائل ہو گیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کے حق کے اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے ”۔ (بخاری و مسلم) تشریح حضرت عمرؓ سے اس حدیث کی روایت اس مکالمہ کے ضمن میں آتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ادائیگی زکوٰۃ سے انکار کرنے والے بعض قبائل کے خلاف جنگ کرنے کے بارے میں اُن کے اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے درمیان ہوا تھا۔ اس حدیث میں بھی “لا الہ الا اللہ” کہنے سے مراد، دعوتِ اسلام کا قبول کرنا ہے، اور جس طرح مذکورہ سابق احادیث میں اسلام قبول کرنے کا اُخروی نتیجہ عذابِ دوزخ سے نجات اور حصول جنت بتایا گیا ہے، اسی طرح اس حدیث میں قبول اسلام کا ایک دنیوی اور قانون نتیجہ جان و مال کا محفوظ و مامون ہو جانا بتلایا گیا ہے۔ نیز اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے اسلامی جنگ کے متعلق ایک نہایت اہم اور اصولی اعلان بھی فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ ہماری جنگ کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں، کہ اللہ کے بندوں کو اس کی بندگی کے رستے پر لگایا جائے، اور اُن کو عذابِ ابدی سے نجات دلائی جائے، لہذا جو کوئی اللہ کے دین کو قبول کر لے، اور اللہ ہی کی بندگی کا اقرار کر کے اس کے مقرر کئے ہوئے طریقہ زندگی (دینِ اسلام) کو اپنا دین بنا لے، اس کے جان و مال کو ہماری طرف سے بالکل امن ہے۔ “إِلَّا بِحَقِّهِ” کا مطلب یہ ہے کہ البتہ اگر اس نے اسلام اختیار کرنے کے بعد کوئی ایسا جُرم کیا، کہ خود اللہ کے قانون کا تقاضا اس کو جانی یا مالی سزا دینے کا ہوا، تو خدا وندی حکم کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی، اور “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کہنے اور مسلمان کہلانے کی وجہ سے وہ اس قانونی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ “وحسابه على اللَّهُ” کا مطلب یہ ہے، کہ جو شخص کلمہ اسلام پڑھ کے اپنا ایمان لانا ہمارے سامنے ظاہر کرے گا، ہم اس کو مومن اور مسلم تسلیم کر کے اس کے خلاف جنگ بند کر دیں گے، اور اس کے ساتھ ایمان و اسلام ہی کا معاملہ کریں گے، لیکن اگر فی الواقع اس کی نیت میں کوئی بُرائی اور اس کے دل میں کوئی کھوٹ ہو گی، تو اس کا حساب آخرت میں اللہ تعالیٰ پر ہے، جو عَالِمُ الْغَيْبِ اور عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے، وہ ہی اس سے حساب کر لے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ اور طارق اشجعیؓ سے بھی روایت کی گئی ہے، اور بعض دوسرے صحابہ کرامؓ نے اس مضمون کو کسی قدر تفصیل سے بھی روایت کیا ہے، جس سے اس حدیث کے مضمون کی بھی اور زیادہ وضاحت ہو جاتی ہے، ہم اُن میں سے بعض روایات ذیل میں درج بھی کرتے ہیں۔

23Maarif-ul-Hadith

ایمان لانے کے بعد جوجان و مال معصوم و محفوظ ہو جاتے ہیں

عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوْا اَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيُؤْمِنُوْا بِىْ وَبِمَا جِئْتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوْا ذَالِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اُس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک کہ وہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کی شہادت دیں، اور مجھ پر اور جو ہدایت میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آٗئیں، سو جب وہ ایسا کر لیں، تو انہوں نے اپنے جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اس کے حق کے اور اُن کا حساب اللہ کے سپرد ہے ”۔ (مسلم) تشریح اس حدیث میں “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کی شہادت کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لانے کا بھی ذكر ہے، یہ بھی اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ اس سے پہلی حدیث میں “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کے قائل ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے دعوتِ اسلام کا قبول کرنا ہی مراد ہے۔

24Maarif-ul-Hadith

ایمان لانے کے بعد جوجان و مال معصوم و محفوظ ہو جاتے ہیں

عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ قَدْ حُرِّمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ (رواه البخاري ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے جنگ جاری رکھوں اس وقت تک کہ وہ اس بات کی شہادت ادا کریں (یعنی اس کا اقرار و اعلان کریں) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے پیغمبر ہیں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں، پس جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں تو انہوں نے اپنے جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے حق اسلام کے، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے ”۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث میں توحید و رسالت کی شہادت کے علاوہ نماز قائم کرنے، اور زکوٰۃ ادا کرنے کا بھی ذکر ہے۔۔۔ اور درحقیقت ان دو رکنوں کا ذکر بھی صرف تمثیل اور نشانی کے طور پر کیا گیا ہے، ورنہ یہاں بھی مُراد یہی ہے کہ اللہ کے دین پر ایمان لے آئیں، اور دعوتِ اسلام کو قبول کر لیں، جس کو حضرت ابو ہریرہؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں “وَيُؤْمِنُوْا بِىْ وَبِمَا جِئْتُ بِهِ” (اور مجھ پر ایمان لائیں، اور جو ہدایت میں لایا ہوں اس پر ایمان لائیں) کے مختصر، مگر جامع الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔

25Maarif-ul-Hadith

ایمان لانے کے بعد جوجان و مال معصوم و محفوظ ہو جاتے ہیں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَذَبَحُوا ذَبِيحَتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» (رواه البخارى)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مجھے حکم دیا گیا ہے، کہ میں لوگوں سے جنگ جاری رکھوں، یہاں تک کہ وہ “لا الہ الا اللہ” کے قائل ہو جائیں، پس جب وہ “لا الہ الا اللہ” کے قائل ہو جائیں اور ہماری نمازیں پڑھنے لگیں، اور (اپنی نمازوں میں) ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کرنے لگیں، اور ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں، تو اُن کے خون اور اُن کے مال ہم پر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے ”۔ (بخاری) تشریح اس حدیث میں شہادتِ توحید کے ساتھ نماز پڑھنے اور نماز میں قبلہ اسلام کی طرف رخ کرنے اور اہلِ اسلام کا ذبیحہ کھانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، در حقیقت ان تمام چیزوں کا ذکر بھی بطور علامات اور نشانیوں ہی کے کیا گیا ہے، اور اصل مقصد اس حدیث کا بھی احادیث مندرجہ بالا کی طرح صرف اتنا ہی ہے، کہ ہماری جنگ جس کسی سے بھی ہے صرف دین کی خاطر، اور لوگوں کو کفر و شرک کی گمراہی سے نکال کر راہِ حق پر لانے کے لئے ہے، پس جو لوگ بے راہ روی چھوڑ کر اللہ کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ اختیار کر لیں اور دینِ حق کی دعوت کو قبول کر لیں، اُ کے جان و مال سے تعرض کرنا ہمارے لئے حرام ہے اور چونکہ اس زمانہ اور اس ماحول میں ایمان و اسلام کی ظاہری علامات یہی تھیں، کہ آدمی مسلمانوں کے طریقے پر نماز پڑھنے لگے، اور نماز میں کعبہ کی طرف رُخ کرنے لگے، اور مسلمانوں کے ذبیحہ سے پرہیز نہ کرے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے علامات ہی کے طور پر ان چیزوں کا بھی ذکر کر دیا۔ اور اسی حدیث کی سنن ابی داؤد میں “وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ” کی جگہ آخری الفاظ یہ ہیں “لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِيْن وَعَلَيْهِمْ مَّا عَلَى الْمُسْلِمِيْن” جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دعوتِ اسلام کو قبول کر لیں، نہ صرف یہ کہ ہماری جنگ ان کے خلاف ختم ہو جائے گی، اور ان کے جان و مال کو امان حاصل ہو جائے گی، بلکہ پھر وہ تمام حقوق اور ذمہ داریوں میں بالکل ہمارے برابر ہوں گے۔ ان حدیثوں کے بارے میں ایک شبہ اور اس کا جواب ان احادیث پر سرسری نظر میں ایک شبہ ہوتا ہے، بعض شارحینِ حدیث نے خود ہی اس کو ذکر کر کے مختلف جوابات بھی دئیے ہیں، وہ شبہ یہ ہے، کہ اسلام میں جزیہ اور مناسب شرائط کے ساتھ مصالحت کا اصول بھی مسلم ہے، اور ان دونوں صورتوں پر بھی جنگ ختم ہو جاتی ہے، لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ صرف اُس وقت شروع کی جائے گی، جب کہ لوگ دعوتِ اسلام قبول کر لیں۔ راقم سطور کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے، کہ ان احادیث کا مقصد اور موضوع، جنگ کو روک دینے اور اُس کو ختم کر دینے کی صورتیں بتلانا نہیں ہے، بلکہ ان ارشادات میں حضور ﷺ کا مطمح نظر صرف دو چیزوں کو واضح کرنا ہے، ایک یہ کہ ہماری جنگ کی غایت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ لوگ اللہ ہی کی عبادت کرنے لگیں اور اس کی متعین کی ہوئی سیدھی راہ پر چلنے لگیں، یعنی دعوتِ اسلام کو قبول کر لیں، اور دوسرے یہ کہ جو لوگ اس دعوت کو قبول کر لیں گے، اُن کے جان و مال کو ہماری طرف سے قطعی امن ہو گا، بلکہ حقوق اور ذمہ داریوں میں وہ دوسرے مسلمانوں کے بالکل مساوی ہوں گے۔ رہا جزیہ یا کاص حالات میں کاص شرائط کے ساتھ مصالحت، سو اگرچہ یہ بھی جنگ ختم کر دینے کی صورتیں ہیں، لیکن یہ واقعہ ہے کہ یہ اسلامی جنگ کی اصل غایت نہیں ہیں، بلکہ چونکہ ان کے ذریعے اصل مقصد یعنی دعوتِ اسلام کے لئے ایک پر امن راہ کھل جاتی ہے، اس لئے ان پر جنگ روک دی جاتی ہے۔

26Maarif-ul-Hadith

ایمان و اسلام کی چند ظاہری نشانیاں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ المُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلاَ تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ (رواه البخارى)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو کوئی ہماری سی نماز پڑھے، اور ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کرے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے، پس یہ وہ مسلم ہے جس کے لئے اللہ کی امان ہے اور اللہ کے رسول کی امان ہے، سو تم اللہ کے عہد نہ توڑو، اس کی امان کے بارے میں ”۔ (بخاری) تشریح اس حدیث کا مقصد سمجھنے کے لئے یہ حقیقت پیشِ نظر رکھ لینی چاہئے، کہ حضور ﷺ کے عہدِ مسعود میں جب دعوتِ اسلام طاقت اور قوت کے ساتھ بڑی تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی، تو بکثرت ایسے واقعات پیش آتے تھے کہ بعض لوگ اسلام قبول کر لیتے تھے، لیکن خاص حالات میں ان کے متعلق اس شبہ کی گنجائش رہتی تھی، کہ شاید انھوں نے حقیقی طور پر اور دل سے اسلام کو اختیار نہیں کیا ہے، پس رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا خاص تعلق ایسے ہی لوگوں سے ہے، اور آپ کا مقصد صحابہ کرامؓ کو یہ جتلانا ہے، کہ جس شخص میں تم اسلام قبول کرنے کی یہ ظاہری اور موٹی موٹی علامتیں دیکھو، کہ وہ اسلامی طریقے پر نماز پڑھتا ہے، اور نماز میں قبلہ مسلمین کی طرف ہی رُخ کرتا ہے، اور اہل اسلام کا ذبیحہ کھاتا ہے، تو اس کو مسلمان ہی سمجھو، اور اس کے جان و مال کو اللہ اور اس کے رسول کی امان میں سمجھو، یعنی خواہ مخواہ اس قسم کی کسی بدگمانی کی بناء پر کہ اس کے دل میں اسلام نہیں ہے، بلکہ اس نے صرف منافقانہ طور پر ان اسلامی شعائر کو اختیار کر لیا ہے، اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرو، بہر حال اس حدیث کا مقصد اسی بارے میں مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ پس بعض لوگوں کا اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا مقصدِ حدیث سے ناواقفی اور سخت جاہلانہ گمراہی ہے کہ جس شخص میں اسلام کی یہ ظاہری علامتیں موجود ہوں (یعنی نماز پڑھنا، قبلہ کی طرف رُخ کرنا اور مسلمانوں کا ذبیحہ کھانا) پھر خواہ وہ کیسے ہی خلافِ اسلام عقائد و خیالات رکھے، اور خواہ کیسے ہی کافرانہ و مشرکانہ اعمال کرے، بہر حال وہ مسلمان ہی رہتا ہے۔ دراصل اس قسم کے لوگوں سے اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور ایسے لوگوں کو مسلمان قرار دینے کا مطلب تو یہ ہو گا کہ اسلام صرف ان ظاہری اعمال اور علامات ہی کا نام ہے، اور ایمان و اعتقاد کی اس میں کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ اسلام کے بارے میں اس سے زیادہ جہالت اور گمراہی کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔

27Maarif-ul-Hadith

مسلمان کسی گناہ اور بدعملی کی وجہ سے کافر نہیں ہو جاتا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ: الْكَفُّ عَمَّنْ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نُكَفِّرُهُ بِذَنْبٍ، وَلَا نُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ، وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ، وَالْإِيمَانُ بِالْأَقْدَارِ (رواه ابو داؤد)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تین باتیں اصولِ اسلام میں داخل ہیں: ایک یہ کہ جو شخص کلمہ لا الہ الا اللہ کا قائل ہو، اس کے بارے میں زبان کو روکا جائے، یعنی کسی گناہ کی وجہ سے اُس کی تکفیر نہ کی جائے، اور کسی بدعملی کی وجہ سے اُس کو خارج از اسلام قرار نہ دیا جائے۔۔۔ دوسری چیز (اصولِ اسلام میں سے) جہاد ہے، وہ اُس وقت سے جاری ہے، جب مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا، اور اُس آخری زمانہ تک جاری رہے گا، جب کہ اس اُمت کا آخری طبقہ دجال سے جنگ کرے گا (مسلمانوں کے حکمراں خواہ ظالم ہوں یا منصف، جہاد بہر حال جاری رہے گا) کسی ظالم حکومت کا ظلم اور عادل حکمران کا عدل اس کو ختم نہیں کرے گا، اور (اصولِ اسلام میں سے تیسری چیز) تقدیر پر ایمان لانا ہے”۔ (ابو داؤد) تشریح اس حدیث میں تین باتوں کو اصولِ اسلام میں سے بتلایا گیا ہے، اول یہ کہ کسی گناہ اور بدعملی کی وجہ سے کسی ایسے شخص کی تکفیر نہ کی جائے، اور اس کے خارج از اسلام ہونے کا فتویٰ نہ دیا جائے، جو کلمہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا قائل ہو۔ اس کے بارے میں ایک بات تو یہ ملحوظ رکھنے کی ہے کہ کلمہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے قائل ہونے کا مطلب وہی ہے جو پہلے بھی بار بار بیان کیا جا چکا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کی دینی دعوت کو قبول کر کے مسلمان ہو جانا، پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ عہدِ نبوی میں کلمہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا قائل ہو جانا، اسلام قبول کر لینے کا عنوان تھا، خود ہماری زبان اُردو میں بھی اسی محاورہ کے مطابق “کلمہ پڑھ لینے” مطلب اسلام قبول کر لینا سمجھا جاتا ہے۔ دوسری بات یہاں یہ قابلِ لحاظ ہے کہ اس حدیث میں کسی گناہ اور بدعملی کی وجہ سے “کلمہ گو” کی تکفیر سے منع فرمایا گیا ہے، گویا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے امت کو اس غلطی اور گمراہی سے بچانے کی کوشش فرمائی ہے، جس میں معتزلہ اور خوارج مبتلا ہوئے، وہ صرف معاصی اور بد اعمالیوں کی بناء پر بھی آدمی کو اسلام کو سے خارج قرار دیتے ہین، اور اہل سنت کا مسلک اس حدیث نبوی کے مطابق یہی ہے کہ کوئی مسلمان صرف اپنی بدعملی اور اپنے معاصی کی وجہ سے اسلام سے نہیں نکلتا اور کافر نہیں ہو جاتا۔ الغرض حدیث کے اس جز کا مقصد و مدعا یہی ہے، کہ جب ایک شخص کلمہ پڑھ کر ایمان لے آیا، اور اسلام کو اس نے اپنا دین بنا لیا، تو اس کے بعد اگر اس سے گناہ سرزد ہوں، اور وہ بد اعمالیوں میں مبتلا دیکھا جائے تو صرف عمل کی اس خرابی کی وجہ سے اس کو کافر اور خارج از اسلام نہ قرار دیا جائے، پس ایسے لوگوں سے اس حدیث کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے، جو کسی ایسی چیز کا انکار کر کے خود ایمان و اسلام کے دائرے سے نکل جائیں جس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی شرط ہے۔ فرض کیجئے کہ کوئی شخص جو کلمہ پڑھ چکا ہے، اور اپنے کو مسلمان کہتا ہے، قرآن مجید کے کتاب اللہ ہونے سے منکر ہے، یا قیامت اور آخرت کا انکار کرتا ہے، یا خدائی کا یا نبوت کا دعویدار ہے، تو ظاہر ہے کہ وہ مسلمان نہیں رہے گا، اور اس کو لازماً کافر اور خارج از اسلام قرار دیا جائے گا۔ لیکن یہ تکفیر کسی بدعملی اور فسق و فجور کی وجہ سے نہ ہو گی، بلکہ اصولِ دین کے انکار کی وجہ سے ہو گی۔ بہر حال ان دونوں صورتوں میں جو فرق ہے وہ ملحوظ رہنا چاہئے، بعض لوگ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے اس حدیث کو بہت غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث میں جہاد کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ: میری بعثت سے لے کر وہ اس وقت تک جاری رہے گا جب کہ میری اُمت کا آخری طبقہ دجال کے خلاف جہاد کرے گا، کسی ظالم کا ظلم اور منصف کا عدل و انصاف اسکو ختم نہیں کرے گا۔ اس آخری فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کی حکومت کا نظام غلط ہاتھوں میں ہو اور حکمران غلط قسم کے اور ظالم ہوں، تب بھی جہاد ساقط نہ ہو گا اور کسی کے لئے یہ عذر کرنا صحیح نہ ہو گا کہ ہم ان غلط کار حاکموں کی ماتحتی میں جہاد نہیں کریں گے، بلکہ حکومت پر تسلط خواہ اچھوں کا ہو یا بُروں گا بہر حال ان کی ماتحتی میں جہاد کرنا ہو گا۔

28Maarif-ul-Hadith

دین و ایمان کے شعبے اور اس کی شاخیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: “ایمان کے ستر سے بھی کچھ اوپر شاخیں ہیں اور ان میں سب سے اعلیٰ اور افضل تو “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کا قائل ہونا، یعنی توحید کی شہادت دینا ہے اور ان میں ادنیٰ درجے کی چیز اذیت اور تکلیف دینے والی چیزوں کا راستے سے ہٹانا ہے اور حیا ایمان کی ایک اہم شاخ ہے”۔ تشریح اس حدیث میں ایمان کے شعبوں کے لیے “ستر سے کچھ اوپر” کا جو عدد استعمال کیا گیا ہے، اس کے متعلق بعض شارحین نے لکھا ہے کہ: “اس سے غالباً صرف کثرت مراد ہے، اور اہل عرب صرف مبالغہ اور کثرت کے لئے بھی ستر کا لفظ عام طور سے بولتے ہیں، اور ستر پر “جو کچھ اور” اضافہ اس حدیث میں کیا گیا ہے، یہ غالباًٍٍ اور زیادہ مبالغہ پیدا کرنے کے لیے ہے (۱) ”۔۔۔ لیکن بعض حضڑت نے “بِضْعٌ وَسَبْعُونَ” کے لفظ سے خاص عدد ستتر بھی سمجھا ہے، اس بنیاد پر کہ لفظ بِضْعٌ خاص سات کے عدد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور پھر ان حضرات نے اپنے اس خیال کے مطابق ایمان کے ان ستتر شعبوں کو متعین کرنے کی بھی کوشش کی ہے (۲)، لیکن ان میں غور کرنے کے بعد یہی رائے قائم ہوتی ہے کہ یہ محض تخمینے ہیں جن میں بہت کچھ رد و قدح کی گنجائش ہے، ہے، اس لیے راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کا منشا “بِضْعٌ وَسَبْعُونَ” کے لفظ سے کوئی خاص عدد معین کرنا نہیں ہے، بلکہ محاورہ عرب کے مطابق صرف کثرت اور بہتات مُراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بہت زیادہ شعبے ہیں۔ اور ایک قرینہ اس کا یہ بھی ہے کہ اگر “بِضْعٌ وَسَبْعُونَ” سے آپ کا مطلب کوئی معین عدد نہیں ہوتا تو پھر آپ اس ابہام و اجمال پر اکتفا نہ فرماتے، بلکہ اُن کی تفصیل بھی فرماتے، جیسا کہ موقع اور مقام کا تقاضا تھا۔ ایمان کے شعبوں سے مُراد وہ تمام اعمال و اخلاق اور ظاہری و باطنی وہ سب احوال ہیں جو کسی دل میں ایمان کے آ جانے کے بعد اُس کے نتیجہ اور ثمرہ کے طور پر اس میں پیدا ہو جانے چاہئیں، جیسے کہ سرسبز و شاداب درخت میں برگ و بار نکلتے ہیں، اس طرح گویا تمام اعمالِ خیر و اخلاق حسنہ اور احوال صالحہ ایمان کے شعبے ہین، البتہ ان کے درجے مختلف ہیں۔ اس حدیث میں ایمان کا سب سے اعلیٰ شعبہ “لا الہ الا اللہ” یعنی توحید کی شہادت کو بتلایا گیا ہے، اور اس کے مقابلے میں ادنیٰ درجے کی چیز راستے سے تکلیف پہنچانے والی چیزوں کے ہٹانے کو قرار دیا ہے، اب ان کے درمیان جس قدر بھی اُمور، خیر کا تصور کیاجا سکتا ہے وہ سب ایمان کے شعبے اور اس کی شاخیں ہیں، خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے، اور ظاہر ہے کہ ان کا عدد سینکڑوں تک پہنچے گا۔ حدیث کے آخر میں حیا کے متعلق جو خصوصیت سے یہ فرمایا گیا ہے کہ “وہ ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے” تو اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ جس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا، اس وقت کسی سے حیا میں کوئی کوتاہی ظاہر ہوئی تھی اس کی اصلاح کے لیے آپ نے یہ خصوصی انتباہ فرمایا، جیسا کہ صاحبِ حکمت معلمین و مصلحین کا طریقہ ہوتا ہے، یا حیا کے متعلق خصوصیت سے یہ تنبیہ اس لیے فرمائی گئی، کہ انسانی اخلاق میں حیا کا مقام نہایت بلند ہے، اور حیا ہی وہ خصلت ہے جو آدمی کو بہت سے معاصی اور بہت سی برائیوں سے روکتی ہے، اور اس وجہ سے ایمان اور حیا کے درمیان ایک خاص رشتہ ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ حیا صرف اپنے ہم جنسوں ہی سے نہیں کی جاتی، بلکہ سب سے زیادہ جس کی حیا ہم کو ہونی چاہئے وہ ہمارا خالق و پروردگار حق تعالیٰ ہے، عام لوگ بڑا بے حیا اور بے ادب اُس کو سمجھتے ہیں جو اپنے بڑوں کا پاس لحاظ نہ کرے، اور ان کے سامنے بے حیائی کے کام اور بُری باتیں کرے، لیکن فی الحقیقت سب سے بڑا بےحیا وہ بدبخت انسان ہے جو اپنے مولا سے نہیں شرماتا، اور یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت مجھے اور میرے فعلوں کو بے حجاب دیکھتا اور میری باتوں کو بلا واسطہ سنتا ہے، اس کے سامنے وہ بُرے کام اور نا روا حرکتیں کرتا ہے۔ پس اگر آدمی میں حیا کا خُلق پوری طرح بیدار اور کار فرما ہو، تو نہ صرف یہ کہ اس کے ہم جنسوں کی نظروں میں اس کی زندگی پاکیزہ اور سُتھری ہو گی، بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی معصیات کا صدور بھی بہت کم ہو گا۔ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , فَقَالَ: لَيْسَ ذَالِكَ وَلَكِنَّ الْاِسْتَحْيَاءَ مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ اَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى , وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى , وَتَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبَلَاءَ , فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسے اُس سے حیا کرنی چاہئے مخاطبین نے عرض کیا: الحمد للہ ہم خدا سے حیا کرتے ہین، آپ نے فرمایا: یہ نہیں! بلکہ اللہ تعالیہٰ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ سر اور سر میں جو افکار و خیالات ہیں اُن سب کی نگہداشت کرو، اور پیٹ کی اور جو کچھ اُس میں بھرا ہوا ہے اس سب کی نگرانی کرو (یعنی بُرے خیالات سے دماغ کی، اور حرام و ناجائز غذا سے پیٹ کی حفاظت کرو) اور موت، اور موت کے بعد قبر میں تمہاری جو حالت ہونی ہے اُس کو یاد رکھو، جس نے یہ سب کچھ کیا، سمجھو کہ اللہ سے حیا کرنے کا حق اُس نے ادا کیا۔ (ترمذی)

29Maarif-ul-Hadith

ایمان کے بعض آثار و ثمرات

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: جب تم کو اپنے اچھے عمل سے مسرت ہو اور برے کام سے رنج و قلق ہو، تو تم مومن ہو۔ (مسند احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان کے خاص آثار اور علامات میں سے یہ ہے کہ آدمی جب کوئی نیک عمل کرے، تو اس کے دل کو فرحت و مسرت ہو اور جب اس سے کوئی برا کام سرزد ہو جائے تو اس کو رنج و غم ہو، جب تک آدمی کے ضمیر میں یہ حس باقی رہے، سمجھنا چاہئے کہ ایمانی روح زندہ ہے اور یہ احساس اسکا ثمرہ ہے۔

30Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» (رواه مسلم)

حضرت عباس بن عبد المطلبؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سُنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ ایمان کا مزہ اُس نے چکھا، اور اس کی لذت اسے ملی، جو اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین، اور محمدﷺ کو اپنا رسول اور ہادی ماننے پر دل سے راضی وہ گیا۔ (مسلم) تشریح اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ جس طرح لذیذ اور ذائقہ دار مادی غذاؤں میں ایک لذت ہوتی ہے، جس کو صرف وہی آدمی پا سکتا ہے جس کی قوتِ ذائقہ کسی بیماری کی وجہ سے ماؤف اور خراب نہ ہوئی ہو، اسی طرح ایمان میں ایک خاص لذت اور حلاوت ہے، لیکن وہ اُن ہی خوش قسمت لوگوں کو حاصل ہو سکتی ہے جنہوں نے پوری خوش دلی اور رضائے قلبی کے ساتھ اللہ کو اپنا مالک اور پروردگار، اور حضرت محمدﷺ کو نبی و رسول اور اسلام کو اپنا دین اور زندگی کا دستور بنا لیا ہو، اور اللہ کی بندگی، حضرت محمدﷺ کی اطاعت اور طریقہ اسلام کی پیروی کو اُن کے دل نے اپنا لیا ہو، یعنی اللہ اور اسلام کے ساتھ اُن کا تعلق محض رسمی اور موروثی یا محض عقلی اور دماغی نہ ہو، بلکہ اُن کے ساتھ دلی گرویدگی ہو، اسی حچیث میں “رضا” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کو یہ نصیب نہیں، یقیناً ایمانی لذت و حلاوت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور اس کا ایمان کامل نہیں۔

31Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " (رواه البخارى و مسلم)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایمان کی حلاوت اسی کو نصیب ہو گی، جس میں تین باتیں پائی جائیں گی: ایک یہ کہ اللہ و رسول کی محبت اُس کو تمام ما سوا سے زیادہ ہو، دوسرے یہ کہ جس آدمی سے بھی اس کو محبت ہو صرف اللہ ہی کے لیے ہو، اور تیسرے یہ کہ ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اس کو اتنی نفرت اور ایسی اذیت ہو جیسی کہ آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث کا مضمون بھی قریب قریب ہی ہے، جو اس سے پہلی والی حدیث کا تھا، صرف تعبیر کا تھوڑا سا فرق ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ایمان کی حلاوت اسی آدمی کو حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ و رسول کی محبت میں ایسا سرشار ہو کہ ہر چیز سے زیادہ اس کو اللہ و رسول کی محبت ہو اور اس محبت کا اس کے دل پر ایسا قبضہ اور تسلط ہو کہ اگر کسی اور سے وہ محبت بھی کرے تو اللہ ہی کے لیے کرے اور اللہ کا دین اسلام اُس کو اتنا عزیز اور پیارا ہو کہ اس سے پھرنے اور اس کو چھوڑنے کا خیال اس کے لیے آگ میں گر جانے کے برابر تکلیف دہ ہو۔

32Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کو اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ میری محبت نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان کی تکمیل جب ہی ہو سکتی ہے اور ایک مسلمان پورا مومن تب ہی ہو سکتا ہے، کہ دنیا کے تمام دوسرے آدمیوں سے حتیٰ کہ اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ اس کو رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو۔ اس سے پہلی حدیث میں تمام ما سوا سے زیادہ اللہ و رسول کی محبت اور اسلام کی محبت کو “حلاوت ایمانی” حاصل ہونے کی شرط بتلایا گیا تھا، اور اس حدیث میں صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔۔۔ بات یہ ہے کہ اللہ و رسول کی اور اسلام کی محبت میں باہم ایسا تعلق ہے کہ یہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر ہرگز نہیں پائی جا سکتیں، اللہ تعالیٰ سے اور اسلام سے صحیح محبت بغیر رسول کی محبت کے ناممکن ہے، اور اسی طرح اللہ کی اور اسلام کی محبت کے بغیر رسول اللہ ﷺ کی محبت کو تصور نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ اللہ کے رسول سے جو محبت بحیثیت رسول کے ہو گی، وہ درحقیقت اللہ ہی کی وجہ سے اور اللہ ہی کے تعلق سے ہو گی، اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام سے بھی پوری محبت ہو گی، اس لیے اس حدیث میں کمالِ ایمان کی شرط کے طور پر صرف رسول اللہ ﷺ کی محبت کا ذکر کر دیا گیا ہے لیکن مطلب وہی ہے کہ ایمانی انوار و برکات صرف اُن ہی خوش نصیبوں کو حاصل ہو سکتے ہیں، جن کے دلوں پر اللہ و رسول کی اور اسلام کی محبت کا ایسا غلبہ ہو کہ دوسری تمام محبتیں اس سے دبی ہوئی ہوں۔ ان حدیثوں میں اللہ و رسول کی محبت کا جو مطالبہ کیا گیا ہے، اس کی مراد متعین کرنے میں شارحین حدیث کا کلام کچھ مختلف سا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لیے ان کا مطلب و مقصد سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، حالانکہ جو حقیقت ان حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ بالکل صاف اور سادہ ہے، محبت ایک معروف لفظ ہے، اور اس کے معنی بھی معروف و معلوم ہیں، اور وہی یہاں بھی مراد ہیں، البتہ اللہ و رسول کے ساتھ اہل ایمان کو جو محبت ہوتی ہے وہ ماں باپ اور بیوی بچوں کی محبت کی طرح خونی رشتوں یا دوسرے طبعی اسباب کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ وہ روحانی اور عقلی وجہ سے ہوتی ہے، اور جب وہ کامل ہو جاتی ہے تو اس کے سوا دوسری وہ تمام محبتیں جو طبعی یا نفسانی اسباب کی وجہ سے ہوتی ہیں اس سے مغلوب ہو جاتی ہیں، اور اس بات کو ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے، جس کو اللہ نے اس کا کوئی حصہ نصیب فرمایا ہو۔ الغرض ان احادیث میں محبت سے مراد دل کی وہی خاص کیفیت ہے جس کو محبت کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے، اور اسی کا ہم سے مطالبہ ہے، اور وہی گویا ہمارے ایمان کی جان ہے، قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے کہ: وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ ایمان والے سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔(بقرہ: ۲، ۱۶۵) اور دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَؒ۰۰۲۴ اے پیغمبر! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا کنبہ، قبیلہ اور تمہارا وہ مال و دولت جس کو تم نے محنت سے کمایا ہے، اور تمہاری وہ چلی ہوئی تجارت جس کی کسد بازاری سے تم ڈرتے ہو، اور تمہارے رہنے کے وہ اچھے مکانات جو تم کو پسند ہیں (پس اگر دنیا کی یہ محبوب و مرغوب چیزیں) اللہ، اللہ کے رسول اور اللہ کے دین کی راہ کی جدو جہد سے زیادہ تم کو محبوب ہیں، تو انتظار کرو، تا آنکہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے، اور یاد رکھو کہ اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔ (توبہ ۲۴:۹) پس قرآن مجید کی اس پُر جلال آیت کا تقاضا اور مطالبہ بھی یہی ہے کہ ایمان والوں کو اپنی تمام قابلِ محبت چیزوں سے زیادہ، اللہ و رسول کی اور اس کے دین کی محبت ہونی چاہیے! اس کے بغیر اللہ کی رضا اور اس کی خاص ہدایت حاصل نہیں ہو سکتی، اور ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ جس کو یہ دولت نصیب ہو جائے اس کے لیے ایمان کے سارے تقاضوں کا پورا کرنا اور اللہ و رسول کے احکام پر چلنا نہ صرف یہ کہ آسان ہو جاتا ہے بلکہ اس راہ میں جانِ عزیز تک دے دینے میں بھی وہ ایک لذت محسوس کرے گا، اور اس کے برخلاف جس کے دل پر اللہ و رسول کی محبت کا ایسا غلبہ نہ ہو گا، اس کے لیے روز مرہ کے اسلامی فرائض کی ادائیگی اور عام ایمانی مطالبات کی تعمیل بھی سخت گراں اور بڑی کٹھن ہو گی اور جتنا کچھ وہ کرے گا بھی، تو اُس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ بس قانونی پابندیاں کی سی ہو گی، پس اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ، جب تک اللہ و رسول کی محبت دوسری ساری چاہتوں اور محبتوں پر غالب نہ ہو جائے، ایمان کا اصل مقام نصیب نہیں ہو سکتا، اور ایمان کی حلاوت حاصل نہیں ہو سکتی۔

33Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» (رواه البغوى فى شرح السُّنَّة)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کی ہوائے نفس میری لائی ہوئی ہدایت کے تابع نہ ہو جائے۔ (شرح السنہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ حقیقی ایمان جب ہی حاصل ہو سکتا ہے اور ایمانی برکات تب ہی نصیب ہو سکتی ہیں، کہ آدمی کے نفسی میلانات اور اس کی جی کی چاہتیں کلی طور پر ہدایاتِ نبوی کے تابع اور ماتحت ہو جائیں۔ “هوى” (یعنی خواہشات نفس) اور “هدى” (یعنی انبیاء علیہم السلام کی لائی ہوئی ہدایات) یہی دو چیزیں ہیں جن پر خیر و شر کے سارے سلسلہ کی بنیاد ہے اور جن سے انسانوں کی سعادت یا شقاوت وابستہ ہے، ہر گمراہی اور بدعملی اتباع ھوی کا نتیجہ ہے جس طرح کہ ہر خیر اور ہر نیکی اتباع ھدیٰ سے پیدا ہوتی ہے، لہذا حقیقی ایمان جب ہی نصیب ہو سکتا ہے کہ هوى کو (یعنی اپنے نفس کی چاہتوں کو) ھدی کے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایات و تعلیم کے) تابع کر دیا جائے اور جس نے ھدیٰ کو چھوڑ کر ھویٰ کی غلامی اختیار کی اور بجائے ربانی ہدایت کے وہ نفسانی خواہشات کے تابع ہو گیا، تو گویا خود ہی اس نے مقصدِ ایمان کو پامال کر دیا۔ قرآن پاک مین ایسوں ہی کے متعلق فرمایا گیا ہے، کہ انہوں نے خواہشاتِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہے: اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ (فرقان ۴۳:۲۵) کیا تم نے اُن بدبختوں کو دیکھا، جنہوں نے اپنے نفس کی خواہشوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَؒ۰۰۵۰ (قصص ۵۰:۲۸) جو شخص اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنے جی کی چاہت پر چلے اس سے زیادہ گمراہ اور غلط اور کون ہو سکتا ہے، اللہ ظالم لوگوں کو اپنی راہ پر نہیں لگاتا۔

34Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ» (رواه البخارى و مسلم)

حضرت انسؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے”۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان کے اصل مقام تک پہنچنے کے لیے اور اس کی خاص برکتیں حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود غرضی سے پاک ہو اور اس کے دل میں اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے اتنی خیر خواہی ہو، کہ جو نعمت اور جو بھلائی اور بہتری وہ اپنے لیے چاہے، وہی دوسرے بھائیوں کے لیے بھی چاہے اور جو بات اور جو حال وہ اپنے لیے پسند نہ کرے، اس کو کسی دوسرے کے لیے بھی پسند نہ کرے، اس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ اسی حدیث میں ابن حبان کی روایت میں “لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ” کی جگہ “لاَ يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيْقَةَ الْاِيْمَان” روایت کیا گیا ہے، اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ اس حدیث میں اور اس جیسی دوسری حدیثوں میں بھی “لاَ يُؤْمِنُ” کے لفظ سے ایمان کی قطعی نفی مراد نہیں ہے، بلکہ کمال کی نفی مقصود ہے۔ اور اس طرح ناقص کو کالمعدوم قرار دے کر اس کی نفی کر دینا قریباً ہر زبان کا عام محاورہ ہے، مثلاً ہماری اردو زبان میں بھی کسی برے اور غلط آدمی کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ “اس میں تو انسانیت ہی نہیں ہے” یا کہہ دیتے کہ “وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے”۔ حالانکہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ اچھا اور معقول آدمی نہیں ہے۔ پس اسی طرح بہت سی حدیثوں میں بھی ایمان کے نقص کو “لاَ إِيْمَانَ” یا “لاَ يُؤْمِنُ” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور تربیت و نصیحت (جو ان حدیثوں کا مقصد ہے) اُس کے لیے یہی طرزِ بیان مناسب تر اور بہتر بھی ہے۔۔۔ ایسے موقع پر منطقیوں والی موشگافیاں کرنا مزاجِ نبوت سے نا آشنائی کی دلیل اور بڑی ہی بد ذوقی کی بات ہے۔

35Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ» . قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» (راه احمد)

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے افضل ایمان کے متعلق سوال کیا (یعنی پوچھا کہ: ایمان کا اعلیٰ اور افضل درجہ کیا ہے؟ اور وہ کون سے اعمال و اخلاق ہیں جن کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے) تو آپ نے ارشاد فرمایا۔۔۔ یہ کہ: بس اللہ ہی کے لیے کسی سے تمہاری محبت ہو، اور اللہ ہی کے واسطے بغض و عداوت ہو (یعنی دوستی اور دشمنی جس سے بھی ہو، صرف اللہ کے واسطے ہو) اور دوسرے یہ کہ اپنی زبان کو تم اللہ کی یاد میں لگائے رکھو۔ حضرت معاذؓ نے عرض کیا: اور کیا یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی وہی چاہو، اور وہی پسند کرو، جو اپنے لئے پسند کرتے اور چاہتے ہو، اور ان کے لیے بھی اُن چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو۔ (مسند احمد) تشریح حضرت معاذؓ کے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں تین چیزوں کو ذکر فرمایا ہے، اور بتلایا ہے کہ کامل ایمان جب نصیب ہو گا، جب کہ یہ تین باتیں پیدا ہو جائیں۔ ایک اللہ ہی کے لیے دوستی اور دشمنی، دوسرے زبان کا یادِ الہی میں مشغول رکھنا، تیسرے بندگانِ خدا کی ایسی خیر خواہی کہ جو اپنے لیے چاہے، وہ سب کے لیے چاہے اور جو اپنے لیے نہ چاہے وہ کسی کے لیے نہ چاہے۔

36Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ» (رواه ابو داؤد)

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی کی، اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کو جو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے واسطے منع کیا، اور نہ دیا (جس کو منع کرنا اور نہ دینا عند اللہ بہتر سمجھا) تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی۔ (رواہ ابو داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے حرکات و سکنات اور اپنے جذبات کو اسی مرضی الہی کے تابع کر دیا کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے اللہ ہی کی رضا کے لیے جوڑتا ہے، اور جس سے توڑتا ہے اللہ ہی کے لیے توڑتا ہے جس کو دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کے دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ ہی کی خوشنودی کے لیے روکتا ہے، غرض جس کے ایجابی اور سلبی قلبی رجحانات اور جذبات مثلاً محبت اور عداوت، اور اسی طرح مثبت و منفی اور ظاہری افعال و حرکات مثلاً کسی کو کچھ چینا یا نہ دینا، یہ سب اللہ ہی کے واسطے ہونے لگیں، اور بجز رضاء الہی کے کوئی اور محرک اور داعیہ اس کے اعمال و افعال کے لیے نہ رہے، الغرض تعلق باللہ اور کامل عبدیت کا یہ مقام جس کو حاصل ہو جائے اس کا ایمان کامل ہو گیا۔

37Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَبِي ذَرٍّ: " أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ " قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " الْمُوَالَاةُ فِي اللهِ، وَالْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر غفاریؓ سے فرمایا: “بتلاؤ ایمان کی کون سی دست آویز زیادہ مضبوط ہے؟” (یعنی ایمان کے شعبوں میں سے کون سا شعبہ زیادہ پائیدار ہے) ابو ذر نےعرض کیا، کہ “اللہ و رسول ہی کو زیادہ علم ہے” (لہذا حضور ﷺ ہی ارشاد فرمائیں) آپ منے فرمایا: “اللہ کے لیے باہم تعلق و تعاون، اور اللہ واسطے کی کسی سے محبت اور اللہ ہی کے واسطے کسی سے بغض و عداوت”۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمانی اعمال و احوال میں سب سے زیادہ جاندار اور پائیدار عمل اور حال یہ ہے کہ بندہ کا دنیا میں جس کے ساتھ جو برتاؤ ہو، خواہ موالات ہو ترکِ موالات، محبت ہو یا عداوت، وہ اپنے نفس کے تقاضے سے اور کسی نفسانی جذبہسے نہ ہو، بلکہصرف اللہ کے لیے اور اسی کے حکم کے ما تحت ہو۔

38Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “تم جنت میں نہیں جا سکتے جب تک کہ صاحب ایمان نہ ہو جاؤ اور تم پورے مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم میں باہم محبت نہ ہو، کیا میں تم کو ایک ایسی بات نہ بتلا دوں، کہ اگر اس پر عمل کرنے لگو، تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے، وہ بات یہ ہے کہ تم اپنے درمیان سلام کا رواج پھیلاؤ، اور اس کو عام کرو ”۔ (رواہ مسلم) تشریح اوپر کی حدیثوں سے معلوم ہوا تھا کہ بندہ کے ایمان کی تکمیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کو اللہ و رسول کے ساتھ اور ان کے دین کے ساتھ تمام ما سوا سے زیادہ محبت ہو، اور ان کے سوا جس سے بھی محبت ہو ان ہی کے تعلق سے اور ان ہی کے واسطے ہو، اور یہ کہ بندہ کا دل خود غرضی سے بالکل پاک صاف ہو، اور اس کا حال یہ ہو کہ جو اپنے لیے چاہے وہی اللہ کے دوسرے بندوں کے لیے بھی چاہے، اور جس چیز کو اپنے لیے پسند نہ کرے اس کو کسی دوسرے کے لیے بھی پسند نہ کرے۔۔۔۔ اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والی کسی قوم اور کسی معاشرہ کے ایمان کی تکمیل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اُن میں باہم محبت و مودت ہو، اگر ان کے دل ایک دوسرے کی محبت سے خالی ہین، تو سمجھنا چاہیے کہ وہ حقیقتِ ایمان اور اس کے برکات و ثمرات سے بے نصیب ہیں۔

39Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ “مسلم وہ ہے جس کی درازیوں اور دست دارزیوں سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس کی طرف سے اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں لوگوں کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو ”۔ (ترمذی، نسائی) تشریح اس حدیث میں صرف زبان اور ہاتھ سے ایذا رسانی کا ذکر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ بیشتر ایذاؤں کا تعلق ان ہی دو سے ہوتا ہے، ورنہ مقصد اور مطلب صرف یہ ہے کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ ابن حبان کی اسی حدیث کی روایت میں “مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ” کے بجائے “مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ” وارد ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو تمام بنی نوع انسان کے لیے پُرامن اور بے آزار ہونا چاہئے۔ لیکن واضح رہے کہ اس حدیث میں جس ایذا رسانی کو منافی اسلام بتلایا گیا ہے، وہ وہ ہے جو بغیر کسی صحیح وجہ اور معقول سبب کے ہو، ورنہ بشرطِ قدرت مجرموں کو سزا دینا، اور ظالموں کی زیادتیوں اور مفسدوں کی فساد انگیزیوں کو بزور دفع کرنا تو مسلمانوں کا فرضِ منصبی ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے، تو دنیا امن و راحت سے محروم ہو جائے۔

40Maarif-ul-Hadith

ایمان کے تکمیلی عناصر اور خاص شرائط و لوازم

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ» قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ» (رواه البخارى)

ابو شریح خزاعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قسم اللہ کی وہ مومن نہیں، قسم اللہ کی وہ مومن نہیں، قسم اللہ کی وہ مومن نہیں،”۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون مومن نہیں؟ آپ نے فرمایا “وہ آدمی جس کے پڑوسی اُس کی شرارتوں اور آفتوں سے خائف رہتے ہوں”۔ (بخاری) تشریح یعنی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسا حسن سلوک اور ایسا شریفانہ برتاؤ کہ اُن کو ہماری طرف پورا اطمینان رہے، اور ہماری جانب سے کسی ظلم اور شرارت کا اندیشہ اُن کے دلوں میں نہ رہے، یہ ایمان کے اُن شرائط اور لوازم میں سے ہے جن کے بغیر ایمان گویا کالعدم ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے: وَاَحْسِنْ اِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا (مسند احمد، ترمذى) اپنے پڑوسی کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو تب تم ایمان والے ہو۔ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ (بخارى و مسلم) جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو (اور اس لئے اللہ کی رضا اور آخرت میں فلاح چاہتا ہو) تو اُسے لازم ہے کہ اپنے پڑوسیوں کو نہ ستائے۔