Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 258 of 365

5508Sahih Bukhariصحیح

دارالحرب وغیرہ کے اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں، اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کے حلال ہے اور زہری کا بیان ہے کہ عرب کے نصاری کے ذبیحوں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر تم سن لو کہ اس نے غیر اللہ کا نام لیا تو نہ کھاؤ اور اگر نہ سنو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا ہے حالانکہ ان کا کفر معلوم ہے اور حضرت علی (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے اور حسن وابراہیم نے کہا کہ اقلف (بغیر ختنہ کئے ہوئے) کے ذبیحہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں (یہودیوں کے ذبیحہ کی) چربی تھی۔ میں اس پر جھپٹا کہ اٹھا لوں لیکن مڑ کے جو دیکھا تو پیچھے رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ میں آپ ﷺ کو دیکھ کر شرما گیا۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ (آیت میں) طَعامهم سے مراد اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور ہے۔

Narrates Abdullah bin Mughaffal (RA) : While we were besieging the castle of Khaibar, Somebody threw a skin full of fat and I went ahead to take it, but on looking behind, I saw the Prophet ﷺ and I felt shy in his presence (and did not take it).

5509Sahih Bukhariصحیح

جو جانور بھاگ جائے وہ بمنزلہ جنگلی جانور کے ہے، ابن مسعود (رض) نے اس کو جائز کہا ہے، ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جو چوپائے تمہارے ہاتھوں سے بھاگ جائیں وہ شکار کی طرح ہیں، اور اس اونٹ کے متعلق جو کنویں میں گر جائے، فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو اسے ذبح کر ڈالو، حضرت علی، ابن عمر اور حضرت عائشہ (رض) کا بھی یہی خیال ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا.

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے اور ان سے رافع بن خدیج (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر جلدی کرلو یا (اس کے بجائے) أرن کہا یعنی جلدی کرلو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتادوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہوجائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔

Narrated Rafi bin Khadij (RA) : I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We are going to face the enemy tomorrow and we do not have knives." He said, "Hurry up (in killing the animal). If the killing tool causes blood to flow out, and if Allahs Name is mentioned, eat (of the slaughtered animal). But do not slaughter with a tooth or a nail. I will tell you why: As for the tooth, it is a bone; and as for the nail, it is the knife of Ethiopians." Then we got some camels and sheep as war booty, and one of those camels ran away, whereupon a man shot it with an arrow and stopped it. Allahs Apostle ﷺ said, "Of these camels there are some which are as wild as wild beasts, so if one of them (runs away and) makes you tired, treat it in this manner."

5510Sahih Bukhariصحیح

نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ امْرَأَتِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ.

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔

Narrated Asma bint Abu Bakr (RA) : We slaughtered a horse (by Nahr) during the lifetime of the Prophet ﷺ and ate it.

5511Sahih Bukhariصحیح

نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ.

ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدہ سے سنا، انہوں نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے اسماء (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔

Narrated Asma: We slaughtered a horse (by Dhabh) during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ while we were at Medina, and we ate it.

5512Sahih Bukhariصحیح

نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ. تَابَعَهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فِي النَّحْرِ.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے کہ اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا (اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر) پھر اسے کھایا۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے نحر. کے ذکر کے ساتھ کی۔

Narrated Asma bint Abu Bakr (RA) : We slaughtered a horse (by Nahr) during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ and ate it.

5513Sahih Bukhariصحیح

مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے، کہا کہ میں انس (رض) کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Hisham bin Zaid (RA) : Anas and I went to Al-Hakam bin Aiyub. Anas saw some boys shooting at a tied hen. Anas said, "The Prophet ﷺ has forbidden the shooting of tied or confined animals."

5514Sahih Bukhariصحیح

مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي يَحْيَى رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا، وَبِالْغُلَامِ مَعَهُ، فَقَالَ: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ لِلْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ.

ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن سعید بن عمرو نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر (رض) مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے آپ نے کسی جنگلی جانور یا کسی بھی جانور کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : that he entered upon Yahya bin Said while one of Yahyas sons was aiming at a hen after tying it. Ibn Umar (RA) walked to it and untied it. Then he brought it and the boy and said. "Prevent your boys from tying the birds for the sake of killing them, as I have heard the Prophet ﷺ forbidding the killing of an animal or other living thing after tying them."

5515Sahih Bukhariصحیح

مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَلَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ. وَقَالَ عَدِيٌّ: عَنْسَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے منہال نے بیان کیا، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت بھیجی ہے جو کسی زندہ جانور کے پاؤں یا دوسرے ٹکڑے کاٹ ڈالے۔ اور عدی نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ابن عباس (رض) نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ cursed the one who did Muthla to an animal (i e., cut its limbs or some other part of its body while it is still alive).

5516Sahih Bukhariصحیح

مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى عَنْ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زید (رض) سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ نبی کریم ﷺ نے رہزنی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah bin Yazid (RA) : The Prophet ﷺ forbade An-Nuhba and Al-Muthla.

5517Sahih Bukhariصحیح

مرغی کھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ دَجَاجًا.

ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے زہدم جرمی نے، ان سے ابوموسیٰ یعنی الاشعری (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔

Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) : I saw the Prophet ﷺ eating chicken.

5518Sahih Bukhariصحیح

مرغی کھانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ فَلَمْ يَدْنُ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: ادْنُ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ أَكَلَ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ أَوْ أُحَدِّثْكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، قَالَ: مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبٍ مِنْ إِبِلٍ، فَقَالَ: أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ ؟قَالَ: فَأَعْطَانَا خَمْسَ ذَوْدٍ غُرَّ الذُّرَى فَلَبِثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا اسْتَحْمَلْنَاكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، فَظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا.

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب بن ابی تمیمہ نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس تھے ہم میں اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارہ تھا پھر کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا، حاضرین میں ایک شخص سرخ رنگ کا بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے میں شریک نہیں ہوا، ابوموسیٰ (رض) نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہوجاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تھا اسی وقت سے مجھے اس سے گھن آنے لگی ہے اور میں نے قسم کھالی ہے کہ اب اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ (رض) نے کہا کہ شریک ہوجاؤ میں تمہیں خبر دیتا ہوں یا انہوں نے کہا کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر حاضر ہوا، میں نبی کریم ﷺ کے سامنے آیا تو آپ خفا تھے آپ صدقہ کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ اسی وقت ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کے لیے اونٹ کا سوال کیا نبی کریم ﷺ نے قسم کھالی کہ آپ ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی جانور نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں، اشعری کہاں ہیں ؟ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں پانچ سفید کوہان والے اونٹ دے دیئے۔ تھوڑی دیر تک تو ہم خاموش رہے لیکن پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم ﷺ اپنی قسم بھول گئے ہیں اور اگر ہم نے نبی کریم ﷺ کو آپ کی قسم کے بارے میں غافل رکھا تو ہم کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے۔ چناچہ ہم آپ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے سواری کے اونٹ ایک مرتبہ مانگے تھے تو آپ نے ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہ دینے کی قسم کھالی تھی ہمارے خیال میں آپ اپنی قسم بھول گئے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں سواری کے لیے جانور عطا فرمایا۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں کوئی قسم کھا لوں اور پھر بعد میں مجھ پر واضح ہوجائے کہ اس کے سوا دوسری چیز اس سے بہتر ہے اور پھر وہی میں نہ کروں جو بہتر ہے، میں قسم توڑ دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہوگا اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر دوں گا۔

Narrated Zahdam (RA) : We were in the company of Abu Musa Al-Ashari (RA) and there were friendly relations between us and this tribe of Jarm. Abu Musa (RA) was presented with a dish containing chicken. Among the people there was sitting a red-faced man who did not come near the food. Abu Musa (RA) said (to him), "Come on (and eat), for I have seen Allahs Apostle ﷺ eating of it (i.e. chicken)." He said, "I have seen it eating something (dirty) and since then I have disliked it, and have taken an oath that I shall not eat it Abu Musa (RA) said, "Come on, I will tell you (or narrate to you). Once I went to Allah s Apostle ﷺ with a group of Al-Ashariyin, and met him while he was angry, distributing some camels of Rakat. We asked for mounts but he took an oath that he would not give us any mounts, and added, I have nothing to mount you on In the meantime some camels of booty were brought to Allahs Apostle ﷺ and he asked twice, Where are Al-Ashariyin?" So he gave us five white camels with big humps. We stayed for a short while (after we had covered a little distance), and then I said to my companions, "Allahs Apostle ﷺ has forgotten his oath. By Allah, if we do not remind Allahs Apostle ﷺ of his oath, we will never be successful." So we returned to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We asked you for mounts, but you took an oath that you would not give us any mounts; we think that you have forgotten your oath. He said, It is Allah Who has given you mounts. By Allah, and Allah willing, if I take an oath and later find something else better than that. Then I do what is better and expiate my oath. "

5519Sahih Bukhariصحیح

گھوڑے کے گوشت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے اور ان سے اسماء (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔

Narrated Asma: We slaughtered a horse during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ and ate it.

5520Sahih Bukhariصحیح

گھوڑے کے گوشت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : On the Day of the battle of Khaibar, Allahs Apostle ﷺ made donkeys meat unlawful and allowed the eating of horse flesh.

5521Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَانَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ.

ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سالم اور نافع نے اور انہیں ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کردی تھی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ made the meat of donkeys unlawful on the day of the battle of Khaibar.

5522Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ. تَابَعَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ اس روایت کی متابعت ابن مبارک نے کی تھی، ان سے نافع نے اور ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے سالم نے اسی طرح سے بیان کیا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ prohibited the eating of donkeys meat.

5523Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ عَامَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں محمد بن علی کے بیٹے عبداللہ اور حسن نے اور انہیں ان کے والد نے کہ علی (رض) نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ نے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع فرما دیا تھا۔

Narrated Ali (RA) : Allahs Apostle ﷺ prohibited Al-Muta marriage and the eating of donkeys meat in the year of the Khaibar battle

5524Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ خیبر کے موقع پر گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا اور گھوڑوں کے لیے رخصت فرما دی تھی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ prohibited the eating of donkeys meat on the day of the battle of Khaibar, and allowed the eating of horse flesh.

5525Sahih Bukhari(5525-5526)صحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيٌّ، عَنْ الْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَا: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے بیان کیا اور ان سے براء اور ابن ابی اوفی (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔

Narrated Al-Bara and Ibn Abi Aufa (RA) : The Prophet ﷺ prohibited the eating of donkeys meat.

5527Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ، قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ. تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ مَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَالْمَاجِشُونُ، وَيُونُسُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ الزُّهْرِيِّنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.

ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس نے خبر دی اور ان سے ابوثعلبہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ اس روایت کی متابعت زبیدی اور عقیل نے ابن شہاب سے کی ہے۔ مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Thaalba (RA) : Allahs Apostle ﷺ prohibited the eating of donkeys meat. Narrated Az-Zuhri (RA) : The Prophet ﷺ prohibited the eating of beasts having fangs.

5528Sahih Bukhariصحیح

پالتو گدھوں کے گوشت کے بیان میں، اس میں سلمہ کی روایت نبی ﷺ سے منقول ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد نے اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھالیا ہے پھر دوسرے صاحب آئے اور کہا کہ میں نے گدھے کا گوشت کھالیا ہے پھر تیسرے صاحب آئے اور کہا کہ گدھے ختم ہوگئے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کرایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں چناچہ اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ (گدھے کے) گوشت سے جوش مار رہی تھیں۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Someone came to Allahs Apostle ﷺ and said, "The donkeys have been (slaughtered and) eaten. Another man came and said, "The donkeys have been destroyed." On that the Prophet ﷺ ordered a caller to announce to the people: Allah and His Apostle ﷺ forbid you to eat the meat of donkeys, for it is impure. Thus the pots were turned upside down while the (donkeys) meat was boiling in them.