Sahih Bukhari 4963

تفاسیر کا بیان

4963Sahih Bukhari

107- سورة {أَرَأَيْتَ}:

باب: سورۃأرأيت کی تفسیر

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يَدُعُّ: يَدْفَعُ عَنْ حَقِّهِ، يُقَالُ: هُوَ مِنْ دَعَعْتُ يُدَعُّونَ يُدْفَعُونَ، سَاهُونَ: لَاهُونَ، وَالْمَاعُونَ: الْمَعْرُوفَ كُلُّهُ، وَقَالَ بَعْضُ الْعَرَبِ: الْمَاعُونُ الْمَاءُ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: أَعْلَاهَا الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ، وَأَدْنَاهَا عَارِيَّةُ الْمَتَاعِ.

مجاہد نے کہا يدع کا معنی دفع کرتا ہے یعنی یتیم کو اس کا حق نہیں لینے دیتا، کہتے ہیں یہ دعوت سے نکلا ہے۔ اسی سے سورة الطور میں لفظ يوم يدعون ہے (یعنی جس دن دوزخ کی طرف اٹھائے جائیں گے، ڈھکیلے جائیں گے۔ ساهون بھولنے والے، غافل۔ ماعون کہتے ہیں مروت کے ہر اچھے کام کو۔ بعض عرب ماعون پانی کو کہتے ہیں۔ عکرمہ نے کہا ماعون کا اعلیٰ درجہ زکوٰۃ دینا ہے اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کچھ سامان مانگے تو اسے وہ دیدے، اس کا انکار نہ کرے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet was asked about donkeys and he replied, Nothing has been revealed to me regarding donkeys except this comprehensive Verse which includes everything: So whoever does good equal to the weight of an atom (or a smallest ant) shall see it; And whoever, does evil equal to the weight of an atom or a smallest ant) shall see it.' (99.7-8)