جنازوں کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 18 · 150 hadiths · Page 5 of 8

1325Sahih Bukhari

باب: جو شخص دفن ہونے تک ٹھہرا رہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی ذئب کے سامنے یہ حدیث پڑھی ‘ ان سے ابوسعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے ‘ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا تھا۔ (دوسری سند) ہم سے احمد بن شبیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا کہ (مجھ سے فلاں نے یہ بھی حدیث بیان کی) اور مجھ سے عبدالرحمٰن اعرج نے بھی کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔

Narrated Abu Hurairah (RA): that Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever attends the funeral procession till he offers the funeral prayer for it, will get a reward equal to one Qirat, and whoever accompanies it till burial, will get a reward equal to two Qirats." It was asked, "What are two Qirats?" He replied, "Like two huge mountains." ________

1326Sahih Bukhari

باب: بڑوں کے ساتھ بچوں کا بھی نماز جنازہ میں شریک ہونا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا، فَقَالُوا: هَذَا دُفِنَ أَوْ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَفَّنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے عامر نے ‘ ان سے ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ (صاحب قبر مرد تھا یا عورت تھی) ابن عباس ؓ نے کہا کہ پھر ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بندی کی اور آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

Narrated Amir (RA): Ibn Abbas (RA) (who was at that time a boy) said, "Allahs Apostle ﷺ came to a grave and the people said, He or she was buried yesterday. " Ibn Abbas (RA) added, "We aligned behind the Prophet ﷺ and he led the funeral prayer of the deceased."

1327Sahih Bukhari(1328)

باب: نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں (ہر دو جگہ جائز ہے)۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ يَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی ‘ اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔ اور ابن شہاب سے یوں بھی روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے عیدگاہ میں صف بندی کرائی پھر (نماز جنازہ کی) چار تکبیریں کہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ informed about the news of the death of An-Najash (King of Ethiopia) on the day he expired. He said, "Ask Allahs forgiveness for your brother. " Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ made them align in rows at the Musalla and said four Takbir. ________

1329Sahih Bukhari

باب: نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں (ہر دو جگہ جائز ہے)۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ، وَامْرَأَةٍ زَنَيَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ.

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ یہود نبی کریم ﷺ کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم ﷺ کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کردیا گیا۔

Narrated Abdullah bin Umar : The Jew brought to the Prophet ﷺ a man and a woman from amongst them who have committed (adultery) illegal sexual intercourse. He ordered both of them to be stoned (to death), near the place of offering the funeral prayers beside the mosque."

1330Sahih Bukhari

باب: قبروں پر مسجد بنانا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ هِلَالٍ هُوَ الْوَزَّانُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا، قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے شیبان نے ‘ ان سے ہلال وزان نے ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض وفات میں فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ عائشہ ؓ نے کہا کہ اگر ایسا ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر کھلی رہتی (اور حجرہ میں نہ ہوتی) کیونکہ مجھے ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر بھی مسجد نہ بنا لی جائے۔

Narrated Urwa (RA): Aisha said, "The Prophet ﷺ in his fatal illness said, Allah cursed the Jews and the Christians because they took the graves of their Prophets as places for praying." Aisha (RA) added, "Had it not been for that the grave of the Prophet ﷺ would have been made prominent but I am afraid it might be taken (as a) place for praying. ________

1331Sahih Bukhari

باب: اگر کسی عورت کا نفاس کی حالت میں انتقال ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے یزید ین زریع نے ‘ ان سے حسین معلم نے ‘ ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ‘ ان سے سمرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں ایک عورت (ام کعب) کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا نفاس میں انتقال ہوگیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔

Narrated Samura bin Jundab (RA): I offered the funeral prayer behind the Prophet ﷺ for a woman who had died during child-birth and he stood up by the middle of the coffin.

1332Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ عورت اور مرد کی نماز جنازہ میں کہاں کھڑا ہوا جائے؟

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا.

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہ ہم سے سمرہ بن جندب ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا زچگی کی حالت میں انتقال ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔

Narrated Samura bin Jundab I offered the funeral prayer behind the Prophet ﷺ for a woman who had died during child-birth and he stood up by the middle of the coffin.

1333Sahih Bukhari

باب: نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ نجاشی کا جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ ﷺ نے ان کی وفات کی خبر دی اور آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ عیدگاہ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے صف بندی کرائی اور چار تکبیریں کہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ informed about the news of the death of An-Najash on the day he died. He went out with us to the Musalla and we aligned in rows and he said four Takbirs for An-Najashis funeral prayer.

1334Sahih Bukhari

باب: نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : عَنْ سَلِيمٍ أَصْحَمَةَ، وَتَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ .

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبیریں کہیں۔ یزید بن ہارون واسطی اور عبدالصمد نے سلیم سے اصحمہ نام نقل کیا ہے اور عبدالصمد نے اس کی متابعت کی ہے۔

Narrated Jabir (RA): The Prophet ﷺ offered the funeral prayer of As-Hama An-Najash and said four Takbir.

1335Sahih Bukhari

باب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا (ضروری ہے)۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے اور ان سے طلحہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ کی اقتداء میں نماز (جنازہ) پڑھی (دوسری سند) ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں طلحہ بن عبداللہ بن عوف نے ‘ انہوں نے بتلایا کہ میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے سورة فاتحہ (ذرا پکار کر) پڑھی۔ پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہی طریقہ نبوی ہے۔

Narrated Talha bin Abdullah bin Auf (RA): I offered the funeral prayer behind Ibn Abbas (RA) and he recited Al-Fatiha and said, "You should know that it (i.e. recitation of Al-Fatiha) is the tradition of the Prophet ﷺ Muhammad.

1336Sahih Bukhari

باب: مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ، قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو ؟ قَالَ:ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ ﷺ امام بنے اور صحابہ نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس ؓ نے۔

Narrated Sulaiman Ash-Shaibani (RA): I heard Ash-Shabi saying, "I was told by a man who had passed with the Prophet ﷺ by a grave that was separate from the other graves that he (the Prophet) led them in the prayer and they prayed behind him." I said, "O Abu Amr! Who narrated that to you?" He replied, " Ibn Abbas (RA) ." ________

1337Sahih Bukhari

باب: مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا، أَوِ امْرَأَةً، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْإِنْسَانُ ؟، قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا، وَكَذَا قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.

ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہوگئی لیکن نبی کریم ﷺ کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ ﷺ نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( ﷺ ) ! ان کا تو انتقال ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتادو۔ چناچہ آپ ﷺ اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA): A black person, a male or a female used to clean the Mosque and then died. The Prophet ﷺ did not know about it . One day the Prophet ﷺ remembered him and said, "What happened to that person?" The people replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! He died." He said, "Why did you not inform me?" They said, "His story was so and so (i.e. regarded him as insignificant)." He said, "Show me his grave." He then went to his grave and offered the funeral prayer. ________

1338Sahih Bukhari

باب: اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ، وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا، وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ.

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن زریع نے ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص (محمد ﷺ ) کے متعلق تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ جہنم کا اپنا ایک ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے ایک مکان اس کے بدلے میں بنادیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس بندہ مومن کو جنت اور جہنم دونوں دکھائی جاتی ہیں اور رہا کافر یا منافق تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ‘ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا وہی میں بھی کہتا رہا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ نہ تو نے کچھ سمجھا اور نہ (اچھے لوگوں کی) پیروی کی۔ اس کے بعد اسے ایک لوہے کے ہتھوڑے سے بڑے زور سے مارا جاتا ہے اور وہ اتنے بھیانک طریقہ سے چیختا ہے کہ انسان اور جن کے سوا اردگرد کی تمام مخلوق سنتی ہے۔

Narrated Anas: The Prophet ﷺ said, "When a human being is laid in his grave and his companions return and he even hears their footsteps, two angels come to him and make him sit and ask him: What did you use to say about this man, Muhammad ? He will say: I testify that he is Allahs slave and His Apostle. Then it will be said to him, Look at your place in the Hell-Fire. Allah has given you a place in Paradise instead of it. “The Prophet ﷺ added, "The dead person will see both his places. But a non-believer or a hypocrite will say to the angels, I do not know, but I used to say what the people used to say! It will be said to him, Neither did you know nor did you take the guidance (by reciting the Quran). Then he will be hit with an iron hammer between his two ears, and he will cry and that cry will be heard by whatever approaches him except human beings and jinns".

1339Sahih Bukhari

باب: جو شخص ارض مقدس یا ایسی ہی کسی برکت والی جگہ دفن ہونے کا آرزو مند ہو۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ،فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ، فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَاذَا ؟، قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَوْ كُنْتُ، ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ.

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ملک الموت (آدمی کی شکل میں) موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (نہ پہچان کر) انہیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے حضور میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پہلے کی طرح کردی اور فرمایا کہ دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ آپ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھئے اور پیٹھ کے جتنے بال آپ کے ہاتھ تلے آجائیں ان کے ہر بال کے بدلے ایک سال کی زندگی دی جاتی ہے۔ (موسیٰ (علیہ السلام) تک جب اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچا تو) آپ نے کہا کہ اے اللہ! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر بھی موت آنی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) بولے تو ابھی کیوں نہ آجائے۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک پتھر کی مار پر ارض مقدس سے قریب کردیا جائے۔ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The angel of death was sent to Moses (علیہ السلام) and when he went to him, Moses (علیہ السلام) slapped him severely, spoiling one of his eyes. The angel went back to his Lord, and said, "You sent me to a slave who does not want to die." Allah restored his eye and said, "Go back and tell him (i.e. Moses (علیہ السلام)) to place his hand over the back of an ox, for he will be allowed to live for a number of years equal to the number of hairs coming under his hand." (So the angel came to him and told him the same). Then Moses (علیہ السلام) asked, "O my Lord! What will be then?" He said, "Death will be then." He said, "(Let it be) now." He asked Allah that He bring him near the Sacred Land at a distance of a stones throw. Allahs Apostle ﷺ said, "Were I there I would show you the grave of Moses (علیہ السلام) by the way near the red sand hill."

1340Sahih Bukhari

باب: رات میں دفن کرنا کیسا ہے؟ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ، قَامَ هُوَ، وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟، فَقَالُوا: فُلَانٌ، دُفِنَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جن کا انتقال رات کے وقت ہوا (اور اسے رات ہی میں دفن کردیا گیا تھا) آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کے متعلق پوچھا تھا کہ یہ کن کی قبر ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے جسے کل رات ہی دفن کیا گیا ہے۔ پھر سب نے (دوسرے روز) نماز جنازہ پڑھی۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ offered the funeral prayer of a man one night after he was buried, he and his companions stood up (for the Prayer). He had asked them about him before standing, saying, "Who is this?" They said, "He is so and so and was buried last night." So all of them offered the funeral prayer.

1341Sahih Bukhari

باب: قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا: مَارِيَةُ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: أُولَئِكِ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَةَ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ جب نبی کریم ﷺ بیمار پڑے تو آپ ﷺ کی بعض بیویوں (ام سلمہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ) نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا۔ ام سلمہ اور ام حبیبہ ؓ دونوں حبش کے ملک میں گئی تھیں۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا بھی ذکر کیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی صالح شخص مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کردیتے۔ پھر اس کی مورت اس میں رکھتے۔ اللہ کے نزدیک یہ لوگ ساری مخلوق میں برے ہیں۔

Narrated Aisha (RA): When the Prophet ﷺ became ill, some of his wives talked about a church which they had seen in Ethiopia and it was called Mariya. Um Salma and Um Habiba had been to Ethiopia, and both of them narrated its (the Churchs) beauty and the pictures it contained. The Prophet ﷺ raised his head and said, "Those are the people who, whenever a pious man dies amongst them, make a place of worship at his grave and then they make those pictures in it. Those are the worst creatures in the Sight of Allah." ________

1342Sahih Bukhari

باب: عورت کی قبر میں کون اترے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ ؟، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا، قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا، فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا فَقَبَرَهَا، قَالَ ابْنُ مُبَارَكٍ: قَالَ فُلَيْحٌ: أُرَاهُ يَعْنِي: الذَّنْبَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لِيَقْتَرِفُوا أَيْ لِيَكْتَسِبُوا.

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ نبی کریم ﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ایسا آدمی بھی کوئی یہاں ہے جو آج رات کو عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ ؓ بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم قبر میں اتر جاؤ۔ انس ؓ نے کہا کہ وہ اتر گئے اور میت کو دفن کیا۔ عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا کہ فلیح نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ لم يقارف کا معنی یہ ہے کہ جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ سورة الانعام میں جو ليقترفوا آیا ہے اس کا معنی یہی ہے تاکہ گناہ کریں۔

Narrated Anas (RA): We were in the funeral procession of the daughter of Allahs Apostle ﷺ and Allahs Apostle ﷺ was sitting near the grave and I saw his eyes full of tears. He said, "Is there anyone amongst you who did not have sexual relations with his wife last night?" Abu Talha replied in the affirmative. And so Allahs Apostle ﷺ told him to get down in her grave and he got down in her grave and buried her. ________

1343Sahih Bukhari

باب: شہید کی نماز جنازہ پڑھیں یا نہیں؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے ‘ ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے دو دو شہیدوں کو ملا کر ایک ہی کپڑے کا کفن دیا۔ آپ ﷺ دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے۔ کسی ایک کی طرف اشارہ سے بتایا جاتا تو آپ ﷺ بغلی قبر میں اسی کو آگے کرتے اور فرماتے کہ میں قیامت میں ان کے حق میں شہادت دوں گا۔ پھر آپ ﷺ نے سب کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ نہ انہیں غسل دیا گیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): The Prophet ﷺ collected every two martyrs of Uhud in one piece of cloth, then he would ask, "Which of them had (knew) more of the Quran?" When one of them was pointed out for him, he would put that one first in the grave and say, "I will be a witness on these on the Day of Resurrection." He ordered them to be buried with their blood on their bodies and they were neither washed nor was a funeral prayer offered for them. ________

1344Sahih Bukhari

باب: شہید کی نماز جنازہ پڑھیں یا نہیں؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالخیر یزید بن عبداللہ نے ‘ ان سے عقبہ بن عامر نے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (یہ فرمایا کہ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے (نتیجہ یہ کہ آخرت سے غافل ہوجاؤ گے) ۔

Narrated Uqba bin Amir (RA): One day the Prophet ﷺ went out and offered the funeral prayers of the martyrs of Uhud and then went up the pulpit and said, "I will pave the way for you as your predecessor and will be a witness on you. By Allah! I see my Fount (Kauthar) just now and I have been given the keys of all the treasures of the earth (or the keys of the earth). By Allah! I am not afraid that you will worship others along with Allah after my death, but I am afraid that you will fight with one another for the worldly things." ________

1345Sahih Bukhari

باب: دو یا تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ.

ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے دو دو شہیدوں کو دفن کرنے میں ایک ساتھ جمع فرمایا تھا۔

Narrated Jabir bin Abdullah : The Prophet ﷺ buried every two martyrs in of Uhud in one grave.