مال کی اور دنیا کی محبت بڑھاپے میں بھی جوان رہتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لاَ يَزَالُ قَلْبُ الكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ : فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الأَمَلِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ جوان رہتا ہے، ایک تو دنیا کی محبت، اور دوسری لمبی لمبی تمنائیں۔
تشریح
جیسا کہ پہلی حدیث کی تشریح میں ذکر کیا گیا، عام انسانوں کا حال یہی ہے لیکن جن بندگانِ خدا کو خود شناسی اور خدا شناسی اور دنیا و آخرت کے بارے میں صحیح علم و یقین نصیب ہو، اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بجائے حبِ دنیا کے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس فانی دنیا کی آرزوؤں کی جگہ رضاء الہٰی اور نعمائے اُخروی کا اشتیاق اور اس کی تمنا بڑھاپے میں بھی ان کے دل میں مسلسل بڑھتی اور ترقی کرتی رہتی ہے، اور ان کی عمر کا ہر اگلا دن پہلے دن کے مقابلے میں اس پہلو سے بھی ترقی کا دن ہوتا ہے۔
دولت میں اضافے کی حرص کسی حد پر ختم نہیں ہوتی
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى ثَالِثًا ، وَلاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر آدمی کے پاس مال کے بھرے ہوئے دو میدان اور دو جنگل ہوں، تو وہ تیسرا اور چاہے گا، اور آدمی کا پیٹ تو بس مٹی سے بھرے گا (یعنی مال و دولت کی اس نہ ختم ہونے والی ہوس اور بھوک کا خاتمہ بس قبر میں جا کر ہو گا) اور اللہ اس بندے پر عنایت اور مہربانی کرتا ہے جو اپنا رخ اور اپنی توجہ اس کی طرف کر لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مال و دولت کی زیادہ حرص عام انسانوں کی گویا فطرت ہے، اگر دولت سے ان کا گھر بھی بھرا ہو، اور جنگل کے جنگل اور میدان کے میدان بھی پڑے پڑے ہوں، تب بھی ان کا دل قانع نہیں ہوتا، اور وہ اس میں اور زیادتی اور اضافہ ہی چاہتے ہیں، اور زندگی کی آخری سانس تک ان کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے، اور بس قبر ہی میں جا کر دولت کی اس بھوک اور ننانوے کے اس پھیر سے اُن کو چھٹکارا ملتا ہے۔ البتہ جو بندے دنیا اور دنیا کی دولت کے بجائے اپنے دل کا رُخ اللہ کی طرف کر لیں، اور اس سے تعلق جوڑ لیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے، اور ان کو اللہ تعالیی اس دنیا ہی میں اطمینانِ قلب اور غنائے نفس نصیب فرما دیتا ہے، اور پھر اس دنیا میں بھی ان کی زندگی بڑے مزے کی اور بڑے سکون سے گزرتی ہے۔
طالب آخرت کا قلب مطمئن رہتا ہے ، اور طالبِ دنیا کا دل پراگندہ اور غیر مطمئن
عَنْ أَنَسِ اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبُ الآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ ، وَمَنْ كَانَتِ نِيَّتُهُ طَلَبُ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَشَتَّتْ عَلَيْهِ اَمْرَهُ ، وَلَا يَأْتِيْهِ مِنَهَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ . (رواه الترمذى وراه احمد والدارمى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس شخص کی نیت اور اس کا مقصد اصلی اپنی سعی و عمل آخرت کی طلب ہو، تو اللہ تعالیٰ غنا (قلبی اطمینان، اور مخلوق کی نامحتاجی کی کیفیت) اس کے دل کو نصیب فرمادیں گے، اور اس کے پراگندہ حال کو درست فرما دیں گے۔ اور دنیا اس کے پاس خود بخود ذلیل ہو کر آئے گی۔ اور جس شخص کی نیت اور اپنی سعی و عمل سے جس کا خاص مقصد دنیا طلب کرنا ہو گا، اللہ تعالیٰ محتاجی کے آثار اس کی بیچ پیشانی میں اس کے چہرے پر پیدا کر دیں گے، اور اس کے حال کو پراگندہ کر دیں گے (جس کی وجہ سے اس کو خاطر جمعی کی راحت کبھی نصیب نہ ہوگی) اور (ساری تگ و دَو کے بعد بھی) یہ دنیا اس کو بس اسی قدر ملے گی جس قدر اس کے واسطے پہلے سے مقدر ہو چکی ہوگی۔ (اس حدیث کو حضرت انسؓ سے امام ترمذی نے روایت کیا ہے، اور امام احمد اور دارمی نے اس حدیث کو ابّان کی روایت سے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ سے روایت کیا ہے)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو بندہ آخرت پر یقین رکھتے ہوئے آخرت کی فلاح ہی کو اپنا اصل مطلوب و مقصود بنا لیتا ہے تو اُس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بارے میں اس کو قناعت نصیب فرما کر اس کے دل کو طمانیت اور جمعیت خاطر نصیب فرما دی جاتی ہے، اور دنیا میں سے جو کچھ اس کے لیے مقدر ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی راستہ سے خود اس کے پاس آ جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس جو شخص دنیا کو اپنا اصل مقصود و مطلوب بنا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ محتاجی اور پریشاں حالی اُس پر اس طرح مسلط کر دیتا ہے کہ دیکھنے والوں کو اس کے چہرے پر اور اس کی بیچ پیشانی میں اس کے آثار نظر آتے ہیں، اور دنیا کی طلب میں خون پسینہ ایک کر دینے کے بعد بھی اس طالب دنیا کو بس وہی ملتا ہے، جو پ ہلے ہی سے اس کے لیے مقدر ہے۔ پس جب واقعہ اور حقیقت یہ ہے تو بندہ کو چاہئے کہ آخرت ہی کو اپنا مقصود و مطلوب بنائے، اور دنیا کو بس ایک عارضی اور وقتی ضرورت سمجھ کر اس کی طرف اتنی ہی فکر کرے جتنی کہ کسی عاورضی وقتی چیز کی فکر ہونی چاہیے۔
دولت میں بندے کا واقعی حصہ کیا ہے ؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِي ، مَالِي ، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ : مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ ، وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ " (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے جو واقعی اس کا ہے، وہ بس تین مدیں ہیں، ایک وہ جو اس نے کھا کے ختم کر دیا، دوسرے وہ جو پہن کر پُرانا کر ڈالا، اور تیسرے وہ جو اس نے راہِ خدا میں دیا، اور اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کر لیا، اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بندہ دوسرے لوگوں کے لیے اس کو چھوڑ جانے والا ہے، اور خود یہاں سے ایک دن رخصت ہو جانے والا ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آدمی کے کمائے ہوئے اور جوڑے ہوئے مال میں سے واقعۃً اور حقیقۃً اس کا بس وہی ہے جو اس نے کھانے پہننے کی ضروریات میں یہاں اپنے اوپر خرچ کر لیا، یا راہِ خدا میں دے کے آخرت کے واسطے اللہ تعالیٰ کے یہاں جمع کر دیا، اس کے سوا جو کچھ ہے وہ درحقیقت اس کا نہیں ہے۔ بلکہ ان وارثوں کا ہے جن کے لیے وہ اس کو چھوڑ جانے ولا ہے۔
دولت میں بندے کا واقعی حصہ کیا ہے ؟
عَنِ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ » قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ ، قَالَ : « فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ » (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون ایسا ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ (یعنی اپنے ہاتھ میں مال آنے سے زیادہ محبوب جس کو اپنے وارثوں کے ہاتھ میں مال آنا ہو؟) لوگوں نے عرض کیا: ہم میں سے تو ہر ایک کا حال یہ ہے کہ اس کو اپنے وارثوں کے مال سے زیادہ محبوب اپنا ہی مال ہے (یعنی ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کی یہ چاہت ہو کہ مال اس کو نہ ملے، بلکہ اس کے وارثوں کو ملے) آپ نے فرمایا: جب یہ بات ہے، تو معلوم ہونا چاہئے کہ آدمی کا مال بس وہی ہے جس کو اس نے آگے چلتا کر دیا، اور جس قدر اس نے بعد کے لیے رکھا وہ اس کا نہیں ہے، بلکہ اس کے وارثوں کا ہے۔ (لہٰذا دانش مند آدمی کو چاہئے کہ وارثوں کے لیے چھوڑنے سے زیادہ فکر، اپنی آخرت کے لیے سرمایہ محفوظ کر دینے کی کرے، جس کی صورت یہی ہے کہ سینت سینت کے گھر میں رکھنے کے بجائے خیر کے مصارف میں صرف بھی کرتا رہے)۔ (صحیح بخاری)
دولت میں بندے کا واقعی حصہ کیا ہے ؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَبْلُغُ بِهِ , قَالَ : " إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : مَا قَدَّمَ . وَقَالَ بَنُو آدَمَ : مَا خَلَّفَ؟ " (رواه البيهقى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب مرنے والا مرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں، اور پوچھتے ہیں، کہ اس نے اپنے واسطے آگے کیا بھیجا (یعنی کیا اعمالِ خیر کئے، اور اپنی آخرت کے لئے اللہ کے خزانے میں کیا سرمایہ جمع کیا ہے) اور عام انسان آپس میں کہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ، اس نے کتنا مال چھوڑا؟ (شعب الایمان للبیہقی)
دولت کے بندے خدا کی رحمت سے محروم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَلُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ . (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بندہ دینار خدا کی رحمت سے محروم ہو اور بندہ درہم خدا کی رحمت سے دور رہے۔ (ترمذی)
تشریح
جو لوگ مال و دولت اور دنانیر و دراہم کے پرستار ہیں، اور انہوں نے دولت ہی کو اپنا معبود اور محبوب و مطلوب بنا لیا ہے اس حدیث میں ان سے بیزاری کا اعلان اور ان کے حق میں بد دعا ہے کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم اور دور ہیں۔
مال و دولت کی پرستش اور بندگی یہ ہے کہ اس کی چاہت اور طلب میں بندہ ایسا گرفتار ہو کہ اللہ کے احکام اور حلال و حرام کی حدود کا بھی پابند نہ رہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ، کہ مجھے تجارت اور دولت اندوزی کا حکم نہیں دیا گیا ہے
عَنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ مرسلاً قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا أَوْحَى اللهُ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ وَلَكِنْ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ » (رواه فى شرح السنة)
جُبیر بن نُفیر تابعی سے روایت ہے وہ بطریق ارسال (۱) رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں، کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے اس کی وحی نہیں کی گئی، اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں مال و دولت جمع کروں، اور تجارت و سودا گری کو اپنا پیشہ اور مشغلہ بناؤں۔ بلکہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے، اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اپنے رب کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہ، اور ہو جا اللہ کے حضور میں جھکنے والوں اور گرنے والوں میں سے اور کئے جا بندگی اپنے پروردگار کی، موت آنے تک۔ (شرح السنہ)
تشریح
جن کو شریعت کے اصول و احکام کا کچھ علم ہے، وہ جانتے ہیں کہ تجارت اور اس کے ذریعہ دولت کمانا ناجائز نہیں ہے، اور شریعت کے احکام کا ایک بڑا حصہ تجارت وغیرہ مالی معاملات سے بھی متعلق ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خود ان تاجروں کی بڑی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں، جو امانت داری، راستبازی اور دیانت داری کے ساتھ تجارت کرتے ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ کا جو خاص مقام تھا اور جو کام اللہ تعالیٰ کو آپ سے لینا تھا، اس میں تجارت جیسے کسی جائز معاشی مشغلے میں بھی مشغول ہونے کی گنجائش نہ تھی، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو قناعت اور توکل کا وافر سرمایہ دے کر اس فکر سے فارغ بھی فرما دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ مجھے تو ان ہی کاموں میں اپنے کو لگانا ہے جن کا مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر اور حکم ہے، میرا کام تجارت اور دولت اندوزی نہیں ہے۔
آپ کے امتیوں میں بھی اللہ کے جو بندے خالص متوکلانہ طرزِ زندگی کو اپنے لیے پسند کریں، اور اس راستے کے شدائد و مصائب پر صبر کی ہمت رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی دولت ان کو میسر ہو، تو ان کے لیے بھی بلا شبہ یہی افضل ہے، لیکن کن کا یہ حال نہ ہو، ان کو کسی جائز معاشی مشغلہ کا اختیار کرنا خاص کر ہمارے اس زمانہ میں ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے دولت و ثروت کی پیشکش اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فقر پسندی
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا ، قُلْتُ : لاَ يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ . (رواه احمد والترمذى)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے یہ بات رکھی کہ میرے لیے وہ مکہ کی وادی کو (یا ص کے سنگریزوں کو) سونا بنا دے، اور سونے سے بھر دے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے سامنے یہ بات رکھی گئی، کہ اگر تم دولت مند بننا چاہو، تو تمہارے لئے مکہ کی وادی کو ہم سونے سے بھر سکتے ہیں) تو میں نے عرض کیا کہ میرے پروردگار! میں اپنے لئے یہ نہیں مانگتا، بلکہ میں (ایسی ناداری اور غریبی کی ھالت میں رہنا پسند کرتا ہوں کہ) ایک دن پیٹ بھر کھاؤں، اور ایک دن بھوکا رہوں، تو جب مجھے بھوک لگے تو آپ کو یاد کروں، آپ کے سامنے عاجزی اور گریہ و زاری کروں، اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے، تو میں آپ کی حمد اور اور آپ کا شکر کروں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے فقر و فاقہ کی جس حالت میں زندگی گزاری، وہ اپنے لئے خود آپ نے پسند کی تھی، اور اپنے اللہ سے آپ نے اس کو خود مانگا تھا۔ (آپ کی معیشت سے متعلق حدیثیں عنقریب ہی مستقل عنوان کے تحت درج کی جائیں گی)۔
سب سے زیادہ قابلِ رشک بندہ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ ، أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ ، وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ، وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ » ، ثُمَّ نَقَرَ بِإِصْبَعَيْهِ فَقَالَ : « عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ » (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے، جو سبک بار (یعنی دنیا کے ساز و سامان اور مال و عیال کے لحاظ سے بہت ہلکا پھلکا) ہو، نماز اس کا بڑا حصہ ہو، اور اپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ اور صفتِ احسان کے ساتھ کرتا ہو، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس کا شعار ہو، اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ اور خلوت میں کرتا ہو، اور وہ چھپا ہوا اور گمنامی کی حالت میں ہو، اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں، اور اس کی روزی بھی بقدر کفاف ہو، اور وہ اس پر صابر و قانع ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کی چٹکی بجائی (جیسے کہ کسی چیز کے ہو جانے پر اظہارِ تعجب یا اظہار حیرت کے لیے چٹکی بجاتے ہیں) اور فرمایا جلدی آگئی اس کو موت، اور اس پر رونے والیاں بھی کم ہیں، اس کا ترکہ بھی بہت تھوڑا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ میرے دوستوں اور اللہ کے مقبول بندوں کے الوان و احوال مختلف ہیں، لیکن ان میں بہت زیادہ قابلِ رشک زندگی ان اہلِ ایمان کی ہے، جن کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ساز و سامان اور مال و عیال کے لحاظ وسے وہ بہت ہلکے، مگر نماز اور عبادات میں ان کا خاص حصہ، اور اس کے باوجود ایسے نامعروف اور گمنام کہ آتے جاتے کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کے نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ اور فلاں صاحب ہیں، اور ان کی روزی بس بقدرِ کفاف، لیکن وہ اس پر دل سے صابر و قانع۔ جب موت کا وقت آیا، تو ایک دم رخصت، نہ پیچھے زیادہ مال و دولت اور نہ جائداد و مکانات اور باغات کی تقسیم کے جھگڑے، اور نہ زیادہ ان پر رونے والیاں۔
بلاشبہ بڑی قابل رشک ہے اللہ کے ایسے بندوں کی زندگی، اور الحمدللہ کہ اس قسم کی زندگی والوں سے ہماری یہ دنیا اب بھی خالی نہیں ہے۔
خوش حالی چاہنے والی بیوی کو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا جواب
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : قُلْتُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ : أَلَا تَبْتَغِي لِأَضْيَافَكَ مَا يَبْتَغِي الرِّجَالُ لِأَضْيَافِهِمْ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَئُودًا , لَا يُجَاوِزُهَا الْمُثْقِلُونَ , فَأُحِبُّ أَنْ أَتَخَفَّفَ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو الدرداء ؓ کی بیوی ام الدرداء سے روایت ہے کہ میں نے ابو الدرداء سے کہا، کہ: کیا بات ہے، تم مال و منصب کیوں نہیں طلب کرتے، جس طرح کہ فلان اور فلاں طلب کرتے ہین، انہوں نے فرمایا، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، کہ تمہارے آگے ایک بڑی دشوار گذار گھاٹی ہے، اس کو گراں بار اور زیادہ بوجھ والے آسانی سے پار نہ کر سکیں گے۔ اس لئے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ اس گھاٹی کو عبور کرنے کے لیے ہلکا پھلکا رہوں (اس وجہ سے میں اپنے لئے مال و منصب طلب نہیں کرتا)۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے اخیر دورِ حیات میں، اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسی صورتیں پیدا ہو گئی تھیں کہ مختلف راہوں سے اموال آتے تھے، اور طالبین اور اہلِ حاجت کو تقسیم کئے جاتے تھے، اسی طرح بہت سے لوگوں کو خاص خدمات اور مناصب پر مقرر کیا جاتا تھا، اور ان کو اس خدمت اور کارکردگی پر وظیفہ ملتا تھا، جس سے ان کا گذارہ آسان ہو جاتا تھا۔ لیکن بعض صحابہ کرامؓ اس زمانہ میں بھی فقر و فاقہ کی زندگی ہی کو اپنے لیے پسند کرتے تھے، ان ہی میں سے حضرت ابو الدرداءؓ بھی تھے، وہ آخرت کے محاسبہ اور محاسبہ اور محشر کی تکلیفوں اور سختیوں سے امن اسی میں سمجھتے تھے کہ دنیا سے کم سے کم حصہ لیا جائے، ا ور بس کسی طرح زندگی بسر ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بتلایا تھا کہ آخرت کی دشوار گذار گھاٹیوں کو وہ ہی لوگ آسانی سے عبور کر سکیں گے جو دنیا میں ہلکے پھلکے رہیں گے، اور جو لوگ دنیا مین اپنے اوپر زیادہ بوجھ لاد لیں گے، وہ آسانی سے ان گھاٹیوں کو پار نہ کر سکیں گے۔
موت اور افلاس میں خیر کا پہلو
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتُ ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ " (رواه احمد)
محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں ایسی ہیں جن کو آدمی ناپسند ہی کرتا ہے (حالانکہ ان میں اس کے لیے بڑی بہتری ہوتی ہے) ایک تو وہ موت کو پسند نہیں کرتا، حالانکہ موت اس کے لیے فتنہ سے بہتر ہے، اور دوسرے وہ مال کی کمی اور ناداری کو نہیں پسند کرتا، حالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو بہت مختصر اور ہلکا کرنے والی ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
واقعہ یہی ہے کہ ہر آدمی موت سے اور ناداری و افلاس سے گھبراتا ہے اور ان سے بچنا چاہتا ہے حالانکہ موت اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے، کہ مرنے کے بعد آدمی دنیا کے دین سوز فتنوں سے مامون و محفوظ ہو جاتا ہے، اور مال و دولت کی کمی اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے کہ ناداروں اور مفلسوں کو آخرت مین بہت مختصر حساب دینا ہو گا، اور وہ اس سخت مرحلہ سے بڑی جلدی اور آسانی سے فارغ ہو جائیں گے۔ جب انسان افلاس و ناداری کی مصیبت میں گرفتار ہو، یا کسی عزیز قریب کی موت کا صدمہ اس کو پہنچا ہو، تو اس وقت وہ رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات سے بڑی تسکین اور تسلی حاصل کر سکتا ہے۔
موت اور افلاس میں خیر کا پہلو
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ ، الْفَقِيرَ ، الْمُتَعَفِّفَ ، أَبَا الْعِيَالِ » (رواه ابن ماجه)
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو اپنا وہ مومن بندہ بہت پیارا اور محبوب ہے جو غریب و نادار اور عیال دار ہو، اور اس کے باوجود باعفت ہو (یعنی ناجائز طریقے سے پیسہ حاصل کرنے سے اور کسی کے سامنے اپنی ضروریات ظاہر کرنے سے بھی پرہیز کرتا ہو)۔
تشریح
بلا شبہ جو شخص افلاس اور فقر و فقہ کی حالت میں بھی محرمات و مشتبہات سے اپنی حفاظت کرے، اور اپنی تنگ حالی کا اظہار بھی نہ کرے، وہ بڑا باہمت اور اللہ کا پیارا بندہ ہے۔
جو بندگانِ خدا اس دنیا میں تنگ حالی و ناداری میں مبتلا کئے گئے ہیں اور غریبی اور فقر و فاقہ کی زندگی گذار رہے ہیں، کاش! وہ رسول اللہ ﷺ کی ان حدیثوں سے تسلی اور سبق حاصل کریں، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے محبوب ﷺ والی، جو فقیرانہ و غریبانہ زندگی نصیب فرمائی ہے، اس کو اپنے حق میں نعمت سمجھ کر صابر و شاکر رہیں، تو فقر و فاقہ کی تکلیفیں ہی ان کے لیے سامانِ راحت و لذت بن جائیں۔
اپنی بھوک اور حاجتمندی کو لوگوں سے چھپانے والے کے لیے اللہ کا وعدہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حَلَالٍ " . (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھوکا ہو، یا اس کو کوئی اور خاص حاجت ہو، اور وہ اپنی اس بھوک اور حاجت کو لوگوں سے چھپائے (یعنی اُن کے سامنے ظاہر کر کے ان سے سوال نہ کرے) تو اللہ عز وجل کے ذمہ ہے، کہ اس کو حلال طریقے سے ایک سال کا رزق عطا فرمائے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اللہ کے ذمہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے اپنا یہ دستور مقرر فرما لیا ہے، اور جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر اور اس کی شانِ کریمی پر دل کے پورے یقین کے ساتھ اس کا تجربہ کرے گا، ان شاء اللہ وہ اس کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔
زہد اختیار کرو ، اللہ کے ، اور بندوں کے محبوب بن جاؤ گے
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ؟ قَالَ « ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ ، وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ » (رواه الترمذى وابن ماجه)
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے ایسا کوئی عمل بتلائیے کہ جب میں اس کو کروں، تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے، اور اللہ کے بندے بھی مجھ سے محبت کریں، آپ نے فرمایا، کہ: دنیا کی طرف سے اعراض اور بے رخی اختیار کر لو، تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور جو (مال و جاہ) لوگوں کے پاس ہے اس سے اعراض اور بے رُخی اختیار کر لو، تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
تشریح
زُہد اور اُس کے ثمرات و برکات
زُہد کے لغوی معنی کسی چیز سے بے رغبت ہو جانے کے ہیں، اور دین کی خاص اصطلاح میں آخرت کے لیے دنیا کے لذائذ و مرغوبات کی طرف سے بے رغبت ہو جانے اور عیش و تنعم کی زندگی ترک کر دینے کو زہد کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے بھی اور اپنے ارشادات میں بھی امت کو زہد کی بڑی ترغیب دی ہے، اور اس کے بہت کچھ دینوی و اخروی ثمرات و برکات بیان فرمائے ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ دنیا کی محبت اور چاہت ہی آدمی سے وہ سارے کام کراتی ہے، جن کی وجہ سے وہ خدا کی محبت کے لائق نہیں رہتا، اس لیے اللہ کی محبت حاصل کرنے کی راہ یہی ہے کہ دنیا کی چاہت اور رغبت دل میں نہ رہے، جب دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی، تو دل اللہ کی محبت کے لیے فارغ ہو جائے گا، اور پھر اس کی اطاعت اور فرمانبرداری ایسی خالص ہونے لگے گی، کہ وہ بندہ اللہ کو محبوب اور پیارا ہو جائے گا۔
اس طرح جب کسی بندہ کے متعلق عام طور سے لوگ یہ جان لیں کہ یہ ہماری کسی چیز میں حصہ نہیں چاہتا، نہ یہ مال کا طالب ہے، نہ کسی عہدہ اور منصب کا، تو پھر لوگوں کا اس سے محبت کرنا گویا انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔
فائدہ۔۔۔ زہد کے بارے میں یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ جس شخص کے لیے دنیا کی لذتیں اور راحتیں حاصل کرنے کے مواقع ہی نہ ہوں، اور اس مجبوری کی وجہ سے وہ دنیا میں عیش نہ کرتا ہو، وہ زاہد نہیں ہے، زاہد وہ ہے جس کے لیے دنیا کے عیش و تنعم کے پورے مواقع میسر ہوں، مگر اس کے باوجود وہ اس سے دل نہ لگائے اور متنعمین کی سی زندگی نہ گذارے۔ کسی شخص نے حضرت عبداللہ بن مبارک کو زاہد کہہ کے پکارا، انہوں نے فرمایا، کہ: زاہد تو عمر بن عبدالعزیز تھے، کہ خلیفہ وقت ہونے کی وجہ سے دنیا گویا ان کے قدموں میں تھی، لیکن انہوں نے اس سے حصہ نہیں لیا۔
زاہدوں کی صحبت میں رہا کرو
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاَبِىْ خَلَّادٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطَى زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ ، فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ ، فَإِنَّهُ يُلْقِي الْحِكْمَةَ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو ہریرہ ؓ اور ابو خلادؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی بندہ کو اس حال میں دیکھو کہ اس کو زُہد، یعنی دنیا کی طرف سے بے رغبتی و بے رُخی اور کم سخنی (یعنی لغو اور فضول باتوں سے زبان کو محفوظ رکھنے کی صفت) اللہ نے نصیب فرمائی ہے تو اس کے پاس اور اس کی صحبت میں رہا کرو، کیوں کہ جس بندے کا یہ حال ہوتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمت کا القا ہوتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
حکمت کے القا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقتوں کو صحیح طور پر سمجھتا ہے اور اس کی زبان سے وہی باتیں نکلتی ہیں جو صحیح اور نافع ہوتی ہیں، اس لئے اس کی صحبت کیمیا اثر ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں حکمت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:
وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا
جس کو حکمت عطا کی جائے، اس کو خیر کثیر عطا کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے زاہد بندوں کو نقد صلہ
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَهِدَ عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا أَثْبَتَ اللهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ ، وَأَنْطَقَ لَهَا لِسَانَهُ وَبَصَّرَهُ عَيْبَ الدُّنْيَا وَدَاءَهَا وَدَوَاءَهَا " . " وَأَخْرَجَهُ مِنْهَا سَالِمًا إِلَى دَارِ السَّلَامِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو بندہ بھی زہد اختیار کرے (یعنی دنیا کی رغبت و چاہت اپنے دل سے نکال دے، اور اس کی خوش عیشی و خوش باشی کی طرف سے بے رغبتی اور بے رخی اختیار کر لے) تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے دل میں حکمت کو اگائے گا، اور اس کی زبان پر بھی حکمت کو جاری کرے گا، اور دنیا کے عیوب اور اس کی بیماریاں اور پھر اس کا علاج معالجہ بھی اس کو آنکھوں سے دکھا دے گا، اور دنیا سے اس کو سلامتی کے ساتھ نکال کر جنت میں پہنچا دے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اوپر کی حدیث سے بھی معلوم ہوا تھا کہ دنیا میں جو شخص زہد اختیار کرے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو حکمت القا کی جاتی ہے، حضرت ابوذر غفاریؓ کی اس حدیث سے اس کی اور زیادہ تفصیل اور تشریح معلوم ہوئی، اس حدیث میں:
أَثْبَتَ اللهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ
اللہ اس کے دل میں حکمت اگاتا ہے
کے بعد جو کچھ فرمایا گیا ہے، وہ گویا اسی حکمت کی تفصیل و تشریح ہے، اور مطلب یہ ہے کہ زہد اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی دنیا میں پہلا نقد صلہ یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں حکمت اور معرفت کا تخم ڈال دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے نشونما پاتا رہتا ہے، اور ترقی کرتا رہتا ہے، اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی زبانوں سے حکمت ہی کا چشمہ جاری رہتا ہے، اور دنیا کے عیوب و امراض گویا ان کو آنکھوں سے دکھا دئیے جاتے ہیں، اور ان کے علاج معالجہ میں بھی ان کو خاص بصیرت عطا ہوتی ہے۔ اور دوسرا خاص انعام ان بندوں پر یہ ہوتا ہے کہ ان کو ایمان اور تقویٰ کی سلامتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے اٹھاتا ہے اور وہ اس فانی دنیا سے نکال کر جاودانی عالم میں یعنی دارالسلام جنت میں پہنچا دئیے جاتے ہیں۔
خاصانِ خدا عیش و تنعم کی زندگی نہیں گذارتے
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ : " إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ؛ فَإِنَّ عِبَادَ اللهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ " (رواه احمد)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو یمن کی طرف روانہ کیا تو نصیحت فرمائی کہ معاذ آرام طلبی اور خوش عیشی سے بچتے رہنا اللہ کے خاص بندے آرام طلب اور خوش عیش نہیں ہوا کرتے۔ (مسند احمد)
تشریح
دنیا میں آرام و راحت اور خوش عیشی کی زندگی گذارنا اگرچہ حرام اور ناجائز نہیں ہے لیکن اللہ کے خاص بندوں کا مقام یہی ہے کہ وہ دنیا میں تنعم کی زندگی اختیار نہ کریں: اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ .
جب کسی بندہ کو شرح صدر کی دولت نصیب ہوتی ہے تو اس کی زندگی میں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر نمایاں ہو جاتی ہے
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : {فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ} ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النُّورَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ انْفَسَحَ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَلْ لِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، التَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ ، وَالْإِنَابَةِ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ ، وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “ فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ اس کو اپنی راہ پر لگائے اور اپنی رضا اور اپنا قرب نصیب فرمائے، تو کشادہ کر دیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے یعنی عبدیت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری والی زندگی کے لیے اس کا دل کھول دیا جاتا ہے) یہ آیت تلاوت فرمانے کے بعد اس کی تفصیل اور تشریح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: نور جب سینہ میں آتا ہے تو سینہ اس کی وجہ سے کھل جاتا ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا اس حالت کی کوئی علامت بھی ہے جس سے اس کو پہچانا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ: ہاں! دنیا جو دھوکے فریب کی جگہ ہے اس سے طبیعت کا ہٹ جانا اور اُچاٹ ہو جانا (یعنی توبہ و استغفار، اور معاصی سے اجتناب، اور عبادت کی کثرت کے ذریعہ موت کی تیاری کرنا)۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ کو اپنی خاص عبدیت سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک خاص نور اور جذبہ ربانی پیدا کر دیتا ہے، جس سے اس کا سینہ عبدیت والی زندگی کے لیے کھل جاتا ہے، اور پھر اس کے نتیجہ میں دنیا سے بے رغبتی و بے رخی اور آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کی لقا اور جنت کا شوق اور اس کی تیاری یہ ساری چیزیں اس کی زندگی میں ابھر جاتی ہیں، اور ان کے ذریعہ اس بات کو جانا جا سکتا ہے کہ اس بندہ کو وہ خاص نور نصیب ہو گیا، اور جذبہ ربانی اس کے دل میں ڈال دیا گیا ہے۔
اس امت کے صلاح کی بنیاد یقین اور زہد ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالْيَقِينِ وَالزُّهْدِ ، وَأَوَّلُ فَسَادِهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
روایت ہے عمرو بن شعیب سے، وہ روایت کرتے ہیں اپنے والد شعیب سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اس امت کی پہلی نیکی اور بہترین یقین اور زُہد ہے اور اس کی پہلی خرابی بخل اور دنیا میں زیادہ رہنے کی آرزو ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اس امت کی صلاح و فلاح اور اس کے کمالات و ترقیات کی بنیاد اس کی دو صفتیں تھیں، ایک یقین اور دوسری زہد، اور جب امت میں بگاڑ شروع ہو گا تو سب سے پہلے یہی دو صفتیں اس میں سے جائیں گی، اور ان کی ضد بخل اور دنیا میں زیادہ رہنے کی آرزو آئے گی، اور اس کے بعد خرابیوں اور برائیوں کا نہ ختم ہونے ولا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور امت برابر گرتی ہی چلی جائے گی۔
شارحین نے جیسا کہ لکھا ہے: اس حدیث میں یقین سے مراد خاص اس حقیقت کا یقین ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے اور جو اچھی یا بری حالت کسی پر آتی ہے وہ اللہ کی طرف سے اور اللہ کے فیصلہ سے آتی ہے (۱) اور زہد کا مطلب جیسا کہ پہلے بھی معلوم ہو چکا ہے یہ ہے کہ دنیا سے دل نہ لگایا جائے، اور اس کی ناپائیدار لذتوں اور راحتوں کو مطلوب و مقصود نہ بنایا جائے، اور اس یقین اور زہد کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے حاصل ہو جانے کے بعد آدمی اللہ کے راستے میں اور اعلیٰ مقاصد کے لئے جان و مال خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتا، یعنی صاحبِ یقین اور زاہد کے لیے کسی اچھے مقصد کے لیے اور اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کر دینا اور خطرات مین کود پڑنا آسان ہو جاتا ہے، اور یہی مومن کی ساری ترقیوں کی کنجی ہے، اور جب مومن ان صفات سے خالی ہو جائے، یعنی بجائے اللہ پر یقین کے اس کا یقین اپنے مال پر ہو جائے، اور وہ سمجھنے لگے کہ اگر مال میرے پاس ہو گا تو زندگی اچھی گذرے گی، اور مال نہ ہو گا تو میں تکلیفوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاؤں گا، تو اس مین ضرور بخل پیدا ہو جائے گا، اور اسی طرح جب زہد کی صفت اس میں نہ رہے گی اور دنیا اس کی مطلوب و مقصود بن جائے گی تو اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ رہنے کی خواہش لازماً اس کے دل میں پیدا ہو جائے گی جس کو حدیث میں امل سے تعبیر کیا گیا ہے، اور ظاہر ہے کہ بخل اور امل پیدا ہو جانے کے بعد مومن اپنے اصل مقام سے گرتا ہی چلا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی خاص غرض و غایت اور اس میں امت کے لیے خاص ہدایت یہ ہے کہ امت کی صلاح و فلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس میں یقین اور زہد کی صفات پیدا کرنے کی اور ان ایمانی صفات کی حفاظت کی پوری فکر اور جدو جہد کی جائے، اور بخل اور امل (یعنی دنیا میں زیادہ رہنے کی آرزو) جیسی غیر ایمانی صفات سے اپنے قلوب کی حفاظت کی جائے، امت کی صلاح و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔