تفاسیر کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 48 · 560 hadiths · Page 24 of 25

4947Sahih Bukhari

باب: آیت «وأما من بخل واستغنى» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ: لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10.

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کا جہنم کا ٹھکانا اور جنت کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم اسی پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں؟ فرمایا نہیں عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کو آسانی دی گئی ہے اور اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا اس کے لیے راحت کی چیز آسان کردیں گے۔ تا فسنيسره للعسرى۔

Narrated Ali (RA) : We were in the company of the Prophet ﷺ and he said, "There is none among you but has his place written for him, either in Paradise or in the Hell-Fire." We said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall we depend (on this fact and give up work)?" He replied, "No! Carry on doing good deeds, for everybody will find easy (to do) such deeds as will lead him to his destined place." Then the Prophet ﷺ recited: As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah, and believes in the Best reward. We will make smooth for him the path of ease....the path for evil. (92.5-10)

4948Sahih Bukhari

باب: آیت «وكذب بالحسنى» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ وَمَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، قَالَ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى 5 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى 6 سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے بیان کیا، اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ ہم بقیع الغرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لائے۔ آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے چاروں طرف بیٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ آپ نے سر جھکا لیا پھر چھڑی سے زمین کو کریدنے لگے۔ پھر فرمایا کہ تم میں کوئی شخص ایسا نہیں، کوئی پیدا ہونے والی جان ایسی نہیں جس کا جنت اور جہنم کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ یہ لکھا جا چکا ہے کہ کون نیک ہے اور کون برا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیا حرج ہے اگر ہم اپنی اسی تقدیر پر بھروسہ کرلیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں جو ہم میں نیک ہوگا، وہ نیکیوں کے ساتھ جا ملے گا اور جو برا ہوگا اس سے بروں کے سے اعمال ہوجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ نیک ہوتے ہیں انہیں نیکوں ہی کے عمل کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور جو برے ہوتے ہیں انہیں بروں ہی جیسے عمل کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا سو ہم اس کے لیے نیک کاموں کو آسان کردیں گے۔

Narrated Ali (RA) : While we were in a funeral procession in Baqi Al-Gharqad, Allahs Apostle ﷺ came and sat down, and we sat around him. He had a small stick in his hand and he bent his head and started scraping the ground with it. He then said, "There is none among you, and no created soul but has his place written for him either in Paradise or in the Hell-Fire, and also has his happy or miserable fate (in the Hereafter) written for him." A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall we depend upon what is written for us and give up doing (good) deeds? For whoever among us is destined to be fortunate (in the Hereafter), will join the fortunate peoples and whoever among us is destined to be miserable will do such deeds as are characteristic of the people who are destined to misery." The Prophet ﷺ said, "Those who are destined to be happy (in the Hereafter) will find it easy and pleasant to do the deeds characteristic of those destined to happiness, while those who are to be among the miserable (in the Hereafter), will find it easy to do the deeds characteristic of those destined to misery." Then he recited: As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah and believes in the Best reward from Allah, We will make smooth for him the path of ease. But he who is a greedy miser and thinks himself self sufficient, and gives the lie to the Best reward from Allah we will make smooth for him the path for evil. (92.5-10)

4949Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”سو ہم اس کے لیے سخت برائی کے کاموں کو عمل میں لانا آسان کر دیں گے“۔

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ الْأَرْضَ، فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ ؟ قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ، فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى 5 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى 6 سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی بیان کرتے تھے کہ علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے میں تشریف رکھتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک چیز لی اور اس سے زمین کریدنے لگے اور فرمایا، تم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کا جہنم کا ٹھکانا یا جنت کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! تو پھر ہم کیوں اپنی تقدیر پر بھروسہ نہ کرلیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نیک عمل کرو، ہر شخص کو ان اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے جو شخص نیک ہوگا اسے نیکوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے اور جو بدبخت ہوتا ہے اسے بدبختوں کے عمل کی توفیق ملتی ہے پھر آپ ﷺ نے آیت فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى آخر تک پڑھی یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا، سو ہم اس کے لیے نیک عملوں کو آسان کردیں گے۔

Narrated Ali (RA) : While the Prophet ﷺ was in a funeral procession. he picked up something and started scraping the ground with it, and said, "There is none among you but has his place written for him either in the Hell Fire or in Paradise." They said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Shall we not depend upon what has been written for us and give up deeds? He said, "Carry on doing (good) deeds, for everybody will find easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created. So he who is destined to be among the happy (in the Hereafter), will find it easy to do the deeds characteristic of such people, while he who is destined to be among the miserable ones, will find it easy to do the deeds characteristic of such people." Then he recited: As for him who gives (in charity) and fears Allah, and believes in the best.... (92.5-10)

4950Sahih Bukhari

تفسیر سورت والضحی مجاہد نے کہا، اذاسجی، جب برابر ہوجائے اور دوسروں نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رات تاریک اور پرسکون ہوجائے، عائل، بچوں والا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالضُّحَى 1 وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى 2 مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى 3 سورة الضحى آية 1-3، قَوْلُهُ: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3:

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا کہ میں نے جندب بن سفیان ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بیمار پڑگئے اور دو یا تین راتوں کو (تہجد کے لیے) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت (ابولہب کی عورت عوراء) آئی اور کہنے لگی۔ اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعک ربک وما قلى آخر تک یعنی قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔

Narrated Jundub bin Sufyan (RA) : Once Allahs Apostle ﷺ became sick and could not offer his night prayer (Tahajjud) for two or three nights. Then a lady (the wife of Abu Lahab) came and said, " O Muhammad ﷺ ! I think that your Satan has forsaken you, for I have not seen him with you for two or three nights!" On that Allah revealed: By the fore-noon, and by the night when it darkens, your Lord ( O Muhammad ﷺ ) has neither forsaken you, nor hated you. (93.1-3)

4951Sahih Bukhari

94- سورة {أَلَمْ نَشْرَحْ}:

باب: سورة ألم نشرح کی تفسیر

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وِزْرَكَ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَنْقَضَ: أَثْقَلَ مَعَ، الْعُسْرِ يُسْرًا، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَيْ مَعَ ذَلِكَ الْعُسْرِ يُسْرًا آخَرَ كَقَوْلِهِ: هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ: وَلَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ، وَقَال مُجَاهِدٌ: فَانْصَبْ: فِي حَاجَتِكَ إِلَى رَبِّكَ وَيُذْكَرُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سورة الشرح آية 1شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.

مجاہد نے کہا وزرک سے وہ باتیں مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ سے جاہلیت کے زمانہ میں صادر ہوئیں (ترک اولیٰ وغیرہ) ۔ أنقض کے معنی بھاری کیا۔ مع العسر يسرا سفیان بن عیینہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مصیبت کے ساتھ دو نعمتیں ملتی ہیں جیسے آیت هل تربصون بنا إلا إحدى الحسنيين میں مسلمانوں کے لیے دو نیکیاں مراد ہیں اور حدیث میں ہے ایک مصیبت دو نیکیوں پر غالب نہیں آسکتی اور مجاہد نے کہا فانصب یعنی اپنے پروردگار سے دعا مانگنے میں محنت اٹھا۔ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے انہوں نے کہا ألم نشرح لک صدرک سے مراد ہے کہ ہم نے تیرا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔

Narrated Jundub Al-Bajali: A lady said, O Allah's Messenger ! I see that your friend has delayed. (in conveying Qur'an) to you. So there was revealed: 'Your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, not hated you.' (93.1-3)

4952Sahih Bukhari

تفسیر سورت والتین ! مجاہد نے کہا کہ، تین (انجیر) اور، زیتون، سے مراد ہے جسے لوگ کھاتے ہیں، فمایکذبک، کے معنی یہ بیان کئے جاتے ہیں کہ کوئی ہے جو تجھے جھٹلائے گا کہ لوگ اپنے اعمال کا بدلہ دئیے جائیں گے ؟ گویا یہ فرمایا کہ ثواب وعقاب کے متعلق کون شخص اسکی قدرت رکھتا ہے کہ تجھے جھٹلائے۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ سورة التين آية 1 تَقْوِيمٍ سورة التين آية 4: الْخَلْقِ.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے اور عشاء کی ایک رکعت میں آپ نے سورة والتین کی تلاوت فرمائی تھی۔ تقويم کے معنی پیدائش، بناوٹ کے ہیں۔

Narrated Al-Bara (RA) : While the Prophet ﷺ was on a journey, he recited Surat At-Tini waz-Zaituni (95) in one of the first two Rakat of the Isha prayer.

4953Sahih Bukhari(4954)

تفسیر سورت علق! قتیبہ نے بواسطہ حماد یحییٰ بن عتیق حسن کا قول نقل کیا کہ مصحف میں سورت فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو اور دو سورتوں کے درمیان خط کے طور پر (یعنی امتیاز کے لئے) ہو اور ماجد نے کہا کہ نادیہ سے مراد اس کا قبیلہ ہے زبانیہ بمعنے ملائکہ فرشتے ہیں اور کہا کہ رجعی بمعنے لوٹنا ہے لنسفعن کے معنی یہ ہیں کہ ہم ضرورت پکڑیں گے لنسفعن نون خفیفہ کے ساتھ ہے سفعت بیدہ بول کر مراد لیتے ہیں کہ میں نے پکڑا۔

باب حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ سَلْمَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِيابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَلْحَقُ بِغَارِ حِرَاءٍ، فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ، قَالَ: وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ بِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 1 خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 2 اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ 3 الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 4 الْآيَاتِ إِلَى قَوْلِهِ عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ سورة العلق آية 1 - 5، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، قَالَ لِخَدِيجَةَ: أَيْ خَدِيجَةُ، مَا لِي لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي، فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: يَا ابْنَ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا ذَكَرَ حَرْفًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ؟قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا أُوذِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ حَيًّا أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَفَرِقْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَدَثَّرُوهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ 1 قُمْ فَأَنْذِرْ 2 وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ 3 وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ 4 وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ 5 سورة المدثر آية 1-5، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَهِيَ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْبُدُونَ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھ سے سعید بن مروان نے بیان کیا اور ان سے محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے، انہیں ابوصالح سلمویہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو نبوت سے پہلے سچے خواب دکھائے جاتے تھے چناچہ اس دور میں آپ جو خواب بھی دیکھ لیتے وہ صبح کی روشنی کی طرح بیداری میں نمودار ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی بھلی لگنے لگی۔ اس دور میں آپ غار حرا تنہا تشریف لے جاتے اور آپ وہاں تحنث کیا کرتے تھے۔ عروہ نے کہا کہ تحنث سے عبادت مراد ہے۔ آپ وہاں کئی کئی راتیں جاگتے، گھر میں نہ آتے اور اس کے لیے اپنے گھر سے توشہ لے جایا کرتے تھے۔ پھر جب توشہ ختم ہوجاتا پھر خدیجہ ؓ کے یہاں لوٹ کر تشریف لاتے اور اتنا ہی توشہ پھر لے جاتے۔ اسی حال میں آپ غار حرا میں تھے کہ دفعتاً آپ پر وحی نازل ہوئی چناچہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا پڑھئیے! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے بیان کیا کہ مجھے فرشتہ نے پکڑ لیا اور اتنا بھینچا کہ میں بےطاقت ہوگیا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھئیے! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ انہوں نے پھر دوسری مرتبہ مجھے پکڑ کر اس طرح بھینچا کہ میں بےطاقت ہوگیا اور چھوڑنے کے بعد کہا کہ پڑھئیے! میں نے اس مرتبہ بھی یہی کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ انہوں نے تیسری مرتبہ پھر اسی طرح مجھے پکڑ کر بھینچا کہ میں بےطاقت ہوگیا اور کہا کہ پڑھئیے! پڑھئیے! اقرأ باسم ربک الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربک الأكرم * الذي علم بالقلم اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے سب کو پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے، آپ پڑھئیے اور آپ کا رب کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے سے آیت علم الإنسان ما لم يعلم تک۔ پھر نبی کریم ﷺ ان پانچ آیات کو لے کر واپس گھر تشریف لائے اور گھبراہٹ سے آپ کے مونڈھے اور گردن کا گوشت پھڑک (حرکت کر) رہا تھا۔ آپ نے خدیجہ ؓ کے پاس پہنچ کر فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو! مجھے چادر اڑھا دو! چناچہ انہوں نے آپ کو چادر اڑھا دی۔ جب گھبراہٹ آپ سے دور ہوئی تو آپ نے خدیجہ ؓ سے کہا اب کیا ہوگا مجھے تو اپنی جان کا ڈر ہوگیا ہے پھر آپ نے سارا واقعہ انہیں سنایا۔ خدیجہ ؓ نے کہا ایسا ہرگز نہ ہوگا، آپ کو خوشخبری ہو، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ کی قسم! آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ کمزور و ناتواں کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں، جنہیں کہیں سے کچھ نہیں ملتا وہ آپ کے یہاں سے پالیتے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر خدیجہ ؓ نبی کریم ﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں وہ خدیجہ ؓ کے چچا اور آپ کے والد کے بھائی تھے وہ زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عربی لکھ لیتے تھے جس طرح اللہ نے چاہا انہوں نے انجیل بھی عربی میں لکھی تھی۔ وہ بہت بوڑھے تھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ خدیجہ ؓ نے ان سے کہا چچا اپنے بھتیجے کا حال سنئیے۔ ورقہ نے کہا بیٹے! تم نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے سارا حال سنایا جو کچھ آپ نے دیکھا تھا۔ اس پر ورقہ نے کہا یہی وہ ناموس (جبرائیل علیہ السلام) ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتے تھے۔ کاش میں تمہاری نبوت کے زمانہ میں جوان اور طاقتور ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہ جاتا، پھر ورقہ نے کچھ اور کہا کہ جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا واقعی یہ لوگ مجھے مکہ سے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں، جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں اسے جو بھی لے کر آیا تو اس سے عداوت ضرور کی گئی۔ اگر میں آپ کی نبوت کے زمانہ میں زندہ رہ گیا تو میں ضرور بھرپور طریقہ پر آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا انتقال ہوگیا اور کچھ دنوں کے لیے وحی کا آنا بھی بند ہوگیا۔ آپ وحی کے بند ہوجانے کی وجہ سے غمگین رہنے لگے۔ محمد بن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ ؓ نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ وحی کے کچھ دنوں کے لیے رک جانے کا ذکر فرما رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں چل رہا تھا کہ میں نے اچانک آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ میں ان سے بہت ڈرا اور گھر واپس آ کر میں نے کہا کہ مجھے چادر اڑھا دو چناچہ گھر والوں نے مجھے چادر اڑھا دی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربک فکبر * وثيابک فطهر * والرجز فاهجر اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئیے پھر لوگوں کو ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیئے۔ ابوسلمہ ؓ نے کہا کہ الرجز جاہلیت کے بت تھے جن کی وہ پرستش کیا کرتے تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وحی برابر آنے لگی۔

Narrated Aisha (RA) : (the wife of the Prophet) The commencement (of the Divine Inspiration) to Allahs Apostle ﷺ was in the form of true dreams in his sleep, for he never had a dream but it turned out to be true and clear as the bright daylight. Then he began to like seclusions, so he used to go in seclusion in the cave of Hira where he used to worship Allah continuously for many nights before going back to his family to take the necessary provision (of food) for the stay. He come back to (his wife) Khadija (RA) again to take his provision (of food) likewise, till one day he received the Guidance while he was in the cave of Hira. An Angel came to him and asked him to read. Allahs Apostle ﷺ replied, "I do not know how to read." The Prophet ﷺ added, "Then the Angel held me (forcibly) and pressed me so hard that I felt distressed. Then he released me and again asked me to read, and I replied, I do not know how to read. Thereupon he held me again and pressed me for the second time till I felt distressed. He then released me and asked me to read, but again I replied. I do not know how to read. Thereupon he held me for the third time and pressed me till I got distressed, and then he released me and said, Read, in the Name of your Lord Who has created (all that exists), has created man out of a clot, Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught (the writing) by the pen, has taught man that which he knew not." (96.1-5). Then Allahs Apostle ﷺ returned with that experience; and the muscles between his neck and shoulders were trembling till he came upon Khadija (RA) (his wife) and said, "Cover me!" They covered him, and when the state of fear was over, he said to Khadija, "O Khadija! What is wrong with me? I was afraid that something bad might happen to me." Then he told her the story. Khadija (RA) said, "Nay! But receive the good tidings! By Allah, Allah will never disgrace you, for by Allah, you keep good relations with your kith and kin, speak the truth, help the poor and the destitute, entertain your guests generously and assist those who are stricken with calamities." Khadija (RA) then took him to Waraqa bin Naufil, the son of Khadijas paternal uncle. Waraqa had been converted to Christianity in the Pre-lslamic Period and used to write Arabic and write of the Gospel in Arabic as much as Allah wished him to write. He was an old man and had lost his eyesight. Khadija (RA) said (to Waraqa), "O my cousin! Listen to what your nephew is going to say." Waraqa said, "O my nephew! What have you seen?" The Prophet ﷺ then described whatever he had seen. Waraqa said, "This is the same Angel ( Gabriel (علیہ السلام)) who was sent to Moses (علیہ السلام). I wish I were young." He added some other statement. Allahs Apostle ﷺ asked, "Will these people drive me out?" Waraqa said, "Yes, for nobody brought the like of what you have brought, but was treated with hostility. If I were to remain alive till your day (when you start preaching). then I would support you strongly." But a short while later Waraqa died and the Divine Inspiration was paused (stopped) for a while so that Allahs Apostle ﷺ was very much grieved. Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : While Allahs Apostle ﷺ was talking about the period of pause in revelation. he said in his narration. "Once while I was walking, all of a sudden I heard a voice from the sky. I looked up and saw to my surprise, the same Angel as had visited me in the cave of Hira. He was sitting on a chair between the sky and the earth. I got afraid of him and came back home and said, Wrap me! Wrap me!" So they covered him and then Allah revealed: O you, wrapped up! Arise and warn and your Lord magnify, and your garments purify and dessert the idols. (74.1-5) Abu Salama said, "(Rijz) are the idols which the people of the Pre-lslamic period used to worship." After this the revelation started coming frequently and regularly.

4955Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”انسان کو اللہ نے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا“۔

حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 1 خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 2 اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ 3 سورة العلق آية 1-3.

ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ شروع میں رسول اللہ ﷺ کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا اقرأ باسم ربک الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربک الأكرم کہ آپ پڑھئے، اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو پیدا کیا ہے) جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔

Narrated Aisha (RA) : The commencement of the Divine Inspiration to Allahs Apostle ﷺ was in the form of true dreams. The Angel came to him and said, "Read, in the Name of your Lord Who has created (all that exists), has created man a clot. Read! And your Lord is Most Generous" ..(96.1,2,3)

4956Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا ہی مہربان ہے“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَمُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ، جَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 1 خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 2 اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ 3 الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 4 سورة العلق آية 1-4.

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور اللیث نے بیان کیا کہ ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے محمد نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی ابتداء سچے خوابوں سے کی گئی اور کہا اقرأ باسم ربک الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربک الأكرم * الذي علم بالقلم کہ آپ پڑھئے، اپنے پروردگار کے نام کی مدد سے جس نے سب کو پیدا کیا ہے، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کو ذریعہ تعلیم بنایا۔

Narrated Aisha (RA) : The commencement of (the Divine Inspirations to) Allahs Apostle ﷺ was in the form of true dreams. The Angel came to him and said, "Read! In the Name of your Lord Who has created all exists), has created man from a clot. Read! And your Lord is Most Generous, Who has taught (the writing) by the pen (the first person to write was Prophet ﷺ Idris. (96.1-4)

4957Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا اور ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے سنا، ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ ﷺ خدیجہ ؓ کے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا زملوني زملوني کہ مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ پھر آپ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ returned to Khadija (RA) and said, "Wrap me! Wrap me!" (Then the sub-narrator narrated the rest of the narration.)

4958Sahih Bukhari

97- سورة الْقَدْرِ:

باب: سورة القدر کی تفسیر

يُقَالُ: الْمَطْلَعُ هُوَ الطُّلُوعُ وَالْمَطْلِعُ الْمَوْضِعُ الَّذِي يُطْلَعُ مِنْهُ، أَنْزَلْنَاهُ: الْهَاءُ كِنَايَةٌ، عَنِ الْقُرْآنِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَمِيعِ، وَالْمُنْزِلُ هُوَ اللَّهُ، وَالْعَرَبُ تُوَكِّدُ فِعْلَ الْوَاحِدِ، فَتَجْعَلُهُ بِلَفْظِ الْجَمِيعِ لِيَكُونَ أَثْبَتَ وَأَوْكَدَ.

مطلع بہ فتحہ (مصدر ہے) طلوع کے معنوں میں اور مطلع بہ کسر لام (جیسے کسائی نے پڑھا ہے) وہ مقام جہاں سے سورج نکلے۔ انا أنزلناه میں ضمیر قرآن کی طرف پھرتی ہے (گو کہ قرآن کا ذکر اوپر نہیں آیا ہے مگر اس کی شان بڑھانے کے لیے اضمار قبل الذکر کیا) أنزلناه صیغہ جمع متکلم کا ہے حالانکہ اتارنے والا ایک ہی ہے یعنی اللہ پاک مگر عربی میں واحد کو جميع اور اثبات کے لیے بہ صیغہ جمع لاتے ہیں۔

Narrated Ibn `Abbas: Abu Jahl said, If I see Muhammad praying at the Ka`ba, I will tread on his neck. When the Prophet heard of that, he said, If he does so, the Angels will snatch him away.

4959Sahih Bukhari

باب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1، قَالَ: وَسَمَّانِي، قَالَ: نَعَمْ، فَبَكَى.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں سورة لم يكن الذين کفروا پڑھ کر سناؤں۔ ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا، کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اس پر وہ رونے لگے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said to Ubai (bin Kab). "Allah has ordered me to recite to you:--Those who disbelieve among the people of the Scripture and among the idolators are not going to stop (from their disbelief.) (Sura 98) Ubai said, "Did Allah mention me by name?" The Prophet ﷺ said, "Yes." On that, Ubai wept.

4960Sahih Bukhari

باب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ أُبَيٌّ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ: اللَّهُ سَمَّاكَ لِي، فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي، قَالَ قَتَادَةُ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البينة آية 1.

ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن (سورۃ لم یکن) پڑھ کر سناؤں۔ ابی بن کعب نے عرض کیا: کیا آپ سے اللہ تعالیٰ میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام بھی مجھ سے لیا ہے۔ ابی بن کعب ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورة لم يكن الذين کفروا من أهل الکتاب پڑھ کر سنائی تھی۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said to Ubai, "Allah has ordered me recite Quran to you." Ubai asked, "Did Allah mention me by name to you?" The Prophet ﷺ said, "Allah has mentioned your name to me." On that Ubai started weeping. (The sub-narrator) Qatada added: I have been informed that the Prophet ﷺ recited: Those who disbelieve among the people of the Scripture," ...to Ubai.

4961Sahih Bukhari

باب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُنَادِي، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ.

ہم سے احمد بن ابی داؤد ابو جعفر منادی نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن کی (سورۃ لم یکن) پڑھ کر سناؤں۔ انہوں نے پوچھا کیا اللہ نے آپ سے میرا نام بھی لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ ابی بن کعب ؓ بولے تمام جہانوں کے پالنے والے کے ہاں میرا ذکر ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Allahs Prophet ﷺ said to Ubai bin Kab (RA), "Allah has ordered me to recite Quran to you." Ubai said, "Did Allah mention me by name to you?" The Prophet ﷺ said, "Yes." Ubai said, "Have I been mentioned by the Lord of the Worlds?" The Prophet ﷺ said, "Yes." Then Ubai burst into tears.

4962Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے بھی وہ دیکھ لے گا“۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ فِي الْمَرْجِ وَالرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، فَهِيَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ 7 وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ 8 سورة الزلزلة آية 7-8.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گھوڑا تین طرح کے لوگ تین قسم کے پالتے ہیں۔ ایک شخص کے لیے وہ اجر ہوتا ہے دوسرے کے لیے وہ معافی ہے، تیسرے کے لیے عذاب ہے۔ جس کے لیے وہ اجر و ثواب ہے وہ شخص ہے جو اسے اللہ کے راستہ میں جہاد کی نیت سے پالتا ہے۔ چراگاہ یا اس کے بجائے راوی نے یہ کہا باغ میں اس کی رسی کو دراز کردیتا ہے اور وہ گھوڑا چراگاہ یا باغ میں اپنی رسی تڑا لے اور ایک دو کوڑے (پھینکنے کی دوری) تک اپنی حد سے آگے بڑھ گیا تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے ثواب بن جاتی ہے اور اگر کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں مالک کے ارادہ کے بغیر خود ہی اس نے پانی پی لیا تو یہ بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتا ہے۔ دوسرا شخص جس کے لیے اس کا گھوڑا باعث معافی، پردہ بنتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے لوگوں سے بےپرواہ رہنے اور لوگوں (کے سامنے سوال کرنے سے) بچنے کے لیے اسے پالا اور اس گھوڑے کی گردن پر جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اس کی پیٹھ کو جو حق ہے اسے بھی وہ ادا کرتا رہتا ہے۔ تو گھوڑا اس کے لیے باعث معافی، پردہ بن جاتا ہے اور جو شخص گھوڑا اپنے دروازے پر فخر اور دکھاوے اور اسلام دشمنی کی غرض سے باندھتا ہے، وہ اس کے لیے وبال ہے۔ نبی کریم ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق مجھ پر خاص آیت سوا اس اکیلی عام اور جامع آیت کے نازل نہیں کی فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره الخ یعنی جو کوئی ذرہ بھر نیکی کرے گا وہ اسے بھی لے گا دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ بھر برائی کرے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, " Horses are kept for one of three purposes: A man may keep them (for Allahs Cause) to receive a reward in the Hereafter; another may keep them as a means of protection; and a third may keep them to be a burden for him. As for the man for whom the horse is a source of reward, he is the one who ties it for Allahs Cause, and he ties it with a long rope in a pasture or a garden, then, whatever it eats or drinks in that pasture or garden will be added to his good deeds. And if it breaks its rope and jumps over one or two hills, then, for all its footsteps and its manure, good deeds will be written for him. And if it passes by a river and drinks of its water though its owner had no intention to water it from that river, even then he will have good deeds written for him. So that horse will be (a source of) reward for such a man. If a man ties a horse for earning his livelihood and abstaining from asking others for help and he does not forget Allahs right, i.e. pays its Zakat and gives it to be used in Allahs Cause, then that horse will be a means of protection for him. But if a man ties it out of pride and to show off and to excite others, then that horse will be a burden (of sins) for him." Then Allahs Apostle ﷺ was asked regarding donkeys. He replied, "Nothing has been revealed to me except this comprehensive Verse which includes everything: So whoever does good equal to the weight of an atom (or a smallest ant) shall see it; and whoever does evil equal to the weight of an atom (or a smallest ant) shall see it. (99.7-8)

4963Sahih Bukhari

107- سورة {أَرَأَيْتَ}:

باب: سورۃأرأيت کی تفسیر

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يَدُعُّ: يَدْفَعُ عَنْ حَقِّهِ، يُقَالُ: هُوَ مِنْ دَعَعْتُ يُدَعُّونَ يُدْفَعُونَ، سَاهُونَ: لَاهُونَ، وَالْمَاعُونَ: الْمَعْرُوفَ كُلُّهُ، وَقَالَ بَعْضُ الْعَرَبِ: الْمَاعُونُ الْمَاءُ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: أَعْلَاهَا الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ، وَأَدْنَاهَا عَارِيَّةُ الْمَتَاعِ.

مجاہد نے کہا يدع کا معنی دفع کرتا ہے یعنی یتیم کو اس کا حق نہیں لینے دیتا، کہتے ہیں یہ دعوت سے نکلا ہے۔ اسی سے سورة الطور میں لفظ يوم يدعون ہے (یعنی جس دن دوزخ کی طرف اٹھائے جائیں گے، ڈھکیلے جائیں گے۔ ساهون بھولنے والے، غافل۔ ماعون کہتے ہیں مروت کے ہر اچھے کام کو۔ بعض عرب ماعون پانی کو کہتے ہیں۔ عکرمہ نے کہا ماعون کا اعلیٰ درجہ زکوٰۃ دینا ہے اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کچھ سامان مانگے تو اسے وہ دیدے، اس کا انکار نہ کرے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet was asked about donkeys and he replied, Nothing has been revealed to me regarding donkeys except this comprehensive Verse which includes everything: So whoever does good equal to the weight of an atom (or a smallest ant) shall see it; And whoever, does evil equal to the weight of an atom or a smallest ant) shall see it.' (99.7-8)

4964Sahih Bukhari

باب: سورۃ «إنا أعطيناك الكوثر» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کو معراج ہوئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے ڈیرے لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ نہر کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے (جو اللہ نے آپ کو دیا ہے) ۔

Narrated Anas (RA) : When the Prophet ﷺ was made to ascend to the Heavens, he said (after his return), "I came upon a river the banks of which were made of tents of hollow pearls. I asked Gabriel (علیہ السلام). What is this (river? He replied, This is the Kauthar.

4965Sahih Bukhari

109- سورة {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}:

باب: سورة قل يا أيها الکافرون کی تفسیر

يُقَالُ: لَكُمْ دِينُكُمْ: الْكُفْرُ وَلِيَ دِينِ الْإِسْلَامُ، وَلَمْ يَقُلْ دِينِي لِأَنَّ الْآيَاتِ بِالنُّونِ، فَحُذِفَتِ الْيَاءُ كَمَا قَالَ يَهْدِينِ وَيَشْفِينِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ: الْآنَ وَلَا أُجِيبُكُمْ فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِي، وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ: وَهُمُ الَّذِينَ، قَالَ: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا.

کہا گیا ہے کہ لكم دينكم سے مراد کفر ہے اور ولي دين سے مراد اسلام ہے ديني نہیں کہا کیونکہ آیات کا ختم نون پر ہوا ہے۔ اس لیے یہاں بھی یاء کو حذف کردیا، جیسے بولتے ہیں يهدين ويشفين.۔ اوروں نے کہا کہ اب نہ تو میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا یعنی جن معبودوں کی تم اس وقت عبادت کرتے ہو اور نہ میں تمہارا یہ دین اپنی باقی زندگی میں قبول کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے۔ اس سے مراد کفار ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وليزيدن کثيرا منهم ما أنزل إليك من ربک طغيانا وکفرا الایۃ یعنی اور جو وحی آپ کے رب کی طرف سے ہے آپ پر نازل کی جاتی ہے۔ ان میں بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں وہ زیادہ کردیتی ہے۔

Narrated Abu Ubaida: I asked `Aisha 'regarding the verse:--'Verily we have granted you the Kauthar.' She replied, The Kauthar is a river which has been given to your Prophet on the banks of which there are (tents of) hollow pearls and its utensils are as numberless as the stars.

4966Sahih Bukhari

باب: سورۃ «إنا أعطيناك الكوثر» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْكَوْثَرِ هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: فَإِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوالبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کوثر کے متعلق کہ وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے عرض کی، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے؟ سعید نے کہا کہ جنت کی نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دی ہے۔

Narrated Abu Bishr (RA) : Said bin Jubair (RA) said that Ibn Abbas (RA) said about Al-Kauthar. "That is the good which Allah has bestowed upon His Apostle." I said to Said bin Jubair. "But the people claim that it is a river in Paradise." Said said, "The river in Paradise is part of the good which Allah has bestowed on His Apostle."

4967Sahih Bukhari

تفسیر سورت اذا جاء نصر اللہ!

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي.

ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ آیت إذا جاء نصر الله والفتح یعنی جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچی جب سے نازل ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں آپ یہ دعا نہ کرتے ہوں سبحانک ربنا وبحمدک، اللهم اغفر لي. یعنی پاک ہے تیری ذات، اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ اے اللہ میری مغفرت فرما دے۔

Narrated Aisha (RA) : "When the "Surat-An-Nasr", When comes the Help of Allah and the conquest, had been revealed to the Prophet ﷺ he did not offer any prayer except that he said therein, "Subhanka Rabbana wa bihamdika; Allahumma ighfirli (I testify the Uniqueness of our Lord, and all the praises are for Him: O Allah, forgive me!")