خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا حال
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ ، قَالَ : « شَيَّبَتْنِي هُودٌ ، وَالوَاقِعَةُ ، وَالمُرْسَلَاتُ ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ » (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو ابکرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ پر بڑھاپا آ گیا، آپ نے ارشاد فرمایا، کہ: مجھے بوڑھا کر دیا سورہ ہود، سورہ واقعہ، سورہ مرسلات، سورہ عم یتساءلون اور سورہ تکویر (إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ) نے۔ (ترمذی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی جسمانی صحت فطری طور پر جس قدر بہتر تھی اور قویٰ جیسے اچھے اور طبیعت جیسی معتدل تھی، اس کے لحاظ سے آپ پر بڑھاپے کے آثار بہت دیر سے ظاہر ہونے چاہئے تھے، لیکن جب وہ آثار عام اندازہ کے لحاظ سے قبل از وقت ظاہر ہونے لگے، تو حضرت ابو بکرؓ نے ایک روز عرض کیا، کہ: حضرت! آپ پر تو ابھی سے بڑھاپا آنے لگا؟ آپ نے ارشاد فرمایا، کہ: مجھے قرآن مجید کی ان سورتوں (سورہ ہود اور واقعہ وغیرہ) نے بوڑھا کر دیا۔ ان سورتوں میں قیامت و آخرت اور مجرموں پر اللہ کے عذاب کا بڑا دہشت ناک بیان ہے۔ آنحضرت ﷺ ان کے مضامین سے اس قدر متاثر ہوتے تھے اور ان کی تلاوت سے آپ پر خدا کے خوف اور آخرت کی فکر کا ایسا غلبہ ہوتا تھا کہ اس کا اثر آپ کی جسمانی قوت اور تندرستی پر پڑتا تھا، اور بلا شبہ خوف و فکریہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو جوانوں کو جلد بوڑھا کر دیتی ہیں، اسی لئے قیامت کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے “ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ” کہ قیامت کے دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ اس حدیث سے خاص طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خوفِ خدا اور فکر آخرت کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک کا حال کیا تھا۔
خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا حال
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : « إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا ، هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ المُوبِقَاتِ » قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : « يَعْنِي بِذَلِكَ المُهْلِكَاتِ » (رواه البخارى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ بہت سے اعمال ایسے کرتے ہو کہ تمہاری نگاہ میں وہ بال سے بھی زیادہ باریک (یعنی بہت ہی خفیف اور ہلکے ہیں) ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ان کو مہلکات میں شمار کرتے تھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاک زمانہ میں مسلمانوں پر یعنی آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام پر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا، اور وہ آخرت کے حساب و انجام سے اس قدر لرزاں و ترساں رہتے تھے، کہ بہت سے وہ اعمال جن کو تم لوگ بالکل معمولی سمجھتے ہو، اور بے پروائی سے کرتے رہتے ہو، اور ان سے بچنے کی کوئی فکر نہیں کرتے، وہ ان کو مہلک سمجھتے تھے، اور ان سے بچنے کا ایسا ہی اہتمام رکھتے تھے، جیسے ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا حال
عَنِ النَّضْرِ قَالَ : كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسٍ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ كَانَ هَذَا يُصِيبُكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ : « مَعَاذَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ اَنْ تَكُوْنَ الْقِيَامَةِ » (رواه ابو داؤد)
نضر تابعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ کے زمانہ میں ایک دفعہ کالی آندھی آئی، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں نے پوچھا، کہ: اے ابو حمزہ! کیا ایسی کالی اور اندھیری آندھیاں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر آتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی پناہ! وہاں تو یہ حال تھا کہ ذرا ہوا تیز ہو جاتی، تو ہم قیامت کے خوف سے مسجد کی طرف دوڑ پڑتے تھے۔ (ابو داؤد)
خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا حال
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيْع الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ : لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَنْتَ؟ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ : قُلْتُ : نَافَقَ حَنْظَلَةُ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ مَا تَقُولُ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ ، حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ ، فَنَسِينَا كَثِيرًا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَوَاللهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : نَافَقَ حَنْظَلَةُ ، يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « وَمَا ذَاكَ؟ » قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ نَكُونُ عِنْدَكَ ، تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ ، حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ ، عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ ، نَسِينَا كَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي ، وَفِي الذِّكْرِ ، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً » ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . (رواه مسلم)
حضرت حنظلہ بن الربیع سے روایت ہے کہ ایک دن مجھے ابو بکرؓ ملے اور انہوں نے پوچھا: حنظلہ! کیا حال ہے؟ میں نے اُن سے کہا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے، انہوں نے فرمایا: پاک ہے اللہ! تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا، بات یہ ہے، کہ: ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ دوزخ اور جنت کا بیان فرما کے ہم کو نصیحت فرما کے ہم کو نصیحت فرماتے ہیں، تو ہمارا یہ حال ہو جاتا ہے کہ گویا ہم دوزخ اور جنت کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، پھر جب ہم آپ کی مجلس سے نکل کر گھر آتے ہیں، تو بیوی بچے، زمین اور کھیتی بارٰ کے کام ہم کو اپنی طرف متوجہ اور مشغول کر لیتے ہیں، اور پھر ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ ابوبکرؓ نے یہ سن کر فرمایا: کہ اس طرح کی حالت تو ہم کو بھی پیش آتی ہے۔ اس کے بعد میں نے اور ابو بکر دونوں چل دیئے، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے (اپنا حال بیانن کرتے ہوئے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: یہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا، کہ: حالت یہ ہے کہ ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ دوزخ اور جنت کا بیان فرما کر ہم کو نصیحت فرماتے ہیں، تو ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا دوزخ اور جنت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، پھر جب ہم آپ کی مجلس سے نکل کر گھر آتے ہیں، تو بیوی بچے، اور کھیتی باڑی کے دھندے ہم کو اپنے میں مشغول کر لیتے ہیں، اور ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں، یہ سُن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی! جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تمہارا حال ہمیشہ وہ رہے جو میرے پاس ہوتا ہے، اور تم دائماً ذکر میں مشغول رہو، تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور راستے میں تم سے مصافحہ کیا کریں، لیکن اے حنظلہ (اللہ نے اس کا مکلف نہیں کیا ہے، بلکہ) بس اتنا ہی کافی ہے، کہ وقتاً فوقتاً یہ ہوتا رہے، یہ بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (مسلم)
تشریح
حضرت حنظلہ کی اس روایت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ میں آخرت اور دین کی فکر کس درجہ میں تھی، کہ اپنی حالت میں معمولی تغیر اور ذرا سا انحطاط دیکھ کر وہ اپنے پر نفاق کا شبہ کرنے لگتے تھی۔
خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا حال
عَنْ أَبِىْ بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلاَمُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ ، وَجِهَادُنَا مَعَهُ ، وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ ، بَرَدَ لَنَا ، وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ ، كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبِي : لاَ وَاللَّهِ ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّيْنَا ، وَصُمْنَا ، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا ، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ ، وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ ، فَقَالَ أَبِي : لَكِنِّي أَنَا ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ ، لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا ، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ كَانَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي " (رواه البخارى)
حضرت ابو موسیٰ اشعری کے صاحبزادہ ابو بردہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے کہا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا بات کہی تھی؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں، انہوں نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا تھا، کہ اے ابو موسیٰ , کیا تم اس پر خوش اور راضی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ہاتھ پر ہمارا اسلام لانا اور آپ کے ساتھ ہمارا ہجرت کرنا اور جہاد کرنا، اور ہمارے وہ سارے اعمال جو ہم نے آپ کے ساتھ کئے، وہ تو ہمارے لئے ثابت اور محفوظ رہیں (اور ان کا صلہ اور اجر ہم کو عطا فرمایا جائے) اور ہم نے جو اعمال آپ کے بعد کئے، ان سے ہم برابر سرابر پر چھٹی پا جائیں (یعنی حضور ﷺ کے بعد ہم نے جو اچھے یا بُرے عمل کئے ہیں، ان پر نہ ہم کو ثواب ملے اور نہ عذاب)۔ (عبداللہ بن عمر ابو بردہ سے کہتے ہیں کہ میرے والد کی یہ بات سُن کر) تمہارے والد نے کہا، کہ نہیں! خدا کی قسم میں تو یہ نہیں چاہتا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کئے ہیں، نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں، اور (اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ان کے علاوہ بھی بہت سے اعمال خیر کئے ہیں، اور ہماری کوششوں سے، اور ہمارے ہاتھوں پر اللہ کے بے شمار بندے مسلمان ہوئے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے اعمال کے اجر و صلہ کی پوری امید رکھتے ہیں (اس لئے میں تو آپ کے خیال سے متفق نہیں ہوں)۔ اس پر میرے والد (حضرت عمرؓ) نے پھر فرمایا: کہ قسم اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضہ میں عمرؓ کی جان ہے، میں تو دل سے چاہتا ہوں، کہ ہمارے وہ عمل (جو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئے، وہ تو) ہمارے لئے ثابت رہیں، اور ہم کو اُن کا صلہ عطا کیا جائے، اور جو عمل ہم نے آپ کے بعد کئے اُن سے ہم برابر سرابر چھٹی پا جائیں۔ (ابو بردہ کہتے ہیں، کہ) میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا، کہ: خدا کی قسم! تمارے والد (حضرت عمرؓ) میرے والد (ابو موسیٰؓ) سے افضل تھے۔ (بخاری)
تشریح
جس طرح اللہ کے کسی صالح اور مقبول بندہ کی اقتداء میں پڑھی ہوئی نماز کی مقبولیت کی امید کی جاتی ہے، اسی طرح حضرت عمرؓ یقین کے ساتھ اُمید رکھتے تھے، کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو اعمالِ خیر نماز، روزہ، ہجرت، جہاد وغیرہ ہم نے کئے ہیں، وہ تو آنحضرت ﷺ کی معیت کی نسبت اور برکت سے ضرور ہی ان شاء اللہ قبول ہونگے، لیکن جو اعمال حضور ﷺ کے بعد کئے گئے، چونکہ ان کو یہ نسبت حاصل نہ تھی، بلکہ وہ اپنے ہی اعمال تھے، اس لئے حضرت عمرؓ عام اہلِ معرفت کی طرح ان کے انجام سے ڈرتے تھے، اور اپنی سلامتی و کامیابی اسی میں سمجھتے تھے کہ بعد والے سارے اعمال سے برابر سرابر پر چھٹی مل جائے، نہ ان پر عذاب ہو نہ ثواب۔ ؎
طاعت ناقص ما موجبِ غفراں نشودراضیم گر مدد علتِ عصیاں نشود
حدیث کے آخر میں ابو بردہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جو یہ فرمایا کہ خدا کی قسم میرے والد سے تمہارے والد افضل تھے بظاہر اس سے ان کا مطلب تھا کہ چونکہ حضرت عمرؓ افضل تھے اپنے اعمال سے بے اطمینانی اور خدا کے خوف کا اثر ان پر اس قدر زیادہ تھا۔ صحیح بخاری ہی میں حضرت عمرؓ کے واقعہ شہادت کی ایک روایت میں ان کا یہ ارشاد بھی ذکر کیا گیا ہے۔ “ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لاَفْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ ” (اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہو، تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالوں، اور اپنی جان چھڑا لوں)۔
اللہ اکبر! یہ ہے اس بندہ پر خوفِ خدا کا غلبہ جس نے بار بار رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے اپنے لئے جنت کی بشارتیں سنی ہیں۔ سچ کہا ہے کہنے والے نے “ قریبا نرا بیش بود حیرانی ” اللہ تعالیٰ اس خوف و خشیت کا کوئی حصہ ہم کو بھی نصیب فرمائے۔
آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت
عَنْ مُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ : « وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ؟ » (رواه مسلم)
روایت ہے مستورد بن شداد سے، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سُنا، آپ فرماتے تھے کہ دنیا کی مثال آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی درمای میں ڈال کر نکال لے، اور پھر دیکھے کہ پانی کی کتنی مقدار اس میں لگ کر آئی ہے۔ (مسلم)
تشریح
رقاق کے سلسلہ کی حدیثیں آگے درج کی جا رہی ہیں، ان میں رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی تحقیر اور مذمت کی ہے، اور بتلایا ہے کہ اللہ کے نزدیک اور آخرت کے مقابلہ میں یہ دنیا کس قدر حقیر اور بے قیمت ہے۔ چونکہ ہمارے اس زمانہ میں دنیا کے ساتھ لوگوں کا تعلق اور شغف و انہماک حد سے بڑھ گیا ہے، اور خالص دنیوی اور مادی ترقی کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دے دی گئی ہے، کہ غالباً! اس سے پہلے کبھی بھی اس کو اہمیت کا یہ مقام حاصل نہ ہوا ہو گا، اس لئے اب حالت یہ ہے کہ دنیا کی تحقیر اور مذمت کی بات بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں بھی آسانی سے نہیں اترتی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض وہ لوگ بھی جو مسلمانوں کے رہنما اور مصلح سمجھے جاتے ہیں، اور دین کے لحاظ سے ان کا شمار عوام میں نہیں بلکہ خواص میں ہوتا ہے، دنیا کی بے ثباتی اور بے وقعتی کے تذکرہ کو بے تکلف “ رہبانیت اور غلط تصوف کی تبلیغ ” کہہ دیتے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے اس موضوع کی حدیثیں ذکر کی جائیں، تو منکرین حدیث کی طرح ان حدیثوں ہی کے بارہ میں وہ شکوک کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے اس سلسلہ کی حدیثیں درج کرنے سے پہلے ہم بطورِ تمہید، ایمانی مسلّمات اور قرآن مجید کی روشنی میں اس مسئلہ پر کچھ اصولی گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ والله ولى التوفيق
دنیا اور آخرت
۱۔ یہ دنیا جس میں ہم اپنی یہ زندگی گذار رہے ہیں، اور جس کو اپنی آنکھوں کانوں وغیرہ حواس سے محسوس کرتے ہیں، جس طرح یہ ایک واقعی حقیقت ہے، اسی طرح آخرت بھی جس کی اطلاع اللہ کے سب پیغمبروں نے دی ہے، وہ بھی ایک قطعی اور یقینی حقیقت ہے، اور اپنی زندگی کے اس دور میں ہمارا اس کو نہ دیکھنا اور نہ محسوس کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ میں ہونے کے زمانہ میں ہم اس دنیا کو نہیں دیکھتے تھے اور نہیں محسوس کر سکتے تھے، پھر جسطرح ہم نے یہاں آ کر اس دنیا کو دیکھ لیا اور زمین و آسمان کی وہ ہزاروں لاکھوں چیزیں یہاں ہمارے مشاہدے میں آ گئیں، جن کو ہم ماں کے پیٹ میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، اسی طرح مرنے کے بعد عالمِ آخرت میں پہنچ کر جنت و دوزخ کو اور اس عالم کی ان تمام چیزوں کو دیکھ لیں گے اور پالیں گے جن کی اطلاع اللہ کے پیغمبروں اور اللہ کی کتابوں نے دی ہے۔ الغرض ہماری یہ دنیا جس طرح ایک حقیقی عالم ہے۔ اسی طرح آخرت بھی مرنے کے بعد سامنے آ جانے والا ایک حقیقی اور بالکل واقعی عالم ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے اور نقل و عقل کی روشنی میں ہم کو اس کے بارے میں الحمدللہ پورا وثوق اور اطمینان ہے۔
۲۔ پھر دنیاکے بارے میں ہم کو یقین ہے کہ یہ اور اس کی ہر چیز فانی ہے، بہ خلاف آخرت کے کہ وہ غیر فانی اور جاودانی ہے، اور وہاں پہنچنے کے بعد انسان بھی غیر فانی بنا دیا جائے گا، یعنی اس کو کبھی ختم نہ ہونے والی دوعامی زندگی عطا فرما دی جائے گی، اسی طرح وہاں اللہ کے سعید اور خوش نصیب بندوں کو جو نعمتیں عطا ہوں گی ان کا سلسلہ بھی ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گا، اور کبھی منقطع نہ ہو گا، اسی کو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: “ عَطَاءً (۱) غَيْرَ مَجْذُوذٍ ” اور اسی طرح جن اشقیا کی بغاوت اور سرکشی اور کفر و استکبار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اُن پر ہو گا۔ انکی تکلیفوں اور ان کے عذاب کا سلسلہ بھی کبھی ختم نہ ہو گا، جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں جابجا فرمایا گیا ہے: “ خَالِدِينَ (۲) فِيهَا أَبَدًا ” اور “ (۳) وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ” اور “ لا (۴) يُقْضى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذابِها ” اسی طرح اللہ کے پیغمبروں اور اللہ کی کتابوں کی بتلائی ہوئی اس حقیقت پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور لذتوں کے مقابلے میں آخرت کی لذّتیں اور نعمتیں بے انتہا فائق ہیں، بلکہ اصلی لذتیں اور نعمتیں آخرت ہی کی ہیں، اور دنیا کی چیزوں کو اُن سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ ان سب باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی فکر و سعی بس آخرت ہی کے لئے ہو، اور دنیا سے اس کا تعلق صرف ناگزیر ضرورت کے بقدر ہو۔
۳۔ لیکن انسانوں کا عام حال یہ ہے کہ دنیا چونکہ ہر وقت ان کے سامنے ہے اور آخرت سراسر غیب اور آنکھوں سے اوجھل ہے، اس لئے اکثر و بیشتر ان حقیقتوں کے ماننے والوں پر بھی دنیا ہی کی فکر و طلب غالب رہتی ہے، گویا یہ انسانوں کی ایک قسم کی فطری کمزوری ہے۔ ان کا حال اس معاملہ میں بالکل اُن چھوٹے بچوں کا سا ہے جن کو بچپن میں اپنے کھیل کھلونوں سے دلچسپی ہوتی ہے، اور مستقبل کی زندگی کو خوشگوار اور شاندار بنانے والے تعلیمی تربیتی مشاغل ان کے لیے سب چیزوں سے زیادہ غیر دلچسپ بلکہ انتہائی شاق ہوتے ہیں، جن کے شفیق ماں باپ ان کو سمجھا بجھا کر ان اچھے کاموں کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں جن میں لگ کر وہ کامیاب انسان بن سکتے ہیں، اور عزت و عافیت کی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔
۴۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے پیغمبروں اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں کے ذریعہ ہمیشہ انسانوں کی اس غلطی اور کمزوری کی اصلاح کی کوشش ہوتی رہی، اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا کا جو درجہ ہے، اور دنیا کے مقابلہ میں آخرت کا جو مقام ہے وہ واضح کیا جاتا رہا ہے، مگر انسانوں سے اس بارہ میں غالباً ہمیشہ بچوں والی غلطی ہوتی رہی ہے۔
“ (۱) بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَياةَ الدُّنْيا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقى (17) إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولى (18) صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسى (19) ”
۵۔ قرآنِ پاک چونکہ اللہ کی طرف سے روئے زمین کے انسانوں کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے، اس لئے اس م یں اور بھی زیادہ زور اور اہمیت کے ساتھ جا بجا مختلف عنوانات سے دنیا کی بے وقعتی اور ناپائیداری کو اور آخرت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ کہیں پر فرمایا گیا ہے:
قُلْ مَتاعُ الدُّنْيا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقى (النساء 77: 4)
اے پیغمبر ﷺ! آپ ان لوگوں کو بتلا دیجئے کہ دنیا کا سرمایہ تو بہت ہی قلیل ہے، اور آخرت بہتر ہے پرہیزگاروں کے لئے۔
کہیں ارشاد فرمایا گیا:
وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ (الانعام 32: 6)
اور دنیا کی زندگانی کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بس (چند دنوں کا) کھیل تماشا ہے، اور آخرت کا گھر ہی بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو پرہیزگاری کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں (افسوس تم پر!) کیا تم اس بات کو سمجھتے نہیں؟
کہیں اور ارشاد ہے:
إِنَّما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا مَتاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دارُ الْقَرارِ (المومن 39: 4)
یہ دنیوی زندگانی (اور یہاں کا سازو سامان) تو بس چند دنوں کے استعمال کے لیے ہے اور آخرت ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔
کہیں فرمایا گیا:
وَفِي الْآخِرَةِ عَذابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوانٌ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلاَّ مَتاعُ الْغُرُورِ (الحديد 20: 57)
اور آخرت میں (مجرموں اور باغیوں کے لیے) سخت ترین عذاب ہے، اور (جو بندے رضا اور مغفرت کے لائق ہیں) اُن کے لئے اللہ کی طرف سے بخشش اور رضا ہے۔ اور دنیوی زندگانی تو بس دھوکہ کا سرمایہ ہے۔
۶۔ الغرض اللہ کی طرف سے آنے والے پیغمبروں اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اور آخرت کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی میں ان کو کامل فلاح و بہبود کے یوم تک پہنچانے کے لیے جن چند خاص نکتوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان دنیا کو بالکل حقیر اور بے قیمت سمجھے، اور اس سے زیادہ جہ نہ لگائے، اور اس کو اپنا مقصد و مطلوب نہ بنائے، بلکہ آخرت کو اپنی اصل منزل اور اپنا دوامی وطن یقین کرتے ہوئے اور دنیا کے مقابلہ میں اس کی جو قدر و قیمت اور جو اہمیت ہے اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے وہاں کی کامیابی حاصل کرنے کی فکر کو اپنی تمام دنیوی فکروں پر غالب رکھے، پس انسان کی سعادت اور آخرت میں اس کی کامیابی کے لئے گویا یہ شرط ہے کہ دنیا اس کی نظر میں حقیر اور بے قیمت ہو، اور اس کے دل کا رُخ آخرت ہی کی طرف ہو، اور "اللهُمَّ لَا (1) عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ" اس کے دل اور اس کی روح کی صدا ہو۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ اپنے خطبات اور مجلسی ارشادات کے ذریعہ بھی اسی کی تعلیم دیتے تھے، اور ایمان لانے والوں کے دلوں پر اپنے عمل اور حال سے بھی اسی کا نقش کرتے تھے۔ الغرض رسول اللہ ﷺ کی جو احادیث اس باب میں درج ہوں گی، جن میں دنیا کی تحقیر اور مذمت کی گئی ہے، جن کامطلب و مقصد اسی روشنی میں سمجھنا چاہئے۔
۷۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ قرآن و حدیث میں جس دنیا کی مذمت کی گئی ہے وہ آخرت کے مقابل والی دنیا ہے، اس لئے دنیا کے کاموں کی جو مشغولیت اور دنیا سے جو تمتع فکرِ آخرت کے تحت ہو اور آخرت کا راستہ اس سے کھوٹا نہ ہوتا ہو وہ مذموم اور ممنوع نہیں ہے، بلکہ وہ تو جنت تک پہنچنے کا زینہ ہے۔
اس تمہیدی مضمون کو ذہن میں رکھ کر اب پڑھئے آگے درج ہونے والی اس سلسلہ کی حدیثیں!
تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں اتنی ہی بے حقیقت اور بے حیثیت ہے جتنا کہ دریا کے مقابلہ میں انگلی پر لگا ہوا پانی۔ اور دراصل یہ مثال بھی صرف سمجھانے کے لیے دی گئی ہے، ورنہ فی الحقیقت دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں یہ نسبت بھی نہیں ہے۔ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب محدود اور متناہی ہے، اور آخرت لامحدود اور لامتناہی ہے، اور ریاضی کا مسلم مسئلہ ہے کہ محدود و متناہی اور لامحدود و لا متناہی کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہوتی، جب حقیقت یہ ہے، تو وہ شخص بڑا ہی محروم اور بہت ہی گھاٹے میں رہنے والا ہے جو دنیا کو حاصل کرنے کے لیے خوب جد و جہد کرتا ہے مگر آخرت کی تیاری کی طرف سے بے فکر اور بے پروا ہے۔
آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَقَالَ : « أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ » فَقَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ ، قَالُوا : « فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ ، مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ » (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گُذر بکری کے ایک بوچے (۱) مردہ بچے پر ہوا، جو راستے میں مَرا پڑا تھا، اُس وقت آپ کے ساتھ جو لوگ تھے اُن سے آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس مرے ہوئے چے کو صرف ایک درہم میں خریدنا پسند کرے گا؟ انہوں نے عرض کیا ہم تو اس کو کسی قیمت پر بھی خریدنا پسند نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: قسم ہے خدا کی کہ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل اور بے قیمت ہے جتنا ذلیل اور بے قیمت تمہارے نزدیک یہ مردار بچہ ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک میں بندوں کی ہدایت اور تربیت کا جو بے پناہ جذبہ رکھ دیا تھا، اس حدیث سے اس کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے، آپ راستہ چل رہے ہیں، بکری کے ایک مردار بچے پر آپ کی نظر پڑتی ہے، گِھن سے منہ پھیر کر نکل جانے کے بجائے آپ صحابہ کو متوجہ کر کے اُس کی اس حالت سے ایک اہم سبق دیتے ہیں، اور ان کو بتلاتے ہیں کہ یہ مردار بچہ تمہارے نزدیک جس قدر حقیر و ذلیل ہے اسی قدر اللہ کے نزدیک دنیا حقیر و ذلیل ہے۔ اس لئے اپنی طلب و فکر کا مرکز اس کو نہ بناؤ، بلکہ آخرت کے طالب بنو۔
آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ ، مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةً » (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی، تو کسی کافر منکر کو وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
یعنی خدا اور رسول کے نہ ماننے والوں، کافروں، منکروں کو دنیا سے جو کچھ مل رہا ہے، (اور جیسا کہ دیکھا جا رہا ہے خوب مل رہا ہے) اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ کے نزدیک دنیا نہایت ہی حقیر اور بے قیمت چیز ہے، اگر اس کی کچھ بھی قدر و قیمت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان باغیوں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا، چنانچہ آخرت جس کی اللہ کے نزدیک قدر و قیمت ہے، وہاں کسی دشمنِ خدا کو ٹھنڈے اور خوشگوار پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا۔
دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ » (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ (مسلم)
تشریح
قید خانہ کی زندگی کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا، بلکہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جب کھانے کو دیا گیا اور جو کچھ دیا گیا کھا لیا، جو پینے کو دیا گیا پی لیا، جہاں بیٹھنے کا حکم دیا گیا بیٹھ گیا، جہاں کھڑے ہونے کو کہا گیا بے چارہ کھڑا ہوگیا، الغرض قید خانہ مین اپنی مرضی بالکل نہیں چلتی، بلکہ چار و ناچار ہر معاملے میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح ایک دوسری خصوصیت قید خانہ کی یہ ہے کہ قیدی اس سے جی نہیں لگاتا، اور اس کو اپنا گھر نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت اس سے نکلنے کا خواہش مند اور متمنی رہتا ہے۔ اور اس کے برعکس جنت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں جنتیوں کے لیے کوئی قانونی پابندی نہیں رہے گی، اور ہر جنتی اپنی مرضی کی زندگی گذارے گا، اور اس کی ہر خواہش اور ہر آرزو پوری ہوگی، نیز لاکھوں برس گذرنے پر بھی کسی جنتی کا دل جنت سے اور جنت کی نعمتوں سے نہیں اکتائے گا، اور نہ کسی کے دل میں جنت سے نکلنے کی خواہش پیدا ہوگی۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:
وَفِيها مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيها خالِدُونَ (رخرف 71: 43)
جنت میں وہ سب کچھ ہے جس ک تمہارے دل چاہیں، اور جس کے نظارہ سے تمہاری آنکھوں کو لذت و سرور حاصل ہو، اور تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔
اور سورہ کہف میں فرمایا گیا:
لا يَبْغُونَ عَنْها حِوَلاً
جنتی جنت سے کہیں اور منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔
پس اس عاجز کے نزدیک اس حدیث میں ایمان والوں کو خاص سبق دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں حکم و قانون کی پابندی کی قید خانہ والی زندگی گذاریں، اور دنیا سے جی نہ لگائیں، اور حقیقت پیشِ نظر رکھیں اس دنیا کو اپنی جنت سمجھنا، اور اس سے اپنا دل لگانا، اور اس کے عیش کو اپنا اصل مقصود و مطلب بنانا کافرانہ طریقہ ہے، پس یہ حدیث گویا ایک آئینہ بھی ہے، جس میں ہر مومن اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔
اگر اس کے دل کا تعلق اس دنیا کے ساتھ وہ ہے جو قید خانہ کے ساتھ قیدی کا ہوتا ہے تو وہ پورا مومن ہے، اور اگر اس نے اس دنیا سے اپنا دل ایسا لگا لیا ہے کہ اس کو اپنا مقصود و مطلقب بنا لیا ہے، تو یہ حدیث بتائی ہے کہ اس کا یہ حال کارفرانہ ہے۔
دنیا فانی ہے اور آخرت غیر فانی، اس لئے آخرت کے طالب بنو
دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " (رواه احمد والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا، اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا، پس (جب دنیا و آخرت میں سے ایک محبوب بنانے سے دوسرے کا نقصان برداشت کرنا لازم اور ناگزیر ہے، تو عقل و دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ) فنا ہو جانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا تو اس کی اصل فکر و سعی دنیا ہی کے واسطے ہوگی اور آخرت کو یا تو وہ بالکل ہی پشِ پشت ڈال دے گا، یا اس کے لیے بہت کم جدو جہد کرے گا، جس کا نتیجہ بہر حال آخرت کا خسارہ ہو گا۔
اسی طرح جو شخص آخرت کو محبوب و مطلوب بنائے گا، اس کی اصلی سعی و کوشش آخرت کے لیے ہوگی اور وہ ایک دنیا پرست کی طرح دنیا کے لئے جدو جہد نہیں کر سکے گا، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ دنیا زیادہ نہ سمیٹ سکے گا، پس صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قاپنی محبت اور چاہت کے لیے آخرت کو منتخب کرے، جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اور دنیا تو بس چند روز میں فنا ہو جانے والی ہے۔
اللہ سے تعلق کے بغیر یہ دنیا لعنتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلاَّ ذِكْرُ اللهِ وَمَا وَالاَهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ . (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: خبردار! دنیا اور جو کچھ دنیا میں ے ہ، اس پر خدا کی لعنت کی پھٹکار ہے، اور اس کے لیے رحمت سے محرومی ہے سوائے خدا کی یاد کے، اور ان چیزوں کے، جن کا خدا سے کوئی تعلق اور واسطہ ہے، اور سوائے عالم اور متعلم کے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ خد اسے غافل کرنے والی یہ دنیا جس کی طلب اور چاہت میں بہت سے نادان انسان خدا کو اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، اپنی حقیقت اور اپنے انجام کے لحاظ سے ایسی ذلیل اور ایسی مردار ہے کہ اللہ کی وسیع رحمت میں بھی اس کے لیے کوئی حصہ نہیں، البتہ اس دنیا میں اللہ کی یاد اور جن چیزوں کا اس سے تعلق ہے، خاص کر علم دین کے حاملین اور متعلمین سو اُن پر اللہ کی رحمت ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف وہی چیزیں اور وہی اعمال اللہ کی رحمت کے لائق ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ سے اور دین سے کوئی تعلق ہو، خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ، لیکن جو چیزیں اور جو اعمال و اشغال اللہ سے اور دین سے بالکل بے تعلق ہیں (اور دراصل دنیا ان ہی کا نام ہے) وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم اور قابل لعنت ہیں۔ پس انسان کی زندگی اگر اللہ کی یاد اور اس کے تعلق سے، اور دین کے علم اور اس کے تعلیم سے خالی ہے، تو وہ رحمت کی مستحق نہیں، بلکہ لعنت کے قابل ہے۔
طالبِ دُنیا گناہوں سے نہیں بچ سکتا
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْ أَحَدٍ مَشَى عَلَى الْمَاءِ إِلَّا ابْتَلَّتْ قَدَمَاهُ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ : " كَذَلِكَ صَاحِبُ الدُّنْيَا لَا يَسْلَمُ مِنَ الذُّنُوبِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے، اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا: حضرت ﷺ! ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ آپ نے فرمایا: اسی طرح دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
صاحب الدنیا (دنیا دار) سے مراد وہ ہی شخص ہے جو دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اس میں لگے، ایسا آدمی گناہوں سے کہاں محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن اگر بندہ کا حال یہ ہو کہ مقصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت ہو، اور دنیا کی مشغولی کو بھی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا ذریعہ بنائے، تو وہ شخص دنیا دار نہ ہو گا، اور دنیا میں بظاہر پوری مشغولی کے باوجود وہ گناہوں سے محفوظ بھی رہ سکے گا۔ یہ مضمون بعض حدیثوں میں آگے صراحت سے آ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو دنیا سے بچاتا ہے
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ . (رواه احمد والترمذى)
قتادہ بن نعمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے، تو دنیا سے اس کو اس طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے پرہیز کراتا ہے، (جبکہ اسکو پانی سے نقصان پہنچتا ہو)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے دنیا در اصل وہی ہے جو اللہ سے غافل کرے، اور جس میں مشغول ہونے سے آخرت کا راستہ کھوٹا ہو، پس اللہ تعالیٰ جن بندوں سے محبت کرتا ہے، اور اپنے خاص انعامات سے اُن کو نوازنا چاہتا ہے، ان کو اس مردار دنیا سے اس طرح بچاتا ہے، جس طرح کہ ہم لوگ اپنے مریضوں کو پانی سے پرہیز کراتے ہیں۔
اپنے مسافر اور اس دنیا کو سرائے سمجھو
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ : « كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ » (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے دونوں مونڈھے پکڑ کے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ: دنیا میں ایسے رہ جیسے کہ تو پردیسی ہے، یا راستہ چلتا مسافر۔ (صحیح بخاری)
تشریح
یعنی جس طرح کوئی مسافر پردیس کو اور رہ گذر کو اپنا اصلی وطن نہیں سمجھتا اور وہاں اپنے لئے لمبے چوڑے انتظامات نہیں کرتا، اسی طرح مومن کو چاہئے کہ اس دنیا کو اپنا اصلی وطن نہ سمجھے، اور یہاں کی ایسی فکر نہ کرے جیسے کہ یہاں ہی اس کو ہمیشہ رہنا ہے، بلکہ اس کو ایک پردیس اور رَہ گُذر سمجھے۔
واقعہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام انسانوں کو جیسا انسان بنانا چاہتے ہین، اور اپنی تعلیم و تربیت سے ان کی جو سیرت بنانا چاہتے ہیں، اس کی اساس و بنیاد یہی ہے کہ آدمی اس دنیوی زندگی کو بالکل عارضی اور چند روزہ زندگی سمجھے اور موت کے بعد والی زندگی کو اصلی اور مستقل زندگی یقین کرتے ہوئے اس کی فکر اور تیاری میں اس طرح لگا رہے، کہ گویا وہ زندگی اس کی آنکھوں کے سامنے ہے، اور گویا وہ اسی دنیا میں ہے۔ جن لوگوں نے یہ بات جس درجے میں اپنے اندر پیدا کر لی، ان کی زندگی اور ان کی سیرت اسی درجے میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ان کی منشاء کے مطابق ہو گئی، اور جو لوگ اپنے میں یہ بات پیدا نہیں کر سکے، ان کی زندگی بھی وہ نہیں بن سکی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ اپنے خطبات اور مواعظ میں اس بنیاد پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔
دنیا اور آخرت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ
عَنْ عَمْروٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، أَلَا وَإِنَّ الْآخِرَةَ أَجَلٌ صَادِقٌ يَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ ، أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ ، أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ ، أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ ، وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ ، {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} (رواه الشافعى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا، اور اپنے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ: سُن لو، اور یاد رکھو کہ دنیا ایک عارضی اور وقتی سودا ہے، جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے (اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، اسی لئے) اس میں ہر نیک و بد کا حصہ ہے، اور سب اس سے کھاتے ہیں، اور یقین کرو کہ آخرت مقرر وقت پر آنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے، اور سب کچھ قدرت رکھنے والا شہنشاہ اسی میں (لوگوں کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا) فیصلہ کرے گا، یاد رکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں، اور سارا شر اور دکھ اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں۔ پس خبردار، خبردار (جو کچھ کرو) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو (اور ہر عمل کے وقت آخرت کے انجام کو پیش نظر رکھو) اور یقین کرو کہ تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور میں پیش کئے جاؤ گے، پس جس شخص نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی، وہ اس کو بھی دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی، وہ اس کو بھی پا لے گا۔ (مسند امام شافعی)
تشریح
انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور سیکڑوں قسم کی بدکاریوں کی جڑ بنیاد یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور آخرت کے انجام سے بے فکر اور بے پروا ہو کر زندگی گذارے، اور اپنی نفسانی خواہشات اور اس دنیا کی فانی لذتوں کو اپنا مقصد اور مطمح نظر بنا لے اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ آنکھوں کے سامنے ہے، اور خدا اور آخرت آنکھوں سے اوجھل ہیں، اس لئے انسانوں کو اس بربادی سے بچانے کا راستہ یہی ہے کہ ان کے سامنے دنیا کی بے حقیقتی اور بے قیمتی کو اور آخرت کی اہمیت اور برتری کو قوت کے ساتھ پیش کیا جائے، اور قیامت میں خدا کے سامنے پیشی اور اعمال کی جزا و سزا کا اور جنت و دوزخ کے ثواب و عذاب کا یقین اُن کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کی جائے۔ حضور ﷺ کے اس خطبہ کا حاصل اور موضوع یہی ہے، اور جیسا کہ عرض کیا گیا، آپ کے اکثر خطبات اور مواعظ میں یہی بنیادی مضمون ہوتا تھا۔
تنبیہ۔۔۔ یہ بات بڑی خطرناک اور بہت تشویشناک ہے کہ دینی دعوت اور دینی وعظ و نصیحت میں دنیا کی بے ثباتی اور بے حقیقتی اور آخرت کی اہمیت کا بیان اور جنت و دوزخ کا تذکرہ جس طرح اور جس ایمان و یقین اور جس قوت کے ساتھ ہونا چاہئے ہمارے اس زمانہ میں اس کا رواج بہت کم ہوگیا ہے، گویا نہیں رہا ہے، اور دین کی تبلیغ و دعوت میں بھی اسی طرح کی باتیں کرنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے جس قسم کی باتیں مادی تحریکوں اور دنیوی نظاموں کی دعوت و تبلیغ میں کی جاتی ہیں۔
دنیا سے نہ لپٹو ، آخرت کے طالب بنو
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى ، وَطُولُ الْأَمَلِ ، فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ ، وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ ، وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تَكُونُوا مِنْ بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا ، فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ ، وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْحِسَابِ وَلَا عَمَلَ " . (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت پر جن بلاؤں کے آنے سے ڈرتا ہوں، ان میں سب سے زیادہ ڈر کی چیزیں هَوَى اور طُولُ الْأَمَلِ ہے، (هَوَى سے مراد یہاں یہ ہے کہ دین و مذہب کے بارے میں اپنے نفس کے رجحانات اور خیالات کی پیروی کی جائے اور طُولُ الْأَمَلِ یہ ہے کہ دنیوی زندگی کے بارہ میں لمبی لمبی آرزوئیں دل میں پرورش کی جائیں، رسول اللہ ﷺ نے ان دو بیماریوں کو بہت زیادہ خوفناک بتلایا، اور آگے اس کی وجہ یہ ارشاد فرمائی) کہ هَوَى تو آدمی کو قبولِ حق سے مانع ہوتی ہے (یعنی اپنے نفسانی رجحانات اور خیالات کی پیروی کرنے والا قبول حق اور اتباع ہدایت سے محروم رہتا ہے) اور طُولُ الْأَمَلِ (یعنی لمبی لمبی آرزؤں میں دل پھنس جانا) آخرت کو بُھلا دیتا ہے اور اس کی فکر اور اس کے لیے تیاری سے غافل کر دیتا ہے، (اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ) یہ دنیا دمبدم چلی جارہی ہے، گزر رہی ہے (کہیں اس کا ٹھہراؤ اور مقام نہیں) اور آخرت (اُدھر سے) چل پڑی ہے، چلی آ رہی ہے اور ان دونوں کے بچے ہیں، (یعنی انسانوں میں کچھ وہ ہیں جو دنیا سے ایسی وابستگی رکھتے ہیں جیسی وابستگی بچوں کو اپنی ماں سے ہوتی ہے، اور کچھ وہ ہیں جن کی ایسی ہی وابستگی اور رغبت بجائے ددنیا کے آخرت سے ہے) پس اے لوگو! اگر تم کر سکت تو ایسا کرو کہ دنیا سے چمٹنے والے اس کے بچے نہ ہو (بلکہ اس دنیا کو دارالعمل سمجھو) تم اس وقت دارالعمل میں ہو (یہاں تمہیں صرف محنت اور کمائی کرنی ہے) اور یہاں حساب اور جزا سزا نہیں ہے، اور کل تم (یہاں سے کوچ کر کے) دار آخرت میں پہنچ جانے والے ہو، اور وہاں کوئی عمل نہ ہو گا (بلکہ یہاں کے اعمال کا حساب ہو گا، اور ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ پائے گا)۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں امت کے بارے میں دو بڑی بیماریوں کا خوف اور خطرہ ظاہر فرمایا ہے، اور امت کو ان سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، ایک هَوَى اور دوسرے طُولُ الْأَمَلِ۔ غور سے دیکھا جائے، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی دو بیماریوں نے امت کے بہت بڑے حصے کو برباد کیا ہے، جن لوگوں میں خیالات اور نظریات کی گمراہیاں ہیں، وہ هَوَى کے مریض ہیں اور جن کے اعمال خراب ہیں وہ طولِ امل اور حبِ دنیا کے مرض میں گرفتار اور آخرت کی فکر اور تیاری سے غافل ہیں، اور علاج یہی ہے جو حضور ﷺ نے اس حدیث کے آخر میں بیان فرمایا۔ یعنی ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو کہ یہ دنیوی زندگی فانی اور صرف چند روزہ ہے، اور آخرت ہی کی زندگی اصلی زندگی ہے، اور وہی ہمارا اصل مقام ہے۔ جب یہ یقین دلوں میں پیدا ہو جائے گا تو خیالات اور اعمال دونوں کی اصلاح آسان ہو جائے گی۔
دولت کی افراط کا خطرہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آگاہی
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَوَاللَّهِ مَا الفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا ، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ » (رواه البخارى ومسلم)
عمر بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں تم پر فقر و ناداری آنے سے نہیں ڈرتا، لیکن مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر ضرور ہے، کہ دنیا تم پر زیادہ وسیع کر دی جائے، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی، پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے لگو، جیسے کہ انہوں نے اس کو بہت زیادہ چاہا تھا (اور اسی کے دیوانے اور متوالے ہو گئے تھے) اور پھر وہ تم کو برباد کر دے، جیسے کہ اس نے ان اگلوں کو برباد کیا (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے سامنے بعض اگلی قوموں اور امتوں کا یہ تجربہ تھا، کہ جب ان کے پاس دنیا کی دولت بہت زیادہ آئی، تو ان میں دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت اور زیادہ بڑھ گئی، اور وہ دنیا ہی کے دیوانے اور متوالے ہو گئے، اور اصل مقصد زندگی کو بھلا دیا، پھر اس کی وجہ سے ان میں باہم حسد و بغض بھی پیدا ہوا، اور بالآخر ان کی اس دنیا پرستی نے ان کو تباہ برباد کر دیا۔ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں اسی کا زیادہ ڈر تھا۔ اس حدیث میں آپ نے از راہِ شفقت امت کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے، اور فرمایا ہے، کہ تم پر فقر و ناداری کے حملے کا مجھے زیادہ ڈر نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس تم میں بہت زیادہ دولت مندی آ جانے سے دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر تمہارے ہلاک و برباد ہو جانے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے۔
آپ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعاو اس خوشنما فتنہ کی خطرناکی سے امت کو خبردار کرنا ہے، تا کہ ایسا وقت آنے پر اس کے برے اثرات سے اپنا بچاؤ کرنے کی وہ فکر کرے۔
اس اُمت کا خاص فتنہ دولت ہے
عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِنَّ لكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً ، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ » (رواه الترمذى)
کعب بن عیاض سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ سے سُنا، آپ ارشاد فرماتے تھے، کہ ہر امت کے لیے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی خاص آزمائش مال ہے۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ میری پیغمبری کے دور میں (جو اَب سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے) مال و دولت کو ایسی اہمیت حاصل ہوگی، اور اس کی ہوس اتنی بڑھ جائے گی کہ وہی اس امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ ہو گا۔ (قرآن مجید میں بھی مال کو فتنہ کہا گیا ہے) اور واقعہ یہ ہے کہ عہدِ نبوی ﷺ سے لے کر ہمارے اس زمانے تک کی تاریخ پر جو شخص بھی نظر ڈالے گا، اسے صاف محسوس ہو گا، کہ مال کے مسئلہ کی اہمیت اور دولت کی ہوس برابر بڑھتی رہی ہے اور بڑھتی ہی جا رہی ہے، اور بلا شبہ یہ ہی اس کا سب سے بڑا فتنہ ہے، جس نے بے شمار بندوں کو خدا کی بغاوت و نافرمانی کے راستے پر ڈال کے اصل سعادت سے محروم کر دیا ہے۔ بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خدا بیزاری اور خدا دشمنی کے علمبردار بھی دولت و معاش ہی کے مسئلہ کی پیٹھ پر سوار ہو کر اپنے دجالی خیالات دنیا میں پھیلاتے ہیں۔
حب مال اور حب جاہ دین کے لیے قاتل ہیں
عَنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ » (رواه الترمذى والدارمى)
کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے گئے ہوں، ان بکریوں کو اس سے زیادہ تباہ نہیں کر سکتے، جتنا تباہ آدمی کے دین کو مال کی اور عزت و جاہ کی حرص کرتی ہے۔ (جامع ترمذی، مسند دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حب مال اور حب جاہ آدمی کے دین کو اور اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں، جتنا کہ بکریوں کے کسی ریوڑ میں چھوڑے ہوئے بھوکے بھیڑیے ان بکریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مال کی اور دنیا کی محبت بڑھاپے میں بھی جوان رہتی ہے
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے (اور بڑھاپے کے اثر سے اس کی ساری قوتین مضمحل ہو کر کمزور پڑ جاتی ہیں) مگر اس کے نفس کی دو خصلتیں اور زیادہ جوان اور طاقت ور ہوتی رہتی ہیں۔ ایک دولت کی حرص، اور دوسری زیادتی عمر کی حرص۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
تجربہ اور مشاہدہ شاہد ہے، کہ انسانوں کا عام حال یہی ہے، اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے، بات یہ ہے کہ انسان کے نفس میں بہت سی ایسی غلط خواہشیں پیدا ہوتی ہیں جو اسی وقت پوری ہوتی ہیں جب کہ اس کے ہاتھ میں دولت ہو، اور زندگی اور توانائی بی ہو، اور ان خواہشوں کی مضرتوں اور بربادیوں سے انسان کو بچانا “ پاسبانِ عقل ” کا کام ہے، مگر بڑھاپے کے اثر سے جب بے چاری یہ عقل بھی مضمحل اور کمزور پڑ جاتی ہے، تو ان خواہشات پر اپنا قابو اور کنٹرول رکھنے سے مجبور ہو جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر عمر میں بہت سی خواہشیں “ ہوس ” کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں، اور اس کی وجہ سے عمر کی زیادتی کے ساتھ مال و دولت کی اور دنیا میں زیادہ سے زیادہ رہنے کی حرص اور چاہت اور زیادہ ترقی کرتی رہتی ہے، کہنے والے نے صحیح کہا ہے: ؎
بنیحہائے خوئے بد محکم شدہقوت برکندنِ آں کم شدہ
لیکن یہ حال عوام کا ہے، اللہ کے جن بندوں نے اس دنیا اور اس کی خواہشوں کی حقیقت اور اس کے انجام کو سمجھ لیا ہے، اور اپنے نفسوں کی تربیت کر لی ہے، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔