رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے ١ ؎۔
It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ میوہ، پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جب تک یہ چیزیں محفوظ مقام میں سوکھنے کے لئے نہ رکھی جائیں، یعنی جرین (کھلیان) میں، مگر شرط یہ ہے کہ چور اس میوے یا پھل کو صرف کھالے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے، اگر گود میں بھر کرلے جائے تو اس کو دوگنی قیمت اس کی دینا ہوگی، اور سزا کے لئے مار بھی پڑے گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٧، ومصباح الزجاجة: ٩١٨) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن سعید المقبری ضعیف ہیں، لیکن سابقہ رافع بن خدیج ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨؍ ٧٣ )
صفوان ؓ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Safwan that his father slept in the Masjid, using his upper wrap as a pillow, and it was taken from beneath his head. He brought the thief to the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ ordered that his hand be cut off. Safwan said: “O Messenger of Allah, I did not wish this! I give my upper wrap to him in charity.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Why did you not give it to him before you brought him to me?”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر مسجد یا صحرا میں کوئی مال کا محافظ ہو تو اس کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اکثر علماء اسی طرف گئے ہیں کہ قطع کے لئے حرز (یعنی مال کا محفوظ ہونا) ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہوگی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں ، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے (تو کیا ہوگا) ؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہوگی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں (چوری کرنے پر) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that a man from Muzainah asked the Prophet ﷺ about fruits. He said: "What is taken from the tree and carried away, its value and the like of it along with it (meaning double its price must be paid). What (is taken) from the place where dates are dried, (the penalty) is cutting off the hand if the amount taken is equal to the price of a shield. But if (the person) eats it and does not take it away, there is no penalty." He said: "What about the sheep taken from the pasture, O Messenger of Allah? ﷺ " He said: "(The thief) must pay double its price and be punished, and if it was in the pen then his hand should be cut off, if what was taken was worth the price of a shield."
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی روایت میں ہے جو کوئی پھلوں کو منہ میں ڈال لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے اس پر کچھ نہیں ہے، اور جو اٹھا کرلے جائے اس پر دوگنی قیمت ہے، اور سزا کے لئے مار ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧١١)، الحدود ١٢ (٤٣٩٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩)، سنن النسائی/قطع السارق ١١ (٤٩٧٢)، مسند احمد (٢/١٨٦) (حسن )
ابوامیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کہو أستغفر الله وأتوب إليه میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو اس نے کہا: أستغفر الله وأتوب إليه تب آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: اللهم تب عليه اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
It was narrated from Ishaq bin Abu Talhah: "I heard Abu Mundhir, the freed slave of Abu Dharr, say that Abu Umayyah narrated to him, that a thief was brought to the Messenger of Allah, and he admitted his crime, although the stolen goods were not found with him. The Messenger of Allah ﷺ said: “I do not think that you stole them.” He said: “Yes I did: Then he said (again): “I do not think that you stole them: and he said: “Yes I did: Then he ordered that his hand be cut off. The Prophet ﷺ said: “Say: I seek Allahs forgiveness and I repent to Him: So he (the thief) said: “I seek Allahs forgiveness and I repent to Him.” He (the Prophet ﷺ said twice: “O Allah! Accept his repentance:"
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٨ (٤٣٨٠)، سنن النسائی/قطع السارق ٣ (٤٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٣)، سنن الدارمی/الحدود ٦ (٢٣٤٩) (ضعیف) (سند میں ابو المنذر غیر معروف راوی ہیں )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ ﷺ نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔
It was narrated from Jabbar bin Wail that his father said. A woman was coerced (i-e raped) during the time of the Messenger of Allah. He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he ruled that she should be given bridal-money.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ جب کسی کو ایسے جرم پر مجبور کیا جائے جس پر حد ہے، تو اس مجبور پر حد جاری نہیں ہوگی بلکہ جبراً بدکاری کرنے والے پر حد جاری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٢ ( ١٤٥٣ )، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٠ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤ /٣١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧/٤٤١ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مساجد میں حدود نہ جاری کی جائیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said; "Do not carry out the legal punishments in the Masjids."
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ ذکر، تلاوت اور نماز وغیرہ کی جگہ ہے، اس میں مار پیٹ سزا وغیرہ مناسب نہیں، کیونکہ چیخ و پکار سے مسجد کے احترام میں فرق آئے گا، نیز اس کے خون وغیرہ سے نجاست کا بھی خطرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٩ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات ٦ (٢٤٠٢) (حسن) (اس کی سند میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے )
ابوبردہ بن نیار انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: دس کوڑے سے زیادہ کسی کو نہ لگائے جائیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو ۔
It was narrated from Abu Burdah bin Niyar that the Messenger of Allah ﷺ used to say. "No one should be given more than ten lashes, except in the case of one of the legal punishments of Allah."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو ۔
It was narrated from Abu Hu;airah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not punish with more than ten whips.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨١، ومصباح الزجاجة: ٩٢٠) (حسن) (سند میں عباد بن کثیر ثقفی اور اسماعیل بن عیاش دونوں ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر حدیث حسن ہے )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever among you undergoes a Hadd, his punishment has been brought forward, and it is an expiation for him, otherwise his case rests with Allah."
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ انصاف پسند ہے کہ بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو دنیا میں کوئی گناہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، تو اللہ تعالیٰ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کرچکا ہے ۔
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever commits a sin in this world and is punished for it, Allah is too just to repeat the punishment for His slave (in the Hereafter). And whoever commits a sin in this world and Allah conceals him, Allah is too generous to go back to something that He has pardoned."
Notes · وضاحت
١ ؎: گذشتہ صحیح حدیثوں سے پتلا چلا کہ حدود کے نفاذ سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے، محققین علماء کا یہی قول ہے، لیکن بعض علماء نے کہا کہ حد سے گناہ معاف نہیں ہوتا بلکہ گناہ کی معافی کے لئے توبہ درکار ہے اور اس کی کئی دلیلیں ہیں: ایک یہ کہ ڈکیتی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ذلک لهم خزي في الدنيا ولهم في الآخرة عذاب عظيم (سورة المائدة: 33) یعنی حد دنیا کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب ہے، دوسرے یہ کہ ایک روایت میں ہے: میں نہیں جانتا حدود کفارہ ہیں یا نہیں، تیسرے یہ کہ ابوامیہ مخزومی کی حدیث میں گزرا کہ آپ ﷺ نے جب چور کا ہاتھ کاٹا گیا تو اس سے کہا: اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ١١ (٢٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٩، ١٥٩) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد مصیصی ہیں، جو بغداد آنے کے بعد اختلاط کا شکار ہوگئے، اور ہارون بن عبد اللہ الحمال ان کے شاگرد بغدادی ہیں، اس لئے ان کی روایت حجاج سے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں سعد ؓ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that Sad bin Ubadahh Al-Ansari said: "O Messenger of Allah, if a man finds another man with his wife, should he kill him?" The Messenger of Allah ﷺ said: “No.” Sa’d said: "Yes he should, by the One Who honored you with the Truth!" The Messenger of Allah ﷺ said: “Listen to what your leader says!”.
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالیٰ کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨)، سنن ابی داود/الدیات ١٢ (٤٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧)، الحدود ١ (٧) (صحیح )
سلمہ بن محبق ؓ کہتے ہیں کہ جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ ؓ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد ؓ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: (غلط حالت میں) تلوار سے دونوں کو قتل کردینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے ، پھر فرمایا: نہیں میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔
It was narrated that Salamah bin Muhabbiq said: “When the verse of legal punishments was revealed, it was said to Abu Thiibit, Sad bin Ubadahh, who was a jealous man: If you found another man with your wife, what would you do? He said: I would strike them both with the sword; do you think I should wait until I bring four (witnesses) and he has satisfied himself and gone away? Or should I say I saw such and such, and you will carry out the legal punishment on me (for slander) and never accept my testimony thereafter? Mention of that was made to the Prophet ﷺ and he said: The sword is sufficient as a witness. Then he said: “No, (on second thought) I am afraid that the drunkard and the jealous would pursue that.”
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کے ساتھ غیر مرد کو برے کام میں دیکھنے پر نبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی، پس اگر کوئی قتل کرے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا، لیکن اگر اپنے بیان میں سچا ہوگا تو آخرت میں اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢١) (ضعیف) (قبیصہ بن حریث ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩١ ٤٠ )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا (راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا) نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (یعنی اپنی سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے، اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "My maternal uncle passed by me - (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr - and the Prophet ﷺ had given him a banner to carry. I said to him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to a man who married his fathers wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e., execute him)."
قرہ بن ایاس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ١ ؎۔
It was narrated from Mu awiyah bin Qurrah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ sent me to a man who had married his father’s wife after he died, to strike his neck (execute him) and confiscate his wealth.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہوگیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢٢) (حسن صحیح) (سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب ؓ کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا (کوئی غلام یا لونڈی) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his real master, the curse of Allah, the angels and all the people will be upon him.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٠، ومصباح الزجاجة: ٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٩، ٣١٧، ٣٢٨) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی الضیف مستور ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
سعد اور ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے ۔
It was narrated that Abu Uthman Nahdi said: "I heard Sad and Abu Bakrah both say that they heard directly from Muhammad saying it and memorized: “Whoever claims to belong to someone other than his father knowing that he is not his father, Paradise will be forbidden to him.”
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever claims to belong to someone other than his father will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of five hundred years."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧١، ٩٤) (ضعیف) (سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، اور سبعین عاماً کے لفظ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: ٣٦٠ )
اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس ؓ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔
Muslim bin Haisam narrated from Ash ath bin Qais who said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ with a delegation from Kinah and they thought that I was the best of them, I said: “O Messenger of Allah, are you not from among us? He said: We are the tribe of Banu Nadr bin Kinanah, and we do not attribute ourselves to our mother and we do not deny our forefathers.” He said: "Ash ath bin Qais used to say: “If any man is brought to me who suggests that a man fromQuraish does not belong to Nadr bin Kinanah, I would carry out the legal punishment (for slander) on him.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قریش نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفربہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١، ومصباح الزجاجة: ٩٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٤، ٥/٢١١، ٢١٢) (حسن )