جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو ہوا تھا، پچھنے لگوائے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was treated with cupping when he was in the state of Ihram, because he did not feel well.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٦٣) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی الضیف ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو مقتت (خوشبودار) نہ ہوتا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ used to put oil on his head when he was in the state of Ihram, but not oil that was perfumed.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١١٤ (٩٦٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥، ٢٩، ٥٩، ٧٢، ١٢٦، ١٤٥) (ضعیف) (سند میں فرقد سبخی ضعیف اور کثیر الخطا راوی ہے، اس وجہ سے ترمذی نے حدیث پر غریب کا حکم لگایا ہے، یعنی ضعیف ہے، لیکن صحیح بخاری میں یہ ابن عمر ؓ سے موقوفاً مروی ہے: الحج ١٨ ( ١٥٣٧ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a mans neck was broken by his mount (from falling) while he was in the state of Ihram The Prophet ﷺ said: “Wash him with water and lote leaves and shroud him in his two garments, but do not cover his face or his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” Another chain from Ibn Abbas, with something similar, but he said: "He was mangled by his mount, and he (the Prophet) said: Do not bring any perfume near him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.’”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، ٢١ (١٢٦٧)، جزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩)، ٢١ (١٨٥٠)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٨٤ (٣٢٣٨، ٣٢٣٩)، سنن الترمذی/الحج ١٠٥ (٩٥١)، سنن النسائی/الجنائز ٤١ (١٩٠٥)، الحج ٤٧ (٢٧١٤)، ٩٧ (٢٨٥٦)، ١٠١ (٢٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے مگر اس میں أوقصته کے بجائے أعقصته راحلته ہے اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو خوشبو نہ لگاؤ کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
صحیح البخاری/الجنائز ٢١ (١٢٦٧)، جزاء الصید ٢١ (١٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن النسائی/المناسک ٤٧ (٢٧١٤)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٨٦، ٣٢٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ stipulated (the penalty of) a ram for a hyena killed by a man in Ihram, and he considered it as game."
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو محرم کو ملیں، فرمایا: اسے اس کی قیمت دینی ہوگی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning an ostrich egg taken by a Muhrim: "Its cost (must be paid as a penalty)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٠) (ضعیف) (سند میں ابوالمہزم ضعیف، اور علی بن عبدالعزیز مجہول ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں قتل کیا جائے گا: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، اور چیل ۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "There are five vermin that might be killed whether one is in or outside the sacred precintcts: the snake, the speckled crow, the mouse, the vicious dog, and the kite."
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are five animals, for which there is no sin on a person if he kills them" – or he said: "if he kills them when in Ihram - the scorpion, the crow, the kite, the mouse and the vicious dog."
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اس پر اور موذی جانوروں کو قیاس کیا ہے، جیسے چھچھوندر اور کاٹنے والے زہریلے کیڑے، اور پھاڑنے والے درندے جیسے شیر یا بھیڑیا یا ریچھ وغیرہ۔
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کرسکتا ہے ، ابو سعید خدری ؓ سے پوچھا گیا: اسے فسادی کیوں کہا گیا؟ کہا: اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔
It was narrated from Abu Saeed that the Prophet ﷺ said: "The one in Ihram may kill the snake, the scorpion, the aggressive predator, the vicious dog and the harmful mouse." It was said to him: "Why is it said that they are harmful?" He said: "Because the Messenger of Allah ﷺ woke up because of one, and it had taken the wick (of the lamp) to burn down the house."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٣٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٤٠ (١٨٤٨)، سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٨)، مسند احمد (٣/٣، ٤٢، ٧٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہے )
صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس گزرے، میں ابواء یا ودان میں تھا، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی، آپ نے اسے لوٹا دیا، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "Sab bin Jaththamah told us: The Messenger of Allah ﷺ passed by me when I was in Abwa or Waddan, and I gave him some meat of a wild donkey, but he gave it back to me, and when he saw from my face that I was upset, he said: The only reason that we are giving it back is that we are in Ihram.
Notes · وضاحت
١ ؎: محرم کے لیے خود بھی خشکی کا شکار کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح وہ جانور بھی جائز نہیں جو اس کے لیے شکار کیا جائے، اور اسی طرح محرم کو شکار زندہ جانور لا کردیا جائے تو بھی اس کا کھانا جائز نہیں، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے نیل گائے کو واپس کردیا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ جس شکار کو حلال ذبح کرے اس کا بھی کھانا محرم کے لیے جائز نہیں، ثوری اور مالک یہی مذہب ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا قول ہے کہ اس کا کھانا جائز ہے اگر محرم کے لیے ذبح نہ ہوا ہو، اور نہ محرم نے اس کے شکار میں مدد کی ہو جیسے آگے آئے گا۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس شکار کا گوشت لایا گیا، اور آپ احرام کی حالت میں تھے تو آپ نے اسے نہیں کھایا۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Prophet ﷺ was brought some meat from some game when he was in Ihram, and he did not eat it."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٩ (ألف)، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٥) (صحیح) (سند میں عبدالکریم بن أبی المخارق ضعیف راوی ہے، لیکن یہ دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٦٢١ )
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیں، اور وہ سب محرم تھے۔
It was narrated from Talhah bin Ubaidullah that the Prophet ﷺ gave him some wild donkey meat, and told him to distribute it among his Companions, who were in Ihram.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٣) (ضعیف) (سند میں علت ہے، اور متن میں غلطی، صحیح روایت نسائی کی ہے، ملاحظہ ہو: سنن النسائی: ٢٢١٨ )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، آپ کے صحابہ نے احرام باندھ لیا، اور میں بغیر احرام کے تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی تو اس پر حملہ کر کے اس کا شکار کرلیا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، اور عرض کیا کہ میں بغیر احرام کے تھا، اور میں نے اس کا شکار آپ ہی کے لیے کیا ہے، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ وہ اسے کھا لیں، اور جب میں نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ شکار میں نے آپ کے لیے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے نہیں کھایا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Abu Qatadah that his father said: "I went out with the Messenger of Allah ﷺ at the time of Hudaibiyah, and his Companions entered Ihram, but I did not I saw a donkey so I hunted it. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and told him: I had not entered lhram, and I Was hunting it for you. The Prophet ﷺ told his Companions to eat it, but he did not eat from it, because I told him that I had hunted it for him."
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جس جانور کا شکار محرم کے لیے کیا جائے اس کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں جیسے اوپر گذرا اور صحیحین کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس نیل گائے میں سے کھایا جس کو ابوقتادہ ؓ نے شکار کیا تھا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اور شاید وہ دوسرا واقعہ ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہدی کا جانور مدینہ سے بھیجتے تھے، میں آپ کے ہدی کے جانوروں کے لیے قلادہ ١ ؎ (پٹہ) بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے ٢ ؎۔
Aisha (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ used to send the sacrificial animal from Al-Madinah, and I would twist the garlands for his sacrificial animal then, he would not (because of that) avoid the things that the one in Ihram avoids."
Notes · وضاحت
١ ؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں، تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ جانور ہدی کا ہے، اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لیے بھی ہدی کا جانور بھیجنا درست ہے، اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہوگا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہوگی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی ہدی ١ ؎ کے لیے قلادہ (پٹہ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ ﷺ مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ٢ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: "I used to twist the garlands for the sacrificial animal of the Prophet ﷺ and his sacrificial animal would be garlanded and sent (to Makkah), and he would stay (in Al-Madinah) without avoiding any of the things that the one in Ihram avoids."
Notes · وضاحت
١ ؎: ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانورکو بھی ہدی کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ ہدی بھیج دینے سے آدمی محرم نہیں ہوتا، امام نودی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ ہدی کا حرم میں بھیجنا مستحب ہے، اگر خود نہ جائے تو کسی اور کے ہاتھ بھیج دے، جمہور کا یہی قول ہے کہ اگر ہدی کسی اور کے ہاتھ بھیج دے تو بھیجنے والے پر احرام کا حکم جاری نہ ہوگا، البتہ اگر اپنے ساتھ ہدی لے کر جائے تو محرم ہوجائے گا۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ marked the sacrificial animal on the right side of the hump and wiped away the blood. In his narration, Ali said:" At Dhul-Hulaifah, and he garlanded it with two sandals."
Notes · وضاحت
ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان کو چیر کر اس سے خون نکالنے اور اسے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانور کی علامت اور پہچان ہے۔ اشعار مسنون ہے اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ (رح) نے کیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو جائز نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ مثلہ ناک، کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے (مکہ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ garlanded, and marked, and sent (the sacrificial animals), but he did not avoid anything that the one in Ihram avoids.
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں (غریبوں اور محتاجوں میں) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ١ ؎۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded me to look after his sacrificial camels, to share out their Covers and skins, and not to give the butcher any of it. He said: We will give him (his wages)."
Notes · وضاحت
١ ؎: قربانی کی کھال اور جھول اللہ کی راہ میں بانٹ دینا چاہیے، اور بعضوں نے کہا کہ اگر قربانی کرنے والا کھال کو اپنے گھر کے کام میں استعمال کرے جیسے بچھانے یا ڈول وغیرہ کے لیے تو بھی جائز ہے، لیکن قصاب کی اجرت میں کھال دینا کسی طرح جائز نہیں، مقصد یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا ہر ایک جزء اللہ ہی کے واسطے رہے، اجرت میں دینا گویا اس کو بیچنا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that among the sacrificial animals the Prophet ﷺ included a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver nose ring.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں جمل (اونٹ) کا لفظ ہے جو نر اونٹ کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٦٩) (صحیح )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ١ ؎۔
It was narrated from Iyas bin Salamah, from his father, that the Prophet ﷺ had a (male) camel among his sacrificial animals.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ قربانی میں اکثر اونٹیناں بھیجتے تھے اس لیے کہ اونٹنی کی قدر عربوں میں زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے واسطے قربانی میں اسی کو زیادہ ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٤) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )