اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا ١ ؎۔
It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah ﷺ said: "I am not leaving behind me any tnbulation that is more harmful to men than women." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتوں کی وجہ سے اکثر خرابی پیدا ہوگی یعنی لوگ ان کی وجہ سے بہت سارے کام خلاف شرع کریں گے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر صبح دو فرشتے یہ پکارتے ہیں: مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے بربادی ہے، اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "No morning comes but two angels call out: Woe to men from women, and to women from men.": (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٦) (ضعیف جدا) (سند میں خارجہ بن مصعب متروک و کذاب راوی ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ stood up to deliver a sermon and one of the things that he said was: "This world is fresh and Sweet, and Allah will make our successive generations therein, so look at what you do and beware of (the temptations of) this World and beware of (the temptations of) women." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں چیزوں سے بقدر ضرورت ہی دلچسپی رکھو، نیز اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کے موافق مسلمانوں کو بہت دنیا دی اور مشرق اور مغرب کا ان کو حکمراں بنایا، اور مدت دراز تک ان کی حکومت قائم رہی، جب انہوں نے بھی اگلے لوگوں کی طرح بےاعتدالی، ظلم اور کجروی اختیار کی تو پھر ان سے چھین لی، آج کل نصاریٰ کی بہار ہے، ان کو تمام دنیا کی حکومت اور دولت مل رہی ہے اب دیکھنا ہے کہ ان کی میعاد کب تک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٢٦ (٢١٩١)، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٤٢) دون قیامہ خطیباً (صحیح) (سند میں علی بن زید ضعیف ہے لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی داخل ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے ساتھ داخل ہونے لگیں ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "While the in thenger of Allah ﷺ was sitting Masjid, a woman from Muzainah (tribe) entered, trailing her garment in the Masjid. The Prophet ﷺ said: O people, tell your women not to wear their adornments and show pride in the Masjid, for the Children of Israel were not cursed until their women wore adornments and walked proudly in their places of worship."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٧) (ضعیف) (موسیٰ بن عبیدہ ضعیف اور داود بن مدرک مجہول الحال راوی ہے )
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ ؓ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کرلے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) met a woman who was wearing perfume and heading for the Masjid. He said: "O slavewoman of the Compeller, where are you headed?" She said: "To the Masjid." He said: "And have you put on perfume for that?" She said: "Yes." He said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Any woman who puts on perfume then goes out to the Masjid, no prayer will be accepted from her until she takes a bath." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٧ (٤١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٦، ٢٩٧، ٣٦٥، ٤٤٤، ٤٦١) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو، کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تم عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے ، ان میں سے ایک سمجھ دار عورت نے سوال کیا: اللہ کے رسول ہمارے جہنم میں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعنت و ملامت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے باوجود اس کے کہ تم ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، تم سے زیادہ مرد کی عقل کو مغلوب اور پسپا کردینے والا کسی کو نہیں دیکھا ، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری عقل کی کمی (و نقصان) تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور دین کی کمی یہ ہے کہ تم کئی دن ایسے گزارتی ہو کہ اس میں نہ نماز پڑھ سکتی ہو، اور نہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہو ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: O women , give in in charity and pray a deal forgiveness, for I have seen that you form the majority of the people of Hell" A woman who was very wise said: Why is it, O Messenger of Allah ﷺ , that we form in the majority of Hell? He said: You a curse a great deal and you are ungrateful to your husbands, and I have never seen anyone lacking in discernment and religion more overwhelming to a man of wisdom and reason than you. She said: "O Messenger of Allah, what is this discernment and religion?" He said: "The lack of discernment is the fact that the testimony of two women is equivalent to the testimony of one man; this is the lack of reason. And (a woman) spends several nights when she does not pray, and she does not fast in Ramadan, and this is the lack in religion." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٤ (٧٩)، سنن ابی داود/السنة ١٦ (٤٦٧٩)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Enjoin what is good and forbid what is evil, before you call and you are not answered.(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٩) (حسن) (سند میں عمر بن عثمان مستور، اور عاصم بن عمر مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، نیز ابن حبان نے تصحیح کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٣ )
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد فرمایا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، اور تمہیں دوسرے شخص کی گمراہی ضرر نہ دے گی، جب تم ہدایت پر ہو (سورة المائدة: 105) ۔ اور بیشک ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عام عذاب نازل کر دے ۔ ابواسامہ نے دوسری بار کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
It was narrated that Qais bin Abu Hazim said: “ Abu Bakr (RA) stood up and praised and glorified Allah, then he said: O people, you recite this Verse - “O you who believe! Take care of your own selves. if you follow the (right) guidance no hurt can come to you from those who are in error." — but I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘If people see some evil but do not change it, soon Allah will send His punishment upon them all.” (One of the narrators) Abu Usamah repeated: “Indeed I heard that Messenger of Allah ﷺ say.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ١٧ (٤٣٣٨)، سنن الترمذی/الفتن ٨ (٢١٦٨)، تفسیر القرآن سورة المائدة ١٨ (٣٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢، ٥، ٧، ٩) (صحیح )
ابوعبیدہ (عامر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مردہ کردیا، اور آپس کی محبت ختم کردی، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا، چناچہ آپ ﷺ نے لعن الذين کفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ ولو کانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولکن كثيرا منهم فاسقون (سورۃ المائدہ: ٧٨ -٨١) تک پہنچے۔ (جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کی زبانی لعنت کی گئی، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے، بہت ہی برا کرتے تھے، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن بہت سے ان میں فاسق (بدکار اور بےراہ) ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو ۔
It was narrated from Abu Ubaqida that the Messenger of said: When the lldren of Israel became deficient in religious commitment,a man would see his brother committing sin and would tell him not to do it, but the next day, what he had seen him do did not prevent him from eating or drinking with him, or mixing with him. So Allah made the hearts of those who did not commit sin like the hearts of those who did, and He revealed Qui an concerning them and said: "Those among the Children of Israel who disbelieved were cursed by the tongue of Dawud and Eisa, son of Maryam" until he reached: "And had they believed in Allah, and in the Prophet ﷺ and in what has been revealed to him, never would they have taken them (the disbelievers) as their friends; but many of them are disobedient (to Allah)." The Messenger of Allah ﷺ was reclining, but he sat up and said: "No, not until they take the hand of the wrongdoer [i.e., restrain him and force him to follow the right way." (Daif) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ١٧ (٤٣٣٦، ٤٣٣٧)، سنن الترمذی/التفسیر ٦ (٣٠٤٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٣٩١) (ضعیف) (سند میں ابوعبیدہ کثیر الغلط راوی ہیں، اور حدیث کو مرسل روایت کیا ہے، یعنی اپنے اور رسول اکرم ﷺ کے مابین کا واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، اس لئے ارسال کی وجہ سے بھی یہ حدیث ضعیف ہے )
اس سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
انطر ماقبلة، تحفة الأشراف: ٩٦١٤) (ضعیف )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی: آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو ، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری ؓ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں (خلاف شرع) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہوگئے۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ stood up to deliver a sermon, and one of the thing that he said was: “No,fear of people should prevent a man from speaking the truth, if he knows it. Then Abu sa’eed wept and said: By Allah, we have seen things that made us scared (and we did not speak up).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٢٦ (٢١٩١)، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ١٩، ٦١، ٧٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one of you should? belittle himself They said: a Messenger of Allah, how could anyone of us belittle himself?" He said: "If he sees something concerning which he should speak out for the sake of Allah but does not say anything. Allah will say to him on the Day of Resurrection: "What prevented you from speaking concerning such and such?" He will say: Fear of the people." (Allah) will Rather you should have Me (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠، ٤٧، ٧٣) (ضعیف) (سند میں اعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کرلیتا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Jarir that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no people among whom sins are committed when they are stronger and of a higher status (i.e. they have the power and ability to stop the sinners) and they do not change them, but Allah will send His punishment upon them all." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦١، ٣٦٣، ٣٦٤، ٣٦٦) (حسن )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین (یعنی مہاجرین حبشہ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟ ، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! (دھوکا باز) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہوگا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جاسکے ۔
It was narrated that Jabir said: "When the emigrants who had crossed the sea came back to the Messenger of Allah ﷺ , he said: Why dont you tell me of the strange things that you saw in the land of Abyssinia? Some young men among them said: Yes, a Messenger of Allah. While we were sitting, one of their elderly nuns came past, carrying a vessel of water on her head. She passed by some of their youth, one of whom placed his hand between her shoulders and pushed her. She fell on her knees and her vessel broke. When she stood up, she turned to him and said: "You will come to know, a traitor, that when Allah sets up the Footstool and gathers the first and the last, and hands and feet speak of what they used to earn, you will come to know your case and my case in His presense soon." The Messen of Allah ﷺ said: ‘She spoke the truth, she spoke the truth. How can Allah purify any people (of sin) when they do not support their weak from their strong? (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٤١٠) (حسن) (سند کو بوصیری نے حسن کہا ہے )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ ﷺ نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے ؟، اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: (سب سے بہتر جہاد) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔
It was narrated that Abu Umamah said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ at the first pillar and said: O Messenger of Allah, which Jihad is best? but he kept quiet. When he saw the second Pillar, he asked again, and he kept quiet. When he stoned Aqabahh Pillar, he placed his foot in the stirrup, to ride, and said: Where is the one who was asking? (The man) said: Here I am, O Messenger of Allah. He said: A word of truth spoken to an unjust ruler.": (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٤١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥١، ٢٥٦) (حسن صحیح) (یہ اسناد حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کردیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری ؓ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے ۔
It was narrated that Abu Sa eed AI-Khudri said: "Marwan brought out the pulpit on the day of Eid, and he started with the sermon before the prayer. A man said: O Marwan, you have gone against the Sunnah. You have brought out the pulpit on this day, and it was not brought out before, and you have started with the sermon before the prayer, and this was not done before. Abu Sa eed said: As for this man, he has done his duty. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever among you sees an evil action and can change it with his hand (by taking action), let him change it with his hand. If he cannot do that, then with his tongue (by speaking out); and if he cannot do that, then with his heart (by hating it and feeling that it is wrong), and that is the weakest of faith.": (Hasan)
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی ؓ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی (سورة المائدة: 105) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔ تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہوجائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہوجائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا ۔
It was narrated that Abu Umayyah Shabaru said: "l came to Abu Thalabah AI-Khushani and said: How do you understand this Verse.? He said: Whichverse? I said: "O you who believe! Take care of your own selves. If you follow the (right) guidance, no hurt can come to you from those who are in error.? He said: You have asked one who knows about it. I asked the Messenger of Allah ﷺ about it and he said: "Enjoin good upon one another and forbid one another to do evil, but if you see overwhelming stinginess, desires being followed, this world being preferred (to the Hereafter), every person with an opinion feeling proud of it, and you realize that you have no power to deal with it, then you have to mind your own business and leave the common foIk to their own devices. After you will come days of patience, during which patience will be like grasping a burning ember, and one who does good deeds will have a reward like that of fifty men doing the same deed." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الملاحم ١٧ (٤٣٤١)، سنن الترمذی/التفسیر ٦ (٣٠٥٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨١) (ضعیف) (سند میں عمرو بن جاریہ، اور ابو امیہ شعبانی دونوں ضعیف ہیں، لیکن أيام الصبر کا فقرہ ثابت ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہوجائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ ﷺ نے فرمایا: حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آجائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اس قول: والعلم في رذالتکم کا مطلب یہ ہے کہ علم (دین) فاسقوں میں چلا جائے گا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "It was said:Messenger of Allah, when should we stop enjoining what is good and forbidding what is evil? He said: When there appears among you that which appeared among those who came before you. We said: ‘O Messenger of Allah, what appeared among those who came before us?’ He said: ‘Kingship given to your youth, immorality even among the old, and knowledge among the base and vile.” (Hasan) Zaid said: “The meaning of the Prophet’s words: ‘Knowledge among the base and vile’ is when knowledge is found among the evildoers.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤، ومصباح الزجاجة: ١٤١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٧) (ضعیف) (سند ضعیف ہے اس لئے کہ مکحول مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے ، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہوگی ۔
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ said: “The believer should not humiliate himself.” They said: “How could he humiliate himself?” He said: “By taking on trial that he cannot deal with. (Da`if)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٦٧ (٢٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٠٥) (حسن) (سند میں علی بن زید جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن طبرانی میں ابن عمر ؓ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦١٣ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا ۔
Messenger of Allah ﷺ say: Allah will question His slave on the Day of Resurrection, until He says: "What kept you from denouncing evil when you saw it?" When Allah grants His slave a response, he will say: "O Lord, I hoped for Your mercy but I feared the people." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٤١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧، ٢٩، ٧٧) (صحیح )