نماز گناہوں کی معافی اور تطہیر کا ذریعہ
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَقُولُ مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ » (رواه مسلم)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان آدمی فرض۔۔۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کی یہ تاثیر اور برکت کہ وہ سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور پہلے گناہوں کی گندگی کو دھو ڈالتی ہے اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو، کیوں کہ کبیرہ گناہوں کی نحوست اتنی غلیظ ہوتی ہے اور اس کے ناپاک اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف توبہ ہی سے ہو سکتا ہے، ہاں اللہ تعالیٰ چاہے تو یونہی معاف فرما دے اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔
نماز پر جنت اور مغفرت کا وعدہ
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ » (رواه مسلم)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر پوری قلبی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے، تو جنت اس کے لیے ضرور واجب ہو جائے گی۔ (صحیح مسلم)
نماز پر جنت اور مغفرت کا وعدہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، لَا يَسْهُو فِيهِمَا ، غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " (رواه احمد)
حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا جو بندہ ایسی دورکعت نماز پڑھے جس میں اس کو غفلت بالکل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس نماز ہی کے صلہ میں اس کے سارے سابقہ گناہ معاف فرمادےگا۔
تشریح
مندرجہ بالا حدیثوں کی تشریح میں اوپر جو کچھ لکھا جا چکا ہے، وہی اس حدیث کی تشریح کے لیے بھی کافی ہے۔
افسوس کیسی بد بختی ہے کہ نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ان ترہیبی اور ترغیبی ارشادات کے باوجود امت کی بڑی تعداد آج نماز سے غافل اور بے پروا ہو کر اپنے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے الطاف و عنایات سے محروم اور اپنی دنیا و آخرت کو برباد کر رہی ہے۔ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ، وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ
عَنْ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : « الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا » قَالَ : قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ : « بِرُّ الْوَالِدَيْنِ » قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ : « الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ دینی اعمال میں سے کو ن سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے …؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک وقت پر نماز پڑھنا۔ پھر میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ماں باپ کی خدمت کرنا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا راہ خدا میں جہاد کرنا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے والدین کی خدمت اور جہاد سے افضل اور محبوب ترین “ نماز ” کو بتلایا ہے، ار بلا شبہ نماز کا مقام یہی ہے۔ اور اس کی کچھ تفصیل اس ناچیز کے سالہ “ حقیقت نماز ” میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ ، فَقَالَ « وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسِ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ، مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الْأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ لمسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہ فجر کی نماز کا وقت تو اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج کا ابتدائی کنارہ نمودار نہ ہو، (یعنی صبح کو سورج جب طلوع ہونے لگے اور افق پر اس کا کنارہ ذرا بھی نمودار ہو جائے تو فجر کا وقت ختم ہو جاتا ہے) اور ظہر کا وقت اس وقت تک ہوتا ہے جب آفتاب بیچ آسمان سے مغرب کی جانب ڈھل جائے اور جب تک کہ عصر کا وقت نہیں آ جاتا اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج زرد نہ پڑ جائے اور اس سورج کا پہلا کنارہ ڈوبنے لگے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب آفتاب ڈوب کر بالکل غائب ہو جائے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک شفق غائب نہ ہو، اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
تشریح
نماز کے اوقات
نماز سے جو اعلیٰ مقاصد اور منافع وابستہ ہیں، اور اللہ کے خوش نصیب بندں کے لیے اس میں جو لذتیں ہیں ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ زندگی کے اگر سارے لمحات نہیں تو کم از کم دن رات کے اکثر اوقات نماز میں ضرف کرنے ضروری قرار دئیے جاتے، لیکن چونکہ حکمت الٰہی نے انسانوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ڈالی ہیں، اس لئے دن رات میں صرف پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ اور ان کے اوقات ایسی حکمت سے مقرر کئے گئے ہیں کہ نماز سے جو مقاصد وابستہ ہیں وہ بھی پورے ہوں اور دوسری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی خلل نہ پڑے۔
صبح نیند سے اٹھنے کے وقت (یعنی صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے) فجر کی نماز فرض کی گئی ہے تا کہ صبح کو سب سے پہلا کام بارگاہِ قدوسیت میں حاضری و اظہار نیاز اور بندگی کے میثاق کی تجدید ہو، پھر دوپہر یعنی زوال آفتاب تک کوئی نماز فرض نہیں کی گئی تا کہ ہر شخص اپنے حالات کے مطابق اپنے کام کاج اور دوسری ذمہ داریوں کو اس طویل وقفہ میں انجام دے سکے۔ پورے آدھے دن کے اس وقفہ کے کے بعد ظہر کی نماز فرض کی گئی اور اس میں بھی یہ سہولت دی گئی کہ خواہ اول وقت ادا کی جائے یا اپنے حالات کے مطابق گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کر کے پڑھی جائے۔ بہرحال یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ اس طویل وقفہ کے بعد نماز ظہر ادا کی جائے تا کہ غفلت یا بارگاہ خداوندی سے غیر حاضری کی مدت اس سے زیادہ طویل نہ ہو، پھر شام کے آثار شروع ہونے کے وقت عصر کی نماز فرض کی گئی تا کہ اس خاص وقت میں بھی جو اکثر لوگوں کے لیے اپنے اپنے کاموں سے فرصت پانے اور تفریحی مشاغل مشغول ہونے کا وقت ہوتا ہے، ایمان والے بندے اپنے ظاہر و باطن سے رب قدوس کی بارگاہ میں حاضر اور اس کی عبادت میں مشغول ہوں۔ پھر دن کے ختم ہونے پر غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز فرض کی گئ، تا کہ دن کے خاتمہ اور رات کے آغاز کے وقت ہم پھر بارگاہ قدوسیت میں حاضر ہو کر اس کی حمد و تسبیح اور بندگی کے عہد کی تجدید کریں۔ اس کے بعد سونے کے وقت سے پہلے عشاء کی نماز لازم کی گئی، تا کہ روزانہ کی زندگی کا ہمارا آخری عمل یہی ہو، اور ہم اپنے مالک سے رابطہ نیاز قائم کر کے اور ایمان و عبدیت کے عہد کی تجدید کر کے سوئیں اور ہماری سہولت کے لیے پانچوں نمازوں کے ان وقتوں میں کافی وسعت بھی دی گئی ہے اپنے وقتی حالات کے مطابق ہم اول وقت بھی پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخرت وقت میں بھی۔
اس پوری تفصیل پر غور کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ظہر سے لے کر عشاء تک کی نمازوں کے درمیانی وقفے تو اتنے مختصر مختصر ہیں کہ ایک سچے مومن کے لیے جو نماز کی قدر و قیمت سے واقف ہو اور اس کی لذت سے آشنا ہو، ظہر پڑھنے کے بعد عصر کا، عصر کے بعد مغرب کا اور مغرب کے بعد عشاء کا منتظر اور اس کے لیے فکر مند رہنا قدرتی طور پر بالکل ناگزیر ہے اور اس طرح گویا اس پورے وقفہ میں اس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ اور نماز سے متعلق ہی رہے گا۔ البتہ فجر سے ظہر تک کا وقفہ خاصا طویل ہے اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس کو اس لئے اتنا طویل رکھا گیا ہے کہ بندے اپنی دوسری ضروریات اور دوسرے کاموں کو اس وقفہ میں اطمینان سے انجام دے سکیں تاہم اس کی ترغیب دی گئی ے ک جن خوش نصیب بندوں سے ہو سکے وہ اس وقفہ کے درمیان چاشت کی چند رکعتیں پڑھ لیا کریں۔ اسی طرح رات کے سونے کو انسان کی ایک فطری اور حقیقی ضرورت قرار دے کر عشاء سے فجر تک کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے، اور یہ وقفہ سب سے زیادہ طویل رکھا گیا ہے لیکن یہاں بھی اس کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ کے بندے آدھی رات گزرنے کے بعد کسی وقت اٹھ کر تہجد کی چند رکعتیں پڑھ لیا کریں، رسول اللہ ﷺ نے اس کی بڑی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں اور خود آپ ﷺ کا یہ ایسا دائمی معمول تھا کہ سجر میں بھی قضا نہیں ہوتا تھا۔ چاشت اور تہجد کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ترغیبی ارشادات ان شاء اللہ اپنے موقع پر آئیں گے، یہاں تو یہ تمہیدی اشارے صرف نماز پنجگانہ کے بارے میں کیے گئے یں۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی جائیں۔
تشریح ..... رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں سائل کے سوال کے جواب میں اکثر نمازوں کا آخری اور انتہائی وقت ہی بیان فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل غالباً یہی دریافت کرنا چاہتا ہے کہ ان پانچوں نمازوں کے وقتوں میں کہاں تک وسعت ہے اور ہر نماز کس وقت تک پڑھی جا سکتی ہے اور اس کا آخری وقت کیا ہے؟ ابتدائی وقت غالباً اس کو معلوم ہو گا۔ واللہ اعلم۔
مغرب کی نماز کے بارہ میں اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ “ اس کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک شفق غائب نہ ہو ”۔ اس شفق کی تعین اور تحقیق میں ہمارے ائمہ کی رائیں کچھ مختلف ہیں، اتنی بات تو لوگ عام طور سے جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے بعد مغرب کی جانت کچھ دیر تک سرخی رہتی ہے (1)، اس کے بعد وہ سرخی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ کچھ دیر تک سفیدی رہتی ہے (2)، پھر وہ سفیدی بھی غائب ہو جاتی ہے اور سیاہی آ جاتی ہے۔ پس اکثر ائمہ کی تحقیق تو یہ ہے کہ شفق غروب آفتاب کے بعد والی سرخی کا نام ہے اس لئے ان حضرات کے نزدیک سرخی ختم ہونے پر مغرب کا وقت ختم ہو کر عشاء کا وقت آ جاتا ہے۔ اور امام ابو حنیفہؒ کا مشہور قول یہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد والی سرخی اور اس کے بعد والی سفیدی دونوں کو شفق کہا جاتا ہے اس لئے ان کے قول کے مطابق مغرب کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے، جب مغربی افق پر سفیدی بھی باقی نہ رہے اور سیاہی آ جائے اور اسی وقت ان کے نزدیک عچاء کا وقت آتا ہے، لیکن امام ابو حنیفہؒ سے ایک روایت دوسرے ائمہ کی تحقیق کے مطابق بھی منقول ہے، اور وہی اس مسئلہ میں ان کے دونوں مشہور شاگردوں امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کی بھی تحقیق ہے۔ اسی لیے بہت سے اکابر احناف نے اسی پر فتویٰ بھی دیا ہے۔
عشاء کا آخری وقت اس حدیث میں اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسری حدیثوں میں آدھی رات تک بتایا گیا ہے لیکن دوسری بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح صادق تک عشاء کا وقت باقی رہتا ہے اس لئے جن حدیثوں میں عشاء کا وقت آدھی رات تک بتایا گیا ہے، ان کا مطلب یہ سمجھا گیا ہے کہ آدھی رات تک عشاء کی نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کے بعد پڑھنامکروہ ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ : « صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ - يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ - فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرَ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ ، فَأَبْرَدَ بِهَا ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا » ، ثُمَّ قَالَ : « أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ » فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : « وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ » (رواه مسلم)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ان دونوں دن (آج اور کل) تم ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔ پھر (دوپہر کے بعد) جیسے ہی آفتاب ڈھل گیا آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا تو انہوں ظہر کی نماز کے لئے اقامت کہی (اور ظہر کی نماز پڑھی گئی)، پھر (عصر کا وقت آنے پر) آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے (قاعدہ کے مطابق پہلے اذان اور پھر) عصر کے لئے اقامت کہی (اور عصر کی نماز ہوئی) اور یہ اذان اور پھر نماز ایسے وقت ہوئی کہ آفتاب خوب اونچا اور پوری طرح روشن اور صاف تھا (یعنی اس کی روشنی میں وہ فرق نہیں رہا رتھا جو شام کو ہو جاتا ہے) پھر آفتاب غروب ہوتے ہی آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں مغرب کی اقامت کہی (اور مغرب کی نماز ہوئی) جب جیسے ہی شفق غائب ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا تو انہوں عشاء کی اقامت کہی (اور عشاء کی نماز پڑھی گئی) پھر رات کے ختم پر جیسے ہی صبح صادق نمودار ہوئی آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا اور انہوں نے فجر کی اقامت کہی (اور فجر کی نماز پڑھی گئی)، پھر جب دوسرا دن ہوا، تو آپ ﷺ نے بلال کو ٹھنڈے وقت ظہر کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ظہر (آج تاخیر کر کے) ٹھنڈے وقت پڑھی جائے تو آپ ﷺ کے حسب حکم انہوں نے ٹھنڈے وقت پر ظہر کی اقامت کہی اور خوب اچھی طرح ٹھنڈا وقت کر دیا (یعنی کافی تاخیر کر کے ظہر اس دن بالکل آخری وقت پڑھی گئی) اور اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھی گئی کہ آفتاب اگرچہ نیچے ہی تھا، لیکن کل گزشتہ کے مقابلہ میں زیادہ مؤخر کر کے پڑھی اور مغرب کی نماز آپ ﷺ نے شفق کے غائب ہو جانے سے پہلے پڑھی اور عشاء تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھی اور فجر کی نماز اسفار کے وقت یعنی (دن کا اجالا پھیل جانے پر) پڑھی۔ پھر آپ ﷺ فرمایا: ” وہ صاحب کہاں ہے جو نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرتے تھے؟ “، اس شخص نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ!۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا تمہاری نمازوں کا وقت اس کے درمیان ہےجو تم نے دیکھا۔
تشریح
ان سائل کو نماز کے اوقات کا اول و آخر سمجھانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے صرف زبانی تعلیم و تفہیم کے بجائے یہ بہتر سمجھا کہ عمل کر کے دکھا دیا جائے، اس لئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ دو دن ہمارے ساتھ پانچوں نمازیں پڑھو، پھر پہلے دن آپ ﷺ نے ہر نماز اول وقت پڑھی اور دوسرے دن ہر نماز جائز حد تک مؤخر کر کے پڑھی اور ان سے فرمایا کہ ہر نماز کے وقت کا اول و آخر یہ ہے جس میں تم نے ہم کو نماز پڑھتا دیکھا۔
عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي المَكْتُوبَةَ؟ فَقَالَ : « كَانَ يُصَلِّي الهَجِيرَ ، الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى ، حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي العَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى المَدِينَةِ ، وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي المَغْرِبِ - وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ العِشَاءَ ، الَّتِي تَدْعُونَهَا العَتَمَةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَالحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ ، وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى المِائَةِ » (رواه البخارى)
سیار بن سلامہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوبرزہ اسلمی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو میرے والد نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرض نمازیں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ (یعنی آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کے اوقات کیا تھے؟) تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ دوپہر والی نماز جس کو تم “ نماز اولیٰ ” کہتے ہو (یعنی ظہر) اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔ اور عصر ایسے وقت پڑھتے تھے کہ اس کے بعد ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے بالکل آخری سے پر اپنے گھر واپس جاتا تو ایسے وقت پہنچ جاتا تھا کہ آفتاب زندہ ہوتا تھا (یعنی اس میں روشنی و حرارت باقی ہی رہتی تھی۔ وہ زرد اور ٹھنڈا نہیں ہو جاتا تھا آگے سیار بن سلامہ کہتے ہیں) اور میں یہ بھول گیا کہ حضور ﷺ کی مغرب کی نماز کے بارے میں انہوں نے کیا بتایا تھا (آگے ابو برزہ اسلمی کا بیان نقل کرتے ہیں کہ) اور عشاء (جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو) رسول اللہ ﷺ دیر کر کے پڑھنا پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ اور صبح کی نماز سے ایسے وقت فارغ ہوتے تھے جب آدمی (صبح کے اجالے میں) اپنے پاس بیٹھنے والوں کو پہچان لیتا تھا اور آپ ﷺ (فجر کی نماز میں) ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کے راوی سیار بن سلامہ کو یہ یاد نہیں رہا کہ ابو برزہ اسلمی ؓ نے حضور ﷺ کی مغرب کی نماز کا وقت کیا بتایا تھا، دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ مغرب کی نماز عام طور سے اول وقت یعنی آفتاب غروب ہوتے ہی پڑھا کرتے تھے، کبھی کسی خاص ضرورت ار مصلحت ہی سے آپ ﷺ نے مغرب کی نماز کی تاخیر کر کے پڑھی ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالهَاجِرَةِ ، وَالعَصْرَ وَالشَّمْسُ [ص : 118] حَيَّةٌ ، وَالمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ ، وَالعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ ، وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت حسن بن علی ؓ کے پوتے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت ہے کہ ہم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نمازوں کے بارے میں سوال کیا۔ (یعنی یہ کہ آپ ﷺ پنجگانہ نمازیں کس وقت پڑھتے تھے) تو انہوں نے بتایا کہ ظہر کی نماز آپ ﷺ نصف النہار میں (یعنی زوال ہوتے ہی) پڑھتے تھے۔ اور عصر ایسے وقت کہ سورج بالکل زندہ ہوتا تھا، (اس کی گرمی اور روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا) اور مغرب اس وقت جب آفتاب غروب ہوتا، اور ” عشاء (کے بارے میں معمول یہ تھا کہ) جب لوگ زیادہ تعداد میں آ جاتے تو آپ ﷺ سویرا پڑھ لیتے تھے اور لوگ کم ہوتے تو مؤخر کر کے پڑھتے تھے۔ اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت جابرؓ کی اس حدیث میں اور اس سے پہلی ابو برزہ اسلمیؓ والی حدیث میں بھی ظہر کی نماز کے بارے میں حضور ﷺ کا معمول یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ زوال ہوتے ہی نصف النہار میں پڑھ لیا کرتے تھے، لیکن آگے آنے والی بعض دوسری حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معمول آپ ﷺ کا گرمی کے موسم کے علاوہ تھا۔ جب گرمی سخت پڑتی تھی تو آپ ﷺ ظہر میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ گرمی کی حدت ختم ہو جائے اور وقت کچھ ٹھنڈا ہو جائے اور اسی کی آپ ﷺ نے امت کو بھی ہدایت فرمائی ہے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ » (رواه النسائى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب گرمی ہوتی تو دیر کر کے ٹھنڈے وقت (ظہر کی) نماز پڑھتے اور جب سردی کا موسم ہوتا تو جلدی (یعنی اول ہی وقت میں) پڑھ لیتے۔ (نسائی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ » (رواه البخارى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب گرمی سخت ہو تو ظہر کو ٹھنڈے وقت پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت آتش دوزخ کے جوش سے ہے۔ (صحیح بخاری)
(یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں “ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ” کا لفظ ہے، اگرچہ مراد اس سے بھی ظہر ہی ہے)
تشریح
دنیا میں ہم جو کچھ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہین اس کے کچھ تو ظاہری اسباب ہوتے ہیں جنہیں ہم خود بھی جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور کچھ باطنی اسباب ہوتے ہیں جو ہمارے احساس و ادراک کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کبھی کبھی ان کی طرف اشارے فرماتے ہیں، اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے کہ “ گرمی کی شدت آتش دوزخ کے جوش سے ہے ” یہ اسی قبیل کی چیز ہے، گرمی کی شدت کا ظاہری سبب تو آفتاب ہے اور اس بات کو ہر شخص جانتا ہے اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا، لیکن عالم باطن، اور عالم غیب میں اس کا تعلق جہنم کی آگ سے بھی ہے، اور یہ ان حقائق میں سے ہے جو انبیاء علیہم السلام ہی کے ذریعہ معلوم ہو سکتے ہیں۔ دراصل ہر راحت اور لذت کا مرکز اور سرچشمہ جنت ہے، اور ہر تکلیف و مصیبت کا اصل خزانہ اور سرچشمہ جہنم ہے، اس دنیا میں جو کچھ راحت و لذت یا تکلیف و مصیبت ہے وہ وہیں کے لامحدود خزانہ کا کوئی ذرہ اور اسی اتہاہ سمندر کا کوئی قطرہ اور وہیں کی ہواؤں کا کوئی جونکا ہے، اور اس کو اس مرکز و مخزن سے خاص نسبت ہے، اسی بنیاد پر اس حدیث میں گرمی کی شدت کو جہنم کی تیزی اور اس کے جوش و خروش سے منسوب کیا گیا ہے، اور اصل مقصد بس اتنا ہے کہ گرمی کی شدت کو جہنم سے ایک خاص نسبت ہے اور وہ غضب خداوندی کا ایک مظہر ہے اور خنکی و ٹھنڈک رحمت خداوندی کی لہر ہے اس لئے جس موسم میں نصف النہار کے وقت سخت گرمی ہو اور گرمی کی شدت سے فضا جہنم بن رہی ہو تو ظہر کی نماز کچھ تاخیر کر کے ایسے وقت پڑھی جائے جب گرمی کی شدت ٹوٹ جائے وقت کچھ ٹھنڈا ہو جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
وقت عصر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « يُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي العَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ آفتاب بلند اور زندہ ہوتا تھا۔ پس عوالی (یعنی مدینہ کی بالائی آبادیوں) کی طرف جانے والا آدمی (حضور ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھ کے) چلتا تھا تو وہ عوالی ایسے وقت پہنچ جاتا تھا کہ آفتاب اس وقت بھی اونچا ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت انس ؓ کو اللہ تعالیٰ نے بہت طویل عمر عطا فرمائی (1)۔ پہلی صدی ہجری کے اواخر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ خلافت راشدہ کے خاتمہ کے بعد اموی حکومت کے بھی تقریباً پچاس سال انہوں نے دیکھے ہیں، ان کے زمانے میں بنو امیہ کے بعض خلفا اور امراء عصر کی نماز میں بہت تاخیر کرتے تھے، حضرت انس ؓ ان کے اس طرزِ عمل کو بہت غلط اور خلاف سنت سمجھتے تھے، اور حسب موقع اپنی اس رائے کا اظہار فرماتے تھے، اس حدیث کے بیان کرنے سے بھی ان کا مقصد یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول عصر کی نماز میں اتنی تاخیر کا نہیں تھا، آپ ﷺ ایسے وقت عصر پڑھتے تھے کہ آفتاب خوب بلند اور اپنی حرارت اور روشنی کے لحاظ سے بالکل زندہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ساتھ عصر پڑھ کر اگر کوئی شخص عوالی کی طرف جاتا تو جس وقت وہ وہاں پہنچتا اس وقت بھی آفتاب بلندی پر ہوتا۔
عوالی مدینہ طیبہ کے قریب کی وہ آبادیاں کہلاتی ہیں جو بجانب مشرق تھوڑے فاصلہ پر ہیں۔ ان مین سے جو قریب ہیں وہ دو تین میل پر ہیں اور جو دور ہین وہ پانچ چھ میل پر ہیں
وقت عصر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا ، لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا » (رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: یہ منافق والی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا ہوا آفتاب کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ وہ زرد پڑ جائے اور شیطان کے دونوں قرنوں کے درمیان ہو جائے تو کھڑا ہو اور چار ٹھونگیں مارے اور ان میں اللہ کو بہت ہی تھوڑا یاد کرے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ عصر کی نماز میں بلا کسی مجبوری کے اتنی تاخیر کرنا کہ آفتاب میں زردی آ جائے اور اس آخری اور تنگ وقت میں مرغ کی ٹھونگوں کی طرح جلدی جلدی چار رکعتیں پڑھنا جن میں اللہ کے ذکر کی مقدار بھی بہت کم اور ب مطلب یہ ہے کہ عصر کی نماز میں بلا کسی مجبوری کے اتنی تاخیر کرنا کہ آفتاب میں زردی آ جائے اور اس آخری اور تنگ وقت میں مرغ کی ٹھونگوں کی طرح جلدی جلدی چار رکعتیں پڑھنا جن میں اللہ کے ذکر کی مقدار بھی بہت کم اور ب مطلب یہ ہے کہ عصر کی نماز میں بلا کسی مجبوری کے اتنی تاخیر کرنا کہ آفتاب میں زردی آ جائے اور اس آخری اور تنگ وقت میں مرغ کی ٹھونگوں کی طرح جلدی جلدی چار رکعتیں پڑھنا جن میں اللہ کے ذکر کی مقدار بھی بہت کم اور بس برائے نام ہو، ایک منافقانہ عمل ہے، مؤمن کو چاہئے کہ ہر نماز خاص کر عصر کی نماز اپنے صحیح وقت پر اور طمانیت اور تعدیل کے ساتھ پڑھے جلدی جلدی رکوع سجدہ کرنے کی کیفیت کو مرغ کی ٹھونگوں سے تشبیہ دی گئی ہے، غالبا اس سے بہتر کوئی تشبیہ نہیں ہو سکتی۔
“ شیطان کے دو قرنوں ” کے درمیان آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کا ذکر بعض احادیث میں بھی آیا ہے، ہم جس طرح شیطان کی پوری حقیقت نہیں جانتے، اسی طرح اس کے دو قرنوں اور ان کے درمیان آفتاب کے طلوع و غروب کی حقیقت بھی ہمارے معلومات کے دائرے سے باہر کی چیز ہے اور جیسا کہ بعض شارحین نے لکھا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کوئی تشبیہ و تمثیل ہو۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِىْ أَيُّوب قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ » - أَوْ قَالَ : عَلَى الْفِطْرَةِ - مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ ". (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت ہمیشہ خیر کے ساتھ رہے گی، جب تک کہ مغرب کی نماز اتنی مؤخر کر کے نہ پڑھے کہ ستارے گنجان ہو جائیں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺ عموماً اول وقت میں پڑھتے تھے، جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا، بلا کسی عذر اور مجبوری کے اس میں اتنی تاخیر کرنا کہ ستاروں کا جال آسمان پر پھیل جائے ناپسندیدہ اور مکروہ ہے، اگرچہ اس کا وقت جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا شفق غائب ہونے تک باقی رہتا ہے۔ تاہم اگر کبھی کسی اہم دینی مشغولیت کی وجہ سے مغرب میں کچھ تاخیر ہو جائے تو اس کی گنجائش ہے، صحیح بخاری میں عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے عصر کے بعد وعظ شروع فرمایا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا اور آسمان پر ستارے نکل آئے اور آپ کی بات جاری رہی، حاضرین میں سے بعض نے کہا “ الصلوٰۃ الصلوٰۃ ” تو حضرت ابن عباس ؓ نے ان کو ڈانٹا اور کبھی کبھی کے رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کا حوالہ دے کر ان کو بتلایا کہ ایسے مواقع پر تاخیر بھی کی جا سکتی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا العِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ. (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر مجھے امت کی تکلیف اور مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ عشاء کی نماز تہائی رات یا آدھی رات تک مؤخر کر کے ہی پڑھا کریں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : " إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً ، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي ، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى" (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات نماز عشاء کے وقت ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کا بڑی دیر تک انتظار کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ اس وقت بارہ تشریف لائے جب تہائی رات جا چکی تھی یا اس کے بعد، اور ہمیں پتہ نہٰں کہ اس تاخیر کا سبب اپنے گھر والوں کے ساتھ آپ ﷺ کی کوئی مشغولی تھی یا اس کے سوا کوئی اور چیز آپ ﷺ کو پیش آ گئی تھی۔ بہر حال آپ ﷺ گھر سے باہر مسجد میں تشریف لائے تو (ہماری تسلی اور دلداری کے لیے) ہم لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اس وقت اس نماز کے انتظار میں ہو جس کا تمہارے سوا کسی دوسرے دین والے انتظار نہیں کرتے۔ اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت کے لیے بھاری اور مشکل ہو جائے گی تو میں یہ نماز (ہمیشہ دیر کر کے) اسی وقت میں پڑھا کرتا (کیوں کہ اس نماز کے لیے یہی وقت افضل ہے) اس کے بعد آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا۔ تو اس نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز کا افضل وقت اگرچہ وہ ہے جب کہ تہائی رات گزر جائے، لیکن اس وقت نماز پڑھنے میں چونکہ عام نمازیوں کے لیے زحمت اور مشقت ہے اور روزانہ اتنی دیر تک جاگ کر نماز کا انتظار کرنے میں بڑا مجاہدہ ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ مقتدیوں کی سہولت کے خیال سے عموماً اس سے پہلے ہی نماز پڑھ لیتے تھے، اور حضرت جابرؓ کی ایک حدیث میں پہلے بھی گزر چکا ہے اکہ اگر لوگ عشاء کےلیے سویرا جمع ہو جاتے تو آپ ﷺ جلدی پڑھ لیتے تھے اور اگر لوگوں کے آنے میں دیر ہوتی اور شروع وقت میں لوگ کم آتے تو آپ ﷺ کچھ دیر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے اس طرز عمل ور ارشاد سے ایک اہم اور نہایت قیمتی اصول یہ معلوم ہوا کہ اگر کسی اجتماعی عمل کے افضل وقت پر اور افضل شکل میں ادا کرنے کی وجہ سے عوام کو قابل لحاظ زحمت اور مشقت ہوتی ہو تو ان کی سہولت کے خیال سے وہاں اس افضل وقت اور افضل شکل کو ترک کر دینا ہی افضل اور بہتر ہو گا اور عوام کے ساتھ اس شفقت و رعایت کا ثواب ان شاء اللہ اس ثواب سے زیادہ ہو گا جو ترک افضل کی وجہ سے فوت ہو گا۔ دوسرے طور پر اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اجتماعی اعمال میں وقت کی فضیلت یا شکل کی فضیلت کے مقابلہ میں عوام کی رعایت اور ان کی سہولت کی فضیلت مقدم ہے۔
ایک دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ نماز عشاء کی فرضیت اس امت کے خصائص میں سے ہے۔ کسی اور امت پر یہ نماز فرض نہیں تھی، یہ بات بعض اور احادیث میں اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ مذکور ہوئی ہے۔
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ". (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اس نماز عشاء کے وقت کو میں تم سب سے زیادہ جانےے والا ہوں، رسول اللہ ﷺ نماز عشاء اس وقت پڑھا کرتے تھے جس وقت مہینہ کی تیسری رات میں چاند غروب ہوا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی)
تشریح
تجربہ اور حساب سے معلوم ہوا ہے کہ تیسری رات کو چاند اکثر و بیشتر غروب آفتاب سے دو ڈھائی گھنٹے بعد غروب ہوتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا عام معمول اتنے ہی وقت نماز عشاء پڑھنے کا تھا۔
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ". (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز (ایسے وقت) پڑھا کرتے تھے کہ عورتیں (نماز سے فارغ ہو کر اپنی چادروں میں لپٹی واپس جاتی تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جا سکتیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز سویرے ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ نماز ختم ہونے کے بعد بھی اتنا اندھیرا رہتا تھا کہ مسجد سے اپنے گھر کو واپس جانے والی کواتین کو جو اپنی چادروں میں لپٹی لپٹائی ہوتی تھیں ان کا کوئی جاننے پہچاننے والا ان کے قد و قامت اور انداز رفتار سے پہچان نہیں سکتا تھا۔
عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، "أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ ، قَالَ : قَدْرِ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً". (رواه البخارى)
حضرت قتادہ تابعی حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے خاص صحابی زید بن ثابت نے ایک دن ساتھ سحری کھائی، پھر جب یہ دونوں حضرات سحری سے فارغ ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی (قتادہ کہتے ہیں) ہم لوگوں نے پوچھا کہ ان دونوں کے کھانے سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ بس اس قدر کہ کوئی آدمی جتنی دیر میں قرآن مجید کی پچاس آیتیں پڑھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
پچاس آیتیں پڑھنے میں صرف چند منٹ صرف ہوتے ہیں۔ اس حساب سے اس دن فجر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے گویا صبح صادق ہوتے ہی پڑھ لی تھی۔ حضور ﷺ کی عادت اگرچہ یہی تھی کہ جر سویرے پڑھتے تھے، جیسا کہ ابھی حضرت صدیقہؓ کی حدیث سے بھی معلوم ہو چکا ہے، لیکن صبح صادق ہوتے ہی بالکل شروع وقت میں نماز پڑھ لینا آپ ﷺ کا عام طریقہ نہیں تھا، جیسا کہ ابو برزہ اسلمیؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ وغیرہ کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، اس لئے قرین قیاس یہ ہے کہ حضرت انسؓ نے جس دن کا یہ واقعہ بیان کیا ہے اس دن آپ ﷺ نے کسی خاص وجہ سے نماز بالکل شروع وقت ہی میں پڑھ لی تھی، جس طرح ہم لوگ بھی کبھی کبھی خاص حالات میں ایسا کر لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْر". (رواه ابو داؤد والترمذى والدارمى)
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اسفار میں ادا کرو نمازِ فجر (یعنی صبح کا اجالا پھیل جانے پر فجر کی نماز پڑھو) کیونکہ اس میں زیادہ اجر و ثواب ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذٰ، مسند دارمی)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز سویرے اور اتنے اندھیرے میں پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی ایسا اندھیرا رہتا تھا کہ نماز پڑھ کر گھر واپس جانے والی خواتین پہچانی نہیں جا سکتی تھیں۔
اور حضرت رافع بن خدیج ؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی نماز صبح کا اجالا پھیل جانے پر پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کی بات ہے۔ ائمہ مجتہدین اور علماء دین نے اس اختلاف کو کئی طریقوں سے حل کیا ہے۔ اس عاجز کے نزدیک بعض اکابر علماء کی یہ توجیہ سب سے زیادہ رائج ہے کہ رافع بن خدیج کی اس حدیث کے مطابق فجر کے لیے افضل تو اسفار ہی ہے، یعنی یہ کہ کچھ تاخیر کر کے اس وقت پڑھی جائے جب صبح کا اجالا پھیل جائے، لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زیادہ تر لوگ تہجد پڑھنے والے اور فجر کے لیے اول وقت اٹھنے والے تھے (جیسا کہ آج تک بھی اہل صلاح و تقوی کا عام حال ہے) اس لیے ان کے لیے سہولت اسی میں تھی کہ فجر کی نماز تاخیر سے نہ پڑھی جائے۔ دیر کر کے اسفار میں پڑھنے کی صورت میں ان کو طویل انتظار کی زحمت اٹھانی پڑتی، اس لئے رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز زیادہ تر سویرے غلس ہی میں پڑھتے تھے، گویا جس طرح عشاء کی نماز کے لیے تہائی رات تک کی تاخیر افضل ہونے کے باوجود آپ ﷺ کے لیے غلس میں یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے، اور پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اللہ کے بندوں کی رعایت اور سہولت کی فضیلت وقت سے مقدم اور بالا تر ہے۔
ہمارے زمانے میں چونکہ تہجد گزار اور فجر کے لیے اول وقت میں اٹھنے والے بہت کم ہیں اور زیادہ لوگوں کو سہولت اسفار میں (یعنی اجالا پھیل جانے پر پڑھنے میں) ہے، بلکہ فجر کی جماعت اگر اول وقت غلس میں ہو تو نمازیوں میں سے بھی بہت کم شریک جماعت ہو سکیں گے۔ ان سب وجوہ سے ہمارے زمانے میں کچھ تاخیر کر کے اسفار ہی مین فجر کی نماز پڑھنا بہتر ہو گا، تاہم اگر کسی جگہ کے عام نمازی اول وقت ہی میں جمع ہو جاتے ہوں اور تاخیر میں ان کے لیے زحمت اور مشقت ہو تو ان کے لیے یہی بہتر ہو گا کہ وہ اول وقت یعنی غلس ہی میں نماز پڑھ لیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا اکثر معمول تھا۔ بہت سے دینی حلقوں میں رمضان مبارک میں فجر کی نماز اول وقت غلس میں پڑھنے کا دستور اسی بنیاد پر ہے۔
آخر وقت نماز پڑھنے کے بارے میں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ". (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نے اپنی ساری عمر میں دو دفعہ بھی کوئی نماز اس کے آخری وقت میں نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اٹھا لیا۔
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اپنے اس بیان مین دو دفعہ کی قید غالبا اس لیے لگائی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص کو ہر نماز کا اول و آخر وقت بتانے کے لیے آپ ﷺ نے ایک دن کی نمازیں آخر وقت میں بھی پڑھ کر دکھائی تھی۔ یہ واقعہ صحیح مسلم کے حوالے سے نمبر ۱۳ پر درج ہو چکا ہے۔ بہر حال اس بیان سے حضرت صدیقہ ؓ کا مقصد یہی ہے کہ نماز کو مؤخر کر کے آخری وقت میں پڑھنا حضور ﷺ کا طریقہ نہیں تھا۔