Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 152 of 218

3017Sunan Ibne-Majah

عرفات سے (واپس) لوٹنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ، قَالَ وَكِيعٌ: وَالنَّصُّ يَعْنِي: فَوْقَ الْعَنَقِ.

اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ ﷺ کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ عنق کی چال (تیز چال) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ عنق سے زیادہ تیز چال کو نص کہتے ہیں۔

It was narrated from Usamah bin Zaid that he was asked: "How did the Messenger of Allah ﷺ travel when he departed from Arafat?" He said: "He moved at a quick pace, and when he reached an open space he would make his camel run." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦)، الجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩)، المغازي ٧٧ (٤٤١٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٠، ١٢٨٦)، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٣)، سنن النسائی/الحج ٢٠٥ (٣٠٢٦)، ٢١٤ (٣٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦)، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )
3018Sunan Ibne-Majah

عرفات سے (واپس) لوٹنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ قُرَيْشٌ: نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ١ ؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے) اتاری۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Quraish said: We are the neighbors of the House and we do not leave the sanctuary. Allah said: Then depart from the place whence all the people depart." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ حل میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٤) (صحیح )
3019Sunan Ibne-Majah

اگر کچھ کام ہو تو عرفات ومزدلفہ کے درمیان اترسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ، فَبَالَ وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامُكَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، حَتَّى قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز (پڑھ لی جائے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے (پڑھی جائے گی) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: "I departed from Arafat with the Messenger of Allah ﷺ and when he reached the mountain path at which the chiefs would dismount, he dismounted and urinated, then performed ablution. I said: (Is it time for) prayer? He said: The prayer is still ahead of you. When he reached Jam (Muzdalifah) he called the Adhan and lqamah, then he prayed Maghrib. Then no one among the people unloaded (the camels) (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٦٤ (١٩٢١)، سنن النسائی/المواقیت ٥٠ (٦١٠)، الحج ٢٠٦ (٣٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٣٩)، الحج ٩٥ (١٦٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٠)، موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٧)، مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠٢، ٢٠٨، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )
3020Sunan Ibne-Majah

مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین۔ (یعنی مغرب وعشاء اکٹھا کرنا)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْمُزْدَلِفَةِ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔

It was narrated from Abdullah bin Yazid Al-Khatmi that he heard Abu Ayyub AI·Ansari say: "I prayed Maghrib and Isha with the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage, at Muzdalifah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٦ (١٦٧٤)، المغازي ٧٦ (٤٤١٤)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٧)، سنن النسائی/المواقیت ٤٨ (٦٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٨)، مسند احمد (٥/٤١٨، ٤١٩، ٤٢٠، ٤٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (١٩٢٥) (صحیح )
3021Sunan Ibne-Majah

مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین۔ (یعنی مغرب وعشاء اکٹھا کرنا)

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَلَمَّا أَنَخْنَا، قَالَ: الصَّلَاةُ بِإِقَامَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب مزدلفہ میں پڑھی، پھر جب ہم نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اقامت کہہ کر عشاء پڑھو ۔

It was narrated from Ubaidullah, from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ prayed Maghrib at Muzdalifah. When we halted he said: "Prayer should be done with Iqamah."(sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٩٦ (١٦٧٤)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٢٦)، موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٦)، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (٦٧٧٠) (صحیح )
3022Sunan Ibne-Majah

مزدلفہ میں قیام کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نُفِيضَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ، قَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ، وَكَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَخَالَفَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ.

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہوجا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ١ ؎۔

It was narrated that Aim bin Maimun said: "We performed Hajj with Umar bin Khattab, and when we wanted to depart from Muzdalifah, he said: The idolators used to say: "Mar, the sun rise over you, O Thabir! So that we may begin our journey (to Min )" and they did not depart fue sun had risen: So the Messenger of Allah ﷺ differed from them by departing before the sun rose." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب عرفات سے نویں تاریخ کو لوٹ کر چلے تو راستہ میں مغرب نہ پڑھے بلکہ مغرب اور عشاء دونوں ملا کر عشاء کے وقت میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مزدلفہ میں آ کر پڑھے، پھر رات مزدلفہ ہی میں گزارے اور صبح ہوتے ہی نماز فجر پڑھ کر سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کے لیے روانہ ہوجائے گا، مزدلفہ میں رات کو رہنا سنت ہے، اور جو لوگ مزدلفہ میں رات بسر نہیں کرتے وہ بدعت کا کام کرتے ہیں، جس سے حاکم کو منع کرنا چاہیے اور جو کوئی رات کو مزدلفہ میں نہ رہے اس پر ایک دم لازم ہوگا، ابن خزیمہ اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مزدلفہ میں رات کو رہنا رکن ہے، اس صورت میں اس کے ترک سے ان کا حج باطل ہوجائے گا، اور اس کمی کو دم سے نہ دور کیا جاسکے گا، اور رات کو رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ میں ٹھہرے اگرچہ ایک گھڑی ہی سہی، اگر اس سے پہلے چل دے گا تو اس پر دم لازم ہوگا، لیکن فجر ہونے سے پہلے سے پھر وہاں لوٹ آئے تو دم ساقط ہوجائے گا، بہرحال رات کی نصف ثانی میں تھوڑی دیر فجر تک مزدلفہ میں ٹھہرنا ضروری ہے، (الروضۃ الندیۃ)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤)، مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨)، سنن ابی داود/الحج ٦٥ (١٩٣٨)، سنن الترمذی/الحج ٦٠ (٨٩٦)، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠، ٥٢) سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح )
3023Sunan Ibne-Majah

مزدلفہ میں قیام کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَالَ جَابِرٌ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَقَالَ: لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آسکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ١ ؎۔

"The Messenger of Allah ﷺ departed during the Farewel Pilgrimage in a tranquil manner, and he urged them to be tranquil. He told them to throw small pebbles. He hastened through Muhassir Valley, and said: Let my nation learn its rites (of Hajj), for I do not know, perhaps I will not meet them again after this year:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وادی محسر: منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا، جو یمن سے کعبہ کو ڈھانے اور اس کی بےحرمتی کے لیے آئے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٤)، سنن النسائی/الحج ٢٠٤ (٣٠٢٤)، ٢١٥ (٣٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٥ (٨٨٦)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١) (صحیح )
3024Sunan Ibne-Majah

مزدلفہ میں قیام کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْبِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: غَدَاةَ جَمْعٍ يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاسَ أَوْ أَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ.

بلال بن رباح ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو ۔

It was narrated from Bilal (RA) bin Rabah that the Prophet ﷺ said to him, on the morning of lama: "O Bilal (RA) , calm the people down" or "make them be quiet."Then he said: "Allah has been very gracious to you in this Jam of yours. He has forgiven the wrongdoers among you because of the righteous among you, and He has given the righteous among you wha tever they ask. Move on in the Name of Allah." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٥) (صحیح) (اس سند میں ابوسلمہ الحمصی مجہول ہیں، لیکن انس، عبادہ اور عباس بن مرداس ؓ کے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦٢٤ )
3025Sunan Ibne-Majah

جو شخص کنکریاں مارنے کیلئے مزدلفہ سے منی کو پہلے چل پڑے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، زَادَ سُفْيَانُ فِيهِ وَلَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِيهَا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ سے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو ہماری اپنی گدھیوں پر پہلے ہی روانہ کردیا، آپ ہماری رانوں پر آہستہ سے مارتے تھے، اور فرماتے تھے: میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا ١ ؎۔ سفیان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: میں نہیں سمجھتا کہ سورج نکلنے سے پہلے کوئی کنکریاں مارتا ہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "We youngsters from the clan of Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah ﷺ , from jam on donkeys of ours. He started striking our thighs and saying: O my sons, do not stone the Pillar until the sun rises. " (One of the narrators) Sufyan added: "I cannot imagine anyone stoning them until the sun rises." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ کو کنکری مارتے ہیں اور اس دن سورج نکلتے ہی کنکریاں ماری جاتی ہیں، البتہ گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ کو تینوں جمرات کو سورج ڈھلنے کے بعد سات سات کنکریاں مارتے ہیں، ان دونوں میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکری مارنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٠)، سنن النسائی/الحج ٢٢٢ (٣٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٨٩٣)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١، ٣٤٣) (صحیح )
3026Sunan Ibne-Majah

جو شخص کنکریاں مارنے کیلئے مزدلفہ سے منی کو پہلے چل پڑے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ قَدِمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں میں جن کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا ان میں میں بھی تھا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I was among the weak ones of his family (i.e., the women and children) whom the Messenger of Allah ﷺ sent on ahead." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن النسائی/الحج ٢٠٨ (٣٠٣٦)، ٢١٤ (٣٠٥١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢١، ٢٧٢) (صحیح )
3027Sunan Ibne-Majah

جو شخص کنکریاں مارنے کیلئے مزدلفہ سے منی کو پہلے چل پڑے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتِ امْرَأَةً ثَبْطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدْفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ دَفْعَةِ النَّاسِ، فَأَذِنَ لَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ سودہ بنت زمعہ ؓ ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔

Sawdah bint Zam’ah slow-moving woman, so ed the Messenger of Allah ﷺ permission to depart from Lead of the people, and he permission. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٨٠)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٧٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٢٠٩ (٣٠٤٠)، ٢١٤ (٣٠٥٢)، مسند احمد (٦/٣٠، ٩٤، ٩٩، ١٣٣، ١٦٤، ٢١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٥٣ (١٩٢٨) (صحیح )
3028Sunan Ibne-Majah

کتنی بڑی کنکریاں مارنی چاہیے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.

سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ (ام جندب الازدیہ ؓ) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا، آپ فرما رہے تھے: لوگو! جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارو تو ایسی ہوں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آجائیں ۔

It was narrated from Sulaiman bin Amr bin Ahwas that his mother said: "I saw the Prophet ﷺ on the Day of Sacrifice, at Aqabah" Pillar, riding a mule. He said: O people! When you stone the Pillar, throw small pebbles. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٧٨ (١٩٦٦، ١٩٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٣، ٥/٢٧٠، ٣٧٩، ٦/٣٧٩) (حسن) (اس سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
3029Sunan Ibne-Majah

کتنی بڑی کنکریاں مارنی چاہیے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ: الْقُطْ لِي حَصًى، فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ، هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ، فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ، وَيَقُولُ: أَمْثَالَ هَؤُلَاءِ فَارْمُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرہ عقبہ کی صبح کو فرمایا، اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ، چناچہ میں نے آپ کے لیے سات کنکریاں چنیں، وہ کنکریاں ایسی تھیں جو دونوں انگلیوں کے بیچ آجائیں، آپ انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے تھے اور فرماتے تھے: انہیں جیسی کنکریاں مارو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "On the morning of Aqabahh, when he was atop his she-camel, the Messenger of Allah ﷺ said: Pick up some pebbles for me. So I picked up seven pebbles for him, suitable for Khadhf.He began to toss them in his hand, saying: Throw something like these. Then he said: O people, beware of exaggeration in religious matters for those who came before you were doomed because of exaggeration in religious matters. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: غلو: کسی کام کو حد سے زیادہ بڑھا دینے اور اس میں ضرورت سے زیادہ سختی کرنے کو غلو کہتے ہیں، مثلاً کنکریاں مارنے کا حکم ہے تو چھوٹی کنکریاں کافی ہیں، اب غلو یہ ہے کہ بڑی بڑی کنکریاں مارے یا پتھر پھینکے اور اس کو زیادہ ثواب کا کام سمجھے، دین کے ہر کام میں غلو کرنا منع ہے اور یہ حماقت کی دلیل ہے، یہ بھی غلو ہے کہ مثلاً کسی نے مستحب یا سنت کو ترک کیا تو اس کو برا کہے اور گالیاں دے، اگر کوئی سنت کو ترک کرے تو صرف نرمی سے اس کو حدیث سنا دینا کافی ہے، اگر لوگ فرض کو ترک کریں تو سختی سے اس کو حکم کرنا چاہیے، لیکن اس زمانہ میں یہ حال ہوگیا ہے کہ فرض ترک کرنے والوں کو کوئی برا نہیں کہتا ہے، لوگ تارکین صلاۃ، شرابیوں اور سود خوروں سے دوستی رکھتے ہیں، لیکن اذان میں کوئی انگوٹھے نہ چومے یا مولود میں قیام نہ کرے تو اس کے دشمن ہوجاتے ہیں، یہ بھی ایک انتہائی درجے کا غلو ہے، اور ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مسلمان تباہ ہوگئے، اور جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا، ویسا ہی ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢١٧ (٣٠٥٩)، ٢١٩ (٣٠٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٣٤٧، ٥/١٢٧) (صحیح )
3030Sunan Ibne-Majah

جمرئہ عقبہ پر کہاں سے کنکریاں مارنا چاہیے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا أَتَىعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى، الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود ؓ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے، کعبہ کی طرف رخ کیا، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا، پھر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا: قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "When Abdullah bin Masud stoned Aqabahh Pillar, he went to the bottom of the valley and turned to face the Ka’bahh, with the Pillar on his right hand side .Then he threw seven pebbles, saying the Takbir of with each one.Then he said: From here, by the . One besides Whom there is none worthy of worship, did the one throw, to whom Sural Al-Baqarah was revealed. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٣٥ (١٧٤٧)، ١٣٨ (١٧٥٠)، صحیح مسلم/الحج ٥٠ (١٢٩٦)، سنن ابی داود/الحج ٧٨ (١٩٧٤)، سنن الترمذی/الحج ٦٤ (٩٠١)، سنن النسائی/الحج ٢٢٦ (٣٠٧٢)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٥، ٤٢٧، ٤٣٠، ٤٣٢، ٤٣٦، ٤٥٦، ٤٥٨) (صحیح )
3031Sunan Ibne-Majah

جمرئہ عقبہ پر کہاں سے کنکریاں مارنا چاہیے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ام جندب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یوم النحر کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ وادی کے نشیب میں تشریف لے گئے، اور جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے پھر لوٹ آئے۔ اس سند سے بھی (سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ ام جندب ؓ) سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔

It was narrated from Sulaiman bin Amr bin Ahwas that his mother said: "I saw the Pophet ﷺ on the Day of SacrifIce, at Aqabahh Pillar. He went to the interior of the valley and threw seven pebbles, saying Takbir with each pebble, then he departed." (Daif) (Another chain) from Sulaiman bin Amr bin Ahwas, from Umm Jundub from the Prophet ﷺ il; with similar wording.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٢٨، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٢) (حسن )
3032Sunan Ibne-Majah

جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَأَنَّهُ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، اور اس کے پاس رکے نہیں، اور بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔

It was narrated that Ibn Umar stoned Aqabahh Pillar, but he did not stay there, and he mentioned that the Prophet ﷺ had done likewise. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٤٠ (١٧٥١)، ١٤٢ (١٧٥٢، ١٧٥٣)، سنن النسائی/الحج ٢٣٠ (٣٠٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٢)، سنن الدارمی/المناسک ٦١ (١٩٤٤) (صحیح )
3033Sunan Ibne-Majah

جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرے۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَى جَمَرَ الْعَقَبَةِ مَضَى، وَلَمْ يَقِفْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب جمرہ عقبہ کی رمی کرلی تو چلے گئے، رکے نہیں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Messenger of Allah ﷺ had stoned Aqabahh Pillar, he would continue on, and would not stay there."(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٦) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3034Sunan Ibne-Majah

سوار ہو کر کنکریاں مارنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں ماریں۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ stoned the Pillar from atop his mount.(Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٣ (٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٦٤٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢) (صحیح )
3035Sunan Ibne-Majah

سوار ہو کر کنکریاں مارنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ.

قدامہ بن عبداللہ عامری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو جمرہ کو اپنی سرخ اور سفید اونٹنی پر سوار ہو کر کنکریاں ماریں، اس وقت آپ نہ کسی کو مارتے، اور نہ ہٹاتے تھے، اور نہ یہی کہتے تھے کہ ہٹو! ہٹو!۔

It was narrated that Qudamah bin Abdullah AI-Amiri said. "I saw the Prophet ﷺ stone the Pillar, on the Day of Sacrifice, from atop a reddishbrown camel of his, without beating anyone, driving them off or telling them to go away."(Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٥ (٩٠٣)، سنن النسائی/المناسک ٢٢٠ (٣٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٣/٤١٢، ٤١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٠ (١٩٤٢) (صحیح )
3036Sunan Ibne-Majah

بوجہ عذر کنکریاں مارنے میں تاخیر کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا، وَيَدَعُوا يَوْمًا.

عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔

It was narrated from Abu Baddah bin Asim, from his father, that the Prophet ﷺ granted permission for some shepherds to stone one day and to not stone (the next) day.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٧٨ (١٩٧٥ و ١٩٧٦)، سنن الترمذی/الحج ١٠٨ (٩٥٤، ٩٥٥)، سنن النسائی/الحج ٢٢٥ (٣٠٧٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٧٢ (٢١٨)، مسند احمد (٥/٤٥٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٨ (١٩٣٨) (صحیح )