Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 259 of 365

5529Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَاكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ، وَلَكِنْ أَبَى ذَاكَالْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَرَأَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید (رض) سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری (رض) نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس (رض) نے اس سے انکار کیا اور (استدلال میں) اس آیت کی تلاوت کی قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما۔

Narrated Amr (RA) : I said to Jabir bin Zaid, "The people claim that Allahs Apostle ﷺ forbade the eating of donkeys meat." He said, "Al-Hakam bin Amr Al-Ghifari used to say so when he was with us, but Ibn Abbas (RA), the great religious learned man, refused to give a final verdict and recited:-- Say: I find not in that which has been inspired to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, unless it be carrion, blood poured forth or the flesh of swine... (6.145)

5530Sahih Bukhariصحیح

ہر کچلی والی درندے کے کھانے (کی حرمت) کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ. تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ/agt;، وَالْمَاجِشُونُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس خولانی نے اور وہ ابوثعلبہ خشنی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر، ابن عیینہ اور ماجشون نے زہری کی سند سے کی ہے۔

Narrated Abu Thalaba (RA) : Allahs Apostle ﷺ forbade the eating of the meat of beasts having fangs.

5531Sahih Bukhariصحیح

مردار کی کھالوں کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ: أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا.

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : Once Allahs Apostle ﷺ passed by a dead sheep and said (to the people), "Why dont you use its hide?" They said, "But it is dead," He said, "Only eating it, is prohibited."

5532Sahih Bukhariصحیح

مردار کی کھالوں کا بیان

حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: مَا عَلَى أَهْلِهَا ؟ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا.

ہم سے خطاب بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کہ نبی کریم ﷺ ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہوگیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے (تو بہتر ہوتا) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ passed by a dead goat and said, "There is no harm if its owners benefit from its skin."

5533Sahih Bukhariصحیح

مشک کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَى اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو زخمی بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوگیا ہو اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے زخم سے جو خون جاری ہوگا اس کا رنگ تو خون ہی جیسا ہوگا مگر اس میں مشک جیسی خوشبو ہوگی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "None is wounded in Allahs Cause but will come on the Day of Resurrection with his wound bleeding. The thing that will come out of his wound will be the color of blood, but its smell will be the smell of musk."

5534Sahih Bukhariصحیح

مشک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً.

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے (جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پردے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, The example of a good pious companion and an evil one is that of a person carrying musk and another blowing a pair of bellows. The one who is carrying musk will either give you some perfume as a present, or you will buy some from him, or you will get a good smell from him, but the one who is blowing a pair of bellows will either burn your clothes or you will get a bad smell from him."

5535Sahih Bukhariصحیح

خرگوش کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغِبُوا، فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا، أَوْ قَالَ: بِفَخِذَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَهَا.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ ہم مرالظہران میں تھے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے پھر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ (رض) کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے دونوں کو ل ہے یا (راوی نے بیان کیا کہ) اس کی دونوں رانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں اور نبی کریم ﷺ نے انہیں قبول فرمایا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Once we provoked a rabbit at Marr-az-Zahran. The people chased it till they got tired. Then I caught It and brought it to Abu Talha, who slaughtered it and then sent both its pelvic pieces (or legs) to the Prophet, and the Prophet ﷺ accepted the present.

5536Sahih Bukhariصحیح

گوہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ساہنہ میں خود نہیں کھاتا لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said, "I do not eat mastigure, but I do not prohibit its eating."

5537Sahih Bukhariصحیح

گوہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ: دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوامامہ بن سہل نے، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا اور ان سے خالد بن ولید (رض) نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ (رض) کے گھر گئے تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھنا ہوا ساہنہ لایا گیا آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بعض عورتوں نے کہا کہ آپ جو کھانا دیکھ رہے ہیں اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کو بتادو ، عورتوں نے کہا کہ یہ ساہنہ ہے یا رسول اللہ ! چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ ہمارے ملک میں نہیں پایا جاتا اس لیے طبیعت اس سے انکار کرتی ہے۔ خالد (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھایا اور نبی کریم ﷺ دیکھ رہے تھے۔

Narrated Khalid bin Al-Walid (RA) : Allahs Apostle ﷺ and I entered the house of Maimuna. A roasted mastigure was served. Allahs Apostle ﷺ stretched his hand out (to eat of it) but some woman said, "Inform Allahs Apostle ﷺ of what he is about to eat." So they said, "It is mastigure, O Allahs Apostle! ﷺ " He withdrew his hand, whereupon I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Is it unlawful?" He said, "No, but this is not found in the land of my people, so I dislike it." So I pulled the mastigure towards me and ate it while Allahs Apostle ﷺ was looking at me.

5538Sahih Bukhariصحیح

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ إِلَّا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس (رض) سے سنا، ان سے میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک چوہا گھی میں پڑ کر مرگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو اور باقی گھی کو کھاؤ۔ سفیان سے کہا گیا کہ معمر اس حدیث کو زہری سے بیان کرتے ہیں کہ ان سے سعید بن مسیب اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث زہری سے صرف عبیداللہ سے بیان کرتے سنی ہے کہ ان سے ابن عباس (رض) نے، ان سے میمونہ (رض) نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور میں نے یہ حدیث ان سے بارہا سنی ہے۔

Narrated Maimuna (RA) : A mouse fell into the butter-fat and died. The Prophet ﷺ was asked about that. He said, "Throw away the mouse and the butter-fat that surrounded it, and eat the rest of the butter-fat (As-Samn).

5539Sahih Bukhariصحیح

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الدَّابَّةِ تَمُوتُ فِي الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَهُوَ جَامِدٌ أَوْ غَيْرُ جَامِدٍ الْفَأْرَةِ أَوْ غَيْرِهَا، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِفَأْرَةٍ مَاتَتْ فِي سَمْنٍ، فَأَمَرَ بِمَا قَرُبَ مِنْهَا، فَطُرِحَ ثُمَّ أُكِلَ، عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں محمد بن عبداللہ بن شہاب زہری نے کہ اگر کوئی جانور چوہا یا کوئی اور جمے ہوئے یا غیر جمے ہوئے گھی یا تیل میں پڑجائے تو اس کے متعلق کہا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چوہے کہ متعلق جو گھی میں مرگیا تھا، حکم دیا کہ اسے اور اس کے چاروں طرف سے گھی نکال کر پھینک دیا جائے اور پھر باقی گھی کھایا گیا۔ ہمیں یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے پہنچی ہے۔

Narrated Az-Zhuri (RA) : regarding an animal, e.g., a mouse or some other animal that had fallen into solid or liquid oil or butter-fat: I had been informed that a mouse had died in butter-fat whereupon Allahs Apostle ﷺ ordered that the butter-fat near it be thrown away and the rest of the butter-fat can be eaten.

5540Sahih Bukhariصحیح

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ، فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوهُ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے اور ان سے میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اس چوہے کا حکم پوچھا گیا جو گھی میں گرگیا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو پھر باقی گھی کھالو۔

Narrated Maimuna (RA) : The Prophet ﷺ was asked about a mouse that had fallen into butter-fat (and died). He said, "Throw away the mouse and the portion of butter-fat around it, and eat the rest."

5541Sahih Bukhariصحیح

چہرہ پر داغ لگانے اور نشان کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّورَةُ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ. تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَنقْزِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ: تُضْرَبُ الصُّورَةُ.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے حنظلہ نے، ان سے سالم نے، ان سے ابن عمر (رض) نے کہ وہ چہرے پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چہرے پر مارنے سے منع کیا ہے۔ عبیداللہ بن موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی روایت کیا، کہا ہم کو عمرو بن محمد عنقزی نے خبر دی، انہوں نے حنظلہ سے۔

Narrated Salim (RA) : that Ibn Umar (RA) disliked the branding of animals on the face. Ibn Umar (RA) said, "The Prophet ﷺ forbade beating (animals) on the face."

5542Sahih Bukhariصحیح

چہرہ پر داغ لگانے اور نشان کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُحَنِّكُهُ وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً، حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے بھائی (عبداللہ بن ابی طلحہ نومولود) کو لایا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرما دیں۔ نبی کریم ﷺ اس وقت اونٹوں کے باڑے میں تشریف رکھتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک بکری کو داغ رہے تھے (شعبہ نے کہا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ (ہشام نے) کہا کہ اس کے کانوں کو داغ رہے تھے۔

Narrated Anas (RA) : I brought a brother of mine to the Prophet ﷺ to do Tahnik for him while the Prophet ﷺ was in a sheep fold of his, and I saw him branding a sheep. (The sub-narrator said: I think Anas said, branding it on the ear.)

5543Sahih Bukhariصحیح

اگر ایک جماعت کو مال غنیمت ہاتھ لگے اور ان میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کے حکم کے بغیر بکری یا اونٹ ذبح کردے، تو وہ رافع کی حدیث بناء پر نہیں کھایا جائے گا، جو وہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور طاؤس وعکرمہ نے چور کے ذبیحہ کے متعلق فرمایا کہ اس کو پھینک دو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّنَا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلُوهُ، مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ وَلَا ظُفُرٌ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ، وَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، ثُمَّ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْ أَوَائِلِ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا مِثْلَ هَذَا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبایہ کے دادا رافع بن خدیج (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو آلہ خون بہا دے اور (جانوروں کو ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ بشرطیکہ ذبح کا آلہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں اس کی وجہ تمہیں بتاؤں گا۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور جلدی کرنے والے لوگ آگے بڑھ گئے تھے اور غنیمت پر قبضہ کرلیا تھا لیکن نبی کریم ﷺ پیچھے کے صحابہ کے ساتھ تھے چناچہ (آگے پہنچنے والوں نے جانور ذبح کر کے) ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں الٹ دینے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے غنیمت لوگوں کے درمیان تقسیم کی۔ اس تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر آپ نے قرار دیا تھا پھر آگے کے لوگوں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا۔ لوگوں کے پاس گھوڑے نہیں تھے پھر ایک شخص نے اس اونٹ پر تیر مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ جانور بھی کبھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے لگتے ہیں۔ اس لیے جب ان میں سے کوئی ایسا کرے تو تم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرو۔

Narrated Rait bin Khadij (RA) : I said to the Prophet, "We will be facing the enemy tomorrow and we have no knives (for slaughtering) He said, "If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allahs Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, unless the killing instrument is a tooth or nail. I will tell you why: As for the tooth, it is a bone; and as for the nail, it is the knife of Ethiopians." The quick ones among the people got the war booty while the Prophet ﷺ was behind the people. So they placed the cooking pots on the fire, but the Prophet ﷺ ordered the cooking pots to be turned upside down. Then he distributed (the war booty) among them, considering one camel as equal to ten sheep. Then a camel belonging to the first party of people ran away and they had no horses with them, so a man shot it with an arrow whereby Allah stopped it. The Prophet ﷺ said, "Of these animals there are some which are as wild as wild beasts. So, if anyone of them runs away like this, do like this (shoot it with an arrow)."

5544Sahih Bukhariصحیح

38- بَابُ أَكْلِ الْمُضْطَرِّ:

باب : جو شخص بھوک سے بےقرار ہو ( صبر نہ کرسکے) وہ مردار کھا سکتا ہے

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ 172 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ سورة البقرة آية 172-173. وَقَالَ: فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لإِثْمٍ سورة المائدة آية 3، وَقَوْلِهِ: فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ 118 وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ 119 سورة الأنعام آية 118-119، وَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا سورة الأنعام آية 145. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مُهْرَاقًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ، فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ، فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الأنعام آية 145 وَقَالَ: فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ 114 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ 115 سورة النحل آية 114-115.

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا مسلمانو ! ہم نے جو پاکیزہ روزیاں تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ اور اگر تم خاص کر اللہ کو پوجنے والے ہو (تو ان نعمتوں پر) اس کا شکر ادا کرو اللہ نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے حرام کیا ہے پھر جو کوئی بھوک سے بےقرار ہوجائے بشرطیکہ بےحکمی نہ کرے نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اور اللہ نے سورة المائدہ میں فرمایا پھر جو کوئی بھوک سے لاچار ہوگیا ہو اس کو گناہ کی خواہش نہ ہو۔ اور سورة الانعام میں فرمایا جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا جائے ان کو کھاؤ اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو اور تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم ان جانوروں کو نہیں کھاتے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اور اللہ نے تو صاف صاف ان چیزوں کو بیان کردیا جن کا کھانا تم پر حرام ہے وہ بھی جب تم لاچار نہ ہوجاؤ (لاچار ہوجاؤ تو ان کو بھی کھا سکتے ہو) اور بہت لوگ ایسے ہیں جو بغیر جانے بوجھے اپنے من مانے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور تیرا مالک ایسے حد سے بڑھ جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ نے سورة الانعام میں فرمایا اے پیغمبر ! کہہ دے کہ جو مجھ پر وحی بھیجی گئی اس میں کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام نہیں جانتا البتہ اگر مردار ہو یا بہتا خون یا سور کا گوشت تو وہ حرام ہے کیونکہ وہ پلید ہے یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو پھر جو کوئی بھوک سے لاچار ہوجائے بشرطیکہ بےحکمی نہ کرے نہ زیادتی تو تیرا مالک بخشنے والا مہربان ہے۔ ابن عباس (رض) نے کہا مسفوحا کے معنی بہتا ہوا خون اور سورة النحل میں فرمایا اللہ نے جو تم کو پاکیزہ روزی دی ہے حلال اس کو کھاؤ اور جو تم خالص اللہ کو پوجنے والے ہو تو اس کی نعمت کا شکر ادا کرو، اللہ نے بس تم پر مردار حرام کیا ہے اور بہتا ہوا خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے پھر جو کوئی بےحکمی اور زیادتی کی نیت نہ رکھتا ہو لیکن بھوک سے مجبور ہوجائے (وہ ان چیزوں کو بھی کھالے) تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

Narrated Rafi` bin Khadij: While we were with the Prophet. on a journey, one of the camels ran away. A man shot it with an arrow and stopped it. The Prophet said, Of these camels some are as wild as wild beasts, so if one of them runs away and you cannot catch it, then do like this (shoot it with an arrow). I said, O Allah's Apostle! Sometimes when we are in battles or on a journey we want to slaughter (animals) but we have no knives. He said, Listen! If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allah's Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, provided that the slaughtering instrument is not a tooth or a nail, as the tooth is a bone and the nail is the knife of Ethiopians.

5545Sahih Bukhariصحیح

قربانی کے سنت ہونے کا بیان، ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ وہ سنت ہے اور مشہور ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً، فَقَالَ: اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ، قَالَ مُطَرِّفٌ: ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہوگی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کرلیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار (رض) کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کرلیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کرلوں ؟ ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوگی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔

Narrated Al-Bara (RA) : The Prophet ﷺ said (on the day of Idal-Adha), "The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice)." (On hearing that) Abu Burda bin Niyar got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, "I have got a six month old ram." The Prophet ﷺ said, Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara added: The Prophet ﷺ said, "Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims."

5546Sahih Bukhariصحیح

قربانی کے سنت ہونے کا بیان، ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ وہ سنت ہے اور مشہور ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims."

5547Sahih Bukhariصحیح

امام کا قربانی کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کرنا

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، قَالَ: ضَحِّ بِهَا.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ (رض) کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کرلو۔

Narrated Uqba bin Amir Al-Juhani (RA) : that the Prophet ﷺ distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on Id-al-Adha). Uqbas share was a Jadhaa (a six month old goat). Uqba said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I get in my share of Jadhaa (a six month old ram)." The Prophet ﷺ said, "Slaughter it as a sacrifice."

5548Sahih Bukhariصحیح

مسافر اور عورتوں کے قربانی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا ؟، قَالُوا: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ (حجۃ الوداع کے موقع پر) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہوگئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے ؟ عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کرلو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔

Narrated Aisha (RA) : that the Prophet ﷺ entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Makkah, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet ﷺ said, "What is wrong with you? Have you got your period?" She said, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka’bah." Aisha (RA) added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, "What is this?" They (the people) said, "Allahs Apostle ﷺ has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives."