باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَال: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ، رَوَاهُ مُوسَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ المُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں، نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے۔ یہ ابراہیم (رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ؓ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ابراہیم ؓ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھرگئے۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم ؓ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف ؓ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بےصبری کرنے لگے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ‘ ابن عوف! یہ بےصبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ ﷺ دوبارہ روئے اور فرمایا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔ اسی حدیث کو موسیٰ بن اسماعیل نے سلیمان بن مغیرہ سے ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
We went with Allahs Apostle ﷺ to the blacksmith Abu Saif, and he was the husband of the wet-nurse of Ibrahim (the son of the Prophet). Allahs Apostle ﷺ took Ibrahim and kissed him and smelled him and later we entered Abu Saifs house and at that time Ibrahim was in his last breaths, and the eyes of Allahs Apostle ﷺ started shedding tears. Abdur Rahman bin Auf said, "O Allahs Apostle, even you are weeping!" He said, "O Ibn Auf, this is mercy." Then he wept more and said, "The eyes are shedding tears and the heart is grieved, and we will not say except what pleases our Lord, O Ibrahim ! Indeed we are grieved by your separation."
________
باب: مریض کے پاس رونا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَى ؟، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ، وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ فِيهِ بِالْعَصَا وَيَرْمِي بِالْحِجَارَةِ وَيَحْثِي بِالتُّرَابِ.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھے خبر دی عمرو بن حارث نے ‘ انہیں سعید بن حارث انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ ؓ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم ﷺ عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ ﷺ اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا وفات ہوگئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم ﷺ (ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر) رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ ﷺ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ ﷺ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر ؓ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔
Narrated Abdullah bin Umar :
Sad bin Ubadahh became sick and the Prophet ﷺ along with Abdur Rahman bin Auf, Sad bin Abi Waqqas and Abdullah bin Masud visited him to enquire about his health. When he came to him, he found him surrounded by his household and he asked, "Has he died?" They said, "No, O Allahs Apostle." The Prophet ﷺ wept and when the people saw the weeping of Allahs Apostle ﷺ they all wept. He said, "Will you listen? Allah does not punish for shedding tears, nor for the grief of the heart but he punishes or bestows His Mercy because of this." He pointed to his tongue and added, "The deceased is punished for the wailing of his relatives over him."
باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى، فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنِي أَوْ غَلَبْنَنَا الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ، فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبوالوہاب ثقفی نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن انصاری نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ ﷺ کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آگئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آگئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ (عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کرسکا جس کا نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا اور نہ آپ ﷺ کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔
Narrated Aisha (RA):
When the news of the martyrdom of Zaid bin Haritha, Jafar and Abdullah bin Rawaha came, the Prophet ﷺ sat down looking sad, and I was looking through the chink of the door. A man came and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The women of Jafar," and then he mentioned their crying . The Prophet ﷺ ordered h im to stop them from crying. The man went and came back and said, "I tried to stop them but they disobeyed." The Prophet ﷺ ordered him for the second time to forbid them. He went again and came back and said, "They did not listen to me, (or "us": the sub-narrator Muhammad bin Haushab is in doubt as to which is right). " ( Aisha (RA) added: The Prophet ﷺ said, "Put dust in their mouths." I said (to that man), "May Allah stick your nose in the dust (i.e. humiliate you)." By Allah, you could not (stop the women from crying) to fulfill the order, besides you did not relieve Allahs Apostle ﷺ from fatigue."
________
باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسِ نِسْوَةٍ أُمِّ سُلَيْمٍ وَأُمِّ الْعَلَاءِ وَابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَتَيْنِ أَوْ ابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَةٍ أُخْرَى.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم (میت پر) نوحہ نہیں کریں گی۔ لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا۔ یہ عورتیں ام سلیم ‘ ام علاء ‘ ابوسبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا (یہ کہا کہ) ابوسبرہ کی صاحبزادی، معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون (ؓن) ۔
Narrated Um Atiyya (RA):
At the time of giving the pledge of allegiance to the Prophet ﷺ one of the conditions was that we would not wail, but it was not fulfilled except by five women and they are Um Sulaim, Um Al-Ala, the daughter of Abi Sabra (the wife of Muadh), and two other women; or the daughter of Abi Sabra and the wife of Muadh and another woman.
________
باب: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَادَ الْحُمَيْدِيُّ حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم نے ‘ ان سے ان کے باپ عبداللہ بن عمر ؓ نے ‘ ان سے عامر بن ربیعہ ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے۔ سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر ؓ سے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں عامر بن ربیعہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالہ سے خبر دی تھی۔ حمیدی نے یہ زیادتی کی ہے۔ یہاں تک کہ جنازہ آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے۔
Narrated Amir bin Rabia (RA):,
The Prophet ﷺ said, "Whenever you see a funeral procession, stand up till the procession goes ahead of you." Al-Humaidi added, "Till the coffin leaves you behind or is put down."
باب: اگر کوئی جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو جائے تو اسے کب بیٹھنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ جِنَازَةً فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى يُخَلِّفَهَا أَوْ تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے عامر بن ربیعہ ؓ کے حوالہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہیں چل رہا ہے تو کھڑا ہی ہوجائے تاآنکہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے کی بجائے خود جنازہ رکھ دیا جائے۔
Narrated Amir bin Rabia:
The Prophet ﷺ said, "If any one of you see a funeral procession and he is not going along with it, then he should stand and remain standing till he gets behind it, or it leaves him behind, or the coffin is put down before it goes ahead of him . "
باب: جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِ مَرْوَانَ، فَجَلَسَا قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ مَرْوَانَ، فَقَالَ: قُمْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ان کے والد نے کہ ہم ایک جنازہ میں شریک تھے کہ ابوہریرہ ؓ نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور یہ دونوں صاحب جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھ گئے۔ اتنے میں ابوسعید ؓ تشریف لائے اور مروان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اٹھو! اللہ کی قسم! یہ (ابوہریرہ ؓ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بولے کہ ابوسعید ؓ نے سچ کہا ہے۔
Narrated Said Al-Maqburi (RA):
That his father said, "While we were accompanying a funeral procession, Abu Hurairah (RA) got hold of the hand of Marwan and they sat down before the coffin was put down. Then Abu Said came and took hold of Marwans hand and said, "Get up. By Allah, no doubt this (i.e. Abu Hurairah (RA) ) knows that the Prophet ﷺ forbade us to do that." Abu Hurairah (RA) said, "He (Abu Said) has spoken the truth."
________
باب: جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA)
The Prophet ﷺ said, "When you see a funeral procession, you should stand up, and whoever accompanies it should not sit till the coffin is put down."
باب: اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا بِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجایا کرو۔
Narrated Jabir bin Abdullah :
A funeral procession passed in front of us and the Prophet ﷺ stood up and we too stood up. We said, O Allahs Apostle ﷺ ! This is the funeral procession of a Jew." He said, "Whenever you see a funeral procession, you should stand up."
باب: اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: أَلَيْسَتْ نَفْسًا.
وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ قَيْسٍ وسَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَا: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ : عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى : كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ وقَيْسٌ يَقُومَانِ لِلْجَنَازَةِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد ؓ قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہوگئے۔ عرض کیا گیا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جو کافر ہیں) اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا۔ آپ ﷺ اس کے لیے کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہودی کی جان نہیں ہے؟
اور ابوحمزہ نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ میں قیس اور سہل ؓ کے ساتھ تھا۔ ان دونوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اور زکریا نے کہا ان سے شعبی نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ابومسعود اور قیس ؓ جنازہ کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے۔
Narrated Abdur Rahman bin Abi Laila (RA):
Sahl bin Hunaif and Qais bin Sad were sitting in the city of Al-Qadisiya. A funeral procession passed in front of them and they stood up. They were told that funeral procession was of one of the inhabitants of the land i.e. of a non-believer, under the protection of Muslims. They said, "A funeral procession passed in front of the Prophet ﷺ and he stood up. When he was told that it was the coffin of a Jew, he said, "Is it not a living being (soul)?"
________
باب: اس بارے میں کہ عورتیں نہیں بلکہ مرد ہی جنازے کو اٹھائیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ.
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ کیسان نے کہ انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں تو کہتا ہے ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر انسان کہیں سن پائے تو بیہوش ہوجائے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri :
Allahs Apostle ﷺ said, When the funeral is ready and the men carry it on their shoulders, if the deceased was righteous it will say, Present me (hurriedly), and if he was not righteous, it will say, Woe to it (me)! Where are they taking it (me)? Its voice is heard by everything except man and if he heard it he would fall unconscious."
________
باب: جنازے کو جلد لے چلنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے زہری سے سن کر یہ حدیث یاد کی ‘ انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "Hurry up with the dead body for if it was righteous, you are forwarding it to welfare; and if it was otherwise, then you are putting off an evil thing down your necks."
باب: نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو (جلد دفناؤ)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد (کیسان) نے اور انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے سنا ‘ آپ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہوجائے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri
The Prophet ﷺ said, "When a funeral is ready and the men carry the deceased on their necks (shoulders), if it was pious then it will say, Present me quickly, and if it was not pious, then it will say, Woe to it (me), where are they taking it (me)? And its voice is heard by everything except mankind and if he heard it he would fall unconscious."
________
باب: امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
Allahs Apostle ﷺ offered the funeral prayer for An-Najashi and I was in the second or third row.
باب: جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ النَّجَاشِيَّ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی ‘ پھر آپ ﷺ آگے بڑھ گئے اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں ‘ پھر آپ ﷺ نے چار مرتبہ تکبیر کہی۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ informed his companions about the death of AnNajashi and then he went ahead (to lead the prayer) and the people lined up behind him in rows and he said four Takbir.
باب: جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام ؓ نے صف بندی کی اور آپ ﷺ نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس ؓ نے۔
Narrated Ash-Shaibani (RA):
Ash Shabi said, "I was informed by a man who had seen the Prophet ﷺ going to a grave that was separate from the other graves and he aligned the people in rows and said four Takbir." I said, "O Abu Amr! who narrated (that) to you"? He said, " Ibn Abbas (RA) . "
باب: جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ صُفُوفٌ، قَالَ: أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج حبش کے ایک مرد صالح (نجاشی حبش کے بادشاہ) کا انتقال ہوگیا ہے۔ آؤ ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ جابر ؓ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کرلی اور نبی کریم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ ابوالزبیر نے جابر ؓ کے حوالہ سے نقل کیا کہ میں دوسری صف میں تھا۔
Narrated Jabir bin Abdullah :
The Prophet ﷺ said, "Today a pious man from Ethiopia (i.e. An Najashi) has expired, come on to offer the funeral prayer." (Jabir said): We lined up in rows and after that the Prophet ﷺ led the prayer and we were in rows. Jabir added, I was in the second row."
باب: جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا، فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا ؟، قَالُوا: الْبَارِحَةَ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي ؟، قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ دفن کب کیا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ گذشتہ رات۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کرائی؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اندھیری رات میں دفن کیا گیا ‘ اس لیے ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ میں بھی انہیں میں تھا (نابالغ تھا لیکن) نماز جنازہ میں شرکت کی۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
Allahs Apostle ﷺ passed by a grave of a deceased who had been buried at night. He said, "When was this (deceased) buried?" The people said, "Yesterday." He said, "Why did you not inform me?" They said, "We buried him when it was dark and so we disliked to wake you up." He stood up and we lined up behind him. ( Ibn Abbas (RA) said): I was one of them, and the Prophet ﷺ offered the funeral prayer.
________
باب: جنازے پر نماز کا مشروع ہونا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ: فَأَمَّنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ ؟، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے شیبانی نے اور ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا۔ وہ کہتا تھا کہ آپ ﷺ نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو (یہ شعبی کی کنیت ہے) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس ؓ۔
Narrated Ash-Shaibani (RA):
Ash-Shabi said, "Somebody who passed along with your Prophet ﷺ by a grave that was separate from the other graves informed me (saying), "The Prophet ﷺ
led us (in the prayer) and we aligned behind him." We said, "O Abu Amr! Who told you this narration?" He replied, " Ibn Abbas (RA) ."
________
باب: جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَقُولُ: حُدِّثَ ابْنُ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا.
فَصَدَّقَتْ يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ فَرَّطْتُ ضَيَّعْتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے نافع سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں۔
پھر ابوہریرہ ؓ کی عائشہ ؓ نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد خود سنا ہے۔ اس پر ابن عمر ؓ نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ (سورۃ الزمر میں جو لفظ) فرطت آیا ہے اس کے یہی معنی ہیں میں نے ضائع کیا۔
Narrated Nafi (RA):
Ibn Umar (RA) was told that Abu Hurairah (RA) said, "Whoever accompanies the funeral procession will have a reward equal to one Qirat." Ibn Umar (RA) said, " Abu Hurairah (RA) talks of a too enormous reward." Aisha (RA) attested Abu Hurairah (RA) s narration and said, "I heard Allahs Apostle ﷺ saying like that." Ibn Umar (RA) said, "We have lost numerous Qirats."
________