ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ ﷺ نے آیت: وكذلك أخذ ربک إذا أخذ القرى وهي ظالمة تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے (سورة الهود: 102) ، کی تلاوت کی۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go." Then he recited: "Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، (وہ پانچ باتیں یہ ہیں) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں، دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں، تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے، پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ turned to us and said: O Muhdjirin, there are five things with which you will be tested, and I seek refuge with Allah lest you live to see them: Immorality never appears among a people to such an extent th at they commit it openly, but plagues and diseases that were never known among the predecessors will spread among them. They do not cheat in weights and measures but they will be stricken with famine,severe calamity and the oppression of their rulers. They do not withhold the Zakah of their wealth. But rain will be withheld from the sky, and were it not for the animals, no rain would fall on them. They do not break their covenant with Allah and His Messenger, but Allah will enable their enemies to overpower them and take some of what is in their hands. Unless their leaders rule according to the Book of Allah and seek all good from that which Allah has revealed, Allah will cause them to fight one another.”(sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٤١٤) (حسن) (سند میں خالد بن یزید ابن أبی مالک الفقیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے، حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، اور یہ کہ یہ قابل عمل ہے )
ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے، اور گانے والی عورتیں گائیں گی، تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا ۔
It was narrated from Abu Malik Ash ari that the Messenger of Allah ﷺ said: "People among my nation will drink wine, calling it by another name, and musical instruments will be played for them and singing girls (will sing for them). Allah will cause the earth to swallow them up, and will turn them into monkeys and pigs," (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأشربة ٦ (٣٦٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ: يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (سورة البقرة: 159) ، کی تفسیر میں فرمایا: اللاعنون سے زمین کے چوپائے مراد ہیں ۔
It was narrated from Bara bin Azib (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah will Curse them and those who curse will Curse them." He said: "The inhabitants of the earth." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٠، ومصباح الزجاجة: ١٤١٥) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہوجاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Thawbân that the Messenger of Allah ﷺ said: “Nothing increases one’s life span except righteous and nothing repels the Divine decree except supplication, a man may be deprived of provision by a sin that he commits. (Da`if)
Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے جتنا کوشش اور محنت کرے، لیکن اس کو فراغت اور مالداری حاصل نہیں ہوتی، کبھی اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کی اولاد پر بھی کئی پشت تک اثر رہتا ہے، اللہ بچائے، بعضوں نے کہا: عمر بڑھنے سے یہی مراد ہے کہ اچھی شہرت ہوجاتی ہے گویا وہ مرنے کے بعد بھی زندہ ہے، یا روزی بڑھنا کیونکہ عمر پیدا ہوتے ہی معین ہوجاتی ہے، گھٹ بڑھ نہیں سکتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٤١٦) (حسن) (یہ حدیث حسن ہے، آخری فقرہ: وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه ضعیف ہے، ضعف کا سبب عبداللہ بن أبی الجعد کا تفرد ہے، وہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور متابعت نہ ہونے کی وجہ سے یہ فقرہ ضعیف ہے )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہوگی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہوگی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d that his father, Sa’d bin Abu Waqqâs said: “I said: Messeng of Allah, which people are most severely tsedr He said: ‘The Prophets, then the next best and the next best. A person is tested according to his religious commitment. If he is steadfast in his religious commitment, he will be tested more severely,and if he is frail in his religious commitment, his test will be according to his commitment. Trials will continue to afflict a person until they leave him walking on the earth with no sin on him.” (Hasan)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی (سخت) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے ۔
Abu Saeed Al-Khudri said: I entered upon the Prophet ﷺ when he was suffering from a fever, and I placed my hand on him and felt heat with my hand from above the blanket. I said: ‘O Messenger of Allah, how hard it is for you!’ He said: ‘We (Prophets) are like that. The thai is multiplied for us and so is the reward.’ I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets.’ I said: ‘O Messenger of Allah, then who?’ He said: ‘Then the righteous, some of whom were tested with poverty until they could not find anything except a cloak to put around themselves. One of them will rejoice at calamity as one of you would rejoice at ease.” (Hasan)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپ ﷺ انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullâh said: “It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ , telling us the story of one of the Prophets: ‘His people beat him, and he was wiping the blood from his face and saying: “O Lord forgive my people, for they do not know.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خود آپ ﷺ نے جنگ احد میں جب کافروں کے ہاتھ سے پتھر کھائے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، دانت شہید ہوا، خون بہہ رہا تھا، لوگوں نے عرض کیا کہ اب تو کافروں کے لئے بددعا فرمائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ دین کو نہیں جانتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ١ ؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (لیکن یہ سوال اس لیے ہے) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف (علیہ السلام) رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ٢ ؎۔
It was narrated from Aibu Hurairahh that the Messenger of Allah ﷺ said: “We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe. He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith. And may A have meity on Lut. He wished to have a powerful support. And if I were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم کو شک نہیں ہوا تو بھلا ابراہیم (علیہ السلام) کو کیوں کر شک ہوسکتا ہے، انہوں نے تو عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ مردے کو زندہ کرنا انہیں دکھا دیا جائے۔ ٢ ؎: یہ تعریف ہے یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور استقلال کی، اتنی لمبی قید پر بھی انہوں نے رہائی کے لئے جلدی نہیں کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١١ (٣٣٧٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٩ (١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٢٥، ١٥٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٦) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہوگیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ ﷺ خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ليس لک من الأمر شيء اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے (سورة آل عمران: 128) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: On the Day of Uhud, a molar of the Messenger of Allah ﷺ was broken and he was wounded. Blood started pouring down his face, and he started to wipe his face and say: "How can any people prosper if they soak the face of their Prophet ﷺ with blood when he is calling them to Allah?" Then Allah revealed: "Not for you is the declsion." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٧٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد ٣٦ (١٧٩١)، سنن الترمذی/التفسیر ٤ (٣٠٠٣)، مسند احمد (٣/١١٣) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کردیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہوگیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ ﷺ نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ ﷺ نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے ۔
It was narrated that Anas said: "One day, Jibril, came to the Messenger of Allah ﷺ when he was sitting in a sorrowful state with his face soaked with blood,because some of the people of Makkah had struck him. He said: What is the matter with you? He said: These people did such and such to me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف (٩٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٤١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٤ (٢٣) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ ؓ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Count for me all those who have uttered (the words of) Islam." We said: "O Messenger of Allah, do you fear for us when we number between six and seven hundred?" The Messenger of Allah ﷺ said: "You do not know, perhaps you will be tested." (Sahih) He (the narrator) said: "And we were tested, until a man among us Would only pray in secret."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٨١ (٣٠٦٠، ٣٠٦١)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٧ (١٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٤) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، (جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کردیا تھا) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک (راہب) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کردیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کردیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپالیا، اور دوسری نے ظاہر کردیا (کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کردیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کردیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کرلیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، (اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بےاختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو (اپنی بےدینی کی وجہ سے) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتادیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کردینا، چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم ﷺ نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے (جس سے یہ خوشبو آرہی ہے) ۔
It was narrated fron Ubayy bin ka`ab that on the night when he P.BU.H was taken on the Night Journey (Isra), the Messenger of Allah ﷺ noticed a good fragrance and said: "O Jibra`il, what is this good fragrance?" He said: "This is the fragrance of the grave of the hairdresser and her two sons and her husband." He said: "That began when Khadir, who was one of the nobles of the Children of Israel, used to pass by a monk in his cell. The monk used to meet him and he taught him Islam. When Khadir reached adolescence, his father married him to a woman. He taught her and made her promise not to teach it to anyone. He used not to touch women, so he divorced her, then his father married him to another woman, and he taught her and made her promise not to teach it to anyone. One of them kept the secret but the other disclosed it, so he fled until he came to an island in the sea. Two men came, gathering firewood, and saw him. One of them kept the secret bu t the other disclosed it and said: I have seen Khadir. It was said: Who else saw him besides you? He said: So andso. (The other man) was questioned but he kept silent. According to their religion, the liar was to be killed. The woman who had kept the secret got married, and while she was combing the hair of Pharaohs daughter, she dropped the comb and said: May Pharaoh perish! (The daughter) told her father about that. The woman had sons a husband. (Pharaoh) sent for them, and tried to make the woman and her husband give up their religion, but they refused, He said:`I am going to kill you.` They said: It would be an act of kindness on your part, if you kill, to us in one grave. So he did that. When the Prophet ﷺ was taken on the Night Journey (Isra`), he noticed a good fragrance and asked Jibril about it and he told him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٠) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہوجاتا ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The greatest reward comes with the greatest trial. When Allah loves a people He tests them. Whoever accepts that wins His pleasure but whoever is discontent with that earns His wrath: (Hasan)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ١ ؎۔
It Was narrated from Ibn Umar (RA) that. the Messenger of Allah ﷺ said: "The believer who mixes with people and bears their annoyance with patience will have a greater reward than the believer who does not mix with people and does not put up with their annoyance." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٥ (٢٥٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، (بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت (مٹھاس) پائے گا) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو ۔
It was narrated from Arias bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are three things, whoever has them has found the taste of faith (One of the narrators) Bundâr said: ‘The sweetness of faith; When he loves a man and only loves him for the sake of Allah. When Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else; and when being thrown into the fire is dearer to him than going back to disbelief after Allah has saved him from it.” (Sahih)
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے ۔
It was narrated from Abu Dardã’ that my close friend ﷺ advised me: “Do not associate with Allah, even if you are cut and burned. Do not neglect any prescribed prayer deliberately, for whoever neglects it deliberately no longer has the protection of Allah. And do not drink wine, for it is the key to all evil. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٢١) (حسن) (آخری جملہ اس سند سے کتاب الأشربہ میں گزرا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں رويبضة بات کرے گا، آپ ﷺ سے سوال کیا گیا: رويبضة کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will come to the people years of treachery, when the liar will be regarded as honest, and the honest man will be regarded as a liar; the traitor will be regarded as faithful, and the faithful man will be regarded as a traitor; and the Ruwaibidah will decide matters, It was said: Who are the Ruwaibidah? He said: Vile and base men who control the affairs of the people." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩١) (صحیح) (سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد ٢ / ٣٣٨ کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور انس ؓ کی حدیث مسند احمد ٣ /٢٢٠، سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: Whose Hand is my soul, this world will not pass away until a man will pass by a grave, and will roll on it and say: Would that I were in the place of the occupant this grave! And the reason for that will not be any religious motives, rather it will be because of calamity (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٨ (١٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن ٢٢ (٧١١٥)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٣) (صحیح )