ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مرجانا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said "You will be picked selected (separated am ones, So the best of you will be taken and the worst of you will be left, so die if you can," (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٤) (صحیح) (سند میں ابو حمید مجہول راوی ہیں، لیکن اصل حدیث رویفع بن ثابت کے شاہد سے تقویت پاکر صحیح ہے، جس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، آخری جملہ فموتوا إن استطعتم ضعیف ہے، اس لئے کہ اس کا شاہد نہیں ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Adhering to religion will only become harder and Worldly affairs will only becomemore difficult, and people only become more stingy, and the Hour will only come upon the worst of people, and the only Mahdi (after Muhammad is Eisa bin Maryam." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٥) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن خالد الجندی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I and the Hour have been sent like these two," and he held up his two fingers together. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہوگی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
حذیفہ بن اسید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں گی قیامت قائم نہ ہوگی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ١ ؎۔
Hudhaifah bin Asid said: "The Prophet ﷺ looked out at us from a room, when we were talking about the Hour. He said: The Hour will not begin until there are ten signs: Dajjal, (False Christ), the smoke, and the rising of the sun from the west.": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں صرف تین ہی نشانیاں بیان ہوئی ہیں، یہ حدیث مختصر ہے، پوری روایت حذیفہ ؓ کی ہے جسے مولف دو باب کے بعد بیان کریں گے، اس میں دس نشانیاں مذکور ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٣ (٢٩٠١)، سنن ابی داود/الملاحم ١٢ (٤٣١١)، سنن الترمذی/الفتن ٢١ (٢١٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦، ٧) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، اور بہ تمام و کمال: ٤٠٥٥ نمبر پر آرہی ہے )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عوف! اندر آجاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہوگی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہوگی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہوگا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہوگا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہوگی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ۔
Awf bin Malik Al-Ashja`i said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ during the campaign of Tabuk, when he was in a tent made of leather, so I sat in front of the tent. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Enter, O ‘Awf.’ I said, ‘All of me, O Messenger of Allah? ﷺ ’ He said: “All of you.’ Then he said: ‘O ‘Awf, remember six things (that will occur) before the Hour comes, one of which is my death.’ I was very shocked and saddened at that. He said: ‘Count that as the first. Then (will come) the conquest of Baitul Maqdis (Jerusalem); then a disease which will appear among you and cause you and your offspring to die as martyrs and will purify your deeds; then there will be (much) wealth among you, so that if a man were to be given one hundred Dinâr he would still be dissatisfied; and there will be tribulation among you that will not leave any Muslim house untouched; then there will be a treaty between you and the Romans, then they will betray you and march against you with eighty banners, under each of which will be twelve thousand (troops).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦)، سنن ابی داود/الأدب ٩٢ (٥٠٠٠، ٥٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until you kill your ruler and fight one another with swords, and your world is inherited by the worst of you." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٩ (٢١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٩) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اور عبدالعزیز دراوردی میں کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہوگی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے (سورة لقمان: 34) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ i came out one day to the people, and a man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, when will be Hour be? He said: The one who is asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you of its portents. When the slave woman gives birth to her mistress, that is one of its portents. When the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its portents.(The Hour) is one of five (things) which no one knows except Allah. Then the Messenger of Allah ﷺ recited the words: "Verily, Allah, With Him (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rains, and knows that which is in the wombs. (to the end of the Verse)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد ( ﷺ ) کہئے: میں غیب نہیں جانتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٨ (٥٠)، صحیح مسلم/الإیمان ١ (٩)، سنن النسائی/الإیمان ٦ (٤٩٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٦) (صحیح) (یہ حدیث نمبر ( ٦٥ ) کا ایک ٹکڑا ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہوگا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہوجائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہوجائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا قيم (سرپرست و کفیل) ایک مرد ہوگا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Shall I not tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah ﷺ , which no one will tell you after me? I heard it from him (saying): Among the portents of the Hour are that knOWledge will be taken away and ignorance will prevail, illegal sex will become widespread and WIne will be drunk, and men will disappear and women will be left, until there is one man in charge of fifty women." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس وقت لڑائیاں بہت ہوں گی ان لڑائیوں میں مرد مارے جائیں گے اور عورتیں بکثرت باقی رہ جائیں گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہوجائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہوجائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until the Euphrates uncovers a mountain of gold and people fight over it, and out of every ten, nine will be killed.": (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے اور ہر شخص کہے گا کہ شاید میں بچ رہوں اور سونے کے اس پہاڑ کو لوں اور لڑے گا، صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ جب یہ خزانہ نمودار ہو تو جو وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے، واضح رہے کہ اس خزانے کے حصول کے لیے بہت قتل و غارت ہوگی، ہر شخص یہی چاہے گا کہ یہ خزانہ اسی کو ملے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابی داود/الملاحم ١٣ (٤٣١٣)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٢٦ (٢٥٦٩)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (حسن صحیح) (من کل عشرة تسعة کا لفظ ضعیف اور شاذ ہے،من کل مئة تسعة وتسعون کا لفظ محفوظ ہے)۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہوجائے، اور فتنہ عام نہ ہوجائے هرج کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! هرج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: قتل، قتل، قتل ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until wealth becomes abundant and tribulations appear, and Harj increases." They said: "What is Harj, O Messenger of Allah ﷺ ?" He said: "Killing, killing, killing," three times. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٣)، الفتن ٢٥ (٧١٢١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٨ (١٥٧)، مسند احمد (٢/٢٣٣، ٤١٧) (صحیح )
زیاد بن لبید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی بات کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا جب علم اٹھ جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اسی طرح قیامت تک سلسلہ چلتا رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زیاد! تمہاری ماں تم پر روئے، میں تو تمہیں مدینہ کا سب سے سمجھدار آدمی سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن ان میں سے کسی بات پر بھی یہ لوگ عمل نہیں کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Ziyad bin Labid said: "The Prophet ﷺ mentioned something and said: That will be at the time when knowledge (of Quran) disappears: I said: O Messenger of Allah ﷺ , how will know ledge disappear when we read the Quran and teach it to our children, and our children will teach it to their children, until the Day of Resurrection? He said: May your mother be bereft of you, O Ziyad! I thought that you were the wisest man in Al-Madinah. Is it not the case that these Jews and Christians read the rawrah and the Injil, but they do not act upon anything of what is In them?" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ اپنے پادریوں اور مولویوں کے تابع ہیں ان کی رائے پر چلتے ہیں، یا عقلی قانون بناتے ہیں، اس پر چلتے ہیں، کتاب الٰہی کوئی نہیں پوچھتا، مقلدین حضرات جو احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر ائمہ کے اقوال سے چمٹے ہوئے ہیں، وہ اس حدیث پر غور فرمائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٠، ٢١٩) (صحیح) (سند میں سالم بن أبی الجعد اور زیاد بن لبید کے مابین انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: (اقتضاء العلم العمل: ١٨٩ /٨٩ والعلم لابی خیثمة: ١٢١ /٥٢، و المشکاة: ٢٤٥ - ٢٧٧ )
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام ایسا ہی پرانا ہوجائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہوجائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی ١ ؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ لا إله إلا الله کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں ٢ ؎۔ صلہ نے حذیفہ ؓ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہوگا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ لا إله إلا الله کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو حذیفہ ؓ نے ان سے منہ پھیرلیا، پھر انہوں نے تین بار یہ بات ان پر دہرائی لیکن وہ ہر بار ان سے منہ پھیر لیتے، پھر تیسری مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو جہنم سے نجات دے گا، اس طرح تین بار کہا ٣ ؎۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah ﷺ said: "Islam will wear out as embroidery on a garment wears out, until no one will know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are. The Book of Allah will be taken away at night, and not one Verse of it will be left on earth. And there will be some people left, old men and old women, who will say: "We saw our fathers saying these words: La ilaha illallah so we say them too." Silah said to him: "What good will (saying): La ilaha illallah do them, when they do not know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are?" Hudhaifah turned away from him. He repeated his question three times, and Hudhaifah turned away from him each time. Then he turned to him on the third time and said: "O Silah! It will save them from Hell," three times. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے حروف غائب ہوجائیں گے اور حافظ تو پہلے ہی چلے جائیں گے۔ ٢ ؎: باقی دین کی اور کوئی بات انہیں معلوم نہ ہوگی۔ ٣ ؎: کیونکہ وہ لوگ دین کی اور باتوں کے منکر نہ ہوں گے صرف اسے ناواقف ہوں گے اور ناواقف آدمی کو نجات کے لئے صرف توحید کافی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے قریب کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، اور هرج زیادہ ہوگا ، هرج: قتل کو کہتے ہیں۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Just before the Hour, there will be days when knowledge will disappears ignorance will become widespread and there will be much Harj. And Harj means killing. (Sahih)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور هرج زیادہ ہوگا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! هرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قتل ۔
that the Messenger of Allah ﷺ said: "After you days Will come when ignorance will become widespread, knowledge will disappear and there will be much Harj," They said: "O Messenger of Allah, what is Halj?" He said: "Killing." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہوجائے گا، ١ ؎ علم گھٹ جائے گا، (لوگوں کے دلوں میں) بخیلی ڈال دی جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے، اور هرج زیادہ ہوگا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! هرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قتل ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) in a Marfu report (meaning, attributed to the Prophet ﷺ "Time will pass quickly,knowledge will decrease, nuserliness will be cast into peoples hearts, tribulations will appear and there will be much " They said: "O Messenger of Allah ﷺ What is Halj?" He said: Killing." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عیش و عشرت یا بےبرکتی کی وجہ سے زمانہ جلدی گزر جائے گا، یا عمریں چھوٹی ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٥ (٧٠٦١)، صحیح مسلم/العلم ٧٢ (١٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٣) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی ١ ؎ اور دوسری کا منتظر ہوں، آپ ﷺ نے ہم سے یہ بیان فرمایا: امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری (پیدا ہوئی) ، (طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی ٢ ؎، پھر آپ ﷺ نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، (اور جب وہ صبح کو اٹھے گا تو) امانت کا اثر ایک نقطے کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے چھین لی جائے گی، تو اس کا اثر (اس کے دل میں) کھال موٹا ٢ ؎ ہونے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تم انگارے کو پاؤں پر لڑھکا دو تو کھال پھول کر آبلے کی طرح دکھائی دے گی، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ ؓ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں اپنی پنڈلی پر لڑھکا لیا، اور فرمانے لگے: پھر لوگ صبح کو ایک دوسرے سے خریدو فروخت کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی امانت دار نہ ہوگا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلاں امانت دار شخص ہے، اور یہاں تک آدمی کو کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند، کتنا توانا اور کتنا ذہین و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا، اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ مجھے پروا نہ تھی کہ میں تم میں سے کس سے معاملہ کروں، یعنی مجھے کسی کی ضمانت کی حاجت نہ تھی، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے مجھ پر زیادتی کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا گماشتہ بھی انصاف سے کام لیتا (یعنی ان کے عامل اور عہدہ دار بھی ایماندار اور منصف ہوتے) اور اب آج کے دن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ میں اس سے معاملہ کروں سوائے فلاں فلاں کے ۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah ﷺ told us two Ahddith, one of which I have seen, and I am still waiting for the other. He told us: Honesty was preserved in the roots of mens hearts _ (One of the narrators) Tanafisi said: Meaning in the middle of mens hearts - Then the Quran was revealed and we learned (it) from the Quran and from the Sunnah, Then he told us about its disappearance, saying; A man will go to sleep and honesty will be taken away from his heart, and only its trace will remain, like spots without color. Then he will go to sleep again and the remainder of the honesty will also be taken away (from his heart) and leaving a trace like a blister, as when an ember touches your foot and raises a blister which has nothing inside.": Then Hudhaifah picked up a handful of pebbles and rolled them on his leg. He said: "People will engage in business with one another, but there will hardly be any honest persons among them. Then it will be said that in such and such a tribe there is an honest man, and a man will be admired for his intelligence, good manners and strength, but there will not be even a mustard seed of faith in his heart," There was a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating and if he was a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating. But today I cannot deal except with so and so and so-and-so. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ظہور ہوگیا۔ ٢ ؎: جس سے ایمانداری اور بڑھ گئی، مطلب یہ ہے کہ ایمانداری کی صفت بعض دلوں میں فطری طور پر ہوتی ہے اور کتاب و سنت حاصل کرنے سے اور بڑھ جاتی ہے۔ ٣ ؎: جیسے پھوڑا اچھا ہوجاتا ہے، لیکن جلد کی سختی ذرا سی رہ جاتی ہے، اور یہ درجہ اول سے بھی کم ہے، اول میں تو ایک نقطہ کے برابر امانت رہ گئی تھی یہاں اتنی بھی نہ رہی صرف نشان رہ گیا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہوجاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کردیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کردیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے ۔
It was narrated from lbn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “ A wants to destroy a person. He takes away modesty from him, and when modesty is taken away from him, you will only see him with the wrath of Allah upon him, and he will be hated by people. When you only see him with the wrath of Allah upon him, and hated by people, then honesty will be taken away from him, and when honesty is away from him, you will only see him as a traitor who is called such by others. When you onlyy see him as a traitor who is called such by others, then mercy will be taken away from him, and when mercy is taken away from him, You will only see him as rejected and accursed, and when you only see him as rejected and accursed, then the bond of Islam will be taken away from him.” (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٤٣٠) (موضوع) (سند میں سعید بن سنان متروک راوی ہے، اور دارقطنی وغیرہ نے وضع حدیث کا اتہام لگایا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٠٤٤ )
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول، تین بار زمین کا خسف (دھنسنا) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں أبین کے کنویں سے ظاہر ہوگی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کرلے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said: “The Messenger of Allah ﷺ looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: ‘The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of ‘Eisa bin Maryam, the earth collapsing three times — once in the east, once in the west and once in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Cathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آگ ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس سے کافروں کی سانس رک جائے گی، اور مسلمانوں کو زکام کی حالت پیدا ہوجائے گی، اور یہ نشانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، قیامت کے قریب ہوگی، ابن مسعود ؓ نے کہا: یہ نشانی ظاہر ہوگئی اور آیت میں اسی کا ذکر ہے: يوم تأتي السماء بدخان مبين (سورة الدخان: 10) اور یہ دھواں قریش پر آیا تھا، ان پر قحط پڑا تھا اور آسمان میں دھواں سا معلوم ہوتا تھا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت (یعنی موت) ، عام آفت (جیسے وبا وغیرہ) ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Hasten to do good deeds (before) six things (happen). The rising of the sun from the west (place of its setting), the smoke, the beast of the earth, Dajjal (False christ) that which will happen to each of you (death); and that which will happen to all people (the Day of Resurrection). (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٣١) (حسن صحیح) (سنان بن سعیدیہ سعد بن سنان کندی مصری ہیں صدوق ہیں، اس لئے یہ سند حسن ہے لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٥٩ )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کی) نشانیاں دو سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی ۔
It was narrated from Anas Bin Malik that Abu Qatadah said: "The Messenger of Allah ﷺ The (lesser) signs (will come) after two hundred (years).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٣٢) (موضوع) (سند میں عون بن عمارہ ضعیف، اور عبداللہ بن المثنیٰ صدوق اور کثیر الغلط ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے، ان کی سند میں محمد بن یونس کدیمی نے عون سے روایت کی ہے، جن پر اس حدیث کے وضع کا اتہام لگایا گیا ہے )