عورتوں کی صورت اختیار کرنے والے کو گھر سے نکال دینا
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْقَالَ: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا اور عمر ؓ نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ cursed effeminate men (those men who are in the similitude (assume the manners of women) and those women who assume the manners of men, and he said, "Turn them out of your houses ." The Prophet ﷺ turned out such-and-such man, and Umar turned out such-and-such woman.
عورتوں کی صورت اختیار کرنے والے کو گھر سے نکال دینا
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ، يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا فَهِيَ تُقْبِلُ بِهِنَّ، وَقَوْلُهُ: وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، يَعْنِي أَطْرَافَ هَذِهِ الْعُكَنِ الْأَرْبَعِ، لِأَنَّهَا مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ، وَإِنَّمَا قَالَ: بِثَمَانٍ، وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ وَوَاحِدُ الْأَطْرَافِ وَهُوَ ذَكَرٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ ؓ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہوجائے تو میں تمہیں بنت غیلان (بادیہ نامی) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو (اس کے موٹاپے کی وجہ سے) چار سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ سامنے سے چار سلوٹوں کا مطلب یہ ہے کہ (موٹے ہونے کی وجہ سے) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے (آگے کی) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں بثمان کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے بثمانية. ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور لأطراف، طرف کی جمع ہے اور طرف کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ لأطراف کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے بثمان بھی کہنا درست ہوا۔
Narrated Um Salama (RA) :
that once the Prophet ﷺ was in her house, and an effeminate man was there too. The effeminate man said to Abdullah, (Um Salamas brother) "0 Abdullah! If Taif should be conquered tomorrow, I recommend you the daughter of Ghailan, for she is so fat that she has four curves in the front (of her belly) and eight at the back." So the Prophet ﷺ said (to his wives) "These effeminate (men) should not enter upon you (your houses).
مونچھیں کتروانے کا بیان، اور حضرت عمر (رض) اپنی مونچھیں اس قدر کترواتے تھے کہ کھال دکھائی دینے لگتی تھی، اور داڑھی اور مونچھ کے درمیان کے بالولوں کو کترواتے تھے
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ نَافِعٍ . ح قَالَ أَصْحَابُنَا ، عَنِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے، ان سے نافع نے بیان کیا، (امام بخاری (رح) نے) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا، انہوں نے بحوالہ ابن عمر ؓ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA):
The Prophet ﷺ said, "To get the moustaches cut short is characteristic of the Fitra."
مونچھیں کتروانے کا بیان، اور حضرت عمر (رض) اپنی مونچھیں اس قدر کترواتے تھے کہ کھال دکھائی دینے لگتی تھی، اور داڑھی اور مونچھ کے درمیان کے بالولوں کو کترواتے تھے
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ، حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةًالْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا (سفیان نے کہا) ہم سے زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے (نبی کریم ﷺ سے) روایت کیا کہ پانچ چیزیں (فرمایا کہ) پانچ چیزیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Five practices are characteristics of the Fitra: circumcision, shaving the pubic region, clipping the nails and cutting the moustaches short."
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حنظلہ سے سنا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موئے زیر ناف مونڈنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کترانا پیدائشی سنتیں ہیں۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "To shave the pubic hair. to clip the nails and to cut the moustaches short, are characteristics of the Fitra."
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْآبَاطِ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا پانچ چیزیں ختنہ کرانا، زیر ناف مونڈنا، مونچھ کترانا، ناخن ترشوانا اور بغل کے بال نوچنا پیدائشی سنتیں ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
I heard the Prophet ﷺ saying. "Five practices are characteristics of the Fitra: circumcision, shaving the pubic hair, cutting the moustaches short, clipping the nails, and depilating the hair of the armpits."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ عبداللہ بن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے۔
Narrated Nafi:
Ibn Umar (RA) said, The Prophet ﷺ said, Do the opposite of what the pagans do. Keep the beards and cut the moustaches short. Whenever Ibn Umar (RA) performed the Hajj or Umra, he used to hold his beard with his hand and cut whatever moustaches. Ibn Umar (RA) used to cut his moustache so short that the whiteness of his skin (above the upper lip) was visible, and he used to cut (the hair) between his moustaches and his beard.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى.
مجھ سے محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Cut the moustaches short and leave the beard (as it is)."
بڑھاپے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا ، أَخَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ إِلَّا قَلِيلًا.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے خضاب استعمال کیا تھا؟ بولے کہ نبی کریم ﷺ کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔
Narrated Muhammad bin Sirin (RA) :
I asked Anas, "Did the Prophet ﷺ dye his hair?" Anas replied, "The Prophet ﷺ did not have except a few grey hairs."
بڑھاپے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ ، عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يَخْضِبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ انس ؓ سے نبی کریم ﷺ کے خضاب کے متعلق سوال کیا گیا تو احول نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
Narrated Thabit (RA) :
Anas was asked whether the Prophet ﷺ used a a hair dye or not. Anas replied, "The Prophet ﷺ had not enough grey hair to dye. I could even count the white grey hairs oil his beard ill would."
بڑھاپے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَفَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعَرًا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا.
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَرَتْهُ شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمَرَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن موہب نے کہ میں ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم ﷺ کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ ؓ نے انہیں نبی کریم ﷺ کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔
Narrated IsraiI (RA) :
Uthman bin Abdullah bin Mauhab said, "My people sent me with a bowl of water to Um Salama." Israil approximated three fingers (indicating the small size of the container in which there was some hair of the Prophet. Uthman added, "If any person suffered from evil eye or some other disease, he would send a vessel (containing water) to Um Salama. I looked into the container (that held the hair of the Prophet) and saw a few red hairs in it,"
بڑھاپے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلَاثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ ؓ کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کرلیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم ﷺ کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم ﷺ کے بال ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔
Narrated Uthman bin Abdullah bin Mauhab (RA) :
I went to Um Salama and she brought out for us some of the dyed hair of the Prophet ﷺ . ibn Mauhab also said that Um Salama had shown him the red hair of the
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ان سے ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Jews and Christians do not dye their hair so you should do the opposite of what they do.
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلَا بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے، انہوں نے ان سے سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بہت لمبے نہیں تھے اور نہ آپ چھوٹے قد کے ہی تھے (بلکہ آپ کا بیچ والا قد تھا) نہ آپ بالکل سفید بھورے تھے اور نہ گندم گوں ہی تھے، آپ کے بال گھونگھریالے الجھے ہوئے نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا دس سال آپ نے (نبوت کے بعد) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ was neither conspicuously tall, nor short; neither, very white, nor tawny. His hair was neither much curled, nor very straight. Allah sent him (as an Apostle) at the age of forty (and after that) he stayed for ten years in Makkah, and for ten more years in Medina. Allah took him unto Him at the age of sixty, and he scarcely had ten white hairs on his head and in his beard.
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي: عَنْ مَالِكٍ، إِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلَّا ضَحِكَ، قَالَ شُعْبَةُ: شَعَرُهُ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں براء ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کہا کہ میں نے سرخ حلہ میں نبی کریم ﷺ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا (امام بخاری (رح) نے کہا کہ) مجھ سے میرے بعض اصحاب نے امام مالک (رح) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سر کے بال شانہ مبارک کے قریب تک تھے۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء ؓ کو ایک مرتبہ سے زیادہ یہ حدیث بیان کرتے سنا جب بھی وہ یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ اس روایت کی متابعت شعبہ نے کی کہ نبی کریم ﷺ کے بال آپ کے کانوں کی لو تک تھے۔
Narrated Al-Bara:
I did not see anybody in a red cloak looking more handsome than the Prophet ﷺ Narrated Malik (RA) : The hair of the Prophet ﷺ used to hang near his shoulders. Narrated Shuba: The hair of the Prophet ﷺ used to hang down to the earlobes.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ: الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کعبہ کے پاس مجھے دیکھایا گیا، میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Today I saw myself in a dream near the Ka’bah. I saw a whitish brown man, the handsomest of all brown men you might ever see. He had the most beautiful Limma (hair hanging down to the earlobes) you might ever see. He had combed it and it was dripping water; and he was performing the Tawaf around the Kaba leaning on two men or on the shoulders of two men. l asked, "Who is this?" It was said. "Messiah, the son of Mary." Suddenly I saw a curly-haired man, blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, "Who is this?" It was said, "He is Masiah Ad-Dajjal."
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حِبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
Narrated Anas :
The hair of the Prophet ﷺ used to hang down up to his shoulders.
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (سر کے ) بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
Narrated Anas (RA) :
The head-hair of the Prophet ﷺ used to hang down to his shoulders.
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلَا الْجَعْدِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بال درمیانہ تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔
Narrated Qatada (RA) :
l asked Anas bin Malik (RA) about the hair of Allahs Apostle. He said, "The hair of Allahs Apostle ﷺ was neither much straight, nor much curly, and it used to hang down till between his shoulders and his earlobes.
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَا جَعْدَ وَلَا سَبِطَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے میں نے نبی کریم ﷺ کے بعد آپ جیسا (خوبصورت کوئی آدمی) نہیں دیکھا آپ کے سر کے بال میانہ تھے نہ گھونگھریالے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ had big hands, and I have never seen anybody like him after him. The hair of the Prophet ﷺ was wavy, neither curly nor straight.