Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 12 of 106

221Maarif-ul-Hadith

اپنے سے کم درجہ والوں کو دیکھ کر صبر و شکر کا سبق لیا کرو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي المَالِ وَالخَلْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ » (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور جسمانی بناوٹ یعنی شکل و صورت میں اس سے بڑھا ہوا ہو (اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں حرص و طمع اور شکایت پیدا ہو) تو اس کو چاہئے کہ کسی ایسے بندہ کو دیکھے جو ان چیزوں مین اس سے بھی کمتر ہو (تا کہ بجائے حرص و طمع اور شکایت کے صبر و شکر پیدا ہو)۔ (بخاری و مسلم) تشریح انسان کی ایک فطری کمزوری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو مال و دولت اور دنیوی وجاہت یا شکل و صورت میں اس سے بہتر حال میں ہو، تو اس میں اس کی طمع اور حرص پیدا ہوتی ہے، اور خیال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسا نہیں بنایا، اس حدیث میں اس کا علاج یہ بتلایا گیا ہے کہ وہ شخص اللہ کے ایسے بندوں کو دیکھے، اور ان کے حال پر غور کرے، جو مال و دولت، شکل و صورت اور عزت و وجاہت کے لحاظ سے اس سے بھی کمتر اور پسماندہ ہوں، ان شاء اللہ ایسا کرنے سے اس بیماری کا علاج ہو جائے گا۔

222Maarif-ul-Hadith

اپنے سے کم درجہ والوں کو دیکھ کر صبر و شکر کا سبق لیا کرو

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا ، وَمَنْ لَمْ تَكُونَا فِيهِ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا ، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللهُ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَصَابِرًا ، وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا » (رواه الترمذى)

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس شخص میں دو خصلتیں ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کو شاکرین اور صابرین میں لکھیں گے (ان دو خصلتوں کی تفصیل یہ ہے کہ) جس شخص کی یہ عادت ہو کہ وہ دین کے معاملے میں تو اللہ کے ان بندوں پر نظر رکھے جو دین میں اس سے فائق اور بالا تر ہوں، اور ان کی پیروی اختیار کرے، اور دنیا کے معاملے میں ان غریب و مسکین اور خستہ حال بندوں پر نظر رکھے جو دنیوی حیثیت سے اس سے بھی کمتر ہوں، اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے ان بندوں سے زیادہ دنیا کی نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں، تو اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ صابر و شاکر لکھا جائے گا۔ اور جس کا حال یہ ہو کہ وہ دین کے بارے میں ہمیشہ اپنے سے ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو دیکھے اور دنیا کے بارے میں اپنے سے بالا تر لوگوں پر نظر کرے اور جو ددنیاوی نعمتیں اس کو نہیں ملی ہیں، ان کے نہ ملنے پر افسوس اور رنج کرے، تو اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ شاکر و صابر نہیں لکھا جائے گا۔ (ترمذی) تشریح شکر اور صبر ایمان اور تعلق باللہ کے دو ایسے رُخ ہیں کہ جس بندہ میں یہ دونوں جمع ہو جائیں تو اس کو گویا ایمان کا کمال نصیب ہوگیا، اور دین کی دولت بھرپور مل گئی۔ اور اس کی تدبیر اور اس کا معیار اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بندہ اپنے کو اس بات کا عادی بنا لے کہ دین کے معاملہ میں ہمیشہ اللہ کے ان اچھے بندوں پر نظر رہا کرے جن کا مقام دین میں (یعنی ایمان و اعمال اور اخلاص میں) اپنے سے بلند تر ہو اور ان کی پیروی کرتا رہے، اور دنیا کے معاملہ میں ہمیشہ اللہ کے ان خستہ حال اور مبتلائے مصائب بندوں پر نظر رکھے جو دنیوی لحاظ سے اپنے سے کمتر اور پست تر ہوں، اور ان کے مقابلے میں دنیوی راحت و عافیت کی جو فضیلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو دی گئی ہے اس کو محض اللہ کا فضل سمجھ کر اپنے اس محسن مالک کا شکر ادا کرتا رہے۔

223Maarif-ul-Hadith

اگر حُسنِ عمل کی توفیق ہو ، تو زندگی بڑی نعمت ہے

عَنْ أَبِي بَكَرَةَ اَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ ، وَسَاءَ عَمَلُهُ " (رواه احمد)

ابو بکرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آدمیوں میں کون بہتر ہے؟ (یعنی کس قسم کا آدمی آخرت میں زیادہ کامیاب اور فلاح یاب رہے گا) آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ جس کسی عمر لمبی ہوئی اور اس کے اعمال اچھے رہے۔ پھر اسی سائل نے عرض کیا کہ آدمیوں میں زیادہ بُرا (اور آخرت میں زیادہ خسارہ میں رہنے والا) کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا، جس کی عمر لمبی ہوئی اور اعمال اس کے برے رہے۔ (مسند احمد) تشریح ظاہر ہے کہ جب کسی شخص کسی زندگی اعمالِ صالحہ والی زندگی ہوگی تو جتنی طویل عمر اس کو ملے گی اسی قدر اس کے دینی درجات مین ترقی ہوگی، اور اس کے برعکس جس کے اعمال و اخلاق اللہ سے دور کرنے والے ہوں گے اس کی عمر جتنی زیادہ ہوگی، اسی قدر وہ اللہ کی رحمت و رضا سے دور تر ہوتا چلا جائے گا۔

224Maarif-ul-Hadith

اگر حُسنِ عمل کی توفیق ہو ، تو زندگی بڑی نعمت ہے

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ، فِىْ سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ ، أَوْ نَحْوِهَا ، فَصَلُّوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا قُلْتُمْ؟ » فَقُلْنَا : دَعَوْنَا الله ، اَنْ يَّغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيَلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ ، فَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « فَأَيْنَ صَلَاتُهُ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ اَوْ قَالَ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ لَمَا بَيْنَهُمَا اَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ . (رواه ابو داؤد والنسائى)

عبید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کے درمیان مواخات قائم فرمائی (یعنی اس وقت کے دستور کے مطابق ان کو باہم بھائی بھائی بنایا) پھر یہ ہوا کہ ان میں سے ایک صاحب (قریبی ہی زمانہ میں جہاد میں شہید ہو گئے) پھر ایک ہی ہفتہ بعد یا اس کے قریب دوسرے صاحب کا بھی انتقال ہوگیا (یعنی ان کا انتقال کسی بیماری سے گھر ہی پر ہوا) تو صحابہؓ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی، رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھنے والے ان اصحاب سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں نے (نماز جنازہ میں) کیا کہا (یعنی مرنے والے بھائی کے حق میں تم نے اللہ سے کیا دُعا کی؟) انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اس کے لئے یہ دعا کی، کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے، اس پر رحمت فرمائے اور (ان کے جو ساتھی شہید ہو کے اللہ کے قرب و رضا کا وہ مقام حاصل کر چکے ہیں، جو شہیدوں کو حاصل ہوتا ہے، اللہ ان کو بھی اپنے فضل و کرم سے اسی مقام پر پہنچا کے) اپنے اس بھائی اور ساتھی کے ساتھ کر دے، (تا کہ جنت میں اسی طرح ساتھ رہیں، جس طرح کہ یہاں رہتے تھے) یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس کی وہ نمازیں کہاں گئیں جو اس شہید ہونے والے بھائی کی نمازوں کے بعد (یعنی شہادت کی وجہ سے ان کی نمازوں کا سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد) انہوں نے پڑھیں، اور دوسرے وہ اعمال خیر کہاں گئے، جو اس شہید کے اعمال کے بعد انہوں نے کئے، یا آپ نے یوں فرمایا، کہ اس کے وہ روزے کہاں گئے جو اس بھائی کے روزوں کے بعد انہوں نے رکھے۔ (راوی کو شک ہے کہ نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عام اعمال کا ذکر کیا تھا، یا روزوں کا کر فرمایا تھا)۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کے مقامات میں تو اس سے بھی زیادہ فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ (ابو داؤد، نسائی) تشریح رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم نے بعد میں مرنے والے اس بھائی کا درجہ پہلے شہید ہونے والے اس بھائی سے کمتر سمجھا، اسی واسطے تم نے اللہ سے یہ دعا کی، کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کو بھی اس شہید بھائی کے ساتھ کر دے، حالانکہ بعد میں میں مرنے والے بھائی نے شہید ہونے والے بھائی کی شہادت کے بعد بھی جو نمازیں پڑھیں، اور جو روزے رکھے، اور جو دوسرے اعمالِ خیر کئے، تمہیں معلوم نہیں کہ ان کی وجہ سے اس کا درجہ پہلے شہید ہونے والے اس بھائی سے بہت زیادہ بلند ہو چکا ہے، یہاں تک کہ دونوں کے مقامات اور درجات میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق اور فاصلہ ہے۔ راہِ خدا میں جان دینا بلاشبہ بہت اونچا عمل ہے، اور اس کی بڑی فضیلتیں ہیں، لیکن نماز، روزہ وغیرہ اعمالِ خیر اگر اخلاص اور احسانی کیفیت کے ساتھ نصیب ہوں، تو ان کے ذریعہ جو ترقی اور بلندی نصیب ہوتی ہے، اس کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ نیز چونکہ بعد میں مرنے والے یہ بھائی بھی راہِ خدا کے سپاہی اور جہاد کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہنے والوں میں سے تھے، اس لئے بستر پر موت آنے کے باوجود وہ اپنی اس نیت اور شوقِ شہادت کی وجہ سے مقامِ شہادت پر بھی فائز ہوئے، اور بعد کے نماز، روزہ وغیرہ اعمالِ خیر نے ان کے درجہ کو اس قدر بلند کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درجوں میں زمین اور آسمان سے زیادہ فاصلہ بتلا دیا۔

225Maarif-ul-Hadith

اگر حُسنِ عمل کی توفیق ہو ، تو زندگی بڑی نعمت ہے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثََلَاثَةً ، أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ يَكْفِينِِيهِمْ؟ » قَالَ طَلْحَةُ : أَنَا . قَالَ : فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَخَرَجَ فيه أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ الْآخَرُ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ قَالَ طَلْحَةُ : فَرَأَيْتُ هَؤُلاءِ الثَّلاثَةَ فِي الْجَنَّةِ ، وَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ ، وَالَّذِي اسْتُشْهِدَ اٰخَراً يَلِيهِ ، وَأَوَّلُهُمْ يَلِيْهِ فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَقَالَ : « وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلامِ لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ » (رواه احمد)

عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عُذرہ میں سے تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لائے (اور حضور ﷺ کی خدمت میں قیام کا ارادہ کیا) تو آپ نے (صحابہ کرامؓ سے) فرمایا کہ ان نو مسلم مسافروں کی خبر گیری میری طرف سے کون اپنے ذمہ لے سکتا ہے؟ طلحہ نے عرض کیا کہ میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔ چنانچہ یہ تینوں ان کے پاس رہنے لگے، اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کسی جگہ کے لئے روانہ فرمایا، تو ان تینوں صاحبوں میں سے ایک اس لشکر میں چلے گئے، اور وہاں شہید ہو گئے، پھر آپ نے ایک اور لشکر روانہ فرمایا تو ایک دوسرے ساتھی اس میں چلے گئے، اور وہ بھی جا کر شہید ہو گئے، پھر (کچھ دنوں بعد) ان میں سے تیسرے جو باقی بچے تھے ان کا انتقال بستر ہی پر ہوگیا۔ (حدیث کے راوی عبداللہ بن شداد) کہتے ہیں کہ طلحہ نے ذکر کیا کہ میں نے خواب میں ان تینوں ساتھیوں کو جنت میں دیکھا کہ جو صاحب سب سے آخر میں اپنے بستر پر طبعی موت مرے، وہ سب سے آگے ہیں، اور ان کے قریب ان کے وہ ساتھی ہیں جو دوسرے نمبر شہید ہوئے تھے، اور ان کے قریب ان کے وہ ساتھی ہیں جو پہلے شہید ہوئے تھے، اس خواب سے میرے دل میں شبہ اور خلجان پیدا ہوا (کیونکہ میرا خیال تھا کہ شہید ہونے والے ان دو ساتھیوں کا درجہ اس تیسرے ساتھی سے بلند ہو گا جس کا انتقال بستر پر طبعی موت سے ہوا) پس میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس خواب اور اپنے اس تاثر اور خلجان کا ذکر کیا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس میں تم کو کیا بات اوپری اور غلط معلوم ہوتی ہے، (تم نے ان کے درجات کی جو ترتیب دیکھی ہے وہی ہونا چاہئے اور جو تیسرا ساتھی اپنے دو ساتھیوں کی شہادت کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہا، اور نمازیں پڑھتا رہا، اور اللہ کا ذکر کرتا رہا، اسی کو سب سے آگے اور بلند تر ہونا چاہئے کیوں کہ) اللہ کے نزدیک اس مومن سے کوئی افضل نہیں، جس کو ایمان اور اسلام کے ساتھ عمر دراز ملے، جس میں وہ اللہ کی تسبیح (سبحان اللہ کا ذکر) تکبیر (اللہ اکبر کا ذکر) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ کا ذخر) کرے۔ (مسند احمد) تشریح اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے اسی سے اس حدیث کی بھی تشریح ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر سمجھ دے تو ان دونوں حدیثوں میں ان جذباتی اور باتونی لوگوں کے لئے بڑا سبق ہے جو جہاد اور شہادت کی صرف باتوں اور جھوٹی تمناؤں میں اپنا وقت گذارتے ہیں، حالانکہ جہاد و شہادت کا کوئی میدان ان کے سامنے نہیں ہوتا، اور نماز، روزہ، ذکر و تلاوت وغیرہ اعمالِ خیر کے ذریعہ اعلیٰ سے اعلیٰ دینی ترقیوں کا جو موقعہ اللہ کی طرف سے ان کو ہر وقت ملا ہوا ہے وہ اس کی قدر نہیں کرتے، اور ان چیزوں کو معمولی اور ادنیٰ درجہ کی چیزیں سمجھ کر ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ بعض اوقات تو ان اعمالِ خیر کو طنز کا نشانہ بنا کر اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا .

226Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اتَّقِ اللهِ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا ، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ . (رواه احمد والترمذى والدارمى)

حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: تم جہاں اور جس حال میں ہو (خلوت میں ہو یا جلوت میں، آرام میں ہو، یا تکلیف میں) خدا سے ڈرتے رہو (اور تقویٰ تمہارا شعار رہے) اور ہر برائی کے پیچھے نیکی کرو، وہ اس کو مٹا دے گی، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، دارمی) تشریح تقوے کی اصل خدا کا خوف اور اس کے مواخذہ اور محاسبہ کی فکر ہے، اور یہ ایک باطنی کیفیت ہے اور اس کا ظہور ظاہری زندگی میں اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و احکام کی اطاعت کی جائے، اور منہیات اور معاصی سے بچا جائے۔ لیکن انسان کی سرشت اور اس دنیا میں اس کا ماحول ایسا ہے کہ اس خوف و فکر (یعنی تقویٰ) کے باوجود اس سے غلطیاں اور خطائیں سرزد ہو جاتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس کے تدارک کے لئے ارشاد فرمایا کہ جب کوئ غلطی اور برائی ہو جائے تو اس کے بعد کوئی نیکی ضرور کرو، نیکی کا نور اس برائی کی ظلمت کو ختم کر دے گا، اور مٹا دے گا۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (نیکیاں برائی کو ختم کر دیتی ہیں)۔ رسول اللہ ﷺ نے تیسری نصیحت اس حدیث میں حضرت ابو رؓ کو یہ فرمائی کہ لوگوں کے ساتھ تمہارا برتاؤ حسنِ اخلاق کا ہو۔ معلوم ہوا کہ تقویٰ اور تکثیر حسنات کے ذریعہ گناہوں کی تطہیر کے بعد بھی کامیابی اور رضاء الہی حاصل ہونے کے لئے بندوں کے ساتھ حسن اخلاق کا برتاؤ بھی ضروری ہے۔

227Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي ، وَأَوْجِزْ ، فَقَالَ : « إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ، وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ ، وَأَجْمِعِ الْيَأْسَ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ » (رواه احمد)

حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیے اور مختصراً فرمائیے (تا کہ یاد رکھنا آسان ہو) آپ نے ارشاد فرمایا کہ (ایک بات تو یہ یاد رکھو کہ) جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس شخص کی سی نماز پڑھو جو سب کو الوداع کہنے والا، اور سب سے رخصت ہونے والا ہو (یعنی دنیا سے جانے والے آدمی کی نماز جیسی ہونی چاہئے تم ہر نماز ویسی نماز پڑھنے کی کوشش کرو، اور دوسری بات یہ یاد رکھو کہ) ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے (یعنی بات کرتے وقت ہمیشہ اس کا خیال رکھو کہ ایسی بات منہ سے نہ نکلے جس کی جواب دہی کسی کے سامنے اس دنیا میں یا قیامت کے دن خدا کے حضور میں کرنی پڑے اور تیسری بات یہ یاد رکھو کہ) آدمیوں کے پاس اور ان کے ہاتھ میں جو کچھ نظر آتا ہے اس سے اپنے کو قطعاً مایوس کر لو (یعنی تمہاری اُمیدوں اور توجہ کا مرکز صرف رب العالمین ہو، اور مخلوق کی طررف سے اپنی امیدوں کو بالکل منقطع کر لو)۔ (مسند احمد)

228Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ، فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَتَقْوَى اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ ، وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ ، وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتِ : فَهَوًى مُتَّبِعٌ ، وَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ ، وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جو نجات دلانے والی ہیں، اور تین ہی چیزیں ہیں جو ہلاک کر دینے والی ہیں، پس نجات دلانے والی تین چیزیں تو یہ ہیں، ایک خدا کا خوف خلوت میں اور جلوت میں (یا ظاہر میں اور باطن میں) اور دوسرے حق بات کہنا، خوشی میں اور غصہ میں اور تیسرے میانہ روی خوشحالی میں تنگدستی میں۔ اور ہلاک کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں: ۱۔ وہ خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے، اور ۲۔ وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے (یعنی اس کے تقاضے پر چلا جائے) اور ۳۔ آدمی کی خود پسندی کی عادت، اور یہ ان سب میں زیادہ سخت ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح رسول اللہ ﷺ کبھی تو حاضرین مجلس اور مخاطبین کے خاص حالات کے لحاظ سے اور کبھی کسی اور ایسے ہی سبب سے بعض اوقات اپنے ارشادات میں بعض خاص اعمالِ صالحہ اور اخلاق حسنہ کی اہمیت خصوصیت سے بیان فرماتے تھے اور اسی طرح بعض خاص خاص برے اعمال و اخلاق کی قباحت و شناعت پر خصوصیت سے زور دیتے تھے (اور معلم اور مربی کا طرز یہی ہونا بھی چاہئے)۔ یہ حدیث بھی اسی نوعیت کی ہے اور حضور ﷺ کے اس ارشاد کا حاصل صرف یہ ہے کہ جس شخص کو اس کی فکر نہ ہو کہ وہ ہلاکت سے نچے اور نجات حاصل کرے، اسے چاہئے کہ ان چند نصیحتوں کی خصوصیت سے پابندی کرے، ظاہر و باطن اور خلوت و جلوت میں خدا کا خوف اور تقویٰ اس کا شعار ہے، اور خواہ کسی سے رضامندی ہو یا ناراضی، ہمیشہ حق و انصاف کی بات کہے اور وہ خوشحالی و تنگدستی دونوں حالتوں میں میانہ روی برتے۔ اور اپنی نفسانی خواہش اور بخل کے تقاضوں پر نہ چلے، اور خود پسندی کی نہایت مہلک بیماری سے اپنی حفاظت کرتا رہے۔ آپ نے خود پسندی کو سب سے زیادہ شدید غالباً اس لئے فرمایا کہ اس مرض میں مبتلا ہونے والا آدمی اپنے کو کبھی بیمار نہیں سمجھتا، بلکہ اگر کوئی اور نصیحت کرے اور سمجھائے تو وہ اسی کو غلطی پر سمجھتا ہے۔ اور بلا شبہ وہ مرض بڑا سخت اور لاعلاج ہے، جس کو مریض مرض ہی نہ سمجھے۔

229Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا : حِفْظُ أَمَانَةٍ ، وَصِدْقُ الْحَدِيثِ ، وَحُسْنُ الْخَلِيقَةِ ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ: چار باتیں اور خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تم کو نصیب ہو جائیں تو پھر دنیا (اور اس کی نعمتوں) کے فوت ہو جانے اور ہاتھ نہ آنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی گھاٹا نہیں امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی، حسن اخلاق اور کھانے میں احتیاط اور پرہیزگاری۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح آگے امانت کے بیان میں ان شاء اللہ تفصیل سے بیان کیا جائے گا کہ نبوت کی زبان اور دین کی اصطلاح میں امانت بہت وسیع معنی میں استعمال ہوتا ہے، اللہ کے اور اسی طرح بندوں کے ہر حق کی ادائیگی اور ہر عہد کی پابندی امانت کے وسیع مفہوم میں داخل ہے، پس ظاہر ہے کہ جس شخص میں امانت کی صفت ہو، یعنی جس کا یہ حال ہو کہ وہ اللہ کے اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی پوری دیانت داری کے ساتھ کرتا ہو، اور اسی کے ساتھ اس کی زبان صداقت اور سچائی کی پابند ہو، اور حسن اخلاق کی دولت بھی اس کو حاصل ہو، اور کھانے پینے کے معاملہ میں بھی وہ محتاط اور پرہیز گار ہو، یعنی صرف حلال کھاتا ہو، اور اتنا ہی کھاتا ہو جتنا اس کو کھانے چاہئے، اور حرام اور مشتبہ سے پرہیز کرتا ہو، الغرض جس شخص کو یہ چار خصلتیں نصیب ہوں، ظاہر ہے کہ اس کو انسانیت کا کمال نصیب ہے جو اس دنیا کی سب سے بڑی بلندی ہے اور آخرت کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی میں اس کو وہ بے حساب اور بے شمار نعمتیں ملیں گی جن میں سے ایک ایک کی قیمت اس دنیا سے اور اس کی ساری دولتوں اور نعمتوں سے زیادہ ہوگی پس ایسا شخص اگر دنیا سے خالی ہاتھ رہے تو اسے کوئی غم اور کوئی افسوس نہ ہونا چاہئے، کیوں کہ جو کچھ اسے ملا ہوا ہے دنیا اور اس کی ساری دولتیں اور بہاریں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔

230Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا ، وَلِسَانَهُ صَادِقًا ، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً ، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً ، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً ، وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقِمْعٌ ، وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعِي الْقَلْبُ ، وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ اللهُ قَلْبَهُ وَاعِيًا " (رواه احمد البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کامیاب اور بامراد ہوا جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا اور اس کے قلب کو صحیح و سالم بنا دیا (یعنی جس کے دل کو ایسا صاف ایمان و یقین نصیب فرمایا جس میں شک یا نفاق کی کوئی آمیزش اور کوئی گنجائش نہیں، اور حسد و کینہ جیسے باطنی امراض سے بھی اس کے دل کو پاک کر کے سلیم بنایا) اور اس کی زبان کو سچائی اور اس کے نفس کو اطمینان عطا فرمایا (یعنی اس کے نفس کو ایسا کر دیا کہ اللہ کی یاد سے اور اس کی مرضیات سے اس کو چین و اطمینان ملتا ہے) اور اس کی طبیعت کو سیدھا اور درست کر دیا (کہ وہ برائی کی طرف نہیں چلتی) اور اس کے کان کو سننے والا اور آنکھ کو دیکھنے والا بنا دیا (کہ وہ حق باتوں کو اور اللہ کی نشانیوں کو سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہیں) پس کان تو مثل قیف کے ہے (کہ باتیں اس کے راستے سے دل میں اس طرح جاتی ہیں جس طرح بوتل یا شیشی میں کوئی چیز قیف کے ذریعہ جاتی ہے) اور آنکھ پہنچانے والی اور ٹھہرانے والی ہے ان چیزوں کو جو وہ قلب کو سونپتی ہے، اور بامراد اور کامیاب ہوا وہ شخص جس کے دل کو بنا دیا اللہ نے یاد رکھنے والا۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح حدیث کے آخری حصہ میں کان اور آنکھ کے متعلق جو بات فرمائی گئی ہے “ فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقِمْعٌ الخ ” جس کے ترجمہ پر امتیاز کے لئے خط لگا دیا گیا ہے، اس سے وجود انسانی میں کان اور آنکھ کی یہ امتیازی اہمیت ظاہر کرنا مقصود ہے کہ دل جو انسانی اعضاء میں گویا بادشاہ اور فرمانروا کی حیثیت رکھتا ہے، اس میں جو چیزیں پہنچتی ہیں اور اس کو متاثر کرتی ہیں وہ عموماً کان اور آنکھ ہی کے ذریعہ پہنچتی ہیں، اس لئے انسان کی فلاح و سعادت اس پر موقوف ہے کہ اللہ اس کے کان کو شنوا، اور اس کی آنکھوں کو بینا بنا دے۔ اور سب سے آخر میں فرمایا کہ “ فلاح یاب اور بامراد ہوا وہ انسان جس کے دل کو اللہ نے یاد رکھنے والا بنا دیا ”۔ مطلب یہ ہے کہ فلاح و سعادت تک پہنچانے والی جو باتیں کان یا آنکھ کے ذریعہ دل میں پہنچیں ان سے بھی منزل سعادت تک جب ہی پہنچا جا سکتا ہے جب کہ دل ان کو محفوظ رکھے اور ان سے برابر کام لیتا رہے، اس لئے انسان کی سعادت اور خوش بختی کی آخری اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ قلب اپنا فریضہ اور وظیفہ ٹھیک ٹھیک انجام دیتا رہے۔ قرآن مجید میں بھی جا بجا انسان کی ان تینوں قوتوں (سمع، بصر، قلب) کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ گویا انسان کی ہدایت اور نجات کا دار و مدار انہی تینوں کی سلامتی اور راست روی پر ہے۔

231Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ : " اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ , شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ , وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ , وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ , وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغُلِكَ , وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ " (رواه الترمذى)

عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا پانچ حالتوں کو دوسری پانچ حالتوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو، اور ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہئے وہ اٹھا لو۔ غنیمت جانو جوانی کو بڑھاپے کے آنے سے پہلے، اور غنیمت جانو تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے، اور غنیمت جانو خوش حالی اور فراخ دستی کو ناداری اور تنگدستی سے پہلے، اور غنیمت جانو فرصت اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور غنیمت جانو زندگی کو موت آنے سے پہلے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ انسان کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، اس لئے اس کو چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے کچھ عمل کرنے کے قابل اچھی اور اطمینان کی حالت نصیب فرمائے تو اس کو غنیمت اور پروردگار کی طرف سے ملی ہوئی نعمت سمجھے، اور اللہ کی رضا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو کچھ کر سکتا ہو اس وقت کر لے، کیا خبر ہے کہ آئندہ کر سکنے کے قابل رہے گا یا نہیں۔ اگر جوانی کی قوت ملی ہوئی ہے تو بڑھاپے کی کمزوریوں اور معذوریون کے آنے سے پہلے اس سے فائدہ اٹھا لے، اگر تندرست و توانا ہے تو بیماری کی مجبوریوں سے پہلے اس سے کام لے لے، اگر خوش حالی اور مالی وسعت اللہ نے نصیب فرمائی ہے تو افلاس اور محتاجی آنے سے پہلے اس سے فائدہ حاصل کر لے، اور اگر کچھ فرصت ملی ہوئی ہے تو مشغولیت اور پریشان حالی کے دن آنے سے پہلے اس کی قدر کر لے اور کام لے لے اور زندگی کے بعد بہر حال موت ہے جو ہر قسم کے اعمال کا خاتمہ کر دینے والی ہے اور اس کے ساتھ توبہ و استغفار کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے، اس لئے زندگی کے ہر لمحہ کو غنیمت اور خداداد فرصت سمجھے، اور اس سے فائدہ اٹھانے میں غفلت نہ کرے۔

232Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْتَظِرُ أَحَدُكُمْ إِلَّا غِنًى مُطْغِيًا ، أَوْ فَقْرًا مَنْسِيًا ، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا ، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا ، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا ، أَوِ الدَّجَّالَ ، وَالدَّجَّالُ شَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ ، أَوِ السَّاعَةُ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ " (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: تم عمل کے لئے انتظار کتے ہو اس خوشحالی اور دولت مندی کا جو آدمی کو سرکش کر دیتی ہے، یا انتظار کرتے ہو اس ناداری اور محتاجی کا جو سب کچھ بھلا دیتی ہے، یا انتظار کرتے ہو حالت بگاڑ دینے والی بیماری کا، یا عقل و حواس کھو دینے والے بڑھاپے کا، یا اچانک آنے والی ا ور فنا کر دینے والی موت کا، یا تم منتظر ہو دجال کے۔ اور دجال بدترین غائب ہے جس کا انتظار ہے، ی منتظر ہو قیامت کے، اور قیامت بڑا سخت حادثہ اور بڑا کڑوا گھونٹ ہے۔ (جومع ترمذی و سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو لوگ فرصت اور فراغ کو غنیمت نہیں سمجھتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور رضاء الٰہی اور فلاح اُخروی کے لئے عملی جدو جہد سے غافل رہ کر تن آسانی میں اپنا وقت گذار رہے ہیں، گویا وہ اس کے منتظر ہیں کہ مذکورہ بالا بلاؤں اور آفتوں میں سے جب کوئی بلا اور آفت ان پر آئے گی، جب وہ جاگیں گے، اور اس وقت آخرت کی فکر اور تیاری کریں گے۔

233Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ ، عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ . (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روای ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن (جب حساب کے لئے بارگاہِ خداوندی میں پیشی ہوگی، تو) آدمی کے پاؤں سرک نہ سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کر لیا جائے گا۔ ایک اس کی پوری زندگی اور عمر کے بارے میں کہ کن کاموں میں اس کو ختم کیا۔ اور دوسرا خصوصیت سے اس کی جوانی (اور جوانی کی قوتوں) کے بارے میں کہ کن مشاغل میں جوانی اور اس کی قوتوں کو بوسیدہ اور پرانا کیا، اور تیسرا اور چوتھا مال و دولت کے بارے میں کہ کہاں سے اور کن طریقوں اور راستوں سے اس کو حاصل کیا تھا اور کن کاموں اور کن راہوں میں اس کو صرف کیا۔ اور پانچواں سوال یہ ہو گا کہ جو کچھ معلوم تھا اس کے بارے میں کیا عمل کیا؟ (جامع ترمذی) تشریح ہر شخص اپنی زندگی، اپنی جوانی، اپنی آمد و خرچ اور اپنے علم و فمل کا دنیا ہی میں محاسبہ کرے اور ذرا سوچے کہ دربارِ خداوندی میں کھڑا کر کے جب مجھ سے سر محشر یہ سوالات کئے جائیں گے تو میرا حال اور انجام کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور اپنے کرم سے آسان فرمائے ورنہ امتحان اپنی نوعیت کے لحاظ سے یقیناً بڑا سخت ہے، اور صرف وہی خوش نصیب بندے اس دن رسوائی سے بچ سکیں گے جو اس گھڑی کے آنے اور اس امتحان گاہ میں پہنچنے سے پہلے اسی دنیا میں تیاری کر لیں، اور زندگی اس طرح گذاریں کہ اس محاسبہ اور اس امتحان میں کامیاب اور سرخرو ہو سکیں۔

234Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : اَتَيْتُ الْمَدِيْنَةَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوْا عَنْهُ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا؟ قَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ قُلْتُ : عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : " لَا تَقُلْ : عَلَيْكَ السَّلَامُ ، فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ ، قُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكَ " قُلْتُ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ : « أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِنْ أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ ، أَنْبَتَهَا لَكَ ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ ، رَدَّهَا عَلَيْكَ » ، قُلْتُ : اعْهَدْ إِلَيَّ ، قَالَ : « لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا » قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا بَعِيرًا ، وَلَا شَاةً ، قَالَ : « وَلَا تُحَقِّرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ ، فَإِنَّهَا مِنَ المَخِيلَةِ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ ، فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ » (رواه ابو داؤد)

ابو جری جابر بن سلیم سے روایت ہے کہ میں مدینہ پہنچا (اور میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اس وقت کچھ جانتا نہیں تھا) میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کے پاس طالب بن کر حاضر ہوتے ہیں اور وہ ان کو جو کچھ بتا دیتا ہے اس کو قبول کر کے چلے جاتے ہیں، جو کچھ بھی اس کی زبان سے نکلتا ہے لوگ اس کو دل و جان سے مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ لون ہیں؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں نے عرض کیا “ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ” یہ میں نے دو دفعہ عرض کیا، آپ نے فرمایا “ عَلَيْكَ السَّلَامُ ” نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے۔ (یعنی اہلِ جاہلیت اس طرح مُردوں کو سلام کیا کرتے تھے، بجائے اس کے) “ السَّلَامُ عَلَيْكَ ” کہو۔ میں نے عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں رسول ہوں اس اللہ کا جس کی شان یہ ہے کہ اگر تمہیں کوئی دُکھ اور تکلیف ہو، اور تم اس سے دُعاو کرو تو وہ تمہارے دکھ کو دور کر دے، اور اگر تم پر قحط سالی کی مصیبت آ جائے اور تم اس سے دعا کرو تو تمہارے لئے وہ زمین سے پیداوار پیدا کر دے، اور جب تم کسی جنگل بیابان میں اور لق و دق میدان میں ہو، تمہاری سواری کا جانور گم ہو جائے، اور تم اس سے دعا کرو، تو وہ تمہاری سواری کے اس جانور کو تمہارے پاس پہنچا دے۔ (حدیث کے راوی جابر بن سُلیم کہتے ہیں، کہ) میں نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت ار وصیت فرمائیے! آپ نے ارشاد فرمایا (تمہیں میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ) تم کبھی کسی کو گالی نہ دینا، جابر بن سلیم کہتے ہیں اس کے بعد سے میں نے کسی کو بھی گالی نہ دی، اور نہ کسی آزاد کو نہ غلام کو، نہ اونٹ بکری جیسے کسی جانور کو (اس کے بعد سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مجھے حضور ﷺ نے یہ نصیحتیں بھی فرمائیں) کسی احسان کو تم حقیر نہ سمجھو، اور تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ بات کیا کرو، یہ بھی ایک طرح کا احسان اور حسن سلوک ہے، اور اپنا تہبند آدھی پنڈلیوں تک اونچا رکھو، اگر اتنا اونچا رکھنا منظور نہ ہو، تو کم سے کم ٹخنوں تک اونچا رکھو، اور تہبند کو زیادہ نیچے لٹکانے سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ تکبر کی بات ہے، اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں ہے، اور اگر کوئی تمہیں گالی دے اور تمہاری کسی ایسی بُری بات کاذکر کر کے تم کو عار دلائے جو تمہارے بارے میں جانتا ہو تو تم ایسا نہ کرو، اس صورت میں اس کی اس ساری زبان درازی کا پورا وبال اسی پر ہو گا۔ (سنن ابی داؤد)

235Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلاَءِ الكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ : اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا ، وَلاَ تُكْثِرِ الضَّحِكَ ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ القَلْبَ . (رواه احمد والترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن ہم لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا، کون ہے جو مجھ سے سیکھ لے یہ چند خاص باتیں، پھر وہ خود ان پر عمل کرے یا دوسرے عمل کرنے والوں کو بتائے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ تو آپ نے (از راہ شفقت) میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیا، اور گن کر یہ پانچ باتیں بتائیں۔ فرمایا: جو چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں اُن سے بچو، اور اُن سے پورا پورا پرہیز کرو، اگر تم نے ایسا کیا، تو تم بہت بڑے عبادت گزار ہو، (اور یہ عبدت نفلی عبادت کی کثرت سے افضل ہے)۔ دوسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ: اللہ نے جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے اس پر راضی اور مطمئن ہو جاؤ، اگر ایسا کرو گے تو تم بڑے بے نیاز اور دولت مند ہو جاؤ گے۔ اور تیسری بات یہ کہ: اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر ایسا کرو گے، تو تم مؤمن کامل ہو جاؤ گے۔ اور چوتھی بات یہ کہ جو تم اپنے لئے چاہتے اور پسند کرتے ہو، وہی دوسرے لوگوں کے لئے بھی چاہو اور پسند کرو، تم ایسا کرو گے تو حقیقی مسلم اور پورے مسلمان ہو جاؤ گے۔ اور پانچویں بات یہ ہے کہ: زیادہ مت ہنسا کرو، کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ یہ پانچ باتیں بتانا چاہتے تھے، آپ نے مخاطبین میں خاص طلب پیدا کرنے کے لئے، اور ان کے دلوں کو پوری طرح بیدار اور متوجہ کرنے کے لئے پہلے ارشاد فرمایا کہ: میں اس وقت کچھ خاص باتیں بتانا اور سکھانا چاہتا ہوں، تم میں سے کون ان کو سیکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کو ان باتوں کایہ حق ادا کرنا ہو گا کہ وہ خود ان پر عمل کرے اور دوسروں کو بھی بتلائے، تا کہ وہ بھی عمل کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی دین کی باتیں سیکھے اس پر دو حق ہیں ایک یہ کہ خود ان پر عمل کرے اور دوسرے یہ کہ اوروں کو پہنچائے اور بتلائے، بلکہ اگر خود پورا عمل نہ کرے تب بھی دوسروں کو بتانے سے دریغ نہ کرے۔ جو پانچ باتیں حضور ﷺ نے اس موقع پر تعلیم فرمائیں وہ بڑی اہم حقیقتیں ہیں۔ پہلی بات آپ نے یہ ارشاد فرمائی، کہ: بڑا عبادت گذار بندہ وہ ہے جو محرمات اور ممنوعات سے پرہیز کرتا ہے، اگرچہ زیادہ نفلی نمازیں نہ پڑھتا ہو، نفلی روزے زیادہ نہ رکھتا ہو، ذکر و تسبیح میں بہت زیادہ مشغول نہ رہتا ہو۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ: اللہ کی طرف سے جو مقسوم اور مقدور ہے اس پر راضی ہو جانے سے آدمی کو برا اطمینان اور بڑی بے فکری نصیب ہو جاتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کمالِ ایمان کی شرط ہے۔ چوتھی بات یہ کہ، کامل مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی دوسروں کا اتنا خیر خواہ اور بہی خوا ہو، کہ جو اپنے لئے چاہے وہی دوسروں کے لئے چاہے۔ اور پانچویں بات یہ کہ، زیادہ نہ ہنسا جائے، کیوں کہ یہ عادت دل کو مردہ اور بے حس کر دیتی ہے۔ اگر اللہ کی توفیق سے اس کا کوئی بندہ آج بھی ان پانچ باتوں پر کار بند ہو جائے تو دنیا ہی میں وہ جنت کا مزا چکھک لے گا، اس کی زندگی پاک صاف اور بڑے اطمینان والی ہوگی، دور قریب کے لوگ اس سے محبت کریں گے، اس کا دل اللہ کے ذکر سے زندہ اور شاداب ہو گا، اور آخرت میں اللہ کی رضا اور جنت کی جو نعمتیں اس کوملیں گے ان کی قدر و قیمت اور حقیقی لذت تو بس وہیں جا کر معلوم ہوگی۔

236Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَمَرَنِي خَلِيلِي بِسَبْعٍ : "أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ ، وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ " (رواه احمد)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب دوست (ﷺ) نے سات باتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا ہے۔ مجھے آپ نے حکم فرمایا ہے۔ مساکین اور غرباء سے محبت رکھنے کا اور ان سے قریب رہنے کا۔ اور آپ نے حکم فرمایا ہے کہ دنیا میں ان لوگوں پر نظر رکھو جو مجھ سے نچلے درجے کے ہیں (یعنی جن کے پاس دنیوی زندگی کا سامان مجھ سے بھی کم ہے) اور ان پر نظر نہکروں جو مجھ سے اوپر کے درجہ کے ہیں (یعنی جن کو دنیوی زندگی کا سامان مجھ سے زیادہ دیا گیا ہے، اور بعض دوسری احادیث میں ہے کہ ایسا کرنے سے بندہ میں صبر و شکر کی صفت پیدا ہوتی ہے، اور یہ ظاہر بھی ہے) آگے حضرت ابوذر فرماتے ہیں، کہ اور مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کروں، اور قریبتی رشتہ کو جوڑوں (یعنی ان کے ساتھ وہ معاملہ اور سلوک کرتا رہوں جو اپنے عزیزوں قریبوں کے ساتھ کرنا چاہئے) اگرچہ وہ میرے ساتھ ایسا نہ کریں۔ اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ کسی آدمی سے کوئی چیز نہ مانگوں (یعنی اپنی ہر حاجت کے لئے اللہ ہی کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں، اور اس کے سوا کسی کے در کا سائل نہ بنوں)۔ اور آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہر موقع پر حق بات کہوں، اگرچہ وہ لوگوں کے لئے کڑوی ہو (اور ان کی خواہشات اور اغراض کے خلاف ہونے کی وجہ سے انہیں بری لگے)۔ اور آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں (یعنی دنیا والے اگرچہ مجھے برا کہیں لیکن میں وہی کہوں اور وہی کروں جو اللہ کا حکم ہو، اور جس سے اللہ راضی ہو، اور کسی کے برا بھلا کہنے کی مطلق پرواہ نہ کروں) اور آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں کلمہ “ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ” کثرت سے پڑھا کروں، کیوں کہ یہ سب باتیں اس خزانے سے ہیں جو عرش کے نیچے ہے (یعنی یہ اس خزانے کے قیمتی جواہرات ہیں جو عرشِ الہی کے نیچے ہے، اور جن کو اللہ ہی جن بندوں کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، کسی اور کی وہاں تک دسترس نہیں)۔ (مسند احمد) تشریح حدیث کی ضروی تشریح ترجمہ ہی کے ضمن میں ہو چکی ہے، یہاں صرف ایک بات یہ قابل ذکر ہے کہ کلمہ “ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ” جس کی کثرت کی اس حدیث میں تاکید فرمائی گئی ہے، اس کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث میں یہ مروی ہے کہ “ گناہوں سے بچاؤ، اور نیکی کرنے کی قوت، بس اللہ ہی کی توفیق سے بندہ کو ملتی ہے ” یعنی اللہ کا فضل اور اس کی توفیق اگر شامل نہ ہو، تو بندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے، اور نہ نیک اعمال کر سکتا ہے، پس بندے کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اللہ سے توفیق اور اس کا فضل مانگتا رہے، اور معصیات سے بچنا، اور نیک اعمال کا کرنا اگر نصیب ہو، تو اس کو اپنا کمال نہ سمجھے، بلکہ اللہ کا فضل و کرم جانے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ کلمہ جس کی حقیقت کو بیان کرتا ہے، اگر اس کے دھیان اور استحضار کے ساتھ کثرت سے اس کا ورد کیا جائے، تو بندہ کی اصلاح کے لئے اکسیر ہے، اور اس کی بڑی تاثیر ہے، مشائخ طریقت میں سے خصوصیت کے ساتھ حضرات شاذلیہ طالبین و سالکین کو اسی کلمہ کی کثرت کی زیادہ تلقین کرتے ہیں۔

237Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَنِىْ رَبِّىْ بِتِسْعٍ خَشْيَةِ اللهِ فِي السِّرِ وَالْإِعْلَانِيَةِ ، وَكَلِمَةَ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِىْ ، وَأُعْطِىَ مَنْ حَرَمَنِىْ ، وَاَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِىْ وَاَنْ يَّكُوْنَ صَمْتِى فِكْرًا وَنُطْقِىْ ذِكْرًا وَنَظْرِىْ عِبْرَةً وَآمُرَ بِالْعُرْفِ وَقِيْلَ بِالْمَعْرُوْفِ . (رواه زرين)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مجھے میرے پروردگار نے ان نو (۹) باتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا ہے۔ ایک اللہ سے ڈرنا خلوت میں اور جلوت میں۔ اور عدل و انصاف کی بات کہنا غصہ میں اور رضامندی میں (یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کسی سے ناراضی اور اس پر غصہ ہو تو اس کی حق تلفی اور اس کے ساتھ بے انصافی کی جائے، اور جب کسی سے دوستی اور رضامندی میں ہو تو اس کی بے جا حمایت اور طرفداری کی جائے، بلکہ ہر حال میں عدل و انصاف اور اعتدال کی راہ پر چلا جائے) اور حکم فرمایا میانہ روی پر قائم رہنے کا، غریبی و ناداری و فراخ دستی و دولت مندی کی دونوں حالتوں میں (یعنی جب اللہ تعالیٰ ناداری اور غریبی میں مبتلا کرے تو بے صبری اور پریشاں حالی کا اظہار نہ ہو) اور جب وہ فراخ دستی اور خوشحالی نصیب فرمائے، تو بندہ اپنی حقیقت کو بھول کر غرور اور سرکشی میں مبتلا نہ ہو جائے۔ الغرض ان دونوں امتحانی حالتوں میں افراط و تفریط سے بچا جائے، اور اپنی روش درمیانی رکھی جائے، یہی وہ میانہ روی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا ہے۔ (آگے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں) اور مجھے حکم فرمایا کہ میں ان اہلِ قرابت کے ساتھ بھی رشتہ جوڑوں اور ان کے حقوق قرابت اچھی طرح ادا کروں جو مجھ سے رشتہ قرابت توڑیں اور میرے ساتھ بدسلوکی کریں، اور یہ کہ میں ان لوگوں کو بھی دوں جنہوں نے مجھے محروم رکھا ہو، اور میرا حق مجھے نہ دیا ہو، اور یہ کہ میں ان لوگوں کو معاف کر دوں جنہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہو اور مجھے ستایا ہو، اور مجھے حکم دیا ہے کہ میری خاموشی میں تفکر ہو (یعنی جس وقت میں خاموش ہوں تو اس وقت سوچنے کی چیزیں سوچوں، اور جو چیزیں قابل تفکر ہیں ان میں غور و تفکر کروں، مثلاً اللہ کی صفات اور اس کی آیات، اور مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ معاملہ میرے ساتھ کیا ہے، اور اس کا مجھے کیا حیم ہے، اور میرا معاملہ اللہ کے ساتھ اور اس کے احکام کے ساتھ کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے، اور میرا انجام کیا ہونے والا ہے، اور مثلاً یہ کہ اللہ کے غافل بندوں کو کس طرح اللہ سے جوڑا جائے، الغرض خاموشی میں اس طرح کا تفکر ہو)۔ اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میری گفتگو ذکر ہو (یعنی میں جب بھی بولوں اور جو بھی بولوں اس کا اللہ سے تعلق ہو، خواہ اس طرح کہ وہ اللہ کی ثنا و صفت ہو، یا اس کے احکام کی تعلیم و تبلیغ ہو، یا اس طرح کہ اس میں اللہ کے احکام اور حدود کی رعایت اور نگہداشت ہو، ان سب صورتوں میں جو گفتگو ہوگی وہ “ ذکر ” کے قبیل سے ہوگی) اور مجھے حکم دیا ہے کہ میری نظر عبرت والی ہو، (یعنی میں جس چیز کو دیکھوں اس سے سبق اور عبرت حاصل کروں) اور لوگوں کو حکم کروں اچھی باتوں کا۔ (رزین) تشریح ضروری تشریح ترجمہ کے ضمن میں ہو چکی ہے۔ صرف ایک بات اور قابلِ ذکر ہے، کہ حدیث کا آخری جز (وامر بالمعروف) ان نو باتوں کے علاوہ ہے، گویا حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے وہ خاص نو حکم بیان فرمانے کے بعد جو آپ اس موقع پر بیان فرمانا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ کا ایک اور اہم حکم بھی بیان فرما دیا جس کے لئے آپ نبی و رسول ہونے کی حیثیت سے خاص طور سے مامور ہیں، اور وہ آپ کا خاص الخاص فرضِ منصبی ہے، یعنی “ امر بالمعروف ” جس میں نہی عن المنکر بھی داخل ہے، کیوں کہ وہ دراصل امر بالمعروف ہی کی منفی صورت ہے۔ یہ حدیث اور اس سے پہلی حدیث بھی بڑی اہم تعلیمات کی جامع ہیں، اور حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عمل نصیب فرما دیں، تو اصلاح و تزکیہ کے لئے یہی دو حدیثیں کافی ہیں۔

238Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ ، وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا؛ فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ ، وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا؛ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ؛فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ ، وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مُوتٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ ، وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ " (رواه احمد)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دفعہ) مجھے دس باتوں کی وصیت فرمائی، فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اگرچہ تم کو قتل کر دیا جائے اور جلا ڈالا جائے۔ اور اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو، اگرچہ وہ تم کو حکم دیں کہ اپنے اہل و عیال اور مال و منال کو چھوڑ کے نکل جاؤ۔ اور کبھی ایک فرض نماز بھی قصداً نہ چھوڑو، کیوں کہ جس نے ایک فرض نماز بھی قصداً چھوڑی، اس کے لئے اللہ کا عہد اور ذمہ نہیں رہا۔ اور ہرگز کبھی شراب نہ پیو، کیوں کہ شراب نوشی سارے فواحش کی جڑ بنیاد ہے، (اسی لئے اس کو ام الخبائث کہا گیا ہے)۔ اور ہر گناہ سے بچو کیوں کہ گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غصہ نازل ہوتا ہے۔ اور جہاد کے معرکہ سے پیٹھ پھیر کے نہ بھاگو، اگرچہ کُشتوں کے پشتے لگ رہے ہوں۔ اور جب تم کسی جگہ پر لوگوں کے ساتھ رہتے ہو، اور وہاں (کسی وبائی مرض کی وجہ سے) موت کا بازار گرم ہو جائے تو تم وہیں جمے رہو، (جان بچانے کے خیال سے وہاں سے مت بھاگو) اور اپنے اہل و عیال پر اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق خرچ کرو (نہ بخل سے کام لو کہ پیسہ پاس ہوتے ہوئے اُن کو تکلیف ہو، اور نہ خرچ کرنے میں اپنی حیثیت سے آگے بڑھو)۔ اور ادب دینے کے لئے اُن پر (حسبِ ضرورت و موقع) سختی بھی کیا کرو۔ اور اُن کو اللہ سے ڈرایا بھی کرو۔ (مسند احمد) تشریح حدیث اپنے مطلب کے لحاظ سے بالکل واضح ہے۔ تاہم چند باتیں قابل ذکر ہیں، شریعت کا مشہور و معروف مسئلہ ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے، کہ اگر کسی شخص کو شرک و کفر پر مجبور کیا جائے اور اندازہ یہ ہو کہ اگر میں انکار پر ہی قائم رہوں گا، تو مار ڈالا جاؤں گا، تو ایسے موقع پر اس کی اجازت ہے، کہ صرف زبان سے شرک و کفر کا اظہار کر کے اُس وقت جان بچا لی جائے۔ لیکن عزیمت اور افضل یہ ہے کہ زبان سے بھی شرک و کفر کا اظہار نہ کرے، اگرچہ جان چلی جائے۔ حضرت معاذ ؓ چونکہ خواص میں سے تھے، اس لئے حضور ﷺ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ وہ ایسے موقع پر عزیمت ہی پر عمل کریں، اور جان کی پروا نہ کریں۔ اسی طرح والدین کی اطاعت کے بارے میں جو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ اہل و عیال اور اپنا کمایا ہوا سارا مال چھوڑ کے نکل جانے کو کہیں، تب بھی ان کی نافرمانی نہ کرو، یہ بھی اولیٰ اور افضل کا بیان ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اولاد کو چاہئے کہ اُن کے سخت سے سخت حکم اور ناگوار سے ناگوار حکم کو بھی مانے، ورنہ مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کے ایسے اسخت اور ناواجب مطالبات کا پورا کرنا اولاد پر شرعاً واجب نہیں ہے، ہاں اگر رضاکارانہ طور پر اولاد ایسا کرے، (اور کسی دوسرے کی اس میں حق تلفی نہ ہو) تو افضل ہے اور بڑی بلند بات ہے۔ نماز کے متعلق آپ نے جو یہ ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ایک فرض نماز قصداً ترک کی، اس کے لیے اللہ کا عہد و ذمہ نہیں رہا۔ یہ اُن حدیثوں میں سے ہے جن کی بناء پر حضرت امام شافعیؒ اور بعض دوسرے ائمہ نے تارک صلوٰۃ کے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ حضرت امام مالکؒ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ حاکم اسلام اس کو جو سزا دینا مناسب سمجھے دے اور قید کر دے، اللہ کے عہد و ذمہ کی برأت کی یہ بھی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ بہر حال اس میں شبہ نہیں کہ عمداً فرض نماز چھوڑنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور یہ گناہ اگر عین کفر نہیں ہے تو قریب بہ کفر ضرور ہے۔ حضور ﷺ کی اس جامع وصیت کے آخری حصہ کا تعلق اولاد کی خبر گیری اور ان کی تادیب و ترہیب سے ہے، اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم حضور ﷺ کی بالکل آخری وصیت یہ ہے “ وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ ” یعنی تمہارے ذمہ یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا کرتے رہو، اس کے لئے جو تدبیریں بھی کرنی پڑیں وہ گویا ہمارے فرائض میں سے ہیں، اور ہم اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دہ ہوں گے۔

239Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي؟ فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ : يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : « إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ ، وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا ، فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ ، الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا ، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا ، وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى ، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ » (رواه ابن ماجه والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن مسجد نبوی ﷺ میں آئے، وہاں انہوں نے معاذ بن جبل ؓ کو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہین، حضرت عمرؓ نے ان سے دریافت کیا، تمہارے اس رونے کا سبب کیا ہے؟ انہیوں نے کہا، کہ مجھے ایک بات رُلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی میں نے آپ سے سنا تھا، آپ ﷺ فرماتے تھے، کہ تھوڑا سا ریا بھی شرک ہے، اور جس شخص نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی تو اس نے خود اللہ کو جنگ کی دعوت دی اور بے شک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ان نیکو کار متقی بندوں سے جو ایسے چھپے ہوئے اور نامعروف ہوں کہ جب غائب ہوں تو کوئی ان کو تلاش نہ کرے، اور حاضر ہوں تو کوئی ان کو دعوت دے کر اپنے پاس نہ بُلائے، ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ، نکل جاتے ہیں کالی آندھیوں میں سے۔ (سنن ابن ماجہ و شعب الایمان للبیہقی) تشریح حضرت معاذؓ کی یہ حدیث جس کو یاد کر کے وہ رو رہے تھے، چنداجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا، کہ تھوڑاسا ریابھی شرک ہے، درحقیقت تنہا یہی بات ان بندوں کو رلانے کے لیے کافی ہے جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہو، اور وہ شرک کی شناعت و قباحت کو بھی جانتے ہوں۔ کیوں کہ خفی اور باریک قسم کے ریا سے بچنا اُن بندوں کے لیے بھی بہت مشکل ہے جو اُس سے بچنے کی فکر اورکوشش بھی کرتے ہیں، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کا بندہ اپنے عمل کو ریا وغیرہ سے پاک رکھنے کی پوری کوشش کرتا ہے، لیکن پھر اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ ریا کی کچھ لگاوٹ آ ہی گئی، عارفین کا یہعام حال ہے کہ وہ عمل کرتے ہیں اور بعد میں یہ محسوس کر کے روتے ہیں کہ جس اخلاص کے ساتھ عمل ہونا چاہئے وہ نصیب نہیں ہوا۔ غالباً حضرت معاذ کے اس رونے میں بھی بھی اس احساس کو دخل تھا۔ حضرت معاذ کا بیان ہے، کہ ریا کے متعلق اس انتباہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دوسری مرتبہ تنبیہ یہ فرمائی تھی کہ جن بندوں کا اللہ سے خاص تعلق ہو اُن کے بارے میں بہت محتاط رہنا چاہئے، جو کوئی اُن خاصانِ خدا سے دشمنی کرتا ہے وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کو جنگ کی دعوت دیتا ہے، اور اُس کے غضب اور عذاب سے کھیلنا چاہتا ہے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو وہ بندے محبوبانِ بارگاہ خداوندی ہیں جو نیکو کار اور تقویٰ شعار ہیں، لیکن اسبابِ شہرت سے بچنے کی وجہ سے کوئی اُن کے اس امتیاز کو جانتا بھی نہیں، وہ ایسے گمنام اور نامعروف ہیں کہ غائب ہوں تو کسی کو اُن کی فکر اور تلاش نہ ہو، اور موجود ہوں تو کوئی اُن کو مدعو نہ کرے، اُن کے دل روشن بلکہ دوسروں کو روشنی دینے والے چراغ ہیں، اور وہ اپنے دل کی اس روشنی کی وجہ سے فتنوں کی سخت سے سخت اندھیریوں میں سے اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ (۱) حضرت معاذ ؓ کے رونے میں غالباً ان کے اس احساس کو بھی دخل ہو اگ کہ افسوس ہم ایسے گمنام اور نامعروف نہیں رہے، اور ہماری زندگی ایسی غربت اور کسمپرسی کی نہیں رہی، اور ممکن ہے یہ بھی حساس ہو کہ اللہ کے کسی ایسے مستورالحال بندے کی مجھ سے کوئی حق تلفی نہ ہو گئی ہو، اور اُس کو میر ی ذات سے کوئی ایذا کبھی نہ پہنچ گئی ہو۔

240Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " أَوْصَيْتُكَ بِتَقْوَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّهُ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ " قُلْتُ : زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّهُ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ " قُلْتُ : زِدْنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِطُولِ الصَّمْتِ ، فَإِنَّهُ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ ، وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ " قُلْتُ : زِدْنِي . قَالَ : إِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ ، فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ ، وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ " قُلْتُ : زِدْنِي . قَالَ : " قُلِ الْحَقَّ ، وَإِنْ كَانَ مُرًّا " قُلْتُ : زِدْنِي . قَالَ : " لَا تَخَفْ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " قُلْتُ : زِدْنِي . قَالَ : " لِيَحْجِزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے بعد (یا تو خود حضرت ابوذر نے یا ان سے روایت کرنے والے نیچے کے راوی نے) ایک طویل حدیث بیان کی (جس کو یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے) اسی سلسلہ کلام میں حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے وضیت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ کے تقوے کی، کیوں کہ یہ تقوی بہت زیادہ آراستہ کر دینے والا اور سنوار دینے والا ہے، تمہارے سارے کاموں کو۔ ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے دعرض کیا کہ حضرت! اور وصیت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، تم قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو لازم پکڑ لو، کیوں کہ یہ تلاوت، اور ذکر ذریعہ ہو گا آسمان میں تمہارے ذکر کا، اور اس زمین میں نور ہو گا تمہارے لئے۔ ابوذرؓ کہتے ہیں میں نے پھر عرض کیا، حضرت مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: زیادہ خاموش رہنے اور کم بولنے کی عادت اختیار کرو، کیوں کہ یہ عادت شیطان کو دفع کرنے والی اور دین کے معاملے میں تم کو مدد دینے والی ہے۔ ابوذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا، مجھے اور نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: زیادہ ہنسنا چھوڑ دو کیونکہ یہ عادت دل کو مردہ کر دیتی ہے، اور آدمی کے چہرے کا نور اس کی وجہ سے جاتا رہتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! مجھے اور نصیحت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ حق اور سچی بات کہو، اگرچہ (لوگوں کے لیے) ناخوشگوار اور کڑوی ہو۔ میں نے عرض کیا، مجھے اور نصیحت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! مجھے اور نصیحت فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم جو کچھ اپنے نفس اور اپنی ذات کے بارے میں جانتے ہو، چاہئے کہ وہ تم کو باز رکھے دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی اکثری عادتِ مبارکہ کے مطابق سب سے پہلی وصیت ابوذر غفاری ؓ کو تقوے کی فرمائی، اور ارشاد فرمایا کہ تقویٰ تمہارے سارے کاموں کو بہت مزین اور آراستہ کر دینے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آدمی تقوے کو اپنا شعار بنا لے، تو اس کی ساری زندگی اطاعت اور بندگی والی زندگی ہو جائے گی، اور اس کا ظاہر و باطن سب ہی آراستہ ہو جائے گا۔ پھر آپ نے تلاوت قرآن اور ذکر اللہ کی کثرت کی وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کے نتیجہ میں آسمانوں میں یعنی ملاء اعلیٰ میں تمہارا ذکر ہو گا۔ چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کی مجلس میں کا ذکر فرماتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے “ فَاذْكُرُوْنِىْ اَذْكُرْكُمْ ” (تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا) تلاوت و ذکر کی دوسری برکت آپ نے یہ بیان فرمائی کہ اس سے اسی دنیا اور اسی زمین میں ایک نور تم کو حاصل ہو گا، ذکر و تلاوت سے پیدا ہونے والا نور دراصل تو بندہ کے باطن میں پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے آثار ظاہر میں بھی محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے زیادہ خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ ہتھیار ہے جس سے شیطان دفع ہو سکتا ہے، اور دین کے بارے میں اس سے بڑی مدد مل سکتی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ جس کو ہر شخص محسوس کر سکتا ہے کہ شیطان آدمی کے دین کو سب سے زیادہ نقصان زبان ہی کے راستے سے پہنچا سکتا ہے، جھوٹ غیبت، بہتان، گالی گلوج، چغل خوری وغیرہ، یہی وہ گناہ ہیں جن میں آدمی سب سے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی لئے ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ “ آدمیوں کو جہنم میں منہ کے بل اُن کے زبانوں کے بیباکیاں ہی ڈلوائیں گی ”۔ پس ظاہر ہے کہ جو شخص زیادہ خاموش رہنے اور کم بولنے کی عادت ڈال لے، وہ اپنے کو اور اپنے دین کو شیطان کے حملوں سے زیادہ محفوظ رکھ سکے گا۔ واضح رہے کہ زیادہ خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کے کرنے کی ضرورت نہ ہو اورجس پر آخرت میں ثواب ملنے کی امید نہ ہو، اُس سے زبان کو روکا جائے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اچھی باتیں بھی نہ کی جائیں۔ کتاب الایمان میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اُسے چاہئے کہ یا تو اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ہنسنے کی نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس سے دل مردہ ہو جاتا ہے، اور چہرہ بے نور ہو جاتا ہے۔ دل کے مر جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں غفلت اور بے حسی اور ایک طرح کی ظلمت آ جاتی ہے، اور اس کا اثر ظاہر پر یہ پڑتا ہے کہ چہرہ پر وہ نور باقی نہیں رہتا جو زندہ اور بیداردل رکھنے واے اہل ایمان کے چہروں پر ہوتا ہے۔ اس سلسلہ کلام میں آپ نے سب سے آخری نصیحت حضرت ابوذر کو ئی فرمائی کہ اپنے عیبوں اور گناہوں کے بارے میں جو کچھ تم جانتے ہو، اُس کی فکر تم کو اتنی ہونی چاہئے کہ دوسرے بندوں کے عیوب و ذنوب کو دیکھئے اور ان کی باتیں کرنے کی تم کو فرصت ہی نہ ہو، بلا شبہ جو بندہ بھی اپنے عیوب اور اپنے گناہوں پر نظر رکھے گا اور اپنے نفس کا ایک سچے مؤمن کی طرح احتساب کرتا رہے گا، اُسے دوسروں کے معائب اور معاصی نظر ہی نہ آئیں گے، اور وہ اپنے ہی کو سب سے زیادہ قصور وار اور گناہ گار سمجھے گا، دوسروں کے عیوب اُن ہی کو زیادہ نظر آتے ہیں جو اپنی فکر سے خالی ہوتے ہیں۔ ؎ غافل ان ایں خلق از خود بے خبرلا جرم گویند عیبے یک دگر