Maarif-ul-Hadith 168

کتاب الرقاق

168Maarif-ul-Hadith

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ ، مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةً » (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی، تو کسی کافر منکر کو وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح یعنی خدا اور رسول کے نہ ماننے والوں، کافروں، منکروں کو دنیا سے جو کچھ مل رہا ہے، (اور جیسا کہ دیکھا جا رہا ہے خوب مل رہا ہے) اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ کے نزدیک دنیا نہایت ہی حقیر اور بے قیمت چیز ہے، اگر اس کی کچھ بھی قدر و قیمت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان باغیوں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا، چنانچہ آخرت جس کی اللہ کے نزدیک قدر و قیمت ہے، وہاں کسی دشمنِ خدا کو ٹھنڈے اور خوشگوار پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا۔