مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں ١ ؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔
Narrated Mishaj bin Musa (RA) : I asked Anas bin Malik (RA) : Narrate to us what you heard the Messenger of Allah ﷺ say. He said: When we travelled along with the Messenger of Allah ﷺ , we would say: Did the sun pass the meridian or not? But he (the Prophet) would offer the noon prayer and then proceed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہوجانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١)، ١٦ (١١١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧)، مسند احمد (٣/ ١١٣، ٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ halted at a certain place (while on a journey), he would not leave that place till he offered the noon prayer. A man said to him: Even if in the middle of the day? He replied: Even if in the middle of the day.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٠، ١٢٩) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی ٢ ؎ پھر اندر (قیام گاہ میں) ٣ ؎ چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
Narrated Muadh bin Jabal (RA) : They (the Companions) proceeded on the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ﷺ . He combined the noon and afternoon prayers and the sunset and night prayers. One day he delayed the prayer and came out (of his dwelling) and combined the noon and the afternoon prayers. He then went it and then came out and combined the sunset and the night prayers.
Notes · وضاحت
جمع کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اول وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لئے ہوئی ہے، اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے، کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا مشکل ہے۔ ٢ ؎: اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین (دو نماز کو ایک وقت میں ادا کرنے) کی رخصت ایام حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦)، والفضائل ٣ (٧٠٦/١٠)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٤ (١٠٧٠)، وانظر مایأتي برقم: ١٢٢٠، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٤٢ (٥٥٣)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ١(٢)، مسند احمد (٥/٢٢٩، ٢٣٠، ٢٣٣، ٢٣٦، ٢٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٦) (صحیح )
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کو صفیہ ١ ؎ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے (اور چلتے رہے) یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Umar was informed about the death of Safiyyah (the wife of the Prophet) when he was at Makkah. He proceeded till the sun set and the stars shined. He said: When the Prophet ﷺ was in a hurry about something while on a journey, he would combine both these prayers. He proceed till twilight had disappeared. He then combined both of them (the prayers).
Notes · وضاحت
١ ؎: صفیہ، ابن عمر ؓ کی بیوی تھیں، مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک یہ ہے کہ ” حالت نزع کی خبر دی گئی “، نسائی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ صفیہ نے خود خط لکھا کہ میں حالت نزع میں ہوں جلدی ملیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( (تحفة الأشراف: ٧٥٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٦ (١٠٩١)، والعمرة ٢٠ (١٨٠٥)، والجہاد ١٣٦ (٣٠٠٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٥)، سنن النسائی/المواقیت ٤٣ (٥٩٦)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١(٣)، مسند احمد (٢/٥١، ٨٠، ١٠٢، ١٠٦، ١٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٨) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ ﷺ عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس ؓ سے، ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : On the expedition to Tabuk if the sun had passed the meridian before the Messenger of Allah ﷺ moved off, he combined the noon and the afternoon prayers; but if he moved off before the sun had passed the meridian, he delayed the noon prayer till he halted for the afternoon prayer. He acted similarly for the sunset prayer; if the sun set before he moved off, he combined the sunset and the night prayers, but if he moved off before sunset, he delayed the sunset prayer till he halted for the night prayer and then combined them. Abu Dawud said: Hisham bin Urwah narrated this tradition from Husain bin Abdullah, from Kuraib on the authority of Ibn Abbas from the Prophet ﷺ like the tradition narrated by Mufaddal and al-Laith.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٠٦، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب عن نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر ؓ کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ never combined the sunset and night prayers while on a journey except once. Abu Dawud said: This has been narrated by Ayyub from Nafi from Ibn Umar as a statement of Ibn Umar. Ibn Umar was never seen combining these two prayers except on the night he was informed about the death of Safiyyah. The tradition narrated by Makhul from Nafi indicates that he (Nafi) saw Ibn Umar doing so once or twice.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ١ ؎۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہوگا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ combined the noon and the afternoon prayers, and combined the sunset and night prayers without any danger or journey. Malik said: I think it so happened during rain. Abu Dawud said: Hammad bin Salamah narrated it like manner from Abu al-Zubair, it has also been narrated by Qurrah bin Khalid from Abu al-Zubair. He said: It is so happened in a journey that we made to Tabuk.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ حالت حضر (قیام کی حالت) میں بھی ضرورت کے وقت دو نماز کو ایک ساتھ جمع کیا جاسکتا ہے، البتہ اس کو عادت نہیں بنانا چاہیے۔ ٢ ؎: لیکن صحیح مسلم کی ایک روایت میں من غير خوف ولا مطر (یعنی بغیر کسی خوف اور بارش) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥) سنن النسائی/المواقیت ٤٦ (٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٢ (٥٤٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١ (١٨٧)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١(٤)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٣، ٢٨٣، ٣٤٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ combined the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers at Madina without any danger and rain. He was asked: What did he intend by it ? He replied: He intended that his community might not fall into hardship.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” جو دو نماز کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوگیا “ ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لئے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہوسکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہ ابن عباس ؓ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥) سنن الترمذی/ الصلاة ١ (١٨٧)، سنن النسائی/المواقیت ٤٦ (٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٥٤) (صحیح )
نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کے مؤذن نے کہا: نماز (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چناچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Waqid: The muadhdhin of Ibn Umar said: prayer (i. e. the time of prayer has come). He said: Go ahead. He then alighted before the disappearance. He then offered the night prayer. He then said: When the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry about something, he would do as I did. Then he travelled and covered a distance of three days journey on the day. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Ibn Jabir from Nafi with the same chain.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٠ ) (صحیح) (لیکن اس حدیث میں وارد لفظ قبل غیوب الشفق شفق غائب ہونے سے قبل شاذ ہے، صحیح لفظ حتی غاب الشفق شفق غائب ہونے کے بعد ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ١٢٠٧ میں ہے )
اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
This tradition has also been transmitted by Ibrahim bin Musa al-Razi, from Isa, on the authority of Ibn Jabir to the same effect. Abu Dawud said: Abdullah bin al-Ala narrated on the authority of Nafi saying: When the twilight was about to disappear, he alighted and combined both (the prayers).
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں بنا یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں بغير مطر بغیر بارش کے الفاظ ہیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer at Madina eight of seven rakahs, in the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers. The narrator Sulaiman and Musaddad did not say the words led us. Abu Dawud said: The aforesaid tradition has also been narrated by Salih, the client of Tumah on the authority if Ibn Abbas saying: Not during rain.
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آگئی ہے تو ہم نے کہا: نماز (ادا کرلیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہوجانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر ؓ نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Abdullah ibn Dinar said: The sun set when I was with Abdullah ibn Umar. We proceeded, and when we saw that the evening came, we said prayer. He went on travelling until the twilight disappeared and the stars became thick. He then slighted and combined the two prayers. Then he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ ; when he hastened his travelling, he would pray like this prayer of mine. He said: He would combine the two prayers after the passing of a part of night. Abu Dawud said: This has been transmitted by Asim ibn Muhammad from his brother on the authority of Salim and this has also been narrated by Ibn Abu Najih from Ismail ibn Abdur Rahman ibn Dhuwayb saying that Ibn Umar would combine the two prayers after the disappearance of twilight.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کردیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ proceeded before the sun had declined, he delayed the noon prayer till the time of the afternoon prayer, he would then alight and combine the two prayers. If the sun declined before he moved off, he would offer the noon prayer and rode (the beast) - may peace be upon him. Abu Dawud said: The narrator Mufaddal was the judge of Egypt. His supplication was accepted by Allah; he was the son of Fudalah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١)، ١٦ (١١١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧)،(تحفة الأشراف: ١٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح )
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہوجاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
The above mentioned tradition has also been reported by Uqail through a different chain of narrators. He said: He would delay the evening prayer till he combined the evening and the night prayers when the twilight disappeared.
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ١ ؎۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ was engaged in the Battle of Tabuk. If he moved off before the sun had declined, he would delay the noon prayer till he would combine it with the afternoon prayer and would offer them together. If he moved off after the sun had declined, he would combine the noon and afternoon prayers, and then he proceeded; if he moved off before the evening prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer. If he moved off after the evening prayer, he would offer the night prayer earlier and offer it along with the evening prayer. Abu Dawud said: This tradition has not been narrated by anyone except by Qutaibah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند اور متن میں قتیبہ منفرد ہیں، دونوں سندوں اور متنوں میں فرق کے لئے دیکھئے حدیث نمبر: (١٢٠٦ )۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں والتين والزيتون پڑھی۔
Narrated Al-Bara (RA) : We went out on a journey along with the Messenger of Allah ﷺ . He led us in the night prayer and he recited in one of the rakahs: By the fig and the olive.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٧)، ١٠٢ (٧٦٩)، و تفسیر التین ١ (٤٩٥٢)، والتوحید ٥٢ (٧٥٤٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٥ (٣١٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٣ (١٠٠٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠ (٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٧)، مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٦، ٢٩١، ٣٠٢، ٣٠٣) (صحیح )
براء بن عازب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I accompanied the Messenger of Allah ﷺ on eighteen journeys and I never saw him fail to pray two rakahs when the sun had passed the meridian before offering the noon prayer.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٦ (الجمعة ٤١) (٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابو بسرة غفاری لین الحدیث ہیں )
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ١ ؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر ؓ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان ؓ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
Narrated Hafs bin Asim: I accompanied Ibn Umar on the way (on a journey). He led us in two rakahs of (the noon) prayer. Then he proceeded and saw some people standing. He asked: What are they doing ? I replied: They are glorifying Allah (i. e. offering supererogatory prayer). He said: If I had offered the supererogatory prayer (while travelling), I would have completed prayer, my cousin. I accompanied the Messenger of Allah ﷺ during the journey, he did not pray more than two rakaat until his death. I also accompanied Abu Bakr, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. I also accompanied Umar, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. I also accompanied Uthman, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. Indeed Allah, the Exalted, said: Certainly you have in the Messenger of Allah an excellent exemplar
Notes · وضاحت
١ ؎: نفل کی دو قسمیں ہیں: راتب سنتیں اور غیر راتب سنتیں، راتب سنتیں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اور غیر راتب عام نفلی نماز کو کہا جاتا ہے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر عام نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سنن رواتب میں اختلاف ہے اور اس حدیث سے راتب سنتیں ہی مراد ہیں، اس سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ سفر میں سنن رواتب کا نہ پڑھنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١١ (١١٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٩)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٥ (١٠٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (الجمعة ٣٩) (٥٤٤)، مسند احمد (٢/٢٤، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ٤٧ (١٩١٦) (صحیح )