عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں (مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Goodness comes more quickly to a house where food is eaten than a knife to a camels hump." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٩١، ومصباح الزجاجة: ١١٦٢) (ضعیف) (جبارہ ضعیف اور عبدالرحمن بن نہشل متروک ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ (اسے رخصت کرتے وقت) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of AlIah ﷺ said: “It is the Sunnah for a man to go out with his guest to the door of the house.” (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٨٩، ومصباح الزجاجة: ١١٦٣) (موضوع) (علی بن عروہ متروک راوی ہے، حدیث وضع کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٥٨ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "I made some food and called the Messenger of Allah ﷺ (to come and eat). He came and saw sonte images in the house, so ilewent back." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بےحیائی بےپردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی، یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اور کھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کرسکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بےحرمتی اور اہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلے ان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔
سفینہ ابو عبدالرحمٰن ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب ؓ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ ؓ نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چناچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ ﷺ تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ ؓ نے علی ؓ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آگئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو ١ ؎۔
Safinah, Abu ‘Abdur-Rehman, narrated that a man visited ‘Ali bin Abu Tâlib and he made some food for him. Fãtimah said: ‘Why don’t we invite the prophet to eat with us?” So they thvi him and he came. Pie put his hand on the dooQo5t of the house and saw a tiun curtain in the corner of the house, so he went back. Fâtimah said to ‘All: “Go and catch up with him, and ask him: ‘What made you go back, O Messenger of Allah? ﷺ He said: “I do not enter a well decorated house.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں مزوق کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ مزوق کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٨ (٣٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٠، ٢٢١، ٢٢٢) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر ؓ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر ؓ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر ؓ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آجائے، اس پر عمر ؓ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کھالی، اور دوسری صدقہ کردی۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر ؓ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں۔
It was narrated that Ibn Umar said that Umar entered upon him when he was eating, and he made room for him in the middle of the gathering. He said: Bismillah, then he took a morsel and ate it, then a second. Then he said: "I notice some fat in the food but it is not the fat of the meat." Abdullah said: "O Commander of the Believers! I wlent out to the marketplace oak ing for some fatty meat (bones with plenty of meat on them) to buy, but it was expensive, so I bought some lean meat (bones with not much meat on them) for a Dirham, and added a Dirhams worth of ghee. I wanted my family to go through it bone by bone." Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ never had these two things together; he would eat one and give the other in charity." Abdullah said: "Eat it this time, a Commander of the Believers, and I will never have them both together again but I will do that (i.e., give one in charity). He said: "I will not eat it" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٩، ومصباح الزجاجة: ١١٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٠، ٢٢١، ٢٢٢) (ضعیف) (یونس بن أبی یعفور ضعیف راوی ہے )
معدان بن أبی طلحہ یعمری ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ١ ؎۔
It was narrated from Madan bin Abu Talhah AIYamuri that Umar bin Khattab stood up one Friday delivering a sermon. He praised and glorified Allah, then he said: "O people, you eat two plants which I do not regard as anything but offensive: This garlic and these onions. At the time of the Messenger of Allah ﷺ , I would see a man, if the smell (of these vegetables) was found on him, being taken by the hand and led out to Beqi (graveyard). Whoever must eat them, let him cook them to death." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچا نہ کھائے چونکہ کچے میں بو ہوتی ہے، پکانے سے بو کم ہوجاتی ہے، یا بالکل ختم ہوجاتی ہے، گرچہ پیاز اور لہسن حرام نہیں ہے مگر رسول اکرم ﷺ ان کو برا جانتے تھے، اور نہیں کھاتے تھے اس وجہ سے کہ آپ ﷺ پر وحی آتی، اور فرشتوں کو اس کی بونا گوار ہوتی، اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ کچا نہ کھائیں اگر کچا کھائیں تو ان کو کھا کر مسجد میں نہ جائیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔
ام ایوب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کچھ سبزیاں (پیاز اور لہسن) پڑی تھیں، آپ نے اسے نہیں کھایا، اور فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں (اس کی بو سے) اپنے ساتھی (جبرائیل علیہ السلام) کو تکلیف پہنچاؤں ١ ؎۔
It was narrated that Umm Ayyub said: "I made some food for the Prophet ﷺ , in which there were some vegetables. He did not eat It, and he said: I do not like to annoy my companion:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فتح الباری میں ہے کہ پیاز اور لہسن اور گندنا حلال ہیں، لیکن جو کوئی ان کو کھائے اس کو مسجد میں جانا مکروہ ہے، اور فقہاء نے مولی کو بھی ان کی مثل سمجھا ہے، اور جس ترکاری میں بری بو ہو وہ اس کی مثل ہے، اور جمہور اسی کے قائل ہیں کہ کراہت تنزیہی ہے۔ اور بیڑی سگریٹ، سگار وغیرہ کے پینے والوں یا تمباکو کھانے والوں کے منہ بھی عموما ً بدبو کرتے ہیں، جس سے لوگوں کو مسجد اور مسجد سے باہر اذیت اور تکلیف ہوتی ہے، اس لیے اس سے بھی احتیاط ضروری ہے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔
It was narrated from Jabir that a group of people came to the Prophet ﷺ and he noticed the smell of leeks coming from them. He said: "Did I not forbid you to eat these vegetables? For the angels are offended by that which offends people." (Sahih)
دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: پیاز مت کھاؤ،، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: کچی ۔
Uqbah bin Amir AI-Juhani said: "The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions: Do not eat onions, then he said in a low voice: Raw:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٥، ومصباح الزجاجة: ١١٦٥) (صحیح) (سند میں عثمان اور مغیرہ دونوں مجہول ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، آخری جملہ ثم قال کلمة خفية: النيئ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٣٨٩ )
سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف (مباح) ہے ١ ؎۔
It was narrated that Salman AlFârisi said: “The essenger of Allah was asked about ghee, cheese and wild donkeys. He said: ‘What is lawful is that which Allah has pennitted, in His Book and what is unlawful is that which Allah has forbidden in His Book. What He remained silent about is what is pardoned.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حلال ہے اس کے کھانے میں کچھ مواخذہ نہیں، کیونکہ حلال سیکڑوں چیزیں ہیں، ان سب کا بیان کرنا دشوار تھا، اس لئے جو چیزیں حرام تھیں ان کو قرآن اور حدیث میں بیان کردیا گیا، اسی طرح وہ چیزیں جو حلال تھیں لیکن مشرکین جہالت سے ان کو حرام سمجھتے تھے، انہیں بھی بیان کردیا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٦ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٦) (حسن) (سند میں ہارون ضعیف ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٢٨ )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھالیا، جب چند روز ہوگئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے میرا نام (محبت و مزاح سے) دغا باز رکھ دیا۔
It was narrated that Nurnan bin Bashir said: "The Prophet ﷺ was given a gift of Some grapes from Taif. He called me and said: Take this bunch of grapes and give it to your mother: But I ate it before I gave it to her. A few nights later he said to me: What happened to the bunch of grapes? Did you give it to your mother? I said: No., So he called me treacherous:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی (سفرجل) ١ ؎ تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے ١ ؎۔
It was narrated that Talhah said: “I entered upon the Prophet ﷺ and in his hand was some quince. He said: ‘Take it, O Tatha}i, for it soothes the heart.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: بہی اور سیب دونوں دل کے لئے مقوی اور دل کی دھڑکن دور کرنے میں مفید ہیں، اگرچہ حدیث ضعیف ہے، مگر یہ دونوں گرم مزاج والوں کے لئے مفید ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٤، ومصباح الزجاجة: ١١٦٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں نقیب بن حاجب، ابو سعید اور عبدالملک سب مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ١ ؎۔
It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from eating while lying down on his face." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اوندھے ہو کر سونا بھی منع ہے کیونکہ جہنمیوں کی مشابہت ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹ کر ڈالے جائیں گے جیسے قرآن میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٩ (٣٧٧٤)، مسند احمد (٣/٤٣٠، ٥/٤٢٦) (حسن) (حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، سند میں جعفر بن برقان ہیں جو زہری کی احادیث میں خاص کر وہم کا شکار تھے۔ ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٩٤ )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (جگری دوست) رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی: شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Darda said: "My close friend advised me: Do not drink wine, for it is the key to all evils. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آجاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔
‘Ubâdah bin Sâmit said: “I heard Khabbâb bin narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Beware of wine! For its sins overwhelm other sins, Just as the grapevine overwhelms other trees” (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥١٥، ومصباح الزجاجة: ١١٦٩) (ضعیف) (منیر بن زبیر الشامی ضعیف ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter, unless he repents." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who is addicted to wine is like one who worships idols." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہوجاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہوجاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٨، ومصباح الزجاجة: ١١٧١) (حسن) (سند میں محمد بن سلیمان ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٧٧ )