سونے کی انگوٹھیوں کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ، فَرَمَى بِهِ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔
Narrated Abdullah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ wore a gold or silver .. ring and placed its stone towards the palm of his hand. The people also started wearing gold rings like it, but when the Prophet ﷺ saw them wearing such rings, he threw away that golden ring and then wore a silver ring.
چاندی کی انگوٹھی پہننے کا بیان
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ مِثْلَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الْفِضَّةِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ، حَتَّى وَقَعَ مِنْ عُثْمَانَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر محمد رسول الله. کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لی تو آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس انگوٹھی کو ابوبکر ؓ نے پہنا پھر عمر ؓ اور پھر عثمان نے پہنا۔ آخر عثمان ؓ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گرگئی۔
Narrated Ibn. Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ wore a gold ring or a silver ring and placed its stone towards the palm of his hand and had the name Muhammad, the Apostle of Allah ﷺ engraved on it. The people also started wearing gold rings like it, but when the Prophet ﷺ saw them wearing such rings, he threw away his own ring and said. "I will never wear it," and then wore a silver ring, whereupon the people too started wearing silver rings. Ibn Umar (RA) added: After the Prophet ﷺ Abu Bakr (RA) wore the ring, and then Umar and then Uthman wore it till it fell in the Aris well from Uthman. bin Umar : Allahs Apostle ﷺ wore a gold ring, then he threw it and said, "I will never wear it." The people also threw their (gold) rings.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذَهُ، فَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (حرمت سے پہلے) سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے پھر حرمت کا حکم آنے پر آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
that he saw a silver ring on the hand of Allahs Apostle ﷺ for one day only. Then the people had silver rings made for themselves and wore it. On that, Allahs Apostle ﷺ threw away their rings as well. (For the details of this Hadith, see Fateh-Al-Bari, Vol. 12, page 438).
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اصْطَنَعُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، وَزِيَادٌ ، وَشُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ ابْنُ مُسَافِرٍ : ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَرَى خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کردیں اور پہننے لگے تو نبی کریم ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دی۔ اس روایت کی متابعت ابراہیم بن سعد، زیاد اور شعیب نے زہری سے کی ہے اور ابن مسافر نے زہری سے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ خاتما من ورق. بیان کیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
that he saw a silver ring on the hand of Allahs Apostle ﷺ for one day only. Then the people had silver rings made for themselves and wore it. On that, Allahs Apostle ﷺ threw away their rings as well. (For the details of this Hadith, see Fateh-Al-Bari, Vol. 12, page 438).
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، قَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حمید نے خبر دی، کہا انہوں نے کہ انس ؓ سے پوچھا گیا کیا نبی کریم ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔
Narrated Humaid (RA) :
Anas was asked, "Did the Prophet ﷺ wear a ring?" Anas said, "Once he delayed the: Isha prayer till midnight. Then he came, facing us ..... as if l am now Looking at the glitter of his ring ..... and said, "The people have offered their prayers and slept but you have been in prayer as you have been waiting for it."
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، سَمِعَ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معتمر نے خبر دی، کہا کہ میں نے حمید سے سنا، وہ انس ؓ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، انہوں نے انس ؓ سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح بیان کیا۔
Narrated Anas (RA) :
The ring of the Prophet ﷺ was of silver, and its stone was of silver too.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: جِئْتُ أَهَبُ نَفْسِي، فَقَامَتْ طَوِيلًا فَنَظَرَ وَصَوَّبَ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: عِنْدَكَ شَيْءٌ تُصْدِقُهَا ؟قَالَ: لَا، قَالَ: انْظُرْ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ، وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: أُصْدِقُهَا إِزَارِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِزَارُكَ إِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌفَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَلَسَ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ: مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَكَذَا لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا، قَالَ: قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے سہل ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم ﷺ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو ان کا نکاح مجھ سے کردیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ وہ ایک تہمد پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر (کرتے کی جگہ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہمد مہر میں دے دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہمد یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم ﷺ نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ ﷺ نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
Narrated Sahl (RA) :
A woman came to the Prophet ﷺ and said, "I have come to present myself to you (for marriage)." She kept standing for a long period during which period the Prophet ﷺ looked at her carefully. When she stayed for a Long period, a man said to the Prophet ﷺ "If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet ﷺ said, "Have you got anything to give her (as Mahr)?" The man said, "No." The Prophet ﷺ said, "Go (to your house) and search for something." The man went and came back to say, "By Allah, I could not find anything." The Prophet ﷺ said, "Go again and search for something, even if it be an iron ring." He went again and came back saying, "No, by Allah, I could not get even an iron ring." The man had only an Izar and had no Rida (upper garment). He said, "I will give her my Izar as Mahr." On that the Prophet ﷺ said, "Your Izar? If she wears it, nothing of it will remain on you, and if you wear it nothing of it will be on her" The man went aside and sat down When the Prophet ﷺ saw him leaving (after a while), he called back and asked. "How much Quran do you know (by heart)? He said, I know such and such Suras," naming some Suras. The Prophet ﷺ said, "I marry her to you for the amount of Quran you know (by heart)."
انگوٹھی پر نقش کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى رَهْطٍ أَوْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَعَاجِمِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنِّي بِوَبِيصِ أَوْ بِبَصِيصِ الْخَاتَمِ فِي إِصْبَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ فِي كَفِّهِ.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے عجم کے کچھ لوگوں (شاہان عجم) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ جس پر یہ کندہ تھا محمد رسول الله۔ گویا اس وقت نبی کریم ﷺ کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
Allahs Apostle ﷺ wanted to write a letter to a group of people or some non-Arabs. It was said to him, "They do not accept any letter unless it is stamped." So the Prophet ﷺ had a silver ring made for himself, and on it was engraved: Muhammad, the Apostle of Allah ﷺ . .. as if I am now looking at the glitter of the ring on the finger (or in the palm) of the Prophet ﷺ .
انگوٹھی پر نقش کرنے کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ بَعْدُ فِي بِئْرِ أَرِيسَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، انہیں عبیداللہ عمری نے، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عمر ؓ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عثمان ؓ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گرگئی اس کا نقش محمد رسول الله تھا۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ had a silver ring made for himself and it was worn by him on his hand. Afterwards it was worn by Abu Bakr, and then by Umar, and then by Uthman till it fell in the Aris well. (On that ring) was engraved: Muhammad, the Apostle of Allah ﷺ ."
چھنگلیا میں انگوٹھی پہننے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، قَالَ: إِنَّا اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلَا يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌقَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِهِ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( محمد رسول الله ) کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پر کوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک نبی کریم ﷺ کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ got a ring made for himself and said, "I have got a ring made (for myself) and engraved a certain engraving on it so none of you should get such an engraving on his ring." I saw the glitter of the ring on his little finger.
کسی چیز پر مہر لگانے یا اہل کتاب وغیرہ کے پاس خط لکھنے کے لئے انگوٹھی بنوانے کا بیان
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَقْرَءُوا كِتَابَكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِفَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے روم (کے بادشاہ کو) خط لکھانا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے۔ چناچہ آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ محمد رسول الله کندہ کرایا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
When the Prophet ﷺ intended to write to the Byzantines, it was said to him, "Those people do not read your letter unless it is stamped." So the Prophet ﷺ took a silver ring and got Muhammad, the Apostle of Allah ﷺ engraved on it .... as if I am now looking at its glitter in his hand.
اس شخص کا بیان جو انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَاصْطَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ اصْطَنَعْتُهُ وَإِنِّي لَا أَلْبَسُهُفَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ: وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ: فِي يَدِهِ الْيُمْنَى.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنالیں تو نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ (حرمت نازل ہونے کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے داہنے ہاتھ میں بیان کیا۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ had a golden ring made for himself, and when he wore it. he used to turn its stone toward the palm of his! hand. So the people too had gold made for themselves. The Prophet ﷺ then ascended the pulpit, and after glorifying and praising Allah, he said, "I had it made for me, but now I will never wear it again." He threw it away, and then the people threw away their rings too. (Juwairiya, a sub-narrator, said: I think Anas said that the Prophet ﷺ was wearing the ring in his right hand.)
نبی ﷺ کا فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر نقش نہ کنندہ کروائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کھدوایا محمد رسول الله اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر محمد رسول الله نقش کروایا ہے۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کھدوائے۔
Narrated Anas bin Malik (RA) :
Allahs Apostle ﷺ took a silver ring and had Muhammad, the Apostle of Allah engraved on it. The Prophet ﷺ then said (to us), I have a silver ring with Muhammad, the Apostle of Allah ﷺ engraved on it, so none of you should have the same engraving on his ring."
کیا انگوٹھی پر تین سطروں میں نقش کنند کرایا جائے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ، وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ، مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ.
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَزَادَنِي أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ وَفِي يَدِ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسَ، قَالَ: فَأَخْرَجَ الْخَاتَمَ فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِهِ فَسَقَطَ، قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ عُثْمَانَ فَنَزَحَ الْبِئْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ.
مجھ سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس ؓ نے کہ ابوبکر ؓ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھ کو زکوٰۃ کے مسائل لکھوا دیئے اور انگوٹھی (مہر) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں محمد دوسری سطر میں رسول اور تیسری سطر میں اللہ ۔
امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر ؓ کے ہاتھ میں اور ابوبکر ؓ کے بعد عمر ؓ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان ؓ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ (کنویں میں) گرگئی۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ پھر عثمان ؓ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔
Narrated Anas (RA) :
that when Abu Bakr (RA) became the Caliph, he wrote a letter to him (and stamped it with the Prophets ring) and the engraving of the ring was in three lines: Muhammad in one line, Apostle in another line, and Allah in a third line. Anas added: the ring of the Prophet ﷺ was in his hand, and after him, in Abu Bakrs hand, and then in Umars hand after Abu Bakr. When Uthman was the Caliph, once he was sitting at the well of Aris. He removed the ring from his hand and while he was trifling with it, dropped into the well. We kept on going to the well with Uthman for three days looking for the ring, and finally the well was drained, but the ring was not found.
عورتوں کے انگوٹھی پہننے کا بیان اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس سونے کی انگوٹھیاں تھیں
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس ؓ نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم ﷺ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم ﷺ عورتوں کے مجمع کی طرف گئے (اور صدقہ کی ترغیب دلائی) تو عورتیں بلال ؓ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
I offered the Id prayer with the Prophet ﷺ and he offered prayer before the Khutba (sermon). Ibn Abbas (RA) added: After the prayer the Prophet ﷺ came towards (the rows of) the women and ordered them to give alms, and the women started putting their big and small rings in the garment of Bilal (RA) .
عورتوں کے ہار پہننے اور کڑے پہننے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چناچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔
Narrated ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ came out on the day of Id and offered a two-Rakat prayer, and he did not pray any Raka before it, nor after it. Then he went towards the women and ordered them to give alms. The women started donating their earring and necklaces.
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: هَلَكَتْ قِلَادَةٌ لِأَسْمَاءَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهَا رِجَالًا، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ اسماء ؓ کا ہار (جو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے عاریت پر لیا تھا) گم ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہوگیا اور لوگ بلا وضو (وضو کے بغیر) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔
Narrated Aisha (RA) :
A necklace belonging to Asma was lost, and the Prophet ﷺ sent men in its search. The time for the prayer became due and they were without ablution and they could not find water; therefore they prayed without ablution, They mentioned that to the Prophet ﷺ . Then Allah revealed the Verse of Tayammum. ( Aisha (RA) added: that she had borrowed (the necklace) from Asma).
بالیوں کے پہننے کا بیان، ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ وہ عورتیں اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھارہی ہیں
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي قُرْطَهَا.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھائیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد پھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے، آپ کے ساتھ بلال ؓ تھے۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں بلال ؓ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA)
"The Prophet ﷺ offered a two-Rakat prayer on Id day and he did not offer any (Nawafil prayer) before or after it. He then went towards the women, and Bilal (RA) was accompanying him, and ordered them to give alms. And so the women started giving their earrings (etc .)."
بچوں کے لئے سخاب ( ایک قسم کا ہار) پہننے کا بیان
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ لُكَعُ ثَلَاثًا، ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الْحَسَنُ: بِيَدِهِ هَكَذَا فَالْتَزَمَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ نبی کریم ﷺ واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا بچہ کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی ؓ آ رہے تھے اور ان کی گردن میں (خوشبودار لونگ وغیرہ کا) ہار پڑا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا کہ (آپ حسن ؓ کو گلے سے لگانے کے لیے) اور حسن ؓ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ نبی کریم ﷺ سے لپٹ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی ؓ سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
I was with Allahs Apostle ﷺ in one of the Markets of Medina. He left (the market) and so did I. Then he asked thrice, "Where is the small (child)?" Then he said, "Call Al-Hasan bin Ali." So Al-Hasan bin Ali got up and started walking with a necklace (of beads) around his neck. The Prophet ﷺ stretched his hand out like this, and Al-Hasan did the same. The Prophet ﷺ embraced him and said, "O Allah! l love him, so please love him and love those who love him." Since Allahs Apostle ﷺ said that. nothing has been dearer to me than Al-Hasan.
مردوں کا عورتوں کی سی صورت اور عورتوں کا مردوں کی سی صورت اختیار کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، تَابَعَهُ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ cursed those men who are in the similitude (assume the manners) of women and those women who are in the similitude (assume the manners) of men.