حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا.
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہوگی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی (میدان محشر میں) پیاسا نہ ہوگا۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) :
The Prophet ﷺ said, "My Lake-Fount is (so large that it takes) a months journey to cross it. Its water is whiter than milk, and its smell is nicer than musk (a kind of Perfume), and its drinking cups are (as numerous) as the (number of) stars of the sky; and whoever drinks from it, will never be thirsty."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ أَوْ طِيبُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ، شَكَّ هُدْبَةُ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس (رض) نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے (دوسری سند) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا : جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ said: "While I was walking in Paradise (on the night of Miraj), I saw a river, on the two banks of which there were tents made of hollow pearls. I asked, "What is this, O Gabriel (علیہ السلام)? He said, That is the Kauthar which Your Lord has given to you. Behold! Its scent or its mud was sharp smelling musk!" (The sub-narrator, Hudba is in doubt as to the correct expression. )
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي الْحَوْضَ حَتَّى عَرَفْتُهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں گے۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Some of my companions will come to me at my Lake Fount, and after I recognize them, they will then be taken away from me, whereupon I will say, My companions! Then it will be said, You do not know what they innovated (new things) in the religion after you."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ،
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَهْلٍ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، لَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَزِيدُ فِيهَا، فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سُحْقًا: بُعْدًا، يُقَالُ: سَحِيقٌ: بَعِيدٌ سَحَقَهُ، وَأَسْحَقَهُ: أَبْعَدَهُ،
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُحَلَّئُونَ عَنِ الْحَوْضِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى.
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا۔ جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔
ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ (یعنی یہ کہ نبی کریم ﷺ فرمائیں گے کہ) میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں) نبی کریم ﷺ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کرلی تھی۔ ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ سحقا بمعنی بعدا ہے، سحيق یعنی بعيد ، أسحقه یعنی أبعده.۔
احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں ؟ یہ لوگ (دین سے) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔ (دوسری سند) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ کے حوالے سے فيجلون (بجائے فيحلؤون ) کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل فيحلؤون بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Abu Hazim from Sahl bin Sad (RA) :
The Prophet ﷺ said, "I am your predecessor (forerunner) at the Lake-Fount, and whoever will pass by there, he will drink from it and whoever will drink from it, he will never be thirsty. There will come to me some people whom I will recognize, and they will recognize me, but a barrier will be placed between me and them." Abu Hazim added: An-Numan bin Abi Aiyash, on hearing me, said. "Did you hear this from Sahl?" I said, "Yes." He said, " I bear witness that I heard Abu Said Al-Khudri(RA) saying the same, adding that the Prophet ﷺ said: I will say: They are of me (i.e. my followers). It will be said, You do not know what they innovated (new things) in the religion after you left. I will say, Far removed, far removed (from mercy), those who changed (their religion) after me." Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "On the Day of Resurrection a group of companions will come to me, but will be driven away from the Lake-Fount, and I will say, O Lord (those are) my companions! It will be said, You have no knowledge as to what they innovated after you left; they turned apostate as renegades (reverted from Islam)."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُحَلَّئُونَ عَنْهُ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيُجْلَوْنَ، وَقَالَ عُقَيْلٌ : فَيُحَلَّئُونَ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابن مسیب نے، وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے روایت کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا حوض پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں اس سے دور کردیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا میرے رب ! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے۔
Narrated Ibn Al-Musaiyab (RA) :
The companions of the Prophet ﷺ said, "Some men from my companions will come to my Lake-Fount and they will be driven away from it, and I will say, O Lord, my companions! It will be said, You have no knowledge of what they innovated after you left: they turned apostate as renegades (reverted from Islam).
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: أَيْنَ ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، فَلَا أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا کہ مجھ سے ہلال نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر ؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں ؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم ! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "While I was sleeping, a group (of my followers were brought close to me), and when I recognized them, a man (an angel) came out from amongst (us) me and them, he said (to them), Come along. I asked, Where? He said, To the (Hell) Fire, by Allah I asked, what is wrong with them He said, They turned apostate as renegades after you left. Then behold! (Another) group (of my followers) were brought close to me, and when I recognized them, a man (an angel) came out from (me and them) he said (to them); Come along. I asked, "Where? He said, To the (Hell) Fire, by Allah. I asked, What is wrong with them? He said, They turned apostate as renegades after you left. So I did not see anyone of them escaping except a few who were like camels without a shepherd."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي.
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ کا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Between my house and my pulpit there is a garden from amongst the gardens of Paradise, and my pulpit is over my Lake-Fount."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنِي أَبِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب (رض) سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا۔
Narrated Jundab (RA) :
I heard the Prophet, saying, "I am your predecessor at the Lake-Fount. (Al-Kauthar) .
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے اور ان سے عقبہ بن عامر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور شہداء احد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے جنازہ میں دعا کی جاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا لوگو ! میں تم سے آگے جاؤں گا اور تم پر گواہ رہوں گا اور میں واللہ اپنے حوض کی طرف اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔
Narrated Uqba bin Amir (RA) :
Once the Prophet ﷺ went out and offered the funeral prayers for the martyrs of Uhud, and then went to the pulpit and said, "I am a predecessor for you and I am a witness for you: and by Allah, I am looking at my Fount just now, and the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth) have been given to me: and by Allah, I am not afraid that you will worship others besides Allah after me, but I am afraid that you will strive and struggle against each other over these treasures of the world."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرَ الْحَوْضَ، فَقَالَ: كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَصَنْعَاءَ.
وَزَادَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ: حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ، قَالَ الْأَوَانِي: قَالَ: لَا، قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے بیان کیا، انہیں نے حارثہ بن وہب (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے حوض کا ذکر کیا اور فرمایا کہ (وہ اتنا بڑا ہے) جتنی مدینہ اور صنعاء کے درمیان دوری ہے۔
اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ (رض) نے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد سنا، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہوگا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے۔ اس پر مستورد نے کہا : کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن (پینے کے) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں۔
Narrated Haritha bin Wahb (RA) :
I heard the Prophet ﷺ mentioning the Lake-Fount (Al-Kauthar), saying, "(The width of the Lake-Fount) is equal to the distance between Madinah and Sana (capital of Yemen)." Haritha said that he heard the Prophet ﷺ saying that his Lake-Fount would be as large as the distance between Sana and Medina. Al-Mustaurid said to Haritha, "Didnt you hear him talking about the vessels?" He said, "No." Al-Mustaurid said, "The vessels are seen in it as (numberless as) the stars."
حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا. أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ، تَرْجِعُونَ عَلَى الْعَقِبِ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن عمر نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کردیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب ! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے ؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھرگئے) ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ سورة مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے أعقابکم تنکصون اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھرگئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہوگئے تھے۔
Narrated Asma bint Abu Bakr (RA) :
The Prophet ﷺ said, "I will be standing at the Lake-Fount so that I will see whom among you will come to me; and some people will be taken away from me, and I will say, O Lord, (they are) from me and from my followers. Then it will be said, Did you notice what they did after you? By Allah, they kept on turning on their heels (turned as renegades). " The sub-narrator, Ibn Abi Mulaika said, "O Allah, we seek refuge with You from turning on our heels, or being put to trial in our religion."
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ بِرِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٌّ، أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ- أَوِ الرَّجُلَ- يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ بَاعٍ أَوْ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذِرَاعٍ أَوْ ذِرَاعَيْنِ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلُهَا. قَالَ آدَمُ إِلاَّ ذِرَاعٌ.
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں علقة یعنی خون کی پھٹکی (بستہ خون) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں مضغة (یعنی گوشت کا لوتھڑا) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں (ماں کے پیٹ ہی میں) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔ امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
Allahs Apostle, the truthful and truly-inspired, said, "Each one of you collected in the womb of his mother for forty days, and then turns into a clot for an equal period (of forty days) and turns into a piece of flesh for a similar period (of forty days) and then Allah sends an angel and orders him to write four things, i.e., his provision, his age, and whether he will be of the wretched or the blessed (in the Hereafter). Then the soul is breathed into him. And by Allah, a person among you (or a man) may do deeds of the people of the Fire till there is only a cubit or an arm-breadth distance between him and the Fire, but then that writing (which Allah has ordered the angel to write) precedes, and he does the deeds of the people of Paradise and enters it; and a man may do the deeds of the people of Paradise till there is only a cubit or two between him and Paradise, and then that writing precedes and he does the deeds of the people of the Fire and enters it."
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ، أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ، أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا، قَالَ: أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَمَا الرِّزْقُ، فَمَا الْأَجَلُ، فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابوبکر بن انس نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب ! یہ نطفة قرار پایا ہے۔ اے رب ! اب علقة یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب ! اب مضغة. (گوشت کا لوتھڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی ؟ نیک ہے یا برا ؟ اس کی روزی کیا ہوگی ؟ اس کی موت کب ہوگی ؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں، دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ said, "Allah puts an angel in charge of the uterus and the angel says, O Lord, (it is) semen! O Lord, (it is now) a clot! O Lord, (it is now) a piece of flesh. And then, if Allah wishes to complete its creation, the angel asks, O Lord, (will it be) a male or a female? A wretched (an evil doer) or a blessed (doer of good)? How much will his provisions be? What will his age be? So all that is written while the creature is still in the mothers womb."
قلم اللہ کے حکم سے خشک ہوچکا ہے۔ ( اور اللہ کا قول کہ اللہ نے اس کو گمراہ کردیا ہے باوجودیکہ وہ اس کو جانتا ہے) اور ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ قلم خشک ہوچکا ہے جس چیز کے ساتھ تم ملنے والے ہو ابن عباس نے کہا لھا سابقون کے معنی ہیں انکے لئے سعادت پہلے سے مقدر ہوچکی ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، يُحَدِّثُ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ، قَالَ: كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین (رض) سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔
Narrated Imran bin Husain (RA) :
A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Can the people of Paradise be known (differentiated) from the people of the Fire; The Prophet ﷺ replied, "Yes." The man said, "Why do people (try to) do (good) deeds?" The Prophet ﷺ said, "Everyone will do the deeds for which he has been created to do or he will do those deeds which will be made easy for him to do." (i.e. everybody will find easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created).
اللہ تعالیٰ اس چیز کو جانتا ہے وہ کرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرتے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ ; was asked about the offspring of the pagans. He said, "Allah knows what they would have done (were they to live)."
اللہ تعالیٰ اس چیز کو جانتا ہے وہ کرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عطا بن یزید نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ was asked about the offspring of the pagans. He said, "Allah knows what they would have done (were they to live)."
اللہ تعالیٰ اس چیز کو جانتا ہے وہ کرنے والے تھے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا.
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے ؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو۔
صحابہ نے عرض کیا : پھر یا رسول اللہ ! اس بچے کے متعلق کیا خیال ہے جو بچپن ہی میں مرگیا ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ (بڑا ہو کر) کیا عمل کرتا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "No child is born but has the Islamic Faith, but its parents turn it into a Jew or a Christian. It is as you help the animals give birth. Do you find among their offspring a mutilated one before you mutilate them yourself?" The people said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What do you think about those (of them) who die young?" The Prophet ﷺ said, "Allah knows what they would have done (were they to live)."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کا حکم ایک قدر معین کے ساتھ ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی کسی (دینی) بہن کی طلاق کا مطالبہ (شوہر سے) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کرلینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح (دوسری عورت کی موجودگی میں بھی) کرلینا چاہیے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہوگا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "No woman should ask for the divorce of her sister (Muslim) so as to take her place, but she should marry the man (without compelling him to divorce his other wife), for she will have nothing but what Allah has written for her."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کا حکم ایک قدر معین کے ساتھ ہے
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ، وَعِنْدَهُ سَعْدٌ، وأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ومُعَاذٌ: أَنَّ ابْنَهَا يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا: لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى كُلٌّ بِأَجَلٍ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے اسامہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں سعد، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ (نبی کریم ﷺ کا نواسہ) نزع کی حالت میں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کہلا بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اس لیے وہ صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔
Narrated Usama (RA) :
Once while I was with the Prophet ﷺ and Sad, Ubai bin Kab (RA) and Muadh were also sitting with him, there came to him a messenger from one of his daughters, telling him that her child was on the verge of death. The Prophet ﷺ told the messenger to tell her, "It is for Allah what He takes, and it is for Allah what He gives, and everything has its fixed time (limit). So (she should) be patient and look for Allahs reward."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کا حکم ایک قدر معین کے ساتھ ہے
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ الْمَالَ كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی، انہیں ابو سعید خدری (رض) نے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اور مال سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کا عزل کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرتے ہو، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA):
That while he was sitting with the Prophet ﷺ a man from the Ansar came and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We get slave girls from the war captives and we love property; what do you think about coitus interruptus?" Allahs Apostle ﷺ said, "Do you do that? It is better for you not to do it, for there is no soul which Allah has ordained to come into existence but will be created."