لباس کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 61 · 182 hadiths · Page 7 of 10

5907Sahih Bukhari

گھونگریالے بالوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ بَسِطَ الْكَفَّيْنِ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کی، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں بھرے ہوئے تھے۔ چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ جیسا خوبصورت کوئی نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔

Narrated Anas : The Prophet ﷺ had big hands and feet, and I have not seen anybody like him, neither before nor after him, and his palms were soft.

5908Sahih Bukhari(5911-5912)

گھونگریالے بالوں کا بیان

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ. وَقَالَ هِشَامٌ : عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَثْنَ الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ. وَقَالَ أَبُو هِلَالٍ 9، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ شَبَهًا لَهُ.

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک ؓ نے یا ایک آدمی نے ابوہریرہ ؓ سے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ بھرے ہوئے قدموں والے تھے، نہایت ہی حسین و جمیل، آپ جیسا خوبصورت میں نے آپ کے بعد کسی کو نہیں دیکھا۔ اور ہشام نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کے قدم اور ہتھیلیاں بھری ہوئی اور گداز تھیں۔ اور ابوہلال نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ یا جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے ہوئے تھے، آپ جیسا پھر میں نے کوئی خوبصورت آدمی نہیں دیکھا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ had big feet and a good-looking face and l have not seen anybody like him after him. Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ had big feet and hands. Narrated Anas or Jabir bin Abdullah The Prophet ﷺ had big hands and feet and I have not seen anybody like him after him.

5913Sahih Bukhari

گھونگریالے بالوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاكَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے اور ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ ہم ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ کافر لکھا ہوگا۔ اس پر ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا البتہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تمہیں ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھنا ہو تو اپنے صاحب (خود نبی کریم ﷺ ) کو دیکھو (کہ آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں) اور موسیٰ (علیہ السلام) گندمی رنگ کے ہیں بال گھونگھریالے جیسے اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس نالے وادی ازرق نامی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں ان کے سرخ اونٹ کی نکیل کی رسی کھجور کی چھال کی ہے۔

Narrated Mujahid (RA) : We were with Ibn Abbas (RA) and the people mentioned Ad-Dajjal. Someone said, "The word Kafir (unbeliever) is written in between his (Ad-Dajjals) eyes." Ibn Abbas (RA) said, "I have not heard the Prophet ﷺ saying this, but he said, As regards Abraham, he looks like your companion (i.e. the Prophet, Muhammad), and as regards Moses (علیہ السلام), he is a brown curly haired man riding a camel and reigned with a strong jute rope, as if lam now looking at him getting down in the valley and saying, "Labbaik"."

5914Sahih Bukhari

بالوں کو گوند سے جمانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عمر ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے (وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر ؓ کہتے تھے میں نے تو نبی کریم ﷺ کو بال جماتے دیکھا۔

Narrated Abdullah bin Umar : I heard Umar saying, "Whoever braids his hair should shave it (on finishing lhram). Youd better not do, something like Talbid." Ibn Umar (RA) used to say: "I saw Allahs Apostle ﷺ with his hair stuck together with gum."

5915Sahih Bukhari

بالوں کو گوند سے جمانے کا بیان

حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَلَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ.

مجھ سے حبان بن موسیٰ اور احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے اپنے بال جما لیے تھے اور احرام کے وقت یوں آپ لبیک کہہ رہے تھے لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لک لبيك، إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك ان کلمات کے اوپر اور کچھ آپ نہیں بڑھاتے تھے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : I heard Allahs Apostle, while he was in the state of lhram and his hair was stuck together with gum, saying, "Labbaik, Allahumma Labbaik, Labbaik La Shanka laka Labbaik. Inn-al-Hamda Wan-Nimata Laka wal-Mulk, La Shanka Lak." He did not add anything to those words. (See Hadith No. 621, Vol. 2)

5916Sahih Bukhari

بالوں کو گوند سے جمانے کا بیان

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ.

مجھ سے اسماعیل بن ابن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حفصہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ عمرہ کر کے احرام کھول چکے ہیں حالانکہ آپ نے احرام نہیں کھولا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیونکہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے۔ اس لیے جب تک میری قربانی کا نحر نہ ہو لے میں احرام نہیں کھول سکتا۔

Narrated Hafsah (RA) : (the wife of the Prophet) I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Why have the people finished their Ihram after performing the Umra while you have not finished your lhram after your Umra?" He said, "I have done Talbid (of my hair) and have decorated my Hadis with garlands, so I shall not finish my lhram till l have slaughtered my Hadi (animal for sacrifice)."

5917Sahih Bukhari

مانگ نکالنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، فَسَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو اگر کسی مسئلہ میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کے عمل کو اپناتے تھے۔ اہل کتاب اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ بھی (اہل کتاب کی موافقت میں) پہلے سر کے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے لیکن بعد میں آپ بیچ میں سے مانگ نکالنے لگے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to copy the people of the Scriptures in matters in which there was no order from Allah. The people of the Scripture used to let their hair hang down while the pagans used to part their hair. So the Prophet ﷺ let his hair hang down first, but later on he parted it.

5918Sahih Bukhari

مانگ نکالنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے ابوالولید اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتیبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا جیسے میں اب بھی نبی کریم ﷺ کی مانگ میں احرام کی حالت میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ عبداللہ بن رجاء نے (اپنی روایت میں) مفرق النبي صلى الله عليه وسلم. (واحد کے صیغہ کے ساتھ) بیان کیا یعنی مانگوں کی جگہ صرف لفظ مانگ استعمال کیا۔

Narrated Aisha (RA) : As if I am now looking at the shine of the hair parting of the Prophet ﷺ while he was in the state of lhram.

5919Sahih Bukhari

گیسوؤں کا بیان

حدیث نمبر: 5919 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ بِهَذَا، وَقَالَ: بِذُؤَابَتِي أَوْ بِرَأْسِي.

ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، پھر یہی حدیث نقل کی اس میں یوں ہے کہ میری چوٹی پکڑ کر یا میرا سر پکڑ کر آپ نے مجھے اپنے داہنے جانب کردیا۔

Narrated Abu Bishr (the above Hadith) but he quoted: Ibn Abbas (RA) said, (took hold of) my two braids on my head."

5920Sahih Bukhari

قزع ( کچھ بال کاٹنے اور کچھ چھوڑنے) کا بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: إِذَا حَلَقَ الصَّبِيَّ وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَهَهُنَا وَهَهُنَا، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: فَالْجَارِيَةُ وَالْغُلَامُ، قَالَ: لَا أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ: الصَّبِيُّ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ: أَمَّا الْقُصَّةُ وَالْقَفَا لِلْغُلَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِمَا، وَلَكِنَّ الْقَزَعَ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ غَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا وَهَذَا.

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن حفص نے خبر دی، انہیں عمرو بن نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ کے غلام نافع نے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے قزع. سے منع فرمایا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ قزع. کیا ہے؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے۔ (تو اسے قزع. کہتے ہیں) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن قزع. یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔

Narrated Ubaidullah bin Hafs (RA) : that Umar bin Nafi told him that Nafi, Maula Abdullah had heard Umar saying, "I heard Allahs Apostle ﷺ forbidding Al-Qaza." Ubaidullah added: I said, "What is Al-Qaza?" Ubaidullah pointed (towards his head) to show us and added, "Nafi said, It is when a boy has his head shaved leaving a tuft of hair here and a tuft of hair there." Ubaidullah pointed towards his forehead and the sides of his head. Ubaidullah was asked, "Does this apply to both girls and boys?" He said, "I dont know, but Nafi said, The boy." Ubaidullah added, "I asked Nafi again, and he said, As for leaving hair on the temples and the back part of the boys head, there is no harm, but Al-Qaza is to leave a tuft of hair on his forehead unshaved while there is no hair on the rest of his head, and also to leave hair on either side of his head."

5921Sahih Bukhari

قزع ( کچھ بال کاٹنے اور کچھ چھوڑنے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مثنیٰ بن عبداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع. سے منع فرمایا تھا۔

Narrated (Abdullah) bin Umar : Allahs Apostle ﷺ forbade Al-Qaza (leaving a tuft of hair here and there after shaving ones head.)

5922Sahih Bukhari

عورت کا شوہر کو اپنے ہاتھ سے خوشبو لگانے کا بیان

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْعَائِشَةَ ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ، وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ.

مجھ سے احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام میں رہنے کے لیے اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی میں نے اسی طرح (دسویں تاریخ کو) منیٰ میں طواف زیارت کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے آپ کو خوشبو لگائی۔

Narrated Aisha (RA) : I applied perfume to the Prophet ﷺ with my own hands when he wanted to assume the state of Ihram, and I also perfumed him at Mina before he departed from there (to perform Tawaf-al-Ifada).

5923Sahih Bukhari

سر اور داڑھی میں خوشبو لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ.

ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔

Narrated Aisha (RA) : I used to perfume Allahs Apostle ﷺ with the best scent available till I saw the shine of the scent on his head and shine beard.

5924Sahih Bukhari

کنگھی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى، فَقَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْأَبْصَارِ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد ؓ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم ﷺ کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم ﷺ اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ارے اذن (اجازت) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر (کسی کے) ستر پر نہ پڑے۔

Narrated Sad (RA) : A man peeped into the house of the Prophet ﷺ through a hole while the Prophet ﷺ was scratching his head with a Midrai (a certain kind of comb). On that the Prophet ﷺ said (to him), "If I had known you had been looking, then I would have pierced your eye with that instrument, because the asking of permission has been ordained so that one would not see things unlawfully."

5925Sahih Bukhari

حائضہ کا اپنے شوہر کے سر میں کنگھی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔

Narrated Aisha (RA) (As above, (808).

5926Sahih Bukhari

بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَوُضُوئِهِ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ used to like to start from the right side as far as possible in combing and in performing ablution.

5927Sahih Bukhari

مشک کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.

مجھ سے عبداللہ بن محمد ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن المسیب نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "(Allah said), Every good deed of Adams son is for him except fasting; it is for Me. and I shall reward (the fasting person) for it. Verily, the smell of the mouth of a fasting person is better to Allah than the smell of musk."

5928Sahih Bukhari

بہترین خوشبو لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔

Narrated Aisha (RA) : used to perfume the Prophet ﷺ before his assuming the state of with the best scent available.

5929Sahih Bukhari

خوشبو رد نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عروہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے کہ (جب ان کو) خوشبو (ہدیہ کی جاتی تو) آپ وہ واپس نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے کہ نبی کریم ﷺ بھی خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔

Narrated Thumama bin Abdullah; Anas never used to refuse (a gift of) scent and used to say that the Prophet ﷺ never used to refuse (a gift of) scent.

5930Sahih Bukhari

ذریرہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، سَمِعَ عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ ، يخبران عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ.

ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا یا محمد بن یحییٰ دیلی نے، انہیں عثمان بن ہشیم نے (امام بخاری (رح) کو شک ہے) ان سے ابن جریج نے انہوں نے کہا مجھ کو عمر بن عبداللہ بن عروہ بن شہر نے خبر دی، انہوں نے عروہ اور قاسم دونوں سے سنا، وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ (ایک قسم کی مرکب) خوشبو لگائی تھی۔

Narrated Aisha (RA) : During Hajjat-al-Wada, I perfumed Allahs Apostle ﷺ with Dharira with my own hands, both on his assuming Ihram and on finishing it.