ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "The urine of a boy should be sprinkled over and the urine of a girl should be washed."
Notes · وضاحت
١ ؎: احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں شریعت نے فرق رکھا ہے، اس کو روکنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات فاسدہ کرنا محض تعصب بےجا کی کرشمہ سازی ہے، مسلمان کو اس کے رسول کا فرمان کافی ہے، اس کے سامنے اسے کسی دوسری طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٠، ومصباح الزجاجة: ٢٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٤٢٢، ٤٤٠، ٤٦٤) (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے اس لئے کہ عمرو بن شعیب کا ام کرز سے سماع نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث اور دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کرلینے دو ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid. and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah ﷺ said: "Do not interrupt him." Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد ﷺ کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی اللہ کی مغفرت) کو تنگ کردیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آجانے کے بعد (یہ قصہ بیان کر کے) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A Bedouin entered the Masjid when the Messenger of Allah ﷺ was sitting there, an (the man) said: O Allah, forgive me and Muhammad, and do not forgive anyone else with us. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: You have placed restrictions on something that is vast. Then the Bedouin turned away, went to a comer of the Masjid, spread his legs and began to urinate. After he had a better understanding, the Bedouin said: He got up and came to me, and may my father and mother be ransomed for him, he did not rebuke me nor revile me. He said: "This Masjid is not for urinating in. Rather it is built for the remembrance of Allah and prayer." Then he called for a large vessel of water and poured it over the place where he had urinated."
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ ؓ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام ؓ نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ١ ؎۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: O Allah, have mercy on me and Muhammad, and do not allow anyone else to share in Your mercy. The Prophet ﷺ said: You have placed restrictions on something that is vast, woe to you! Then (the Bedouin) spread his legs and urinated, and the Companions of the Prophet ﷺ told him to stop, but the Messenger of Allah ﷺ said: Let him be,’ then he called for a vessel of water and poured it over(the urine)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢١) (صحیح) (سند میں عبیداللہ الہذلی ضعیف ہیں، لیکن ابوہریرہ و انس ؓ کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کردیتی ہے ۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet, said: "I am a woman whose hem is lengthy, and I may walk through a dirty place. The Messenger of Allah ﷺ said: That which comes after it purifies it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامن محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے، نعوذ باللہ من ہذا الوسواس۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤٠ (٣٨٣)، سنن الترمذی/الطہارة ١٠٩ (١٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٤ (١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٤ (٧٦٩) (صحیح) (اس سند میں ام ولد ابراہیم مجہول ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٤٠٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑجاتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین کا دوسرا (پاک) حصہ اسے پاک کردیتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: It was said: "O Messenger of Allah, we want to come to the Masjid, but the path that we walk upon is impure." The Messenger of Allah ﷺ said: "Some parts of the earth purify others."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢١) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم الیشکری مجہول اور ابن أبی حبیبہ (ابراہیم بن اسماعیل) ضعیف راوی ہیں، ابوداود میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی (حدیث نمبر: ٣٨٥ )
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
. It was narrated that a woman from (the tribe of) Banu Abdul-Ashhal said: "I said to the Prophet ﷺ Between the Masjid and I there is a filthy path. He said: ‘After that is there a cleaner path? I said: Yes: He said: This is (a remedy) for that.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤٠ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم ﷺ مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated Irom Abu Rafi that Abu Hurairah (RA) was met by the Prophet ﷺ in one of the streets of Al-Madinah when he was in a state of sexual impurity, so he slipped away. The Prophet ﷺ missed him, so when he came (later on), he said: Where were you Abu Hurairah (RA) h? He said: O Messenger of Allah, you met me when I was in a state of sexual impurity, and I did not want to sit with you until I had a bath. The Messenger of Allah ﷺ said: The believer does not become impure."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنبی ہونے سے مومن کا جسم اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھولے تو ہاتھ ناپاک ہوجائے، بلکہ اس کی ناپاکی حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوگئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوگیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Prophet ﷺ came out and met me when I was sexually impure, so I kept away from him. Then I had a bath and came to him. He said: What is the matter with you? I said: I was sexually impure. The Messenger of Allah ﷺ said: The Muslim does not become impure."
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا، خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، مردہ ہو یا زندہ، امام بخاری نے ایک روایت میں تعلیقاً یہ الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں کہ مومن زندہ یا مردہ کسی صورت میں نجس نہیں ہوتا، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بزرگوں کی محفلوں میں پاکی کے اہتمام کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم یا استاذ اپنے شاگردوں کا حال پوچھے اور غیر حاضری کے اسباب دریافت کرے۔
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
It was narrated that Amr bin Maimun said: "I asked Sulaiman bin Yasar about a garment which gets semen on it Should I wash it off or wash the entire garment? Sulaiman said: ‘ Aisha (RA) said: "Semen used to get on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see he marks left on it by washing."
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہوگیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ ؓ کے پاس بھیج دیا، عائشہ ؓ نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
Hammam bin Harith narrated: "A guest came and stayed with Aisha (RA) , and she ordered that he be given a yellow blanket of hers. He had a nocturnal emission in it, and he felt too shy to send it back to her when it had the traces of that emission on it, so he dipped it in water and then sent it to her. Aisha (RA) said: Why did he spoil our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his finger. I often scraped it (semen) from the garment of the Messenger of Allah ﷺ with my finger. "
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اگر میں کبھی رسول اللہ ﷺ کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: "I remember when I found it (semen) on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and I scratched it off."
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو اسے دور کرنے کے تین طریقے ہیں، کھرچنا، رگڑنا، اور دھونا، جس طریقے سے بھی اس کا ازالہ ممکن ہو کرسکتا ہے، بعض روایتوں میں اگر منی گیلی ہو تو دھوئے اور سوکھی ہو تو کھرچنے یا رگڑنے کا ذکر ہے، کھرچنے، رگڑنے، یا دھونے سے اگر نشان باقی رہتا ہے تو کوئی حرج نہیں، ابن عباس ؓ سے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ منی کا معاملہ رینٹ اور تھوک جیسا ہے اس کو کھرچنا یا رگڑنا کافی ہے، اور یہی دلیل ہے اس کے پاک ہونے کی۔
معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
It was narrated from Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) that he asked his sister Umm Habibah, the wife of the Prophet: "Did the Messenger of Allah ﷺ ever offered prayer in a garment in which he had sexual intercourse?" She said: "Yes, if there was nothing noxious on it."
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔
It was narrated that Abu said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us with dripping from his head, and he led us in prayer wearing a single garment, placing its one end on the right shoulder, and the other end on the other shoulder. When he finished praying, Umar bin Khattab said to him: O Messenger of Allah, did you lead us in prayer wearing a single garment? He said: Yes, I perform prayer in it, and in it I (i.e. I had sexual intercourse in it)."
Notes · وضاحت
١ ؎: ان روایتوں سے ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی کپڑا خاص نماز کے لئے نہیں رہتا تھا، بلکہ روز مرہ کے کپڑوں سے ہی نماز بھی ادا کرلیتے تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو سجادے، جوڑے اور کپڑے نماز کے لئے خاص کر لئے ہیں، یہ بدعات و محدثات میں داخل ہیں، پھر اگر کوئی ان کو چھو لے تو ہندؤوں کی طرح چھوت سمجھتے ہیں، اور بھوت کی طرح الگ رہتے ہیں، ان کو وسواس خناس نے مبہوت کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢٢) (حسن) (اس حدیث کی سند میں حسن بن یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ میں ہے، صحیح ابی داود: / ٣٩٠ )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "A man asked the Prophet ﷺ whether he could perform prayer in a garment in which he had intercourse with his wife. He said: Yes, unless he sees something on it, in which case he should wash it."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٠٦، ومصباح الزجاجة: ٢٢٤)، مسند احمد (٥/٨٩، ٩٧) (صحیح )
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر ؓ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورة المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، (کیونکہ سورة المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا) ١ ؎۔
It was narrated that Hammam bin Harith said: "Jarir bin Abdullah urinated, then he performed ablution and wiped over his leather socks. Someone asked him: Do you do this? He said: Why shouldnt I? I saw the Messenger of Allah ﷺ doing this." Ibrahim (who narrated it from Hammam) said: "They were pleased by the Hadith of Jarir because he accepted Islam after the revelation of Maidah."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورة مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر ؓ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد خف (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہوگئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated from Urwah bin Mughirah bin Shubah from his father Mughirah bin Shubah, that the Messenger of Allah ﷺ went out to relieve himself, and Mughirah followed him with a vessel of water. When he finished relieving himself, he performed ablution and wiped over his leather socks.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک (سعد بن مالک ابن ابی وقاص) ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر ؓ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے عمر ؓ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر ؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر ؓ نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that he saw Sad bin Malik wiping over his leather socks and said: "Is it you doing this?" They both went to Umar and Sad said to Umar (RA) : "Give my brothers son a verdict regarding wiping over leather socks." Umar said: "We used to wipe over our leather socks when we were with the Messenger of Allah ﷺ and we do not see anything wrong with that." Ibn Umar said: "Even if that is after one has defecated?" He said: "Yes."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٠، ومصباح الزجاجة: ٢٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٤٩ (٢٠٢)، موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤٢)، مسند احمد (١/٣٥) (صحیح) (اس سند میں سعید بن أبی عروبہ مدلس صاحب اختلاط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن بقول بوصیری محمد بن سواء نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے، نیز دوسرے طرق ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )