Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 11 of 106

201Maarif-ul-Hadith

زہد کیا ہے ، اور کیا نہیں

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الحَلاَلِ وَلاَ إِضَاعَةِ الْمَالِ وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لاَ تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدِ اللهِ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ . (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: دنیا کے بارے میں زہد اور اس کی طرف سے بے رغبتی (جو خاص ایمانی صفت ہے) وہ حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ زہد کا اصل معیار اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس اور تمہارے ہاتھ میں ہو، اس سے زیادہ اعتماد اور بھروسہ تم کو اس پر ہو جو اللہ کے پاس اور اللہ کے قبضہ میں ہے، اور یہ کہ جب تم کو کوئی تکلیف اور ناخوش گواری پیش آئے تو اس کے اخروی ثواب کی چاہت اور رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف اور ناگواری کی بات تم کو پیش ہی نہ آتی۔ (ترمذی و ابن ماجہ) تشریح بہت سے لوگ ناواقفی سے زہد کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی دنیا کی سارنی نعمتوں، راحتوں اور لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر لے، نہ کبھی لذیذ کھانا کھائے، نہ ٹھنڈا پانی پئیے، نہ اچھا کپڑا پہنے، نہ کبھی اچھے نرم بستر پر سوئے اور اگر کہیں سے کچھ آ جائے تو اس کو بھی اپنے پاس نہ رکھے، خواہ جلدی سے کہیں پھینک ہی دے، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اسی غلط خیالی کی اصلاح فرمائی ہے، آپ کے ارشاد کا حاصل یہ ے کہ زہد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے اپنی جن نعمتوں کا استعمال بندوں کے لئے حلال کیا ہے، آدمی ان کو اپنے اوپر حرام کر لے، اور اگر روپیہ پیسہ ہاتھ میں آئے تو اسے برباد کر دے، بلکہ زہد کا اصل معیار اور تقاضا یہ ہے کہ جو اس دنیا میں اپنے پاس اور اپنے ہاتھ میں ہو اس کو فانی اور ناپائیدار یقین کرتے ہوئے اس پر اعتماد اور بھروسہ نہ کرے، اور اس کے مقابلہ میں اللہ کے غیر فانی غیبی خزانوں پر اور اس کے فضل پر زیادہ اعتماد اور بھروسہ کرے، اور دوسرا معیار اور دوسری علامت زہد کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب کوئی تکلیف اور مصیبت بندہ کو پہنچ جائے تو اس کے اُخروی اجر و ثواب کی چاہت اور رغبت اس کے دل میں اس مصیبت اور تکلیف کے نہ پہنچنے کی آرزو سے زیادہ ہو یعنی بجائے اس کے کہ اس کا دل اس وقت یہ کہے کہ کاش یہ تکلیف مجھے نہ پہنچی ہوتی، اس کے دل کا احساس یہ ہو کہ آخرت میں مجھے اس تکلیف کا جو اجر و ثواب ملے گا، ان شاء اللہ وہ تکلیف نہ پہنچنے کے مقابلے میں میرے لیے ہزاروں درجہ بہتر ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ آدمی کا یہ حال جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ اس کو عیش دنیا کے مقابلہ میں عیش آخرت کی زیادہ فکر ہو، اور یہی زہد کی اصل و اساس ہے۔ اس حدیث سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ بندوں کو اس دنیا میں عافیت اور راحت کے بجائے تکلیف اور مصیبت کی تمنا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کرنی چاہئے! دوسری حدیثوں میں اس سے صریح ممانعت آئی ہے اور صحیح روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ صحابہ کرامؓ کو ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت اور خیریت ہی کی دعا اور استدعا کیا کرو (سلوا الله العافية) اور خود آپ کا معمول و دستور بھی یہی تھا، پس حضرت ابوذرؓ کی مندرجہ بالا حدیث کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بندہ اس دنیا میں مصائب اور تکالیف کی دعا یا تمنا کرے، بلکہ اس کا مطلب و مدعا صرف یہ ہے کہ جب اللہ کے حکم سے کوئی مصیبت یا تکلیف بندہ کو پہنچ جائے تو پھر مومن کا مقام اور زہد کا تقاضا یہ ہے کہ اس مصیبت یا تکلیف کا جو اجر و ثواب آخرت میں ملنے ولا ہے وہ اس کو اس کے نہ پہنچنے سے زیادہ محبوب و مرغوب ہو ان دونوں باتوں کے فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔

202Maarif-ul-Hadith

زہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم : اپنے اور اپنے خاص متعلقین کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فقر پسندی

عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ . (رواه الترمذى والبيهقى فى شعب الايمان ورواه ابن ماجه عن ابى سعيد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھانا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما۔ (جامع ترمذی و شعب الایمان للبیہقی اور ابن ماجہ نے اسی کو ابو سعید خدرؓ سے روایت کیا ہے) تشریح ابھی چند صفحے پہلے یہ حدیث گذر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی، کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کے لیے مکہ کی ودی کو سونے سے بھر دیا جائے تو آپ نے عرض کیا: نہیں میرے پروردگار! میں تو ایسی فقیرانہ زندگی چاہتا ہوں کہ ایک دن کھانے کو ہو، اور ایک دن کھانے کو نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے سوچ سمجھ کر اپنے لئے فقیرانہ زندگی کو پسند فرمایا تھا اور یہی آپ کی حقیقت شناس مبارک طبیعت کا بھی میلان تھا اور اس مین کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا جو مقام و منصب تھا، اور جو کارِ عظیم آپ سے متعلق تھا اُس کے لئے یہ فقر و مسکنت کی زندگی ہی زیادہ مناست و بہتر تھی۔ اور اگر اللہ تعالیٰ قناعت و طمانیت اور رضا و تسلیم نصیب فرمائے تو بندوں کے لئے عام طور سے بھی دینی اور آخرتی نقطہ نظر سے بہ نسبت دولتمندی کے فقر و ناداری کی زندگی ہی افضل اور بہتر ہے۔

203Maarif-ul-Hadith

زہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم : اپنے اور اپنے خاص متعلقین کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فقر پسندی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ان رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : « اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا » ، وَفِي رِوَايَةِ كَفَافًا . (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، کہ: اے اللہ! محمد کے متعلقین کی روزی بس بقدر کفاف ہو۔ (بخاری و مسلم) تشریح اصل عربی زبان میں آل کا لفظ گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور متبعین کے لیے بھی، لیکن اس دعا میں بظاہر آپ کی مراد آپ کے گھر والے ہی ہیں، اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ متعلقین سے کیا ہے، قوت اور کفاف دونوں کا مطلب قریب قریب یہی ہے کہ روزی بس اتنی ہو کہ زندگی کا نظام چلتا رہے، نہ اتنی تنگی ہو کہ فاقہ زدگی اور پریشان حالی کی وجہ سے اپنے متعلقہ کام بھی نہ انجام دئیے جا سکیں اور دستِ سوال کسی کے سامنے پھیلانا پڑے، اور نہ اتنی فراغت ہو کہ کل کے لیے بھی ذخیرہ رکھا جا سکے۔ احادیث و سیر کی شہادت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اسی طرح گذری ہے۔

204Maarif-ul-Hadith

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے گھر والوں نے کبھی دو دن جو کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا

عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : « مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عاوئشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں نے جَو کی روٹی سے بھی دو دن متواتر پیٹ نہیں بھرا، یہاں تک کہ حضور ﷺ اس دنیا سے اٹھا لئے گئے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ے کہ حضور ﷺ کی پوری زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ آپ کے اہل و عیال نے دو دن متواتر جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کھائی ہو، اگر ایک دن پیٹ بھر کھایا تو دوسرے دن بھوکے رہے۔

205Maarif-ul-Hadith

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے گھر والوں نے کبھی دو دن جو کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا

عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ ، فَدَعَوْهُ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ، وَقَالَ : « خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ » (رواه البخارى)

سعید مقبری حضرت ابو ہریرہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کا گذر کچھ لوگوں پر ہوا (جو کھانے پر بیٹھے تھے) اور ان کے سامنے بُھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی، ان لوگوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی کھانے میں شریک ہونے کی استدعا کی، تو آپ نے انکار کر دیا، اور بطور معذرت کہا کہ (میرے لئے اس کھانے میں کیا مزہ ہے جب کہ مجھے معلوم ہے کہ) رسول اللہ ﷺ دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ جَو کی روٹی سے بھی آپ نے پیٹ نہیں بھرا۔ (بخاری)

206Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں جو تکلیفیں اٹھائیں وہ کسی نے بھی نہیں اٹھائیں

عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاَثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِبِلاَلٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلاَّ شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلاَلٍ . (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ڈرایا گیا، اور اللہ کے واستہ میں مجھے اتنا ستایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ستایا گیا، اور ایک دفعہ تیس (۳۰) دن رات مجھ پر اس حال میں گذرے کہ میرے اور بلال کے لئے کھانے کی کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے بجز اس کے جو بلال نے اپنی بغل میں دبا رکھا تھا۔ (جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے امت کو سبق دینے کے لیے آپ بیتی سنائی کہ دین کی دعوت اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے سلسلے میں مجھے ایسی ایسی مصیبتوں سے گذرنا پڑا ہے، دشمنوں نے مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا کہ میرے سوا کسی کو اتنا نہیں ڈرایا دھمکایا گیا، اور جب میں نے ان کی دھمکیوں کا اثر نہیں لیا، اور دین کی دعوت دیتا ہی رہا، تو اُن ظالموں نے مجھے اتنا ستایا اور ایسی ایسی تکلیفیں دیں کہ میرے سوا کسی کو ایسی تکلیفوں سے گذرنا پڑا، اور بھوک اور فاقہ کی تکلیف بھی اتنی اٹھائی کہ ایک دفعہ پورے مہینہ کے تیس دن رات اس حالت میں گزر گئے کہ کھانے کی کوئی چیز نہ تھی، بجز اس کے کہ بلال نے اپنی بغل میں کچھ دبا رکھا تھا، پورے مہینہ مجھے اور بلال کو اسی پر گذارہ کرنا پڑا۔

207Maarif-ul-Hadith

دو دو مہینے تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چولہا ٹھنڈا رہتا تھا

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ : ابْنَ أُخْتِي « إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الهِلاَلِ ، ثُمَّ الهِلاَلِ ، ثَلاَثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ » ، فَقُلْتُ يَا خَالَةُ : مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ؟ قَالَتْ : " الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالمَاءُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهِمْ ، فَيَسْقِينَا " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عروہؓ سے فرمایا: میرے بھانجے! ہم (اہل بیت نبوت اس طرح گذارہ کرتے تھے کہ) کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے تھے (یعنی کامل دو مہینے گذر جاتے تھے) اور حضور ﷺ کے گھروں میں چولہا گرم نہ ہوتا تھا (عروہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ پھر آپ لوگوں کو کیا چیز زندہ رکھتی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا بس کھجور کے دانے اور پانی (ان ہی پر ہم جیتے تھے) البتہ رسول اللہ ﷺ کے بعض انصاری پڑوسی تھے، ان کے ہاں دودھ دینے والے جانور تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے دودھ بطور ہدیہ کے بھیجا کرتے تھے، اور اس میں سے آپ ہم کو بھی دے دیتے تھے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ تنگی اور ناداری اس قدر تھی کہ حضور ﷺ کے گھر والوں پر دو دو مہینے ایسے گزر جاتے تھے کہ کسی قسم کا اناج، بلکہ پکنے والی کوئی چیز بھی گھر میں نہیں آتی تھی، جس کی وجہ سے چولہا جلانے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی، بس کھجور اور پانی پر دن کاٹے جاتے تھے، یا کبھی پڑوس کے کسی گھر سے حضور ﷺ کے لئے دودھ آتا، تو وہ پیٹوں میں پہنچتا تھا، باقی بس اللہ کا نام!

208Maarif-ul-Hadith

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کے گھر والوں کے مسلسل فاقے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ اللَّيَالِي المُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً وَكَانَ أَكْثَرُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ » (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بہت سی راتیں پے بہ پے اس حالت میں گزرتی تھیں کہ آپ اور آپ کے گھر والے خالی پیٹ فاتے سے رہتے تھے، کیوں کہ رات کا کھانا نہیں پاتے تھے (اور جب کھاتے) تو ان کا رات کا کھانا عام طور سے بس جَو کی روٹی ہوتی تھی۔ (ترمذی)

209Maarif-ul-Hadith

جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : « تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ ، بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ » (رواه البخارى)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ۳۰ صاع جَو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری) تشریح ہمارے اکثر علماء کی تحقیق یہ ہے کہ ایک صاع قریباً ساڑھے تین سیر کا ہوتا تھا، اس حساب سے ۳۰ صاع جو قریب ڈھائی من کے ہوئے۔ حدیث کا مقصد اور منشا یہ ہے کہ حضور ﷺ کی حیات مبارکہ کے بالکل آخری ایام میں بھی (جب کہ قریب قریب پورے عرب کے آپ فرمانروا بھی تھے) آپ کے گھر کے گذارہ خا حال یہ تھا کہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس اپنی قیمتی زرہ رہن رکھ کر آپ نے صرف ۳۰ صاع جَو وفات سے کچھ ہی پہلے قرض لئے تھے۔ مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی یہودی سے قرض لینے کی مصلحت مدینہ کے مسلمانوں میں بھی ایسے متعدد افراد ہونے کے باوجود جن سے ایسے چھوٹے چھوٹے قرضے غالباً ہر وقت لئے جا سکتے تھے، کسی یہودی سے قرض لینے کی چند مصلحتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے اہل محبت اور نیاز مندوں میں سے کسی کو اس حالت اور اس قسم کی ضرورت کا علم ہو، کیوں کہ پھر وہ بجائے قرض کے ہدیہ وغیرہ کے ذریعے آپ کی خدمت کرنا چاہتے اور اس سے ان پر بار پڑتا، نیز اس صورت میں ان سے قرض منگوانے میں ایک قسم کی طلب اور تحریک ہو جاتی۔ اور غالباً دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ اس شبہ اور شائبہ سے بھی بچنا چاہتے تھے، کہ آپکے ذریعہ اہل ایمان کو دین کی جو دولت ملی، اس کے عوض آپ کوئی حقیر سے حقیر بھی دنیوی فائدہ ان سے اٹھائیں، اسلئے مجبوری اور ضرورت کے موقع پر آپ قرض بھی غیر مسلموں سے لینا چاہتے تھے۔ تیسری مصلحت اس سے غالباً یہ بھی تھی کہ لین دین کے یہ تعلقات غیر مسلموں سے رکھنے میں ان کی آمدورفت اور ملنے جلنے کے مواقع پیدا ہوتے تھے اور اس کا راستہ کھلتا تھا، کہ وہ لوگ آپ کو اور آپ کی سیرت کو جانیں اور جانچیں اور ایمان اور رضائے الہی کی دولت سے وہ بھی بہرہ یاب ہوں۔ چنانچہ یہ نتائج ظہور میں بھی آئے، مشکوٰۃ ہی میں امام بیہقی کی “ دلائل النبوۃ ” کے حوالہ سے مدینہ کے ایک بڑے دولتمند یہودی کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ قرض لیا تھا، وہ تقاضہ کو آیا، تو آپ نے عذر کیا کہ اس وقت ہم خالی ہاتھ ہیں اس لئے تمہارا قرضہ ادا کرنے سے آج مجبور ہیں، اس نے کہا کہ میں تو لئے بغیر نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ جم کے وہیں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ پورا دن گزر گیا اور رات بھی گزر گئی، اور حضور ﷺ نے اس دوران میں اس یہودی کی موجودگی ہی میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا فرمائیں، اور وہ نہیں ٹلا، بعض صحابہ کو اس کی یہ حرکت بہت ناگوار ہوئی اور انہوں نے چپکے چپکے اس کو ڈرایا دھمکایا، تا کہ وہ کسی طرح چلا جائے، رسول اللہ ﷺ کو جب اس کا پتہ چل گیا تو آپ نے فرمایا، کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ کسی معاہد پر کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو، یہ سُن کر ان صحابہ کو بھی خاموش ہو جانا پڑا، پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد اس یہودی نے کہا، کہ دراصل میں روپیہ کے تقاضے کے لئے نہیں آیا تھا، بلکہ میں دیکھنا اور جانچنا چاہتا تھا کہ وہ اوصاف و علامات آپ میں موجود ہیں یا نہیں جو تورات میں آخری زمانے میں آنے والے پیغمبر کے بیان کئے گئے ہیں، اب میں نے دیکھ لیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ آپ ہی وہ نبی موعود ہیں، اس کے بعد اس نے کلمہ شہادت پڑھا ا ور اپنی ساری دولت حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا “ هذا مالى فاحكم فيه بما اراك الله ” یہ میرا سارا مال حاضر ہے، اب آپ اللہ کی تعلیم و ہدایت کے مطابق اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، اور جس مصرف میں چاہیں اس کو صرف فرمائیں۔ (مشکوٰۃ باب فی اخلاقہ وشمائلہ ﷺ)

210Maarif-ul-Hadith

خوشحالی کے لیے دُعا کی درخواست پر حضرت عمرؓ کو آپ کا جواب

دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ ، وَهُمْ لاَ يَعْبُدُونَ اللَّهَ ، فَقَالَ : « أَوَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الخَطَّابِ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الحَيَاةِ الدُّنْيَا » وَفِىْ رِوَايَةٍ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةُ . (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو ااس حالت میں دیکھا کہ کھجور کے پٹھوں سے بُنی ہوئی چٹائی پر آپ لیٹے ہوئے ہیں، اور اس کے اور آُ کے جسم مبارک کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے، اور چٹائی کی بناوٹ نے آپ کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشانات ڈال دئیے ہیں اور سرہانے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال کوٹ کے بھری ہوئی ہے، یہ حالت دیکھ کے میں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ آپ کی امت کو فراخی اور خوش حالی عطا فرمائے، روم اور فارس والوں کو بھی اللہ نے فراخی دی ہے، حالانکہ وہ تو خدا پرست بھی نہیں ہیں۔ آ پ نے فرمایا: اب ابن خطاب! کیا تم بھی اس حال میں اور اس خیال میں ہو؟ یہ سب تو وہ لوگ ہیں (جو اپنی خدا فراموشی اور کافرانہ زندگی کی وجہ سے آخرت کی نعمتوں سے محروم و بے نصیب کئے گئے ہیں، اور اس لئے) ان کی وہ لذتیں (جو اللہ ان کو دینا چاہتا تھا) اسی دنیا میں ان کو دے دی گئی ہیں اور ایک روایت میں حضور ﷺ کا جواب اس طرح ذکر گیا گیا ہے، کہ آپ نے فرمایا اے عمرؓ! کیا تم اس پر راضی نہیں، کہ ان کے لیے دنیا کا عیش ہو، اور ہمارے لئے آخرت کا عیش۔ (بخاری و مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کی فقرانہ زندگی اور اس کی تکلیفوں کو دیکھ کر حضرت عمرؓ کا دل دُکھا، اور یہ آرزو پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اتنی وسعت اور خوش حالی عطا فرما دیتے کہ یہ تکلیفیں نہ دیکھی جاتیں اور چونکہ حضور ﷺ کے متعلق جانتے تھے کہ آپ اپنے لئے دنیا کی وسعت اور دولت مندی کی دعا اللہ تعالیٰ سے نہیں کریں گے، اس لئے عرض یہ کیا کہ حضور اپنی امت کے لئے وسعت اور فراخی کی دعا فرمائیں اور اسی کے ساتھ اپنا یہ خیال بھی ظاہر کر دیا کہ دنیا کی وسعت و دولت جب ایسی معمولی چیز ہے کہ اللہ نے روم و فارس جیسی کافر قوموں کو بھی دے رکھی ہے تو آپ کی دعا سے آپ کی امت کو کیوں نہ عطا فرمائی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس گذارش پر بطور تنبیہ کے حیرت و استعجاب کے ساتھ فرمایا کہ اے فرزند خطاب کیا تم بھی ابھی حقیقت ناشناسی کے اس مقام پر ہو کہ ایسی بات کرتے ہو! روم و فارس وغیرہ کی یہ قومیں جو ایمان اور خدا پرستی سے محروم ہیں، ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ آخرت کی اس زندگی میں جو اصلی اور حقیقی زندگی ہے ان بے چاروں کو کچھ نہیں ملنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ جو کچھ عیش و راحت ان کو دینا چاہتا تھا، وہ اسی دنیا میں دے دیا گیا ہے ایسی حالت میں ان کے عیش و آرام اور ان کی دولت مندی کو دیکھ کر اس پر للچانا اور اس کی حرص کرنا، حقیقت شناسی سے بہت بعید بات ہے، تم کو تو فکر و طلب بس آخرت کی ہونی چاہئے، جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، یہ دنیا تو بس چند روزہ قیام کی سرائے ہے، کیا یہاں کی تکلیف اور کیا یہاں کا عیش و آرام۔

211Maarif-ul-Hadith

میں اس دنیا میں اس مسافر کی طرح ہوں جو سایہ کے لیے کسی درخت کے نیچے بیٹھ گیا ہو

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جسده فَقَالَ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا » (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) کھجور کی چٹائی پر سوئے، پھر جب سو کے آپ اُٹھے، تو جسم مبارک میں اس چٹائی کی بناوٹ کے نشانات پڑے ہوئے تھے (اس حالت کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر) اس خادم ابن مسعودؓ نے عرض کیا کہ اگر حضور فرمائیں تو ہم حضرت کے لیے بستر کا انتظام کریں اور کچھ بنائیں (یعنی آپ سے اس کی اجازت چاہی) ارشاد فرمایا: مجھے دنیا سے (یعنی دنیا کے ساز و سامان اور اس کی راحتوں اور لذتوں سے) کیا تعلق اور کیا لینا! میرا تعلق دنیا کے ساتھ بس ایسا ہے جیسا کہ کوئی سوار مسافر کچھ دیر سایہ لینے کے لئے کسی درخت کے نیچے ٹھہرا اور پھر اس کو اپنی جگہ چھوڑ کر منزل کی طرف چل دیا۔ تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح یہ مسافر درخت کے نیچے ٹھہرنے کے تھوڑے سے وقت کے لیے راحتوں کے انتظامات کرنا ضروری نہیں سمجھتا، اور منزل مقصود پر پہنچنے کی فکر کے سوا اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی، بس یہی میرا حال ہے۔ اور حق یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی حقیقت جس پر پوری طرح منکشف ہو جائے تو اس کا حال اس کے سوا کچھ اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اس کو دنیا میں راحتں کے بڑے بڑے انتظامات کی فکر کرنا، اور اس کے لیے اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کا صرف کرنا ایسا ہی کارِ حماقت معلوم ہو گا جیسا کہ درخت کے سایہ میں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرنے والے مسافر کا اس ذرا سے وقت کے لیے بڑے بڑے انتظامات میں مشغول ہونا۔

212Maarif-ul-Hadith

دولت اگر صلاح و تقوے کے ساتھ ہو ، تو وہ بھی اللہ کی نعمت ہے

عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ ، قَالَ : " أَجَلْ " ، قَالَ : ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى ، عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى ، وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعِيْمِ " (رواه احمد)

رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ ہم چند آدمی ایک مجلس میں بیٹھے تھے، آنحضرت ﷺ بھی وہیں ہمارے پاس تشریف لے آئے، اور آپ کے سر مبارک پر اس وقت پانی کا اثر تھا (یعنی معلوم ہوتا تھا کہ آپ نے ابھی غسل فرمایا ہے) تو ہم میں سے کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت حضور کا مزاج بہت اچھا اور دل بہت خوش ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (الحمدللہ ایسا ہی ہے) پھر اہل مجلس دولت مندی اور دنیوی خوشحالی کا کچھ تذکرہ کرنے لگے (کہ وہ اچھی چیز ہے یا بری اور دین اور آخرت کے لیے مضر ہے یا مفید) تو آپ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا کہ: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے (اور اس کے احکام کی پابندی کرے) اس کے لیے مالداری میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج نہیں، اور صحت مندی صاحب تقویٰ کے لئے دولت مندی سے بھی بہتر ہے، اور خوش دلی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے (جس کا شکر واجب ہے)۔ (مسند احمد) تشریح پچھلے صفحات میں جو حدیثیں دولت کی مذمت اور فقر و زُہد کی فضیلت میں گزر چکی ہیں، اگرچہ ان کی تشریح میں جا بجا اشارہ کیا جا چکا ہے، کہ دولت صرف وہی خطرناک ہے جو خدا سے غفلت اور آخرت کی طرف سے بے پروائی پیدا کرے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو بلکہ بندہ اللہ کی توفیق سے دولت کے ذریعہ بھی اللہ کی رضا اور جنت کمائے تو پھر ایسی دولت خدا کی بڑی نعمت ہے۔ آگے درج ہونے والی حدیثوں میں یہی مضمون صراحت اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ تشریح۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دولت مندی اور مالداری اگر تقویٰ کے ساتھ ہو، یعنی اللہ کا خوف، آخرت کی فکر، اور احکامِ شریعت کی پابندی نصیب ہو تو اس میں دین کے لیے کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے تو اس صورت میں یہی مال و دولت دین کی بڑی سے بڑی ترقیوں کا اور جنت کے اعلیٰ درجوں تک پہنچنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ حضرت عثمان ؓ کے مناقب و امتیازات میں کافی حصہ ان کے اس مال و دولت ہی کا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ اور بے حساب خرچ کیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی موقعوں پر ان کے حق میں بڑی بڑی بشارتیں سنائی تھیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ دولتمندی کے ساتھ تقویٰ، یعنی خدا ترسی اور فکر آخرت اور اتباع شریعت کی توفیق کم ہی لوگوں کو ملتی ہے، ورنہ دولت کے نشہ میں اکثر لوگ بہک ہی جاتے ہیں۔ چوں بدولت برسی مست نگر دی مر دی

213Maarif-ul-Hadith

دولت اگر صلاح و تقوے کے ساتھ ہو ، تو وہ بھی اللہ کی نعمت ہے

عَنْ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ ، الْغَنِيَّ ، الْخَفِيَّ » (رواه مسلم)

حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اس متقی دولت مند بندہ سے جو (تقویٰ اور دولتمندی کے باوجود) نامعروف اور چھپا ہوا ہو۔ (مسلم) تشریح “ چھپا ہوا ” ہونے کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ لوگ اس کی اس خاص حالت کو عام طور سے جانتے بھی نہ ہوں کہ دولت مند اور صاحب ثروت ہونے کے ساتھ تقویٰ میں بھی اس بندہ خداس کو خاص مقام ہے، جس بندہ میں یہ تینوں چیزیں جمع ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا مقام حاصل ہے۔

214Maarif-ul-Hadith

نیک مقاصد کے لیے دنیا کی دولت حاصل کرنے کی فضیلت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ , وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ , وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِىَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا مُفَاخِرًا مُكَاثِرًا مُفَاخِرًا مُرَائِيًا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . (رواه البيهقى فى شعب الايمان وابو نعيم فى الحلية)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص دنیا کی دولت بطریق حلال اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے، تا کہ اس کو دوسروں سے سوال کرنا نہ پڑے اور اپنے اہل و عیال کے لیے روزی اور آرام و آسائش کا سامان مہیا کر سکے، اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی وہ احسان اور سلوک کر سکے، تو قیامت کے دن وہ اللہ کے حضور میں اس شان کے ساتھ حاضر ہو گا، کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن اور چمکتا ہو گا۔ اور جو شخص دنیا کی دولت حلال ہی ذریعہ سے اس مقصد سے حاصل کرنا چاہئے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہو جائے، اور اس دولت مندی کی وجہ سے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھا سکے، اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے داد و دہش کر سکے، تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔ (شعب الایمان للبیہقی، و حلیہ ابی نعیم) تشریح معلوم ہوا کہ اچھی نیت سے اور نیک مقصد کے لیے دنیا کی دولت حلال ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف یہ کہ جائز اور مباح ہے، بلکہ وہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ قیامت کے دن ایسا شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص فضل و کرم ہو گا، جس کے نتیجہ میں اس کا چہرہ چوھودیں رات کے چاند کی طرح روشن اور منور ہو گا۔ لیکن اگر دولت کمانے سے غرض صرف بڑا دولت مند بننا، اور دنیا کی بڑائی حاصل کرنا، اور لوگوں کے دکھاوے کے لئے بڑے بڑے کام کرنا ہو، تو یہ دولت کمانا اگرچہ حلال ہی طریقے سے ہو، تب بھی یہ ایسا گناہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہو گا، اور اگر ناجائز اور حررام طریقوں سے ہو تب تو سخت ترین وبال ہے۔

215Maarif-ul-Hadith

نیک مقاصد کے لیے دنیا کی دولت حاصل کرنے کی فضیلت

عَنْ أَبِىْ كَبْشَةَ الأَنَّمَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ » فَامَّا الَّذِىْ اُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَاِنَّهُ « مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا ، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهَا بَابَ فَقْرٍ وَاَمَّا الَّذِىْ أُحَدِّثُكُمْ فَقَالَ : حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ » "إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ ، عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ ، وَيَصِلُ رَحِمَهُ ، وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ المَنَازِلِ ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا ، فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ لِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ ، وَلَا يَعْمَلُ فِيْهِ بِحَقٍّ ، فَهَذَا بِأَخْبَثِ المَنَازِلِ ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ " (رواه الترمذى)

ابو کبشہ انماری سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ تین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ان کے علاوہ ایک اور بات ہے جس کو میں تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں، پس تم اس کو یاد کر لو! جن تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں، ان میں ایک تو یہ ہے کہ کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا، (یعنی کوئی شخص اپنا مال راہِ خدا میں دینے کے سبب سے کبھی مفلس و نادار نہیں ہو گا، بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی، اور جس خدا کی راہ میں وہ صدقہ کرے گا، وہ اپنے خزانہ غیب سے اس کو دیتا رہے گا) اور (دوسری بات یہ ہے کہ) نہیں ظلم کیا جائے گا کسی بندہ پر ایسا ظلم جس پر وہ مظلوم بندہ صبر کرے، مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض بڑھا دے گا اس کی عزت (یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر فرمایا ہے کہ جب کسی بندہ پر ناحق کوئی ظلم کیا جائے، اور اس کو ستایا جائے، اور وہ بندہ صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی عزت و رفعت دنیا میں بھی بڑھائے گا) اور (تیسری بات یہ ہے کہ) نہیں کھولے گا کوئی بندہ سوال کا دروازہ مگر اللہ کھول دے گا اس پر فقر کا دروازہ (یعنی جو بندہ مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا پیشہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ فقر و محتاجی اس پر مسلط ہوگی، گویا یہ تینوں اللہ کے ایسے اٹل فیصلے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ، میں ان پر قسم کھا سکتا ہوں۔ (اس کے بعد آپ نے فرمایا) اور جو بات میں ان کے علاوہ تم سے بیان کرنا چاہتا تھا، جس کو تمہیں یاد کر لینا اور یاد رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کے لئے ہے (یعنی اس دنیا میں چار طرح کے آدمی ہیں) ایک وہ بندے جن کو اللہ نے مال دیا ہے اور صحیح طریق زندگی کا علم بھی ان کو دیا ہے، پس وہ اس مال کے صرف و استعمال میں اللہ سے ڈرتے ہیں، اور اس کے ذریعہ صلہ رحمی (یعنی اپنے اعزہ و اقارب کے ساتھ سلوک اور ان کی ہمدردی) کرتے ہیں، اور اس میں جو عمل اور تصرف کرنا چاہئے اللہ کی رضا کے لئے وہی کرتے ہیں۔ پس ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں۔ اور (دوسری قسم) وہ بندے ہیں جن کو اللہ نے صحیح علم (اور صحیح جذبہ) تو عطا فرمایا ہے، لیکن ان کو مال نہیں دیا، پس ان کی نیت صحیح اور سچی ہے، اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں، کہ ہمیں مال مل جائے تو ہم بھی فلاں (نیک بندے) کی طرح اس کو کام میں لائیں (اور اللہ کی ہدایت کے مطابق وہ جن اچھے مصارف میں صرف کرتا ہے، ہم بھی ان ہی میں صرف کریں) پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (یعنی دوسری قسم کے ان لوگوں کو حسنِ نیت کی وجہ سے پہلی قسم والوں کے برابر ہی ثواب ملے گا)۔ اور (تیسری قسم) وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے مال دیا، اور اس کے صرف و استعمال کا صحیح علم (اور صحیح جذبہ) نہیں دیا، پس وہ نادانی کے ساتھ، اور خدا سے بے خوف ہو کر اس مال کو اندھا دُھند غلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں، اس کے ذریعہ صلہ رحمی نہیں کرتے، اور جس طرح اس کو صرف و استعمال کرنا چاہئے اس طرح نہیں کرتے۔ پس یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں۔ اور (چوتھی قسم) وہ لوگ ہیں، جن کو اللہ نے مال بھی نہیں دیا، اور صحیح علم (اور صحیح جذبہ) بھی نہیں دیا، پس ان کا حال یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، کہ اگر ہمیں مال مل جائے، تو ہم بھی فلاں (عیاش اور فضول خرچ) شخص کی طرح، اور اسی کے طریقے پر صرف کریں (یعنی اس شخص کی طرح ہم) بھی عیاش اور فضول خرچی کریں) پس یہی ان کی نیت ہے اور ان دونوں گروہوں کا گناہ برابر ہے (یعنی آخری قسم کے لوگوں کو ان کی بری نیت کی وجہ سے وہی گناہ ہو گا جو تیسری قسم کے لوگوں کو ان کے برے اعمال کا گناہ ہو گا۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کے نفس، مطلب کی وضاحت ترجمہ کے ساتھ ساتھ کر دی گئی ہے، البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ برے عمل کی جس نیت پر گرفت ہے، اور جو گویا بُرے عمل ہی کی طرح گناہ ہے، وہ عزم کا درجہ ہے، یعنی بندہ کو اس گناہ کا شوق اور اپنی طرف سے اس کے کر گزرنے کا مصمم ارادہ ہو، چاہے کسی مجبوری کی وجہ سے پھر کر نہ سکے۔ پس جب کسی گناہ کی نیت اس درجہ کی ہوگی تو اس گناہ ہی کی طرح وہ بھی معصیت ہوگی، اور بندہ اس پر سزا کا مستحق ہو گا۔

216Maarif-ul-Hadith

معصیت کی زندگی کے ساتھ اگر دنیا میں نعمتیں مل رہی ہیں تو یہ استدراج ہے

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ اللهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ ، فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ " ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} (رواه احمد)

عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اس کی معصیت کوشی اور نافرمانی کے باوجود دنیا کی وہ نعمتیں (مال و دولت اور راحت و عزت وغیرہ) دے رہا ہے، جن کا وہ بندہ خواہاں اور طالب ہے، تو سمجھ لو کہ وہ اس کے حق میں استدراج ہے۔ یہ فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (بطور استشہاد کے) قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: “ فَلَمَّانَسُوامَاذُكِّرُوابِهِ الاية ” جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: جب انہوں نے بھلا دیا ان باتوں کو جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے کھول دئیے ان پر دنیا کی سب نعمتوں کے دروازے، یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں کے ملنے پر خوب مست ہوئے، اور اترائے، تو ہم نے ایک دم ان کو اپنی سخت پکڑ میں لے لیا، پس وہ حیران و ششدر اور آئندہ کے لیے بالکل نااُمید ہو کر رہ گئے۔ (مسند احمد) تشریح اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جو قوانین چل رہے ہیں جن کے مطابق افراد یا اقوام کے ساتھ وہ معاملہ فرماتا ہے ان میں سے ایک “ استدراج ” بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کا کوئی مجرم اور باغی بندہ یا گروہ معصیت کوشی اور سرکشی میں حد سے بڑھ جاتا ہے، اور آخرت اور خدا کے احکام سے بالکل بے پروا اور بے فکر ہو کر زندگی گذارنے لگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہو کر کبھی کبھی ایسا بھی کرتا ہے کہ اس کی رسی اور دراز کر دی جاتی ہے، اور کچھ مدت کے لیے نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیئے جاتے ہیں، تا کہ وہ اور زیادہ اطمینان اور سرمستی کے ساتھ اس خداس فراموشی اور سر کشی میں آگے بڑھتا رہے، اور پھر بڑی سے بڑی سزا پائے۔ دین کی خاص زبان میں اللہ تعالیٰ کے اس معاملہ کو “ استدراج ” کہا جاتا ہے۔ پس مندرجہ بالا حدیث کا مطلب یہ ہوا، کہ جب کسی بندہ یا گروہ کو تم اس حال میں دیکھو کہ وہ خدا اور آخرت کو بالکل بُھلا کر مجرمانہ اور باغیانہ زندگی گذار رہے ہیں، اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو انواع و اقسام کی نعمتیں مل رہی ہیں۔ اور وہ دنیا کے مزے لوٹ رہے ہیں، تو کسی کو یہ مغالطہ نہ ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو کر اپنی نعمتیں ان پر اُنڈیل رہا ہے، بلکہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی رسی دراز کر رہا ہے، اور ان کا آخری انجام بہت برا ہونے والا ہے۔

217Maarif-ul-Hadith

کافروں ، فاجروں کی خوشحالی پر رشک نہ کرو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِىْ مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ اِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ قَاتلًا لَا يَمُوتُ يَعْنِى النَّارَ" . (رواه البغوى فى شرح السنة)

حضرت ابو رہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم کسی بدکار (کافر یا فاسق) پر کسی نعمت اور خوش حالی کی وجہ سے کبھی ہرگز رشک نہ کرنا، تم کو معلوم نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اس پر کیا کیا مصیبتیں پڑنے والی ہیں، اللہ کے یہاں (یعنی آخرت میں) اُس کے لیے ایک ایسا قاتل ہے جس کو کبھی موت نہیں۔ (اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرنے والے راوی عبداللہ بن ابی مریم کہتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ کا مطلب اس قاتل سے دوزخ کی آگ ہے، (یعنی وہ بے چارا ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہنے والا ہے، پس ایسے شخص پر رشک کرنا کتنی بڑی حماقت اور گمراہی ہے)۔ (شرح السنۃ) تشریح بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کا ایک مومن اور نیکو کار بندہ جو اس چند روزہ امتحانی دنیا میں تنگی اور تکلیف کی زندگی بسر کر رہا ہے، جب وہ کسی بدکار اور خدا سے تعلق نہ رکھنے والے آدمی کو دیکھتا ہے کہ وہ ٹھاٹھ کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گذار رہا ہے، تو شیطان اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈٖالتا ہے، اور کم سے کم یہ کہ دل میں اس کی حالت پر رشک ہی پیدا ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بڑی ناشکری ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی نعمت سے محروم ہیں، اور خدا فراموشی اور بداعمالی کی وجہ سے آخرت کی دوامی زندگی میں عذاب نار میں گرفتار ہونے والے ہیں، اس دنیا میں ان کی چند روزہ خوش حالی اور عیش و راحت کو یکھ کر ہرگز کسی صاحب ایمان کو ان پر رشک بھی نہ آنا چاہئے، ان بے چاروں، کم بختی کے ماروں کا جو آخری انجام ہونے والا ہے، اور ان پر جو بپتا پڑنے والی ہے، اگر وہ معلوم ہو جائے تو ان کی اس خوش حالی اور خوش عیشی کی نوعیت بالکل ایسی نظر آئے گی جیسے کہ پھانسی پانے والے مجرم کو دو چار دن پہلے سے خاص سہولتیں دی جاتی ہین، اور کھانے پینے کے بارہ میں اس کی خواہش اور چاہت معلوم کر کے حتی الوسع اس کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو آخرت کے ان حقائق کا یقین نصیب فرمایا ہے جن کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام نے دی ہے، ان کی نظر میں خدا کے مجرموں اور باغیوں کی دنیوی خوشحالی اور خوش عیشی کی نوعیت بالکل یہی ہے اس لئے ان کے دلوں میں ان کو دیکھ کر رشک نہیں پیدا ہوتا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہم کو ایمان نصیب فرما کر ان بے چاروں کے بُرے حال اور بُرے انجام سے بچا لیا ہے۔ اس عاجش نے اللہ کے بعض بندوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ خدا فراموشوں اہلِ دنیا کو دیکھ کر بے اختیار ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کی یہ دعا جاری ہو جاتی ہے، جو رسول اللہ ﷺ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر پڑھا کرتے تھے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا ساری حمد و ستائش اس اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے اس مصیبت سے محفوظ رکھا جس میں اے بندے تو مبتلا کیا گیا ہے، اور اس نے مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر برتری عطا فرمائی۔

218Maarif-ul-Hadith

کسی کی ظاہری خستہ حالی اور غربت کی وجہ سے اس کو حقیر نہ سمجھو

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ : « مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا » فَقَالَ : رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ ، هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا » فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ المُسْلِمِينَ ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا » (رواه البخارى ومسلم)

سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک شخص () جو غالباً دولت مند اور معززین میں سے تھارسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرا، تو آپ نے ایک صاحب سے جو آپ کے پاس اس وقت بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا کہ: اس گزرنے والے شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے اور کیا اندازہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: حضرت یہ بہت بڑے اور معزز آدمیوں میں سے ہے، یہ ایسی شان والا ہے کہ جس گھرانے کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام دے تو منظور کر لیا جائے، اور نکاح کر دیا جائے، اور اگر کسی معاملے میں سفارش کر دے تو اس کی سفارش ضرور مانی جائے۔ سہل بن سعد کہتے ہیں، کہ یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے، اور آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور اللہ کا بندہ گزرا، آپ نے ان ہی صاحب سے پھر پوچھا، کہ اس شخص کے بارہ میں تمہاری کیا رائے اور کیا اندازہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہیہ بے چارہ نادار اور مسکین مسلمانوں میں سے ہے یہ ایسا ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام دے تو اس کے ساتھ نکاح نہ کیا جائے، اور اگر کسی معاملہ میں سفارش کر ے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے۔ اور کوئی بات کہنا چاہے تو اس کی بات بھی نہ سنی جائے۔ (اُن کا یہ جواب سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے والے اس آدمی کے مثل اگر زمین بھر ہوں تو یہ ایک اکیلا فقیر و مسکین ان سے بہتر ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح انسانوں کی عام حالت یہ ہے کہ دنیا کی دولت اور دنیا کی بڑائی ہی کو وہ اصل بڑائی، اور وزن اور قیمت کی چیز سمجھتے ہیں، اور اسی سے متاثر ہوتے ہیں، اور اللہ کے جو بندے اس سے خالی ہوں (اگرچہ ان کے پاس ایمان اور حسن عمل کی دولت کتنی ہی وافر ہو) عام طور سے اہل دنیا ان کو حقیر و ذلیل ہی سمجھتے ہیں، یہ حدیث دراصل اسی قلبی اور ذہنی بیماری کے علاج کا ایک نسخہ ہے، بہت ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جو صاحب اس وقت بیٹھے ہوئے تھے (جن سے آپ اس گفتگو میں مخاطب رہے) ان میں بھی اس مرض کے کچھ جراثیم ہوں، اور آپ نے ان کی اصلاح کے لیے ہی یہ گفتگو فرمائی ہو۔ شارحین نے یہ بھی لکھا ہے، اور حدیث کے ظاہر الفاظ سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دونوں گزرنے والے مسلمان ہی تھے، البتہ پہلے جو گزرے وہ دنیا کی دولت و وجاہت میں برتر تھے، اور دین کے لحاظ سے کمتر، اور بعد میں جو صاحب گزرنے، وہ دنیا کے لحاظ سے تو کمتر تھے، مگر دین اور تعلق باللہ میں برتر اور بلند تر۔ اسی فرق کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے جیسے اگر اتنی کثیر تعداد میں ہوں کہ اللہ کی وسیع زمین ان سے بھر جائے تو بھی بعد میں گزرنے والا اللہ کا غریب و مسکین یہ ایک بندہ ان سب سے بہتر ہے۔ اللہ اکبر! دین اور تعلق باللہ کی عظمت و رفعت کا کیا ٹھکانا!۔

219Maarif-ul-Hadith

کسی کی ظاہری خستہ حالی اور غربت کی وجہ سے اس کو حقیر نہ سمجھو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « رُبَّ أَشْعَثَ ، اَغْبَرَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بہت سے پراگندہ بالوں والے گرد و غبار میں اٹے ہوئے جن کو دروازوں پر دھکے دئیے جائیں (اللہ کے نزدیک ان کا مقام یہ ہوتا ہے کہ) اگر اللہ پر وہ قسم کھائیں تو ان کی قسم کو اللہ ضرور پورا کرے۔ (مسلم) تشریح اس حدیث کا مطلب بھی یہی ہے کہ کسی کو میلا کچیلا، خستہ حال، اور پراگندہ بال دیکھ کر حقیر نہ سمجھنا چاہئے، ایسوں میں اللہ کے بعض بندے وہ بھی ہوتے ہیں، جو اللہ کے لیے اپنے کو مٹا کر اس کے یہاں ایسا تقرب اور محبوبیت و مقبولیت کا وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں، کہ اگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر وہ کسی معاملہ میں قسم کھا جائیں، کہ اللہ ایسا ہی کرے گا، یا ایسا نہیں کرے گا، تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی لاج رکھتا ہے، اور ایسا ہی کر دیتا ہے۔ واضح رہے کہ حدیث کا مقصد و منشا پراگندہ بالی اور گرد آلودگی، اور میلا کچیلا رہنے کی ترغیب دینا نہیں ہے (جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے) حدیث و سیر کی متواتر شہادت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عام طور سے صاف ستھرا رہنا پسند فرماتے تھے، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے، بلکہ بعض لوگوں کو جب آپ نے اس حال میں دیکھا کہ اس بارہ میں وہ تفریط و غلو میں مبتلا ہو گئے ہیں، اور انہوں نے اپنا حلیہ بگاڑ رکھا ہے تو آپ نے ان کو اپنی اس حالت کے درست کرنے کا حکم دیا۔ پس یہ سمجھنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ اس حدیث کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ لوگ پرگندہ بال، میلے کچیلے اور گرد و غبار میں اٹے ہوئے رہا کریں۔ بلکہ جیسا کہ عرض کیا گیا، حدیث کا مقصد و منشا اور اس کی روح یہی ہے، کہ اللہ کے کسی بندہ کو خستہ حال اور گرد آلود دیکھ کر اس کو حقیر اور اپنے سے کمتر نہ سمجھا جائے، کیونکہ بہت سے اس حال میں رہنے والے بھی خاصانِ خدا میں سے ہوتے ہیں۔ پس اس حدیث میں دراصل ان لوگوں کے خیال اور حال کی اصلاح کی گئی ہے جو اللہ کے غریب و خستہ حال بندوں کو ناکارہ نکما سمجھتے ہیں، اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور اپنے ذہنی تکبر کی وجہ سے ان کے ساتھ ملنے جلنے اور انکے پاس بیٹھنے سے بچتے ہیں، اور اسی میں اپنی بڑائی کی حفاظت سمجھتے ہیں۔

220Maarif-ul-Hadith

بہت سے غریب اور خستہ حال ایسے ہیں کہ ان کی برکت اور دعا سے رزق ملتا ہے

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ » (رواه البخارى)

مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد سعد کو (اللہ تعالیٰ نے جو خاص صلاحیتیں بخشی تھیں، مثلاً شجاعت، سخاوت، فہم و فراست وغیرہ ان کی وجہ سے ان کا) کچھ خیال تھا کہ جو (غریب اور کمزور قسم کے مسلمان ان چیزوں میں) ان سے کمتر ہیں وہ ان کے مقابلہ میں فضیلت اور برتری رکھتے ہیں، پس رسول اللہ ﷺ نے (ان کے اس خیال اور حال کی اصلاح کے لیے) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم لوگوں کی جو مدد ہوتی ہے، اور تم کو جو نعمتیں ملتی ہیں، وہ (تمہاری صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بنیاد پر نہیں ملتیں، بلکہ) تم میں جو بے چارے کمزور اور خستہ حال ہیں، ان کی برکت اور ان کی دعاؤں سے ملتی ہیں۔ (بخاری) تشریح حضرت سعد کا جو خیال تھا، چونکہ اس کی بنیاد ایک قسم کے کبر پر تھی، اس لئے اس کی اصلاح اور اس کے علاج کے لئے آنحضرت ﷺ نے ان کو بتلایا کہ تم جن مسکینوں کو اپنے سے کمتر اور اپنے کو ان سے برتر سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ ان ہی کے طفیل میں اور ان ہی کی دعاؤں سے تم کو وہ سب کچھ دیتا ہے جس سے تم یہاں بڑے بنے ہوئے ہو، آج بھی ہم جیسے لکھے پڑھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے کچھ صلاحیتیں دے رکھی ہیں، اور دین کی کسی خدمت کی توفیق مل رہی ہے، عموماً اسی قسم کے کبر میں مبتلا ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا . ف۔۔۔ اسی حدیث کی نسائی کی روایت میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ میں اس طرح ہیں: اِنَّمَا يَنْصُرُ اللهُ هَذِهِ الْاُمَّةَ بِضَعِيْفِهِمْ بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَوٰتِهِمْ وَإِخْلَاصِهِمْ . ظاہر ہے کہ اس روایت کے الفاظ اداء مطلب میں صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ سے زیادہ واضح ہیں۔