اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی (جو اہل بصرہ میں سے ہیں) نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب ؓ کے خطبہ میں حاضر رہے، سمرہ ؓ نے (خطبہ میں) کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہوگیا پھر گویا وہ تنومہ ١ ؎ ہوگیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ ﷺ کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ٢ ؎ ہے پھر نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ٣ ؎ پھر آپ ﷺ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں: دوسری رکعت پڑھ کر آپ ﷺ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہوگیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم ﷺ کا پورا خطبہ بیان کیا۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : When, a boy from the Ansar and I were shooting (arrows) towards two of our targets, the sun was sighted by the people at the height of two or three lances above the horizon. It became black like the black herb called tannumah. One of us said to his companion: Let us go to the mosque; by Allah, this incident of the sun will surely bring something new in the community of the Messenger of Allah ﷺ . As we reached it, we suddenly saw that he (the Prophet) had already come out (of his house). He stepped forward for a long time as much as he could do so in the prayer. But we did not hear his voice. He then performed a bowing and prolonged it as much as he could do in the prayer. But we did not hear his voice. He then prostrated himself with us and prolonged it which he never did in the prayer before. But we did not hear his voice. He then did similarly in the second rakah. The sun became bright when he sat after the second rakah. Then he uttered the salutation. He then stood up, praised Allah, and extolled Him, and testified that there was no god but Allah and testified that he was His servant and Messenger. Ahmad ibn Yunus then narrated the address of the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک قسم کا پودا ہے جس کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ ٢ ؎: فإذا هو بَارِزٌ میں غلطی ہوئی ہے، صحیح فإذا هو بأُزُزٍ ہے، أُزُزْ جس کے معنی بھیڑ اور بڑے مجمع کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ہم مسجد پہنچے تو دیکھا کہ لوگ مسجد میں جمع ہیں اور وہ بھری ہوئی ہے۔ ٣ ؎: ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کو قرات کی آواز دور ہونے کے سبب سنائی نہ دے رہی ہو، ویسے یہ حدیث ضعیف ہے صحیح روایات میں جہری قرات کا تذکرہ موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٠ (الجمعة ٤٥) (٥٦٢)، سنن النسائی/الکسوف ١٥ (١٤٨٥)، ١٩ (١٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤، ١٦، ١٧، ١٩، ٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی ثعلبہ لین الحدیث ہیں )
قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوگیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ (بندوں کو) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو ١ ؎۔
Narrated Qabisah al-Hilali (RA) : There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . He came out bewildered pulling his garment, and I was in his company at Madina. He prayed two rakahs and stood for a long time in them. He then departed and the sun became bright. He then said: There are the signs by means of which Allah, the Exalted, produces dread (in His servants). When you see anything of this nature, then pray as you are praying a fresh obligatory prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کسوف اپنے سے پہلے فرض نماز کے مطابق ہوگی، لیکن صاحب منتقی الأخبار امام عبدالسلام ابن تیمیہ نے ان احادیث کو ترجیح دی ہے جن میں تکرار رکوع کے ساتھ دو رکعتوں کا ذکر ہے کیونکہ وہ روایتیں صحیحین کی ہیں اور متعدد طرق سے مروی ہیں جب کہ یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٧، ١٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابو قلابہ مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز سند و متن میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کبھی تو قبیصہ کا نام لیتے ہیں، کبھی نعمان بن بشیر ؓ کا جیسا کہ حدیث نمبر (١١٩٣) میں آ رہا ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے إرواء الغليل للألباني، نمبر: ٦٦٢ )
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے: یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔
Narrated Qabisah al Hilali (RA) : The solar eclipse took place. . . The narrator then narrated the tradition like that of Musa. The narrator again said: Until the stars appear (in the heaven).
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورة البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورة آل عمران کی قرآت کی ہے۔
Narrated Aisha (RA) : There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ came out and led the people in prayer. he stood up and I guessed that he recited Surah al-Baqarah. The narrator then further transmitted the tradition. He (the Prophet) then prostrated himself twice, and then stood up and prolonged the recitation. then I guessed his recitation and knew that he recited Surah Al-i-Imran.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٥، ١٦٣٥٢، ١٧١٨٥)، وقد أخرجہ: (حم ٦/٣٢) (حسن) صححه الحاکم (1/ 333 )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): The Messenger of Allah (may peace be upon on him) recited from teh Quran in a loud voice in the prayer at an eclipse.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسوف (گرہن) کی نماز میں قرات جہری ہونی چاہیے، یہی جمہور محدثین کا مذہب ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ ﷺ نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : An eclipse of the sun took place. the Messenger of Allah ﷺ prayed along with the people. He stood up for a long time nearly equal to the recitation of Surah al Baqarah. H then bowed. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ٥١ (٤٣١)، الکسوف ٩ (١٠٥٢)، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٧)، سنن النسائی/الکسوف ١٧ (١٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٨، ٣٥٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہوگی۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): There was an eclipse of the sun. The Messenger of Allah ﷺ commanded a man who summoned: The prayer will be held in congregation
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو ۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): The sun and the moon are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyones birth. So when you see that, supplicate Allah, declare His greatness, and give alms.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٨، ١٧١٧٣) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: There was an eclipse of the sun in the time of the Prophet ﷺ . He began to pray a series of pairs of rakahs enquiring about the sun (at the end of them) till it became clear.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧١، ٢٧٧) (منکر) (دیکھئے حدیث نمبر: ١١٨٥ )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ ﷺ نے پھونک ماری اور اف اف کہا: پھر فرمایا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟ ، پھر رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہوگیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ stood up and he was not going to perform bowing till he bowed; and he was not going to raise his head till he raised (after bowing); and he was not going to prostrate himself till he prostrated himself; and he was not going to raise his head till he raised (at the end of prostration); he did similarly in the second rakah, he then puffed in the last prostration saying; Fie, Fie! He then said: My Lord, didst Thou not promise me that Thou wouldst not punish them so long as I will remain among them? Didst Thou not promise me that Thou will not punish them so long as they continue to beg pardon of Thee. The Messenger of Allah ﷺ finished the prayer, and the sun was clear. The narrator then narrated the tradition (in full).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٤ (١٤٨٣)، ٢٠ (١٤٩٧)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف ٣ (١٠٤٥)، ٨ (١٠٥٨)، صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٠)، مسند احمد (٢/١٧٥) (صحیح) (ہر رکعت میں دو رکوع کے ذکر کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے (نماز کسوف کی دونوں رکعتوں) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔
Narrated Abdur-Rahman bin Samurah (RA) : During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ I was shooting some arrows when an eclipse of the sun tok place. I, therefore, threw them (the arrows) away and said: I must see how the Messenger of Allah ﷺ acts in a solar eclipse today. So I came to him; he was standing (in prayer) raising his hands, glorifying Allah, praising Him, acknowledging that He is the only Deity, and making supplication till the sun was clear. He then recited two surahs and prayed two rakahs.
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک ؓ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: ابوحمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آجاتے تھے۔
Narrated Anas ibn Malik: Ubaydullah ibn an-Nadr reported on the authority of his father: Darkness prevailed in the time of Anas ibn Malik, I came to Anas and said (to him): Abu Hamzah, did anything like this happen to you in the time of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Take refuge in Allah. If the wind blew violently, we would run quickly towards the mosque for fear of the coming of the Day of Judgment.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی نضر بن عبداللہ قیسی مجہول ہیں )
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی فلاں بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گرپڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟۔
Ikrimah said: Ibn Abbas was informed that so-and-so, a certain wife of the Prophet ﷺ , had died. He fell down prostrating himself. He was questioned: Why do you prostrate yourself this moment? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: When you see a portent (an accident), prostrate yourselves. And which portent (accident) can be greater than the death of a wife of the Prophet ﷺ .
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The prayer was prescribed as consisting of two rakahs both when one was resident and when travelling. The prayer while travelling was left according to the original prescription and the prayer of one who was resident was enhanced.
Notes · وضاحت
١ ؎: اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١ (٣٥٠)، وتقصیر الصلاة ٥ (١٠٩٠)، فضائل الصحابة ٧٦ (٣٧٢٠)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٥)، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١ (٩)، مسند احمد (٦/٢٣٤، ٢٤١، ٢٦٥، ٢٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩(١٥٥٠) (صحیح )
یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے کہا: مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ١ ؎۔
Narrated Yala bin Umayyah (RA) : I remarked to Umar al-Khattab (RA) : Have you seen the shortening of the prayer by the people today while Allah has said: If you fear that those who are infidels may afflict you, whereas those days are gone now? He replied: I have wondered about the same matter for which you wondered. So I mentioned this to the Messenger of Allah ﷺ . He said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept his charity.
Notes · وضاحت
١ ؎: قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٣٤)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٣ (١٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥، ٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔
The above mentioned tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Abdullah bin Abi Ammar who narrated it in like manner. Abu Dawud said: This has been transmitted by Abu Asim and Hammad bin MAsadah as transmitted by Ibn Bakr.
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ١ ؎۔
Narrated Yahya bin Yazid al-Hannani (RA) : I asked Anas bin Malik (RA) about the shortening of the prayer (while travelling). He said: When the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey of three miles or three farsakh (the narrator Shubah doubted), he used to pray two rakahs.
Notes · وضاحت
١ ؎: قصر کے لئے مسافت کی تحدید میں رسول اکرم ﷺ کا کوئی صریح قول نہیں ہے، فعلی احادیث میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے، اس کے مطابق (اکثر مسافت تین فرسخ کے مطابق) نو میل کی مسافت سے قصر کی جاسکتی ہے، جو کیلو میٹر کے حساب سے ساڑھے چودہ کیلو میٹر ہوتی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ١ ؎۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ four rakahs at the noon prayer at Madina and two rakahs at the afternoon prayer in Dhu al-Hulaifah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس کے لئے قصر کرنا جائز ہوجاتا ہے، ذوالحلیفہ مدینہ سے (مکہ کے راستے میں) تیرہ کیلو میٹر کی دوری پر ہے، جو اہل مدینہ کی میقات ہے، اس وقت یہ ” ابیار علی “ سے بھی مشہور ہے۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ١ ؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah is pleased with a shepherd of goats who calls to prayer at the peak of a mountain, and offers prayer, Allah, the Exalted, says: Look at this servant of Mine; he calls to prayer and offers it and he fears Me. So I forgive him and admit him to paradise.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں تنہا آدمی کے لیے بھی اذان مشروع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان (٢٦/٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٧) (صحیح )