جنازوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 8 · 206 hadiths · Page 6 of 11

1533Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءُ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَتُوُفِّيَتْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِمَوْتِهَا، فَقَالَ: أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ، فَوَقَفَ عَلَى قَبْرِهَا، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ وَدَعَا لَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہوگیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی ؟ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "There was a black woman who used to sweep the Masjid, and she passed away at rught. The following morning the Messenger of Allah ﷺ was told of her death. He said: Why did you not call me? Then he went out with his Companions and stood at her grave, and said Takbir over her, with the people behind him, and he supplicated for her, then he went away. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ صحیح ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے ام سعد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، ان کے دفن پر ایک مہینہ گزر چکا تھا، نیز یہ حدیث عام ہے خواہ اس میت پر لوگ نماز جنازہ پڑھ چکے ہوں یا کسی نے نہ پڑھی ہو، ہر طرح اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٤٥) (صحیح) (سابقہ حدیث تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
1534Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَصَفَّنَا خَلْفَهُ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) : "The Messenger of Allah ﷺ said: Najashi has died. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions went out to AIBaqi, and we lined up in rows behind him, and the Messenger of Allah ﷺ went forward, then he said four Takbir." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٥)، ٥٤ (١٣١٨)، ٦٠ (١٣٣٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤)، سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٣)، موطا امام مالک/الجنائز ٥ (١٤)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٨٠، ٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح )
1535Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌجَمِيعًا، عَنْ يُونُسَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، وَإِنِّي لَفِي الصَّفِّ الثَّانِي، فَصَلَّى عَلَيْهِ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Imran bin Husain: "The Messenger of Allah ﷺ said: Your brother Najashi has died, so offer the funeral prayer for him." Then he stood and we prayed behind him. I was in the second row and two rows prayed for him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٤٨ (١٠٣٩)، سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٣)، مسند احمد (٤/٤٣١، ٤٣٣، ٤٤١) (صحیح )
1536Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِفَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ.

مجمع بن جاریہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے دو صفیں لگائیں ۔

It was narrated from Mujammi bin Járiyah Al-Ansári the Messenger of Allah ﷺ “Your brother Najâshi has so stand and pray for him.” “so we formed two rows behind (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١٦، و مصباح الزجاجة: ٥٤٦) (صحیح) (سند میں حمران بن أعین ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
1537Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِهِمْ، فَقَالَ: صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ، قَالُوا: مَنْ هُوَ؟، قَالَ: النَّجَاشِيُّ.

حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو لے کر نکلے تو فرمایا: اپنے (دینی) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہوگئی ہے صحابہ ؓ نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نجاشی ہیں ۔

It was narrated from Hudhaifah bin Asid that the Prophet ﷺ led them out and said: "Pray for a brother of yours who has died in a land other than yours," They said: "Who is he?" He said: "Najashi." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٧)، مسند احمد (٤/٧) (صحیح )
1538Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو السَّكَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ offered the funeral prayer for Najashi and said four Takbir. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٠٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٨) (صحیح )
1539Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever awaits until (the burial) is finished will have two Qirat." They said: What are these two Qirat? He said: Like two mountains. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٣٥ (٤٧)، الجنائز ٥٨ (١٣٢٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٧ (٩٤٥)، سنن النسائی/الجنائز ٧٩ (١٩٩٦)، الإیمان ٢٦ (٥٠٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٥ (٣١٦٨)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٩ (١٠٤٠)، مسند احمد (٢/٢، ٢٣٣، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٢١، ٣٨٧، ٤٠١، ٤٣٠، ٤٥٨، ٤٧٥، ٤٨٠، ٤٩٣، ٤٩٨، ٥٠٣، ٥٢١، ٥٣١) (صحیح )
1540Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْمَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے ، نبی اکرم ﷺ سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔

It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said. "Whoever offer the funeral prayer will have one Qirat and whoever attends the burial will have two Qirat." The Prophet ﷺ was asked about the Qirat and he said: "(It is) iike Uhud." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٧ (٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ٢١١٥)، مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٧٧، ٢٨٢، ٢٨٣، ٢٨٤) (صحیح )
1541Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat; and whoever attends until the burial is over, will have two Qirat. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad ﷺ ! The Qirat is greater than this (mountain of) Uhud." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣، ومصباح الزجاجة: ٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣١) (صحیح) (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں )
1542Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَسَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، أَوْ تُوضَعَ.

عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔

It was narrated from Amir bin Rabi ah that the Prophet ﷺ said: "When you see a funeral (procession) stand up for it until it has passed by or it is placed on the ground." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٦ (١٣٠٧)، ٤٧ (١٣٠٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٨)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٥١ (١٠٤٢)، سنن النسائی/الجنائز ٤٥ (١٩١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٠٤١)، مسند احمد (٣/٤٤٥، ٤٤٦، ٤٤٧) (صحیح )
1543Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ، وَقَالَ: قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کھڑے ہوجاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A funeral passed by the Prophet ﷺ and he stood up and said: Stand up out of recognition of the enormity of death:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٦، ومصباح الزجاجة: ٥٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٧، ٣٤٣) (صحیح )
1544Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ فَقُمْنَا حَتَّى جَلَسَ فَجَلَسْنَا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔

It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up for a funeral, and we stood up, until he sat down, then we sat down: (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٥ (٩٦٢)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٢ (١٠٤٤)، سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١١ (٣٣)، مسند احمد (١/٨٢، ٨٣، ١٣١، ١٣٨) (صحیح )
1545Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: خَالِفُوهُمْ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بیٹھنا شروع کردیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ١ ؎۔

It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "When the Messenger of Allah ﷺ followed a funeral, he would not sit down until it had been placed in the niche-grave. A rabbi came to him and said: This is what we do, O Muhammad ﷺ ! So the Messenger of Allah ﷺ sat down and said: Be different from them:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٥ (١٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٦) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٣٧ )
1546Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں جانے کی دعا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم ﷺ کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بکم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I could not find him, meaning the Prophet ﷺ and he was in Al-Baqi, He said: (Peace be upon you, O abode of believing people. You have gone ahead of us and verily we will join you soon. O Allah, do not deprive us of their reward and do not put us to trial after them)." (Daif)

1547Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں جانے کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بکم لاحقون نسأل الله لنا ولکم العافية اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے انشاء اللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach them, when they went out to the graveyard, to say: (peace be upon you, a inhabitants of the abodes, believers and Muslims, and we will join you soon if Allah wills. We ask Allah for well-being for us and for you). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولکم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے، تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٥ (٩٧٥)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٣ (٢٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٣، ٣٦٠) (صحیح )
1548Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral, and he sat facing the Qiblah (prayer direction)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٨ (٣٢١٢)، السنة ٢٧ (٤٧٥٣، ٣٧٥٤)، سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٧، ٢٩٥، ٢٩٧) (صحیح )
1549Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں بیٹھنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral, and we came to a grave.He sat down and we sat down, as if there were birds on our heads." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥٩) (صحیح )
1550Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم ﷺ بسم الله وعلى ملة رسول الله اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ بسم الله وعلى سنة رسول الله کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله کہا ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "When the deceased was placed in the grave, the Prophet ﷺ would say: (In the Name of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah) ﷺ . Abu Khalid said on one occasion, when the deceased was placed in the grave: (In the Name of Allah and according to the _Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ )." Hisham said in his narration: (In the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٣١٩)، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٥٤ (١٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٦٩ (٣٢١٣)، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٠، ٥٩، ٦٩، ١٢٧) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی اسماعیل بن عیاش اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں )
1551Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد ؓ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Rifi said: "The Messenger of Allah ﷺ placed Sad gently in his grave and sprinkled water on it." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٤، ومصباح الزجاجة: ٥٥١) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٧٢١٩ )
1552Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا، وَاسْتل استِلالًا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔

It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ was brought into his grave from the direction of the Qiblah, and he was placed in his grave gently. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢١٨، ومصباح الزجاجة: ٥٥٢) (منکر) (اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ١٥٠ )