غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ » قَال عَلِيٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا. (رواه ابوداؤد واحمد والدارمى الا انهما لم يكررا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال بھر بھی جگہ دھونے سے چھوڑ دی تو اس کو دوزخ کا ایسا ایسا عذاب دیا جائے گا۔ حدیث کے راوی حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد ہی کی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن بن گیا (یعنی میں نے معمول بنا لیا، کہ جب ذرا بڑھے، میں نے ان کا صفایا کر دیا) ابو داؤد کی روایت کے مطابق یہ جملہ آپ ﷺ نے تین دفعہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد، مسند دارمی)
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ غسل جنابت میں سارے جسم کا اس طرح دھویا جانا ضروری ہے کہ ایک بال بھر جگہ بھی دھونے سے باقی نہ رہ جائے۔
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ غسل کی سہولت کی وجہ سے حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے سر کے بال صاف کرانے کا اپنا جو معمول بنا لیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ اس مقصد سے سر منڈانے کا طریقہ بھی جائز اور مستحسن ہے۔ اگرچہ اولی سر پر بال رکھنے ہی کا طریقہ ہے، جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ کا اور باقی خلفائے راشدین کا معمول تھا۔
غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : « كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ لمسلم)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تھے، پھر بائیں ہاتھ سے مقام استنجا کو دھوتے اورداہنے ہاتھ سے اس پر پانی ڈالتے تھے، پھر وضو فرماتے تھے، اسی طرح جس طرح نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر پانی لیتے تھے اور بالوں کی جڑوں میں انگلیاں ڈال کر وہاں پانی پہنچاتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ سمجھتے تھے کہ آپ نے سب میں پوری طرح پانی پہنچا لیا، تو دونوں ہاتھ بھر بھر کر تین دفعہ پانی اپنے سر کے اوپر ڈالتے تھے، اس کے بعد باقی سارے جسم پر پانی بہاتے تھے، اس کے بعد دونوں پاؤں دھوتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ ، قَالَتْ : « أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ ، وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ ، فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ » (رواه البخارى ومسلم وهذا لفظ مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میری خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لئے پانی بھر کے آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا۔ تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دو دفعہ دھویا، پھر اپنا دھلا ہوا ہاتھ آپ ﷺ نے پانی کے اس برتن میں ڈالا اور اس سے پانی لے کر اپنے مقام استنجا پر ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اس کو خوب زمین کی مٹی سے ملا اور رگڑا، پھر وضو کیا، جیسے کہ آپ ﷺ نماز کے لئے وضو فرمایا کرتے تھے، اس کے بعد تین دفعہ اپنے سر پر پانی لپ بھر بھر کے ڈالا، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا، پھر اس جگہ سے ہٹ کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر میں نے آپ ﷺ کو رومال دیا، تو آپ ﷺ نے اس کو واپس فرما دیا (صحیحین ہی کی دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے، کہ رومال استعمال کرنے کے بجائے آپ ﷺ نے جسم پر سے پانی کو سونت دیا اور جھاڑ دیا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت میمونہ کی ان حدیثوں سے رسول اللہ ﷺ کے غسل کے طریقے کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے، یعنی یہ کہ آپ ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دو تین دفعہ دھوتے تھے (کیوں کہ ان ہاتھوں ہی کے ذریعہ پورے جسم کو غسل دیا جاتا ہے) اس کے بعد آپ ﷺ مقام استنجا کو بائیں ہاتھ سے دھوتے تھے اور داہنے ہاتھ سے اس پر پانی ڈالتے تھے اس کے بعد بائیں ہاتھ کو مٹی سے مل مل کے اور رگڑ رگڑ کر خوب مانجتے اور دھوتے تھے، پھر اس کے بعد وضو فرماتے تھے (جس کے ضمن میں تین تین دفعہ کلی کر کے اور ناک میں پانی لے کر اس کی اچھی طرح صفائی کر کے منہ اور ناک کے اندرونی حصہ کو غسل دیتے تھے اور حسب عادت ریش مبارک میں خلال کر کے اس کے ایک ایک بال کو غسل دیتے اور بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچاتے تھے) اس کے بعد اسی طرح سر کے بالوں کو اہتمام سے دھوتے تھے اور ہر بال کی جڑ تک پانی پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، اس کے بعد باقی سارے جسم کو غسل دیتے تھے، پھر غسل کی اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو پھر دھوتے تھے۔ ظاہر ہے کہ غسل کا سب سے زیادہ پاکیزہ اور با سلیقہ طریقہ یہی ہو سکتا ہے۔ غسل کی جگہ سے ہٹ کر پھر پاؤں آپ ﷺ غالباً اس لئے دھوتے تھے کہ غسل کی وہ جگہ صاف اور پختہ نہیں ہوتی تھی۔
غسل جنابت کا طریقہ اور اس کے آداب
عَنْ يَعْلَى قَالَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ » (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت یعلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نظر ایک شخص پر پڑی جو کھلے میدان میں (برہنہ) غسل کر رہا تھا، تو آپ ﷺ نے (قریبی مناسب وقت میں) منبر پر خطبہ دیا، جس مین معمول کے مطابق پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اس کے بعد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ خود حیا فرمانے والا اور پردہ دار ہے، (یعنی بندوں کی جن شرمناک حرکتوں کا ظاہر کرنا شرم و حیا کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ظاہر نہیں فرماتا، بلکہ ان کی پردہ داری فرماتا ہے اور بندوں کے لئے بھی وہ حیا داری اور پردہ داری کو پسند فرماتا ہے، اس بناء پر اس کا حکم ہے اور میں تم کو اس کی ہدایت اور تاکید کرتا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی غسل کیا کرے، تو پردہ کر لیا کرے، لوگوں کی نگاہوں کے سامنے بے پردہ کھڑا نہ ہو جایا کرے)۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
مسنون یا مستحب غسل
شریعت نے جن حالات میں غسل کو فرض و واجب قرار دیا ہے اس کا بیان ہو چکا اور اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بھی درج کئے جا چکے، ان کے علاوہ بھی بعض موقعوں پر رسول اللہ ﷺ نے غسل کا حکم دیا ہے، لیکن یہ حکم بطور فرضیت اور وجوب کے نہیں ہے، بلکہ اس کا درجہ سنت کا ہے، اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی چند حدیث ذیل میں پڑھئے۔
عَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا جَاءَ اَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ ، فَلْيَغْتَسِلْ » . (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی جمعہ کو (یعنی جمعہ کی نماز کے لئے) آئے تو اس کو چاہئے کہ غسل کرے (یعنی نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے اس کو غسل کر کے آنا چاہئے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر مسلمان پر حق ہے (یعنی اس کے لئے ضروری ہے) کہ ہفتہ کے سات دنوں میں سے ایک دن (یعنی جمعہ کے دن) غسل کرے اس میں اپنے سر کے بالوں کو اور سارے جسم کو اچھی طرح دھوئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ان دونوں حدیثوں میں جمعہ کے غسل کا تاکیدی حکم ہے اور صحیحین ہی کی ایک اور حدیث میں جو حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے غسل جمعہ کے لئے واجب، کا لفظ بھی آیا ہے لیکن امت کے اکثر ائمہ اور علماء شریعت کے نزدیک اس سے اصطلاحی وجوب مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بھی وہی تاکید ہے جو حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ہریرہ کی مندرجہ بالا حدیثوں کا مدعا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک ارشاد سے ہوتی ہے جو انہوں نے بعض اہل عراق کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا۔ سنن ابی داؤد میں حضرت ابن عباسؓ کے مشہور شاگر و عکرمہؒ سے اس سوال و جواب کی پوری تفصیل اس طرح مرسی ہے کہ۔
عراق کے بعض لوگ حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے نزدیک واجب تو نہیں ہے لیکن اس میں بڑی طہارت و پاکیزگی ہے اور بڑی خیر ہے اس کے لئے جو اس دن غسل کرے اور جو (کسی وجہ سے ان دن) غسل نہ کرے تو (وہ گنہگار نہیں ہو گا کیوں کہ یہ غسل) اس پر واجب نہیں ہے۔ (اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل جمعہ کے حکم کی شروعات کیسے ہوئی (واقعہ یوں ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں) مسلمان لوگ غریب اور محنت کش تھے، صوف (یعنی اونٹ، بھیڑ وغیرہ کے بالوں سے بنے ہوئے بہت موٹے کپڑے) پہنتے تھے اور محنت مزدوری میں اپنی پیٹھوں پر بوجھ لادتے تھے اور ان کی مسجد (مسجد نبوی) بھی بہت تنگ تھی اور اس کی چھت بہت نیچی تھی اور ساری مسجد بس ایک چھپر کا سائبان تھا (س کی وجہ سے اس میں انتہائی گرمی اور گھٹن رہتی تھی) پس رسول اللہ ﷺ ایک جمعہ کو جب کہ سخت گرمی کا دن تھا گھر سے مسجد تشریف لائے اور لوگوں کا یہ حال تھا کہ صوف کے موٹے موٹے کپڑوں میں ان کو پسینے چھوٹ رہے تھے اور ان سب چیزوں نے مل ملا کر مسجد کی فضا میں بد بو پیدا کر دی تھی جس سے سب کو تکلیف اور اذیت ہو رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے جب یہ بدبو محسوس کی تو فرمایا کہ:۔
« يَأَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ »
اے لوگو جب جمعہ کا یہ دن ہوا کرے تو تم لوگ غسل کیا کرو اور جو اچھا خوشبودار تیل اور جو بہتر خوشبو جس کو دستیاب ہو وہ لگا لیا کرے۔
(حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں) اس کے بعد خدا کے فضل سے فقر و فاقہ کا وہ دور ختم ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خوشحالی اور وسعت نصیب فرمائی، پھر صوف کے وہ کپڑے بھی نہیں رہے جن سے بدبو پیدا ہوتی تھی اور وہ محنت و مشقت بھی نہیں رہی اور مسجد کی وہ تنگی بھی ختم ہو گئی اور اس کو وسیع کر لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمعہ کے دن لوگوں کے پسینہ وغیرہ سے جو بدبو مسجد کی فضا میں پیدا ہو جاتی تھی وہ بات نہیں رہی۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اس خاص حالت کی وجہ سے جس کی ان کے اس بیان میں تفصیل کی گئی ہے، غسل جمعہ مسلمانوں کےلئے ضروری قرار دیا گیا تھا، اس کے بعد جب وہ حالت نہیں رہی تو اس حکم کا وہ درجہ تو نہیں رہا، لیکن بہرحال اس میں پاکیزگی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اب بھی اس میں خیر اور ثواب ہے۔ یعنی اب وہ مسنون اور مستحب ہے، اور سمرہ بن جندب ؓ کی مندرجہ ذیل حدیث میں غسل جمعہ کی یہی حیثیت صریحاً مذکور ہے۔
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنْ اغْتَسَلَ فَالغُسْلُ أَفْضَلُ. (رواه احمد وابوداؤد والترمذى والنسائى والدارمى)
حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن (نماز جمعہ کے لئے) وضو کر لے تو بھی کافی ہے اور ٹھیک ہے اور جو غسل کرے تو غسل کرنا افضل ہے۔
(مسند احمد، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، مسند دارمی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا ، فَلْيَغْتَسِلْ ". (رواه ابن ماجه وزاد احمد والترمذى وابوداؤد وَمَنْ حَمَلَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میت کو غسل دے تو اس کو چاہئے کہ غسل کرے۔ (سنن ابن ماجہ میں یہ حدیث بس اسی قدر ہے، اور مسند احمد، جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں اس کے ساتھ یہ اضافہ بھی ہے کہ “ اور جو شخص میت کا جنازہ اٹھائے اس کو چاہئے کہ وضو کر لے ”)۔
تشریح
امت کے ائمہ اور علماء شریعت کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے، اس لئے ان کے نزدیک میت کو غسل دینے والے کے لئے مستحب ہے کہ غسل سے فارغ ہونے کے بعد وہ خود بھی غسل کر لے، کیوں کہ اس کا کافی امکان اور احتمال ہے کہ غسالہ میت کی چھینٹیں اس کے جسم کے کسی حصہ پر پڑ گئی ہوں۔ اور ایک دوسری حدیث میں جس کو امام بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اس غسل کے وجوب کی صریح نفی بھی وارد ہوئی ہے، اس لئے عام ائمہ امت نے میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنے کو مستحب ہی کہا ہے اسی طرح حدیث کے دوسرے جز میں جنازہ اٹھانے والوں کو وضو کرنے کا جو حکم ہے وہ بھی استحبابی ہی ہے اور اس حکم کا مقصد غالباً یہ بھی ہے کہ جنازہ اٹھانے والے پہلے ہی سے وضو کر کے نماز جنازہ پڑھنے کے لئے تیار ہیں۔ واللہ اعلم۔
عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى » (رواه ابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرمایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرنا اور حسب توفیق اچھا، صاف ستھرا لباس پہننا اور خوشبو استعمال کرنا، امت کی ان متوارث اعمال میں سے ہے جن کا رواج بلا شبہ قرن اول سے چلا آ رہا ہے، اس لیے اس میں شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ امت کو اس کی تعلیم و ہدایت رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یا عمل ہی سے ملی ہے، لیکن ان چیزوں کے بارہ میں جو روایاتکتب حدیث میں ملتی ہیں محدثین کے اصول تنقید کے مطابق ان سب کی سندوں میں ضعف ہے، حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت جو سنن ابن ماجہ کے حوالہ سے یہاں درج کی گئی ہے اس کی سند بھی ضعیف ہے، یہ ایک مثال ہے اس حقیقت کی کہ بعض روایات کی سندوں میں اصطلاحی ضعف ہوتا ہے لیکن ان کا مضمون صحیح اور ثابت ہوتا ہے۔ پس اگر کسی حدیث کی سند میں محدثین کے نزدیک ہو لیکن اس کا مضمون شواہد و قرائن سے صحیح ثابت ہوتا ہو تو وہ “ صحیح حدیث ” ہی کی طرح حجت اور قابل قبول ہو گی۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، « فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، » ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا : أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ « أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ » ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ « ، قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، » فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا " فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ : وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ « مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ » فَقَالَتْ عَائِشَةُ : « فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ لمسلم)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ ایک سفر میں (تحقیقی قول کے مطابق غزوہ ذات الرقاع میں) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔ یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر تھے (یہ دونوں مقام مدینہ طیبہ اور خیبر کے درمیان پڑتے ہیں) تو وہاں میرا ایک ہار (جو درحقیقت میری بڑی بہن اسماء کا تھا، اور میں نے عاریۃً ان سے لے کر گلے میں ڈال لیا تھا، ٹوٹ کر گر گیا اور گویا گم و گیا، میں نے اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو کر دی) تو اس کو تلاش کرانے کے لئے آپ ﷺ نے وہاں قیام فرما لیا اور آپ ﷺ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی ٹھہر گئے اور اس مقام پر اپنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، تو کچھ لوگوں نے (میرے والد ماجد) ابو بکر صدیقؓ کے پاس جا کر کہا کہ آپ دیکھتے ہیں (آپ کی صاحبزادی) عائشہؓ نے کیا کیا ہے، انہوں نے (ہار گم کر کے) رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے سب ساتھیوں کو یہاں ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے، حالانکہ نہ یہاں پانی ہے اور نہ لشکر کے ساتھ پانی ہے، پس (والد ماجد) ابو بکر صدیقؓ میرے پاس تشریف لائے اور اس وقت رسول اللہ ﷺ میری ران پر سر رکھے آرام فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کو نیند آ گئی تھی، پس مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا، کہ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے سب ساتھیوں کے یہاں رکنے کا باعث بن گئی اور صورت حال یہ ہے کہ یہاں (قریب میں) کہیں پانی نہیں ہے اور نہ لشکر کے ساتھ پانی کا انتظام ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ۔ والد ماجد نے مجھے خوب ڈانٹا ڈپٹا اور جو اللہ کو منظور تھا، اس وقت انہوں نے مجھے وہ سب کہا اور (غصہ سے) میرے پہلو میں کونچے لگائے، لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ میری ران پر سر رکھے آرام فرما رہے تھے اس لئے میں بالکل نہیں ہلی (کہ میرے حرکت کرنے سے آپ ﷺ کے آرام میں خلل نہ پڑے) پس رسول اللہ ﷺ سوتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ٓصبح کی ایسے مقام پر اور ایسی حالت میں کہ وہاں پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو سب لوگوں نے تیمم کیا (اور تیمم کر کے نماز ادا کی گئی) تو اسید بن حضیر نے (جو ان نقباء انصار میں سے ایک تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر ہجرت سے پہلے بیعت کی تھی) کہا کہ اے آل ابو بکرؓ! یہ تیمم کا حکم تمہاری پہلی برکت نہیں ہے (بلکہ اس سے پہلے بھی تمہارے ذریعہ امت کو برکتیں مل چکی ہیں) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، کہ (اس سب کے بعد) جب اس اونٹ کو اٹھایا گیا جو میری سواری میں تھا، تو میرا وہ ہار اس کے نیچے مل گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
تیمم
بسا اوقات آدمی ایسی حالت اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے کہ غسل یا وضو کرنا اس کے لئے مضر ہوتا ہے، اسی طرح کبھی آدمی ایسی جگہ ہوتا ہے کہ غسل یا وضو کے لیے وہاں پانی ہی میسر نہیں ہوتا۔ ان حالات میں اگر بلا غسل اور بلا وضو یوں ہی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جاتی، تو اس کا ایک نقصان تو یہ ہوتا کہ ان اتفاقات سے طبیعتیں ترک طہارت کی عادی بنتیں اور دوسرا اس سے بڑا ضرر یہ ہوتا کہ غسل اور وضو کی پابندی سے اللہ تعالیٰ کے دربار کی حاضری کا جو اہتمام محسوس ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے اس حاضری کی عظمت اور اس کے تقدس کا جو تصور ذہم پر چھایا ہوا رہتا ہے وہ مجروح ہوتا، اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے مجبوری کے ایسے حالات میں تیمم کو غسل اور وضو کا قائم مقام بنا دیا ہے، اب غسل اور وضو سے مجبور ہونے کے حالات میں جب آدمی نماز کے لئے تیمم کا اہتمام کرے گا تو اس کی عادت اور اس کے ذہن پر ان شاء اللہ اس طرح کا کوئی غلط اثر نہیں پڑے گا۔
ٍتیمم یہ ہے کہ سطح زمین پر یا مٹی کا پتھر یا ریت جیسی کسی چیز پر (یعنی ایسی چیزیں جو سطح زمین پر عموماً ہوتی ہیں، ان میں سے کسی پر) طہارت کی نیت سے ہاتھ مار کر وہ ہاتھ چہرے اور ہاتھوں پر پھیر لئے جائیں، اس طرح بس ہاتھ پھیر لینے سے بس تیمم ہو جاتا ہے، مٹی وغیرہ کا چہرے یا ہاتھوں پر لگنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا اہتمام کرنا چاہئے کہ مٹی وغیرہ چہرے اور ہاتھوں پر نہ لگے۔
تیمم کی حکمت
غسل اور وضو مین اپنی استعمال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مجبوری کی حالت میں اس کے بجائے تیمم کا حکم دیا، جس میں مٹی اور پتھر وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے، اس کی ایک حکمت تو بعض اہل تحقیق نے یہ بیان کی ہے، کہ پوری زمین کے دو ہی حصے ہیں، ایک بڑے حصے کی سطح پانی ہے، دوسرے حصے کی سطح مٹی، پتھر وغیرہ اس لئے پانی اور مٹی میں خاص مناسبت ہے نیز انسان کی ابتدائی تخلیق بھی مٹی اور پانی ہی سے ہوئی ہے، علاوہ ازیں مٹی ہی ایسی چیز ہے جس کو انسان سمندر کے علاوہ ہر جگہ پا سکتا ہے اور مٹی کو ہاتھ لگا کر منہ پر پھیرنے میں تذلل اور خاکساری بھی ایک خاص شان ہے اور چونکہ انسان کا آخری ٹھکانا مٹی اور خاک ہی ہے اور اس کو خاک ہی میں ملنا ہے، اس لیے تیمم میں موت اور قبر کی یاد بھی ہے۔ والله تعالى اعلم باسرار دينه
اس کے بعد تیمم سے متعلق چند حدیثیں پڑھئے! سب سے پہلے صحیحین کی وہ حدیث درج کی جاتی ہے جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے جس میں تیمم کا حکم نازل ہوا۔
تشریح ..... حضرت عائشہ صدیقہؓ کی اس روایت میں جس آیت تیمم کا ذخر ہے اس سے غالباً سورہ نساء کی آیت مراد ہے:
وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَيْدِيْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا۰۰۴۳
اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضرہو) یا تم سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی شخص استنجے سے آیا ہو یا تم نے بیبیوں سے قربت کی ہو اور تم کو پانی نہ ملے، تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو (یعنی اس زمین پر دو ہاتھ مار کے) اپنے چہروں اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو، اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمانے والا اور بڑا بخشنے والا ہے۔
یہی مضمون لفظوں کے بہت خفیف فرق کے ساتھ سورہ مائدہ کے دوسرے رکوع میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے اور بعض راویوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر سورہ مائدہ والی آٰت نازل ہوئی تھی۔ لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ سورہ نساء والی آیت پہلے نازل ہوئی ہے اور سورہ مائدہ والی بعد میں۔ واللہ اعلم۔
عَنْ عَمَّارٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ المَاءَ ، فَقَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ : أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلم ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا » فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ، وَنَفَخَ فِيهِمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. (رواه البخارى ومسلم نحوه)
حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن الخطاب ؓ کی خدمت میں آیا اور اس نے مسئلہ پوچھا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے، اور پانی مجھے ملا نہیں (تو کیا کروں؟) حضرت عمارؓ نے (جو وہاں موجود تھے) حضرت عمرؓ سے کہا کیا آپ کو یاد نہیں کہ ایک دفعہ میں اور آپ سفر میں تھے (اور ہم دونوں کو غسل کی حاجت ہو گئی تھی) تو آپ نے تو اس حالت میں نماز نہیں پڑھی، اور میں نے یہ کیا کہ میں زمین پر خوب لوٹا پوٹا (کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ جنابت والا تیمم بھی غسل کی طرح سارے جسم کا ہوتا ہو گا، تو جب ہم سفر سے واپس آئے) تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کہ (زمین پر سارے جسم کو لٹانے اور خاک آلود کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی) تمہارے لئے بس اتنا کرنا کافی تھا، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان کو پھونکا (تا کہ جو خاک دھول لگی ہو وہ اڑ جائے) پھر آپ ﷺ نے ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر پھیر لیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس روایت میں جس واقعہ کا ذکر ہے، اس میں حضرت عمر ؓ کے نماز نہ پڑھنے کی شارحین نے مختلف توجیہیں کی ہیں، ان میں سب سے زیادہ سہل الفہم یہ ہے کہ غالبا ان کو پانی مل جانے کا انتظار تھا اور اس کی کچھ امید تھی، اس لئے انہوں نے اس وقت تیمم کر کے نماز پڑھنا مناسب نہ سمجھا، واللہ اعلم۔ اور حضرت عمار کو اس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ غسل جنابت کی جگہ جو تیمم کیا جاتا ہے، اس کا طریقہ وہی ہے جو وضو والے تیمم کا طریقہ ہے، اس لئے وہ اپنے اجتہاد سے زمین میں لوٹے پوٹے لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے سے انہوں نے اپنے اس عمل کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان کی اس غلطی کی تصحیح فرما دی اور بتلا دیا کہ جنابت کی حالت میں غسل کی جگہ جو تیمم کیا جاتا ہے اس کا طریقہ وہی ہے جو وضو والے تیمم کا ہے، حضرت عمارؓ دونکہ وضو والے تیمم کا طریقہ جانتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف بس اشارہ فرما دیا۔
حضرت عمارؓ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ تیمم میں مٹی یا خاک منہ پر یا ہاتھوں پر لگنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر زمین پر یا مٹی پر ہاتھ مارنے سے ہاتھوں کو خاک دھول لگ جائے تو اس کو پھونک دینا بہتر ہے۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ ، وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدَهُ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " (رواه احمد والترمذى وابوداؤد)
حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا سامان طہارت ہے اگرچہ دس سال تک پانی نہ ملے۔ پس جب پانی پاوے تو چاہئے کہ اس کو بدن پر ڈالے، یعنی اس سے وضو یا غسل کر لے، کیوں کہ یہ بہت اچھا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر برسہا برس تک ایک آدمی وضو یا غسل کے لئے پانی نہ پائے تو تیمم اس کے لئے برابر کافی ہوتا رہے گا۔ البتہ جب پانی میسر ہو جائے گا، تو غسل یا وضو اس کے لئے ضروری ہو جائے گا۔
ف ..... قریب قریب سارے ائمہ امت اس پر متفق ہیں کہ جس شخص پر غسل واجب ہو اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا بیماری کی مجبوری سے اس نے بجائے غسل کے تیمم کیا ہو، تو اس کو جب پانی مل جائے گا یا بیماری کا عذر ختم ہو جائے گا تو غسل کرنا اس پر واجب ہو گا۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ ، فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلَاةُ ، وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ ، فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَصَلَّيَا ، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِي الْوَقْتِ ، فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ بِوُضُوءٍ ، وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ : « أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأتْكَ صَلَاتُكَ » . وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ « لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ » (رواه ابوداؤد والدارمى)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہؓ میں سے دو شخص سفر میں گئے، کسی موقع پر نماز کا وقت آ گیا اور ان کے ساتھ پانی تھا نہیں، اس لئے دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پانی بھی مل گیا، تو ایک صاحب نے تو وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی اور دوسرے صاحب نے نماز کا اعادہ نہٰں کیا، پھر جب دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اس کا ذکر کیا، تو جن صاحب نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا ان سے آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ٹھیک طریقہ اختیار کیا اور تم نے جو نماز تیمم کر کے پڑھی، وہ تمہارے لئے کافی ہو گئی (شرعی مسئلہ یہی ہے کہ ایسے موقع پر تیمم کر کے نماز پڑھ لینا کافی ہے، بعد میں وقت کے اندر پانی مل جانے پر بھی اعادہ کی ضرورت نہیں، اس لئے تم نے جو کچھ کیا ٹھیک مسئلہ کے مطابق کیا) اور جن صاحب نے وضو کر کے نماز دوبارہ پڑھی تھی ان سے آپ ﷺ نے فرمایا، کہ تمہیں دوہرا ثواب ملے گا (کیوں کہ تم نے دوبارہ جو نماز پڑھی وہ نفل ہو گی) اللہ تعالیٰ نیکیوں کو ضائع نہیں فرماتا۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی)
نماز ترک کرنا ایمان کے منافی اور کافرانہ عمل ہے
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ » (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ کے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے ہی کا فاصلہ ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
نماز کی عظمت و اہمیت اور اس کا امتیاز
حضرات انبیاء علیہم السلام، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، کمالات و احسانات اور اس کی تقدیس و توحید کے بارے میں جو کچھ بتلاتے ہیں اس کو مان لینے اور اس پر ایمان لے آنے کا پہلا قدرتی اور بالکل فطری تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے حضور میں اپنی فدویت و بندگی، محبت و شیفتگی اور محتاجی و دریوزہ گری کا اظہار کر کے اس کا قرب اور اس کی رحمت و رضا حاصل کرے۔ نماز کا اصل موضوع دراصل یہی ہے۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نماز اس مقصد کے حصول کا بہترین وسیلہ ہے۔ اسی لیے ہر نبی کی تعلیم میں اور ہر آسمانی شریعت میں ایمان کے بعد پہلا حکم نماز ہی کا رہا ہے۔ اور اسی لیے اللہ کی نازل کی ہوئی آخری شریعت (شریعت محمدی ﷺ) میں نماز کے شرائط و ارکان اور سنن و آداب اور اسی طرح کے مفسدات و مکروہات وغیرہ کے بیان کا اتنا اہتمام کیا گیا ہے اور اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے جو اس کے علاوہ کسی دوسری طاعت و عبادت کو بھی نہیں دی گئی۔
حضرت شاہ والی اللہ رحمۃ اللہ علیہ حجۃ اللہ البالغہ میں نماز کا بیان شروع کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اعْلَم أَن الصَّلَاة أعظم الْعِبَادَات شَأْنًا وأوضحها برهانا وأشهرها فِي النَّاس وأنفعها فِي النَّفس، وَلذَلِك اعتنى الشَّارِع بِبَيَان فَضلهَا وَتَعْيِين أَوْقَاتهَا وشروطها وأركانها وآدابها ورخصها ونوافلها اعتناء عَظِيم لم يفعل فِي سَائِر أَنْوَاع الطَّاعَات، وَجعلهَا من أعظم شَعَائِر الدّين. (ص 186)
یعنی نماز اپنی عظمت شان اور مقتضائے عقل و فطرت ہونے کے لحاظ سے تمام عبادات میں کاص امتیاز رکھتی ہے اور خدا شناس و خدا پرست انسانوں میں سب سے زیادہ معروف و مشہور اور نفس کے تزکیہ اور تربیت کے لیے سب سے زیادہ نفع مند ہے اور اسی لئے شریعت نے اس کی فضیلت اس کے اوقات کے تعیین و تحدید اور اس کے شرائط و ارکان اور آداب و نوافل اور اس کی رخصتوں کے بیان کا وہ اہتمام کیا ہے جو عبادات و طاعات کی کسی دوسری قسم کے لیے نہیں کیا اور انہی خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے نماز کو دین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان قرار دیا گیا ہے۔
اور اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر نماز کے اجزاء اصلیہ اور اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وأصل الصَّلَاة ثَلَاثَة أَشْيَاء أَن يخضع الْقلب عِنْد مُلَاحظَة جلال الله وعظمته، ويعبر اللِّسَان عَن تِلْكَ العظمة، وَذَلِكَ الخضوع أفْصح عبارَة وَأَن يُؤَدب الْجَوَارِح حسب ذَلِك الخضوع.
یعنی۔ نماز کے اصل عناصر تین ہیں: ایک یہ کہ قلب اللہ تعالیٰ کی لا انتہا عظمت و جلال کے دھیان سے سرافگند ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظمت و کبریائی اور اپنی عاجزی و سرافگندگی کو بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی زبان سے ادا کرے اور تیسرے یہ کہ باقی تمام ظاہری اعضاء کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اپنی عاجزی و بندگی کی شہادت کے لئے استعمال کرے۔ پھر اسی سلسلہ کلام میں چند سطر کے بعد فرماتے ہیں:
أما الصَّلَاة فَهِيَ المعجون الْمركب من الْفِكر المصروف تِلْقَاء عَظمَة الله .....وَمن الْأَدْعِيَة المبينة إخلاص عمله لله وتوجيه وَجهه تِلْقَاء الله وَقصر الِاسْتِعَانَة فِي الله، وَمن أَفعَال تعظيمية كالسجود وَالرُّكُوع يصير كل وَاحِد عضد الآخر ومكمله والمنبه عَلَيْهِ.
یعنی نماز کی حقیقت تین اجزاء سے مرکب ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا تفکر و استحضار۔ دوسرے چند ایسی دعائیں اور ایسے اذکار جن سے یہ بات ظاہر ہو کہ بندہ کی بندگی اور اس کے اعمال خالص اللہ کے لئے ہیں اور وہ اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کر چکا ہے اور اپنی حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی مدد چاہتا ہے اور تیسرے چند تعظیمی افعال جیسے رکوع و سجدہ وغیرہ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور اس کی طرف دعوت و ترغیب کا ذریعہ بنتا رہتا ہے۔ آگے فرماتے ہیں:
وَالصَّلَاة مِعْرَاج الْمُؤمن معدة للتجليات الأخروية..... وَسبب عَظِيم لمحبة الله وَرَحمته..... وَإِذا تمكنت من العَبْد اضمحل فِي نور الله، وكفرت عَنهُ خطاياه..... وَلَا شَيْء أَنْفَع من سوء الْمعرفَة مِنْهَا لَا سِيمَا إِذا فعلت أفعالها وأقوالها على حُضُور الْقلب وَالنِّيَّة الصَّالِحَة..... وَإِذا جعلت رسما مَشْهُورا انفعت من غوائل الرَّسْم نفعا بَينا، وَصَارَت شعار للْمُسلمِ يتَمَيَّز بِهِ من الْكَافِر..... وَلَا شَيْء فِي تمرين النَّفس على انقياد الطبيعة لِلْعَقْلِ وجريانها فِي حِكْمَة مثل الصَّلَاة. ص 72، 73 جلد (1)
اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے نماز کی مندرجہ ذیل چند خصوصیات اور تاثیرات بیان کی ہیں، اول یہ کہ وہ اہل ایمان کی معراج ہے اور آخرت میں تجلیات الہی کے جو نظارے اہل ایمان کو نصیب ہونے والے ہیں، ان کی استعداد اور صلاحیت پیدا کرنے کا وہ خاص ذریعہ ہے۔ دوم یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت و رحمت کے حصول کا وسیلہ ہے۔ سوم یہ کہ نماز کی حقیقت جب کسی بندہ کو حاصل ہو جاتی ہے اور اس کی روح پر نماز کی کیفیت کا غلبہ ہو جاتا ہے تو وہ بندہ نور الہی کی موجوں میں ڈوب کر گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے (جیسے کہ کوئی میلی کچیلی چیز دریا کی موجوں میں پڑ کر پاک صاف ہو جاتی ہے یا جیسے لوہا آگ کی بھٹی میں رکھ کر صاف کیا جاتا ہے)۔۔۔ چہارم یہ کہ نماز جب حضور قلب اور صادق نیت کے ساتھ پڑھی جائے تو غفلت اور برے خیالات و وساوس کے ازالہ کی وہ بہترین اور بے مثل دوا ہے۔ پنجم یہ کہ نماز کو جب پوری امت مسلمہ کے لیے ایک معروف و مقرر رسم اور عمومی وظیفہ بنا دیا گیا تو اس کی وجہ سے کفر و شرک اور فسق و ضلال کی بہت سی تباہ کن رسوم سے حفاظت کا فائدہ بھی حاصل ہو گیا اور مسلمانوں کا وہ ایک ایسا امتیازی شعار اور دینی نشان بن گیا، جس سے کافر اور مسلم کو پہچانا جا سکتا ہے۔
ششم یہ کہ طبیعت کو عقل کی رہنمائی کا پابند اور اس کا بابع فرمان بنانے کی مشق کا بہترین ذریعہ یہی نماز کا نظام ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نماز کی یہ تمام خصوصیات و تاثیرات رسول اللہ ﷺ کے مختلف ارشادات سے اخذ کی ہیں اور ہر ایک کا حوالہ بھی دیا ہے، لیکن چونکہ وہ پوری حدیثیں آگے اپنی اپنی جگہ پر آنے والی ہیں اس لئے ہم نے شاہ صاحب کے حوالوں کو اس عبارت سے حذف کر دیا ہے۔
نماز کی عظمت و اہمیت اور اس کے امتیاز کے بارے میں جو کچھ مذکورہ بالا اقتباسات میں شاہ صاحب نے فرمایا ہے ہم اس کو بالکل کافی سمجھتے ہوئے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ اب ناظرین کرام شاہ صاحب کے ان ارشادات کو ذہن میں رکھ کر نماز سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پڑھیں۔
تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ نماز دین اسلام کا ایسا شعار ہے اور حقیقت ایمان سے اس کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ اس کو چھوڑ دینے کے بعد آدمی گویا کفر کی سرحد میں پہنچ جاتا ہے۔
نماز ترک کرنا ایمان کے منافی اور کافرانہ عمل ہے
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ » (رواه احمد والترمذى والنسائى وابن ماجه)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اسلام قبول کرنے والے عام لوگوں کے درمیان نماز کا عہد و میثاق ہے، (یعنی ہر اسلام لانے والے سے ہم نماز کا عہد لیتے ہیں جو ایمان کی خاص نشانی اور اسلام کا شعار ہے) پس جو کوئی نماز چھوڑ دے تو گویا اس نے اسلام کی راہ چھوڑ کے کافرانہ طریقہ اختیار کر لیا۔
نماز ترک کرنا ایمان کے منافی اور کافرانہ عمل ہے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي أَنْ : « لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ ، وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا ، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ » (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ میرے خلیل و محبوب ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور تمہیں آگ میں بھون دیا جائے، اور خبردار کبھی بالارادہ نماز نہ چھوڑنا، کیوں کہ جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تو اس کے بارہ میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اللہ کی طرف سے اس کے وفادار اور صاحب ایمان بندوں کے لیے ہے، اور خبردار شراب کبھی نہ پینا کیوں کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
جس طرح ہر حکومت پر اس کی رعایا کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، اور رعایا جب تک بغاوت جیسا کوئی سنگین جرم نہ کرے ان حقوق کی مستحق سمجھی جاتی ہے، اسی طرح مالک الملک حق تعالیٰ شانہ نے تمام ایمان والوں اور دین اسلام قبول کرنے والوں کے لیے کچھ خاص احسانات و انعامات کی ذمہ داری محض اپنے لطف و کرم سے لے لی جاتی ہے (جس کا ظہور ان شاء اللہ آخرت میں ہو گا) اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو الدرداء ؓ کو مخاطب کر کے بتا دیا ہے کہ دیدہ و دانستہ اور بالارادہ نماز چھوڑ دینا دوسرے تمام گناہوں کی طرح صرف ایک گناہ نہیں ہے بلکہ باغیانہ قسم کی ایک سرکشی ہے جس کے بعد وہ شخص رب کریم کی عنایت کا مستحق نہیں رہتا اور رحمت خداوندی اس سے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔
اسی مضمون کی ایک حدیث بعض دوسری کتابوں میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے بھی ذکر کی گئی ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بارہ میں قریب قریب انہی الفاظ میں تاکید و تنبیہ فرمائی ہے، لیکن اس کے آخری الفاظ تارک نماز کے بارہ میں یہ ہے:
فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْمِلَّةِ
جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تووہ ہماری ملت سے خارج ہو گیا۔ (رواہ الطبرانی، الترغیب للمنذری)
ان حدیثوں میں ترک نماز کو کفریا ملت سے خروج اسی بناء پر فرمایا ہے کہ نماز ایمان کی ایسی اہم نشانی اور اسلام کا ایسا خاص الخاص شعار ہے کہ اس کو چھوڑ دینا بظاہر اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اللہ و رسول سے اور اسلام سے تعلق نہیں رہا اور اس نے اپنے کو ملت اسلامیہ سے الگ کر لیا ہے۔ خاص کر رسول اللہ ﷺ کے عہد سعادت میں چونکہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان ہونے کے بعد تارک نماز بھی ہو سکتا ہے اس لئے اس دور میں کسی کا تاررک نماز ہونا اس کے مسلمان نہ ہونے کی عام نشانی تھی۔ اور اس عاجز کا خیال ہے کہ جلیل القدر تابعی عبد اللہ بن شفیق نے صحابہ کرام کے بارے میں جو یہ فرمایا ہے کہ:
كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْكَهُ كُفْرًا غَيْرَ الصَّلَاةِ.
رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کرام نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کرنے کو بھی کفر نہیں سمجھتے تھے۔ (مشکوٰۃ بحوالہ جامع ترمذی) تو اس عاجز کے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صحابہ کرام دین کے دوسرے ارکان و اعمال مثلاً روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد اور اسی طرح اخلاق و معاملات وغیرہ ابواب کے احکام میں کوتاہی کرنے کو تو بس گناہ اور معصیت سمجھتے تھے، لیکن نماز چونکہ ایمان کی نشانی اور اس کا عملی ثبوت ہے اور ملت اسلامیہ کا خاص شعار ہے، اس لیے اس کے ترک کو وہ دین اسلام بے تعلقی اور اسلامی ملت سے خروج کی علامت سمجھتے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
ان حدیثوں سے امام احمد بن حنبلؒ اور بعض دوسرے اکابر امت نے تو یہ سمجھا ہے کہ نماز چھوڑ دینے سے آدمی قطعاً کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا حتی کہ اگر وہ اسی حال میں مر جائے تو اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ بہر حال اس کے احکام وہی ہوں گے جو مرتد کے ہوتے ہیں۔ گویا ان حضرات کے نزدیک کسی مسلمان کا نماز چھوڑ دینا بت یا صلیب کے سامنے سجدہ کرنے یا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنے کی طرح کا ایک عمل ہے جس سے آدمی قطعاً کافر ہو جاتا ہے خواہ اس کے عقیدہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو۔
لیکن۔۔۔ دوسرے اکثر ائمہ حق کی رائے یہ ہے کہ ترک نماز اگرچہ ایک کافرانہ عمل ہے، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، لیکن اگر کسی بدبخت نے صرف غفلت سے نماز چھوڑ دی ہے مگر اس کے دل میں نماز سے انکار اور عقیدہ میں کوئی انحراف نہیں پیدا ہوا ہے تو اگرچہ وہ دنیا و آخرت میں سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے لیکن اسلام سے اور ملت اسلامیہ سے اس کا تعلق بالکل ٹوٹ نہیں گیا ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہو گے، ان حضرات کے نزدیک مندرجہ بالا احادیث میں ترک نماز کو جو کفر کہا گیا ہے اس کا مطلب کافرانہ عمل ہے اور اس گناہ کی انتہائی شدت اور خباثت ظاہر کرنے کےلئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے، جس طرح کسی مضر غذا یا دوا کے لیے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بالکل زہر ہے۔
نماز ترک کرنا ایمان کے منافی اور کافرانہ عمل ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : ذَكَرَ اَمْرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا؟ كَانَتْ لَهُ نُورًا ، وَبُرْهَانًا ، وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ ، وَلَا بُرْهَانٌ ، وَلَا نَجَاةٌ ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ ، وَفِرْعَوْنَ ، وَهَامَانَ ، وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ " (رواه احمد والدارمى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بارے میں گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ نماز اہتمام سے ادا کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے واسطے نور ہو گی، (جس سے قیامت کی اندھیریوں میں اس کو روشنی ملے گی اور اس کے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اس کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی نشانی) اور دلیل ہو گی، اور اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی، اور جس شخص نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کیا (اور اس سے غفلت اور بے پروائی برتی) تو وہ اس کے واسطے نہ نور بنے گی، نہ برہان اور نہ ذریعہ نجات، اور وہ بدبخت قیامت میں قارون، فرعون، ہامان اور مشرکین مکہ کے سرغنہ) ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ (مسند احمد، مسند دارمی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ نماز سے لاپرواہی وہ جرم عظیم ہے جو آدمی کو اس جہنم میں پہنچائے گا جہاں فرعون و ہامان اور قارون اور ابی بن خلف جیسے خدا کے باغی ڈالے جائیں گے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جہنم میں جانے والے سب لوگوں کا عذاب ایک ہی درجہ کا نہ ہو گا، ایک قید خانہ میں بہت سے قیدی ہوتے ہیں اور اپنے اپنے جرائم کے مطابق ان کی سزائیں مختلف ہوتی ہیں۔ ظلمات بعضها فوق بعض
نماز پنجگانہ کی فرضیت اور ان پر وعدہ مغفرت
عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ » (رواه احمد وابوداؤد)
پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں جس نے ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور ٹھیک وقت پر ان کو پڑھا اور رکوع سجود بھی جیسے کرنے چاہئیں ویسے ہی کئے اور خشوع کی صفت کے ساتھ ان کو ادا کیا تو ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے کہ وہ اس کو بخش دے گا اور جس نے ایسا نہیں کیا (اور نماز کے بارہ میں اس نے کوتاہی کی) تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے چاہے تو اس کو بخش دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو صاحب ایمان بندہ اہتمام اور فکر کے ساتھ نماز اچھی طرح ادا کرے گا تو اولاً تو وہ خود ہی گناہوں سے پرہیز کرنے والا ہو گا اور اگر شیطان یا نفس کے فریب سے کبھی اس سے گناہ سرزد ہوں گے تو نماز کی برکت سے اس کو توبہ و استغفار کی توفیق ملتی رہے گی (جیسا کہ عام تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے) اور اس سب کے علاوہ نماز اس کے لئے کفارہ سیئات بھی بنتی رہے گی اور پھر نماز خود گناہوں کے میل کچیل کو صاف کرنے والی اور بندہ کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت کا مستحق بنانے والی وہ عبادت ہے جو فرشتوں کے لئے بھی باعث رشک ہے، اس لئے جو بندے نماز کے شرائط و آداب کا پورا اہتمام کرتے ہوئے خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کے عادی ہوں گے ان کی مغفرت بالکل یقینی ہے، اور جو لوگ دعوائے اسلام کے باوجود نماز کے بارے میں کوتاہی کریں گے (ان کے حالات کے مطابق) اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہے گا کرے گا، چاہے ان کو سزا دے یا اپنی رحمت سے معاف فرما دے اور بخش دے۔ بہر حال وہ سخت خطرہ میں ہیں اور ان کی مغفرت اور بخشش کی کوئی گارنٹی نہیں۔
نماز گناہوں کی معافی اور تطہیر کا ذریعہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ » قَالُوا : لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : « فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ارشاد فرمایا بتلاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر نہر جاری ہو جس میں روزانہ پانچ دفعہ وہ نہاتا ہو تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ کچھ بھی نہیں باقی رہے گا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا بالکل یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے خطاؤں کو دھوتا اور مٹاتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صاحب ایمان بندہ جس کو نماز کی حقیقیت نصیب ہو۔ جب نماز میں مشغول ہوتا ہے تو اس کی روح گویا اللہ تعالیٰ کے بحر جلال و جمال میں غوطہ زن ہوتی ہے، اور جس طرح کوئی میلا کچیلا اور گندہ کپڑا دریا کی موجوں پر پڑ کر پاک و صاف اور اجلا ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال کے انوار کی موجیںاس بندہ کے سارے میل کچیل کو صاف کر دیتی ہیں، اور جب دن میں پانچ دفعہ یہ عمل ہو تو ظاہر ہے کہ اس بندہ میں میل کچیل کا نام و نشان بھی نہ رہ سکے گا پس یہی حقیقیت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اس مثال کے ذریعہ سمجھائی ہے۔ اگلی حدیث نمبر ۷ میں آنحضرت ﷺ نے یہی بات ایک دوسرے انداز میں اور دوسری مثال کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔
نماز گناہوں کی معافی اور تطہیر کا ذریعہ
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، قَالَ : فَقَالَ : « يَا أَبَا ذَرٍّ » قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : « إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ » (رواه احمد)
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن سردی کے ایام میں باہر تشریف لے گئے اور درختو ں کے پتے (خزاں کے سبب سے) از خود جھڑ رہے تھے، آپ ﷺ نے ایک درخت کی دوٹہنیوں کو پکڑا (اور ہلایا) تو ایک دم اس کے پتے جھڑنے لگے، پھر حضور ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا جب مؤمن بندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ان پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔
تشریح
یعنی جس طرح آفتاب کی شعاعوں اور موسم کی خاص ہواؤں نے ان پتوں کو خشک کر دیا ہے اور اب یہ ہوا کے معمولی جھونکوں سے ذرا حرکت دینے سے اس طرح جھڑتے ہیں اسی طرح جب بندہ مومن پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر صرف اس کی رض وجوئی کے لئے نماز پڑھتا ہے تو انوارِ الٰہی کی شعاعیں اور رحمت الہی کے جھونکے اس کے گناہوں کی گندگی کو فنا اور اس کے قصوروں کے خس و خاشاک کو اس سے جدا کر کے اس کو پاک صاف کر دیتے ہیں۔