Sahih Bukhari 4951

تفاسیر کا بیان

4951Sahih Bukhari

94- سورة {أَلَمْ نَشْرَحْ}:

باب: سورة ألم نشرح کی تفسیر

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وِزْرَكَ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَنْقَضَ: أَثْقَلَ مَعَ، الْعُسْرِ يُسْرًا، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَيْ مَعَ ذَلِكَ الْعُسْرِ يُسْرًا آخَرَ كَقَوْلِهِ: هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ: وَلَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ، وَقَال مُجَاهِدٌ: فَانْصَبْ: فِي حَاجَتِكَ إِلَى رَبِّكَ وَيُذْكَرُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سورة الشرح آية 1شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.

مجاہد نے کہا وزرک سے وہ باتیں مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ سے جاہلیت کے زمانہ میں صادر ہوئیں (ترک اولیٰ وغیرہ) ۔ أنقض کے معنی بھاری کیا۔ مع العسر يسرا سفیان بن عیینہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مصیبت کے ساتھ دو نعمتیں ملتی ہیں جیسے آیت هل تربصون بنا إلا إحدى الحسنيين میں مسلمانوں کے لیے دو نیکیاں مراد ہیں اور حدیث میں ہے ایک مصیبت دو نیکیوں پر غالب نہیں آسکتی اور مجاہد نے کہا فانصب یعنی اپنے پروردگار سے دعا مانگنے میں محنت اٹھا۔ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے انہوں نے کہا ألم نشرح لک صدرک سے مراد ہے کہ ہم نے تیرا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔

Narrated Jundub Al-Bajali: A lady said, O Allah's Messenger ! I see that your friend has delayed. (in conveying Qur'an) to you. So there was revealed: 'Your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, not hated you.' (93.1-3)